Ayah 7:161[ وَاِذْ : اور جب ] [ قِيْلَ : کہا گیا ] [ لَهُمُ : ان سے ] [ اسْكُنُوْا : تم لوگ سکونت اختیار کرو ] [ هٰذِهِ الْقَرْيَةَ : اس بستی میں ] [ وَكُلُوْا : اور کھاؤ] [ مِنْهَا : اس میں ] [ حَيْثُ : جہاں سے ] [ شِئْتُمْ : تم لوگ چاہو ] [ وَقُوْلُوْا : اور کہو ] [ حِطَّةٌ: معافی ہو ] [ وَّادْخُلُوا : اور داخل ہو ] [ الْبَابَ : دروازے میں ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] [ نَّغْفِرْ : تو ہم بخش دیں گے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ ۭ: تمہاری خطاؤں کو ] [ سَنَزِيْدُ : ہم زیادہ کریں گے (بلحاظ درجہ ) ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ]
(آیت ۔ 161) زاد ۔ یزید کی عموما ایک تمیز آتی ہے ۔ یہاں سنزید کی تمیز محذوف ہے اور المحسنین اس کا مفعول ہے۔
Ayah 7:162[ فَبَدَّلَ : تو بدل دیا ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنہوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ قَوْلًا : بات کو ] [ غَيْرَ الَّذِيْ : اس کے علاوہ جو ] [ قِيْلَ : کہا گیا ] [ لَهُمْ : ان سے ] [ فَاَرْسَلْنَا : پھر ہم نے بھیجا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ رِجْزًا : ایک عذاب ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ : وہ ظلم کرتے تھے ]
Ayah 7:163[ وَسْــــَٔـلْهُمْ : اور آپ پوچھیے ان سے ] [ عَنِ الْقَرْيَةِ : اس بستی کے بارے میں ] [ الَّتِيْ : جو ] [ كَانَتْ : تھی ] [ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘ: سمندر کی بستی ] [ اِذْ : جب ] [ يَعْدُوْنَ : وہ لوگ حد سے بڑھے ] [ فِي السَّبْتِ : ہفتہ (کے حکم ) میں ] [ اِذْ : جب ] [ تَاْتِيْهِمْ : پہنچتی تھیں ان کے پاس ] [ حِيْتَانُهُمْ : ان کی مچھلیاں ] [ يَوْمَ سَبْتِهِمْ : ان کے ہفتہ کے دن ] [ شُرَّعًا : تیرتی ہوئی ] [ وَّيَوْمَ : اور جس دن ] لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ : ہفتہ کا دن نہ ہوتا ] [ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ : وہ نہیں آتی تھیں ان کے پاس ] [ كَذٰلِكَ ڔ : اس طرح ] [ نَبْلُوْهُمْ : ہم نے آزمایا ان کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : وہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ]
ح و ت : (ن) حوتا ۔ چکر کاٹنا ۔ منڈلانا ۔ حوت ۔ ج : حیتان ۔ مچھلی (زیادہ تر بڑی مچھلی کے لیے آتا ہے ] فالتقمہ الحوت [ پھر نگل لیا ان کو مچھلی نے ] 37:142 ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 163 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 163) کانت کی خبر کی وجہ سے حاضرۃ حالت نصب میں ہے اور البحر کا مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی ہے ،
Ayah 7:164[ وَاِذْ : اور جب ] [ قَالَتْ : کہا ] [ اُمَّةٌ: ایک گروہ نے ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ لِمَ : کیوں ] [ تَعِظُوْنَ : تم لوگ وعظ کرتے ہو ] [ قَوْمَۨا : ایک ایسی قوم کو ،] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مُهْلِكُهُمْ : ہلاک کرنے والا ہے جن کو ] [ اَوْ : یا ] [ مُعَذِّبُهُمْ : عذاب دینے والا ہے ان کو ] [ عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک شدید عذاب ] [ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ مَعْذِرَةً : عذر پیش کرنے کے لیے ] [ اِلٰى رَبِّكُمْ : تمہارے رب کی طرف ] [ وَلَعَلَّهُمْ : اور شاید وہ لوگ ] [ يَتَّقُوْنَ : تقوی اختیار کریں ]
ع ذ ر : (ض ، ن) معذرۃ (1) کسی کو الزام سے بری کرنا ۔ عذر قبول کرنا ۔ (علی کے صلہ کے ساتھ ) (2) خود کو الزام سے بری کرنا ۔ عذر پیش کرنا ۔ (الی کے صلہ کے ساتھ ) ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 164 ۔ عذر ، اسم ذات ہے وہ حجت یا دلیل جس سے الزام کا انکار ہو ۔ مجبوری ، عذر ۔ قد بلغت من لدنی عذرا [ آپ پہنچ چکے میرے پاس سے عذر کو ] 18: 76 ۔ معذار ۔ ج : معاذیر ، مفعال کے وزن پر اسم الآلہ ہے ۔ الزام سے بری ہونے کا اوزار ۔ عذر ۔ بہانہ ۔ ولو القی معاذیرہ [ اور خواہ وہ ڈالے یعنی پیش کرے اپنے بہانے ] 75:15 ۔ (تفعیل ) تعذیرا ۔ مجبوری بیان کرنے یا بہانے بنانے میں مبالغہ کرنا ۔ معذر ۔ اسم الفاعل ہے ۔ مجبوریاں بیان کرنے والا ۔ بہانے بنانے والا ۔ وجاء المعذرون من الاعراب [ اور آئے بہانے بنانے والے دیہاتوں سے ] 9:90 ۔ (افتعال) اعتذارا۔ اہتمام سے عذر پیش کرنا ۔ یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیہم [ وہ لوگ عذر پیش کریں گے تمہاری طرف جب تم لوگ واپس ہوگے ان کی طرف ] 9:94 ۔
(آیت ۔ 164) معذرۃ کو فعل محذوف کا مفعول مطلق بھی مانا جاسکتا ہے اور مفعول لہ بھی ۔ ہم مفعول لہ کے لحاظ سے ترجمہ کریں گے ۔
Ayah 7:165[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ نَسُوْا : وہ لوگ بھولے ] [ مَا : اس کو ] [ ذُكِّرُوْا : انہیں یاد دلایا گیا ] [ بِهٖٓ: جس سے ] [ اَنْجَيْنَا : تو ہم نے نجات دی ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جو ] [ يَنْهَوْنَ : منع کرتے تھے ] [ عَنِ السُّوْۗءِ : برائی سے ] [ وَاَخَذْنَا : اور ہم نے پکڑا ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جنہوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ : ایک سخت عذاب سے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : وہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ]
Ayah 7:166[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ عَتَوْا : انہوں نے سرکشی کی ] [ عَنْ مَّا : اس سے ] [ نُهُوْا : انہیں منع کیا گیا ] [ عَنْهُ : جس سے ] [ قُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [ لَهُمْ : ان سے ] [ كُوْنُوْا : تم لوگ ہوجاؤ ] [ قِرَدَةً خٰسِـِٕـيْنَ : دھتکارے جانے والے بندر ]
نوٹ۔ 1: ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکام الہی کی خلاف ورزی ہورہی ہو وہ ساری بستی قابل مواخذہ ہوجاتی ہے ۔ اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی ، بلکہ اسے اللہ کے سامنے اس کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کی کوشش کرتا رہا تھا ۔ قرآن وحدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ” ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو “ (8:25) اس کی تشریح میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا ۔ جب تک عام لوگوں کی حالت یہ نہ ہوجائے کہ وہ برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضگی کرنے پر قادر ہون اور پھر بھی اظہار ناراضگی نہ کریں ۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ خاص وعام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔ (تفیہم القرآن )
Ayah 7:167[ وَاِذْ : اور جب ] [ تَاَذَّنَ : سنادیا ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ لَيَبْعَثَنَّ : (کہ ) وہ لازما بھیجتا رہے گا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن تک ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ يَّسُوْمُهُمْ : تکلیف دے گا ان کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۭ : برے عذاب کی ] [ اِنَّ : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ کا رب ] [ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ ښ : یقینا پکڑنے کا تیز ہے ] [ وَاِنَّهٗ : اور بیشک وہ ] [ لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 167) الی یوم القیمۃ کا تقاضہ ہے کہ لیبعثن کا ترجمہ مستقبل استمراری سے کیا جائے ۔ سوء العذاب مرکب اضافی ہے لیکن اردو میں اس کا استعمال مرکب توصیفی میں ہوتا ہے ۔
Ayah 7:168[ وَقَطَّعْنٰهُمْ : اور ہم نے تقسیم کیا ان کو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اُمَمًا ۚ: گروہوں میں ] [ مِنْهُمُ : ان میں سے ] [ الصّٰلِحُوْنَ : نیک (بھی ) ہیں ] [ وَمِنْهُمْ : اور ان میں سے ] [ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ : اس کے علاوہ (بھی ) ہیں ] [ وَبَلَوْنٰهُمْ : اور ہم نے ان کو آزمایا ] [ بِالْحَسَنٰتِ : بھلائیوں سے ] [ وَالسَّيِّاٰتِ : اور برائیوں سے ] [ لَعَلَّهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَرْجِعُوْنَ : لوٹ آئیں ]
Ayah 7:169[ فَخَلَفَ : پھر جانشین ہوئے ] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد سے ] [ خَلْفٌ: کچھ ایسے جانشین ] [ وَّرِثُوا : جو وارث ہوئے ] [ الْكِتٰبَ : اس کتاب کے ] [ يَاْخُذُوْنَ : جو پکڑتے ہیں ] [ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى: اس نزدیک (زندگی) کے عارضی سامان کو ] [ وَيَقُوْلُوْنَ : اور کہتے ہیں ] [ سَيُغْفَرُ لَنَا ۚ : ہم بخش دیے جائیں گے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّاْتِهِمْ : پہنچتا ہے ان کے پاس ] [ عَرَضٌ: کچھ (اور ) عارضی سامان ] [ مِّثْلُهٗ : اس کے جیسا ] [ يَاْخُذُوْهُ ۭ : تو وہ پکڑتے ہیں اس کو (بھی) ] [ اَلَمْ يُؤْخَذْ : کیا نہیں لیا گیا ] [ عَلَيْهِمْ : ان سے ] [ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ : کتاب کا عہد ] [ اَنْ : کہ ] [ لَّا يَقُوْلُوْا : وہ لوگ مت کہیں ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْحَقَّ : حق ] [ وَدَرَسُوْا : اور انہوں نے مطالعہ کیا ] [ مَا : اس کا جو ] [ فِيْهِ ۭ: اس میں ہے ] [ وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ : اور آخری گھر ] [ خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ لِّلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ يَتَّقُوْنَ ۭ ا : تقوی اختیار کرتے ہیں ] [ َفَلَا تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ]
(آیت ۔ 169) خلف مصدر ہے اور اسم جمع کے طور پر بھی آتا ہے ۔ جیسے کہ یہاں ہے ۔ کیونکہ آگے فعل ورثوا جمع کے صیغے میں آیا ہے ۔ اور خلف نکرہ مخصوصہ بھی ہے ۔ ان لا یقولوا کی دو ترکبیں ممکن ہیں ۔ ایک یہ کہ لا یقولوا دراصل فعل نفی لا یقولون تھا جو ان کی وجہ سے حالت نصب میں آیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ لا یقولوا فعل نہی غائب ہے ۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے ۔
Ayah 7:170[ وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ ] [ يُمَسِّكُوْنَ : مضبوطی سے تھامتے ہیں ] [ بِالْكِتٰبِ : کتاب کو ] [ وَاَقَامُوا : اور قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوةَ ۭ : نماز کو ] [ اِنَّا : (تو ) بیشک ہم ] [ لَا نُضِيْعُ : ضائع نہیں کرتے ] [ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ : اصلاح کرنے والوں کے اجر کو ]
Ayah 7:171[ وَاِذْ : اور جب ] [ نَتَقْنَا : کھینچ کر اونچا کیا ہم نے ] [ الْجَبَلَ : پہاڑ کو ] [ فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر ] [ كَاَنَّهٗ : گویا کہ وہ ] [ ظُلَّـةٌ: ایک سائبان ہے ] [ وَّظَنُّوْٓا : اور انہوں نے گمان کیا ] [ اَنَّهٗ : کہ وہ ] [ وَاقِعٌۢ : پڑنے والا ہے ] [ بِهِمْ ۚ : ان پر ] [ خُذُوْا : (تب ہم نے کہا ) تم لوگ پکڑو ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتَيْنٰكُمْ : ہم نے دیا تم کو ] [ بِقُوَّةٍ : مضبوطی سے ] [ وَّاذْكُرُوْا : اور یاد رکھو ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِيْهِ : اس میں ہے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : تقوی اختیار کرو ]
ن ت ق : (ن ، ض) نتقا ۔ کسی چیز کو کھینچ کر پھیلانا ۔ اونچا کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 171 ۔
Ayah 7:172[ وَاِذْ : اور جب ] [ اَخَذَ : پکڑا (یعنی نکالا) ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ : آدم کے بیٹوں سے ] [ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ : ان کی پیٹھوں سے ] [ ذُرِّيَّتَهُمْ : ان کی اولاد کو ] [ وَاَشْهَدَهُمْ : اور اس نے گواہ بنایا ان کو ] [ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ : اپنے آپ پر ] [ اَلَسْتُ : (پھر پوچھا ) کیا میں نہیں ہوں ] [ بِرَبِّكُمْ ۭ : تمہارا رب ] [ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ بَلٰي ڔ : کیوں نہیں ] [ شَهِدْنَا ڔ : ہم نے گواہی دی ] [ اَنْ : کہیں ] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ اِنَّا كُنَّا : کہ ہم تھے ] [ عَنْ هٰذَا : اس سے ] [ غٰفِلِيْنَ : بیخبر ]
نوٹ ۔ 2: جہاں تک توحید اور بدیہیات فطرت کا تعلق ہے، ان کے باب میں قیامت کے دن مواخذہ ہر شخص سے مجرد اس اقرار کی بنا پر ہوگا جوان آیات میں مذکور ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کو کسی نبی کی دعوت پہنچی یا نہیں ۔ اگر کسی نبی کی دعوت اس کو پہنچی ہے تو ایک مزید حجت اس پر قائم ہوگئی ہے ۔ لیکن نبی کی دعوت اگر نہیں پہنچی ہے تو یہ بدیہیات فطرت کے معاملہ میں کوئی عذر نہ بن سکے گی ، ان پر مواخذہ کے لیے عہد الست کافی ہے ۔ (تدبرالقرآن )
نوٹ ۔ 3: اس عہد کا نقش اگر انسان کے شعور اور حافظہ میں تازہ رہنے دیا جاتا تو انسان کا اس امتحان گاہ میں بھیجا جانا فضول ہوجاتا کیونکہ اس کے بعد آزمائش اور امتحان کے کوئی معنی باقی نہیں رہتے ۔ لہذا اس کو حافظہ میں تو تازہ نہیں رکھا گیا لیکن وہ تحت الشعور میں یقینا محفوظ ہے۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 7:173[ اَوْ : یا ] [ تَقُوْلُوْٓا : کہیں تم لوگ کہو ] [ اِنَّمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ اَشْرَكَ : شرک کیا ] [ اٰبَاۗؤُنَا : ہمارے آباواجداد نے ] [ مِنْ قَبْلُ : پہلے سے ] [ وَكُنَّا : اور ہم تھے ] [ ذُرِّيَّةً : اولاد ] [ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ : ان کے بعد ] [ اَفَتُهْلِكُنَا : تو کیا تو ہلاک کرے گا ہم کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَعَلَ : کیا ] [ الْمُبْطِلُوْنَ : ناحق کرنے والوں نے ]
Ayah 7:174[ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نُفَصِّلُ : ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] [ الْاٰيٰتِ : نشانیوں کو ] [ وَلَعَلَّهُمْ : اور شاید وہ لوگ ] [ يَرْجِعُوْنَ : لوٹ آئیں ]
نوٹ ۔ 1: مذکورہ آیات میں جس واقعہ کا ذکر ہے اسے عہد الست کہتے ہیں ۔ اس کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ دنیا ہماری امتحان گاہ ہے ۔ مختلف پیرائے میں قرآن مجید میں تین مقامات پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے (11:7 ۔ 18:7 ۔ 67:2) ۔ اصول یہ ہے کہ کسی کا امتحان لینے سے پہلے اسے کچھ سکھاتے پڑھاتے ہیں پھر امتحان لیتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ انسان کو کچھ سکھا پڑھا کر امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے یا ویسے ہی بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس سوال کا جواب پہلے ہم اپنے مشاہدہ کی مدد سے حاصل کریں گے ، پھر قرآن مجید سے ۔
بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی غذا کہاں ہے، ماں کے سینے سے دودھ چوسنے کے لیے ایک خاص ٹیکنیک کی ضرورت ہے، ورنہ دودھ منہ میں نہیں آئے گا ، بچہ اس ٹیکنیک سے واقف ہوتا ہے ، دودھ گھوٹنے کے لیے ایک خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ حلق کے نیچے غذا کی نالی کے ساتھ ہوا کی نالی بھی ہوتی ہے۔ ذرا سی بےاحتیاطی سے دودھ ہوا کی نالی میں جاسکتا ہے ۔ بچے کو یہ احتیاط بھی آتی ہے ۔ بچے کو نہ صرف رونا آتا ہے بلکہ مختلف ضروریات کے لیے رونے کے فن کو استعمال کرنا بھی جانتا ہے ۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کب رونا اور کب ہنسنا چاہیے ۔ اس انداز میں مشاہدے کو کام میں لاکر ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ انسان بہت کچھ سیکھ کر اور متعدد استعداد و صلاحیت لے کر اپنے کمرہ امتحان میں داخل ہوتا ہے ۔
قرآن مجید ایسی تمام باتوں کا ذکر نہیں کرتا ۔ البتہ انسان جن باتوں کا علم لے کر دنیا میں آتا ہے ، ان میں سے دو علوم بنیادی ہیں کیونکہ اصلا انہیں کا امتحان اسے دینا ہے ۔ ان کا ذکر قرآن نے کیا ہے ۔ اولا صحیح عقیدہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا علم جس کا ذکر آیات زیر مطالعہ میں ہے اور ثانیا صحیح عمل یعنی نیکی اور بدی کا شعور ، جس کا ذکر سورة الشمس کی آیت نمبر 8 میں ہے۔
اب آیات زیر مطالعہ کے ضمن میں یہ بات خاص طور پر نوٹ کریں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وجود کا اور اس کے رب ہونے کا علم شعوری حالت میں دیا گیا تھا ، جس کی وجاحت واشھدہم علی انفسہم کے الفاظ سے کی گئی ۔ اور صرف علم دینے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ساتھ میں دو وارننگ بھی دی گئی تھیں ۔ اولا یہ کہ ہم یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کا انکار کربیٹھیں کہ ہم تو بیخبر تھے ، ثانیا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا اقرار تو کریں لیکن اس کی ربوبیت میں دوسروں کو شریک کربیٹھیں ۔ اس کے ساتھ ہی جتا دیا گیا کہ قیامت کے دن یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ غلطی تو ہمارے باپ دادا نے کی تھی اس لیے ہمیں کچھ نہ کہو ، اس طرح عہد الست کی تعلیمات میں تین باتیں شامل ہیں ۔ (1) اللہ تعالیٰ کا وجود ۔ (2) اس کا تنہا حاجت روا ، مشکل کشا ہونا ، دوسرے الفاظ میں رب ہونا یعنی توحید ۔ (3) ہر شخص کا خود ذمہ دار اور جواب دہ ہونا ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ عہد الست ہم میں سے کسی کو بھی یاد نہیں ہے۔ تو پھر ہم امتحان کیسے دیں اور پاس کیسے ہوں ۔ قرآن تسلیم کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یاد دہانی کا پورا نظام قائم کرکے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کو ضروری استعداد دے کر بھیجا ہے ۔ جو بھی اپنی استعداد کو استعمال کرے گا اسے پورا واقعہ یاد نہیں آئے گا لیکن اس کی تعلیمات یاد آجائیں گی ۔ اور زندگی کے امتحان کا پہلا پرچہ یہی ہے کہ انسان اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرے ۔ پھر یاد کی ہوئی تعلیمات کی روشنی میں اسے اگلے پرچے حل کرنے ہیں ۔
یادہانی کا نظام کیا ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لیے ایک لفظ کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے ۔ وہ لفظ آیت ہے، جس کے معنی ہیں نشانی ۔ یہ نوٹ کرلیں کسی بات کا علم نہیں دیتی ۔ اس کا کام یہ ہے کہ بھولا ہوا علم یاد دلادے۔ مثلا میرا کوئی دوست تحفہ میں مجھے ایک قلم دیتا ہے۔ وقت گزرنیکے ساتھ میں اپنے دوست کو بھول گیا ۔ ایک دن پرانی چیزوں میں سے وہ قلم نکل آیا ۔ اس پر نظر پڑتے ہی وہ دوست مجھے بلا تردد یاد آگیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوست کی یاد میرے شعور سے تو محو ہوگئی تھی لیکن تحت الشعور میں موجود تھی ۔ نشانی اسے وہاں سے ابھار کر شعور کی سطح پر لے آئی ۔
یاد دہانی کے نظام کے سلسلہ میں اب یہ سمجھ لیں کہ کائنات ہی یاد دہانی کا نظام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانوں کو ، سورج اور چاند کو، رات اور دن کے الٹ پھیر کو ، زمین اور اس کی تمام چیزوں کو ، خود انسان کے وجود کو ، غرض یہ کہ اس کائنات کی ہر چیز کو نشانیاں کہا گیا ہے اور ان پر غور وفکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن میں اس ضمن میں تقریبا سات سو آیات ہیں ، جبکہ انسان کی پیدائش اور اس کے وجود پر غور کرنے کے متعلق آیات اس کے علاوہ ہیں ، ان نشانیوں پر غور کرنے سے بھولا ہوا سبق کیسے یاد آئے گا ، اس بات کو ایک مثال کی مدد سے سمجھ لیں ۔ اگر آپ کسی باغ میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کی گھاس اور پودوں کے اگنے اور ان کی تراش وخراش میں ایک ترتیب ، نظم اور حسن ہے، تو آپ تسلیم کریں گے کہ اس باغ کا ایک مالی ہے، چاہے مالی وہاں موجود نہ ہو اور کہیں نظر نہ آرہا ہو۔ اس کے برعکس اگر وہاں پر گھاس اور پودے بےترتیبی کے ساتھ جھاڑ جھنکار کی طرح اگے ہیں تو آپ یہی کہیں گے کہ یہ خود رو ہیں اور ان کا کوئی مالی نہیں ہے۔
اس بات کو ذہن میں رکھ کر اب ذرا اس کائنات پر ایک نظر دالیں ۔ ایک حقیر سے ذرہ ایٹم کے اندر الیکڑون سے لے کر زمین ، چاند ، سورج ، سیارے ، یہ سب کے سب گردش کررہے ہیں ۔ ان سب کی گردش دائیں سے بائیں جانب (Anticlockwise ) ہے ۔ ہر ایک کی گردش کا ایک مقررہ راستہ یعنی مدار ہے۔ کوئی بھی چیز اپنے مدار سے ذرا سا بھی ادھر ادھر نہیں کھسکتی ہر ایک کے مدار کی شکل بیضوی ہے۔ اب ذراسوچیں ، خود بخود وجود میں آنے والی اتنی مختلف اشیاء میں کیا یہ ترتیب ، یہ نظم ، یہ ضابطہ ممکن ہے ؟ آپ کا دل گواہی دے گا کہ ایسا ممکن نہیں ۔ بلکہ ان سب کا کوئی ڈیزائنر یعنی مصور ہے۔ جس نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ اور وہی ان کو کنٹرول کیے ہوئے ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ کرنے کا یہ وہ طریقہ ہے جس کی جانب قرآن انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ زمین گول ہے ۔ لیکن ہمارے لیے یہ فرش کی مانند ہے ، ورنہ ہم ادھر ادھر لڑھکتے پھرتے ۔ زمین کی ایک نہیں بلکہ دو گردشیں ہیں لیکن ہمیں یہ ساکت لگتی ہیں ۔ اگر اس کی حرکت کو ہم محسوس کرتے تو ہمیں چکر آتے ۔ یہ اس کائنات کے مصور اور خالق کے توازن وتناسب (Sense of Proportion) کا کمال ہے ۔ (87:2، 3) اس پہلو سے کائنات کی کسی بھی چیز پر جو بھی غور کرے گا اس کا دل گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی اکمل (Perfect) ہے یعنی اس کی ذات وصفات ہر قسم کی کمی ، کمزوری یا خامی سے پاک ہے۔ سبحان اللہ کا یہی مطلب ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سائنسی معلومات تو انسان نے آج حاصل کی ہیں ۔ اس سے پہلے کے انسان کے لیے کائنات میں کیا نشانیاں تھیں ۔ تو ایسی نشانیوں کے ذکر سے تو قرآن مجید بھرا پڑا ہے ، جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر دور کا انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق کائنات پر غور کرکے اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرسکتا تھا ۔ مثلا زمین میں بیج توہم ڈالتے ہیں ۔ لیکن اسے درخت بنانے والا اور اس میں پھل لانے والا کون ہے ؟ ( 67:60) ۔ سرسبز درخت سے آگ کون نکالتا ہے ؟ (36:80) ۔ انگور اور کھجور کے باغ ہیں ، کھیتاں ہیں، ان سب کو پانی تو ایک ہی دیا جاتا ہے ۔ لیکن پھل مختلف آتے ہیں اور ذائقہ میں ایک سے بڑھ کر ایک ۔ یہ کس کا کمال ہے ؟ (13:4) ۔ دودھ دینے والے جانور چارہ کھاتے ہیں ۔ اسی سے خون بھی بنتا ہے اور گوبر بھی ۔ پھر اسی خون اور گوبر کے درمیان سے خالص دودھ نکلتا ہے ۔ یہ کس کا نظام ہے ؟ (16:6) ۔ علی ھذا القیاس ۔
کوئی ہٹ دھرم ہوجائے تو اور بات ہے ورنہ یہ حقیقت بہت واضح ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز میں ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ انسان ان میں سے کسی ایک پر بھی غور کرلے تو وہ عہد الست کی تعلیمات کو اس کے تحت الشعور سے ابھار کر اس کے شعور کی سطح پر لے آئے گی اور انسان کو اپنا بھولا ہوا سبق یاد آجائے گا ۔
Ayah 7:175[ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ : اور آپ پڑھ کر سنائیں ان کو ] [ نَبَاَ الَّذِيْٓ: اس کی خبر ] [ اٰتَيْنٰهُ : ہم نے دیں جس کو ] [ اٰيٰتِنَا : اپنی نشانیاں ] [ فَانْسَلَخَ : پھر وہ سٹک گیا ] [ مِنْهَا : ان سے ] [ فَاَتْبَعَهُ : پھر پیچھے لگا اس کے ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [ فَكَانَ : تو وہ ہوگیا ] [ مِنَ الْغٰوِيْنَ : گمراہوں میں سے ]
س ل خ : (ف) ۔ سلخا ۔ کسی چیز کی کھال کھینچنا ۔ کسی چیز میں سے کسی چیز کو کھینچ کر نکالنا ۔ وایۃ الہم الیل نسلخ منہ النھار [ اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے ۔ ہم کھینچ لیتے ہیں اس سے دن کو ] 36:37 ۔ (انفعال) انسلاخا ۔ (1) کسی کا کسی چیز سے نکل جانا۔ سٹک جانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 175 ۔ (2) کسی چیز کا گزر جانا ۔ فاذا انسلخ الاشھر الحرم [ پھر جب گزر جائیں محترم مہینے ] 9:5 ۔
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 175 کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص شخص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ لیکن نہ تو قرآن مجید میں اور نہ ہی کسی حدیث میں یہ بتایا گیا کہ وہ شخص کون تھا ۔ مفسرین نے مختلف نام لئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خاص شخص تو پردہ میں ہے، البتہ یہ مثال ہر اس شخص پر چسپاں ہوتی ہے جس میں یہ صفات پائی جاتی ہوں (تفہیم القرآن ) اس لیے کسی شخص کو تلاش کرنے کے بجائے ہمیں اس کردار کو پہچاننے اور اس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، کیونکہ یہ کردار ہر معاشرے اور ہر دور میں پایا جاتا ہے ۔ اس پہلو سے جب ہم آیات زیر مطالعہ پر غور کرتے ہیں تو مذکورہ کردار کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔
اللہ تعالیٰ کا کسی انسان کو آیات دینے کا مطلب ہے نشانیوں کا علم کرنا ۔ جن کی مدد سے انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتا ہے اور جس کا منطقی تقاضہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو کرے اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی سعی کرے ۔ کوئی شخص اگر اس تقاضے کو پورا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی شخصیت اور کردار کو بلندی عطا کرتا ہے ۔ لیکن جو اس تقاضے کو پورا نہیں کرتا اور اپنی خواہشات کو ہی ترجیح دیتا ہے تو گویا وہ اپنے علم اور معرفت کے دائرے سے نکل گیا ۔ اسی کو فانسلخ کہا گیا ہے ۔ اس رویہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے زمین ہی کی طرف مائل ہوجائے یعنی دنیا کے سازوسامان اور عیش و آرام کی ہی جستجو کرتا رہے ۔ ایسے شخص کو کتے کی مانند کہا گیا ہے کیونکہ کتے کے نظام تنفس کی یہ خصوصیت ہے کہ جب وہ تازہ ہوا اندر کھینچتا ہے تو اس میں موجود آکسیجن سے اسے تسکین نہیں ہوتی ۔ اس لیے وہ جلدی سے ہوا باہر نکال کر دوبارہ تازہ ہوا کھینچتا ہے ۔ اس عمل کے تسلسل سے اس پر ہانپنے کی کیفیت طاری رہتی ہے ۔ اسی طرح جب کوئی شخص دنیا کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے تو اسے دنیاوی سازوسامان سے تسکین حاصل نہیں ہوتی ۔ بلکہ وہ ھل من مزید کی ہوس میں گرفتار ہوکر ہر وقت ہانپنے کی کیفیت کا شکار رہتا ہے ۔
دنیا کا ہی ہو رہنے یعنی اخلد الی الارض میں اصل خرابی کا ذہن میں واضح ہونا ضروری ہے کیونکہ اسلام تارک الدنیا ہونے سے منع کرتا ہے اور اس کے برعکس دنیاوی ساز و سامان کو استعمال کرنے کی تاکید کرتا ہے ۔ مثلا آیات 57: 27 ۔ 7:31 تا 33 ۔ 67: 15 وغیرہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ گنتی کی چند حرام چیزوں کو چھوڑ کر باقی اشیاء نہ تو بذات خود بری ہیں اور نہ ان کا استعمال میں کوئی برائی ہے ۔ برائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان کو زندگی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے ہم ان کو زندگی کا مقصد بنا بیٹھتے ہیں ۔ اس بات کی اہمیت کے پیش نظر اسے مزید سمجھ لیں۔
کھانا پینا ، سونا جاگنا، بچے پیدا کرنا اور پھر مرجانا۔ یہ وہ سطح ہے جس پر جانور زندگی بسر کرتے ہیں ۔ انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا یہ انداز انسانیت کی توہین ہے۔ عقل وفہم کی صلاحیتوں کی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات کا رتبہ ملا ہے ۔ اس کا تقاضہ ہے کہ انسان کسی نصب العین کو اپنا مقصد زندگی بنائے اور دنیا کے سازوسامان کو اس کے حصول کا ذریعہ بنائے ۔ بلند ترین نصب العین یہ ہے کہ انسان اپنے حاجت روا ، مشکل کشا اور روزی رساں کو پہچانے اور اس کی رضا و خوشنودی کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے زندگی کو برقرار رکھنا اور جسمانی وذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا انسان کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے جب وہ دنیا کی اشیاء کو استعمال کرتا ہے تو ان میں غذا کی تاثیر ہوتی ہے یعنی ان کے استعمال سے تسکین بھی حاصل ہوتی ہے اور صلاحیتیں بھی پروان چڑھتی ہیں ۔ آیت ۔ 176 میں اسی حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی کی گئی ہے ۔ لیکن جب انسان ذرائع زندگی کو ہی اپنا مقصد زندگی بنا بیٹھتا ہے تو پھر انہیں اشیاء میں نشہ کی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔ یعنی ان کے استعمال سے نہ تو تسکین حاصل ہوتی ہے اور نہ صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں ۔ بلکہ ان میں انحطاط کا عمل شروع ہوجاتا ہے ، اس بات کو یوں سمجھیں کہ انگور ایک خوش ذائقہ اور صحت بخش غذا ہے ۔ لیکن یہی انگور جب گل سڑ جاتا ہے تو اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ یعنی نہ اس میں تسکین رہتی ہے اور نہ ہی یہ صحت بخش رہتا ہے ۔ یہی مثال دنیا کے باقی سازوسامان کی ہے ۔
بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ دنیا کو مقصد زندگی بنانے والوں کی صلاحیتیں تو خوب پروان چڑھتی ہیں اور یہ لوگ دنیا میں تو بڑے کامیاب ہوتے ہیں ۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بلڈ پریشر ، شوگر ، ہارٹ ، بائی پاس ، اعصابی امراض اور نفسیاتی پیچیدگیوں وغیرہ کے امراض میں مبتلا ہونے والوں کی غالب اکثریت ایسے ہی کامیاب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ پھر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایسے لوگوں کے جسمانی انحطاط کا آغاز تو بہت پہلے ہوجاتا ہے ، البتہ اس کا نتیجہ ظاہر ہونے میں ایک ، وقفہ حائل ہوتا ہے ۔ ان کے ذہنی انحطاط کی علامت یہ ہے کہ آج کے ماہرین انسانوں کے کسی مسئلہ کو جب حل کرتے ہیں تو اس سے نئے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ پھر ان کے حل سے مزید مسائل وجود میں آتے ہیں ۔ یہ وہ کیفیت ہے جس پر کتے کے نظام تنفس کی مثال پوری طرح چسپاں ہوتی ہے ۔ اور ان کے کردار کے انحطاط پر بات کرنا حد ادب ہے ۔
آج اخلد الی الارض یعنی حب دنیا نے انسانوں کی اکثریت کو تسکین سے محرومی اور ھل من مزید کی ہوس میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ اس مشاہدے نے معاشیات کے اس اصول کو جنم دیا ہے کہ Human Wants Are lnsatiabli (انسانی ضروریات قابل تسکین نہیں ہیں ) ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایک انسانی ضرورت پوری ہوتی ہے تو کوئی دوسری ضرورت جنم لے لیتی ہے اور یہ ایک سلسلہ لامتناہی ہے۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اصول میں لفظ wants دوھاری تلوار ہے ۔ ایک طرف تو اس کا اطلاق human Needs (انسانی ضروریات ) پر ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ Human Desires (انسانی خواہشات ) پر بھی منطبق ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے انسانی ضروریات اور خواہشات آپس میں گڈمڈ ہوکر ایک ہی چیز نظر آنے لگتی ہیں ، جبکہ یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں ۔ اس لیے لفظ Wants کو نکال کر اگر یہی اصول اس طرح بیان کیا جائے کہ انسانی خواہشات قابل تسکین نہیں ہیں تو یہ بات درست ہے ۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ انسانی ضروریات قابل تسکین نہیں ہیں تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک لفظ Wants نے کیا قیامت ڈھائی ہے اور انسانوں کو کیسی سنگین غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے ، جس کی وجہ سے آج انسانیت کیسے کیسے دکھ جھیل رہی ہے ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اخلد الی الارض یعنی حب دنیا کی حقیقت کو پہنچاننے اور اس سے بچنے کے لیے شعوری طور پر اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے کیونکہ اس کا انجام بڑا حسرتناک ہے ۔ ایک مقولے میں تھوڑی سی ترمیم کرکے اس کی حقیقت کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
HUBBE Dunya is Just Like a Cigarette .
Which Burns With Flame And End ln Ashes
Ayah 7:176[ وَلَوْ : اور اگر ] [ شِئْنَا : ہم چاہتے ] [ لَرَفَعْنٰهُ : تو ہم ضرور بلند کرتے اس کو ] [ بِهَا : ان سے (یعنی آیات کے علم سے )] [ وَلٰكِنَّهٗٓ: اور لیکن ] [ اَخْلَدَ : وہ ہمیشہ کے لیے مائل ہوا ] [ اِلَى الْاَرْضِ : زمین کی طرف ] [ وَاتَّبَعَ : اور اس نے پیروی کی ] [ هَوٰىهُ ۚ : اپنی خواہش کی ] [ فَمَثَلُهٗ : تو اس کی مثال ] [ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ : کتے کی مثال کی مانند ہے ] [ اِنْ : اگر ] [ تَحْمِلْ : تو بوجھ ڈالے ] [ عَلَيْهِ : اس پر ] [ يَلْهَثْ : تو وہ ہانپے گا ] [ اَوْ : یا ] [ تَتْرُكْهُ : اگر تو چھوڑ دے اس کو ] [ يَلْهَثْ ۭ : تو (بھی) وہ ہانپے گا ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا ۚ : ہماری نشانیوں کو ] [ فَاقْصُصِ : پس آپ بیان کریں ] [ الْقَصَصَ : اس قصے کو ] [ لَعَلَّهُمْ : شائد وہ لوگ ] [ يَتَفَكَّرُوْنَ : غور و فکر کریں ]
ل ہ ث : (س) لھثا ۔ پیاس یا تھکان کی وجہ سے ہانپ کر زبان نکالنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 176 ۔
Ayah 7:177[ سَاۗءَ : کتنی بری ہے ] [ مَثَلَۨا : مثال ] [ الْقَوْمُ الَّذِيْنَ : اس قوم کی جس نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ وَاَنْفُسَهُمْ : اور اپنے آپ پر (ہی) ] [ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ ظلم کرتے تھے ]
Ayah 7:178[ مَنْ : جس کو ] [ يَّهْدِ : ہدایت دے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ : تو وہ ہی ہدایت پانے والا ہے ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ يُّضْلِلْ : وہ گمراہ کرے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
Ayah 7:179[ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا : اور بیشک ہم نے پیدا کیا ہے ] [ لِجَهَنَّمَ : جہنم کے لیے ] [ كَثِيْرًا : بہتوں کو ] [ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ : انسانوں اور جنوں میں سے ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ قُلُوْبٌ: دل ہیں ] [ لَّا يَفْقَهُوْنَ : (لیکن ) وہ لوگ علم کا احاطہ نہیں کرتے ہیں ] [ بِهَا ۡ : ان سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ اَعْيُنٌ: آنکھیں ] [ لَّا يُبْصِرُوْنَ : (لیکن ) وہ لوگ دیکھ کر سمجھتے نہیں ہیں ] [ بِهَا ۡ : ان سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ اٰذَانٌ: کان ہیں ] [ لَّا يَسْمَعُوْنَ : (لیکن ) وہ لوگ سن کر سمجھتے نہیں ہیں ] [ بِهَا ۭ: ان سے ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ كَالْاَنْعَامِ : مویشیوں کی مانند ہیں ] [ بَلْ : بلکہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ اَضَلُّ : زیادہ گمراہ ہیں ] [ اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ] [ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ : ہی غفلت برتنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت نمبر 179 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنوں اور انسانوں میں سے بہتوں کو ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کن کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب آگے دے دیا ہے کہ ان لوگوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے جو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال نہیں کریں گے ۔ اور دنیا کے کمرہ امتحان میں چونکہ اللہ نے انسان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو جس مقصد کے لیے چاہے استعمال کرے ۔ جو عقیدہ اور نظریہ چاہے اختیار کرے اور جیسا چاہے عمل کرے ، اس لیے یہ بات ہر انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ چاہے تو اپنا نام پاس ہونے والوں یعنی جنت میں جانے والوں میں لکھوائے اور چاہے تو فیل ہونے والوں یعنی جہنم میں جانے والوں میں لکھوائے ۔ انسان کے اس اختیار کو نہ تو اللہ تعالیٰ خود سلب کرتا ہے اور دوسرے کو اس کی اجازت دیتا ہے ۔ اسی لیے فرمادیا کہ لا اکراہ فی الدین [ ضابطہ حیات کے ضمن میں کسی کا کوئی جبر نہیں ہے ] (2: 256) دوسرے الفاظ میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ضابطہ حیات کے ضمن میں انسان کو مکمل اختیار حاصل ہے۔
Ayah 7:180وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے ہی ہیں ] [ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: تمام خوبصورت نام ] [ فَادْعُوْهُ : تو تم پکارو اس کو ] [ بِهَا ۠ : ان سے ] [ وَذَرُوا : اور چھوڑ دو ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جو ] [ يُلْحِدُوْنَ : کجروی اختیار کرتے ہیں ] [ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ : اس کے ناموں میں ] [ سَيُجْزَوْنَ : ان کو بدلہ دیا جائے گا ] [ مَا : اس کا جو ] [ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کرتے تھے ]
ل ح د : (ف) لحدا (1) بغلی قبر کھودنا ۔ کسی طرف مائل ہونا۔ (2) عقیدے یا مذہب سے پھرجانا ۔ (افعال ) الحادا ۔ عقیدے یا مذہب میں شک پیدا کرنا ۔ کجروی کرنا ۔ جھگڑنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 180 (افتعال ) التحادا ۔ اہتمام سے کسی طرف مائل ہونا ۔ ملتحد ۔ اسم المفعول ہے جو اسم ظرف کے طور پر آتا ہے ۔ پناہ گاہ ۔
Ayah 7:181[ وَمِمَّنْ : اور ان میں سے جن کو ] [ خَلَقْنَآ : ہم نے پیدا کیا ] [ اُمَّةٌ: کچھ ایسے لوگ ہیں ] [ يَّهْدُوْنَ : جو ہدایت دیتے ہیں ] [ بِالْحَقِّ : حق کی ] [ وَبِهٖ : اور اس ہی سے ] [ يَعْدِلُوْنَ : وہ عدل کرتے ہیں ]
Ayah 7:182[ وَالَّذِيْنَ : اور جنہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ : ہم بتدریج لے جائیں گے ان کو ] [ مِّنْ حَيْثُ : وہاں سے ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ نہیں جانتے (جس کو )]
Ayah 7:183[ وَاُمْلِيْ : اور میں ڈھیل دیتا ہوں ] [ لَهُمْ ڵ : ان کو ] [ اِنَّ : بیشک ] [ كَيْدِيْ : میری تدبیر ] [ مَتِيْنٌ: پختہ ہے ]
م ت ن : (ک) متانۃ ۔ مضبوط وقوی ہونا ۔ متین ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ پختہ ۔ مضبوط ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 183 ۔
Ayah 7:184اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا : انہوں نے غور نہیں کیا ] [ مَا : (کہ ) نہیں ہے ] [ بِصَاحِبِهِمْ : ان کے ساتھی کو ] [ مِّنْ جِنَّةٍ ۭ: کسی قسم کا کوئی جنون ] [ اِنْ : نہیں ہے ] [ هُوَ : وہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک واضح خبردار کرنے والا ]
Ayah 7:185اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَنْظُرُوْا : انہوں نے نظر نہیں ڈالی ] [ فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی بادشاہت میں ] [ وَمَا : اور اس میں جو ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مِنْ شَيْءٍ ۙ : کسی چیز سے ] [ وَّاَنْ : اور یہ کہ ] [ عَسٰٓي : ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ : قریب آچکا ہو ] [ اَجَلُهُمْ ۚ : ان کے خاتمے کا وقت ] [ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ : تو کون سی بات پر ] [ بَعْدَهٗ : اس کے بعد ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان لائیں گے ]
Ayah 7:186[ مَنْ : جس کو ] [ يُّضْلِلِ : گمراہ کرے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فَلَا هَادِيَ : تو کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں ہے ] [ لَهٗ ۭ : اس کے لیے ] [ وَيَذَرُهُمْ : اور وہ چھوڑ دیتا ہے ان کو ] [ فِيْ طُغْيَانِهِمْ : ان کی سرکشی میں ] [ يَعْمَهُوْنَ : بھٹکتے ہوئے ]
نوٹ ۔ 2: آیت نمبر ۔ 2:7 کے نوٹ ۔ 3 میں ہم سماعت اور بصارت کی وضاحت کرچکے ہیں ۔ لیکن مناسب ہے کہ اس مقام پر ہم اس بات کو ذرا وضاحت سے سمجھ لیں کیونکہ آیت ۔ 179 میں اس Process کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے گزر کر انسان فیصلہ کرتا ہے اور اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے ۔ مذکورہ نوٹ ۔ 3 میں ہم سمجھ چکے ہیں کہ جب آنکھ اپنی حاصل کردہ معلومات کو ذہن تک پہنچاتی ہے تو اس کی اس صلاحیت کو بصارت کہتے ہیں ۔ اسی طرح جب کان اپنی حاصل کردہ معلومات کو ذہن تک پہنچاتا ہے تو اس کی یہ صلاحیت سماعت کہلاتی ہے ۔ اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آیت زیر مطالعہ میں بصارت اور سماعت کا ذکر کس حوالہ سے کیا گیا ہے ۔
اس سلسلہ میں یہ بات پھر یاد کرلیں کہ قرآن مجید کا یہ ایک خاص انداز ہے کہ کبھی وہ کسی چیز کے جز کی طرف اشارہ کرکے پوری چیز مراد لیتا ہے ۔ ( آیت ۔ 2:112، نوٹ ۔ 1) ۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر مذکورہ آیت پر غور کریں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہاں دراصل ہمارے حواس خمسہ اور ان کی ذہن تک معلومات پہنچانے کی صلاحیت کی بات ہو رہی ہے ۔ پھر انسانی ذہن حاصل شدہ معلومات کو ذخیرہ (Store ) کرنے سے پہلے ان کا تجزیہ کرکے کوئی فیصلہ کرتا ہے ، جسے ہم عقل کہتے ہیں ۔ اس طرح یہاں بصارت اور سماعت کے ذکر میں عقل کا استعمال از خود شامل ہے۔
عقل کے ضمن میں قرآن مجید کے طالب علم اور جدید تعلیم یافتہ افراد کے نکتہ نظر میں فرق ہے۔ کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تک ماہرین نفسیات کا کہنا تھا کہ حاصل شدہ معلومات سے ذہن کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اور انسانی جسم میں موجود موٹر سنٹر کو حکم دیتا ہے تو انسان کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے ۔ لیکن قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات ہمارے علم میں آتی ہے کہ ذہن کے فیصلے اور عمل کے درمیان میں ایک مرحلہ اور بھی ہے اور وہ کہ ذہن کے فیصلے کو انسان کا دل یا تو قبول کرتا ہے یا رد کرتا ہے ۔ پھر انسان کا عمل عقل کے نہیں بلکہ اس کے دل کے فیصلے کے مطابق ہوتا ہے ۔ مثلا ہم کہتے ہیں کہ بات تو ٹھیک ہے، پر کیا کریں دل نہیں مانتا ۔ یعنی ذہن اس بات کو قبول کررہا اور اس کا فیصلہ ہے کہ یہ کام کیا جائے لیکن دل قبول نہیں کر رہا ہے۔ اس لیے میں یہ کام نہیں کرسکتا ۔ اس کے برعکس جب کسی بات پر ہمارا دل ٹھک جاتا ہے تو ہو کام ہم کتنے شوق اور لگن سے کرتے ہیں ، یہ بات سب لوگ خوب جانتے ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آخر میں فیصلہ دل کا ہوتا ہے ۔ اور اب تو ماہرین نے بھی اپنی اصلاح کرلی ہے ۔ جدید مینجمنٹ سائنس کا اصول یہ ہے کہ عمل کے لیے تنہا Conviction (ذہن کا قائل ہونا ) کافی نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ Motivation (شوق اور لگن ) کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ اب یہ بات بہت واضح ہے کہ (Motivation) کا تعلق عقل سے نہیں ہے بلکہ جذبہ سے ہے ۔ جس کا مقام دل ہے اور دل کے فیصلہ کرنے کو قرآن تفقہہ کہتا ہے ۔ اسی لیے آیت زیر مطالعہ میں فرمایا کہ ان کے دل ہیں لیکن ان سے وہ تفقہہ نہیں کرتے۔
اب سوال یہ ہے کہ عقل کا فیصلہ تو حواس خمسہ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہوتا ہے لیکن دل کے فیصلے کی بنیاد کیا ہے ؟ تو یہ بات نوٹ کرلیں کہ دل کا فیصلہ ان ” معلومات ‘ ‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے جنہیں انسان کی فطرت میں ڈال کر اسے کمرہ امتحان میں بھیجا جاتا ہے، جس میں سرفہرست اللہ کی معرفت اور نیکی وبدی کی شعور ہے اور جس کی وضاحت آیت نمبر ۔ 7:172 کے نوٹ ۔ 1 میں کی جا چکی ہے ۔ جب تک دل یہ کام کرتا رہتا ہے کہ عقل کے فیصلے کو اگر وہ اپنی فطرت کے مطابق پائے تو اسے قبول کرلے ، ورنہ رد کردے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ تفقہہ کررہا ہے ۔ اور جب دل یہ کام شروع کردیتا ہے کہ عقل کے فیصلے کو اپنی خواہشات اور امنگوں کے مطابق پائے تو قبول کرے ورنہ رد کردے اور اپنی فطرت کی پکاری کا گلا گھونٹتا رہے ، تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے تفقہہ کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ اسی کو گزشتہ آیت نمبر ۔ 176 مٰں اپنی خواہشات کی پیروی کرنا کہا گیا ہے اور اس کا سبب اخلد الی الارض کا مرض بتایا گیا ہے ۔ ایسے لوگ اس دنیا میں اس عذاب میں خود کو مبتلا کرلیتے جس میں ایک کتا مبتلا ہوتا ہے اور آخرت کے لیے اپنا نام جہنم میں جانے والوں کی فہرست میں لکھوا لیتے ہیں ۔
ان نوٹ کے شروع میں ہم نے فیصلہ کرنے کے Process کی بات کی تھی ۔ اس کی فطری ترتیب یہ ہے کہ اس کی ابتدا حواس خمسہ سے ہوتی ہے اور اختتام دل پر ہوتا ہے ۔ لیکن اس Process کے معطل ہونے یا منقطع ہونے کی ابتدا دل سے ہوتی ہے اور اختتام حواس خمسہ پر ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت زیر مطالعہ میں پہلے یہ فرمایا کہ ان کے دل وہ ان سے تفقہہ نہیں کرتے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ ان کی آنکھیں ہیں لیکن ان سے وہ بصارت نہیں کرتے اور کان سے سماعت نہیں کرتے ۔
Ayah 7:187[ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ سے ] [ عَنِ السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں ] [ اَيَّانَ : ایان [ کب ہے [ مُرْسٰىهَا ۭ: اس کے قیام ہونے کا وقت ] [ قُلْ : آپ کہہ دیجئے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ عِلْمُهَا : اس کا علم ] [ عِنْدَ رَبِّيْ ۚ : میرے رب کے پاس ہے ] [ لَا يُجَلِّيْهَا : ظاہر نہیں کرے گا (کوئی ) اس کو ] [ لِوَقْتِهَآ : اس کے وقت پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ هُوَ ۂ : وہی ] [ ثَقُلَتْ : وہ بھاری ہوئی (یعنی ہوگی ) ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : زمین اور آسمانوں میں ] [ لَا تَاْتِيْكُمْ : وہ نہیں پہنچے گی تم لوگوں کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ بَغْتَةً ۭ : اچانک ] [ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ : وہ پوچھتے ہیں آپ سے ] [ كَاَنَّكَ : جیسے آپ ] [ حَفِيٌّ: پورا علم رکھنے والے ہیں ] [ عَنْهَا : اس کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ کہئے ] [ اِنَّمَا عِلْمُهَا : اس کا علم تو بس ] [ عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے ] وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَ النَّاسِ : لوگوں کی اکثریت ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتی نہیں ہے ]
ر س و : (ن) رسوا ۔ ٹھہرنا ۔ جم جانا ۔ راسیۃ ۔ ج : راسیات اور رواسی ۔ اسم الفاعل ہے۔ ٹھہرنے یا جم جانے والی ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے۔ قرآن میں رواسی پہاڑوں کے لیے آیا ہے ۔ وقدور رسیت [ اور جم جانے والی دیگیں ] 34: 13 ۔ وجعل فیھا رواسی [ اور اس نے بنایا اس میں پہاڑوں کو ] 13:3 ۔ (افعال ) ارساء ۔ ٹھہرانا ۔ جمانا ۔ والجبال ارسھا [ اور پہاڑوں کو ، اس نے جمایا ان کو ] 79: 32 ۔ مرسی ۔ اسم المفعول ہے اور ظرف کے طور پر بھی آتا ہے ۔ ٹھہرایا جمایا ہوا ۔ ٹھہرانے یا جمانے کی جگہ یا وقت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 187 ۔
حو : (ن) حفوا ۔ (1) کسی کو کوئی چیز دینا ۔ (2) عزت دینا ۔ مہربان وشفیق ہونا ۔ (س) حفا (1) زیادہ سفر کرنے کی وجہ سے جانور کا گھسے ہوئے کھر والا ہونا ۔ (2) انسان کا کسی چیز کے متعلق پورا پورا علم رکھنے والا ہونا ۔ حفی ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ (1) مہربان شفیق ۔ انہ کان بی حفیا [ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے ] ۔ (2) پورا پورا علم رکھنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 187 ۔ (افعال ) احفاء ۔ کسی سے کوئی چیز مانگنے میں اصرار کرنا ۔ ان یسئلکموھا فیحفکم [ اگر وہ مانگے تم لوگوں سے اسے پھر وہ اصرار کرے تم سے ] 47:37 ۔
Ayah 7:188[ قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [ لَّآ اَمْلِكُ : میں مالک نہیں ہوں ] [ لِنَفْسِيْ : اپنی جان کیلئے ] [ نَفْعًا : کسی نفع کا ] [ وَّلَا ضَرًّا : اور نہ ہی کسی تکلیف کا ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَا : وہ جو ] [ شَاۗءَ : چاہا ] [ اللّٰهُ ۭ : اللہ نے ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ كُنْتُ اَعْلَمُ : میں جانتا ہوتا ] [ الْغَيْبَ : غیب کو ] [ لَاسْتَكْثَرْتُ : تو میں ضرور جمع کرتا ] [ مِنَ الْخَيْر ِ : بھلائی میں سے ] [ وَمَا مَسَّنِيَ : اور نہ چھوتی مجھ کو ] [ السُّوْۗءُ ڔ : برائی ] [ اِنْ : نہیں ] [ اَنَا : ہوں میں ] [ اِلَّا : مگر ] [ نَذِيْرٌ: ایک وارننگ دینے والا ] [ وَّبَشِيْرٌ: اور بشارت دینے والا ] [ لِّقَوْمٍ : ایسی قوم کے لیے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتی ہے ]
نوٹ ۔ 1: بعض اسلامی کتابوں میں دنیا کی عمر سات ہزار سال بتائی گئی ہے ۔ یہ کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ اسرائیلی روایات سے لیا ہوا مضمون ہے۔ اسلامی روایات میں ایسی بےسند باتوں کو داخل کردینے کا مقصد شائد اسلام کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنا ہو۔ علماء طبقات الارض نے دنیا کی عمر لاکھوں سال بتائی ہے یہ بات نہ کسی قرآنی آیت سے ٹکراتی ہے اور نہ کسی حدیث سے۔ حافظ ابن حزم اندلسی نے فرمایا کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کی عمر کا صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کا صحیح علم صرف پیدا کرنے والے ہی کو ہے ۔ (تدبر قرآن)
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 188 میں اس غلط عقیدے کی تردید ہے جو مشرکین نے انبیاء کرام کے بارے میں قائم کر رکھا تھا کہ وہ غیب داں ہوتے ہیں اور ان کا علم اللہ تعالیٰ کی طرح تمام کائنات پر حاوی ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ وہ ہر نفع نقصان کے مالک ہوتے ہیں اور جس کو چاہیں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ اس آیت میں واضح کردیا گیا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نہ قادر مطلق ہوتے ہیں اور نہ عالم الغیب ، بلکہ ان کو علم و قدرت کا اتنا ہی حصہ حاصل ہوتا ہے جتنا من جانب اللہ ان کو دیا جائے ۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ جو حصہ علم ان کو عطا ہوتا ہے وہ ساری مخلوقات سے زیادہ ہوتا ہے ۔ خصوصا ہمارے رسول اللہ ﷺ کو جو علم عطا کیا گیا تھا وہ سب سے زیادہ تھا ۔ چناچہ آپ نے ہزاروں غیب کی خبریں دیں جن کی سچائی کا لوگوں نے مشاہدہ کیا ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 7:189[ هُوَ : وہ ] [ الَّذِيْ : وہ ہے جس نے ] [ خَلَقَكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ : ایک جان سے ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنایا ] [ مِنْهَا : اس (جان ) سے ] [ زَوْجَهَا : اس کا جوڑا ] [ لِيَسْكُنَ : تاکہ وہ سکون پکڑے ] [ اِلَيْهَا ۚ : اس سے ] [ فَلَمَّا : پھر جب ] [ تَغَشّٰىهَا : اس (مذکر) نے ڈھانپ لیا اس (مؤنث ) نے اٹھایا ] [ حَمَلَتْ : تو اس (مونث) نے اٹھایا ] [ حَمْلًا خَفِيْفًا : ایک ہلکا بوجھ ] [ فَمَرَّتْ : پھر وہ چلی ] [ بِهٖ ۚ : اس کے ساتھ ] [ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اَثْقَلَتْ : اس نے بوجھ لادا ] [ دَّعَوَا : تو دونوں نے پکارا ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ رَبَّهُمَا : جو دونوں کا رب ہے ] [ لَىِٕنْ : بیشک اگر ] [ اٰتَيْتَنَا : تو دے گا ہم کو ] [ صَالِحًا : ایک نیک (اولاد) ] [ لَّنَكُوْنَنَّ : تو ہم لازما ہوں گے ] [ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ : شکر کرنے والوں میں سے ]
نوٹ ۔ 1: جعل منھا زوجھا پر غور کرتے ہوئے سائنس کے انکشاف کو بھی ذہن میں رکھیے ، جس کا ذکر ڈاکڑ رفع الدین مرحوم نے اپنی کتاب ” قرآن اور علم جدید “ میں کیا ہے، کہ زندگی کے آغاز میں جسد انسانی کی اولین صورت ایک جونک کی طرح ایک ہی خلیہ پر مشتمل تھی ار ایک خلیہ سے جاندار کے توالد کا طریق یہ ہے کہ وہ بڑھ کر خود بخود دو حصوں میں منقسم ہوجاتا ہے ، جن میں سے ہر ایک حصہ ایک مکمل جاندار ہوتا ہے ۔ پھر بدنی ارتقا کے اگلے مراحل پر ایک حصہ مادہ کے فرائض کے لیے اور دوسرا حصہ نر کے فرائض کے لیے موزوں بن جاتا ہے۔ (تدبر قرآن ]