Ayah 7:2كِتٰبٌ [ (یہ ) ایک ایسی کتاب ہے جو ] اُنْزِلَ [ اتاری گئی ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] فَلَا يَكُنْ [ پس چاہیے کہ نہ ہو ] فِيْ صَدْرِكَ [ آپ کے سینے میں ] حَرَجٌ [ کوئی تنگی ] مِّنْهُ [ اس سے ] لِتُنْذِرَ [ تاکہ آپ خبردار کریں ] بِهٖ [ اس سے ] وَذِكْرٰي [ اور نصیحت ہوتے ہوئے ] لِلْمُؤْمِنِيْنَ (2) [ ایمان لانے والوں کے لیے ]
ع ی ش : (ض) معاشا ۔ زندہ رہنا ۔ زندگی گزارنا ۔ وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا [ اور ہم نے بنایا دن کو زندہ رہنے کے لئے ] 78:11 ۔ اور عیشۃ ، فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ [ تو وہ من بھاتی زندگی گزارنے میں ہے ] 69:21 ۔ معیشۃ (ج) معایش ۔ زندگی گزارنے کا زذریعہ ۔ سامان زندگی ۔ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ ہم نے تقسیم کیا ان کے مابین ان کی زندگی سانان دنیوی زندگی میں ] 43:32
ق ی ل : (ض) قیلولۃ ۔ دوپہر کو آرام کرنا خواہ نیند نہ آئے۔ قائل ، اسم الفاعل ہے ۔ دوپہر کو آرام کرنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔ مقیل ۔ اسم الظرف ہے ۔ آرام کرنے کی جگہ ۔ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا [ اور جنت والے اس دن سب سے بہتر ہوں کے بلحاظ ٹھکانے کے اور سب سے اچھے ہوں گے بلحاظ آرامگاہ کے ] 25:24 ۔
ترکیب : (آیت 2) کتب ، کا مبتدا ھذا محذوف ہے اور یہ نکرہ مخصوصہ ہے ۔ انزل الیک اس کی خصوصیت ہے ۔ فلا یکن کان تامہ ہے اور حرج اس کا فاعل ہے۔ منہ کی ضمیر کتب کے لیے ہے۔ ذکری حال ہے ۔
Ayah 7:3اِتَّبِعُوْا [ تم لوگ پیروی کرو ] مَآ [ اس کی جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب کی طرف سے ] وَلَا تَتَّبِعُوْا [ اور پیروی مت کرو ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے سوا ] اَوْلِيَاۗءَ ۭ [ کچھ کارسازوں کی ] قَلِيْلًا مَّا [ بہت تھوڑی ہے جو ] تتَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت پکڑتے ہو ]
(آیت ۔ 3) وَلَا تَتَّبِعُوْا کا مفعول اولیاء ہے تذکرون کی تمیز قلیلا ہے اور اس کے آگے ما اس کو غیر معین کرنے کے لیے ہے ۔ (دیکھیں ۔ آیت نمبر ۔ 2:26، نوٹ ۔ 1) یعنی بہت ہی کم ۔
Ayah 7:4وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ [ اور کتنی ہی بستیاں ہیں ] اَهْلَكْنٰهَا [ ہم نے ہلاک کیا جن کو ] فَجَاۗءَهَا [ پھر آئی ان کے پاس ] بَاْسُنَا [ ہماری سختی ] بَيَاتًا [ رات ہوتے ہوئے ] اَوْ هُمْ [ یا اس حال میں کہ وہ لوگ ] قَاۗىِٕلُوْنَ [ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے ]
(آیت ۔ 4 ۔ 5) بیاتا حال ہے اور اس کے آگے ھم قائلون پورا جملہ بھی حال ہے ۔ فجاء ھا میں ھا کی ضمیر بستیوں کے لیے ہے جبکہ فجاء ہم میں ھم کی ضمیر بستی والوں کے لیے ہے ۔
Ayah 7:5فَمَا كَانَ [ تو نہیں تھا ] دَعْوٰىهُمْ [ ان کا پکارنا ] اِذْ [ جب ] جَاۗءَهُمْ [ آئی ان کے پاس ] بَاْسُنَآ [ ہماری سختی ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوْٓا [ انھوں نے کہا ] اِنَّا كُنَّا [ بیشک ہم تھے ] ظٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے ]
Ayah 7:6فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ [ تو ہم لازما پوچھیں گے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں سے ] اُرْسِلَ [ بھیجا گیا ] اِلَيْهِمْ [ جن کی طرف ] وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ [ اور ہم لازما پوچھین گے ] الْمُرْسَلِيْنَ (6) [ بھیجے ہوؤں سے ]
نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ ذمہ دارافسر ہو ۔ تم سب سے اپنے اپنے زیر اثر ماتحتوں کے بارے میں پرسش ہوگی ۔ بادشاہ سے رعایا کے بارے میں ، مرد سے بیوی بچوں کے بارے میں ، عورت سے شوہر کے بارے میں اور خادم سے اس کے آقا کے مال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ (ابن کثیر)
(آیت ۔ 6) ارسل کا نائب فاعل ھو کی ضمیر ہے اس کا مرجع رسول یا مرسل محذوف ہے۔
Ayah 7:7فَلَنَقُصَّنَّ [ پھر ہم لازما بیان کریں گے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] بِعِلْمٍ [ کسی علم سے ] وَّمَا كُنَّا [ اور ہم نہیں ہیں ] غَاۗىِٕبِيْنَ [ غائب ہونے والے ]
Ayah 7:8وَالْوَزْنُ [ اور تولنا ] يَوْمَىِٕذِۨ [ اس دن ] الْحَقُّ ۚ [ حق ہے ] فَمَنْ [ پس وہ ] ثَقُلَتْ [ بھاری ہوئے ] مَوَازِيْنُهٗ [ جن کے ترازو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (8) [ ہی فلاح پانے والے ہیں ]
نوٹ ۔ 2: وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ ۔ میں اس طرف اشارہ ہے کہ لوگ اس سے دھوکا نہ کھائیں کہ انسان کے اعمال کا کوئی جسم یا حجم نہیں ہوتا تو پھر ان کا وزن کیسے ہوگا ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس چیز کو ہم نہ تول سکیں اسے اللہ تعالیٰ بھی نہ تول سکے، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ آج کل تو وہ چیزیں بھی تولی جاتی ہیں جن کے تولنے کا آج سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں تھا ۔ ہوا، ہوا میں نمی ، برقی رو ، سردی ، گرمی وغیرہ تولی جاتی ہیں اور ان کا میڑ ہی ان کی ترازو ہے۔ پھر اس میں تعجب کی کیا بات ہے اگر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اعمال کو تول کر ہمیں دکھادے۔
وزن اعمال کے ضمن میں دوسری الجھن یہ پیش آتی ہے کہ متعدد احادیث میں آیا ہے کہ محشر کی میزان میں سب سے بڑا وزن کلمہ طیبہ کا ہوگا ۔ جس کے پاس یہ کلمہ ہوگا وہ سب پر بھاری رہے گا ۔ اس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ مومن کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے خواہ وہ کتنے بھی گناہ کرے ۔ لیکن قرآن مجید کی آیات اور دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کی نیکیوں اور برائیوں کو تولا جائے گا ۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نجات پائے گا ۔ اور جس کے گناہوں کا پلڑا بھاری ہوگا اسے عذاب ہوگا ۔
بعض علماء تفسیر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ محشر میں وزن دومرتبہ ہوگا ۔ پہلے کفرو ایمان کا وزن جس کے ذریعہ مومن اور کافر کا امتیاز کیا جائے گا۔ اس وزن میں جس کے نامہ اعمال میں صرف کلمہ ایمان ہی ہے ، اس کا پلڑا بھاری رہے گا ۔ اور وہ کافروں کے گروہ سے الگ کردیا جائے گا ۔ پھر دوسرا وزن نیک وبداعمال کا ہوگا ۔ اس میں کسی مسلمان کی نیکیاں اور کسی کی برائیاں بھاری ہوں گی اور اسی کے مطابق اسی کو جزا وسزا ملے گی ۔ اس طرح تمام آیات اور احادیث کا مضمون اپنی اپنی جگہ درست اور مربوط ہوجاتا ہے ۔ (معارف القرآن )
نوٹ۔ 3: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن علماء کی روشنائی ، جس سے انہوں نے علم دین اور احکام دین لکھے، اور شہیدوں کے خون کو تولا جائے گا ، تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون کے وزن سے بڑھ جائے گا۔ (معارف القرآن)
(آیت ۔ 8) ثقلت اور خفت کا فاعل موازین ہے اور اس کے ساتھ ہ کی ضمیر من کی طرف عائد ہے ۔
Ayah 7:9وَمَنْ [ اور وہ ] خَفَّتْ [ ہلکے ہوئے ] مَوَازِيْنُهٗ [ جن کے ترازو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جنہوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا [ وہ لوگ ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] يَظْلِمُوْنَ [ ظلم کرتے تھے ]
Ayah 7:10وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ [ اور بیشک ہم نے اختیار دیا ہے تم کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] فِيْهَا [ اس میں ] مَعَايِشَ ۭ قَلِيْلًا مَّا [ بہت کم ہے جو ] تَشْكُرُوْنَ [ تم لوگ حق مانتے ہو ]
Ayah 7:11وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ [ اور بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم لوگوں کو ] ثُمَّ [ پھر ] صَوَّرْنٰكُمْ [ ہم نے شکل دی تمہیں ] ثُمَّ [ پھر ] قُلْنَا [ ہم نے کہا ] لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ [ فرشتوں سے ] اسْجُدُوْا [ تم لوگ سجدہ کرو ] لِاٰدَمَ ڰ [ آدم کے لئے ] فَسَجَدُوْٓا [ تو انہوں نے سجدہ کیا ] اِلَّآ [ سوائے ] اِبْلِيْسَ ۭ [ ابلیس کے ] لَمْ يَكُنْ [ وہ نہیں تھا ] مِّنَ السّٰجِدِيْنَ [ سجدہ کرنے والوں میں سے ]
ذء م : (ف) ذاما ۔ عیب لگانا ۔ مذء وم ۔ اسم المفعول ہے ۔ عیب لگایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔
دح ر : (ف) دحورا ۔ کسی کو کہیں سے زبردستی نکالنا ۔ ہانکنا ، کھدیرنا ۔ وَيُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ دُحُوْرًا [ اور ان پر پھینکے جاتے ہیں ہر طرف سے کھدیرتے ہوئے ] 37:8 ۔ مدحور۔ اسم المفعول ہے ۔ ہانکا ہوا ۔ کھدیرا ہوا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔
نوٹ۔ 1: تخلیق انسانی کے جس آغاز کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے اس کی تفصیل کو سمجھنا ہمارے مشکل ہے ۔ لیکن بہرحال یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ قرآن مجید انسانیت کے آغاز کی کیفیت ان نظریات کے خلاف بیان کرتا ہے جو موجودہ زمانے میں سائنس کے نام سے پیش کیے جاتے ہیں ۔ ان نظریات کی رو سے انسان ایک غیر انسانی حالت سے مختلف مدارج طے کرتا ہوا مرتبہ انسانیت تک پہنچا ہے۔ اس کے برعکس قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت کا آغاز خالص انسانیت ہی سے ہوا ہے ۔ اس کی تاریخ کسی غیر انسانی حالت سے قطعا کوئی رشتہ نہیں رکھتی اور اول روز سے انسان ہی بنایا گیا ہے ۔
انسانیت کی تاریخ کے یہ دو مختلف نقطہ نظر ہیں جن سے انسانیت کے دو بالکل مختلف تصور پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک تصور میں انسان دراصل حیوان کی ہی ایک شاخ نظر آتا ہے ۔ اس لیے اگر کوئی انسان حیوانات کا سا طرز عمل اختیار کرتا ہے تو یہ بالکل فطری طرز عمل ہوگا ۔ اس کے برعکس قرآنی تصور میں انسان کو جانور کے بجائے انسان کی حیثیت سے دیکھا جائے گا ۔ اسے حیوان ناطق نہیں بلکہ اللہ کا خلیفہ سمجھا جائے گا ۔ انسان کو دوسری مخلوقات سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ اس کا نطق (بات کرنے کی صلاحیت ) نہیں ہے بلکہ اس کی اخلاقی ذمہ داری اور اختیارات کی وہ امانت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے اور جس کی بناء پر وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ) ۔
اوپر مولانا مودودی نے کہا ہے کہ دیگر مخلوقات سے انسان کو ممتاز کرنے والی چیز نطق یعنی بات کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ اس کی وجہ کو سمجھ لیں ۔ قرآن مجید کے مختلف مقامات سے یہ بات ہمارے علم میں آتی ہے کہ کچھ دیگر مخلوقات کو بھی اللہ تعالیٰ نے نطق کی صلاحیت عطا کی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی بات چیز کو یا تو ہم سن نہیں سکتے اور اگر سنتے ہیں تو سمجھ نہیں پاتے ۔ مثال کے طور پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کو آتا دیکھ کر ایک چیونٹی نے چیونٹیوں سے کہا تھا کہ تم لوگ اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے نہ صرف اس بات کو سن لیا بلکہ سمجھ بھی لیا ۔ اور پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو دعا مانگی وہ بھی قرآن مجید میں نقل کی گئی ہے ۔ طلباء کو چاہیے کو وہ یہ دعا یاد کرلیں ۔ (27:16 تا 19) اس کے آگے آیت نمبر ۔ 22 میں ہدہد کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بات کرنے کا بھی ذکر ہے ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ ہر نئے نظریہ کو آنکھ بند کرکے قبول کرلیتے ہیں پھر دوسروں پر اپنی قابلیت کا رعب ڈالنے کے لیے اس کا چرچا کرتے رہتے ہیں ۔ اساتذہ طلبا سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ بہت پڑھے لکھے ہیں۔ اکثر کے علم میں نہیں ہوتا یا ہم بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو جھوٹا قرار دیا ہے جو سنی سنائی بات کو تحقیق کیے بغیر آگے بڑھا دے ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہی ” سائنسی “ نظریات جب مغربی محققین کی سائٹفک کسوٹی پر غلط ثابت ہوجاتے ہیں تو اس کا چرچا نہیں ہوتا ۔ ایسی تحقیقی باتوں کو عام کرنا مغربی میڈیا کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ وہ اگر چپ سادھ لیتے ہیں تو ان پر شکایت بےسود ہے ۔ یہ مسلمان اہل علم کی ذمہ داری ہے جس سے ہم کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہورہے ہیں۔ مغرب میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو دفن ہوئے برسوں گزر چکے ہیں لیکن ہم لوگ اسے آج تک سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔
Ayah 7:12قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] مَا [ کس چیز نے ] مَنَعَكَ [ تجھے روکا ] اَلَّا تَسْجُدَ [ کہ تو سجدہ نہ کرے ] اِذْ [ جب (کہ ) ] اَمَرْتُكَ ۭ [ میں نے حکم دیا ] قَالَ [ (ابلیس نے ) کہا ] اَنَا [ میں ] خَيْرٌ [ بہتر ہوں ] مِّنْهُ ۚ [ اس سے ] خَلَقْتَنِيْ [ تو نے پیدا کیا مجھ کو ] مِنْ نَّارٍ [ آگ سے ] وَّخَلَقْتَهٗ [ اور تو نے پیدا کیا اس کو ] مِنْ طِيْنٍ [ گارے سے ]
ترکیب : (آیت ۔ 12) الا دراصل ان لا ہے ۔ اس میں شامل ان نے تسجد کو نصب دی ہے۔
Ayah 7:13قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] فَاهْبِطْ [ پس تو نیچے اتر ] مِنْهَا [ اس سے ] فَمَا يَكُوْنُ [ تو نہیں ہے ] لَكَ [ تیرے لئے ] اَنْ [ کہ ] تَتَكَبَّرَ [ تو بڑا بنے ] فِيْهَا [ اس میں ] فَاخْرُجْ [ پس تو نکل ] اِنَّكَ [ یقینا تو ] مِنَ الصّٰغِرِيْنَ [ حقیر ہونے والوں میں سے ہے ]
(آیت ۔ 13) فاھبط منھا میں اور آگے فیھا میں ھا کی ضمیریں جنت کے لیے ہیں ۔ حالانکہ ان آیات میں جنت کا ذکر نہیں ہے لیکن قرآن کے دوسرے مقامات کے مطالعہ سے قرآن کے قاری کے لیے یہ بات معروف ہوجاتی ہے کہ یہ واقعہ جنت کا ہے۔ اس لیے جنت کا ذکر کیے بغیر یہاں اس کے لیے ضمیر استعمال کی گئی ہے ۔
Ayah 7:14قَالَ [ (ابلیس نے) کہا ] اَنْظِرْنِيْٓ [ تو مہلت دے مجھے ] اِلٰي يَوْمِ [ اس دن تک (جب) ] يُبْعَثُوْنَ [ یہ لوگ اٹھائے جائیں گے ]
نوٹ۔ 2: ایسی حالت میں کہ جب اللہ تعالیٰ ابلیس پر غضب فرما رہا تھا ، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی کہ مجھے قیامت تک مہلت دے اور اللہ نے اس کی سن لی ۔ اس سے قبولیت دعا کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور حکمت کے تحت جس کی چاہتا ہے دعا قبول کرتا ہے ، خواہ وہ مومن ہو یا کافر ۔ اس لیے کسی کی دعا قبول ہونا اس کے قرب الہی کی سند نہیں ہے ۔
(آیت ۔ 14) الی یوم یبعثون میں یوم مضاف ہے اور جملہ فعلیہ یبعثون اس کا مضاف الیہ ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 5 ۔ 199، ترکیب)
Ayah 7:15قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] اِنَّكَ [ بیشک تو ] مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ [ مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے ]
Ayah 7:16قَالَ [ (ابلیس نے ) کہا ] فَبِمَآ [ پس بسبب اس چیز کے جس سے ] اَغْوَيْتَنِيْ [ تو نے گمراہ کیا مجھے ] لَاَقْعُدَنَّ [ میں لازما بیٹھوں گا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ [ تیرے سیدھے راستے پر ]
(آیت ۔ 16، 17) لا قعدن کا مفعول صراطک ہے ۔ لا تجد کا مفعول اول اکثرھم ہے اور شکرین اس کا مفعول ثانی ہے۔
Ayah 7:17ثُمَّ [ پھر ] لَاٰتِيَنَّهُمْ [ میں لازما آؤں گا ان کے پاس ] مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے سامنے سے ] وَمِنْ خَلْفِهِمْ [ اور ان کے پیچھے سے ] وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ [ اور ان کی داہنی جانبوں سے ] وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ [ اور ان کی بائیں جانبوں سے ] وَلَا تَجِدُ [ اور تو نہیں پائے گا ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر کو ] شٰكِرِيْنَ [ شکر ادا کرنے والے ]
Ayah 7:18قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] اخْرُجْ [ تو نکل ] مِنْهَا [ اس سے ] مَذْءُوْمًا [ عیب لگایا ہوا ہوتے ہوئے ] مَّدْحُوْرًا ۭ [ کھدیرا ہوا ہوتے ہوئے ] لَمَنْ [ بیشک جس نے ] تَبِعَكَ [ پیروی کی تیری ] مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ [ تو میں لازما بھر دوں گا ] جَهَنَّمَ [ جہنم کو ] مِنْكُمْ [ تو لوگوں سے ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب سے ]
(آیت ۔ 18) مذء وما اور مدحورا حال ہیں ۔ اس لیے حالت نصب میں ہیں ۔ لمن پر لام تاکید ہے اور من شرطیہ ہے ۔ منکم میں کم کی ضمیر من تبعک کے لیے ہے۔
Ayah 7:19وَيٰٓاٰدَمُ [ اور اے آدم ] اسْكُنْ [ سکونت اختیار کرو ] اَنْتَ [ تم ] وَزَوْجُكَ [ اور تمہاری بیوی ] الْجَنَّةَ [ اس باغ میں ] فَكُلَا [ پھر تم دونوں کھاؤ] مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا [ تم دونوں چاہو ] وَلَا تَقْرَبَا [ اور تم دونوں قریب مت جانا ] هٰذِهِ الشَّجَرَةَ [ اس درخت کے ] فَتَكُوْنَا [ ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے ] مِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں سے ]
وس وس : (رباعی ) وسوسۃ ۔ کسی کے ذہن میں برا خیال ڈالنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔ وسواس ۔ اسم ذات ہے ۔ براخیال ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ڏ الْخَنَّاسِ [ پیچھے ہٹنے والے برے خیال کی برائی سے ] 114:4
ن ص ح : (ف) نصحا ــ: کوئی ایسی بات یا کام کرنا جس میں دوسرے کی بھلائی ہو اور اپنی کوئی غرض نہ ہو ۔ (1) خیرخواہی کرنا ۔ (2) خالص ہونا ۔ صاف ہونا ۔ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ [ بیشک میں پہنچا چکا ہوں اور اپنے رب کے پیغام کو اور میں نے خیر خواہی کی ہے تمہارے لیے ] 7:79 ۔ وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اور ان لوگوں پر جو نہیں پاتے اس کو جو وہ خرچ کریں، کوئی حرج نہیں ہے جب وہ لوگ دل سے صاف ہوئے اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لئے ] 9:91 ۔ نصح ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ بےلوث خیر خواہی ۔ وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ [ اور تم کو نفع نہیں دے گی میری بےلوث خیرخواہی ] 11:34 ۔ ناصح ، اسم الفاعل ہے ۔ خیرخواہی کرنے والا زیر مطالعہ آیت ۔ 21 ۔ نصوح ، فعول کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بےانتہاخالص ۔ تُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا [ تم لوگ توبہ کرو اللہ سے بےانتہا خالص توبہ ] 66:8 ۔
طق ۔ (س) طفقا ۔ کسی کام کو شروع کرنے یا کرنے لگنے کا مفہوم دیتا ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:216، نوٹ ۔ 1)
خ ص: (ض) ۔ خصفا ۔ سینا ، ٹانکنا ۔ چپکانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 22
ترکیب : (آیت ۔ 19) فتکونا کا فاسببیہ ہے ۔ اس لیے نون اعرابی گرا ہوا ہے۔
نوٹ ۔ 1: گذشتہ چند آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعہ سے چند اہم حقائق واضح طور پر سامنے آتے ہیں ۔
(1) انسان کے اندر شرم وحیاء کا ایک فطری جذبہ ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے پیدا نہیں ہوئی ہے ، جیسا کہ بعض مغربی مفکرین نے قیاس کیا ہے ، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھی ۔
(2) شیطان اپنی بڑائی کا خود مدعی تھا جبکہ انسان نے اپنی بڑائی کا خود دعویٰ نہیں کیا بلکہ بڑائی اسے دی گئی ہے ۔ (یعنی جو انسان خود بڑائی کرے وہ دراصل شیطان کا شاگرد ہے کیونکہ یہ انسانی نہیں بلکہ شیطانی عمل ہے ۔ مرتب ۔
(3) شیطان نے خالص غرور اور تکبر کی بنا پر اللہ کی نافرمانی کی جبکہ انسان نے نافرمانی کو خود اختیار نہیں کیا بلکہ شیطان کے بہکانے سے وہ اس میں مبتلا ہوا۔
(4) انسان نے شر کی کھلی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ داعی شرکو داعی خیر بن کر اس کے سامنے آنا پڑا ۔ وہ پستی کی طرف پستی کی طلب میں نہیں گیا بلکہ اس دھوکے میں گیا کہ یہ راستہ اسے بلندی کی طرف لے جائے گا ۔
(5) عام طور پر یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ شیطان نے پہلے بی بی حوا کو دام فریب میں گرفتار کیا پھر انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کو ورغلانے کا آلہ کار بنایا ، قرآن اس کی تردید کرتا ہے ۔ اس کا بیان یہ ہے کہ شیطان نے دونوں کو دھوکہ دیا اور دونوں اس سے دھوکا کھا گئے ۔
(6) شیطان اپنے قصور کا اعتراف کرنے کے بجائے نافرمانی پر اور زیادہ جم گیا ۔ جبکہ انسان نے اپنے قصور کا اعتراف کیا ، اس پر نادم ہوا اور معافی مانگی اور اسے معاف کردیا گیا ۔
(7) اس لیے جو انسانی راہ مطلوب و محمود ہے اسے شیطانی راہ سے بالکل الگ کرکے واضح کردیا ۔ اب یہ ہر انسان کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیے انسانی راہ کو منتخب کرتا ہے یا شیطانی راہ اختیار کرتا ہے ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ )
Ayah 7:20فَوَسْوَسَ [ پھر برا خیال ڈالا ] لَهُمَا [ ان کے لیے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] لِيُبْدِيَ [ تاکہ وہ ظاہر کرے ] لَهُمَا [ ان کے لیے ] مَا [ اس کو جو ] وٗرِيَ [ چھپایا گیا ] عَنْهُمَا [ ان دونوں سے ] مِنْ سَوْاٰتِهِمَا [ ان کی ستروں میں سے ] وَقَالَ [ اور اس نے کہا ] مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا [ تمہارے رب نے ] عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ [ اس درخت سے ] اِلَّآ [ مگر (اس لیے ) ] اَنْ [ کہ (کہیں ) ] تَكُوْنَا [ تم دونوں ہوجاؤ] مَلَكَيْنِ [ فرشتے ] اَوْ [ یا ] تَكُوْنَا [ تم دونوں ہوجاؤ ] مِنَ الْخٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والوں میں سے ]
نوٹ ۔ 2: جنت سے نیچے اترنے کا خطاب حضرت آدم (علیہ السلام) ، بی بی حوا اور ابلیس سے تھا (اس لیے یہاں تثنیہ کے بجائے جمع کا صیغہ آیا ہے۔ مرتب) مفسرین نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جہاں ان میں سے ہر ایک پھینکا گیا تھا ۔ لیکن یہ ساری خبریں اسرائیلیات سے لی گئی ہیں ۔ ان کی صحت سے خدا ہی واقف ہے ۔ اگر ان مقامات کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا یا حدیث میں کہیں مذکور ہوتا ۔ (ابن کثیر)
(آیت ۔ 20) وری مادہ ” وری “ سے باب مفاعلہ کا ماضی مجہول ووری ہے جس کو وری لکھتے ہیں ۔
Ayah 7:21وَقَاسَمَهُمَآ [ اور اس نے دونوں کو قسم دی ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكُمَا [ تم دونوں کے لئے ] لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ [ یقینا خیر خواہی کرنے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 7:22فَدَلّٰىهُمَا [ تو اس نے پھسلادیا دونوں کو ] بِغُرُوْرٍ ۚ [ فریبوں سے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] ذَاقَا [ دونوں نے چکھا ] الشَّجَرَةَ [ اس درخت کو ] بَدَتْ [ تو ظاہر ہوگئے ] لَهُمَا [ ان کے لیے ] سَوْاٰتُهُمَا [ ان کی ستروں کے حصے ] وَطَفِقَا [ اور وہ دونوں لگے ] يَخْصِفٰنِ [ چپکانے ] عَلَيْهِمَا [ اپنے اوپر ] مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭ [ باغ کے پتوں میں سے ] وَنَادٰىهُمَا [ اور پکار ان دونوں کو ] رَبُّهُمَآ [ ان کے رب نے ] اَلَمْ اَنْهَكُمَا [ کیا میں نے روکا نہیں تھا تم دونوں کو ] عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ [ اس درخت سے ] وَاَقُلْ [ اور میں نے کہا نہیں تھا ] لَّكُمَآ [ تم دونوں سے ] اِنَّ [ کہ ] الشَّيْطٰنَ [ شیطان ] لَكُمَا [ تم دونوں کا ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا دشمن ہے ]
(آیت ۔ 22 ۔ 23) لم پر عطف ہونے کی وجہ سے اقل مجزوم ہے ۔ اسی طرح لم پر عطف ہونے کی وجہ سے ترحمنا مجزوم ہے ۔
Ayah 7:23قَالَا [ ان دونوں نے کہا ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] ظَلَمْنَآ [ ہم نے ظلم کیا ] اَنْفُسَنَا ۫ [ اپنی جانوں پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ تَغْفِرْ [ تو نے معاف نہ کیا ] لَنَا [ ہم کو ] وَتَرْحَمْنَا [ اور تو نے رحم نہ کیا ہم پر ] لَنَكُوْنَنَّ [ تو ہم لازما ہوجائیں گے ] مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [ گھاٹا پانے والوں میں سے ]
ترکیب : (آیت ۔ 23) زینۃ اللہ اور الطیبت ، دونوں حرم کے مفعول ہیں ۔ اس لیے دونوں حالت نصب میں ہیں ۔ خالصتا حال ہے۔ یوم ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ لقوم نکرہ مخصوصہ ہے۔
Ayah 7:24قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] اهْبِطُوْا [ تم لوگ نیچے اترو ] بَعْضُكُمْ [ تم میں کا کوئی ] لِبَعْضٍ [ کسی کیلئے ] عَدُوٌّ ۚ [ دشمن ہے ] وَلَكُمْ [ اور تمہارے لیے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مُسْتَقَرٌّ [ ایک ٹھکانہ ہے ] وَّمَتَاعٌ [ اور برتنے کا کچھ سامان ہے ] اِلٰي حِيْنٍ [ کچھ عرصہ تک ]
Ayah 7:25قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] فِيْهَا [ اس میں ] تَحْيَوْنَ [ تم لوگ زندہ رہو گے ] وَفِيْهَا [ اور اس میں ] تَمُوْتُوْنَ [ تم لوگ مروگے ] وَمِنْهَا [ اور اس میں سے ] تُخْرَجُوْنَ [ تم لوگ نکالے جاؤ گے ]
Ayah 7:26يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم (علیہ السلام) کے بیٹو ] قَدْ اَنْزَلْنَا [ ہم نے اتارا ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] لِبَاسًا [ ایک ایسا لباس جو ] يُّوَارِيْ [ چھپاتا ہے ] سَوْاٰتِكُمْ [ تمہاری ستر کی حصوں کو ] وَرِيْشًا ۭ [ اور زیبائش ہوتے ہوئے ] وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ [ اور تقوی کا لباس !] ذٰلِكَ [ وہ (تو) ] خَيْرٌ ۭ [ سب سے بہت رہے ] ذٰلِكَ [ یہ ] مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ] لَعَلَّهُمْ [ شائد وہ لوگ ] يَذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت پکڑیں ]
ری ش : (ض) ریشا ۔ کسی کے حال کی اصلاح کرنا ۔ ریش ۔ اسم جنس ہے ۔ واحد ریشۃ جمع ریاش ۔ پرندوں کے پر۔ آرائش وزیبائش کی کوئی بھی چیز ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 26 ۔
ب د ء : (ف) بدءا ۔ کسی کام کی ابتدا کرنا ۔ پہل کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔ (افعال ) ابداء ۔ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ ابتدا کرنا ۔ اولم یروا کیف یبدی اللہ الخلق [ تو کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ کیسے ابتدا کرتا ہے تخلیق کی ] 29:19 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 26) لباسا نکرہ مخصوصہ ہے ۔ یواری کی خصوصیت ہے اور ریشا حال ہے ۔
نوٹ۔ 1: ایک عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کی چیزوں کا استعمال قرب الہی میں رکاوٹ بنتا ہے ۔ اس لیے کوئی جوگی بنتا ہے ، کو راہبانیت اختیار کرتا ہے اور کچھ صوفی بھی ان کی نقل کرتے ہیں ۔ لیکن اسلام اس سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ سب چیزیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے ہی پیدا کی ہیں ۔ اصول یہ ہے کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں ۔ وہ سب حلال ہیں ۔ جب تک کسی چیز کا حرام ہونا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اصلا تو یہ چیزیں اہل ایمان کے لیے ہی پیدا کی گئی ہیں ۔ لیکن اس دنیا میں کافروں کو بھی ان سے استفادہ کرنے کی اجازت ہے کیونکہ یہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے بلکہ دارالامتحان ہے ۔ البتہ قیامت میں یہ چیزیں صرف اہل ایمان کے لیے ہوں گی ۔
جہاں اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو دلیل شرعی کے بغیر اپنے اوپر حرام کرنا منع ہے ، وہیں ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کرنا بھی منع ہے ۔ اسراف کا مطلب ہے کسی جائز ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا ۔ مثلا کھانے میں متعدد ڈشوں کا اور سویٹ ڈش میں ایک سے زائد ڈشوں کا اہتمام کرنا ، یا بھوک سے زیادہ کھانا یا بھوک کے بغیر کھانا جیسے BETWEEN THE MEALS بسکٹوں یا اسنیکس کا اہتمام کرنا وغیرہ ۔ اسی طرح کپڑے ، جوتے اور رہائش کی دوسری ضروریات پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا اسراف ہے اور ایسا کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا ۔
نوٹ ۔ 2: اثم وہ خطائیں ہیں جو فاعل کی اپنی ذات سے متعلق ہیں اور بغی وہ زیادتی ہے جو دوسروں کے ساتھ کی جائے ( ابن کثیر) ۔ بغی میں حق کے بغیر کا مفہوم از خود شامل ہے۔ کیونکہ زیادتی کہتے ہیں اس کو جو حق کے بغیر ہو۔ آیت میں بغیر الحق کا اضافہ تاکید کے لیے کیا گیا ہے ۔ جیسے اردو لفظ ” دیکھنا “ میں آنکھوں سے دیکھنے کا مفہوم از خود شامل ہے ۔ لیکن جب تاکید مقصود ہوتی ہے ۔ تو ہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم)
Ayah 7:27يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم کے بیٹو ] لَا يَفْتِنَنَّكُمُ [ ہرگز لغزش نہ دے تم کو ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] كَمَآ [ جیسے کہ ] اَخْرَجَ [ اس نے نکالا ] اَبَوَيْكُمْ [ تمہارے والدین کو ] مِّنَ الْجَنَّةِ [ جنت سے ] يَنْزِعُ [ اس حال میں کہ اس نے کھینچ اتارا ] عَنْهُمَا [ ان دونوں سے ] لِبَاسَهُمَا [ دونوں کا لباس ] لِيُرِيَهُمَا [ تاکہ وہ دکھائے دونوں کو ] سَوْاٰتِهِمَا ۭ [ ان کی ستروں کے حصے ] اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] يَرٰىكُمْ [ دیکھتا ہے تم لوگوں کو ] هُوَ [ وہ ] وَقَبِيْلُهٗ [ اور اس کا قبیلہ ] مِنْ حَيْثُ [ وہاں سے جہاں ] لَا تَرَوْنَهُمْ ۭ [ تم نہیں دیکھتے ان کو ] اِنَّا [ بیشک ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنایا ] الشَّيٰطِيْنَ [ شیطانوں کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ دوست ] لِلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ]
(آیت ۔ 27) يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا ، پر پورا جملہ اخرج کا حال ہے ۔ انہ کی ضمیر شیطان کے لیے بھی مانی جاسکتی ہے اور اسے ضمیر الشان بھی مانا جاسکتا ہے ۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ اسے ضمیر الشان مانا جائے ۔
Ayah 7:28[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] فَعَلُوْا [ وہ لوگ کرتے ہیں ] فَاحِشَةً [ کوئی بےحیائی ] قَالُوْا [ تو کہتے ہیں ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] [ عَلَيْهَآ : اس پر ] اٰبَاۗءَنَا [ اپنے اجداد کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ نے ] اَمَرَنَا [ حکم دیا ہم کو ] بِهَا ۭ [ اس کا ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يَاْمُرُ [ حکم نہیں دیتا ] بِالْفَحْشَاۗءِ ۭ [ بےحیائیوں کا ] اَ [ کیا ] تَقُوْلُوْنَ [ تم لوگ کہتے ہو ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] مَا [ وہ جو ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ نہیں جانتے ]
Ayah 7:29قُلْ [ آپ کہئے ] اَمَرَ [ حکم دیا ] رَبِّيْ [ میرے رب نے ] بِالْقِسْطِ ۣ [ انصاف کا ] وَ [ اور (یہ کہ ) ] اَقِيْمُوْا [ تم لوگ سیدھا رکھو ] وُجُوْهَكُمْ [ اپنے چہروں کو ] عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ ہر سجدہ کرنے کے وقت پر ] وَّادْعُوْهُ [ اور پکارو اس کو ] مُخْلِصِيْنَ [ خالص کرنے والا ہوتے ہوئے ] لَهُ [ اس کیلئے ] الدِّيْنَ ڛ [ کل دین کو ] كَمَا [ جیسے ] بَدَاَكُمْ [ اس نے ابتدا کی تمہاری ] تَعُوْدُوْنَ [ (ویسے ہی ) تم لوگ لوٹو گے ]
( آیت ۔ 29) مسجد ظرف مکان اور ظرف زمان ، دونوں معنی دیتا ہے ۔ ہم ظرف زمان سے ترجمہ کریں گے اسم الفاعل مخلصین حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس نے فاعل کا کام کیا ہے اور اس نے الدین کو نصب دی ہے ۔
Ayah 7:30فَرِيْقًا [ ایک فریق کو ] هَدٰي [ اس نے ہدایت دی ] وَفَرِيْقًا [ اور ایک فریق کو ( اس نے گمراہی دی ) ] حَقَّ [ (کیونکہ ) ثابت ہوئی ] عَلَيْهِمُ [ ان پر ] الضَّلٰلَةُ ۭ [ گمراہی ] اِنَّهُمُ [ بیشک انہوں نے ] اتَّخَذُوا [ بنایا ] الشَّيٰطِيْنَ [ شیطانوں کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ دوست ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَ [ اس حال میں کہ ] يَحْسَبُوْنَ سمجھتے ہوئے ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ ] مُّهْتَدُوْنَ [ ہدایت یافتہ ہیں ]
(آیت ۔ 30) پہلا فریقا مفعول ہے ھدی کا ۔ دوسرا فریقا بھی مفعول ہے اور اس کا فعل اضل محذوف ہے ۔ ویحسبون کا واو حالیہ ہے۔
Ayah 7:31يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم بیٹو ] خُذُوْا [ تم لوگ پکڑو ] زِيْنَتَكُمْ [ اپنی زینت کو ] عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ ہر سجدہ کرنے کے وقت پر ] [ وَّكُلُوْا : اور کھاؤ] [ وَاشْرَبُوْا : اور پیو ] وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ [ اور حد سے تجاوز مت کرو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے تجاوز کرنے والوں کو ]
Ayah 7:32قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [ کس نے ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ [ اللہ کی اس زینت کو جو ] اَخْرَجَ [ اس نے نکالی ] لِعِبَادِهٖ [ اپنے بندوں کے لیے ] وَالطَّيِّبٰتِ [ اور پاکیزہ چیزوں کو ] مِنَ الرِّزْقِ ۭ [ رزق میں سے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] هِىَ [ یہ ] لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں کیلئے ہے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] خَالِصَةً [ (لیکن ) خالص ہوتے ہوئے ] يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نُفَصِّلُ [ ہم کھول کھول کر بتاتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ آیتوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ]
Ayah 7:33قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] رَبِّيَ [ میرے رب نے ] الْفَوَاحِشَ [ بےحیائیوں کو ] مَا ظَهَرَ [ جو نمایاں ہوا ] مِنْهَا [ اس سے ] وَمَا بَطَنَ [ اور جو پوشیدہ رہا ] وَالْاِثْمَ [ اور گناہ کو ] وَالْبَغْيَ [ اور زیادتی کرنے کو ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَاَنْ [ اور (اس نے حرام کیا ) کہ ] تُشْرِكُوْا [ تم لوگ شریک کرو ] بِاللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] مَا [ اس کو ] لَمْ يُنَزِّلْ [ اس نے اتار ہی نہیں ] بِهٖ [ جس کی ] سُلْطٰنًا [ کوئی سند ] وَّاَنْ [ اور (اس نے حرام کیا ) کہ ] تَقُوْلُوْا [ تم لوگ کہو ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] مَا [ وہ جس کا ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ علم نہیں رکھتے ]
(آیت ۔ 33) الفواحش ، الاثم اور البغی ، یہ سب حرم کے مفعول ہیں ۔ جبکہ ان تشرکو اور ان تقولوا سے پہلے حرم محذوف ہے ۔ ساعۃ تمیز ہے ۔
Ayah 7:34وَلِكُلِّ اُمَّةٍ [ اور ہر ایک امت کیلئے ] اَجَلٌ ۚ [ ایک وقت ہے ] فَاِذَا [ پھر جب ] جَاۗءَ [ آجائے ] اَجَلُهُمْ [ ان کا وقت ] لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ [ تو وہ لوگ پیچھے نہیں ہوں گے ] سَاعَةً [ ایک گھڑی (یعنی لمحہ بھر بھی )] وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ [ اور نہ ہی آگے ہوں گے ]
نوٹ ۔ 3: یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ افراد اور اقوام کے معاملہ میں اللہ نے ” اجل “ کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں ۔ افراد کے پیمانے تو سالوں ، مہینوں ، دنوں ، گھنٹوں ، اور منٹوں کے حساب سے پورے ہوتے ہیں ۔ جب وہ پورے ہوجاتے ہیں ، تو فرد ختم ہوجاتا ہے ۔ جبکہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کا حساب ان کے اخلاقی زوال سے ہوتا ہے ۔ اخلاقی زوال کی ایک خاص حد ہے۔ کوئی قوم جب گرتے گرتے اس حد کو پہنچ جاتی ہے تو اس کا سفینہ غرق ہوجاتا ہے۔ جس طرح افراد کی موت کا وقت اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم ، اسی طرح قوموں کے فنا ہونے کے وقت کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے ۔ (تدبر القرآن )
البتہ کسی فرد کے بالوں کی سفیدی ، اعضاء کی کمزوری ، چہرے کی جھریاں وغیرہ ایسی علامات ہیں جن کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اس فرد کا وقت اب قریب آلگا ہے ۔ اسی طرح قوموں کی اخلاقی گراوٹ کی کچھ علامات ہیں جنہیں دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اس قوم کے دن اب گنے جا چکے ہیں ۔ ایسی علامات کے ظہور کی ابتداء عموما اس وقت ہوتی ہے جب وہ قوم فوجی سازوسامان اور طاقت کے اس درجہ پر پہنچ جاتی ہے جہاں اس دنیا میں اس کا کوئی مد مقابل باقی نہیں رہتا اور اسے نظر آتا ہے کہ اب وہ جو چاہے کرے ، اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں ہے ۔ (سورۃ العلق ، آیات 6 ۔ 7) پھر طاقت کے نشے میں اسے ہر نقشہ الٹا نظر آتا ہے ۔ مجنون نظر آتی ہے ، لیلی نظر آتا ہے ۔ پھر وہ ایسی اخلاقی اقدار کو اپنے پاؤں تلے روندنا شروع کرتی ہے جن کی کبھی وہ خود علمبردار تھی پھر وہ صرف دھاندلی نہیں کرتی بلکہ پوری ڈھٹائی اور بےحیائی سے کرتی ہے اور اسے اپاہج سمجھتی ہے ۔ اخلاقی گراوٹ کی یہ پستی اس کے سفینے میں سوراخ کرتی رہتی ہے اور وہ قوم اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودتی رہتی ہے۔ مثلا موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کے دربار میں مطالبہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دو اور ان کو عذاب دینے کا سلسلہ ختم کردو ۔ (سورہ طہ ۔ آیت ۔ 47) اس وجہ سے فرعون نے ان پر جادوگر ہونے ، آجکل کی اصطلاح میں دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا اور اپنی قوم کو بتایا کہ یہ دونوں چاہتے ہیں کہ تم لوگوں کو تمہاری زمین سے نکال دیں اور تمہاری بےمثال تہذیب و تمدن کا ستیاناس کردیں ۔ (سورہ طہ ۔ آیت ۔ 63) ۔ حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس سرزمین سے بنی اسرائیل کو نکال کرلے جانا چاہتے تھے اور اس کے بعد فرعونیوں کی تہذیب سے ان کا کوئی واسطہ نہ رہتا اس طرح معمولی سمجھ بوجھ کا ہر آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ فرعون کا الزام کتنا بےبنیاد اور کیسی دھاندلی پر مبنی تھا ۔ لیکن طاقت کے نشہ کا یہ عالم تھا کہ قوم نے اس الزام کو درست تسلیم کیا ۔ اخلاقی گراوٹ کی یہ وہ حد ہے جسے عبور کرنے کے بعد وہ قوم اس زمین پر ایک قوم کی حیثیت سے رہنے کے حق سے محروم ہوگئی اور انہوں نے اپنی بےمثال تہذیب کو اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ۔ فاعتبروا یا ولی الابصار ۔
Ayah 7:35يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [ اے آدم (علیہ السلام) کے بیٹو ] اِمَّا [ اگر کبھی ] يَاْتِيَنَّكُمْ [ تمہارے پاس آئیں ] رُسُلٌ [ کچھ رسول ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] يَـقُصُّوْنَ [ بیان کرتے ہوئے ] عَلَيْكُمْ [ تم پر ] اٰيٰتِيْ ۙ [ میری آیات کو ] فَمَنِ [ تو جو ] اتَّقٰى [ تقوی کرے گا ] وَاَصْلَحَ [ اور اصلاح کرے گا (اپنی )] فَلَا خَوْفٌ [ تو کوئی خوف نہیں ہوگا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ [ اور نہ وہ لوگ غمگین ہوں گے ]
ترکیب : (آیت ۔ 35) اما دراصل ان ما ہے ۔ اس میں ان شرطیہ ہے اور ما تاکید کا ہے (آیت 2:37 ترکیب ) ، یقصون حال ہے رسل کا ۔ اما کا جواب شرط فمن اتقی ہے اور یہ خود بھی شرط ہے ، اس کا جواب شرط فلا خوف ہے ۔ (آیت ۔ 37) رسلنا میں رسل عاقل کی جمع مکسر ہے ۔ اس لیے اس کے لیے مؤنث کا صیغہ جاءت اور مذکر کا صیغہ یتوفون ، دونوں جائز ہیں ۔ امم نکرہ مخصوصہ ہے۔ ان آیات میں شرط اور جواب شرط کی وجہ سے افعال ماضی کا ترجمہ حال یا مستقبل میں کیا جائے گا ۔
نوٹ ۔ 1: آیت نمبر ۔ 37 میں آیا ہے کہ نافرمان لوگوں کو الکتب میں سے ان کا حصہ پہنچے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی زندگی کے لیے ان کی تقدیر میں جو مہلت عمر اور رزق وغیرہ لکھا ہوا ہے وہ ان کو ملے گا اور ان کی نافرمانی کی وجہ سے اسمیں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ، کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے دارالجزاء نہیں ہے۔
نوٹ ۔ 2: دوزخی لوگ اپنے پیش رو لوگوں کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ، اس لیے ان کو دوگنا عذاب دے۔ ایک ان کی اپنی گمراہی کا اور دوسرا ہمیں گمراہ کرنے کا ۔ جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب کے لیے دوگنا عذاب ہے ۔ اس کی وجہ سمجھ لیں جس کی وضاحت مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے کی ہے۔
نیکی ہو یا بدی دونوں اپنی فطرت کے اعتبار سے متعدی چیزیں ہیں ۔ یہ اپنے کرنے والے کی ذات تک محدود نہیں رہتی ہیں ۔ بلکہ ان کے اثرات دوسروں تک بھی منتقل ہوتے ہیں ۔ یہاں تک کہ نیکی کا ایک ذرہ احد پہاڑ کے برابر ہوسکتا ہے اور بدی کا ایک تخم لق ودق جنگل کی شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ( جو سورة النساء ، آیت نمبر ۔ 85 میں اور احادیث میں بیان ہوا ہے) کہ تم میں سے اگلے اور پچھلے دونوں ہی کے لیے اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ ان کے گناہوں سے بھی حصہ ملنے والا ہے جن کے لیے تم نے ان گناہوں کی مثال قائم کی ۔ تم فریاد کررہے ہو کہ تمہارے اگلوں نے تمہارے لیے بری مثال قائم کی ۔ اس وجہ سے ان کو زیادہ عذاب ہو۔ ان کو بیشک زیادہ عذاب ملے گا ۔ لیکن تم نے جو بری مثال اپنے بعد والوں کے لیے چھوڑی ، اس کے نتائج سے تم کس طرح بچ جاؤ گے۔ جو پیمانہ ان کے لیے ہے وہی پیمانہ تمہارے لیے ہے ۔ اگر ان کی روش بد کے ساتھ ساتھ تم اپنی روش بد کے اثرات کا بھی علم رکھتے تو تم مانتے کہ تم اور وہ ، دونوں یکساں مجرم ہو۔ لیکن تمہیں اپنے بوئے ہوئے تخم بد کی ہولناکیوں کا علم نہیں ہے ۔ اب وہ تمہارے سامنے آئے گا۔ (تدبر قرآن ) ۔ یہاں پر کچھ ذہنوں میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کے وقت زمین پر جو آخری نسل انسانی بدی میں ملوث ہوگی ، ان کی بدی کے اثرات تو کسی اگلی نسل کو منتقل نہیں ہوں تو کیا ان کو اکہرا عذاب ہوگا ۔ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لکل (سب کے لیے ہر ایک کے لیے ) فرمایا ہے ۔ اس کی وجہ وہ لوگ آسانی سے سمجھ لیں گے ۔ جنہوں نے ۔ STATISTICS (اعداد و شمار کا علم ) میں EXTRAPOLATION کا فارمولا پڑھا ہے۔ دوسرے طلبا اس کو اس طرح سمجھ لیں کہ کسی چیز کے گذشتہ کافی سالوں کے اعداد و شمار موجود ہوں تو ماضی میں ہونے والی کمی یا اضافہ کے رجحان کی بنیاد پر مذکورہ فارمولے کے ذریعہ تخمینہ لگا لیتے ہیں کہ چند سالوں کے بعد اعداد و شمار کیا ہوں گے ۔ عام طور پر یہ تخمینے تقریبا صحیح ثابت ہوتے ہیں ۔ اگر کبھی تھوڑا بہت یا کبھی کبھار زیادہ فرق ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی علم پر فیکٹ نہیں بلکہ ناقص ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص سے پاک ہے۔ اس لیے اس کا علم بھی پر فیکٹ ہے اور وہ علی کل شیء قدیر ۔ ہے اس کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ وہ آخری نسلوں کی بدی کے منتقل ہونے والے اثرات کا بالکل ٹھیک ٹھیک (Exact) حساب کرکے ان لوگوں کو اس کی بھی سزا دے ۔ اس لیے فرمایا لکل ضعف ۔
Ayah 7:36وَالَّذِيْنَ [ اور جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری آیات کو ] وَاسْتَكْبَرُوْا [ اور استکبار کیا ] عَنْهَآ [ ان سے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ [ آگ والے ہیں ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 7:37فَمَنْ [ تو کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِهٖ ۭ [ اس کی آیات کو ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] يَنَالُهُمْ [ پہنچے گا جن کو ] نَصِيْبُهُمْ [ ان کا حصہ ] مِّنَ الْكِتٰبِ ۭ [ لکھے میں سے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئیں گے ان کے پاس ] رُسُلُنَا [ ہمارے پیغامبر (فرشتے) ] يَتَوَفَّوْنَهُمْ ۙ [ ان کو پورا پورا لیتے ہیں (یعنی روح قبض کرتے ہوئے ) ] قَالُوْٓا [ تو وہ کہیں گے ] اَيْنَ [ کہاں ہے ] مَا [ وہ ، جس کو ] كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارا کرتے تھے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] قَالُوْا [ تو وہ لوگ کہیں گے ] ضَلُّوْا [ وہ گم ہوگئے ] عَنَّا [ ہم سے ] وَشَهِدُوْا [ اور گواہی دیں گے ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [ اپنے نفس کے خلاف ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ لوگ ] كَانُوْا [ تھے ] كٰفِرِيْنَ [ کفر کرنے والے ]
Ayah 7:38قَالَ [ وہ (یعنی اللہ ) کہے گا ] ادْخُلُوْا [ تم لوگ داخل ہوجاؤ ] فِيْٓ اُمَمٍ [ ایک ایسی امت میں جو ] قَدْ خَلَتْ [ جو گزر چکی ہے ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم لوگوں سے پہلے ] مِّنَ الْجِنِّ [ جنوں میں سے ] وَالْاِنْسِ [ اور انسانوں میں سے ] فِي النَّارِ ۭ [ آگ میں ] كُلَّمَا [ جب کبھی ] دَخَلَتْ [ داخل ہوتی ہے ] اُمَّةٌ [ کوئی امت ] لَّعَنَتْ [ تو لعنت کرتی ہے ] اُخْتَهَا ۭ [ اپنی بہن (یعنی دوسری امت ) کو ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] ادَّارَكُوْا [ وہ لوگ آملیں گے ] فِيْهَا [ اس میں ] جَمِيْعًا ۙ [ سب کے سب ] قَالَتْ [ تو کہے گی ] اُخْرٰىهُمْ [ ان کی دوسری ] لِاُوْلٰىهُمْ [ اپنی پہلی کیلئے ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ یہ ہیں ] اَضَلُّوْنَا [ جنہوں نے گمراہ کیا ہم کو ] فَاٰتِهِمْ [ پس تو دے ان کو ] عَذَابًا ضِعْفًا [ دوگنا عذاب ] مِّنَ النَّارِ ڛ [ آگ سے ] قَالَ [ وہ (یعنی اللہ ) کہے گا ] لِكُلٍّ [ ہر ایک کے لئے ] ضِعْفٌ [ دوگنا ہے ] وَّلٰكِنْ [ اور لیکن ] لَّا تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ جانتے نہیں ]
Ayah 7:39وَقَالَتْ [ اور کہے گی ] اُوْلٰىهُمْ [ ان کی پہلی ] لِاُخْرٰىهُمْ [ اپنی دوسری سے ] فَمَا كَانَ [ پس نہیں تھی ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مِنْ فَضْلٍ [ کسی قسم کی کوئی فضیلت ] فَذُوْقُوا [ تو چکھو ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ [ تم لوگ کمائی کرتے تھے ]
Ayah 7:40اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جن لوگوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] وَاسْتَكْبَرُوْا [ اور گھمنڈ کیا ] عَنْهَا [ ان سے ] لَا تُفَتَّحُ [ نہیں کھولے جائیں گے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ [ آسمان کے دروازے ] وَلَا يَدْخُلُوْنَ [ اور نہ ہی وہ داخل ہوں گے ] الْجَنَّةَ [ جنت میں ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَلِجَ [ گھس جائے ] الْجَمَلُ [ اونٹ ] فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ۭ [ سوئی کے ناکے میں ] وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والوں کو ]
ج م ل : (ک) جمالا ۔ خوب صورت ہونا ۔ خوب سیرت ہونا ۔ جمال ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ خوبصورتی ۔ ولکم فیھا جمال [ اور تمہارے لیے اس میں خوبصورتی ہے ] جمیل ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ خوبصورت ۔ خوب سیرت ۔ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ [ پس تو نظر انداز کر ، خوب سیرت نظر انداز کرنا ] 15: 85 ۔ (ن) جملا ۔ جمع کرنا ۔ اکٹھا کرنا ۔ جملۃ ۔ اکٹھا کی ہوئی چیز ۔ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً [ کیوں نہیں اتارا گیا ان پر قرآن اکٹھا ایک بار ] 25:32 ۔
س م م : (ن) سموما ۔ جھلسنا ۔ سموما ۔ جھلس دینے والی گرم ہوا ۔ لو ۔ وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ [ اور جن ! ہم نے پیدا کیا اس کو اس سے پہلے لو کی آگ سے ] 15: 27 ۔ سم ۔ تنگ سوراخ ۔ جیسے سوئی کا ، ناکا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 40 ۔
نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن بندہ کے لئے جب موت کا وقت آتا ہے تو حضرت عزرائیل (علیہ السلام) اس کی روح کو خطاب کرتے ہیں کہ رب کی مغفرت کے لیے نکلو ۔ اس وقت اس کی روح اس طرح بدن سے نکل آتی ہے ۔ جیسے کسی مشکیزہ کا منہ کھول دیا جائے ۔ تو اس کا پانی نکل جاتا ہے ۔ اس کی روح کو لے کر فرشتے پہلے آسمان پر پہنچتے ہیں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کا اعمال نامہ علیین میں رکھو اور اس کو واپس کردو ۔ پھر یہ روح لوٹ کر قبر میں آتی ہے ۔ سوال و جواب کے لیے۔ کافر کا جب موت کا وقت آتا ہے تو فرشتہ موت اسکی روح اس طرح نکالتا ہے جیسے کوئی خار دار شاخ گیلی اون میں لپٹی ہوئی ہو اور اس میں سے کھینچی جائے ۔ اس کی روح کو لے فرشتے پہلے آسمان پر پہنچتے ہیں تو اس کا دروازہ نہیں کھولا جاتا بلکہ حکم ہوتا ہے کہ اس بندے کا اعمال نامہ سجین میں رکھو اور اس کو واپس کردو ۔ پھر یہ روح لوٹ کر قبر میں سوال و جواب کے لیے آتی ہے ۔ (معارف القرآن )
نوٹ ۔ 2: حکایات ( Case Studies) میں جو واقعات ہوتے ہیں ، عام طور پر وہ فرضی ہوتے ہیں ۔ ان کا مقصد اور افادیت یہ ہوتی ہے کہ کسی بات کو ایک واقعاتی شکل دینے سے وہ بات سمجھنا اور سمجھانا آسان ہوجاتا ہے ۔ ہمارے محترم پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے ایسی ہی ایک حکایت اپنے طلبا کو سنائی تھی جو ان کے ترجمہ قرآن کیسٹ میں محفوظ ہے۔ اس کی افادیت کے پیش نظر ہم اسے نقل کررہے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ دوزخی لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور درخواست کی کہ ہم اپنے کیے کی بہت سزا بھگت چکے ۔ اب تو ہمیں معاف کر دے اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی جنت میں داخل کردے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے لیے تم لوگوں کو ایک کام کرنا ہوگا ۔ واپس جاؤ اور تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو بغض ، کینہ ، کدورت وغیرہ ہے ، وہ سب دل سے نکال کر اور ایک دوسرے کو معاف کرکے واپس آؤ ، تو میں تم لوگوں کو جنت میں داخل کردوں گا ، واپس آکر انہوں نے سوچا کہ اگر میں نے اس کو معاف کردیا تو میرا یہ دشمن بھی جنت میں چلا جائے گا ، اس کو تو میں کسی قیمت پر بھی جنت میں نہیں جانے دوں گا خواہ مجھے خود بھی دوزخ میں رہنا پڑے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کسی نے کسی کو معاف نہیں کیا اور سب کے سب دوزخ میں ہی پڑے رہے۔
اس حکایت میں ہمارے لیے کئی سبق ہیں ، جن میں چند ایک یہ ہیں ۔ (ا) اللہ تعالیٰ خود بھی غفور (بےانتہا بخشنے والا ) ہے اور وہ معاف کرنے کے عمل کو پسند کرتا ہے ۔ (2) معاف کرنے کا فائدہ پہلے معاف کرنے والے کی ذات کو ہوتا ہے اس کے بعد وہ کسی اور کو منتقل ہوتا ہے ، جبکہ معاف نہ کرنے والا اور انتقام کی فکر کرنے والا پہلے اپنا نقصان کرتا ہے اس کے بعد ہی وہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچا سکتا ہے (3) کسی معاشرے میں جب عفو و درگزر رواج پاتا ہے تو وہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔ جبکہ کسی معاشرے میں اگر انتقام لینا ضروری قرار پاجائے تو وہ معاشرہ انتشار اور بدامنی کا شکار ہوجاتا ہے ۔