7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 7:121

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو

[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب پر ]
Ayah 7:122

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

اُس رب کو جسے موسیٰؑ اور ہارونؑ مانتے ہیں"

[ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ : جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے ]
Ayah 7:123

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا "تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے

[ قَالَ : کہا ] [ فِرْعَوْنُ : فرعون نے ] [ اٰمَنْتُمْ : تم لوگ ایمان لے آئے ] [ بِهٖ : اس پر ] [ قَبْلَ اَنْ : اس کے پہلے کہ ] [ اٰذَنَ : میں اجازت دیتا ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کو ] [ اِنَّ : بیشک ] [ هٰذَا : یہ ] [ لَمَكْرٌ: یقینا ایک چال ہے ] [ مَّكَرْتُمُوْهُ : تم لوگوں نے تدبیر کی جس کی ] [ فِي الْمَدِيْنَةِ : اس شہر میں ] [ لِتُخْرِجُوْا : تاکہ تم لوگ نکالو ] [ مِنْهَآ : اس (شہر ) سے ] [ اَهْلَهَا : اس کے لوگوں کو ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جان لوگے ]
Ayah 7:124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا"

[ لَاُقَطِّعَنَّ : میں لازما کاٹوں گا ] [ اَيْدِيَكُمْ : تمہارے ہاتھوں کو ] [ وَاَرْجُلَكُمْ : اور تمہارے پیروں کو ] [ مِّنْ خِلَافٍ : مخالف (طرف ) سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ : میں لازما سولی چڑھاؤں گا تم کو [ اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ]
Ayah 7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے

[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اِنَّآ : بیشک ہم ] [ اِلٰى رَبِّنَا : اپنے رب کی طرف ہی ] [ مُنْقَلِبُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ]
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں"

[ وَمَا تَنْقِمُ : اور تو انتقام نہیں لیتا ] [ مِنَّآ : ہم سے ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا : اپنے رب کی نشانیوں پر ] [ لَمَّا : جب ] [ جَاۗءَتْنَا : وہ آئیں ہمارے رب ] [ رَبَّنَآ : اے ہمارے پروردگار ] [ اَفْرِغْ : تو انڈیل دے ] [ عَلَيْنَا : ہم پر ] [ صَبْرًا : ثابت قدمی ] [ وَّ تَوَفَّنَا : اور تو موت دے ہم کو ] [ مُسْلِمِيْنَ : اس حال میں کہ ہم فرمانبردار ہوں ]
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا "کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟" فرعون نے جواب دیا "میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے"

[ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ : فرعون کی قوم میں سے ] [ اَ : کیا ] [ تَذَرُ : تو نے چھوڑرکھا ہے [ مُوْسٰي : موسیٰ کو ] [ وَقَوْمَهٗ : اور اس کی قوم کو ] [ لِيُفْسِدُوْا : کہ وہ لوگ نظم بگاڑیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ وَيَذَرَكَ : اور (تاکہ ) وہ چھوڑ دے تجھ کو ] [ وَاٰلِهَتَكَ : اور تیرے معبودوں کو ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ سَنُقَتِّلُ : ہم قتل کرتے رہیں گے ] [ اَبْنَاۗءَهُمْ : ان کے بیٹوں کو ] [ وَنَسْتَحْيٖ : اور زندہ رکھیں گے ] [ نِسَاۗءَهُمْ : ان کی عورتوں کو ] [ وَاِنَّا : اور یقینا ہم ] [ فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر ] [ قٰهِرُوْنَ : پوری طرح قابو یافتہ ہیں ]
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"

[ قَالَ : کہا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے ] [ اسْتَعِيْنُوْا : مدد مانگو ] [ بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ وَاصْبِرُوْا : اور ثابت قدم رہو ] [ اِنَّ : یقینا ] [ الْاَرْضَ : زمین ] [ لِلّٰهِ : اللہ کی ہے ] [ يُوْرِثُهَا : وہ وارث بناتا ہے اس کا ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖ : اس کے بندوں میں سے ] [ وَالْعَاقِبَةُ : اور (بھلا) انجام ] [ لِلْمُتَّقِيْنَ : تقوی کرنے والوں کے لیے ہے ]
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"

[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اُوْذِيْنَا : اذیت دی گئی ہم کو ] [ مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَاْتِيَنَا : آپ آئے ہمارے پاس ] [ وَمِنْۢ بَعْدِ : اور اس کے بعد ] [ مَا : جب ] [ جِئْتَنَا : آپ آئے ہمارے پاس ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ عَسٰي : امید ہے ] [ رَبُّكُمْ : تمہارے رب (سے) ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّهْلِكَ : وہ ہلاک کرے ] [ عَدُوَّكُمْ : تمہارے دشمن کو ] [ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ : اور جانشین بنائے تم کو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَيَنْظُرَ : تو پھر وہ دیکھے ] [ كَيْفَ : کیسے ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ عمل کرتے ہو ] ترکیب : (آیت ۔ 129) من بعد ما جئتنا میں ما ظرفیہ ہے۔ ان یہلک کے ان پر عطف ہونے کی وجہ سے یستخلف حالت نصب میں ہے ۔ جبکہ ینظر کی نصب فاسببہ کی وجہ سے ہے ۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے

[ وَلَقَدْ اَخَذْنَآ : اور ہم پکڑ چکے ہیں ] [ اٰلَ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں کو ] [ بِالسِّنِيْنَ : قحطوں سے ] [ وَنَقْصٍ : اور کچھ نقصان سے ] [ مِّنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے ] [ لَعَلَّهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَذَّكَّرُوْنَ : نصیحت حاصل کریں ] (آیت ۔ 130) السنین (مادہ ۔ ” س ن و “ ) کی لغت آیت نمبر 2:96 میں دی ہوئی ہے ۔ سنۃ (ایک سال) کی جمع سنون عربی محاورے میں قحط سالی کے لیے بھی آتی ہے ۔ جیسے انگریزی میں Force کا مطلب ہے قوت ۔ طاقت ۔ جبکہ اس کی جمع forces سے فوجیں مراد ہوتی ہیں ۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے

[ فَاِذَا : پھر جب بھی ] [ جَاۗءَتْهُمُ : آتی ہے ان کے پاس ] [ الْحَسَنَةُ : بھلائی ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ لَنَا : ہمارے لیے ہے ] [ هٰذِهٖ : یہ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُصِبْهُمْ : آن لگتی ہے ان کو ] [ سَيِّئَةٌ: کوئی برائی ] [ يَّطَّيَّرُوْا : تو وہ لوگ منحوس گردانتے ہیں ] [ بِمُوْسٰي : موسیٰ کو ] [ وَمَنْ : اور ان کو جو ] [ مَّعَهٗ : ان کے ساتھ ہیں ] [ اَلَآ : سن لو ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ [ طٰۗىِٕرُهُمْ : ان کی نحوست ] [ عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس (سے ) ہے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

انہوں نے موسیٰؑ سے کہا کہ "تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں"

[ وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ] [ مَهْمَا : جو کچھ ] [ تَاْتِنَا بِهٖ : تو لائے گا ہمارے پاس ] [ مِنْ اٰيَةٍ : کوئی بھی نشانی ] [ لِّتَسْحَرَنَا : تاکہ تو جادو کرے ہم پر ] [ بِهَا : اس سے ] [ فَمَا نَحْنُ : تو ہم نہیں ہیں ] [ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ : تیر ی بات ماننے والے ] (آیت ۔ 132) مھما ان جو ازم مضارع میں سے ہے جو شرط اور جواب شرط میں آنے والے دونوں مضارع افعال کو جزم دیتا ہے ۔ (آسان عربی گرامر ، پیرگراف 2:43) یہاں تاتنا میں تات مجزوم ہے۔ جبکہ جواب شرط میں مضارع کی جگہ جملہ اسمیہ مانحن لک بمؤمنین آیا ہے اور محلا مجزوم ہے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ٹڈی دل چھوڑے، سرسریاں پھیلائیں، مینڈک نکالے، اور خو ن برسایا یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں، مگر وہ سر کشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے

[ فَاَرْسَلْنَا : پھر ہم نے بھیجا ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الطُّوْفَانَ : سائیکلون ] [ وَالْجَرَادَ : اور ٹڈی دل ] [ وَالْقُمَّلَ : اور بھنگے ] [ وَالضَّفَادِعَ : اور مینڈک ] [ وَالدَّمَ : اور خون ] [ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ : کھلی کھلی نشانیاں ہوتے ہوئے ] [ فَاسْتَكْبَرُوْا : نتیجے میں انہوں نے گھمنڈ کیا ] [ وَكَانُوْا : اور وہ تھے (ہی ) ] [ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے لوگ ] ج ر د (ن) : جردا ۔ کھال پر سے بال اتارنا ۔ ننگا کرنا ۔ جراد ، اسم جنس ہے ۔ ٹڈی (واحد ۔ جرادۃ ) ٹڈی زمین کا سبزہ چاٹ کر اس کو ننگا کردیتی ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 133 ۔ ق م ل : ۔ ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا ۔ قمل ۔ اسم جنس ہے ۔ واحد قملۃ ۔ سر کے بالوں میں پڑنے والی جوں ۔ گندگی پر بھنبھنانے والی باریک مکھیاں ۔ بھنگے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 133 ۔
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰؑ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے"

[ وَلَمَّا : اور جب ] [ وَقَعَ : واقع ہوتا ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الرِّجْزُ : عذاب ] [ قَالُوْا : تو وہ کہتے ] [ يٰمُوْسَى: اے موسیٰ ] [ ادْعُ : آپ پکاریے ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ رَبَّكَ : اپنے رب کو ] [ بِمَا : اس کے ساتھ جس کا ] [ عَهِدَ : اس نے وعدہ لیا ] [ عِنْدَكَ : آپ سے ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [ كَشَفْتَ : آپ نے ہٹا دیا ] [ عَنَّا : ہم سے ] [ الرِّجْزَ : اس عذاب کو ] [ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ : تو ہم لازما مان لیں گے آپ (کی بات ) کو ] [ وَلَنُرْسِلَنَّ : اور ہم لازما بھیج دیں گے ] [ مَعَكَ : آپ کے ساتھ ] [ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کو ]
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے

[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ كَشَفْنَا : ہم نے ہٹا دیا ] [ عَنْهُمُ : ان سے ] [ الرِّجْزَ : اس عذاب کو ] [ اِلٰٓي اَجَلٍ : ایک مدت تک ] [ هُمْ : (کہ ) وہ ] [ بٰلِغُوْهُ : پہنچنے والے تھے اس کو ] [ اِذَا : جب ہی ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَنْكُثُوْنَ : عہد شکنی کرتے ] ن ک ث : (ن) نکثا ، کمبل کو ادھیڑنا ۔ سوت کو ریشہ ریشہ کرنا ۔ عہد شکنی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 135 ۔ نکث ۔ ج : انکاث ۔ ادھیڑا ہوا کمبل یا سوت ۔ ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا [ اور تم لوگ مت ہو اس عورت کی مانند جس نے توڑا اپنا کاتا ہوا سوت محنت کے بعد ، ادھیڑ ہوا ] 16:92 ۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہو گئے تھے

[ فَانْتَقَمْنَا : پس ہم نے انتقام لیا ] [ مِنْهُمْ : ان سے ] [ فَاَغْرَقْنٰهُمْ : تو ہم نے غرق کیا ان کو ] [ فِي الْيَمِّ : پانی میں ] [ بِاَنَّهُمْ : کیونکہ انہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ وَكَانُوْا : اور وہ تھے ] [ عَنْهَا : ان سے ] [ غٰفِلِيْنَ : غفلت برتنے والے ]
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے

[ وَاَوْرَثْنَا : اور ہم نے وارث بنایا ] [ الْقَوْمَ الَّذِيْنَ : اس قوم کو جن کو ] [ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ : کمزور سمجھاجاتا تھا ] [ مَشَارِقَ الْاَرْضِ : اس زمین کے مشرقوں کا ] [ وَمَغَارِبَهَا : اور اس کے مغربوں کا ] [ الَّتِيْ : وہ ( زمین) ] [ بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَتَمَّتْ : اور تمام ہوا ] [ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى: آپ کے رب کا اچھا وعدہ ] [ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل پر ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ صَبَرُوْا : وہ لوگ ثابت قدم رہے ] [ وَدَمَّرْنَا : اور ہم نے تباہ کیا ] [ مَا : اس کو جو ] [ كَانَ يَصْنَعُ : کاریگری کرتا تھا ] [ فِرْعَوْنُ : فرعون ] [ وَقَوْمُهٗ : اور اس کی قوم ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ : وہ لوگ چھایا کرتے تھے [ یعنی پروپیگنڈا کرتے تھے ] د م ر (ن) دمورا ہلاک ہونا۔ (تفعیل ) تد میرا ۔ (1) ہلاک کرنا ۔ اس کا مفعول بنفسہ آتا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 137 ۔ (2) کسی پر ہلاکت ڈالنا ۔ اس میں علی کا صلہ آتا ہے ۔ دمر اللہ علیہم وللکفرین امثالھا [ ہلاکت ڈالی اللہ نے ان پر اور کافروں کے لیے اس کی جیسی ہیں ] 4710 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 137) اور ثنا کا مفعول اول القوم ہے ۔ مشارق اور مغارب اس کے مفعول ثانی ہیں ۔ الارض پر لام تعریف ہے اور التی کا تعلق بھی الارض سے ہے ۔ کلمت مضاف ہے اس لیے اس کی صفت الحسنی مضاف ہے اس لیے اس کی صفت الحسنی مضاف الیہ ربک کے بعد آئی ہے۔ نوٹ : 1 ۔ فرعون کے جادو گر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہارنے کے بعد ان پر ایمان لے آئے تھے ۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم اس طرح اپنی سرکشی اور کفر پر جمی رہی ۔ تاریخی روایات کے مطابق اس واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیس سال مصر میں مقیم رہ کر ان لوگوں کو اللہ کا پیغام سناتے اور حق کی دعوت دیتے رہے ۔ اس عرصہ میں ان لوگوں پر مختلف عذاب آتے رہے جن کے ذریعہ قوم فرعون کو متنبہ کرنا اور راہ راست پر لانا مقصود تھا ۔ ان میں سے ہر ایک معین وقت تک رہتا ، پھر موقوف ہوتا اور کچھ مہلت دی جاتی کہ غور وفکر کر کے سنبھل جائیں ۔ اسی طرح وقفہ وقفہ سے متعدد عذاب آتے رہے ۔ لیکن ان لوگوں نے ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ۔ پھر جب ہر طرح اتمام حجت ہوگئی تب ان کو غرق کیا گیا ۔ (معارف القرآن ) نوٹ ۔ 2: زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 137 میں ارشاد ہے کہ ہم نے اس کو برباد کردیا جو فرعون اور اس کے پیروکار بنایا کرتے تھے یہاں بنانے کے لیے یصنع کا لفظ آیا ہے۔ جس کے معنی کسی کام کو مہارت سے کرنے کے ہیں ۔ (مفردات القرآن ) بظاہر اس سے مراد ان کی عمارتیں ہیں کیونکہ یہ مصریوں کا خاص ذوق تھا اور انہوں نے فن تعمیر میں بڑی مہارت حاصل کرلی تھی ۔ لیکن سورة الاعراف کی ان آیات میں اور قرآن مجید کے دیگر مقامات پر جہاں قوم فرعون پر عذابوں کا ذکر ہے۔ وہاں زلزلہ یا کسی ایسے عذاب کا ذکر نہیں ہے۔ جس سے عمارتیں تباہ ہوں ۔ اس لیے ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ غالبا یہاں یصنع کا لفظ اپنے عمومی مفہوم میں آیا ہے اور اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف وہ جھوٹے الزامات ہیں جو فرعون گھڑا کرتا تھا اور قوم اس کی ہاں میں ہاں ملاتی تھی ۔ شاید اسی لیے یصنع کے فاعل کے طور پر فرعون اور اس کی قوم کا الگ الگ ذکر آیا ہے ۔ کیونکہ الزامات فرعون گھڑتا تھا اور قوم اس کی ہم نوا ہوتی تھی ۔ مثلا یہ کہ یہ جادو گر تم لوگوں کو تمہاری زمین سے نکالنا چاہتا ہے ، تمہاری بےمثال تہذیب کو تباہ کرنا چاہتا ہے، جادوگروں کی شکست ان کی اور موسیٰ کی ملی بھگت کا نتیجہ تھی ، موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ٹل جانے پر وعدہ نہ پورا کرنے کے لیے حیلے بہانے تراشنا ، وغیرہ وغیرہ یصنع کا اگر یہ مفہوم ہے تو پھر یعرشون کو بھی اس کے عمومی مفہوم پر محمول کرنا ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرعون جو کچھ گھڑتا تھا، حکومت کی مشینری پروپیگنڈے کے ذریعے اسے لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کردیتی تھی تاکہ لوگوں کو موسیٰ کی رسالت اور بنو اسرائیل کی آزادی کے مطالبہ کی صداقت پر غور کرنے کا موقع نہ ملے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ مفتی محمد شفیع (رح) کی رائے ہے کہ یصنع کے مفہوم میں فرعون اور قوم فرعون کی بنائی ہوئی چیزوں میں ان کے مکانات وعمارات اور گھریلو ضرورت کے سامان ، نیز وہ مختلف قسم کی تدبیریں جو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے کرتے تھے ۔ سب داخل ہیں ۔ (معارف القرآن )
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی کہنے لگے، "اے موسیٰؑ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں" موسیٰؑ نے کہا "تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو

[ وَجٰوَزْنَا : اور ہم نے پار کرایا ] [ بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کو ] [ الْبَحْرَ : سمندر کے ] [ فَاَتَوْا : تو وہ پہنچے ] [ عَلٰي قَوْمٍ : ایک ایسی قوم پر ] [ يَّعْكُفُوْنَ : جو چپکے بیٹھے ہوئے تھے ] [ عَلٰٓي اَصْنَامٍ لَّهُمْ : اپنے کچھ بتوں پر ] [ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰمُوْسَى: اے موسیٰ ] [ اجْعَلْ : آپ بنادیں ] [ لَّنَآ : ہمارے لیے ] [ اِلٰـهًا : ایک الہ ] [ كَمَا : جیسے کہ ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اٰلِهَةٌ : کچھ الہ ہیں ] [ قَالَ : (موسی نے ) کہا ] [ اِنَّكُمْ : بیشک تم لوگ ] [ قَوْمٌ: ایک ایسی قوم ہو ] [ تَجْـهَلُوْنَ : جو غلط عقائد رکھتی ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 138) جاوز ، (مفاعلہ ) کے معنی ہیں دریا کو پار کرنا ۔ با کے صلہ کے ساتھ معنی ہوجاتے ہیں کسی کو پار کرانا ۔ قوم نکرہ مخصوصہ ہے جبکہ یعکفون اس کی خصوصیت اور حال ہے ۔
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے"

[ اِنَّ : یقینا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ !] [ مُتَبَّرٌ: برباد کیا ہوا ہے ] [ مَّا : وہ ] [ هُمْ : یہ لوگ ] [ فِيْهِ : جس میں ہیں ] [ وَبٰطِلٌ: اور باطل ہے ] [ مَّا : وہ جو ] [ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ] ت ب ر : (س) تبرا ۔ ہلاک ہونا ۔ برباد ہونا ۔ تبار ۔ اسم ذات ہے ، تباہی ۔ بربادی ۔ ولا تزد الظلمین الا تبارا [ اور تو زیادہ نہ کر ظالموں کو مگر تباہی میں ] 71:28 ۔ تفعیل ۔ تتبیرا ۔ تباہ کرنا ۔ برباد کرنا ۔ وکلا تبرنا تتبیرا [ اور سب کو ہم نے برباد کیا جیسا برباد کرنے کا حق ہے ] 25:39 ۔ متبرا ، اسم المفعول ہے اور ظرف بھی (1) برباد کیا ہوا ۔ (2) بربادشدہ جگہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 139 ۔ (آیت ۔ 139) ما ھم مبتدا مؤخر ہے ، متبر اس کی خبر مقدم ہے اور فیہ متعلق خبر ہے ۔ پھر یہ پورا جملہ ان ھولاء کی خبر ہے ۔ اسی طرح ما مبتداء مؤخر ہے ، بطل اس کی خبر مقدم ہے اور جملہ فعلیہ کانوا یعملون متعلق خبر ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے

[ قَالَ : (موسی نے ) کہا ] [ اَ : کیا ] [ غَيْرَ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ کو ] [ اَبْغِيْكُمْ : میں چاہوں تمہارے لیے ] [ اِلٰهًا : بطور الہ ] [ وَّ : حالانکہ ] [ هُوَ : اس نے ] [ فَضَّلَكُمْ : فضیلت دی ہے تم کو ] [ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں پر ]
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

[ وَاِذْ : اور جب ] [ اَنْجَيْنٰكُمْ : ہم نے نجات دی تم کو ] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں سے ] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ تکلیف دیتے تھے تم کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ : برے عذاب کی ] [ يُقَتِّلُوْنَ : وہ قتل کرتے تھے ] [ اَبْنَاۗءَكُمْ : تمہارے بیٹوں کو ] [ وَ يَسْتَحْيُوْنَ : اور زندہ رکھتے تھے ] [ نِسَاۗءَكُمْ : تمہاری عورتوں کو ] [ وَفِيْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں ] [ بَلَاۗءٌ: ایک آزمائش تھی ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب (کی طرف ) سے [ عَظِيْمٌ: ایک بڑی (آزمائش ) ] (آیت ۔ 141) سوء العذاب مرکب اضافی ہے لیکن اس کا ترجمہ مرکب توصیفی میں ہوگا (دیکھیں آیت 20:94، نوٹ ۔ 3) کی رفع بتارہی ہے کہ یہ بلاء کی صفت ہے اگر رب کی ہوتی تو عظیم آتی ۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی موسیٰؑ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ "میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا"

وَوٰعَدْنَا : اور ہم نے وعدہ کیا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ سے ] [ ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً : تیس راتوں کا ] [ وَّاَتْمَمْنٰهَا : اور ہم نے مکمل کیا انہیں ] [ بِعَشْرٍ : دس سے ] [ فَتَمَّ : تو پورا ہوا ] [ مِيْقَاتُ رَبِّهٖٓ: ان کے رب کا طے شدہ وقت ] [ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً : چالیس راتوں کا ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ : اپنے بھائی ہارون سے ] [ اخْلُفْنِيْ : تو میرے پیچھے رہ ] [ فِيْ قَوْمِيْ : میری قوم میں ] [ وَاَصْلِحْ : اور اصلاح کر ] [ وَلَا تَتَّبِعْ : اور پیروی مت کرنا ] [ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والوں کے راستے کی ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 142 میں تیس دن کے بجائے تیس راتوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء کی شریعتوں میں مہینے قمری ہوتے ہیں اور قمری مہینہ چاند دیکھنے سے شروع ہوتا ہے ، جو کہ رات ہی میں ہوسکتا ہے ۔ اس لیے قمری مہینہ رات سے شروع ہوتا ہے ۔ پھر اس کی ہر تاریخ آفتاب سے شمار ہوتی ہے ۔ جتنے آسمانی مذاہب ہیں ان سب کا حساب اسی طرح قمری مہینوں سے شروع ہوتا ہے اور تاریخ غروب آفتاب سے شمار کی جاتی ہے ۔ ابن عربی کا قول ہے کہ شمسی حساب دنیوی منافع کے لیے ہے اور قمری حساب اداء عبادات کے لیے ہے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ "اے رب، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں" فرمایا "تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا" چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰؑ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا "پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں"

[ وَلَمَّا : اور جب ] [ جَاۗءَ : آئے ] [ مُوْسٰي : موسیٰ ] [ لِمِيْقَاتِنَا : ہماری طے شدہ جگہ پر ] [ وَكَلَّمَهٗ : اور کلام کیا ان پر ] [ رَبُّهٗ : ان کے رب نے ] [ قَالَ : تو انہوں نے کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ اَرِنِيْٓ: تو مجھے دکھا ] [ اَنْظُرْ : تو میں دیکھوں ] [ اِلَيْكَ : تیری طرف ] [ قَالَ : (اللہ نے) کہا [ لَنْ تَرٰىنِيْ : تو ہرگز نہیں دیکھے گا مجھ کو ] [ وَلٰكِنِ : اور لیکن ] [ انْظُرْ : تو دیکھ ] [ اِلَى الْجَبَلِ : اس پہاڑ کی طرف ] [ فَاِنِ : پھر اگر ] [ اسْـتَــقَرَّ : وہ برقرار رہا ] [ مَكَانَهٗ : اپنی جگہ پر ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ تَرٰىنِيْ : تو دیکھے گا مجھ کو ] [ ۚ فَلَمَّا : پھر جب ] [ تَجَلّٰى: روشن ہوا ] [ رَبُّهٗ : ان کا رب ] [ لِلْجَبَلِ : اس پہاڑ کے لیے ] [ جَعَلَهٗ : تو اس نے کردیا اس کو ] [ دَكًّا : ہموار زمین ] [ وَّخَرَّ : اور گرپڑے ] [ مُوْسٰي : موسیٰ ] [ صَعِقًا ۚ : بیہوش ہوکر ] [ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اَفَاقَ : افاقہ ہوا ] [ قَالَ : تو انہوں نے کہا ] [ سُبْحٰنَكَ : تیری پاکیزگی ہے ] [ تُبْتُ اِلَيْكَ : میں توبہ کرتا ہوں ] [ وَاَنَا : اور میں ] [ اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کا سب سے پہلا ہوں ] ج ل و : (ن) ۔ جلوا ۔ کسی چیز کو آشکارا کرنا ۔ نمایاں کرنا۔ جلاء ۔ کسی کو شہر سے نکالنا ۔ جلا وطن کرنا۔ ولولا ان کتب اللہ علیہم الجلاء لعذبہم فی الدنیا [ اگر نہ ہوتا کہ لکھا اللہ نے ان پر جلا وطن کرنا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا میں ] 59: 3 ۔ تفعیل ۔ تجلیۃ ۔ کسی چیز کو خوب روشن کرنا ۔ والنھار اذا جلھا [ قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن کردے اس کو ] 91: 3 ۔ تفعل ۔ تجل ۔ خوب روشن ہونا ۔ جلوہ افروز ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 143 ۔ د ک ک ـ: (ن) دکا۔ کسی چیز کو کوٹ کر ریزہ ریزہ کرنا ۔ وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ [ اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ پھر دونوں کو کوٹ کر ہموار کیا جائے گا ۔ یکبارگی ہموار کرنا ] 69:14 ۔ دک ، اسم ذات بھی ہے ہموار زمین۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 143 ۔ دکاء ۔ نرم مٹی کا ٹیلہ ۔ فاذا جاء وعد ربی جعلہ دکاء [ پھر جب آئے گا میرے رب کا وعدہ تو وہ بنا دے گا اس کو ایک نرم مٹی کا ٹیلہ ] 18: 98 خ ر ر : (ض) ۔ خرا ، بلندی سے پستی میں گرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 143 ۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"

[ قَالَ : (اللہ نے ) کہا ] [ يٰمُوْسٰٓي : اے موسیٰ ] [ اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ : میں نے ترجیح دی تجھ کو ] [ عَلَي النَّاسِ : لوگوں پر ] [ بِرِسٰلٰتِيْ : اپنے پیغام کے لیے ] [ وَبِكَلَامِيْ : اور اپنے کلام کے لیے ] [ ڮ فَخُذْ : پس تو پکڑ ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتَيْتُكَ : میں نے جو دیا تجھ کو ] [ وَكُنْ : اور تو ہوجا ] [ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ : شکر کرنے والوں میں سے ]
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: "اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا

[ وَكَتَبْنَا : اور ہم نے لکھا ] [ لَهٗ : اس کے لیے ] [ فِي الْاَلْوَاحِ : تختیوں پر ] [ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ : سب چیزوں میں سے ] [ مَّوْعِظَةً : نصیحت ہوتے ہوئے ] [ وَّتَفْصِيْلًا : اور تفصیل ہوتے ہوئے ] [ لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ : ہر چیز کے لیے ] [ فَخُذْهَا : پس تو پکڑ اس کو ] [ بِقُوَّةٍ : قوت سے ] [ وَّاْمُرْ : اور تو حکم دے ] [ قَوْمَكَ : اپنی قوم کو ] [ يَاْخُذُوْا : کہ وہ لوگ پکڑیں ] [ بِاَحْسَنِهَا ۭ : اس کے بہترین کو ] [ سَاُورِيْكُمْ : میں دکھاؤں گا تم لوگوں کو ] [ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والوں کا گھر ] ل وح : ۔ لوحا ، کسی چیز کا نمایاں ہونا۔ لوحا ۔ گرم ہونا ۔ پیاسا ہونا ۔ لوح ۔ ج، الواح ، اسم ذات بھی ہے ۔ ہر چوڑی چیز جیسے لکھنے کی تختی ، کشتی کے تختے وغیرہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 145 ۔ اور بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ [ بلکہ وہ قرآن مجید ہے ایک محفوظ تختی میں ] 85:21 ۔ 22 ۔ وحملنہ علی ذات الواح ودسر [ اور ہم نے کیا اس کو کچھ تختوں اور کیلوں والی پر ] 54 :13 ۔ لواح ۔ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بہت گرم ہونے والا ۔ جھلسنے والا ۔ لواحۃ للبشر [ جھلسنے والی ہے کھال کو ] 74:29 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 145) فعل امر ، وامر کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یاخذوا مجزوم ہوا ہے ۔ اور بکم میں واو زائدہ ہے اور قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 145 میں باحسنھا سے مراد احکام الہی کا وہ صاف اور سیدھا مفہوم ہے جو عقل عام سے ہر وہ شخص سمجھ لے گا جس کی نیت میں فساد اور دل میں کجی نہ ہو ۔ اور دار الفسقین دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ ان قوموں کے آثار قدیمہ پر سے گزروگے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور اطاعت سے منہ موڑا ۔ انہیں دیکھ کر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ایسی روش اختیار کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیٹرھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے

[ سَاَصْرِفُ : میں پھیر دوں گا ] [ عَنْ اٰيٰتِيَ : اپنی نشانیوں سے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] [ يَتَكَبَّرُوْنَ : بڑے بنتے ہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ : حق کے بغیر ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّرَوْا : وہ لوگ دیکھیں ] [ كُلَّ اٰيَةٍ : ساری نشانیاں ] [ لَّا يُؤْمِنُوْا : تو (بھی ) ایمان نہیں لائیں گے ] [ بِهَا ۚ : ان پر ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّرَوْا : وہ دیکھیں ] [ سَبِيْلَ الرُّشْدِ : ہدایت کے راستے کو ] [ لَا يَتَّخِذُوْهُ : تو نہیں پکڑیں گے اس کو ] [ سَبِيْلًا ۚ : بطور راستے کے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّرَوْا : وہ دیکھیں ] [ سَبِيْلَ الْغَيِّ : گمراہی کے راستے کو ] [ يَتَّخِذُوْهُ : تو پکڑیں گے اس کو ] [ سَبِيْلًا ۭ: بطور راستے کے ] [ ذٰلِكَ : یہ ہے ] [ بِاَنَّهُمْ : بسبب اس کے کہ انہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ وَكَانُوْا : اور وہ لوگ تھے ] [ عَنْهَا : ان سے ] [ غٰفِلِيْنَ : غفلت برتنے والے ]
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے کیا لوگ اِس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟"

[ وَالَّذِيْنَ : اور جنہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ وَلِقَاۗءِ الْاٰخِرَةِ : اور آخرت کی ملاقات کو ] [ حَبِطَتْ : اکارت ہوئے ] [ اَعْمَالُهُمْ ۭ : ان کے اعمال ] [ هَلْ يُجْزَوْنَ : انہیں کیا بدلہ دیا جائے گا ] [ اِلَّا : سوائے اس کے ] [ مَا : جو ] [ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کرتے تھے ] (آیت ۔ 147) بایتنا کی ب پر عطف ہونے کی وجہ سے لقاء حالت جر میں آیا ہے ۔ نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 147 میں حبط اعمال کا مطلب ہے کہ اعمال ضائع ہوگئے ، بار آور نہ ہوئے اور لاحاصل رہے۔ (یعنی زندگی میں اگر کچھ نیکیاں کی بھی تھیں تو آخرت میں ان کا کوئی اجر و ثواب نہیں ملا ۔ مرتب ) اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانی سعی وعمل کے بار آور ہونے کا انحصار کلیتا دو امور پر ہے ۔ ایک یہ کہ وہ سعی وعمل اللہ کے قانون شرعی کی پابندی میں ہو ۔ دوسرے یہ کہ اس سعی وعمل میں دنیا کے بجائے آخرت کی کامیابی پیش نظر ہو ۔ یہ دو شرطیں جہاں پوری نہ ہوں گی وہاں لازما حبط عمل واقع ہوگا ۔ جس نے اللہ کی ہدایت سے منہ موڑ کر ، باغیانہ انداز میں دنیا میں کام کیا ، ظاہر ہے کہ وہ اللہ سے کسی اجر کی توقع رکھنے کا حقدار نہیں ہوسکتا ۔ اور جس نے سب کچھ دنیا ہی کے لیے کیا اور آخرت کے لیے کچھ نہ کیا وہ کس طرح آخرت میں پھل پائے گا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے

[ وَاتَّخَذَ : اور بنایا ] [ قَوْمُ مُوْسٰي : موسیٰ کی قوم نے ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : ان کے بعد ] [ مِنْ حُلِيِّهِمْ : اپنے زیورات سے ] [ عِجْلًا : ایک بچھڑا ] [ جَسَدًا : جو ایک ڈھانچا تھا ] [ لَّهٗ : اس کے لیے ] [ خُوَارٌ ۭ : گائے کی ایک آواز تھی ] [ اَلَمْ يَرَوْا : کیا انہوں نے دیکھا ہی نہیں ] [ اَنَّهٗ : کہ وہ ] [ لَا يُكَلِّمُهُمْ : کلام نہیں کرتا ان سے ] [ وَلَا يَهْدِيْهِمْ : اور نہ ہی وہ ہدایت دیتا ہے ان کو ] [ سَبِيْلًا ۘ : کسی راستے کی ] [ اِتَّخَذُوْهُ : انہوں نے بنایا اس کو (الہ) ] [ وَكَانُوْا : اور وہ لوگ تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ] ح ل ی : (س) ۔ حلیا ۔ عورت کا زیور پہننا ۔ حلیۃ ، ج : حلی ۔ زیور ۔ وتستخرجوا منہ حلیۃ [ اور تاکہ تم لوگ نکالواس سے کوئی زیور ] 16:14 ۔ اور زیر مطالعہ آیت ۔ 148 ۔ (تفعیل ) تحلیۃ ۔ زیور پہنانا ۔ آراستہ کرنا ۔ یحلون فیھا من اساور من ذھب [ وہ لوگ آراستہ کیے جائیں گے اس میں سونے کے ، کنگنوں سے ] 18:31 ۔ ج س د : (س) ۔ جسدا ، خون کا چپکنا ۔ چمٹنا ۔ جسد ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ بےجان جسم ۔ دھڑ ۔ ڈھانچا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 148 ۔ خ و ر : (ن) خوار ۔ گائے کا ڈکارنا ۔ آواز کرنا ۔ خوار۔ اسم ذات بھی ہے ۔ گائے کی آواز ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 148 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 148) واتخذ کا فاعل قوم موسیٰ ہے ۔ اس کا مفعول عجلا ہے ۔ جبکہ جسدا بدل ہے عجلا کا ۔ خوار مبتدا مؤخر نکرہ ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور لہ قائم مقام خبر مقدم ہے ۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اُنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ "اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے"

[ وَلَمَّا : اور جب ] [ سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ : وہ لوگ پچھتائے ] [ وَرَاَوْا : اور انہوں نے دیکھا ] [ اَنَّهُمْ : کہ وہ ] [ قَدْ ضَلُّوْا ۙ : گمراہ ہوگئے ہیں ] [ قَالُوْا : تو انہوں نے کہا ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [ لَّمْ يَرْحَمْنَا : رحم نہ کیا ہم نے ] [ رَبُّنَا : ہمارے رب نے ] [ وَيَغْفِرْ لَنَا : اور نہ بخشا ہم کو ] [ لَنَكُوْنَنَّ : تو ہم لازما ہوجائیں گے ] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ]
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا "بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟" اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا "اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر"

[ وَلَمَّا : اور جب ] [ رَجَعَ : لوٹے ] [ مُوْسٰٓي : موسیٰ ] [ اِلٰى قَوْمِهٖ : اپنی قوم کی طرف ] [ غَضْبَانَ : غضبناک ہوتے ہوئے ] [ اَسِفًا ۙ : غمگین ہوتے ہوئے ] [ قَالَ : تو انہوں نے کہا ] [ بِئْسَمَا : کتنی بری ہے وہ جو ] [ خَلَفْتُمُوْنِيْ : تم لوگوں نے جانشینی کی میری ] [ مِنْۢ بَعْدِيْ ۚ : میرے بعد ] [ اَ : کیا ] [ عَجِلْتُمْ : جلدبازی کی تم لوگوں نے ] [ اَمْرَ رَبِّكُمْ ۚ : اپنے رب کے حکم سے (پہلے) ] [ وَاَلْقَى: اور انہوں نے ڈالا ] [ الْاَلْوَاحَ : تختیوں کو ] [ وَاَخَذَ : اور پکڑا ] [ بِرَاْسِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے سر کو ] [ يَجُرُّهٗٓ: کھینچتے ہوئے اس کو ] [ اِلَيْهِ ۭ : اپنی طرف ] [ قَالَ : (ہارون نے ) کہا ] [ ابْنَ اُمَّ : اے میری ماں کے بیٹے ] [ اِنَّ الْقَوْمَ : بیشک قوم نے ] [ اسْتَضْعَفُوْنِيْ : کمزور سمجھا مجھ کو ] [ وَكَادُوْا : اور قریب تھا کہ وہ لوگ ] [ يَقْتُلُوْنَنِيْ ڮ : قتل کرتے مجھ کو ] [ فَلَا تُشْمِتْ : پس تو خوش مت کر ] [ بِيَ : مجھ سے ] [ الْاَعْدَاۗءَ : دشمنوں کو ] [ وَلَا تَجْعَلْنِيْ : اور تو مت بنا مجھ کو ] [ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے لوگوں کے ساتھ ] ء س: (س) ۔ اسفا ، افسوس کرنا ۔ غمگین ہونا ۔ اسف ۔ صفت ہے۔ افسوسناک ۔ غمگین ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 150 ۔ اسف ۔ اسم ذات ہے ۔ افسوس ۔ غم ۔ یاسفی علی یوسف [ اے میرا افسوس ! یوسف (کی جدائی ) پر ] 12:84 ۔ (افعال) ایسافا ۔ غمگین کرنا ۔ غصہ دلانا ۔ فلما اسفونا انتقمنا منہم [ پھر جب انہوں نے غصہ دلایا ہم کو تو ہم نے انتقام لیا ان سے ] 43: 55 ۔ ج ر ر : (ن) جرا ، کھینچنا ۔ گھسیٹنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 150 ۔ ش م ت : (س) شماتا ۔ کسی کو مصیبت پر خوش ہونا۔ (افعال ) اشماتا ۔ کسی کو تکلیف دے کر دوسروں کو خوش کرنا ۔ دشمن کو خوش کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 150 ۔ (آیت ۔ 150) جب منادی کے طور پر آتا ہے تو ابن ام ایک لفظ کے طور پر آتا ہے اس لیے ام پر بھی نصب آئی ہے۔ اس کا مضاف الیہ یائے متکلم ہے جو گری ہوئی ہے ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 150 ۔ میں ایک بہت بڑے الزام سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بری کیا گیا ہے ۔ جو یہودیوں نے ان پر لگایا ہے ۔ ہائبل میں ہے کہ بنی اسرائیل کی فرمائش پر حضرت ہارون (علیہ السلام) نے سونے کا ایک بچھڑا بنا کردیا اور اس کے لیے قربان گاہ بنائی ۔ ( خروج ۔ باب 32 ۔ آیت ۔ 1 ۔ 6) یہ عجیب بات ہے کہ بنی اسرائیل جن کو اللہ کا پیغمبر مانتے ہیں ، ان میں سے کسی کی بھی سیرت کو انہوں نے داغدار کیے بغیر نہیں چھوڑا ، اور الزام بھی ایسے سخت لگائے جو اخلاق و شریعت کی نگاہ میں بدترین جرائم شمار ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قوم جب اخلاقی پستیوں میں گری اور ان کے علماء ومشائخ بھی ان میں ملوث ہوئے، تو انہوں نے ان تمام جرائم کو انبیاء کی طرف منسوب کرڈالا ۔ جن کا وہ خود ارتکاب کرتے تھے، تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب نبی تک ان چیزوں سے نہ بچ تو پھر کون بچ سکتا ہے ، اس معاملہ میں یہودیوں کا حال ہندوؤں سے ملتا جلتا ہے ۔ انہوں نے بھی اپنے دیوتاؤں اور اوتاروں کی زندگیاں بداخلاقی کے افسانوں سے سیاہ کی ہوئی ہیں تاکہ پنڈتوں اور پروہتوں کی اخلاقی پستیوں کا جواز رہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب موسیٰؑ نے کہا "اے رب، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے"

[ قَالَ : (موسی نے ) کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ اغْفِرْ لِيْ : تو بخش دے مجھ کو ] [ وَلِاَخِيْ : اور میرے بھائی کو ] [ وَاَدْخِلْنَا : اور تو داخل کر ہم دونوں کو ] [ فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ : اپنی رحمت میں ] [ وَاَنْتَ : اور تو ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(جواب میں ارشاد ہوا کہ) "جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے ] [ اتَّخَذُوا : بنایا ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الہ ) ] [ سَيَنَالُهُمْ : ان کو پہنچے گا ] [ غَضَبٌ: ایک غضب ] [ مِّنْ رَّبِّهِمْ : ان کے رب (کی طرف) سے ] [ وَذِلَّةٌ: اور کچھ ذلت ] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی میں ] [ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نَجْزِي : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [ الْمُفْتَرِيْنَ : گھڑنے والوں کو ]
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے"

[ وَالَّذِيْنَ : اور جنھوں نے ] [ عَمِلُوا : عمل کیے ] [ السَّيِّاٰتِ : برائیوں کے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ تَابُوْا : انہوں نے توبہ کی ] [ مِنْۢ بَعْدِهَا : ان کے بعد ] [ وَاٰمَنُوْٓا ۡ : اور ایمان لائے ] [ اِنَّ : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ کا رب ] [ مِنْۢ بَعْدِهَا : اس کے بعد (یعنی باوجود )] [ لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رھم کرنے والا ہے ]
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

پھر جب موسیٰؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

[ وَلَمَّا : اور جب ] [ سَكَتَ : تھم گیا ] [ عَنْ مُّوْسَى: موسیٰ سے ] [ الْغَضَبُ : غصہ ] [ اَخَذَ : تو انہوں نے پکڑا ] [ الْاَلْوَاحَ ښ : تختیوں کو ] [ وَفِيْ نُسْخَتِهَا : اور ان کی تحریر میں ] [ هُدًى: ہدایت تھی ] [ وَّرَحْمَةٌ: اور رحمت تھی ] [ لِّلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ هُمْ لِرَبِّهِمْ : اپنے رب سے ہی ] [ يَرْهَبُوْنَ : ڈرتے ہیں ] س ک ت : (ن) سکتا ۔ تھم جانا ۔ ساکت ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 154 ۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور اُس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰؑ نے عرض کیا "اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں

[ وَاخْتَارَ : اور چنا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ قَوْمَهٗ : اپنی قوم سے ] [ سَبْعِيْنَ رَجُلًا : ستر مرد ] [ لِّمِيْقَاتِنَا ۚ : ہماری مقرر کردہ جگہ کے لیے ] [ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اَخَذَتْهُمُ : پکڑا ان کو ] [ الرَّجْفَةُ : زلزلے نے ] [ قَالَ : تو ( موسیٰ نے ) کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ لَوْ شِئْتَ : اگر تو چاہتا تو ] [ اَهْلَكْتَهُمْ : تو ہلاک کردیتا ان کو ] [ مِّنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَاِيَّايَ ۭ : اور مجھ کو بھی ] [ اَ : کیا ] [ تُهْلِكُنَا : تو ہلاک کرتا ہے ہم کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَعَلَ : کیا ] [ السُّفَهَاۗءُ : بیوقوفوں نے ] [ مِنَّا ۚ : ہم میں سے ] [ اِنْ : نہیں ہے ] [ هِىَ : یہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ فِتْنَتُكَ ۭ : تیری آزمائش ] [ تُضِلُّ : تو بھٹکاتا ہے ] [ بِهَا : اس سے ] [ مَنْ : اس کو ، جس کو ] [ تَشَاۗءُ : تو چاہتا ہے ] [ وَتَهْدِيْ : اور تو ہدایت دیتا ہے (اس سے )] [ مَنْ : اس کو ، جس کو ] [ تَشَاۗءُ : تو چاہتا ہے ] [ اَنْتَ : تو ] [ وَلِيُّنَا : ہمارا کارساز ہے ] [ فَاغْفِرْ لَنَا : پس تو بخش دے ہم کو ] [ وَارْحَمْنَا : اور تو رحم کر ہم پر ] [ وَاَنْتَ : اور تو ] [ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ : بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 155) اختار کا مفعول قومہ ہے ، جبکہ سبعین رجلا اس کا بدل البعض ہے ۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا" جواب میں ارشاد ہوا "سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے"

[ وَاكْتُبْ : اور تو لکھ دے ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا : اس دنیا میں ] [ حَسَـنَةً : بھلائی ] [ وَّفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں (بھی ) ] [ اِنَّا هُدْنَآ : بیشک ہم نے رجوع کیا ] [ اِلَيْكَ ۭ : تیری طرف ] [ قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا ] [ عَذَابِيْٓ: میرا عذاب ] [ اُصِيْبُ : میں پہنچتا ہوں ] [ بِهٖ : اس کے ساتھ ] [ مَنْ : جس پر ] [ اَشَاۗءُ ۚ : میں چاہتا ہوں ] [ وَرَحْمَتِيْ : اور میری رحمت ] [ وَسِعَتْ : وہ وسیع ہوئی ] [ كُلَّ شَيْءٍ ۭ : ہر چیز پر ] [ فَسَاَكْتُبُهَا : پس میں لکھوں گا اس کو ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ يَتَّقُوْنَ : تقوی کرتے ہیں ] [ وَيُؤْتُوْنَ : اور پہنچاتے ہیں ] [ الزَّكٰوةَ : زکوٰۃ کو ] [ وَالَّذِيْنَ : او وہ ، جو ] [ هُمْ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں پر ہی ] [ يُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ]
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں

[ اَلَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يَتَّبِعُوْنَ : پیروی کرتے ہیں ] [ الرَّسُوْلَ : ان رسول کی ] [ النَّبِيَّ : جو نبی ہیں ] [ الْاُمِّيَّ : امی ہیں ] [ الَّذِيْ : وہ ] [ يَجِدُوْنَهٗ : یہ لوگ پاتے ہیں جن کو ] [ مَكْتُوْبًا : لکھا ہوا ] [ عِنْدَهُمْ : اپنے پاس ] [ فِي التَّوْرٰىةِ : تورات میں ] [ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ : اور انجیل میں ] [ يَاْمُرُهُمْ : وہ حکم دیتے ہیں ان کو ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : نیکی کا ] [ وَيَنْهٰىهُمْ : اور منع کرتے ہیں ان کو ] [ عَنِ الْمُنْكَرِ : برائی سے ] [ وَيُحِلُّ : اور وہ حلال کرتے ہیں ] [ لَهُمُ : ان کے لیے ] [ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ (چیزوں ) کو ] [ وَيُحَرِّمُ : اور حرام کرتے ہیں ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الْخَـبٰۗىِٕثَ : ناپاک (چیزوں ) کو ] [ وَيَضَعُ : اور اتارتے ہیں ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ اِصْرَهُمْ : ان کے بوجھ کو ] [ وَالْاَغْلٰلَ : اور ان طوقوں کو ] [ الَّتِيْ : جو کہ ] [ كَانَتْ : تھے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ ۭفَالَّذِيْنَ : پس جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ بِهٖ : ان پر ] [ وَعَزَّرُوْهُ : اور تقویت دی ان کو ] [ وَنَصَرُوْهُ : اور مدد کی ان کی ] [ وَاتَّبَعُوا : اور پیروی کی ] [ النُّوْرَ : اس نور کی ] [ الَّذِيْٓ: جو کہ ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مَعَهٗٓ ۙ : ان کے ساتھ ] [ اُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : ہی مراد پانے والے ہیں ] (آیت ۔ 157) النبی اور الامی یہ دونوں الرسول کی صفت ہیں لیکن ترجمہ بدل کے طور پر بہتر ہوگا ۔ نوٹ ۔ 1: آیت نمبر ۔ 157 ۔ میں فلاح پانے کے لیے چار شرطین ذکر کی گئی ہیں ۔ اول رسول اللہ ﷺ پر ایمان ۔ دوم آپ کی تکریم ۔ سوم آپ کی امداد ۔ چہارم قرآن کی اتباع ۔ زمانہ نبوت میں تو یہ تائید ونصرت آپ کی ذات کے متعلق تھی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے دین کی تائید ونصرت ہی رسول اللہ ﷺ کی تائید ونصرت ہے ۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آیت کے شروع میں النبی الامی کی اتباع کا ذکر ہے اور آیت کے آخر میں اس نور کی اتباع کا ذکر ہے جو آپ کے ساتھ اتارا گیا یعنی قرآن مجید ۔ اس سے ثابت ہوا کہ نجات آخرت قرآن وسنت دونوں کے اتباع پر موقوف ہے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

اے محمدؐ، کہو کہ "اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اُس کی، امید ہے کہ تم راہ راست پا لو گے"

[ قُلْ : آپ کہئے ] [ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ اِنِّىْ : بیشک میں ] [ رَسُوْلُ اللّٰهِ : اللہ کا رسول ہوں ] [ اِلَيْكُمْ : تم لوگوں کی طرف ] [ جَمِيْعَۨا : سب کی طرف ] [ الَّذِيْ : اس (اللہ ) کا ] [ لَهٗ : جس کی ہی ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ : زمین اور آسمانوں کی حکومت ہے ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی الہ نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [ هُوَ : وہی ] [ يُـحْيٖ : وہ زندگی دیتا ہے ] [ وَيُمِيْتُ ۠ : اور وہ (ہی ) موت دیتا ہے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم لوگ ایمان لاؤ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَرَسُوْلِهِ : اور اس کے رسول پر ] [ النَّبِيِّ : جو نبی ہیں ] [ الْاُمِّيِّ : امی ہیں ] [ الَّذِيْ : جو ] [ يُؤْمِنُ : ایمان رکھتے ہیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَكَلِمٰتِهٖ : اور اس کے فرمانوں پر ] [ وَاتَّبِعُوْهُ : اور تم لوگ پیروی کرو ان کی ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد کہ تم لوگ ] [ تَهْتَدُوْنَ : ہدایت پاؤ] نوٹ ۔ 1ـ : آیت ۔ 158 ۔ اس بات کی دلیل ہے کہ نبوت رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی اور آپ قیامت تک ساری دنیا کے پیغمبر ہیں ۔ غزوہ تبوک میں آپ تہجد کی نماز کے لیے اٹھے تو کچھ صحابہ کرام آپ کی حفاظت کرنے لگے ۔ نماز کے بعد آپ نے فرمایا کہ پانچ چیزیں خصوصیت کے ساتھ مجھے دی گئی ہیں ۔ مجھ سے پہلے یہ رعایتیں کسی دوسرے پیغمبر کو نہیں دی گئیں ۔ (1) میں دنیا جہان کے لوگوں کی طرف پیغمبر بن کر آیا ہوں ۔ اس سے پہلے کوئی رسول صرف اپنی قوم کی طرف ہی رسول ہو کر آتا رہا ہے ۔ (2) مجھے صرف رعب سے ہی دشمن پر نصرت حاصل ہوجاتی ہے ۔ (3) مال غنیمت میرے اور میری امت کے لیے حلال کردیا گیا ۔ مجھ سے پہلے مال غنیمت کھانا گناہ کبیرہ تھا۔ (4) ساری زمین میرے لیے پاک ہے اور مسجد ہے ۔ جہاں کہیں نماز کا وقت آیا اسی مٹی سے مسح یعنی تیمم کیا اور اسی مٹی پر نماز پڑھ لی۔ مجھے سے پہلے لوگ صرف اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرتے تھے ۔ (5) مجھ سے کہا گیا کہ ایک درخواست کی اجازت ہے ، مانگ لو ۔ میں نے اپنا سوال یوم قیامت پر اٹھا رکھا ہے ۔ وہ تمہارے لیے ہے اور قائل توحید کے لیے ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی یہودی یا نصرانی نے میری امت سے میرے آنے کی خبر سن لی مگر مجھ پر ایمان نہیں لایا تو وہ جنت میں نہیں جاسکتا ۔ (ابن کثیر )
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

موسیٰؑ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا

[ وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي : اور موسیٰ کی قوم میں سے ] [ اُمَّةٌ: ایک ایسا گروہ ہے ] [ يَّهْدُوْنَ : جو ہدایت دیتا ہے ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَبِهٖ : اور اس کے ساتھ ] [ يَعْدِلُوْنَ : عدل کرتا ہے ]
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کر کے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی اور جب موسیٰؑ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو چنانچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلویٰ اتارا کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے

[ وَقَطَّعْنٰهُمُ : اور ہم نے تقسیم کیا ان کو ] [ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ : بارہ (قبیلوں ) میں ] [ اَسْبَاطًا : نسلیں ہوتے ہوئے ] [ اُمَمًا ۭ : گروہ در گروہ ہوتے ہوئے ] [ وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰي مُوْسٰٓي : موسیٰ کی طرف ] [ اِذِ : جب ] [ اسْتَسْقٰىهُ : پانی مانگا ان سے ] [ قَوْمُهٗٓ: ان کی قوم نے ] [ اَنِ : کہ ] [ اضْرِبْ : آپ ماریے ] [ بِّعَصَاكَ : اپنی لاٹھی سے ] [ الْحَجَرَ ۚ : اس پتھر کو ] [ فَانْۢبَجَسَتْ : تو پھوٹ بہے ] [ مِنْهُ : اس سے ] [ اثْنَتَا عَشْرَةَ : بارہ ] [ عَيْنًا ۭ: چشمے ] [ قَدْ عَلِمَ : جان لیا ] [ كُلُّ اُنَاسٍ : سب لوگ نے (یعنی قبیلہ ) ] [ مَّشْرَبَهُمْ : اپنی پینے کی جگہ کو ] [ ۭوَظَلَّلْنَا : اور ہم نے سایہ کیا ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الْغَمَامَ : بادل کا ] [ وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭ: من وسلوی ] [ كُلُوْا : کھاؤ] [ مِنْ طَيِّبٰتِ مَا : اسکی پاکیزہ (چیزوں) میں سے جو ] [ رَزَقْنٰكُمْ ۭ: ہم نے عطا کیا تم کو ] [ وَمَا ظَلَمُوْنَا : اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ )] [ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ ظلم کرتے تھے آپنے آپ پر ] ب ج س : (ن ، ض) بجسا ۔ زخم چیر نا ۔ کسی تنگ جگہ سے پانی جاری کرنا ۔ (انفعال ) انبجاسا۔ کسی تنگ جگہ سے پانی جاری ہونا ۔ پھوٹ بہنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 160 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 160) قطعنا کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے اثنتی عشرۃ حالت نصب میں آیا ہے ۔ اسباطا اور امما اس کے معدود یعنی تمیز نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ جمع کے الفاظ ہیں ۔ اس لیے اثنتی عشرۃ کا معدود محذوف ہے ۔ جو کہ قبیلۃ ہوسکتا ہے ۔ جبکہ اسباطا اور امما حال ہیں ۔ (آیت ۔ 160) انبجست کا فاعل ہونے کی وجہ سے اثنتا عشرۃ حالت رفع میں ہے اور عینا اس کا معدود یعنی تمیز ہے۔