7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو"

اِنَّكُمْ [ بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [ یقینا آتے ہو ] الرِّجَالَ [ مردوں کے پاس ] شَهْوَةً [ شہوت کرتے ہوئے ] مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ [ عورتوں کے علاوہ ] بَلْ [ بلکہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ [ ایک حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو ]
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ "نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ"

وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم کا جواب ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَخْرِجُوْهُمْ [ نکالو ان کو ] مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ [ اپنی پستی سے ] اِنَّهُمْ [ یقینا یہ سب ] اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ [ ایک بڑا پاک باز گروہ ہے ]
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

آخر کار ہم نے لوطؑ اوراس کے گھر والوں کو بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

فَاَنْجَيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَاَهْلَهٗٓ [ اور ان کے گھر والوں کو ] اِلَّا [ سوائے ] امْرَاَتَهٗ ڮ [ ان کی عورت کے ] كَانَتْ [ وہ تھی ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ]
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا

وَاَمْطَرْنَا [ اور ہم نے برسایا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مَّطَرًا ۭ [ ایک برسنے والی چیز ] فَانْظُرْ [ تو دیکھو ] كَيْفَ [ کیسا ] كَانَ [ تھا ] عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والوں کا انجام ]
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو

[ وَاِلٰي مَدْيَنَ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں ) مدین والوں کی طرف ] [ اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [ شُعَيْبًا : شعیب کو ] [ ۭقَالَ : انہوں نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ مَا لَكُمْ : نہیں ہے تمہارے لیے ] [ مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی الہ ] [ غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] ۭقَدْ جَاۗءَتْكُمْ : آچکی ہے تمہارے پاس ] [ بَيِّنَةٌ: ایک واضح (نشانی ) ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب (کی طرف ) سے ] [ فَاَوْفُوا : پس تم لوگ پورا کرو ] [ الْكَيْلَ : ناپنے کو ] [ وَالْمِيْزَانَ : اور ترازو کو ] [ وَلَا تَبْخَسُوا : اور حق سے کم تم مت دو [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ اَشْـيَاۗءَهُمْ : ان کی چیزیں ] [ وَلَا تُفْسِدُوْا : اور نظم مت بگاڑو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا : اس کی اصلاح کیے جانے کے بعد ] [ ۭذٰلِكُمْ : یہ ] [ خَيْرٌ : بہتر ہے ] [ لَّكُمْ : تمہارے لیے ] ا [ ِنْ : اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ] م د ن : (ن) مدونا ۔ شہر میں اقامت اختیار کرنا ۔ مدینۃ ۔ ج : مدائن شہر ۔ قصبہ ۔ ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ [ بیشک یہ یقینا ایک چالبازی ہے ، تم لوگوں نے جو چال چلی ہے شہر میں ] 7:123 ۔ فارسل فرعون فی المدائن حاشرین [ تو بھیجا فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والوں کو ] 26:53 ۔ مدین ۔ اسم علم ہے ۔ خاص نام زیر مطالعہ آیت ۔ 85 ۔ ش ع ب ــ: (ف) شعبا (1) جمع کرنا ۔ درست کرنا ۔ (2) متفرق کرنا ۔ بگاڑنا ۔ شعب ۔ ج : شعوب ۔ بڑا قبیلہ ۔ قوم ۔ وجعمنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا [ اور اس نے بنایا تم لوگوں کو قومیں اور قبیلے باہمی تعارف کے لیے ] 49: 13 ۔ شعبۃ ، ج : شعب ، فرقہ درخت کی شاخ ۔ انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب [ تم لوگ چلو ایک ایسے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے ] 77:20 ۔ شعیب ۔ فعیل کے وزن پر اسم التصغیر ہے اور اسم علم ہے ۔ خاص نام ۔ نوٹ ۔ 1: اہل مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں جو ان کی تیسری بیوی قطوراء کے بطن سے تھے ۔ ان کا علاقہ حجاز کے شمال مشرق اور فلسطین کے جنوب میں تھا اور ان کے شہرکا نام بھی مدین ہے ۔ یہ شہر آج بھی شرق اردن کی بندرگاہ معان کے قریب موجود ہے ۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی ۔ اس زمانے کی دو بڑی تجارتی شاہراہوں کے عین چورا ہے پر ان کی بستیاں تھیں ۔ اس لیے عرب کا بچہ بچہ ان سے واقف تھا اور ان کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں ان کی شہرت برقرار رہی کیونکہ عربوں کے تجارتی قافلے رات دن ان کے آثار قدیمہ سے گزرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے طرح اہل مدین بھی مسلمان ہی تھے اور شعیب (علیہ السلام) کے ظہور کے وقت ان کی حالت ایک بگڑی ہوئی مسلمان قوم کی تھی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد چھ سات سو سال تک مشرک اور بد اخلاق قوموں سے روابط کی وجہ سے یہ لوگ شرک بھی سیکھ گئے اور بد اخلاقیوں میں بھی مبتلا ہوگئے ، مگر ایمان کا دعوی اور اس پر فخر برقرار تھا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ان سے تقاضا یہی تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انسانوں اور انسانی معاشرے کی جو اصلاح کرگئے ہیں اس کو مت بگاڑو ۔ ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا کا یہی مطلب ہے ۔ قرآن مجید نے ان کا ذکر کہیں اہل مدین اور اصحاب مدین کے نام سے کیا ہے اور کہیں اصحاب ایکہ کے نام سے بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ دونوں قومیں الگ الگ تھیں اور ان کی بستیاں بھی الگ تھیں ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) پہلے ایک قوم کی طرف بھیجے گئے اور ان کی ہلاکت کے بعد دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے ۔ دونوں قوموں پر جو عذاب آیا اس کے الفاظ مختلف ہیں ۔ اصحاب مدین کے لیے کہیں صیحہ اور کہیں رجفہ مذکور ہے اور اصحاب ایکہ کے لیے عذاب یوم الظلۃ ذکر کیا گیا ۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم کا نام ہے اور اس قوم پر تینوں عذاب جمع ہوئے تھے ۔ پہلے بادل سے آگ برسی پھر اس کے ساتھ سخت آواز چنگھاڑ کی شکل میں آئی پھر زلزلہ آیا ۔ ابن کثیر نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔ (تفہیم القرآن اور معارف القرآن سے ماخوذ )
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے

[ وَلَا تَقْعُدُوْا : تم لوگ مت بیٹھو ] [ بِكُلِّ صِرَاطٍ : ہر ایک راہ پر ] [ تُوْعِدُوْنَ : دھمکی دیتے ہوئے ] [ وَتَصُدُّوْنَ : اور روکتے ہوئے ] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ اٰمَنَ : ایمان لایا ] [ بِهٖ : اس پر ] [ وَتَبْغُوْنَهَا : اور تلاش کرتے ہوئے اس میں ] [ عِوَجًا : کوئی کجی ] [ وَاذْكُرُوْٓا : اور یاد کرو ] [ اِذْ : جب ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ تھے ] [ قَلِيْلًا : تھوڑے سے ] [ فَكَثَّرَكُمْ : پھر اس نے کثرت دی تم کو ] [ وَانْظُرُوْا : اور غور کرو ] [ كَيْفَ : کیسا ] [ كَانَ : تھا ] [ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والوں کا انجام ] ترکیب : (آیت ۔ 86) توعدون ، تصدون ، اور تبغون ، یہ تینوں لا تقعدوا کا حال ہیں ۔ (آیت ۔ 89) ان عدنا شرط ہے اور قدافترینا جواب شرط مقدم ہے ۔ اس لیے ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا ۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے"

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ كَانَ : ہے ] [ طَاۗىِٕفَةٌ: ایک ایسا گروہ ] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے ] [ اٰمَنُوْا : جو ایمان لایا ] [ بِالَّذِيْٓ: اس پر ] [ اُرْسِلْتُ : میں بھیجا گیا ] [ بِهٖ : جس کے ساتھ ] [ وَطَاۗىِٕفَةٌ: اور ایک ایسا گروہ ] [ لَّمْ يُؤْمِنُوْا : جو ایمان نہیں لایا ] [ فَاصْبِرُوْا : تو صبر کرو ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ يَحْكُمَ : فیصلہ کرے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بَيْنَنَا : ہمارے مابین ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ : فیصلہ کرنے والوں کا بہترین ہے ]
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا" شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟

[ قَالَ : کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ الَّذِيْنَ : جنہوں نے ] [ اسْتَكْبَرُوْا : گھمنڈ کیا ] [ مِنْ قَوْمِهٖ : ان کی قوم میں سے ] [ لَنُخْرِجَنَّكَ : ہم لازما نکال دیں گے آپ کو ] [ يٰشُعَيْبُ : اے شعیب ] [ وَالَّذِيْنَ : اور ان کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ مَعَكَ : آپ کے ساتھ ] [ مِنْ قَرْيَتِنَآ : اپنی بستی سے ] [ اَوْ : یا ] لَتَعُوْدُنَّ : تم لوگ لازما واپس ہوگے ] [ فِيْ مِلَّتِنَا : ہماری ملت میں ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ اَوَلَوْ : اور کیا اگر ] [ كُنَّا : ہم ہوں ] [ كٰرِهِيْنَ : کراہیت کرنے والے (واپسی سے)]
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے"

[ قَدِ افْتَرَيْنَا : ہم تو گھڑ چکے ہوں گے ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ كَذِبًا : ایک جھوٹ ] [ اِنْ : اگر ] [ عُدْنَا : ہم واپس ہوں گے ] [ فِيْ مِلَّتِكُمْ : تمہاری ملت میں ] [ بَعْدَ اِذْ : اس کے بعد کہ جب ] [ نَجّٰىنَا : نجات دی ہم کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مِنْهَا : اس سے [ وَمَا يَكُوْنُ : اور نہیں ہوگا (ممکن ) ] [ لَنَآ : ہمارے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ نَّعُوْدَ : ہم واپس ہوں ] [ فِيْهَآ : اس میں ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ يَّشَاۗءَ : چاہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ رَبُّنَا : جو ہمارا رب ہے ] [ وَسِعَ : وسیع ہوا ] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ] [ كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ عِلْمًا : بلحاظ علم کے ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ ہی پر ] [ تَوَكَّلْنَا : ہم نے بھروسہ کیا ] [ رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [ افْتَحْ : تو فیصلہ کردے ] [ بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [ وَبَيْنَ قَوْمِنَا : اور ہماری قوم کے درمیان ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَاَنْتَ : اور تو ] [ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ : فیصلہ کرنیوالوں کا سب سے بہتر ہے ]
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا "اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کر لی تو برباد ہو جاؤ گے"

[ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ الَّذِيْنَ : جنہوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ مِنْ قَوْمِهٖ : ان کی قوم میں سے ] [ لَىِٕنِ : بیشک اگر ] [ اتَّبَعْتُمْ : تم لوگوں نے پیروی کی ] [ شُعَيْبًا : شعیب کی ] [ اِنَّكُمْ : تو یقینا تم لوگ ] [ اِذًا : پھر تو ] [ لَّـخٰسِرُوْنَ : ضرور ہی خسارہ پانے والے ہوگے ]
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے اُن کو آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

[ فَاَخَذَتْهُمُ : پھر پکڑا ان کو ] [ الرَّجْفَةُ : زلزلے نے ] [ فَاَصْبَحُوْا : تو وہ ہوگئے ] [ فِيْ دَارِهِمْ : اپنے (اپنے ) گھر میں ] [ جٰثِمِيْنَ : اوندھے منہ گرے ہوئے ]
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے شعیبؑ کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے

[ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ شُعَيْبًا : شعیب کو ] [ كَاَنْ : تو گویا کہ ] [ لَّمْ يَغْنَوْا : وہ رہتے ہی نہ تھے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ اَلَّذِيْنَ : جنھوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ شُعَيْبًا : شعیب کو ] [ كَانُوْا : تھے ] هُمُ : وہ لوگ ہی ] [ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والے ]
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے برادران قوم، میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے"

[ فَتَوَلّٰي : تو انہوں نے رخ پھیرا ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : میں پہنچا چکا تم کو ] [ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ : اپنے رب کے پیغامات ] [ وَنَصَحْتُ : اور میں نے خیرخواہی کی ] [ لَكُمْ : تمہاری ] [ فَكَيْفَ : تو (اب ) کیسے ] [ اٰسٰي : میں افسوس کروں ] [ عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ : ایک انکار کرنے والی قوم پر ]
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں

[ وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ فِيْ قَرْيَةٍ : کسی بستی میں ] [ مِّنْ نَّبِيٍّ : کوئی بھی نبی ] [ اِلَّآ : مگر یہ کہ ] [ اَخَذْنَآ : ہم نے پکڑا ] [ اَهْلَهَا : اس کے لوگوں کو ] [ بِالْبَاْسَاۗءِ : سختی سے ] [ وَالضَّرَّاۗءِ : اور تکلیف سے ] [ لَعَلَّهُمْ : شائد وہ لوگ ] [ يَضَّرَّعُوْنَ : گڑگڑائیں ] ض ر ع ۔ (ف) ضراعۃ ۔ کمزور ہونا ۔ بےفائدہ ہونا ۔ ضریغ ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بےفائدہ ۔ خار دار درخت ۔ لیس لہم طعام الا من ضریع [ نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی کھانا مگر ایک خاردار درخت میں سے ] 88:6 ۔ تفعل ــ: تضرعا ۔ کمزوری اور عاجزی کا اظہار کرنا ۔ گڑگڑانا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 94 ۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ "ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں" آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی

[ ثُمَّ : پھر ] [ بَدَّلْنَا : ہم نے بدل دیا ] [ مَكَانَ السَّيِّئَةِ : برائی کی جگہ کو ] [ الْحَسَنَةَ : بھلائی سے ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ عَفَوْا : وہ لوگ بڑھے (ترقی کی ) ] [ وَّقَالُوْا : اور کہا [ قَدْ مَسَّ : چھو چکی ہے ] [ اٰبَاۗءَنَا : ہمارے باپ دادوں کو ] [ الضَّرَّاۗءُ : تکلیف (بھی) ] [ وَالسَّرَّاۗءُ : اور خوشی (بھی ) ] [ فَاَخَذْنٰهُمْ : تو ہم نے پکڑا ان کو ] [ بَغْتَةً : اچانک ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : شعور نہیں رکھتے تھے ] ترکیب : (آیت ۔ 95) میں فاخذنا کا مفعول ھم کی ضمیر ہے ۔ جبکہ بغتۃ حال ہے ۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے

[ وَلَوْ : اور اگر ] [ اَنَّ : یہ کہ ] [ اَهْلَ الْقُرٰٓي : ان بستیوں والے ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لاتے ] [ وَاتَّقَوْا : اور تقوی اختیار کرتے ] [ لَفَتَحْنَا : تو ہم ضرور کھول دیتے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ بَرَكٰتٍ : برکتیں ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ وَالْاَرْضِ : اور زمین سے ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ كَذَّبُوْا : انہوں نے جھٹلایا [ فَاَخَذْنٰهُمْ : تو ہم نے پکڑا ان کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : وہ لوگ کمائی کرتے تھے ]
Ayah 7:97

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں؟

[ اَفَاَمِنَ : تو کیا امن میں ہوئے ] [ اَهْلُ الْقُرٰٓي : بستیوں والے ] [ اَنْ : (اس سے ) کہ ] [ يَّاْتِيَهُمْ : پہنچے ان کو ] [ بَاْسـُنَا : ہماری سختی ] [ بَيَاتًا : رات کے وقت ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ نَاۗىِٕمُوْنَ : نیند کرنے والوں ہوں ] آیت نمبر ۔ 97 میں بیاتا اور 98 میں ضحی ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں ۔
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا انہیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟

[ اَوَاَمِنَ : اور کیا امن میں ہوئے ] [ اَهْلُ الْقُرٰٓي : بستیوں والے ] [ اَنْ : (اس سے ) کہ ] [ يَّاْتِيَهُمْ : پہنچے ان کو ] [ بَاْسُنَا : ہماری سختی ] [ ضُحًى: چاشت کے وقت ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَلْعَبُوْنَ : کھیلتے ہوں ] ض ح ی ۔ ( س ) ضحی ۔ سورج سے تکلیف اٹھا نا ۔ دھوپ لگنا ۔ دھوپ کھانا ۔ وانک لا تظمؤفیھا ولا تضحی [ اور یہ کہ تجھ کو نہ پیاس لگے اس میں اور نہ تجھ کو دھوپ لگے ] 20:119 ۔ ضحی ۔ دن چڑھے ۔ چاشت کا وقت ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 98 ۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو

[ اَفَاَمِنُوْا : تو کیا وہ لوگ امن میں ہوئے ] [ مَكْرَ اللّٰهِ : اللہ کی خفیہ تدبیر سے ] [ فَلَا يَاْمَنُ : پس امن میں نہیں ہوتے ] [ مَكْرَ اللّٰهِ : اللہ کی تدبیر سے ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ : خسارہ پانے والے لوگ ]
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے

[ اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَهْدِ : رہنمائی نہیں کی ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ يَرِثُوْنَ : وارث ہوئے ] [ الْاَرْضَ : زمین کے ] [ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ : اس کے رہنے والوں (کی ہلاکت ) کے بعد ] [ اَنْ : کہ ] [ لَّوْ : اگر ] [ نَشَاۗءُ : ہم چاہیں ] [ اَصَبْنٰهُمْ : تو ہم پہنچیں ٹھیک ان کو ہی ] [ بِذُنُوْبِهِمْ : بسبب ان کے گناہوں کے ] [ وَنَطْبَعُ : اور ہم چھاپ لگا دیتے ہیں ] [ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ : تو وہ لوگ نہیں سنتے ] آیت نمبر 100 میں مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ میں مِنْۢ بَعْدِ کے بعد ہلاکت کا لفظ محذوف ہے اور یہ پورا فقرہ لَمْ يَهْدِ کا فاعل ہے ۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسول ان کے پا س کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے دیکھو اس طرح ہم منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں

[ تِلْكَ الْقُرٰي : یہ بستیاں ] [ نَقُصُّ : ہم سناتے ہیں ] [ عَلَيْكَ : آپ کو ] [ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا : جن کی خبروں میں سے ] [ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ : اور آچکے ہیں ان کے پاس ] [ رُسُلُهُمْ : ان کے رسول ] [ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] [ فَمَا كَانُوْا : تو وہ لوگ نہیں تھے ] [ لِيُؤْمِنُوْا : کہ ایمان لاتے ] [ بِمَا : اس پر جس کو ] [ كَذَّبُوْا : انہوں نے جھٹلایا ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَطْبَعُ : چھاپ لگاتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں کے دلوں پر ]
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا

[ وَمَا وَجَدْنَا : اور ہم نے نہیں پایا ] [ لِاَكْثَرِهِمْ : ان کے اکثر کے لیے ] [ مِّنْ عَهْدٍ : وعدہ کی کوئی پابندی ] [ وَاِنْ : اور بیشک ] [ وَّجَدْنَآ : ہم نے پایا ] [ اَكْثَرَهُمْ : ان کے اکثرکو ] [ لَفٰسِقِيْنَ : یقینا نافرمانی کرنے والے ] آیت نمبر 102 میں لفسقین پر لام تاکید سے معلوم ہوا کہ ان وجدنا کا ان نافیہ نہیں بلکہ ان مخففہ ہے۔ جس کے معنی ہیں ” بیشک “ نوٹ ۔ 1: ایک ایک قوم کا معاملہ بیان کرکے جو سبق انسانیت کو دیا گیا ہے اسے اب ایک جامع ضابطہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ اس ضابطے کی ایک اہم شق انبیاء کی بعثت ہے ۔ اور اب چونکہ نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہوچکا ہے ، اس لیے ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں اس ضابطہ کا اطلاق نہیں ہوگا اور ہمارا ان آیات سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ اس غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ گم کردہ راہ انسانوں کو ہدایت اور راہنمائی فراہم کی جائے ۔ لیکن ختم نبوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسانیت کی رہنمائی کے سلسلہ کو ختم کردیا گیا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے آخری نبی ﷺ جو ہدایات لائے تھے انہیں قیامت تک کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے ، اس لیے اب کسی نئے نبی کو بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی اور اب قیامت تک قرآن وحدیث سے بعثت انبیاء کا مقصد پورا ہوتا رہے گا ۔ اس لیے مذکورہ ضابطہ کا اطلاق آج بھی اسی طرح ہوگا ۔ جیسے ماضی میں ہوا ہے اور قیامت تک اسی طرح ہوتا رہے گا۔ ضابطہ یہ ہے کہ اقوال کو اچھے اور برے حالات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی فراہم کردہ رہنمائی کی طرف راغب کیا جاتا ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ نہ تو مصائب سے ان کا دل اللہ کے آگے جھکتا ہے ، نہ ہی نعمتوں پر وہ شکر گزار ہوتی ہے اور کسی حال میں بھی اصلاح قبول نہیں کرتی تو بربادی اس کا مقدر ہوجاتی ہے ۔ اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی اس تقدیر کو ان کی قوت و اقتدار ، دولت و ثروت اور ٹیکنا لوجی تبدیل نہیں کرسکتی ۔ گذشتہ آیات میں جن اقوام کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب اپنے اپنے وقت میں عروج و ترقی کی اس حد کو پہنچ چکی تھیں کہ دنیا میں ان کا کوئی مد مقابل نہیں رہا تھا ۔ لیکن جب ان کے ہاتھوں کی کمائی ان کے سامنے آئی توس ان کے سائنس وٹیکنا لوجی ان کو نہ بچا سکی ۔ آج کے دور میں مغربی تہذیب بھی اپنے عروج کی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اب دنیا میں ان کا کوئی مقابل باقی نہیں رہا ۔ ان لوگوں نے آثار قدیمہ پر بھی بہت تحقیقات کی ہیں ۔ اقوام کے عروج و زوال پر بڑی سائنٹیفک ریسرچ ہوئی ہیں ۔ لیکن اس ساری افلاطونیت اور ارسطونیت میں کہیں بھی نہ تو مسبب الاسباب ہستی کا ذکر ہے اور نہ ہی اس کے ضابطوں کا ۔ ایسی صورت میں اصلاح کا امکان ختم ہوگیا ہے اور اس تہذیب کی تباہی اس کا مقدر ہوگئی ہے ۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا

[ ثُمَّ : پھر ] [ بَعَثْنَا : ہم نے بھیجا ] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [ مُّوْسٰي : موسیٰ کو ] [ بِاٰيٰتِنَآ : اپنی نشانیوں کے ساتھ ] [ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ : فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ] [ فَظَلَمُوْا : تو انہوں نے ظلم کیا ] [ بِهَا : ان (نشانیوں ) پر ] [ فَانْظُرْ : تو غور کرو ] [ كَيْفَ : کیسا ] [ كَانَ : تھا ] [ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والوں کا انجام ] ترکیب : آیت ۔ 103) بھا کی ضمیر ایتنا کے لیے ہے ۔
Ayah 7:104

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "اے فرعون، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہو ں

[ وَقَالَ : اور کہا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ يٰفِرْعَوْنُ : اے فرعون ] [ اِنِّىْ : کہ میں ] [ رَسُوْلٌ: ایک رسول ہوں ] [ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب (کی طرف) ]
Ayah 7:105

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے"

[ حَقِيْقٌ: لازم ہوں [ عَلٰٓي : (اس) پر ] [ اَنْ : کہ ] [ لَّآ اَقُوْلَ : میں نہ کہوں ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْحَقَّ : حق ] [ ۭقَدْ جِئْتُكُمْ : میں لایا ہوں تمہارے پاس ] [ بِبَيِّنَةٍ : واضح (نشانیاں) ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ] [ فَاَرْسِلْ : پس تو بھیج [ مَعِيَ : میرے ساتھ ] [ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کو ] (آیت ۔ 105) حقیق علی ۔ گذشتہ آیت میں انی پر عطف ہے ۔
Ayah 7:106

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا "اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر"

[ قَالَ : اس نے کہا ] [ اِنْ : اگر ] [ كُنْتَ جِئْتَ : تو لایا ہے ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی نشانی ] [ فَاْتِ : تو لے آ ] [ بِهَآ : اسے ] [ اِنْ : اگر ] [ كُنْتَ : تو ہے ] [ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 7:107

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا

[ فَاَلْقٰى : تو انہوں نے ڈالا ] [ عَصَاهُ : اپنا عصا ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ ھِىَ : وہ ] [ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ : ایک واضح (جیتا جاگتا ) اژدھا تھا ] ث ع ب : (ف) ثعبا ، پانی کو جاری کرنا ۔ پانی بہانا ۔ ثعبان ۔ فسعلان کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ اژدھا ۔ [ کیونکہ یہ زمین پر ایسے چلتا ہے جیسے پانی بہتا ہے ] یہ مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 107 ۔ (آیت ۔ 107) ھی کی ضمیر عصا کے لیے ہے جو مؤنث سماعی ہے ۔
Ayah 7:108

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا

[ وَّنَزَعَ : اور انہوں نے کھینچ نکالا ] [ يَدَهٗ : اپنا ہاتھ ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ ھِىَ : وہ ] [ بَيْضَاۗءُ : سفید تھا ] [ لِلنّٰظِرِيْنَ : دیکھنے والوں کے لیے ]
Ayah 7:109

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

ا س پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے

[ قَالَ : کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ : فرعون کی قوم میں سے ] [ اِنَّ : بیشک ] [ هٰذَا : یہ ] [ لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ: یقینا ایک علم والا جادوگر ہے ]
Ayah 7:110

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتے ہو؟"

[ يُّرِيْدُ : وہ ارادہ رکھتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّخْرِجَكُمْ : وہ تم لوگوں کو نکالے ] [ مِّنْ اَرْضِكُمْ : تمہاری زمین سے ] [ فَمَاذَا : (فرعون نے پوچھا ) پھر کیا ] [ تَاْمُرُوْنَ : تم لوگ مشورہ دیتے ہو ]
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اَرْجِهْ : تو ٹال دے اس کو ] [ وَاَخَاهُ : اور اس کے بھائی کو ] [ وَاَرْسِلْ : اور تو بھیج ] [ فِي الْمَدَاۗىِٕنِ : شہروں میں ] [ حٰشِرِيْنَ : جمع کرنے والوں کو ] (آیت ۔ 111) ارجہ میں ہائے سکت نہیں ہے ۔ کیونکہ اس صورت میں واخاہ کا فقرہ بےمعنی ہوجاتا ہے ۔ یہ دراصل فعل امر ارج کی ضمیر مفعولی ہے۔ یہ قرآن مجید کی مخصوص قرات اور املا ہے کہ اس کو ارجہ کے بجائے پڑھتے اور لکھتے ہیں ۔
Ayah 7:112

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ ہر ماہر فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں

[ يَاْتُوْكَ : وہ لوگ لے آئیں گے تیرے پاس ] [ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ : ہر ایک جاننے والے جادو گر کو ] (آیت ۔ 112) یاتوک میں یا تو مضارع مجزوم ہے ، فعل امر ارسل کا جواب امر ہونے کی وجہ سے ۔
Ayah 7:113

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے اُنہوں نے "اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟"

[ وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ : جادو گر لوگ ] [ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پا س ] [ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] اِنَّ : بیشک ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ لَاَجْرًا : یقینا کچھ اجرت ہوگی ] [ اِنْ : اگر ] [ كُنَّا : ہم ہوئے ] [ نَحْنُ : کہ ہم ہی ] [ الْغٰلِبِيْنَ : غلبہ پانے والے ہوں ] (آیت ۔ 113) ان لنا لاجرا جواب شرط مقدم ہے اور ان کنا نحن الغلبین شرط ہے ۔ اس لیے ان کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
Ayah 7:114

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے جواب دیا "ہاں، اور تم مقرب بارگاہ ہو گے"

[ قَالَ : اس نے کہا ] [ نَعَمْ : ہاں ] [ وَاِنَّكُمْ : اور بیشک تم لوگ ] [ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ : یقینا قریب کیے ہوؤں میں سے ہوگے ] نوٹ ۔ 1: یہ بات نوٹ کرلیں کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصے میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے ۔ ایک وہ جس کے زمانے میں آپ پیدا ہوئے اور اسی کے گھر میں پرورش پائی ۔ اس کا نام رعمسیس تھا ۔ دوسرا اس کا بیٹا منفتاح ہے۔ یہ اس وقت حکمران تھا جب موسیٰ اسلام کی دعوت لے کر مصر پہنچے تھے اور یہی غرق ہوا تھا ۔ نوٹ۔ 2:ـ چند قوموں اور ان کے پیغمبروں کا حوالہ دینے کے بعد اب موسیٰ اور فرعون کا واقعہ قدرے تفصیل سے بیان کیا جارہا ہے ۔ اس میں متعدد مضامین اور اسباق ہیں ۔ لیکن اس سارے قصے میں جو سب سے اہم سبق ہے وہ صحابہ کرام کے بھی تھا اور قیامت تک ہر اس اہل حق گروہ کے لیے رہے گا جو باطل سے پنجہ آزمائی ” حماقت “ کرتا ہے ۔ اس قصے کے پیرائے میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دعوت حق کے ابتدائی مرحلوں میں حق اور باطل کی قوتوں کا جو تناسب بظاہر نظر آتا ہے ۔ اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے ، حق کی تو پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ وہ ایک معمولی اقلیت سے شروع ہوتا ہے اور بغیر کسی سازو سامان کے اس باطل کے خلاف لڑائی چھیڑ دیتا ہے جس کی پشت پر بڑی بڑی قوموں اور سلطنتوں کی طاقت ہوتی ہے ۔ پھر بھی آخر کار حق ہی غالب آکر رہتا ہے ۔ اس قصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حق کے مقابلہ میں جو چالیں چلی جاتی ہیں ۔ وہ کس طرح الٹی پڑتی ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ باطل کی ہلاکت کا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے اس کو کتنی کتنی طویل مدت تک سنبھلنے اور درست ہونے کے مواقع دیت چلا جاتا ہے ۔ اور جب وہ کسی بات کا اثر قبول نہیں کرتا تو پھر اسے ہلاک کردیا جاتا ہے اور نشان عبرت بنادیا جاتا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

پھر اُنہوں نے موسیٰؑ سے کہا "تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟"

[ قَالُوْا : (جادوگر) بولے ] [ يٰمُوْسٰٓي : اے موسیٰ ] [ اِمَّآ : یا تو ] [ اَنْ : یہ کہ ] [ تُلْقِيَ : آپ ڈالیں ] [ وَاِمَّآ : اور یا پھر [ اَنْ : یہ کہ ] [ نَّكُوْنَ : ہم ہوں ] [ نَحْنُ : کہ ہم ہی [ الْمُلْقِيْنَ : ڈالنے والے ہوں ] ترکیب : (آیت ۔ 115) اس آیت میں جو اما ہے یہ ان اور ما کا مرکب نہیں ہے ۔ (آیت 38 ترکیب) بلکہ یہ ایک لفظ ہے۔ یہ بھی شرطیہ ہے اور دو فعلوں پر آتا ہے ۔ اس کا ترجمہ عام طور پر ” یا تو ۔۔ اور یا پھر “ کیا جاتا ہے ۔ نکون نحن الملقین ، میں نحن ضمیر فاصل ہے اور نکون کی خبر ہونے کی وجہ سے الملقین حالت نصب میں آیا ہے۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا "تم ہی پھینکو" انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے

[ قَالَ : انہوں نے کہا [ اَلْقُوْا : تم لوگ ڈالو ] [ فَلَمَّآ : پھر جب [ اَلْقَوْا : انہوں نے پھینکا ] [ سَحَرُوْٓا : تو انہوں نے جادو کیا ] [ اَعْيُنَ النَّاسِ : لوگوں کی آنکھوں پر ] [ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ : اور ان کو خوفزدہ کیا ] [ وَجَاۗءُوْ : اور وہ لائے ] [ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ : ایک عظیم جادو ]
Ayah 7:117

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا

[ وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰى مُوْسٰٓي : موسیٰ کی طرف ] [ اَنْ : کہ ] [ اَلْقِ : آپ ڈالیں ] [ عَصَاكَ : اپنا عصا ] [ فَاِذَا : پھر جب ہی ] [ هِىَ : وہ ] [ تَلْقَفُ : نگلنے لگا [ مَا : اس کو جو ] [ يَاْفِكُوْنَ : وہ جھوٹی بناوٹ کررہے تھے ] ل ق۔ (س) ۔ لقفا ۔ کسی چیز کو جلدی جلدی لینا ۔ نگلنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 117 ۔
Ayah 7:118

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ اُنہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا

[ فَوَقَعَ : پس واقع ہوا ] [ الْحَقُّ : حق ] [ وَبَطَلَ : اور باطل ہوا ] [ مَا : وہ جو ] [ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے تھے ]
Ayah 7:119

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہو گئے

[ فَغُلِبُوْا : پس وہ مغلوب ہوئے ] [ هُنَالِكَ : وہیں ] [ وَانْقَلَبُوْا : اور وہ پلٹے ] [ صٰغِرِيْنَ : حقیر ہوتے ہوئے ]
Ayah 7:120

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا

[ وَاُلْقِيَ : اور ڈالے گئے ] [ السَّحَرَةُ : جادوگر لوگ ] [ سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] نوٹ ۔ 1: 120، میں القی ، ماضی مجہول کا صیغہ آیا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جادوگروں کو سجدے میں گرایا گیا تھا ۔ اس سے ذہن میں کچھ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ۔ البتہ اس واقعہ کے پس منظر کی چند باتیں اگر ذہن میں واضح ہوں تو پھر یہ الجھنیں دور ہوجاتی ہیں ، اس لیے پس منظر کو سمجھ لیں ۔ (1) اس زمانے میں مصر، عرب اور خود بنی اسرائیل میں بھی سجدہ تعظیمی کا رواج عام تھا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے سامنے سجدہ تعظیمی ہی میں گرے تھے۔ اس لیے جادوگروں کے لیے سجدہ میں گرنا کوئی نامانوس بات نہیں تھی۔ (2) اس وقت مصر کے لوگ سورج پرست تھے ۔ اور سورج ان کا مہادیو یعنی رب اعلیٰ تھا ۔ اسی معاشرے میں ایک محکوم قوم کی حیثیت سے بنی اسرائیل بھی تھے جو توحید پر ست تھے۔ یہ نظریاتی تصادم ہی ان کی محکومیت کا سبب تھا ۔ اگر وہ سورج پرستی اختیار کرکے فرعون کو سورج مہادیو کا اوتار تسلیم کرلیتے تو ان کی محکومیت ختم ہوجاتی ۔ جیسے کہ قارون فرعون کی حکومت کا ایک اہم رکن بن گیا تھا ۔ حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھا (28:76) (3) اس زمانے میں جادوگری ایک بہت معزز پیشہ تھا اور عام طور پر جادوگر لوگ اپنے فن کے علم کے ساتھ ساتھ دیگر علوم سے بھی بخوبی واقف ہوتے تھے۔ جیسے مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں طیبب یعنی حکیم ہونا ایک بہت معزز پیشہ تھا اور عام طور پر حکیم لوگ حکمت کے ساتھ ساتھ اسلامی فقہ ، شعر وادب ، فلکیات وغیرہ جیسے علوم سے بھی پوری واقفیت رکھتے تھے۔ اسی طرح جادوگر لوگ توحید اور سورج پرستی کے نظریاتی تصادم کے علمی مضمرات سے بخوبی واقف تھے ۔ (4) جادوگری کے علم اور فن پر عبور حاصل ہونے کی وجہ سے ان میں ہی یہ صلاحیت سب سے زیادہ تھی کہ وہ جادو اور معجزے میں تمیز کرسکیں ۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کو اژدھا بنتے دیکھ کر ان پر حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ واقعی اللہ کے رسول ہیں ۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید تھا کہ وہ بےساختہ سجدے میں گرپڑے ، ان کے احساس کی شدت اور بےساختگی کی کیفیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہاں فعل مجہول القی استعمال ہوا ہے ۔