7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے اللہ بہت بلند و برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

[ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اٰتٰىهُمَا : اس نے دیا انہیں ] [ صَالِحًا : ایک نیک (اولاد)] [ جَعَلَا : تو دونوں نے بنایا ] [ لَهٗ : اس کے لیے ] [ شُرَكَاۗءَ : کچھ شریک ] [ فِيْمَآ : اس میں جو ] [ اٰتٰىهُمَا ۚ : اس نے دیا ان کو ] [ فَتَعٰلَى: تو بلند ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ عَمَّا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک بناتے ہیں ] نوٹ ۔ 2ـ : آیت نمبر ۔ 189 ۔ 190 میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ نوح انسانی کا پہلا جوڑا ، جس سے آفرنیش کی ابتدا ہوئی ، اس کا خالق بھی اللہ ہی تھا ، کوئی دوسرا اس کار تخلیق میں شریک نہیں تھا ۔ پھر ہر مرد وعورت کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے ، اس کا خالق بھی اللہ ہی ہے ۔ اس کا اقرار تمہارے دلوں میں موجود ہے۔ اسی لیے امید وبیم کی حالت میں جب دعا مانگتے ہو تو اللہ ہی سے مانگتے ہو ۔ پھر جب امیدیں پوری ہوجاتی ہیں تو تمہیں شریک کی سوجھتی ہے ۔ یہاں ایک اور بات قابل توجہ ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عرب کے مشرکین کی مذمت کی ہے ۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اولاد تو اللہ سے ہی مانگتے تھے مگر جب بچہ پیدا ہوجاتا تو اللہ کے شکرانے میں دوسروں کو حصہ دار ٹھہرا لیتے تھے ۔ لیکن ہم لوگ اولاد بھی غیروں سے مانگتے ہیں ۔ منتیں بھی غیروں کے نام کی ہی مانتے ہیں اور نیاز بھی ان ہی کے آستانوں پر چڑھاتے ہیں ۔ پھر بھی موحد ہی رہتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں

[ اَيُشْرِكُوْنَ : کیا یہ لوگ شریک بناتے ہیں ] [ مَا : اس کو جو ] [ لَا يَخْلُقُ : تخلیق نہیں کرتا ہے ] [ شَـيْــــًٔـا : کوئی چیز ] [ وَّهُمْ : اور وہ (خود بھی ) ] [ يُخْلَقُوْنَ : پیدا کیے جاتے ہیں ]
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

[ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : اور وہ لوگ استطاعت نہیں رکھتے ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ نَصْرًا : کسی مدد کی ] [ وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ : اور نہ ہی اپنے آپ کی ] [ يَنْصُرُوْنَ : وہ لوگ مدد کرتے ہیں ]
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَدْعُوْهُمْ : تم لوگ پکارو گے ان کو ] [ اِلَى الْهُدٰى: ہدایت کی طرف ] [ لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ: تو وہ پیروی نہیں کریں گے تمہاری ] [ سَوَاۗءٌ: برابر ہے ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ : خواہ تم لوگ پکاروان کو ] [ اَمْ : یا ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ صَامِتُوْنَ : خاموش رہنے والے ہو ] ص م ت ۔ (ن) : صمتا ۔ خاموش رہنا ۔ صامت ۔ اسم الفاعل ہے۔ خاموش رہنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 193 ۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جن کو ] [ تَدْعُوْنَ : تم لوگ پکارتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ عِبَادٌ: (وہ ) بندے ہیں ] [ اَمْثَالُكُمْ : تمہارے جیسے ] [ فَادْعُوْهُمْ : پس تم لوگ (ذرا) پکارو تو ان کو ] [ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا : تو انہیں چاہیے کہ وہ جواب دیں ] [ لَكُمْ : تم کو ] [ اِنْ : اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ] اسی طرح سے آیت ۔ 194 میں فعل امر فادعوہم بھی جمع کا صیغہ ہے ۔ یہ ادعوا تھا ۔ ضمیر مفعولی آنی کی وجہ سے الف گرا ہوا ہے۔ نوٹ۔ 3: آیت ۔ 196 میں بتایا گیا ہے کہ انبیاء کرام کی تو بڑی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ تو عام صالح اور نیک مسلمانوں کا بھی کار ساز اور مددگار ہوتا ہے ۔ اس لیے مخالفین کی مخالفت اسے نقصان نہیں پہنچا پاتی ۔ اور اگر کبھی بتقاضائے حکمت اس کو کوئی نقصان پہنچ بھی جائے تو بھی اس کے اصل مقصد میں کوئی خلل نہیں پڑتا ۔ مومن صالح کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہے۔ اگر وہ دنیا میں کسی وجہ سے ناکام بھی ہوجائے تو بھی رضائے الہی کا اصل مقصد اسے حاصل ہوجاتا ہے۔ (معارف القرآن ) امام حسین ؓ کا مقصد اگر خلافت کا حصول تھا تو اس میں تو وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ ان کا مقصد نہیں تھا ۔ ان کا مقصد تو بس ایک تھا ۔ اللہ کی رضا جوئی اور اس پر استقامت ۔ اس مقصد کے حصول میں وہ ایسا کامیاب ہوئے کہ دنیا تو دنیا ، فرشتے بھی حیرت سے تکتے ہی رہ گئے ۔ شہادت ہے مقصودو مطلوب مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "بلا لو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو

[ اَ : کیا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَرْجُلٌ: پیر ہیں ] [ يَّمْشُوْنَ : وہ چلتے ہیں ] [ بِهَآ ۡ : جن سے ] [ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَيْدٍ : ہاتھ ہیں ] [ يَّبْطِشُوْنَ : وہ پکڑتے ہیں ] [ بِهَآ ۡ : جن سے ] [ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَعْيُنٌ: آنکھیں ہیں ] [ يُّبْصِرُوْنَ : وہ دیکھتے ہیں ] [ بِهَآ ۡ : جن سے ] [ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اٰذَانٌ: کان ہیں ] [ يَّسْمَعُوْنَ : وہ سنتے ہیں ] [ بِهَا : جن سے ] [ ۭقُلِ : آپ کہہ دیجیے ] [ ادْعُوْا : تم لوگ پکارو ] [ شُرَكَاۗءَكُمْ : اپنے شریکوں کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [ كِيْدُوْنِ : تدبیر کرو میرے خلاف ] [ فَلَا تُنْظِرُوْنِ : پھر تم لوگ مہلت نہ دو مجھ کو ] ب ط ش ۔ (ن) : بطشا ۔ پکڑنا ۔ گرفت کرنا زیر مطالعہ آیت ۔ 195 ۔ بطش ، اسم ذات بھی ہے ، پکڑ ، گرفت ۔ ان بطش ربک لشدید [ بیشک آپ کے رب کی پکڑ یقینا شدید ہے ] 85: 12 ۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے

اِنَّ : بیشک ] [ وَلِيّۦ : میرے کارساز ] [ اللّٰهُ الَّذِيْ : وہ اللہ ہے جس نے ] [ نَزَّلَ : اتارا ] [ الْكِتٰبَ ڮ : کتاب کو ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ يَتَوَلَّى: دوست رکھتا ہے ] [ الصّٰلِحِيْنَ : نیک لوگوں کو ] (آیت ۔ 196) ولیے قرآن کا خصوصی املا ہے ۔ یہ دراصل ولی ہے یعنی ولی پر مضاف الیہ کے طور پر یائے متکلم لگی ہوئی ہے۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

بخلاف اِس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں

[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ تَدْعُوْنَ : تم لوگ پکارتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : وہ استطاعت نہیں رکھتے ] [ نَصْرَكُمْ : تمہاری مدد کی ] [ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ : اور نہ ہی اپنے آپ کی ] [ يَنْصُرُوْنَ : وہ مدد کرتے ہیں ]
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے"

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَدْعُوْهُمْ : تم لوگ پکاروان کو ] [ اِلَى الْهُدٰى: ہدایت کی طرف ] [ لَا يَسْمَعُوْا : تو وہ لوگ نہیں سنتے ] [ ۭوَتَرٰىهُمْ : اور آپ دیکھتے ہیں ان کو ] [ يَنْظُرُوْنَ : (کہ ) وہ تکتے ہیں ] [ اِلَيْكَ : آپ کی طرف ] وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يُبْصِرُوْنَ : دیکھ کر سمجھتے نہیں ہیں ]
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو

[ خُذِ : آپ پکڑیں ] [ الْعَفْوَ : درگزر کو ] [ وَاْمُرْ : اور حکم دیں ] [ بِالْعُرْفِ : نیکی کا ] [ وَاَعْرِضْ : اور کنارہ کشی کریں ] [ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں سے ] نوٹ ۔ 1: جب آیت نمبر 199 اتری تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس سے کیا مقصد ہوا تو جبریل (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ جو تمہاری ذات پر کوئی زیادتی کرے تو اس کو معاف کردیا کرو ، جو تم کو نہ دے اس کو دو ، جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔ (ابن کثیر ) لفظ عفو کے کئی معنی ہیں اور اس موقع پر ہر معنی کی گنجائش ہے۔ اسی لیے علماء تفسیر نے مختلف معنی لیے ہیں ۔ جمہور مفسرین کی رائے میں اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ آپ اس چیز کو قبول کرلیا کریں جو لوگ آسانی سے کرسکیں یعنی واجبات شرعیہ میں آپ لوگوں سے اعلی معیار کا مطالبہ نہ کریں بلکہ وہ جس پیمانہ پر آسانی سے عمل پیرا ہوسکیں اتنے ہی درجہ کو قبول کرلیاکریں ۔ (معارف القرآن ) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی خدا کے حقوق واجبی میں قصور کرے تو بھی اعراض کرجاؤ یا اللہ سے کفر کرے تو بھی درگزر کردیا مسلمانوں سے لڑے تو بھی خاموش رہو ۔ ایسی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے ۔ (ابن کثیر ) مورخہ 5 محرم الحرام 1425 ھ بمطابق 25 ۔ فروری 2004 ء
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

[ وَاِمَّا : اور اگر ] [ يَنْزَغَنَّكَ : اکسائے ہی آپ کو ] [ مِنَ الشَّيْطٰنِ : شیطان سے ] [ نَزْغٌ: کوئی اکساہٹ ] [ فَاسْتَعِذْ : تو آپ پناہ مانگیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ ۭاِنَّهٗ : یقینا وہ ] [ سَمِيْعٌ: سننے والا ہے ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ] ن ز غ ۔ (ف) : نزغ بگاڑ پیدا کرنا ۔ (1) کسی کو کسی کے خلاف ابھارنا ۔ ناچاقی پیدا کرنا ۔ ان الشیطن ینزغ بینہم [ بیشک شیطان ناچاقی ڈالتا ہے ان کے مابین ] 17: 53 ۔ (2) کسی غلط کام پر اکسانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 200 ۔ نزغ ، اسم ذات بھی ہے ۔ ناچاقی ۔ اکساہٹ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 200 ۔
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے

[ اِنَّ : یقینا ] [ الَّذِيْنَ : جو لوگ ] [ اتَّقَوْا : تقوی کرتے ہیں ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ مَسَّهُمْ : چھوتا ہے ان کو ] [ طٰۗىِٕفٌ: کوئی وسوسہ ] [ مِّنَ الشَّيْطٰنِ : شیطان سے ] [ تَذَكَّرُوْا : تو وہ خود کو یاد کراتے ہیں ] [ فَاِذَا : پھر جب فورا ہی ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ مُّبْصِرُوْنَ : بینا ہونے والے ہوتے ہیں ]
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے

[ وَاِخْوَانُهُمْ : اور ان کے بھائی ] [ يَمُدُّوْنَهُمْ : کھینچتے ہیں ان کو ] [ فِي الْغَيِّ : گمراہی میں ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لَا يُقْصِرُوْنَ : وہ لوگ کمی نہیں کرتے ]
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اے نبیؐ، جب تم اِن لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟ ان سے کہو "میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے قبول کریں

[ وَاِذَا : اور جب ] [ لَمْ تَاْتِهِمْ : آپ نہیں لاتے ان کے پاس ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی آیت ] [ قَالُوْا : تو وہ کہتے ہیں ] [ لَوْلَا : کیوں نہیں ] [ اجْتَبَيْتَهَا ۭ : تصنیف کیا آپ نے اس کو ] [ قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ : میں تو بس پیروی کرتا ہوں ] [ مَا : اس کی جو ] [ يُوْحٰٓى: وحی کیا گیا ] [ اِلَيَّ : میری طرف ] [ مِنْ رَّبِّيْ ۚ : میرے رب سے ] [ هٰذَا : یہ ] [ بَصَاۗىِٕرُ : دلیلیں ہیں ] [ مِنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب کی طرف سے ] [ وَهُدًى: اور ہدایت ہے ] [ وَّرَحْمَةٌ: اور رحمت ہے ] [ لِّقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان رکھتے ہیں ]
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہو جائے"

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قُرِئَ : پڑھا جائے ] [ الْقُرْاٰنُ : قرآن ] [ فَاسْتَمِعُوْا : تم لوگ کان لگا کر سنو ] [ لَهٗ : اس کو ] [ وَاَنْصِتُوْا : اور چپ چاپ سنو ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید تم لوگوں پر ] [ تُرْحَمُوْنَ : رحم کیا جائے ] ن ص ت ۔ (ض) : نصتا ۔ چپ ہوکر سننا ۔ چپ چاپ سننا ۔ انصت ، فعل امر ہے۔ چپ چاپ سن ۔ (افعال ) انصاتا ۔ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 204 ۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اے نبیؐ، اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

[ وَاذْكُرْ : اور آپ یاد رکھیں ] [ رَّبَّكَ : اپنے ربک کو ] [ فِيْ نَفْسِكَ : اپنے جی میں ] [ تَضَرُّعًا : گڑگڑاتے ہوئے ] [ وَّخِيْفَةً : اور ڈرتے ہوئے ] [ وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ : اور نمایاں کیے بغیر ] [ مِنَ الْقَوْلِ : قول میں سے (کچھ ) ] بِالْغُدُوِّ : صبح کے وقت ] [ وَالْاٰصَالِ : اور شام کے وقت ] [ وَلَا تَكُنْ : اور آپ مت ہوں ] [ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ : غافلوں میں سے ] ء ص ل ۔ (ک) : اصالۃ ۔ جڑ والا ہونا ۔ جڑ پکڑنا ۔ اصل ۔ ج : اصول ۔ اسم ذات ہے۔ جڑ ۔ بنیاد ۔ انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم [ بیشک وہ ایک ایسا درخت ہے جو نکلتا ہے دوزخ کی جڑ میں ] 37:64 ۔ اوترکتموھا قائمۃ علی اصولھا [ یا تم لوگوں نے چھوڑا اس کو کھڑا ہوا اپنی جڑوں پر ] 59:5 ۔ (س) اصلا ۔ متغیر ہونا ۔ کمزرو ہونا ۔ اصیل ۔ ج : اصال ۔ ، فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ متغیر ۔ کمزور ، پھر اس مفہوم میں عصر اور مغرب کا درمیانی وقت لیتے ہیں ۔ شام کا وقت ۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا [ اور تم لوگ تسبیح کرو اس کی صبح کے وقت اور شام کے وقت ] 33: 42 ۔ اور زیر مطالعہ آیت ۔ 205 ۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ عِنْدَ رَبِّكَ : آپ کے رب کے نزدیک ہیں ] [ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ : وہ بڑائی نہیں چاہتے ] [ عَنْ عِبَادَتِهٖ : اس کی عبادت سے ] [ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ : اور اور تسبیح کرتے ہیں اس کی ] [ وَلَهٗ : اور اس کے لیے ہی ] [ يَسْجُدُوْنَ : وہ سجدہ کرتے ہیں ]