8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُولؐ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز، یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن، ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّـمَا [ کہ جو کچھ ] غَنِمْتُمْ [ تم لوگوں نے غنیمت حاصل کی ] مِّنْ شَيْءٍ [ کوئی بھی چیز ] فَاَنَّ [ تو یہ کہ ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ] خُمُسَهٗ [ اس کا پانچواں حصہ ہے ] وَلِلرَّسُوْلِ [ اور ان رسول کے لیے ہے ] وَلِذِي الْقُرْبٰي [ اور قرابتداروں کے لیے ہے ] وَالْيَتٰمٰي [ اور یتیموں کے لیے ہے ] وَالْمَسٰكِيْنِ [ اور مسکینوں کے لیے ہے ] وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ [ اور مسافر کے لیے ہے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] اٰمَنْتُمْ [ ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اَنْزَلْنَا [ ہم نے اتارا ] عَلٰي عَبْدِنَا [ اپنے بندے پر ] يَوْمَ الْفُرْقَانِ [ فیصلے کے دن ] يَوْمَ [ جس دن ] الْتَقَى [ آمنے سامنے ہوئیں ] الْجَمْعٰنِ ۭ [ دو جماعتیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ] (آیت ۔ 41) انما ایک لفظ یعنی کلمہ حصر نہیں ہے بلکہ ان اور ما موصولہ کو ملا کر لکھا گیا ہے جو کہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2: 11 ۔ 12، نوٹ ۔ 2) ۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے

اِذْ [ جب ] اَنْتُمْ [ تم لوگ تھے ] بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا [ نزدیکی کنارہ پر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ تھے ] بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي [ دور والے کنارہ پر ] وَالرَّكْبُ [ اور سواروں کا دستہ (یعنی قافلہ ) ] اَسْفَلَ [ زیادہ نشیب میں تھا ] مِنْكُمْ ۭ [ تم سے ] وَلَوْ [ اور اگر ] تَوَاعَدْتُّمْ [ تم باہم معاہدہ کرتے ] لَاخْتَلَفْتُمْ [ تو ضرور اختلاف کرتے ] فِي الْمِيْعٰدِ ۙ [ مقررہ وقت میں ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] لِّيَقْضِيَ [ تاکہ پورا کرلے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَمْرًا [ ایک ایسے کام کو جو ] كَانَ [ تھا ] مَفْعُوْلًا ڏ [ کیا جانے والا ] لِّيَهْلِكَ [ تاکہ وہ ہلاک ہو ] مَنْ : جو ] [ هَلَكَ : [ ہلاک ہوا ] عَنْۢ بَيِّنَةٍ [ روشن (دلیل ) سے ] وَّيَحْيٰي [ اور وہ زندہ رہے ] مَنْ [ جو ] حَيَّ [ زندہ رہا ] عَنْۢ بَيِّنَةٍ ۭ [ روشن (دلیل ) سے ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَسَمِيْعٌ [ تو یقینا سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] ق ص و ۔ (ن، س) : قصوا اور قصا دور ہونا ۔ قصی ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ دور فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا [ پھر وہ گوشہ نشین ہوئیں اس کے ساتھ ایک دور والے مکان میں ] 19:22 ۔ اقصی ۔ مؤنث قصوی ، افعل تفضیل ہے ۔ زیادہ دور ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 42 ۔ اور وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى [ اور آیا ایک شخص شہر کے زیادہ دور سے دوڑتا ہوا ] 28:20 ۔ (آیت ۔ 42) الرکب مبتدا ہے اور اسفل اس کی خبر ہے جو کہ افعل التفضیل ہے اور ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ اس جملہ اسمیہ کا ترجمہ ماضی میں ہوگا کیونکہ بات کی ابتدا اذ سے ہوئی ہے ۔ لیھلک کی لام کی پر عطف ہونے کی وجہ سے یحییٰ محلا حالت نصب میں ہے۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اور یاد کرو وہ وقت جبکہ اے نبیؐ، خدا اُن کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا، اگر کہیں وہ تمہیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کر دیتے، لیکن اللہ ہی نے اِس سے تمہیں بچایا، یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے

اِذْ [ جب ] يُرِيْكَهُمُ [ دکھایا آپ کو انھیں ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] فِيْ مَنَامِكَ [ آپ کی نیند کی وقت میں ] قَلِيْلًا ۭ [ تھوڑا ہوتے ہوئے ] وَلَوْ [ اور اگر ] اَرٰىكَهُمْ [ وہ دکھاتا آپ کو انہیں ] كَثِيْرًا [ زیادہ ہوتے ہوئے ] لَّفَشِلْتُمْ [ تو تم لوگ ضرور ہمت ہارتے ] وَلَتَنَازَعْتُمْ [ اور تم لوگ ضرور باہم کھینچا تانی کرتے ] فِي الْاَمْرِ [ اس حکم میں ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] سَلَّمَ ۭ [ سلامتی دی ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] عَلِيْمٌۢ [ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو ]
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اُسے اللہ ظہُور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں

وَاِذْ [ اور جب ] يُرِيْكُمُوْهُمْ [ اس نے دکھایا تم کو لوگوں کو انھیں ] اِذِ الْتَقَيْتُمْ [ جب تم لوگ آمنے سامنے ہوئے ] فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ [ تمہاری آنکھوں میں ] قَلِيْلًا [ تھوڑا ہوتے ہوئے ] وَّ يُقَلِّلُكُمْ [ اور اس نے تھوڑا کیا تم لوگوں کو ] فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ [ ان کی آنکھوں میں ] لِيَقْضِيَ [ تاکہ پورا کرے ] اللّٰهُ اَمْرًا [ اللہ ایک ایسے کام کو جو ] كَانَ [ تھا ] مَفْعُوْلًا ۭ [ کیا جانے والا ] وَاِلَى اللّٰهِ [ اور اللہ کی طرف ہی ] تُرْجَعُ [ لوٹائے جائیں گے ] الْاُمُوْرُ [ تمام کام ]
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو گی

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِذَا [ جب بھی ] لَقِيْتُمْ [ تم لوگ سامنے آؤ] فِئَةً [ کسی جماعت کے ] فَاثْبُتُوْا [ تو تم لوگ ڈٹے رہو ] وَاذْكُرُوا [ اور یاد کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] كَثِيْرًا [ کثرت سے ] لَّعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ مراد پاؤ]
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول کی ] وَلَا تَنَازَعُوْا [ اور آپس میں کھینچا تانی مت کرو ] فَتَفْشَلُوْا [ نتیجتا تم لوگ ہمت ہار جاؤگے ] وَتَذْهَبَ [ اور نتیجتا اکھڑ جائیگی ] رِيْحُكُمْ [ تمہاری ہوا ] وَاصْبِرُوْا ۭ [ اور ثابت قدم رہو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] [ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ : ثابت قدموں کے ساتھ ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 46) فتفشلوا کا فاسببیہ ہے اور اسی پر عطف ہونے کی وجہ سے تذھب بھی حالت نصب میں آیا ہے۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 46 میں لا تنازعوا فرمایا ہے یعنی باہمی کشاکش کو روکا ہے ، رائے کے اختلاف یا اس کے اظہار سے منع نہیں کیا ، اختلاف رائے جو دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہو وہ کبھی نزاع کی صورت اختیار نہیں کرتا ۔ نزاع و جدال وہیں ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے کے ساتھ اپنی بات منوانے اور دوسرے کی بات نہ ماننے کا جذبہ کام کررہا ہو۔ (معارف القرآن )
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے

وَلَا تَكُوْنُوْا [ اور تم لوگ مت ہونا ] كَالَّذِيْنَ [ ان لوگوں جیسے جو ] خَرَجُوْا [ نکلے ] مِنْ دِيَارِهِمْ [ اپنے گھروں سے ] بَطَرًا [ اتراتے ہوئے ] وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ [ اور لوگوں کا دکھاوا کرتے ہوئے ] وَيَصُدُّوْنَ [ اور روکتے ہوئے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ: اللہ کی راہ سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بِمَا [ اس کا جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ] مُحِيْطٌ [ احاطہ کرنے والا ہے ] ب ط ر ، (س) ۔ بطرا ، (1) زیادہ نعمت پاکر بہک جانا ۔ اترا جانا ۔ (2) نعمت کی ناشکری کرنا ۔ ناقدری کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 47 اور وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا [ اور ہم نے ہلاک کیں کتنی ہی ایسی بستیاں جنھوں نے ناقدری کی اپنی معیشت کی ] 28:58 ۔ (آیت ۔ 47) بطرا اور رئاء الناس ، دونوں حال ہیں اور اس کے آگے پورا جملہ یصدون عن سبیل اللہ بھی حال ہے۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ اُلٹے پاؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے، مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا بڑی سخت سزا دینے والا ہے

وَاِذْ [ اور جب ] زَيَّنَ [ مزین کیا ] لَهُمُ [ ان کے لیے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ] وَقَالَ [ اور اس نے کہا ] لَا غَالِبَ [ کوئی غلبہ پانے والا نہیں ہے ] لَكُمُ [ تم لوگوں پر ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] مِنَ النَّاسِ [ لوگوں میں سے ] وَاِنِّىْ [ اور یہ کہ میں ] جَارٌ [ حمایتی ہوں ] لَّكُمْ ۚ [ تمہارے لیے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَرَاۗءَتِ [ آمنے سامنے ہوئیں ] الْفِئَتٰنِ [ دو جماعتیں ] نَكَصَ [ تو وہ پلٹا ] عَلٰي عَقِبَيْهِ [ اپنی دونوں ایڑیوں پر ] وَقَالَ [ اور اس نے کہا ] اِنِّىْ [ کہ میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَرٰي [ دیکھتا ہوں ] مَا [ اس کو جو ] لَا تَرَوْنَ [ تم لوگ نہیں دیکھتے ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ پکڑنے کا سخت ہے ] ن ک ص : (ض) نکصا ۔ کسی چیز سے پیچھے ہٹنا ۔ پسپا ہونا ۔ پلٹنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 48 ۔
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے

اِذْ [ جب ] يَقُوْلُ [ کہتے تھے ] الْمُنٰفِقُوْنَ [ منافق لوگ ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جن کے ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ دلوں میں ] مَّرَضٌ [ اور ایک مرض تھا ] غَرَّ [ دھوکا دیا ] ھٰٓؤُلَاۗءِ [ ان کو ] دِيْنُهُمْ ۭ [ ان کے دین نے ] وَ [ حالانکہ ] مَنْ [ جو ] يَّتَوَكَّلْ [ بھروسہ کرتا ہے ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] فَاِنَّ اللّٰهَ [ تو یقینا اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 8:50

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی رُوحیں قبض کر رہے تھے وہ ان کے چہروں اور ان کے کولھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے “لو اب جلنے کی سزا بھگتو

وَلَوْ [ اور اگر ] تَرٰٓي [ آپ دیکھتے ] اِذْ [ جب ] يَتَوَفَّى [ پورا پورا لیتے تھے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوا ۙ [ کفر کیا ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] يَضْرِبُوْنَ [ مارتے ہوئے ] وُجُوْهَهُمْ [ ان کے چہروں کو ] وَاَدْبَارَهُمْ ۚ [ اور ان کی پیٹھوں کو ] وَذُوْقُوْا [ اور (کہتے ہوئے کہ ) چکھو ] عَذَابَ الْحَرِيْقِ [ جلنے کا عذاب ]
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "

ذٰلِكَ [ یہ ] بِمَا [ بسبب اس کے ہے جو ] قَدَّمَتْ [ آگے بھیجا ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں نے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] بِظَلَّامٍ [ کچھ بھی ظلم کرنے والا ] لِّلْعَبِيْدِ [ بندوں پر ] ترکیب : (آیت ۔ 51) لیس بظلام کا ترجمہ سمجھنے کے لیے آیت نمبر ۔ 3: 182، نوٹ ۔ 3 کو دوبارہ دیکھ لیں ۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

یہ معاملہ ان کے ساتھ اُسی طرح پیش آیا جس طرح آلِ فرعون اور ان سے پہلے کے دُوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ [ فرعون کے پیروکاروں کی عادت کی طرح ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کی طرح جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] كَفَرُوْا [ انھوں نے انکار کیا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کا ] فَاَخَذَهُمُ [ تو پکڑ ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] بِذُنُوْبِهِمْ ۭ [ ان کے گناہوں کے سبب سے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] قَوِيٌّ [ قوت والا ہے ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ پکڑنے کا سخت ہے ]
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے ہے کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَمْ يَكُ [ ہرگز نہیں ہے ] مُغَيِّرًا [ بدلنے والا ] نِّعْمَةً [ کسی ایسی نعمت کو ] اَنْعَمَهَا [ اس نے انعام کیا جسے ] عَلٰي قَوْمٍ [ کسی قوم پر ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُغَيِّرُوْا [ وہ لوگ بدلیں ] مَا [ اس کو جو ] بِاَنْفُسِهِمْ ۙ [ ان کے جیبوں میں ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] (آیت ۔ 53) بان کا اسم اللہ ہے ۔ اور لم یک مغیرا پورا جملہ اس کی خبر ہے ۔ اس جملہ میں لم یک دراصل لم یکن ہے۔ اس کا دونوں طرح استعمال جائز ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی یہ دونوں طرح آیا ہے ۔ اس جملہ میں لم یک کا اسم ھو کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے جبکہ مغیرا اسم الفاعل ہے۔ اس نے فعل کا عمل کیا ہے ۔ اور نعمۃ اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ یغیروا کا فاعل اس میں ھم کی ضمیر ہے جو قوم کے لیے ہے ۔ نوٹ ۔ 1: اللہ تعالیٰ کی نعمت ورحمت تو اس کے رب العالمین ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے ۔ البتہ اس نعمت کو قائم رکھنے کا ایک ضابطہ آیت نمبر 53 میں بیان کیا گیا ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دیتے ہیں ، اسے اس وقت تک واپس نہیں لیتے جب تک وہ اپنے حالات اور اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے ۔ قریش کے متعلق تفسیر مظہری میں معتمد کتب تاریخ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ کلاب بن مرہ ، رسول اللہ ﷺ کے نسب میں تیسرے دادا ہیں، دین ابراہیم واسماعیل کے پابند اور اس پر قائم تھے، قصی بن کلاب کے زمانہ میں قریش میں بت پرستی کا آغاز ہوا ۔ ان سے پہلے کعب بن لوی ان کے دینی قائد تھے، وہ جمعہ کے روز سب کو جمع کرکے خطبہ دیا کرتے اور بتلایا کرتے تھے کہ ان کی اولاد میں خاتم الانبیاء ( ﷺ ) پیدا ہوں گے ۔ ان کا اتباع سب پر لازم ہوگا ۔ جو ان پر ایمان نہ لائے گا اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا ۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ان کے عربی اشعار شعراء جاہلیت میں مشہور و معروف ہیں ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ) قریش نے بت پرستی اختیار کرکے اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دی ۔
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اِسی ضابطہ کے مطابق تھا انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کیا اور آل فرعون کو غرق کر دیا یہ سب ظالم لوگ تھے

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ [ فرعون کے پیروکاروں کی عادت کی طرح ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کی طرح جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی نشانیوں کو ] فَاَهْلَكْنٰهُمْ [ تو ہم نے ہلاک کیا ان کو ] بِذُنُوْبِهِمْ [ ان کے گناہوں کے سبب سے ] وَاَغْرَقْنَآ [ اور ہم نے غرق کیا ] اٰلَ فِرْعَوْنَ ۚ [ فرعون کے پیروکاروں کو ] وَكُلٌّ [ اور سب کے سب ] كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے تھے ]
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں

اِنَّ [ بیشک ] شَرَّ الدَّوَاۗبِّ [ چلنے والے جانداروں کے بدترین ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] فَهُمْ [ پھر وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ہیں ]
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے

اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] عٰهَدْتَّ [ آپ نے معاہدہ کیا ] مِنْهُمْ [ جن سے ] ثُمَّ [ پھر ] يَنْقُضُوْنَ [ وہ توڑتے ہیں ] عَهْدَهُمْ [ اپنے عہد کو ] فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ [ ہر بار ] وَّهُمْ [ اور وہ لوگ ] لَا يَتَّقُوْنَ [ ڈرتے نہیں (عہد توڑنے سے ) ] (آیت ۔ 56) لا یتقون کا مفعول نقض العھد محذوف ہے۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دُوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہو جائیں توقع ہے کہ کہ بد عہدوں کے اِس انجام سے وہ سبق لیں گے

فَاِمَّا [ تو اگر کبھی بھی ] تَثْقَفَنَّهُمْ [ آپ پائیں ان کو ] فِي الْحَرْبِ [ جنگ میں ] فَشَرِّدْ [ تو آپ بھگائیں ] بِهِمْ [ ان کے ذریعہ سے ] مَّنْ [ ان کو جو ] خَلْفَهُمْ [ ان کے پیچھے ہیں ] لَعَلَّهُمْ [ شاید وہ لوگ ] يَذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کریں ] ش ر د : (ن) شردا ۔ بدکنا ۔ بھاگنا ۔ (تفعیل ) تشریدا ، ڈرانا ۔ بھگانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔ (آیت ۔ 57) فشرد کا مفعول من ہے جبکہ خلفہم ظرف ہونے کی وجہ سے نصیب میں ہے۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا

وَاِمَّا [ اور اگر کبھی بھی ] تَخَافَنَّ [ آپ کو خوف ہو ] مِنْ قَوْمٍ [ کسی قوم سے ] خِيَانَةً [ کسی خیانت کا (معاہدہ میں )] فَانْۢبِذْ [ تو آپ پھینک دیں (معاہدہ کو ) ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ [ برابر برابر پر ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْخَاۗىِٕنِيْنَ [ خیانت کرنے والوں کو ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 58 کی رو سے ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اگر کسی سے ہمارا معاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہا ہے یا یہ اندیشہ ہو کہ موقع پاتے ہی وہ ہمارے ساتھ غداری کرے گا ، تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ اب معاہد نہیں رہا۔ اس کے برعکس اس آیت میں ہمیں پابند کیا گیا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو کوئی کاروائی کرنے سے پہلے فریق ثانی کو بتادیں کہ اب معاہدہ باقی نہیں رہا تاکہ فسخ معاہدہ کا جیسا علم ہم کو حاصل ہے ویسا ہی اس کو بھی ہوجائے ۔ ( فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ کا یہی مطلب ہے ) البتہ اگر فریق ثانی علی الاعلان معاہدہ توڑ چکا ہو اور اس نے صریح طور پر ہمارے خلاف معاندانہ کاروائی کی ہو تو ایسی صورت میں فسخ معاہدہ کا نوٹس دینا ضروری نہیں ہے ۔ بلکہ ہمیں بلا اطلاع جنگی کاروائی کا حق حاصل ہوجاتا ہے ۔ اس کی سند یہ ہے کہ قریش ن کے جب بنی خزایہ کے معاملہ میں صلح حدیبیہ کو اعلانیہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں فسخ معاہدہ کا نوٹس دینے ضرورت نہیں سمجھی اور بلا اطلاع مکہ پر چڑھائی کی ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

منکرینِ حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقیناً وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے

وَلَا يَحْسَبَنَّ [ اور ہرگز گمان نہ کریں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] سَبَقُوْا ۭ [ (کہ ) وہ لوگ بھاگ نکلے ] اِنَّهُمْ [ یقینا وہ لوگ ] لَا يُعْجِزُوْنَ [ عاجز نہیں کریں گے (ہم کو ) ]
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا

وَاَعِدُّوْا [ اور تم لوگ تیار کرو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] مَّا [ اس کو جو ] اسْـتَـطَعْتُمْ [ تمہارے بس میں ہے ] مِّنْ قُوَّةٍ [ قوت میں سے ] وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ [ اور گھوڑوں کے تیار کرنے سے ] تُرْهِبُوْنَ [ تم لوگ دھاک بٹھاؤگے ] بِهٖ [ اس سے ] عَدُوَّ اللّٰهِ [ اللہ کے دشمنوں پر ] وَعَدُوَّكُمْ [ اور اپنے دشمنوں پر ] وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ [ ان کے علاوہ میں سے ] لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ [ تم لوگ نہیں جانتے ان کو ] اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ ۭ [ اللہ جانتا ہے ان کو ] وَمَا [ اور جو ] تُنْفِقُوْا [ تم لوگ خرچ کروگے ] مِنْ شَيْءٍ [ کس چیز میں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] يُوَفَّ [ تو اس کو پورا پورا لوٹایا جائے گا ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] وَاَنْتُمْ [ اور تم پر ] لَا تُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جائے گا ] نوٹ ۔ 1: عرب کا عام دستور یہ تھا کہ جب کوئی مہم پیش آتی تو رضا کار سپاہی ، جو سامان اسے میسر ہوتا ، اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ۔ آیت نمبر ۔ 60 میں ہدایت کی گئی ہے کہ سامان جنگ اور ایک مستقل فوج (Standing Army) ہر وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت فوری جنگی کاروائی کی جاسکے ۔
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے

وَاِنْ [ اور اگر ] جَنَحُوْا [ وہ لوگ مائل ہوں ] لِلسَّلْمِ [ صلح کے لیے ] فَاجْنَحْ [ تو آپ بھی مائل ہوں ] لَهَا [ اس کے لیے ] وَتَوَكَّلْ [ اور آپ بھروسہ رکھیں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی

وَاِنْ [ اور اگر ] يُّرِيْدُوْٓا [ وہ لوگ ارادہ کریں ] اَنْ [ کہ ] يَّخْدَعُوْكَ [ وہ دھوکہ دیں آپ کو ] فَاِنَّ [ تو بیشک ] حَسْبَكَ [ کافی ہے آپ کو ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] هُوَ [ وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَيَّدَكَ [ تقویت دی آپ کو ] بِنَصْرِهٖ [ اپنی مدد کے ذریعہ سے ] وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ [ اور مومنوں کے ذریعہ سے ]
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے

وَاَلَّفَ [ اور اس نے محبت پیدا کی ] بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ ان کے دلوں کے مابین ] لَوْ [ اگر ] اَنْفَقْتَ [ آپ خرچ کرتے ] مَا [ اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] جَمِيْعًا [ سب کا سب ] مَّآ اَلَّفْتَ [ تو آپ محبت پیدا نہ کرسکتے ] بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں کے مابین ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] اَلَّفَ [ محبت پیدا کی ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے مابین ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبیؐ، تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [ اے نبی ] حَسْبُكَ [ کافی ہے آپ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَمَنِ [ اور ان کو جو ] اتَّبَعَكَ [ ہم قدم رہے آپ کے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں میں سے ]
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبیؐ، مومنوں کو جنگ پر اُبھارو اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [ اے نبی ] حَرِّضِ [ آپ اکسائیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کو ] عَلَي الْقِتَالِ ۭ [ جنگ پر ] اِنْ [ اگر ] يَّكُنْ [ ہوں کے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ [ ثابت قدم رہنے والے ہیں ] يَغْلِبُوْا [ تو وہ غالب ہوں گے ] مِائَـتَيْنِ ۚ [ دوسوپر ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] مِّائَةٌ [ (ثابت قدم رہنے والے) ایک سو ] يَّغْلِبُوْٓا [ تو وہ غالب ہوں گے ] اَلْفًا [ ایک ہزار پر ] مِّنَ الَّذِيْنَ [ ان میں سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] بِاَنَّهُمْ [ اس سبب سے کہ وہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَفْقَهُوْنَ [ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے ] نوٹ ۔ 1: آج کل کی اصطلاح میں جس چیز کو اخلاقی قوت (Morale) کہتے ہیں ، آیت ۔ 65 میں اسی کو فقہ یعنی سمجھ بوجھ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ لفظ اس مفہوم کے لیے جدید اصطلاح سے زیادہ سائنٹیفک ہے۔ جو شخص اپنے مقصد کا صحیح شعور رکھتا ہو اور ٹھنڈے دل سے خوب سوچ سمجھ کر اس لیے لڑ رہا ہو کہ اس مقصد کے ضائع ہوجانے کے بعد جینا بےقیمت ہے ، وہ بےشعوری سے لڑنے والے آدمی سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ پھر جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی ، اس کے ساتھ اپنے تعلق ، حیات دنیا ، حیات بعد موت وغیرہ کی حقیقتوں کو اچھی طرح سمجھتا ہو، اس کی طاقت کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو قومیت یا وطنیت کا شعور لیے ہوئے میدان میں آئیں ۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ ایک سوجھ بوجھ رکھنے والے مومن اور ایک کافر کے درمیان ، حقیقت کے شعور اور عدم شعور کی وجہ سے فطرۃ ایک اور دس کی نسبت ہے لیکن اس کے ساتھ صبر کی صفت بھی ایک لازمی شرط ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اچھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے، اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں

اَلْئٰنَ [ اب ] خَفَّفَ [ ہلکا کیا (بوجھ) ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] وَعَلِمَ [ اور اس نے جانا ] اَنَّ [ کہ ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] ضَعْفًا ۭ [ کچھ کمزوری ہے ] فَاِنْ [ پس اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] مِّائَةٌ صَابِرَةٌ [ ثابت قدم رہنے والے ایک سو ] يَّغْلِبُوْا [ تو وہ غالب ہوں گے ] مِائَتَيْنِ ۚ [ دو سو پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَلْفٌ [ (ثابت قدم رہنے والے ] ایک ہزار ] يَّغْلِبُوْٓا [ تو وہ غالب ہوں گے ] اَلْفَيْنِ [ دو ہزار پر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی اجازت سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] مَعَ الصّٰبِرِيْنَ [ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے ]
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے

مَا كَانَ [ نہیں ہے (مناسب ) ] لِنَبِيٍّ [ کسی نبی کے لیے ] اَنْ [ کہ ] يَّكُوْنَ [ ہوں ] لَهٗٓ [ اس کے لیے ] اَسْرٰي [ کچھ قیدی ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُثْخِنَ [ وہ خوب خونریزی کرے ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ] تُرِيْدُوْنَ [ تم لوگ چاہتے ہو ] عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ [ دنیا کا سامان ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] الْاٰخِرَةَ ۭ [ آخرت کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالادست ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] ث خ ن : (ک) ثخانۃ ۔ گاڑھا ہونا ۔ (افعال ) اثخانا ۔ گاڑھا کرنا ۔ پھر استعارۃ خوب خونریزی کرنے کے لیے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 67 ۔ نوٹ۔ 2: جنگ بدر میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو گرفتار کرنے میں لگ گیا اور بہت کم لوگوں نے کچھ دور تک دشمنوں کا تعاقب کیا ، حالانکہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہوگیا ہوتا ، مسلمانوں کی اس روش پر آیت نمبر۔ 67 میں اللہ تعالیٰ نے گرفت کی ہے اور بتایا ہے کہ تم لوگ ابھی نبی کے مشن کو اچھی طرح نہیں سمجھے ہو ۔ نبی اصل کام یہ نہیں ہے کہ فدیے اور غنائم وصول کرکے خزانے بھرے، بلکہ اس کے نصب العین سے جو چیز براہ راست تعلق رکھتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ کفر کی طاقت ٹوٹ جائے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی

لَوْلَا [ اگر نہ ہوتا ] كِتٰبٌ [ لکھا ہوا ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف ) سے ] سَبَقَ [ پہلے سے ] لَمَسَّكُمْ [ تو ضرور چھوتا تم کو ] فِــيْمَآ [ اس میں جو ] اَخَذْتُمْ [ تم لوگوں نے لیا ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک بڑا عذاب ]
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

فَكُلُوْا [ پس تم لوگ کھاؤ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] غَنِمْتُمْ [ تم نے غنیمت حاصل کی ] حَلٰلًا [ حلال ہوتے ہوئے ] طَيِّبًا ڮ [ پاکیزہ ہوتے ہوئے ] وَّاتَّقُوا [ اور تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ کا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ [ بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں ان سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اُس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [ اے نبی ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے [ لِّمَنْ [ ان سے جو ] فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں (یعنی قبضہ ) میں ہیں ] مِّنَ الْاَسْرٰٓي ۙ [ قیدیوں میں سے ] اِنْ [ اگر ] يَّعْلَمِ [ جانے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ [ تمہارے دلوں میں ] خَيْرًا [ کوئی بھلائی ] يُّؤْتِكُمْ [ تو وہ دے گا تم کو ] خَيْرًا مِّمَّآ [ اس سے بہتر جو ] اُخِذَ [ لیا گیا ] مِنْكُمْ [ تم سے ] وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ [ اور وہ بخش دے گا تم لوگوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

لیکن اگر وہ تیرے ساتھ خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں، چنانچہ اسی کی سزا اللہ نے انہیں دی کہ وہ تیرے قابو میں آ گئے، اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم ہے

وَاِنْ [ اور اگر ] يُّرِيْدُوْا [ وہ ارادہ کریں گے ] خِيَانَتَكَ [ آپ سے خیانت کا ] فَقَدْ خَانُوا [ تو انہوں نے خیانت کی ہے ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] فَاَمْكَنَ [ نتیجتا اس نے (آپ کے ) قابو میں دیا ] [ مِنْهُمْ ۭ : ان کو ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلِيْمٌ : بہت جاننے والا ہے ] [ حَكِيْمٌ : حکمت والا ہے ]
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَهَاجَرُوْا : اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جہاد کیا ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے اموال سے ] وَاَنْفُسِهِمْ [ اور اپنی جانوں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] اٰوَوْا [ ٹھکانہ دیا ] وَّنَــصَرُوْٓا [ اور مدد کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں (کہ ) ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ [ بعض کے کارساز ہیں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَلَمْ يُهَاجِرُوْا [ اور ہجرت نہیں کی ] مَا لَكُمْ [ تو تمہارے لیے نہیں ہے ] مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ [ ان سے کوئی بھی سروکار ] مِّنْ شَيْءٍ [ کسی چیز میں ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُهَاجِرُوْا ۚ [ وہ لوگ ہجرت کریں ] وَاِنِ [ اور اگر ] اسْتَنْصَرُوْكُمْ [ وہ مدد مانگیں تم سے ] فِي الدِّيْنِ [ دین میں ] فَعَلَيْكُمُ [ تو تم لوگوں پر (واجب ) ہے ] النَّصْرُ [ مدد کرنا ] اِلَّا [ سوائے ] عَلٰي قَوْمٍۢ [ ایسی قوم کے خلاف ] [ بَيْنَكُمْ (کہ ) تمہارے درمیان ] وَبَيْنَهُمْ [ اور ان کے درمیان ] مِّيْثَاقٌ ۭ [ کوئی معاہدہ ہے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بِمَا [ اس کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرٌ [ دیکھنے والا ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 72 میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ ” ولایت “ (یعنی سرپرستی اور ذمہ داری ) کا تعلق صرف ان مسلمانوں کے درمیان ہوگا جو یا تو اسلامی ریاست کے باشندے ہوں یا ہجرت کرکے آگئے ہوں اور جو مسلمان اسلامی ریاست سے باہر ہوں ان کے ساتھ ولایت کا تعلق نہیں ہوگا ۔ اس عدم ولایت کے قانونی نتائج بہت وسیع ہیں ، مثلا دارالکفر اور دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے ، ایک دوسرے کے گارڈ ین نہیں ہوسکتے وغیر ہ ، اس کے باوجود ان کے درمیان دینی اخوت کا رشتہ قائم رہے گا ۔ اگر کہیں ان پر ظلم ہورہا ہو اور وہ اسلامی حکومت اور اس کے باشندوں سے مدد مانگیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کریں ، لیکن یہ فریضہ اندھا دھند انجام نہیں دیا جائے گا بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اخلاقی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جاسکے گا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ [ بعض کے کارساز ہیں ] اِلَّا تَفْعَلُوْهُ [ اگر تم لوگ نہیں کرو گے اس کو ] تَكُنْ [ تو ہوجائے گا (یعنی پھیل جائے گا ) ] فِتْنَةٌ [ تشدد ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ [ اور ایک بڑا عدم توازن ] ترکیب : (آیت ۔ 73) الا استثناء کا نہیں ہے بلکہ ان شرطیہ اور لا نافیہ کو ملا کر لکھا گیا ہے ۔ تفعلوہ میں ضمیر مفعولی آیت نمبر ۔ 72 کے حکم کے لیے ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی شرط کے ساتھ غیر ملکی مسلمانوں کی مدد کا حکم ہے۔ تکن جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے ۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَهَاجَرُوْا [ اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جہاد کیا ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] اٰوَوْا [ ٹھکانہ دیا ] وَّنَصَرُوْٓا [ اور مدد کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ [ ہی مومن ہیں ] حَقًّا ۭ [ حقیقتا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] مَّغْفِرَةٌ [ مغفرت ہے ] وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ [ اور باعزت روزی ہے ]
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آ گئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْۢ بَعْدُ [ اس کے بعد ] وَهَاجَرُوْا [ اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جہاد کیا ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ (ملکر) ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] مِنْكُمْ ۭ [ تم میں سے ہیں ] وَاُولُوا الْاَرْحَامِ [ اور رشتوں والے ] [ بَعْضُهُمْ : ان کے بعض ] اَوْلٰى [ زیادہ قریب ہیں ] بِبَعْضٍ [ بعض سے ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی کتاب میں ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہرچیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 75 میں وضاحت ہے کہ اسلامی بھائی چارے کی بنا پر میراث قائم نہ ہوگی ۔ میراث کے معاملہ میں رشتہ داری کا تعلق ہی قانونی حقوق کی بنیاد رہے گا۔ یہ ارشاد اس بنا پر فرمایا گیا کہ ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو مواخاۃ کرائی تھی اس کی وجہ سے بعض لوگ یہ خیال کررہے تھے کہ یہ دینی بھائی ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے۔ (تفہیم القرآن )