Ayah 7:41لَهُمْ [ ان کے لیے ] مِّنْ جَهَنَّمَ [ جہنم میں سے ہے ] مِهَادٌ [ ایک بچھونا ] وَّمِنْ فَوْقِهِمْ [ اور ان کے اوپر سے ] غَوَاشٍ ۭ [ کچھ چھا جانے والی چیزیں ] وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کو ]
ترکیب : (آیت ۔ 41) مھاد اور غواش مبتدا مؤخر نکرہ ہیں ۔ لھم من جھنم ان دونوں کی قائم مقام خبر مقدم ہے ۔ جبکہ ومن فوقہم ، غواش کی متعلق خبر ہے ۔
Ayah 7:42وَالَّذِيْنَ [ اور جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انہوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] لَا نُكَلِّفُ [ ہم پابند نہیں کرتے ] نَفْسًا [ کسی جان کو ] اِلَّا [ مگر ] وُسْعَهَآ ۡ [ اس کی وسعت کو ] اُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ [ جنت والے ہیں ] هُمْ [ یہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
(آیت ۔ 42) وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ، مبتدا ہے اور اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ اس کی خبر ہے ، درمیان میں لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ جملہ معترضہ ہے۔ آیت نمبر۔ 43 سے شروع ہوکر آگے کئی آیات تک قیامت کا ذکر ہے۔ اس لیے ان آیات میں افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا ۔ (آیت ۔ 2: 27، نوٹ ۔ 3)
Ayah 7:43وَنَزَعْنَا [ اور ہم کھینچ نکالیں گے ] مَا [ اس کو جو ] فِيْ صُدُوْرِهِمْ [ ان کے سینوں میں ہے ] مِّنْ غِلٍّ [ کسی قسم کی کوئی کدورت ] تَجْرِيْ [ بہتی ہوں گی ] مِنْ تَحْتِهِمُ [ ان کے نیچے سے ] الْاَنْھٰرُ ۚ [ نہریں ] وَقَالُوا [ اور وہ لوگ کہیں گے ] الْحَمْدُ [ تمام شکر و تعریف ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لیے ہے ] الَّذِيْ [ جس نے ] هَدٰىنَا [ پہنچایا ہم کو ] لِھٰذَا ۣ [ یہاں تک ] وَمَا كُنَّا [ اور ہم نہیں تھے ] لِنَهْتَدِيَ [ کہ ہم ہدایت پاتے ] لَوْلَآ [ اگر نہ ہوتا ] اَنْ [ کہ ] هَدٰىنَا [ ہم کو ہدایت دیتا ] اللّٰهُ ۚ [ اللہ ] لَقَدْ جَاۗءَتْ [ آچکے تھے ] رُسُلُ رَبِّنَا [ ہمارے رب کے رسول ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] وَنُوْدُوْٓا [ اور پکارا جائے گا ] اَنْ [ کہ ] تِلْكُمُ الْجَنَّةُ [ یہ جنت ] اُوْرِثْتُمُوْهَا [ تم لوگوں کو وارث بنایا گیا اس کا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے تھے ]
Ayah 7:44وَنَادٰٓي [ اور پکاریں گے ] اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ [ جنت والے ] اَصْحٰبَ النَّارِ [ آگ والوں کو ] اَنْ [ کہ ] قَدْ وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ہے ] مَا [ اس کو جو ] وَعَدَنَا [ وعدہ کیا ہم نے ] رَبُّنَا [ ہمارے رب نے ] حَقًّا [ برحق ] فَهَلْ [ تو کیا ] وَجَدْتُّمْ [ تو لوگوں نے پایا ] مَّا [ اس کو جو ] وَعَدَ [ وعدہ کیا ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] حَقًّا ۭ [ برحق ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] نَعَمْ ۚ [ ہاں ] فَاَذَّنَ [ پھر پکارے گا ] مُؤَذِّنٌۢ [ ایک پکارنے والا ] بَيْنَهُمْ [ ان کے مابین ] اَنْ [ کہ ] لَّعْنَةُ اللّٰهِ [ اللہ کی لعنت ہے ] عَلَي الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں پر ]
ح ج ب : (ن) حجبا ۔ دو چیزوں کے درمیان حائل ہو کر ایک کو دوسرے تک پہنچنے سے روکنا ۔ (1) حائل ہونا ۔ (2) روکنا ۔ حجاب ۔ اسم ذات ہے۔ پردہ ، اوٹ ۔ رکاوٹ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 64 ۔ محجوب ۔ اسم المفعول ہے ۔ روکا ہوا۔ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ [ بیشک وہ لوگ اپنے رب سے اس دن روکے ہوئے ہوں گے) 83:15 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 44 ۔ 45) وجدنا کا مفعول اول ما ہے اور حقا مفعول ثانی ہے ۔ الذین بدل ہے الظلمین کا ۔
نوٹ۔ 1: مادہ ” ل ق ی “ کی لغت آیت نمبر ۔ 2:14 ۔ کے تحت دی گئی ہے ۔ وہاں لفظ تلقاء نہیں دیا گیا ہے۔ اب نوٹ کرلیں کہ اس کا مادہ ” ل ق ی “ ہی ہے اور وزن تفعال ہے ۔ علماء نے بتایا کہ اس وزن پر عربی میں دو ہی الفاظ آتے ہیں ، ایک تبیان اور دوسرا تلقاء ۔ تلقاء کے متعلق ایک رائے یہ ہے کہ یہ لقی ، یلقی کے متعددمصادر میں سے ایک مصدر ہے ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ باب مفاعلہ کا ظرف ہے یعنی ملاقات کی جگہ یاسمت ۔ ہم نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید میں یہ لفظ تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ اس کو ظرف مان کر ترجمہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔
نوٹ 2: جنت اور دوزخ کے درمیان حائل ہونے والے حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے۔ یہ افعال کے وزن پر غرف کی جمع ہے اور عرف ہر چیز کے اوپر والے حصہ کو کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ سے اہل اعراف کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی ۔ اس لیے جہنم سے تو نجات ہوگئی مگر جنت میں ابھی داخل نہیں ہوئے ۔ ان کو مقام اعراف پر روک لیا گیا ۔ تمام اہل جنت اور اہل دوزخ کا فیصلہ ہونے کے بعد ان کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ بالآکر ان کی مغفرت ہوجائے گی ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں ۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوئے اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ۔ ان کو جنت میں داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلے سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا ۔ (منقول از معارف القرآن بحوالہ ابن کثیر )
Ayah 7:45الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَصُدُّوْنَ [ روکتے ہیں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے راستے سے ] وَيَبْغُوْنَهَا [ اور جو تلاش کرتے ہیں اس میں ] عِوَجًا ۚ [ کجی کو ] وَهُمْ [ اور یہ لوگ ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت کا ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 7:46وَبَيْنَهُمَا [ اور ان دونوں کے درمیان ] حِجَابٌ ۚ [ ایک رکاوٹ ہے ] وَعَلَي الْاَعْرَافِ [ اور (اس کی ) بلندیوں پر ] رِجَالٌ [ کچھ لوگ ہیں ] يَّعْرِفُوْنَ [ جو پہچانتے ہیں ] كُلًّاۢ [ سب کو ] بِسِيْمٰىهُمْ ۚ [ ان کی نشانی سے ] [ وَنَادَوْا : اور وہ پکاریں گے ] اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ [ جنت والوں کو ] اَنْ [ کہ ] سَلٰمٌ [ سلامتی ہو ] عَلَيْكُمْ ۣ [ تم لوگوں پر ] لَمْ يَدْخُلُوْهَا [ وہ لوگ داخل نہیں ہوئے اس میں ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] يَطْمَعُوْنَ [ آرزو کرتے ہیں ]
(آیت ۔ 46) رجال مبتدا مؤخر نکرہ ہے اور نکرہ مخصوصہ بھی ہے۔ اس کی خبر موجود محذوف ہے۔ علی الاعراف قائم مقام مقدم جبکہ یعرفون ، اس کی خصوصیت ہے۔ نادواکا فاعل اس میں ھم کی ضمیر ہے ۔ جو رجال کے لیے ہے ۔
Ayah 7:47وَاِذَا [ اور جب کبھی ] صُرِفَتْ [ پھیری جائیں گی ] اَبْصَارُهُمْ [ ان کی نگاہیں ] تِلْقَاۗءَ اَصْحٰبِ النَّارِ ۙ [ آگ والوں کی طرف ] قَالُوْا [ تو وہ کہیں گے ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] لَا تَجْعَلْنَا [ تو مت بنانا ہمیں ] مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم قوم کے ساتھ ]
(آیت ۔ 47) صرفت کا نائب فاعل ابصارہم ہے جبکہ تلقاء ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 7:48وَنَادٰٓي [ اور پکاریں گے ] اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ [ بلندیوں والے ] رِجَالًا [ کچھ لوگوں کو ] يَّعْرِفُوْنَهُمْ [ وہ پہچانتے ہوں گے جن کو ] بِسِيْمٰىهُمْ [ ان کی نشانی سے ] قَالُوْا [ کہیں گے ] مَآ اَغْنٰى [ کام نہ آئی ] عَنْكُمْ [ تمہارے ] جَمْعُكُمْ [ تمہارے جتھ بندی ] وَمَا [ اور وہ جس پر ] كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ [ تم لوگ گھمنڈ کرتے تھے ]
Ayah 7:49اَهٰٓؤُلَاۗءِ [ کیا یہ ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کی ] اَقْسَمْتُمْ [ تم لوگ قسم کھاتے تھے ] لَا يَنَالُهُمُ [ (کہ ) نہیں پہنچے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِرَحْمَةٍ ۭ [ کسی رحمت سے ] اُدْخُلُوا [ (جنہیں کہا گیا ) داخل ہو ] الْجَنَّةَ [ جنت میں ] لَا خَوْفٌ [ کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَلَآ اَنْتُمْ [ اور نہ ہی تم لوگ ] تَحْزَنُوْنَ [ پچھتاؤگے ]
Ayah 7:50وَنَادٰٓي [ اور پکاریں ] اَصْحٰبُ النَّارِ [ آگ والے ] اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ [ جنت والوں کو ] اَنْ [ کہ ] اَفِيْضُوْا [ تم لوگ بہاؤ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مِنَ الْمَاۗءِ [ پانی میں سے (کچھ ) ] اَوْ [ یا ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] رَزَقَكُمُ [ عطا کیا تم کو ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] قَالُوْٓا [ وہ لوگ کہیں گے ] اِنَّ [ یقینا ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] حَرَّمَهُمَا [ حرام کیا دونوں کو ] عَلَي الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں پر ]
Ayah 7:51الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنہوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنایا ] دِيْنَهُمْ [ اپنے دین کو ] لَهْوًا [ تماشہ ] وَّلَعِبًا [ اور کھیل ] وَّغَرَّتْهُمُ [ اور دھوکہ دیا ان کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ [ دنیوی زندگی نے ] فَالْيَوْمَ [ تو آج ] نَنْسٰىهُمْ [ ہم بھول جائیں گے ان کو ] كَمَا [ جیسے کہ ] نَسُوْا [ وہ بھولے ] لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ [ اپنے اس دن کی ملاقات کو ] وَمَا [ اور جو ] كَانُوْا [ وہ لوگ ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] يَجْحَدُوْنَ [ جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ]
Ayah 7:52وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ [ اور ہم لائے ہیں ان کے پاس ] بِكِتٰبٍ [ ایک ایسی کتاب ] فَصَّلْنٰهُ [ ہم نے کھول کھول کر بیان کیا ہے جس کو ] عَلٰي عِلْمٍ [ علم (کی بنیاد ) پر ) هُدًى [ ہدایت دیتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً [ اور رحمت ہوتے ہوئے ] لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: آج کل مساجد میں اماموں کا معمول ہوگیا ہے کہ عربی کے کچھ دعائیہ کلمات انہیں یاد ہوتے ہیں اور ختم نماز پر وہ انہیں پڑھ دیتے ہیں اور لوگ آمین کہہ دیتے ہیں ۔ اکثریت کو ان کلمات کا مطلب معلوم نہیں ہوتا ۔ اس سارے تماشہ کا حاصل چند کلمات کا پڑھنا ہوتا ہے، دعا مانگنے کی جو حقیقت ہے وہ یہاں پائی ہی نہیں جاتی ۔ دعا پڑھی نہیں جاتی بلکہ مانگی جاتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی کو کلمات کے معنی معلوم ہوں اور وہ سمجھ کر کہہ رہا ہو ، لیکن اس کے لب و لہجہ میں تضرع یعنی عاجزی اور انکساری نہ ہو تو یہ دعا مانگنا نہیں ہے بلکہ مطالبہ پیش کرنا ہے ، جس کا کسی بندے کو کوئی حق نہیں ہے ۔ دعا کی روح تضرع ہے اور خفیہ یا آہستہ آواز سے مانگنا افضل اور قرین قبول ہے۔ کیونکہ بلند آواز سے دعا مانگنے میں تواضع اور انکساری کا باقی رہنا مشکل ہے۔ (معارف القرآن )
Ayah 7:53هَلْ يَنْظُرُوْنَ [ وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا [ سوائے ] تَاْوِيْلَهٗ ۭ [ اس کے انجام کار کے ] يَوْمَ [ جس دن ] يَاْتِيْ [ آئے گا ] تَاْوِيْلُهٗ [ اس کا انجام ] يَقُوْلُ [ تو کہیں گے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] نَسُوْهُ [ بھولے اس کو ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] قَدْ جَاۗءَتْ [ لائے تھے ] رُسُلُ رَبِّنَا [ ہمارے رب کے رسول ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کو ] فَهَلْ [ تو کیا ] لَّنَا [ ہمارے لیے ] مِنْ شُفَعَاۗءَ [ کوئی بھی شفاعت کرنے والا ہے ] فَيَشْفَعُوْا [ تاکہ وہ شفاعت کریں ] لَنَآ [ ہماری ] اَوْ [ یا ] نُرَدُّ [ ہم لوٹائے جائیں ] فَنَعْمَلَ [ نتیجا ہم عمل کریں ] غَيْرَ الَّذِيْ [ اس کے علاوہ جو ] كُنَّا نَعْمَلُ ۭ [ ہم کیا کرتے تھے ] قَدْ خَسِرُوْٓا [ انہوں نے گھاٹے میں ڈالا ہے ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] وَضَلَّ [ اور گم ہوا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑتے تھے ]
ترکیب : (آیت ۔ 53) تاویلہ کی ضمیر مفعولی بکتب کے لیے ہے اور نسوہ کی ضمیر مفعولی بھی کتاب کے لیے ہے ۔ فیشفعوا اور فنعمل کے فاسببیہ ہیں ۔
Ayah 7:54اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكُمُ [ تم لوگوں کا رب ] اللّٰهُ الَّذِيْ [ وہ اللہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] ثُمَّ [ پھر ] اسْتَوٰى [ وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ [ عرش پر ] يُغْشِي [ وہ ڈھانپتا ہے ] الَّيْلَ [ رات کو ] النَّهَارَ [ دن سے ] يَطْلُبُهٗ [ وہ پیچھے لگتی ہے اسکے ] حَثِيْثًا ۙ [ تیز رفتاری سے ] وَّالشَّمْسَ [ اور (پیدا کیا ) سورج کو ] وَالْقَمَرَ [ اور چاند کو ] وَالنُّجُوْمَ [ اور ستاروں کو ] مُسَخَّرٰتٍۢ [ مطیع کیے ہوئے ] بِاَمْرِهٖ ۭ [ اپنے حکم سے ] اَلَا [ خبردار !] لَهُ [ اس کے لئے ہی ہے ] الْخَلْقُ [ پیدا کرنا ] وَالْاَمْرُ ۭ [ اور حکم دینا ] تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] اللّٰهُ [ اللہ ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے ]
ط ل ب : (ن) طلبا ۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے جستجو کرنا ۔ (1) کسی چیز کے پیچھے لگنا ۔ تلاش کرنا ۔ (2) چاہنا ۔ (زیر مطالعہ آیت ۔ 54) طالب اسم الفاعل ہے۔ تلاش کرنے والا ۔ چاہنے والا ۔ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ [ کمزور ہوا چاہنے والا اور جس کو چاہا گیا ] 22:73 ۔ مطلوب ، اسم المفعول ہے۔ جس کو تلاش کیا گیا ۔ چاہا گیا ۔
ج ث ث ۔ (ن) : حثا ۔ کسی کو کسی کام پر ابھارنا ۔ اکسانا ۔ حثیث ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ تیز رو ، تیز رفتار (اکسایا ہوا ہونے کی وجہ سے ) ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 54 ۔
(آیت ۔ 54) یغشی کا فاعل اس میں ھو کی ضمیر ہے ۔ جو اللہ کے لیے ہے ۔ یطلبہ میں ضمیر فاعلی الیل کے لیے اور ضمیر مفعولی النہار کے لیے ہے۔ حثیثا حال ہے۔ والشمس والقمر والنجوم ، یہ سب خلق کے مفعول ہیں ۔ مسخرات حال ہے ۔
Ayah 7:55اُدْعُوْا [ تم لوگ پکارو ] رَبَّكُمْ [ اپنے رب کو ] تَضَرُّعًا [ گڑگڑاتے ہوئے ] وَّخُفْيَةً ۭ [ اور چپکے چپکے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُعْتَدِيْنَ [ حد سے بڑھنے والوں کو ]
Ayah 7:56وَلَا تُفْسِدُوْا [ اور تم لوگ نظم مت بگاڑو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بَعْدَ اِصْلَاحِهَا [ اس کی اصلاح کیے جانے کے بعد ] وَادْعُوْهُ [ اور پکارو اس کو ] خَوْفًا [ ڈرتے ہوئے ] وَّطَمَعًا ۭ [ اور آرزو کرتے ہوئے ] اِنَّ [ بیشک ] رَحْمَتَ اللّٰهِ [ اللہ کی رحمت ] قَرِيْبٌ [ قریب ہے ] مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ [ بھلائی کرنے والوں سے ]
(آیت ۔ 56) بعد اصلاحا میں اصلاح ، مصدر ہے ، جو معروف اور مجہول دونوں معنی دیتا ہے ۔ ترجمہ میں ہم مجہولی معنی کو ترجیح دیں گے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 3:154 نوٹ ، 1) رحمت اللہ کی خبر قریبۃ کے بجائے قریب آئی ہے کیونکہ فعیل کا وزن اگر بمعنی مفعول ہو تو پھر مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے تائے تانیث کے بغیر ہی استعمال ہوتا ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر ، حصہ سوم ، پیرا گراف ۔ 9:60) ۔
Ayah 7:57وَهُوَ الَّذِيْ [ اور وہ ، وہ ہے جو ] يُرْسِلُ [ بھیجتا ہے ] الرِّيٰحَ [ ہواؤں کو ] بُشْرًۢا [ خوشخبری ہوتے ہوئے ] بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت کے آگے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَآ [ جب ] اَقَلَّتْ [ وہ بلند کرتی ہیں ] سَحَابًا ثِقَالًا [ بھاری بادل کو ] سُقْنٰهُ [ تو ہم ہانکتے ہیں اس کو ] لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ [ کسی مردہ بستی کے لیے ] فَاَنْزَلْنَا [ پھر ہم اتارتے ہیں ] بِهِ [ اس سے ] الْمَاۗءَ [ پانی کو ] فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نکالتے ہیں ] بِهٖ [ اس سے ] مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭ [ تمام پھلوں میں سے ] كَذٰلِكَ [ اسی طرح سے ] نُخْرِجُ [ ہم نکالیں گے ] الْمَوْتٰى [ مردوں کو ] لَعَلَّكُمْ [ شاید کہ ] تَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصحیت حاصل کرو ]
س و ق ۔ (ن): مساقا ۔ جانور کو پیچھے سے ہانکنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔ (س ) سوقا ۔ موٹی پنڈلی والا ہونا ۔ سائق ۔ اسم الفاعل ہے۔ ہانکنے والا ۔ مَّعَهَا سَاۗىِٕقٌ وَّشَهِيْدٌ [ اس کے ساتھ ایک ہاننے والا اور ایک گواہ ہوگا ] 50:21 ۔ ساق ۔ ج : سوق ۔ پنڈلی ۔ درخت کا تنہ ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ اور لپٹی پنڈلی پنڈلی سے ] 75:29 ۔ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِهٖ [ پھر وہ سیدھی ہوئی اپنے تنوں پر ] 48:29 ۔ سوق ۔ ج : اسواق ۔ بازار ۔ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ [ بیشک وہ لوگ کھانا کھاتے ہیں ، اور چلتے ہیں ۔ بازاروں میں ] 25: 20 ۔
نوٹ ۔ 2: آیات ۔ 57 ۔ 58 میں بارش اور اس کی برکتوں کے ذکر سے حیات بعد الممات کا اثبات بھی مقصود ہے اور تمثیل کے پیرائے میں رسالت اور اس کی برکتوں کے ذریعہ سے نیک وبدلوگوں میں امتیاز نمایاں ہونے کا نقشہ دکھانا بھی پیش نظر ہے ۔ رسول کی آمد اور خدائی تعلیم و ہدایت کے نزول کو بارانی ہواؤں کے چلنے اور ابر رحمت چھا جانے اور بارش کے برسنے سے تشبیہہ دی گئی ہے ۔ پھر بارش کے ذریعہ سے مردہ زمین کے جی اٹھنے اور اس کے اندر سے زندگی کے خزانے ابل پڑنے کو اس حالت کے لیے بطور مثال پیش کیا گیا ہے جو نبی کی تعلیم و تربیت سے مردہ انسانیت کے جاگ اٹھنے اور اس کے سینے سے بھلائیوں کے خزانے ابل پڑنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور بارش کی برکتیں صرف زرخیز زمین حاصل کرتی ہے ۔ اسی طرح رسالت کی برکتیں صرف صالح لوگ حاصل کرتے ہیں ۔ (تفیہم القرآن )
فی زمانہ مذکورہ تمثیل کا اطلاق مسلمانوں کی اکثریت پر ہوتا ہے ، جس میں جہلا کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں ، کیونکہ قرآن اور حدیث کی تعلیم سے یہ لوگ نابلد ہوتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ اس لا علمی کی حالت میں ان لوگوں میں نیک وبد کی تمیز کس بنیاد پر ہوگی اور ان لوگوں کو جب قرآن وحدیث کی کوئی بات بتائی جاتی ہے تو ان میں سے کون لوگ رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور کون لوگ گمراہی پر اڑے رہتے ہیں ۔ اس بات کو سمجھ لیں ۔
اصول یہ ہے کہ پہلے انسان کو کچھ سکھاتے پڑھاتے ہیں پھر اس کا امتحان لیتے ہیں ۔ اسی لیے انسان کی فطرت میں بہت کچھ ڈال کر اسے دنیا کی امتحانگاہ میں بھیجا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک نیکی اور بدی کا شعور بھی ہے ۔ (91:8) جو لوگ اپنی فطرت کی پکار پر کان دھرتے ہیں اور زندگی میں برائیوں سے اجتناب کی روش اختیار کرتے ہیں ، ان کی فطری پاکیزگی زندہ رہتی ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات آتی ہیں تو یہ لوگ اسے اپنے اندر اس طرح جذب کرتے ہیں جیسے زرخیز زمین بارش کے پانی کو ۔ پھر حتی المقدور ان پر عمل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگی میں بھی اور معاشرے میں بھی بہار آتی ہے اور پھول مہکتے ہیں ۔
فطری پاکیزگی کو زندہ رکھنے میں اس بات کو ایک فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے کہ انسان اپنے دل میں کس قسم کے جذبات ، امنگوں اور خواہشات کی پرورش کرتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے کس قسم کی صحبت کا انتخاب کرتا ہے ، یہ صبحت خواہ افراد کی ہو ، کتب کی ہو یا مشترکہ ہو ، دوسری بات یہ ہے کہ انسانی ذہن کبھی ساکت نہیں ہوتا ۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کسی برائی کے متعلق نہ سوچیں ۔ اگر ہوائی قلعے بنانے ہیں اور خیالی پلاؤ پکانا ہے تو ان کو اپنے تصور میں نیکیاں اور بھلائیاں کرنے کا ذریعہ بنالیں ۔ اس طرح آپ کی امنگیں ان شاء اللہ راہ راست پر آجائیں گی اور سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ دل ہی دل میں کوئی ذکر ، ورد کرتے رہیں یا دورد شریف پڑھتے رہیں ۔
(آیت ۔ 57) اقلت کا فاعل اس میںھی کی ضمیر ہے جو الریح کے لیے ہے۔ پہلے بہ کی ضمیر سحابا کے لیے ہے جبکہ دوسرے بہ کی ضمیر الماء کے لیے ہے۔
Ayah 7:58وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ [ اور پاکیزہ بستی ] يَخْرُجُ [ نکلتا ہے ] نَبَاتُهٗ [ اس کا سبزہ ] بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ [ اس کے رب کی اجازت سے ] وَالَّذِيْ [ اور وہ (بستی ) جو ] خَبُثَ [ نکمی ہوئی ] لَا يَخْرُجُ [ نہیں نکلتا (اس کا سبزہ ) ] اِلَّا [ مگر ] نَكِدًا ۭ [ بےفیض ہوتے ہوئے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نُصَرِّفُ [ ہم بار بار بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے ] يَّشْكُرُوْنَ [ جو حق مانتے ہیں ]
ن ک د : (س) نکدا۔ کنویں کا پانی کم ہونا۔ گزران کا تنگ ہونا ۔ نکد، صفت ہے ۔ سخت مزاج ۔ بےفیض ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 58 ۔
Ayah 7:59لَقَدْ اَرْسَلْنَا [ بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] نُوْحًا [ نوح کو ] اِلٰي قَوْمِهٖ [ ان کی قوم کی طرف ] فَقَالَ [ تو انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] مَا [ نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْ اِلٰهٍ [ کوئی بھی الہ ] غَيْرُهٗ ۭ [ اس کے علاوہ ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کے عذاب سے ]
ترکیب (آیت 59) ما نافیہ کا اسم غیرہ ہے ۔ اسی لیے غیر پر رفع آئی ہے ۔ اس کی خبر محذوف ہے اور لکم قائم مقام خبر ہے ۔
نوٹ ۔ 1: مادہ ” ع م ی “ کی لغت آیت نمبر ۔ 2: 18 میں دی ہوئی ہے ، وہاں لفظ عمین رہ گیا تھا ۔ یہ دراصل فعل کے وزن پر صفت ہے جو قاعدے کے مطابق عمی کے بجائے عمی استعمال ہوتی ہے ۔ اس کی جمع سالم قاعدے کے مطابق عمیون کے بجائے عمون اور حالت نصب وجر میں عمیین کے بجائے عمین استعمال ہوتی ہے ۔
نوٹ۔ 2: گذشتہ آیات 57 ۔ 58، میں نبوت و رسالت کے متعلق جو اصولی بات تمثیل کے پیرائے میں بیان کی گئی تھی ، اس کو اب مسلسل کئی رکوعوں میں تاریخی شواہد پیش کرکے واضح کیا گیا ہے ۔ یہ تمام قومیں وہ تھیں جن کو اللہ نے عروج اور اقتدار عطا کیا تھا ، لیکن انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اللہ کی زمین میں عدل وقسط کو درہم برہم کیا ۔ جس کے نتیجے میں وہ ہلاک کی گئیں ۔
” ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ نافرمان لوگوں کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں ، عذاب اس وقت بھیجتے ہیں جب وہ اپنی کثرت ، قوت اور دولت میں انتہاکو پہنچ جائیں اور اس میں بدمست ہوجائیں “ (منقول از معارف القرآن بحوالہ ابن کثیر ]
نوٹ ۔ 3: یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ عذاب اور ابتلا میں فرق ہوتا ہے ۔ ایک تو یہ شکل ہوتی ہے کہ کسی قوم پر کوئی آفت جیسے زلزلہ ، طوفان وغیرہ ، اللہ تعالیٰ اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ لوگ غفلت سے بیدار ہوں ، اس قسم کی ابتلا میں اچھے برے سب آفت کی لپیٹ میں آتے ہیں ۔ دوسری شکل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر ایک فیصلہ کن عذاب بھیجتا ہے ۔ اس صورت میں عذاب کی زد سے وہ لوگ بچا لیے جاتے ہیں جو اصلاح کرنے والے یا ان کے پیروہوتے ہیں ۔ (تدبر قرآن )
ترکیب : گذشتہ آیت نمبر ۔ 59 میں لقد ارسلنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے ھودا حالت نصب میں ہے۔
Ayah 7:60قَالَ [ کہا ] الْمَلَاُ [ سرداروں نے ] مِنْ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم میں سے ] اِنَّا [ بیشک ہم ] لَنَرٰكَ [ ضرور دیکھتے ہیں آپ کو ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ ایک کھلی گمراہی میں ]
(آیت 61) لیس کا اسم ضللۃ ہے جو مؤنث غیر حقیقی ہے ۔ اس لیے لیست کے بجائے لیس بھی جائز ہے اور اس کی خبر محذوف ہے ۔
(آیت ۔ 69) فی الخلق میں الخلق مصدر ہے جو معروف ومجہول دونوں معنی دیتا ہے ۔ یہاں ہم مجہولی معنی کو ترجیح دیں گے ۔ بصطہ تمیز ہے۔
Ayah 7:61قَالَ [ انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] بِيْ [ مجھ میں ] ضَلٰلَةٌ [ کوئی گمراہی ] وَّلٰكِنِّيْ [ اور لیکن میں تو ] رَسُوْلٌ [ ایک رسول ہوں ] مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب (کی طرف) سے ]
(آیت 62) ابلغ کا مفعول اول کم ہے اور رسلت مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔
Ayah 7:62اُبَلِّغُكُمْ [ میں پہنچاتا ہوں تم لوگوں کو ] رِسٰلٰتِ رَبِّيْ [ اپنے رب کی پیغامات ] وَاَنْصَحُ [ اور خیر خواہی کرتا ہوں ] لَكُمْ [ تمہاری ] وَاَعْلَمُ [ اور میں جانتا ہوں ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف ) سے ] مَا [ اسکو جو ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ نہیں جانتے ]
Ayah 7:63اَوَ [ اور کیا ] عَجِبْتُمْ [ تمہیں عجیب لگا ] اَنْ [ کہ ] جَاۗءَكُمْ [ آئی تمہارے پاس ] ذِكْرٌ [ ایک یاد دہانی ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] عَلٰي رَجُلٍ [ ایک شخص پر ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] لِيُنْذِرَكُمْ [ تاکہ وہ وارننگ دے تم کو ] وَلِتَتَّقُوْا [ اور تاکہ تم لوگ تقوی کرو ] وَلَعَلَّكُمْ [ اور شاید کہ ] تُرْحَمُوْنَ [ تم پر رحم کیا جائے ]
Ayah 7:64فَكَذَّبُوْهُ [ تو انہوں نے جھٹلایا ان کو ] فَاَنْجَيْنٰهُ [ پھر ہم نے نجات دی ان کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور انہیں جو ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] فِي الْفُلْكِ [ کشتی میں ] وَاَغْرَقْنَا [ اور ہم نے غرق کیا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں کو ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ ] كَانُوْا [ تھے ] قَوْمًا عَمِيْنَ [ ایک اندھی قوم ]
Ayah 7:65وَاِلٰي عَادٍ [ اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں ) قوم عاد کی طرف ] اَخَاهُمْ [ ان کے بھائی ] هُوْدًا ۭ [ ہود کو ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] مَا [ نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْ اِلٰهٍ [ کوئی بھی الہ ] غَيْرُهٗ ۭ [ اس کے علاوہ ] اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [ تو کیا تم لوگ تقوی نہیں کرتے ]
نوٹ ۔ 1: حضرت نوح (علیہ السلام) کی تیسری نسل میں سے ایک شخص کا نام ارم تھا ۔ اس کے ایک بیٹے کی اولاد میں عاد ہے اور دوسرے بیٹے کی اولاد میں ثمود ہے۔ اس طرح قوم عاد اور قوم ثمود ، ارم کی دوشاخیں ہیں ایک کو عاد اولی اور دوسری کو ثمود یا عاد ثانیہ کہتے ہیں ۔ جبکہ ارم کا لفظ عاد اور ثمود دونوں کے لیے مشترک ہے ۔
عمان سے لے کر حضرموت اور یمن تک قوم عاد کی بستیاں تھیں ، اللہ نے دنیا کی ساری نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دیے تھے ۔ ان کی زمینں بڑی سرسبز و شاداب تھیں ۔ رہنے کے لیے بڑے بڑے اور شاندار محلات بناتے تھے ۔ بڑے قد آور قوی الجثہ لوگ تھے ۔ یہاں سے یہ ساری سرزمین میں دور دور تک پھیل گئے اور اپنی قوت کے مظاہرہ میں لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے لگے ” فخر اور غرور میں مبتلا ہوگئے اور دعوی کرنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوی کون ہے اور بھول گئے کہ جس اللہ نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ قوی ہے ۔ (41:15) “ پھر اللہ کو بھول کر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے ۔
حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اختیار کرنے اور عدل و انصاف قائم کرنے کی تلقین کی لیکن یہ لوگ دولت و طاقت کے نشہ میں بدمست تھے ۔ انہوں نے بات نہ مانی تو ان پر پہلا عذاب یہ آیا کہ تین سال تک مسلسل بارش بند ہوگئی ۔ زمینیں خشک ہوگئیں ۔ کھیتیاں اور باغات جل گئے ۔ یہ لوگ پھر بھی باز نہ آئے ۔ تو ان پر شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلط ہوا جس کی ہوا میں ہیبتناک آواز تھی ۔ باغات اور محلات زمین بوس ہوگئے ۔ آدمی ہوا میں اڑتے اور پھر سر کے بل آگرتے تھے ۔ اس طرح قوم عاد ہلاک کردی گئی ۔
جب قوم عاد پر عذاب آیا تو حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی رفقاء نے ایک کھیت میں پناہ لی ۔ یہ عجیب بات تھی کہ اس طوفانی ہوا سے بڑے بڑے محلات تو منہدم ہورہے تھے مگر اس کھیت میں ہوا معتدل ہوکر داخل ہوتی تھی ۔ اس لیے وہ لوگ وہاں مطمئن بیٹھے رہے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی ۔ قوم کے ہلاک ہوجانے کے بعد مکہ معظمہ منتقل ہوگئے اور پھر یہیں وفات پائی ۔ (ابن کثیر اور معارف القرآن سے ماخوذ )
Ayah 7:66قَالَ [ کہا ] الْمَلَاُ [ سرداروں نے ] الَّذِيْنَ [ جنہوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] مِنْ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم میں سے ] اِنَّا [ بیشک ہم ] لَنَرٰكَ [ ضرور دیکھتے ہیں آپ کو ] فِيْ سَفَاهَةٍ [ بےعقلی میں ] وَّاِنَّا [ اور بیشک ہم ] لَنَظُنُّكَ [ ضرور سمجھتے ہیں آپ کو ] مِنَ الْكٰذِبِيْنَ [ جھوٹوں میں سے ]
Ayah 7:67قَالَ [ انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] بِيْ [ مجھ میں ] سَفَاهَةٌ [ کوئی بےعقلی ] وَّلٰكِنِّيْ [ اور لیکن میں تو ] رَسُوْلٌ [ ایک رسول ہوں ] مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب (کی طرف) سے ]
Ayah 7:68اُبَلِّغُكُمْ [ میں پہنچاتا ہوں تم لوگوں کو ] رِسٰلٰتِ رَبِّيْ [ اپنے رب کے پیغامات ] وَاَنَا [ اور میں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] نَاصِحٌ اَمِيْنٌ [ ایک دیانتدار خیرخواہ ہوں ]
Ayah 7:69اَوَ [ اور کیا ] عَجِبْتُمْ [ تمہیں عجیب لگا ] اَنْ [ کہ ] جَاۗءَكُمْ [ آئی تمہارے پاس ] ذِكْرٌ [ ایک یاد دہانی ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] عَلٰي رَجُلٍ [ ایک شخص پر ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] لِيُنْذِرَكُمْ ۭ [ تاکہ وہ وارننگ دے تم کو ] وَاذْكُرُوْٓا [ اور یاد کرو ] اِذْ [ جب ] جَعَلَكُمْ [ اس نے بنایا تمہیں ] خُلَفَاۗءَ [ خلیفہ ] مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ [ نوح کی قوم کے بعد سے ] وَّزَادَكُمْ [ اور زیادہ کیا تمہیں ] فِي الْخَلْقِ [ مخلوق میں ] بَصْۜطَةً ۚ [ بلحاظ کشادگی کے ] فَاذْكُرُوْٓا [ پس یاد کرو ] اٰلَاۗءَ اللّٰهِ [ اللہ کی مہربانیوں کو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ فلاح پاؤ]
ء ل ی : (س) الیا ، دنبہ کی چکی کا بڑھ جانا یعنی استحقاق اور توقع کے بغیر کوئی فائدہ پہنچنا ۔ الی ۔ (ج) الا ۔ مہربانی نعمت ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 69
و ح د : (ض) ، وحدا ۔ تنہا ہونا۔ اکیلا ہونا ۔
Ayah 7:70قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَجِئْتَنَا [ کیا آپ آئے ہمارے پاس ] لِنَعْبُدَ [ (اس لیے) کہ ہم بندگی کریں ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَحْدَهٗ [ اس کے اکیلے ہوتے ہوئے ] وَنَذَرَ [ اور (اس لیے ) کہ ہم چھوڑدیں ] مَا [ اس کو جس کی ] كَانَ يَعْبُدُ [ بندگی کرتے تھے ] اٰبَاۗؤُنَا ۚ [ ہمارے آباواجداد ] فَاْتِنَا [ پس تو لے آ ] بِمَا [ اس کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ كُنْتَ [ اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچوں میں سے ]
زیرمطالعہ آیت ۔ 70 ۔ واحد ۔ فاعل ، کے وزن پر صفت ہے۔ تنہا ۔ اکیلا ۔ وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ [ اور تم لوگوں کا الہ اکیلا الہ ہے ] 2:163 ۔ وحید ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ تنہا۔ اکیلا ۔ ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا [ آپ چھوڑ دیں مجھ کو اور اس کو جسے میں پیدا کیا اکیلا ] 74:11 ۔
(آیت ۔ 70) وحدہ حال ہے ۔ رجس اور غضب ، وقع کے فاعل ہیں ۔
Ayah 7:71قَالَ [ انہوں نے کہا ] قَدْ وَقَعَ [ پڑگئی ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] رِجْسٌ [ ایک نحوست ] وَّغَضَبٌ ۭ [ اور غضب ] اَ [ کیا ] تُجَادِلُوْنَنِيْ [ تم لوگ بحث کرتے ہو مجھ سے ] فِيْٓ اَسْمَاۗءٍ [ کچھ ناموں میں ] سَمَّيْتُمُوْهَآ [ تم نے نام دھرے جن کے ] اَنْتُمْ [ تم لوگوں نے ] وَاٰبَاۗؤُكُمْ [ اور تمہارے آباواجداد نے ] مَّا نَزَّلَ [ نہیں اتاری ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] بِهَا [ جس کی ] مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ [ کوئی بھی سند ] فَانْتَظِرُوْٓا [ پس تم لوگ راہ دیکھو ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی ) ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ [ راہ دیکھنے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 7:72فَاَنْجَيْنٰهُ [ پھر ہم نے نجات دی ان کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان لوگوں کو جو ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] بِرَحْمَةٍ [ رحمت سے ] مِّنَّا [ اپنی طرف سے ] وَقَطَعْنَا [ اور ہم نے کاٹ دی ] دَابِرَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی جڑ جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] وَمَا كَانُوْا [ اور وہ لوگ نہیں تھے ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 7:73وَاِلٰي ثَمُوْدَ [ ( بیشک ہم بھیج چکے ہیں قوم) ثمود کی طرف ] اَخَاهُمْ [ ان کے بھائی ] صٰلِحًا ۘ [ صالح کو ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] مَا [ نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْ اِلٰهٍ [ کوئی بھی الہ ] غَيْرُهٗ ۭ [ اس کے علاوہ ] قَدْ جَاۗءَتْكُمْ [ آچکی ہے تمہارے پاس ] بَيِّنَةٌ [ ایک واضح (نشانی ) ] مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمہارے رب (کی طرف) سے ] هٰذِهٖ [ یہ ] نَاقَةُ اللّٰهِ [ اللہ کی اونٹنی ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] اٰيَةً [ ایک نشانی ہوتے ہوئے ] فَذَرُوْهَا [ پس تم لوگ چھوڑو اس کو ] تَاْكُلْ [ (تاکہ ) وہ کھائے ] فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ [ اللہ کی زمین میں ] وَلَا تَمَسُّوْهَا [ اور تم لوگ مت چھونا اس کو ] بِسُوْۗءٍ [ کسی برائی سے ] فَيَاْخُذَكُمْ [ ورنہ پکڑلے گا تم لوگوں کو ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ]
ن و ق : (ن) نوقا ۔ چیز کو ترتیب سے جمانا ۔ کام کو اچھی طرح کرنا ۔ ناقۃ اسم ذات ہے۔ اونٹنی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 73 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 73) ایۃ حال ہے ۔ فذروھا فعل امر ہے ۔ اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے تاکل مجزوم ہے ۔ فیاخذ کا فاسببیہ ہے ۔
نوٹ ۔ 1 : عرب کی قدیم ترین اقوام میں عاد کے بعد ثمود دوسری قوم ہے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے، نزول قرآن سے پہلے اس کے قصے اہل عرب میں زبان زد عام تھے ۔ اس قوم کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی حجر کے نام سے موسوم ہے۔ اب تک وہاں ہزاروں ایکڑ رقبے میں وہ عمارتیں موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش کر بنایا تھا ۔ نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر جب ادھر سے گزرے تو آپ نے مسلمانوں کو یہ آثار عبرت دکھائے۔ آپ نے ایک کنویں کی نشاندہی کرکے بتایا کہ اس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ صرف اسی کنویں سے پانی لیں ، جبکہ باقی کنوؤں سے پانی لینے سے منع کردیا۔
سورۃ الشعراء آیات 154، 158 میں تصریح ہے کہ ثمود والوں نے خود ایک ایسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا جس سے یہ واضح ہوجائے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں ۔ اور اس کے جواب میں انہوں نے اونٹنی کو پیش کیا تھا ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اونٹنی کا ظہور معجزے کے طور پر ہوا تھا ۔ مگر قرآن اس امر کی تصریح نہیں کرتا کہ یہ اونٹنی کس طرح وجود میں آئی ۔ کسی حدیث میں بھی اس کے معجزے کے طور پر پیدا ہونے کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ۔ اس لیے ان روایات کو تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے جو مفسرین نے اس کی کیفیت پیدائش کے متعلق نقل کی ہیں ۔ (تفیہم القرآن )
Ayah 7:74وَاذْكُرُوْٓا [ اور یاد کرو ] اِذْ [ جب ] جَعَلَكُمْ [ اس نے بنایا تم کو ] خُلَفَاۗءَ [ خلیفہ ] مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ [ (قوم) عاد کے بعد سے ] وَّبَوَّاَكُمْ [ اور اس نے ٹھکانہ دیا تم کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] تَتَّخِذُوْنَ [ تم لوگ بناتے ہو ] مِنْ سُهُوْلِهَا [ اسکی نرم ہموار جگہ سے ] [ قُصُوْرًا : محلات ] [ وَّتَنْحِتُوْنَ [ اور تم لوگ تراشتے ہو ] الْجِبَالَ [ پہاڑوں کو ] بُيُوْتًا ۚ [ بطور گھر کے ] فَاذْكُرُوْٓا [ پس یاد کرو ] اٰلَاۗءَ اللّٰهِ [ اللہ کی مہربانیوں کو ] وَلَا تَعْثَوْا [ اور دندناتے مت پھرو [ فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مُفْسِدِيْنَ [ ظلم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ]
س ھ ل : (ک) سھولۃ ۔ نرم ہونا ۔ آسان ہونا ۔ سھل ۔ (ج) سھول ۔ نرم اور ہموار زمین ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 74 ۔
ن ح ت : (ض) نحیتا ۔ لکڑی پتھر وغیرہ کو چھیل کر ہموار کرنا۔ سنگ تراشی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 74 ۔
(آیت ۔ 74) تنحتون کا مفعول الجبال ہے جبکہ بیوتا تمیز ہے۔
Ayah 7:75قَالَ [ کہا ] الْمَلَاُ [ سرداروں نے ] الَّذِيْنَ [ جنہوں نے ] اسْتَكْبَرُوْا [ گھمنڈ کیا ] مِنْ قَوْمِهٖ [ ان کی قوم میں سے ] لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں سے جن کو ] اسْتُضْعِفُوْا [ کمزور سمجھا گیا ] لِمَنْ [ ان سے جو ] اٰمَنَ [ ایمان لائے ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] اَ [ کیا ] تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ جانتے ہو ] اَنَّ [ کہ ] صٰلِحًا [ صالح ] مُّرْسَلٌ [ بھیجے ہوئے ہیں ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [ اپنے رب (کی طرف) سے ] قَالُوْٓا [ انہوں نے کہا ] اِنَّا [ بیشک ہم ] بِمَآ [ اس پر ] اُرْسِلَ [ وہ بھیجے گئے ] بِهٖ [ جس کے ساتھ ] مُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ہیں ]
( آیت ۔ 75) لمن بدل ہے للذین کا ۔ ان کا اسم ہونے کی وجہ سے صالحا حالت نصب میں ہے جبکہ مرسل اس کی خبر ہے ۔ الناقۃ پر لام تعریف ہے ۔
Ayah 7:76قَالَ [ کہا ] الَّذِيْنَ [ انہوں نے جن لوگوں نے ] اسْتَكْبَرُوْٓا [ گھمنڈ کیا ] اِنَّا [ بیشک ہم ] بِالَّذِيْٓ [ اس کا ] اٰمَنْتُمْ [ تم لوگ ایمان لائے ] بِهٖ [ جس پر ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]
Ayah 7:77فَعَقَرُوا [ پھر انہوں نے ٹانگیں کاٹیں ] النَّاقَةَ [ اس اونٹنی کی ] وَعَتَوْا [ اور انہوں نے سرکشی کی ] عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کے حکم سے ] وَقَالُوْا [ اور کہا ] يٰصٰلِحُ [ اے صالح ] ائْتِنَا [ تو لے آ ہم پر ] بِمَا [ اس کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتَ [ تو ہے ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں میں سے ]
ع ت و ـ: (ن) عتوا اور عتیا ۔ حد سے گزرنا ۔ سرکشی کرنا ۔ نافرمانی کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 77 ۔ عاتیۃ ۔ اسم الفاعل کے معنی میں صفت ہے ۔ حد سے گزرنے والی یعنی حد سے زیادہ ۔ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ [ تو یہ لوگ ہلاک کیے گئے ایک حد سے زیادہ تیز ہوا سے ] 69:6 ۔
Ayah 7:78فَاَخَذَتْهُمُ [ تو پکڑا ان کو ] الرَّجْفَةُ [ زلزلہ نے ] فَاَصْبَحُوْا [ نتیجتا وہ ہوگئے ] فِيْ دَارِهِمْ [ اپنے (اپنے ) گھر میں ] جٰثِمِيْنَ [ اوندھے منہ گرے ہوئے ]
رج: (ن) رجفا ۔ کسی کا شدت سے مضطرب ہونا ۔ (1) لرزنا ۔ کانپنا ۔ (2) زلزلہ ۔ يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ [ جس دن کانپے کی زمین اور پہاڑ ] 73:14 ۔ رجفۃ ۔ زلزلۃ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 78 ۔ راجفۃ [ کانپنے والی [ یہ قیامت کے پہلے صور کے لیے استعارہ ہے ] يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [ جس دن کانپنے گی کانپنے والی ] 79:6 ۔ (افعال ) ارجافا ۔ افواہ پھیلا کر لوگوں میں اضطراب پیدا کرنا ۔ مرجف ۔ اسم الفاعل ۔ افواہ پھیلانے والا ۔ لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَــنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ [ البتہ اگر باز نہ آئے منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور افواہ پھیلانے والے مدینہ میں ، توہم لازما حاوی کردیں گے آپ کو ان لوگوں پر ] 33:60 ۔
ج ث م : (ن) جثما ۔ سینے کو زمین سے لگانا ۔ منہ کے بل لیٹنا ۔ جاثم ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اوندھے منہ لیٹنے والا ۔ اوندھے منہ گرنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 78 ۔
Ayah 7:79فَتَوَلّٰى [ پس انہوں نے رخ پھیرا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَقَالَ [ اور کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ [ میں پہنچا چکا ہوں تم کو ] رِسَالَةَ رَبِّيْ [ اپنے رب کا پیغام ] وَنَصَحْتُ [ اور میں نے خیرخواہی کی ] لَكُمْ [ تمہاری ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] لَّا تُحِبُّوْنَ [ تم لوگ پسند نہیں کرتے ] [ النّٰصِحِيْنَ : خیرخواہی کرنے والوں کو ]
Ayah 7:80وَلُوْطًا [ اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) لوط کو ] اِذْ [ جب ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖٓ [ اپنی قوم سے ] اَ [ کیا ] تَاْتُوْنَ [ تم لوگ آتے ہو ] الْفَاحِشَةَ [ اس بےحیائی کے پاس ] مَا سَبَقَكُمْ [ نہیں سبقت کی تم پر ] بِهَا [ جس میں ] مِنْ اَحَدٍ [ کسی ایک نے (بھی ) ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں میں سے ]
غ ب ر : (ن) ۔ غبورا (1) ٹھہر جانا ۔ پیچھے رہ جانا ۔ (2) غبار آلود ہونا۔ غابر ۔ اسم الفاعل ہے ۔ پیچھے رہ جانے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 83 ۔ غبرۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ گرد ۔ غبار ۔ وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ [ اور کچھ چہرے ہوں گے اس دن جن پر گرد ہوگی ] 80:40 ۔
ترکیب : ترکیب میں کوئی خاص بات نہیں ہے ۔
نوٹ ۔ 1: حضرت لوط (علیہ السلام) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں ۔ ان کا وطن بصرہ کے قریب ارض بابل کا علاقہ تھا ۔ اس میں بت پرستی عام تھی ۔ ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطا کی ۔ قوم نے مخالفت کی اور ان کے گھرانہ میں سے صرف بی بی سارہ اور حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے ۔ ان دونوں کو ساتھ لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی اور کنعان کے علاقہ میں مقیم ہوئے جو بیت المقدس کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرما کر اردن اور بیت المقدس کے درمیان ایک مقام سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ۔ یہ علاقہ پانچ بڑے شہروں پر مشتمل تھا اور سدوم کا شہر ان کا دارالحکومت تھا ۔ شہروں کے اس مجموعہ کو قرآن کریم نے مؤتفکہ اور مؤتفکات کے الفاظ میں کئی جگہ بیان کیا ہے ۔ یہ علاقہ سرسبز اور شاداب تھا ۔ ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی ۔ اللہ نے ان پر اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیے تھے ۔ عام انسانی عادت کے تحت دولت و ثروت کے نشہ میں مبتلا ہوکر عیش و عشرت کے اس کنارے پر پہنچ گئے کہ خلاف فطرت فواحش کو بھی اختیار کرلیا ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی نصیحتوں کا انکار کیا اور انہوں نے اپنی بستی سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔
زیر مطالعہ آیت نمبر۔ 84 میں مختصرا صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ ان پر ایک قسم کی بارش بھیجی گئی ۔ البتہ سورة ہود کی آیات ۔ 82 ۔ 83 میں عذاب کی وضاحت کی گئی ہے ۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان پر پتھروں کی بارش بھی ہوئی تھی اور نیچے سے اس سرزمین کے طبقہ کو اوندھا پلٹ دیا گیا تھا ۔ سورة الحجر کی آیات 72 ۔ 73 سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب آنے سے پہلے آسمان سے کوئی سخت آواز چنگھاڑ کی صورت میں آئی تھی ۔ یہ پانچوں الٹی ہوئی بستیاں آج بھی موجود ہیں ۔ جواب بحرمیت (Dead Sea) کے نام سے موسوم ہے۔ اس کی تہہ میں ان بستیوں کے کھنڈرات ہیں ۔ اور اس کے پانی میں کوئی بھی جاندار جیسے مچھلی ، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے ۔