Ayah 6:1اَلْحَمْدُ [ تمام تعریف اور شکر ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کئے ] السَّمٰوٰتِ [ آسمان ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین ] وَجَعَلَ [ اور بنائے ] الظُّلُمٰتِ [ اندھیرے ] وَالنُّوْرَ [ اور نور ] ثُمَّ [ پھر (بھی ) ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] بِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کے ] یيَعْدِلُوْنَ [ برابر کرتے ہیں ]
م ک ن : (ک) مکانۃ (1) رتبہ والا ہونا ، معزز ہونا ۔ (2) جما ہونا ، بااختیار ہونا۔ مکین ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ (1) رتبہ والا ، معزز ۔ (2) جما ہوا ، اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ ۔ [ بیشک تو آج سے ہمارے پاس امانتدار معزز ہے ] 12:54 ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ [ پھر ہم نے بنایا اس کو ایک نطفہ ایک مضبوط ٹھکانے میں ] 23:13 ۔ (افعال) امکانا ۔ کسی کو کسی کے اختیار میں دینا ، قابو میں دینا ۔ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ [ تو وہ لوگ خیانت کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے نتیجتا اس نے تمہارے قابو میں دیا ان میں سے کچھ کو ] 8:71 ۔ (تفعیل ) تمکینا ۔ کسی کو اختیار دینا ، جما دینا ، وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ [ اور اس طرح ہم نے اختیار دیا یوسف کو زمین میں ، وہ ٹھکانہ بناتا ہے اس میں جہاں بھی چاہے ] 12:56 ۔
درر (ض) درا۔ اہل دنیا پر دنیا کی فراوانی ہونا ۔ مدرار ۔ مبالغہ ہے ۔ بہت فراواں ہونے والا ، لگا تار برسنے ، والاآیت زیر مطالعہ ۔ مدرار ۔ مبالغہ ہے ۔ بہت فراواں ہونے والا ۔ لگا تار برسنے والا آیت زیر مطالعہ ۔ (س) ، درا ۔ بیماری کے بعد چہرے پر رونق آجانا ، چمکدار ہونا ۔ دری ۔ اسم نسبت ہے ۔ چمکنے والا ، چمکدار ۔ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ گویا کہ وہ ایک چمکدار ستارہ ہے ] 24:35 ۔ ن ش ء ۔ (ف) ، نشأء ۔ کسی چیز کا نمایاں ہوکرسانے آنا ، اگنا ، اٹھنا ۔ نشاۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ نمو، اٹھان ۔ ثُمَّ اللّٰهُ يُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ [ پھر اللہ اٹھائے گا آخری اٹھان ] 29:20 ۔ ناشئۃ ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اٹھنے والی ۔ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْـاً [ بیشک رات کی اٹھنے والی یعنی تہجد کی نماز ، یہ زیادہ سخت ہے بلحاظ روندنے کے ] 73:6 ۔ (افعال ) انشاء (1) اٹھانا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (2) اگانا (3) بنانا ۔ وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ [ اور وہ ہے جس نے اگائے چھپر ڈالے ہوئے باغات ] 6:141 ۔ وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ [ اور وہ ہے جس نے بنایا تمہارے لئے سماعت اور بصارت اور دل ] 23:78 ۔ منشو ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اگانے والا ۔ ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــُٔوْنَ [ کیا تم لوگوں نے اگایا اس کے درخت کو یہ ہم اگانے والے ہیں ] 56:72 ۔ (تفعیل ) تنشیئا ۔ پرورش کرنا ، پالنا ۔ اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ تو کیا وہ ، جو پرورش کیا گیا زبور میں ] 43:18 ۔
ترکیب : الحمد پر لام جنس ہے۔ بربہم کو کفروا کا مفعول بھی مانا جاسکتا ہے ۔ اس صورت میں یعدلون کا مفعول محذوف مانا جائے گا ۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ کفروا کا مفعول محذوف مانا جائے اور بربہم کو یعدلون کا مفعول مانا جائے ۔ وما تاتیہم میں تاتی واحد مونث کا صیغہ ہے ، اس کا فاعل ایۃ تھا جس پر من تبعیضیہ لگنے کی وجہ سے ایۃ ہوا ہے ۔ یاتیہم کا فاعل انبوا ہے اور یہ مضاف ہے، اس کا مضاف الیہ ما ہے ۔ قرن نکرہ مخصوصہ ہے ۔ قرنا اسم الجمع ہے ۔ اس لئے اس کی صفت اخرین جمع آئی ہے ۔
]
نوٹ : ۔ یہ پوری سورة مکہ میں بیک وقت نازل ہوئی تھی اور جس رات یہ نازل ہوئی اسی رات رسول کریم ﷺ نے اسے قلمبند کرا دیا ۔ اس کے مخاطب اول مشرکین عرب تھے جو یہ تسلیم کرتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اسی نے آفتاب وماہتاب کو وجود بخشا ہے ۔ ان میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا کہ یہ کام لات ، ہابیل ، یا عزی یا کسی اور دیوی یا دیوتا کا ہے ۔ اس لئے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ جب تم خود اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہو تو پھر دوسرے کے سامنے کیوں سجدے کرتے ہو، دعائیں مانگتے ہو اور نذر ونیاز پیش کرتے ہو۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ : 2 ۔ زیرمطالعہ آیت نمبر 5 میں عنقریب خبریں پہنچنے کی جو بات کی گئی ہے اس میں ہجرت اور ان کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت کے بعد پے درپے اسلام کو حاصل ہونے والی تھیں ۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کرسکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انھیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں کے ہی ذہن میں اس کا کوئی تصور تھا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 6:2هُوَ [ وہ ، ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [ تم لوگوں کو پیدا کیا ] مِّنْ طِيْنٍ [ ایک گارے سے ] ثُمَّ [ پھر ] قَضٰٓى [ اس نے فیصلہ کیا ] اَجَلًا ۭ [ ایک مدت کا ] وَاَجَلٌ مُّسَمًّى [ اور کوئی معین وقت ] عِنْدَهٗ [ اس کے پاس ہے ] ثُمَّ [ پھر (بھی ) ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] تَمْتَرُوْنَ [ شک کرتے ہو ]
Ayah 6:3وَهُوَ [ اور وہی ] اللّٰهُ [ الہ ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَفِي الْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ] يَعْلَمُ [ وہ جانتا ہے ] سِرَّكُمْ [ تمہارے چھپانے کو ] وَجَهْرَكُمْ [ اور تمہارے نمایاں کرنے کو ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تَكْسِبُوْنَ [ تم لوگ کمائی کرتے ہو ]
Ayah 6:4وَمَاتَاْتِيْهِمْ [ اور نہیں پہنچتی ان کے پاس ] مِّنْ اٰيَةٍ [ کسی قسم کی کوئی نشانی ] مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کی نشانیوں میں سے ] اِلَّا [ مگر ] كَانُوْا [ وہ لوگ ہوتے ہیں ] عَنْهَا [ اس سے ] مُعْرِضِيْنَ [ اعراض کرنے والے ]
Ayah 6:5فَقَدْ كَذَّبُوْا [ تو وہ لوگ جھٹلاچکے ہیں ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] لَمَّا [ جب ] جَاۗءَهُمْ ۭ [ وہ آیا ان کے پاس ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يَاْتِيْهِمْ [ پہنچیں گی ان کے پاس ] اَنْۢبٰۗـؤُا مَا [ اس کی خبریں ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ]
Ayah 6:6اَ [ کیا ] لَمْ يَرَوْا [ انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] كَمْ اَهْلَكْنَا [ ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے ] مِّنْ قَرْنٍ [ ایسی قوموں میں سے ] مَّكَّنّٰهُمْ [ ہم نے اختیار دیا جن کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مَا [ ایسا جو ] لَمْ نُمَكِّنْ [ اختیار ہم نے نہیں دیا ] لَّكُمْ [ تم لوگوں کو ] وَاَرْسَلْنَا [ اور ہم نے بھیجا ] السَّمَاۗءَ [ آسمان کو ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مِّدْرَارًا ۠ [ لگاتار برستے ہوئے ] وَّجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنائیں ] الْاَنْھٰرَ [ نہریں ] تَجْرِيْ [ وہ بہتیں تھیں ] مِنْ تَحْتِهِمْ [ ان کے نیچے ] فَاَهْلَكْنٰهُمْ [ پھر ہم نے ہلاک کیا ان کو ] بِذُنُوْبِهِمْ [ ان کے گناہوں کے سبب ] وَاَنْشَاْنَا [ اور ہم نے اٹھائیں ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان کے بعد ] قَرْنًا اٰخَرِيْنَ [ کچھ دوسری قومیں ]
Ayah 6:7وَلَوْ [ اور اگر ] نَزَّلْنَا [ ہم اتارتے ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] كِتٰبًا [ کوئی کتاب ] فِيْ قِرْطَاسٍ [ کسی ورق میں (لکھی ہوئی ) ] فَلَمَسُوْهُ [ پھر وہ چھوتے اس کو ] بِاَيْدِيْهِمْ [ اپنے ہاتھوں سے ] لَقَالَ [ تو ضرور کہتے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا [ کفر کیا ] اِنْ [ نہیں ہے ] هٰذَآ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا جادو ]
ق ر ط س (رباعی ) ۔ قرطاسا ۔ نشانے پر پہنچنا ۔ قرطاس ۔ ج ، قراطیس ۔ اسم ذات ہے ۔ ہر وہ چیز جس پر لکھا جائے ، کاغذ ، ورق ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ اور تجعلونہ ۔ قراطیس [ تم لوگ بناتے ہو اس کے اوراق یعنی میں نقل کر رکھا ہے ] 6:91 ۔
ح ی ق (ض) حیقا ۔ کسی چیز کو گھیرے میں لینا ، چھاجانا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : فلمسوہ کی ضمیر مفعولی کو کتابا کے لئے مانیں یاقرطاس کے لئے ، مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ولو جعلنہ کی ضمیر مفعولی رسولا کے لئے ہے جو علیک کے حوالے سے ہے ۔ ماکانوا بہ یستھزء ون ، یہ پورا جملہ فحاق کا فاعل ہے جبکہ بالذین سخروا منہم اس کا مفعول ہے ۔ منہم کی ضمیر برسل کے لئے ہے ۔ عاقبۃ مؤنث غیر حقیقی ہے اس کئے کانت کے بجائے کان بھی جائز ہے ۔
نوٹ :1 ۔ علم الیقین کی اہمیت پر آیت نمبر 2:55 کے نوٹ ۔ 3 میں اور آیت نمبر 2:118 کے نوٹ 3 میں بات ہوچکی ہے ۔ ہمارا مشورہ ہے کہ پہلے آپ ان کو پڑھ لیں، اس کے بعد مندرجہ ذیل نوٹ پڑھیں جو ہم تفہیم القرآن سے نقل کررہے ہیں ۔ زیرمطالعہ آیت نمبر 8 میں فرمایا کہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے پھر سارے معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو پھر کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلینے کے لئے جو مہلت تمہیں ملی ہوئی ہے یہ اس وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے ۔ ورنہ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا، پھر مہلت کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا ۔ کیونکہ اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا ۔ دنیا کی زندگی ایک امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس بات کا ہے کہ تم حقیقت کو دیکھے بغیر ، عقل وفکر کے صحیح استعمال سے ، اس کا ادراک کرتے ہو یا نہیں ۔ اور ادراک کرنے کے بعد اپنے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں لاکر اپنے عمل کو حقیقت کے مطابق درست رکھتے ہو یا نہیں ۔ اس امتحان کے لئے غیب کا غیب رہنا شرط لازم ہے اور دنیوی زندگی ، جو دراصل مہلت امتحان ہے ، اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک غیب غیب ہے ۔ جہاں غیب شہادت میں تبدیل ہوا، یہ مہلت لازم ختم ہوجائے گی اور امتحان کے بجائے نتیجہ امتحان نکلنے کا وقت آپہنچے گا ۔
Ayah 6:8وَقَالُوْا [ اور انھوں نے کہا ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] عَلَيْهِ [ ان پر ] مَلَكٌ ۭ [ کوئی فرشتہ ] وَلَوْ [ اور اگر ] اَنْزَلْنَا [ ہم اتارتے ] مَلَكًا [ کوئی فرشتہ ] لَّقُضِيَ [ تو فیصلہ کردیا جاتا ] الْاَمْرُ [ تمام کاموں کا ] ثُمَّ [ پھر ] لَا يُنْظَرُوْنَ [ وہ لوگ مہلت نہ دیئے جاتے ]
Ayah 6:9وَلَوْ [ اور اگر ] جَعَلْنٰهُ [ ہم بناتے اس (رسول ) کو ] مَلَكًا [ ایک فرشتہ ] لَّجَعَلْنٰهُ [ توہم بناتے اس کو ] رَجُلًا [ ایک مرد ] وَّلَـلَبَسْنَا [ اور ہم ضرور مشتبہ کرتے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مَّا [ اس کو جو ] يَلْبِسُوْنَ [ یہ لوگ شک کرتے ہیں ]
Ayah 6:10وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ [ اور بیشک مذاق اڑایا گیا ہے ] بِرُسُلٍ [ رسولوں کا ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] فَحَاقَ [ تو گھیرے میں لے لیا ] بِالَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] سَخِرُوْا [ تمسخر کیا ] مِنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ اس نے ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ جو یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ]
Ayah 6:11قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] سِيْرُوْا [ تم لوگ چلو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] ثُمَّ انْظُرُوْا [ پھر دیکھو ] كَيْفَ [ کیسا ] كَانَ [ تھا ] عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ [ جھٹلانے والوں کا انجام ]
Ayah 6:12قُلْ [ آپ کہہ ] لِّمَنْ [ کس کا ہے ] مَّا [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ] زمین اور آسمانوں میں ہے ] قُلْ [ آپ کہئے ] لِّلّٰهِۭ [ اللہ کا ہے ] كَتَبَ [ اس نے لکھا ] عَلٰي نَفْسِهِ [ اپنے آپ پر ] الرَّحْمَةَ ۭ [ رحمت کو ] لَيَجْمَعَنَّكُمْ [ وہ لازما جمع کرے گا تم لوگوں کو ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن کی طرف ] لَا رَيْبَ [ کوئی بھی شک نہیں ہے ] فِيْهِ ۭ [ جس میں ] اَلَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے نفس کو ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ہیں ]
ط ر : ۔ فطرا ۔ کسی چیز کو پھاڑ کر کسی چیز کو نکالنا ۔ (1) پھاڑنا ۔ (2) وجود میں لانا ۔ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ [ پھر وہ لوگ کہیں گے کون دوبارہ لائے گا ہم کو ۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے وہ جس نے وجود بخشا تم لوگوں کو پہلی مرتبہ ] 17:51
فطرۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ کسی وجود کو دی ہو طبعی استعداد ۔ ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ [ اللہ کی بخشی ہوئی وہ طبعی استعداد ، اس نے وجود بخشا لوگوں کو جس پر ] 30:30 ۔ فاطر ۔ اسم الفاعل ہے ۔ وجود میں لانے والا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ فطر ، ج، فطور : اسم ذات بھی ہے ۔ پھٹن ، شگاف ۔ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ [ کیا تونکے دیکھے کسی قسم کے کوئی شگاف ] 67:3 ۔ (تفعل) تفطرا۔ بتکف پھٹنا یعنی پھٹ پڑنا ۔ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ [ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اس سے ] 19:90 ۔ (انفعال) انفطارا پھٹنا ۔ اِذَا السَّمَاۗءُ انْفَطَرَتْ [ جب آسمان پھٹے گا ] 82:1 ۔ منفطر ، اسم الفاعل ہے ۔ پھٹنے والا ۔ السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ [ آسمان پھٹنے والا ہے اس سے ] 73:18 ۔
ک ش: (ض) کشفا۔ (1) کسی چیز سے پردہ اٹھانا ۔ (2) کھولنا۔ (3) ہٹانا ، دور کرنا ۔ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا [ پھر جب اس نے دیکھا اس کو تو اس نے گمان کیا اس کو گہرا پانی اور اس نے پردہ اٹھایا اپنی دونوں پنڈلیوں سے ] 27:44 ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ [ بیشک تو غفلت میں تھا اس سے تو ہم نے کھول دیا تجھ سے تیرے سرپوش کو ] 50:22 ۔ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ [ پھر جب ہم نے ہٹا دیا ان سے عذاب کو ] 43:50 ۔ اکشف ۔ فعل امر ہے ۔ تو کھول ، تو ہٹا ۔ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ [ اے ہمارے رب تو دور کر ہم سے اس عذاب کو ] 44:12 ۔ کاشف ۔ اسم الفاعل ہے۔ کھولنے والا ، ہٹانے والا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ق ہ ر : (ف) قھرا۔ کسی پر غلبہ پاکر ذلیل کرنا ۔ (1) غالب ہونا (2) ذلیل کرنا۔ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ [ پس جو یتیم ہو تو ، ذلیل مت کر ] 93:9 ۔ قاھر ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ غالب ہونے والا یعنی غالب ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ قھار۔ فعال کے وزن پر صفت ہے ۔ بہت زیادہ غالب یعنی زبر دست ۔ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ [ اور وہ یکتا ہے ، زبردست ہے ] 13:16 ۔
ترکیب : غیر اللہ میں غیر کی نصب بتارہی ہے کہ یہ اتخذکا مفعول اول ہے ولیا مفعول ثانی ہے ۔ فاطر کی جز بتارہی ہے کہ یہ اللہ کا بدل ہے اور مضاف ہے جبکہ السموت والارض اس کا مضاف الیہ ہے ۔ اول بھی مضاف ہے اور من مضاف الیہ ہے ۔ اخاف کا مفعول عذاب یوم عظیم ہے اور یہ جملہ جواب شرط ہے ان عصیت ربی کا ۔ عنہ کی ضمیر عذاب کے لئے ہے ۔ رحمہ میں ضمیر فاعلی ھو ہے جو اللہ کے لئے ہے اور ضمیر مفعولی من کے لئے ہے ۔ نوٹ 1: زیرمطالعہ نمبر 17 میں اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر نفع اور نقصان کا مالک در حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ ظاہر میں جو کسی کو کسی کے ہاتھ سے نفع یا نقصان پہنچتا نظر آتا ہے وہ صرف ایک ظاہری صورت ہے اور حقیقت کے سامنے ایک نقاب ہے، حقیقت یہی ہے کہ اللہ جو دے دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو روک لے تو کوئی دے نہیں سکتا (35:2) رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تم کوئی سوال کرو تو صرف اللہ سے سوال کرو اور مدد مانگنی ہو تو صرف اللہ سے مدد مانگو ۔ اتنی واضح تعلیمات کے باوجود لوگ اس معاملہ میں بھٹکتے ہیں ۔ سارے خدائی اختیارات مخلوقات میں بانٹ دیئے ہیں اور مصیبت کے وقت اللہ کے بجائے مختلف ناموں کی دہائی دیتے ہیں اور انہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2: مادہ ”ط ر “ کی لغت میں لفظ فطرۃ کی وضاحت میں ہم نے سورة الروم کی آیت نمبر 30 کا حوالہ دیا ہے اور فطرت اللہ کا ترجمہ ” اللہ کی فطرت “ کے بجائے ” اللہ کی بخشی ہوئی فطرت “ کیا ہے ۔ یہ ہمارے بزرگوں کے ترجمے کے مطابق ہے، صرف الفاظ کے انتخاب کا فرق ہے ۔ مثلا مولانا اشرف علی تھانوی کا ترجمہ ہے ” اللہ کی دی ہوئی قابلیت “۔ مولانا احمد رضا خان کا ترجمہ ہے ” اللہ کی ڈالی ہوئی بنا “ ۔ جبکہ حضرت شیخ الہند اور مفتی محمد شفیع کا ترجمہ ہے ” تراش اللہ کی “ ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ عقیدہ اللہ جانے کہاں سے پھیل گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے (نعوذ باللہ من ذالک ) ۔ ایسے لوگوں کو شک ہے اور بعض کو تو یقین ہے، کہ اس آیت کے ترجمے میں ہمارے بزرگوں نے اپنی رائے کی رعایت کی ہے، جو کہ آیت کا حقیقی مفہوم نہیں ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ فطرت اللہ مرکب اضافی ہے اور اس کا صحیح ترجمہ ہے ” اللہ کی فطرت “ اس لئے آیت کا مطلب ہے ” اللہ کی فطرت “ جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا “۔ اس دلیل میں جو غلطی ہے اس کی وضاحت ضروری ہے ۔ اصولا یہ وضاحت ہمیں سورة الروم میں کرنی چاہیے تھی ، لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان اسباق کو مرتب کرنے کا کام 28 اگست 1998 ء کو شروع کیا تھا اور آج 25 فروری 2003 ء کو ہم سورة الانعام کے آغاز میں ہیں ۔ اللہ جانے سورة الروم تک پہنچنا نصیب ہوگا یا نہیں ۔ اس لئے یہ قرض یہیں چکا دیا جائے تو بہتر ہے ۔
بات ذرا تلخ ہے لیکن بات یہی ہے کہ فعل ۔ فعلا ۔ فعلوا ۔ سے ۔ فعلنا تک چودہ صیغے پڑھ لینے سے ہمارے چودہ طبق تو روشن ہوجاتے ہیں لیکن اس چکا چوند کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اب ہم اپنے بزرگوں سے زیادہ قابل ہوگئے ہیں اور اب ہم قرآن کو ان سے زیادہ سمجھنے لگے ہیں ۔ آسان عربی گرامر ، حصہ سوم کے آخری باب ” سبق الاسباق “ میں اسی خطرے کی نشاندہی کی جاچکی ہے ۔ طلباء کو چاہیے کہ کبھی کبھی وہ اس کا مطالعہ کرتے رہیں ۔
مذکورہ دلیل میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے مرکب اضافی کا صحیح ترجمہ کرنا تو سیکھ لیا ہے لیکن مرکب اضافی کا صحیح مفہوم ابھی تک ان کے ذہن میں اجاگر نہیں ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں زید کا قلم ، زید کی کتاب ۔ یہ مرکب اضافی تو ہے ۔ لیکن مرکب اضافی کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ قلم اور کتاب زید کی ذات کا جز ہیں ۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قلم اور کتاب کو زید کی ذات کے ساتھ ایک نسبت ہے اور ان مرکبات میں ملکیت کی نسبت کا مفہوم ہے ۔ زید کا بھائی ، زید کی بہن ، ان مرکبات اضافی میں رشتوں کی نسبت کا مفہوم ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے ۔ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ [ بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ] 19:30 ۔ وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ [ اور اللہ کی زمین وسیع ہے ] 39:10 ۔ اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ [ بیشک میری زمین وسیع ہے ] 29:56 ۔ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ [ اور میں پھونک دوں اس میں اپنی روح میں سے ] 15:29 ۔ ان میں بندہ ، زمین یا روح ، کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی ذات کا جز نہیں ہے۔ ان مرکبات اضافی کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ایک نسبت ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ چیزیں اس کی تخلیق کردہ ہیں ، اس لئے اس کی ملکیت ہیں ، اسی طرح اس کائنات کی ہر چیز کا وجود اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور ہر وجود کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ہے ۔ اس لئے ان سب کو اللہ تعالیٰ سے ایک نسبت ہے، تخلیق ہونے کی اور ملکیت ہونے کی ، کوئی بھی چیز اس کی ذات کا جز نہیں ہے۔ لیس کمثلہ شیء [ اس کے جیسی کوئی بھی چیز نہیں ہے ] 42:11 ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ایک جو لوگ اپنے عقیدے کی تصدیق کے لئے اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں انھیں نوٹ کرنا چاہیے کہ یہ آیت کا ایک ٹکڑا ہے ۔ اس کو پوری آیت میں رکھ کر اگر غور کریں گے تو انہیں سوچنا پڑے گا کہ لفظ فطرت اللہ [ حالت رفع ] کے بجائے فطرت اللہ [ حالت نصب ] میں کیوں ہے ۔ اس کی وجہ سمجھنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ آیت کا وہ مطلب نہیں ہے جس کے وہ مدعی ہیں اور ہمارے بزرگوں نے ترجمہ میں اپنے عقیدے کی رعایت نہیں کی ہے بلکہ ” پڑھے کم ، بولے زیادہ “ قسم کے لوگوں کی رعایت کی ہے تاکہ ان کا عقیدہ قرآن کے مطابق رہے۔ اس حوالے سے اب یہ موتی گرہ میں باندھ لیں کہ قرآن مجید پر غور وفکر کرتے ہوئے بزرگوں کی کوئی بات اگر سمجھ میں نہ آئے تو اس کا صرف ایک مطلب ہے کہ ہماری اپنی سوجھ بوجھ ابھی خام ہے۔ البتہ بزرگوں کی عقیدت و محبت سے اس کو اگر ہم ذرا نم کرلیں تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ۔
Ayah 6:13وَلَهٗ [ اور اس کا ہی ہے ] مَا [ وہ جو ] سَكَنَ [ ٹھہرا ] فِي الَّيْلِ [ رات میں ] وَالنَّهَارِ ۭ [ اور دن میں ] وَهُوَ [ اور وہ ] السَّمِيْعُ [ ہر حال میں سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ ہر حال میں جاننے والا ہے ]
Ayah 6:14قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] غَيْرَاللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ (کسی ) کو ] اَتَّخِذُ [ میں بناؤں ] وَلِيًّا [ کارساز ] فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ جو زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے ] وَهُوَ [ اور وہ ] يُطْعِمُ [ کھلاتا ہے ] وَلَا يُطْعَمُ ۭ [ اور اس کو کھلایا نہیں جاتا ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْٓ [ کہ ] اُمِرْتُ [ مجھ کو حکم دیا گیا ] اَنْ [ کہ ] اَكُوْنَ [ میں ہوجاؤں ] اَوَّلَ مَنْ [ اس کا پہلا جو ] اَسْلَمَ [ فرمانبردارہوا ] وَ [ اور (یہ کہ )] لَا تَكُوْنَنَّ [ تم ہرگز مت ہونا ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ]
Ayah 6:15قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْٓ [ کہ ] اَخَافُ [ میں ڈرتا ہوں ] اِنْ [ اگر ] عَصَيْتُ [ میں نافرمانی کروں ] رَبِّيْ [ اپنے رب کی ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کی عذاب سے ]
Ayah 6:16مَنْ [ جو ] يُّصْرَفْ [ ہٹا لیا گیا ] عَنْهُ [ اس سے ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] فَقَدْ رَحِمَهٗ ۭ [ تو اس نے رحم کیا ہے اس پر ] وَذٰلِكَ [ اور یہ ] الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ [ کھلی کامیابی ہے ]
Ayah 6:17وَاِنْ [ اور اگر ] يَّمْسَسْكَ [ چھوئے تجھ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِضُرٍّ [ کسی تکلیف سے ] فَلَا كَاشِفَ [ تو کوئی بھی دور کرنے والا نہیں ہے ] لَهٗٓ [ اس کو ] اِلَّا [ مگر ] هُوَ ۭ [ وہی ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّمْسَسْكَ [ وہ چھوئے تجھ کو ] بِخَيْرٍ [ کسی بھلائی سے ] فَهُوَ [ تو وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 6:18وَهُوَ [ اور وہ ] الْقَاهِرُ [ غالب ہے ] فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ [ اپنے بندوں پر ] وَهُوَ [ اور وہ ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ] الْخَبِيْرُ [ باخبر ہے ]
Ayah 6:19قُلْ [ آپ کہئے ] اَيُّ شَيْءٍ [ کون سی چیز ] اَكْبَرُ [ سب سے بڑی ہے ] شَهَادَةً ۭ [ بطور گواہی کے ] قُلِ [ آپ کہئے ] اللّٰهُ ڐ [ (کہ ) اللہ ] شَهِيْدٌۢ [ (وہ ) گواہ ہے ] بَيْنِيْ [ میری درمیان ] وَبَيْنَكُمْ ۣ [ اور تمہارے درمیان ] وَاُوْحِيَ [ اور وحی کیا گیا ] اِلَيَّ [ میری طرف ] هٰذَا الْقُرْاٰنُ [ اس قرآن کو ] لِاُنْذِرَكُمْ [ تاکہ میں وارننگ دوں تم لوگوں کو ] بِهٖ [ اس سے ] وَمَنْۢ [ اور اس کو جس کو ] بَلَغَ ۭ [ وہ پہنچے ] اَىِٕنَّكُمْ [ کیا واقعی تم لوگ ] لَتَشْهَدُوْنَ [ سچ مچ گواہی دیتے ہو ] اَنَّ [ کہ ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اٰلِهَةً اُخْرٰي ۭ [ کچھ دوسرے الہ (بھی ) ہیں ] قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَشْهَدُ ۚ [ میں گواہی نہیں دیتا ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] هُوَ [ وہ ] اِلٰهٌ وَّاحِدٌ [ واحد الہ ہے ] وَّاِنَّنِيْ [ اور یہ کہ میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جو ] تُشْرِكُوْنَ (19) [ تم لوگ شرک کرتے ہو ]
وضاحت اب آیات میں نئے الفاظ کی تعداد کم ہوگئی ہے، اس لئے آیات نقل نہیں کی جائیں گی ، بلکہ ان کے نمبروں کا حوالہ دے کر نئے لفظ کی لغت دی جائے گی ، اگر کوئی نیا لفظ ہوا تو ۔ اسی طرح اگر ضروری ہوا تو ترکیب کی وضاحت کی جائے گی ، ورنہ براہ راست ترجمہ دے کر نوٹس دئیے جائیں گے۔
ترکیب : مرکب اضافی ای شیء مبتدا ، اکبر ، خبر اور شھادۃ تمیز ہے ۔ شھید ، کو اللہ کی خبر بھی مانا جاسکتا ہے ۔ ایسی صورت میں ای شیء کا جواب محذوف مانا جائے گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ قل اللہ کو ای شیء کا جواب مانا جائے اور شھید بینی وبینکم کو الگ جملہ مانا جائے ۔ ایسی صورت میں شھید کا مبتدا ھو محذوف مانا جائے گا ۔ ترجمے میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے ۔ ومن بلغ میں ۔ من ۔ گزشتہ لانذر کا بھی مفعول ہے اور بلغ کا بھی اور بلغ کی ضمیر فاعلی ھذ القرآن کے لئے ہے ۔ ان کا اسم الہۃ اخری ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور مع اللہ قائم مقام خبر مقدم ہے (6:20) یعرفونہ میں شامل ضمیر فاعلی ہم الذین کے لیے ہے جب کہ ضمیر مفعولی کو ھذالقرآن کے لیے بھی مانا جاسکتا ہے ۔ اور قل کے مخاطب رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی ۔ مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک کی پہچان سے دوسرے کی پہچان لازمی ہے ۔ (6:21) انہ میں ضمیر الشان ہے ۔ (2:85، نوٹ 1)
نوٹ 1: زیر مطالعہ آیت نمبر 19 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر یہ قرآن مجید اس لئے وحی کیا گیا کہ آپ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو بھی خبردار کریں جنھوں نے آپ سے ملاقات کی اور ان کو بھی خبردار کریں جنھوں نے ملاقات نہیں کی لیکن قرآن ان تک پہنچ گیا ۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ آخری پیغمبر ہیں اور قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے ۔ قیامت تک اس کی تعلیم اور تلاوت باقی رہے گی اور لوگوں پر اس کا اتباع لازم رہے گا۔ (معارف القرآن ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس تک میرا قرآن پہنچا تو گویا میں نے خود تبلیغ کردی (ابن کثیر) اس پس منظر میں رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھنے کی کوشش کریں جس میں آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میری طرف سے پہنچاؤ خواہ ایک ہی آیت ہو ۔
نوٹ 2: زیر مطالعہ آیت نمبر 23 میں کچھ لوگوں کا ذکر ہے جو قسم کھا جائیں گے کہ ہم شرک نہیں کرتے تھے ۔ ان کے لئے تفسیر بحر محیط اور مظہری میں ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو کھلے طور پر کسی کو خدا نہیں کہتے تھے مگر ان کا عمل یہ تھا کہ خدائی کے اختیارات مخلوق کو بانٹ رکھے تھے، انہی سے روزی ، صحت ، اولاد اور ساری مرادیں مانگا کرتے تھے اور انہی کے نام کی نذر ونیاز کرتے تھے اور اپنے آپ کو مشرک نہ سمجھتے تھے اس لئے میدان حشر میں بھی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے (معارف القرآن )
Ayah 6:20اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] يَعْرِفُوْنَهٗ [ وہ پہچانتے ہیں اس کو ] كَمَا [ جیسا کہ ] يَعْرِفُوْنَ [ وہ پہچانتے ہیں ] اَبْنَاۗءَهُمْ ۘ [ اپنے بیٹوں کو ] اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے نفوس کو ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لائیں گے ]
Ayah 6:21وَمَنْ [ اور کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] كَذَّبَ [ جس نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِهٖ ۭ [ اس کی نشانیوں کو ] اِنَّهٗ [ بیشک حقیقت یہی ہے کہ ] لَا يُفْلِحُ [ مراد نہیں پاتے ] الظّٰلِمُوْنَ (21) [ ظلم کرنے والے ]
Ayah 6:22وَيَوْمَ [ اور اس دن ] نَحْشُرُهُمْ [ ہم جمع کریں گے ان کو ] جَمِيْعًا [ سب کے سب کو ] ثُمَّ [ پھر ] نَقُوْلُ [ ہم کہیں گے ] لِلَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] اَشْرَكُوْٓا [ شرک کیا ] اَيْنَ [ کہاں ہیں ] شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ [ تمہارے وہ شریک (کئے ہوئے ) لوگ جن کا ] كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ (22) تم لوگ زعم کیا کرتے تھے ]
Ayah 6:23ثُمَّ [ پھر ] لَمْ تَكُنْ [ نہیں ہوگی ] فِتْنَتُهُمْ [ ان کی گمراہی ] اِلَّآ [ مگر ] اَنْ [ (یہ ) کہ ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] وَاللّٰهِ [ اللہ کی قسم ] رَبِّنَا [ جو ہمارا رب ہے ] مَا كُنَّا [ ہم نہیں تھے ] مُشْرِكِيْنَ (23) [ شرک کرنے والے ]
Ayah 6:24اُنْظُرْ [ دیکھو ] كَيْفَ [ کیسا ] كَذَبُوْا [ انہوں نے جھوٹ بولا ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [ اپنے آپ پر ] وَضَلَّ [ اور گمراہ (یعنی گم ہوا)] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ (24) [ وہ لوگ گھڑا کرتے تھے ]
Ayah 6:25وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّسْتَمِعُ [ کان لگاتے ہیں ] اِلَيْكَ ۚ [ آپ کی طرف ] وَ [ حالانکہ ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنائے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں پر ] اَكِنَّةً [ کچھ پردے ] اَنْ [ کہ ] يَّفْقَهُوْهُ [ وہ (نہ ) سمجھیں اسکو ] وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ [ اور ان کے کانوں میں ] وَقْرًا ۭ [ ایک بوجھ ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّرَوْا [ وہ دیکھیں ] كُلَّ اٰيَةٍ [ ساری نشانی ] لَّا يُؤْمِنُوْا [ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے ] بِهَا ۭ [ اس پر ] حَتّٰٓي [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب بھی ] جَاۗءُوْكَ [ وہ آتے ہیں آپ کے پاس ] يُجَادِلُوْنَكَ [ تو بحث کرتے ہیں آپ سے ] يَقُوْلُ الَّذِيْنَ [ کہتے ہیں ان سے جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا [ کفر کیا ] اِنْ [ نہیں ہے ] هٰذَآ [ یہ ] ااِلَّآ [ مگر ] ااَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ (25) [ پہلے لوگوں کے افسانے ]
و ق ر : (س) وقرا۔ بھرا ہوا ۔ بوجھل ہونا ۔ وقر۔ اور وقر۔۔ ہے ۔ بوجھ ، زیر مطالعہ آیت نمبر 25 ، اور فالحملت وقرا [ پھر بوجھ اٹھانے والیوں کی قسم ] 51:2 ۔ (ک) وقارۃ ۔ سنجیدہ اور متین ہونا ۔ باوقار ہونا۔ وقار ۔ اسم ذات ہے، سنجیدگی ، متانت ، عظمت ، مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا [ تمہیں کیا ہے کہ تم لوگ امید نہیں رکھتے اللہ سے عظمت کی ] 71:13 ۔ (تفعیل ) توقیرا ۔ کسی کی تعظیم کرنا ۔ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ ۭ [ تاکہ تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور ان کی مدد کرو اور ان کی تعظیم کرو ] 48:9 ۔
س ط ر : (ن) سطرا ۔ کسی چیز کی حفاظت کرنا ۔ کسی بات کو لکھنا (تاکہ محفوظ ہوجائے ) وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ [ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو یہ لوگ لکھتے ہیں ] 68:1 ۔ مسطور۔ اسم المفعول ہے ۔ لکھا ہوا ۔ وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْر [ اور قسم ہے ایک لکھی ہوئی کتاب کی ] 52:2 ۔ مصیطر ۔ یہ دراصل مسیطر ہے ۔ ا سی لئے قرآن مجید میں اس کی ” ص “ کے اوپر ایک چھوٹا سا ” س “ لکھا ہوتا ہے ۔ حفاظت کرنے والا ۔ داروغہ ۔ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ [ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں ] 88:22 ۔ (تفعیل ) تسطیرا ۔ بےبنیاد باتیں جمع کرنا ۔ فرضی کہانیاں یا قصے بنانا ۔ افسانہ یا ناول لکھنا ۔ اسطورۃ ۔ ج ، اساطیر، اسم ذات ہے ۔ فرضی کہانی ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 25 ۔ (افتعال ) استطارا اہتمام سے لکھنا ۔ مستطر اسم المفعول ہے۔ لکھا ہوا ۔ وَكُلُّ صَغِيْرٍ وَّكَبِيْرٍ مُّسْـتَـطَر [ اور تمام چھوٹی بڑی چیزیں لکھی ہوئی ہیں ] 54:53 ۔
ن ء ی : (ف) نایا (1) کسی سے بچنا ۔ دور ہونا ۔ (2) کسی کو کسی سے بچانا ۔ موڑلینا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 26 ۔ وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ [ اور جب بھی ہم انعام کرتے ہیں انسان پر تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور موڑ لیتا ہے اپنے پہلو کو ] 17: 83 ۔
و ق: (ض) ۔ وقفا ، ٹھہرانا ، روکنا ، زیر مطالعہ آیت نمبر 27 ۔ قف ۔ فعل امر ہے ۔ تو ٹھہرا ۔ تو روک ۔ وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔـوْلُوْنَ [ اور تم لوگ ٹھہراؤان کو بیشک یہ لوگ پوچھے جانے والے ہیں ] 37: 24 ۔ موقوف ۔ اسم المفعول ہے ۔ ٹھہرایا ہوا ۔ روکا ہوا۔ وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ [ اور اگر تو دیکھے جب ظالم لوگ روکے جانے والے ہوں گے اپنے رب کے پاس ] 34: 31 ۔
ب غ ت ۔ بغتا ، کسی چیز کا اچانک نمودار ہونا۔ بغتۃ ۔ حال ہے ۔ اچانک ۔ بےگمان ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 31 ۔
ر ط : (ن) فروطا ۔ آگے بڑھنا ، حد سے گزرنا ، کسی پر زیادتی کرنا ۔ قَالَا رَبَّنَآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ يَّفْرُطَ عَلَيْنَآ [ ہمیں خوف ہے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر ] 20:45 ۔ فرطا۔ یہ بھی مصدر ہے ، کسی کام میں کوتاہی کرنا ۔ کمی کرنا ۔ فرطا۔ حال ہے ۔ حد سے گزرا ہوا ۔ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا [ اور تھا اس کا کام سے گزرا ہوا ] 18:28 ۔ (افعال) افراطا ۔ حد سے گزارنا ، زیادہ کرنا ۔ مفرط ۔ اسم المفعول ہے ۔ زیادہ کیا ہوا ۔ ۭ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ [ کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کے لئے آگ ہے اور یہ کہ وہ لوگ زیادہ کئے جارہے ہیں ] 16:62 ۔ (تفعیل ) تفریطا ۔ مسلسل کوتاہی کرنا ۔ کمی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 31 ۔
وزر : (ض) وزرا ۔ (1) پہاڑ میں پناہ گاہ بنانا ۔ (2) کوئی بوجھل چیز اٹھانا ۔ زیرمطالعہ آیت نمبر 31 ۔ وزر ۔ (ج) اوزار۔ اسم ذات ہے ۔ بوجھ ۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي [ اور نہیں اٹھائے گی کوئی اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ ) 6:164 ۔ لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ [ تاکہ وہ لوگ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے پورے قیامت کے دن اور ان کے بوجھ میں سے بھی وہ گمراہ کرتے تھے جن کو کسی علم کے بغیر ] 16:25 ۔ وزر ۔ اسم ذات ہے پناہ گاہ ۔ كَلَّا لَا وَزَرَ [ ہرگز نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ] 75:11 ۔ وازر۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ہر حال میں ہمیشہ بوجھ بٹانے والا ، معاون ۔ وَجَعَلْنَا مَعَهٗٓ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا [ اور ہم نے بنایا ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ایک معاون ] 25:35 ۔
ل ھ و : (ف۔ ن) لھوا ۔ (1) مانوس ہونا ۔ پسند کرنا ۔ (2) کسی چیز سے غافل ہونا [ پسندیدہ چیز میں مشغول ہونے کے سبب سے ] لاہ ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ غافل ہونے والا یعنی غافل ۔ لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ [ غافل ہوتے ہوئے ان کے دل ] 21:3 ۔ لھو ۔ اسم ذات ہے ۔ ہر وہ چیز جس کا شغل کسی اہم کام سے غافل کردے ۔ تماشا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 32 ۔ (افعال ) الھاء ۔ کسی کو کسی چیز سے غافل کرنا ۔ تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ [ غافل نہیں کرتی ان کو تجارت اور ناہی خریدوفروخت اللہ کی یاد سے ] 24:37 ۔ (تفعل ) تلھی ۔ کسی سے غفلت برتنا ۔ فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى [ تو آپ نے اس سے غفلت برتی ] 80:10 ۔
ترکیب : اکنۃ اور وقرا ، یہ دونوں جعلنا کے مفعول ہیں ۔ (6:27) ولو تری شرطیہ ہے اس لئے اذ وقفوا اور فقالوا کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا ۔ یلیتنا حرف تمنا ہے ، نرد تمنا ہے لانکذب اور نکون واو صرف کی وجہ سے جواب تمنا ہیں ۔ حالت نصب میں ہیں ۔
نوٹ 1: زیر مطالعہ آیت نمبر 32 میں دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشا کہا گیا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے ۔ دراصل اس کو کھیل اور تماشے سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہاں حقیقت کے مخفی ہونے کی وجہ سے بےبصیرت اور ظاہر پرست انسانوں کے لیے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں، جن میں پھنس کر کچھ انسان ایسا عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں کہ ان کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا بن کر رہ جاتی ہے ۔ (تفہیم القرآن )
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے ذکر اللہ یا عالم یا طالب علم کے ۔ امام جزری (رح) کی تصریح کے مطابق دنیا کا ہر وہ کام جو اللہ کی اطاعت میں کیا جائے وہ سب ذکر اللہ میں داخل ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے سب ضروری کام جائز طریقے سے روزی کمانا اور دوسری ضروریات جو حدود شریعت سے باہر نہ ہوں ، وہ سب ذکر اللہ میں داخل ہیں ۔ احادیث میں اہل و عیال اقرباء احباب ، پڑوسی ، مہمان وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی کو صدقہ اور عبادت سے تعبیر فرمایا گیا ہے ۔ (معارف القرآن)
Ayah 6:26وَهُمْ [ اور وہ ] يَنْهَوْنَ [ روکتے ہیں ] عَنْهُ [ اس سے ] وَيَنْــــَٔـوْنَ [ اور دور ہوتے ہیں ] عَنْهُ ۚ [ اس سے ] وَاِنْ [ اور نہیں ] يُّهْلِكُوْنَ [ ہلاک کرتے وہ ] اِلَّآ [ مگر ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] مَا يَشْعُرُوْنَ (26) [ وہ شعور نہیں رکھتے ]
Ayah 6:27وَلَوْ [ اور اگر ] تَرٰٓي [ تو دیکھے ] اِذْ [ جب ] وُقِفُوْا [ وہ لوگ ٹھہرائے جائیں گے ] عَلَي النَّارِ [ آگ پر ] فَقَالُوْا [ تو کہیں گے ] يٰلَيْتَنَا [ اے کاش ] نُرَدُّ [ ہم لوٹائے جاتے ] وَ [ اور ] لَا نُكَذِّبَ [ ہم نہ جھٹلاتے ] بِاٰيٰتِ رَبِّنَا [ اپنے رب کی نشانیوں کو ] وَ [ اور ] نَكُوْنَ [ ہم ہوجاتے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (27) [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Ayah 6:28بَلْ [ بلکہ ] بَدَا [ نمایاں ہوا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يُخْفُوْنَ [ وہ لوگ چھپاتے تھے ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] وَلَوْ [ اور اگر ] رُدُّوْا [ وہ لوٹائے جائیں ] لَعَادُوْا [ تو ضرور دوبارہ کریں گے ] لِمَا [ اس کو ] نُهُوْا [ انہیں روکا گیا ] عَنْهُ [ جس سے ] وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک یہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [ یقینا جھوٹ کہنے والے ہیں ]
Ayah 6:29وَقَالُوْٓا [ اور انہوں نے کہا ] اِنْ [ نہیں ہے ] هِىَ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] حَيَاتُنَا الدُّنْيَا [ ہماری دنیا کی زندگی ] وَمَا نَحْنُ [ اور نہیں ہیں ہم ] بِمَبْعُوْثِيْنَ اٹھائے جانے والے ]
Ayah 6:30وَلَوْتَرٰٓي [ اور اگر تو دیکھے ] اِذْ وُقِفُوْا [ جب وہ ٹھہرائے جائیں گے ] عَلٰي رَبِّهِمْ ۭ [ ان کے رب کے سامنے ] قَالَ [ وہ (یعنی رب ) کہے گا ] اَلَيْسَ هٰذَا [ کیا یہ نہیں ہے ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق ] قَالُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] بَلٰى [ کیوں نہیں ] وَرَبِّنَا ۭ [ ہمارے رب کی قسم ہے ] قَالَ [ وہ کہے گا ] فَذُوْقُوا [ تو تم لوگ چکھو ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ [ تم لوگ کفر کرتے تھے ]
Ayah 6:31قَدْ خَسِرَ [ گھاٹے میں رہے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] کذبوا [ جھٹلایا ] بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی ملاقات کو ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب کبھی ] جَاۗءَتْهُمُ [ آتی ہے ان کے پاس ] السَّاعَةُ [ (موت کی ) گھڑی ] بَغْتَةً [ بےگمان ] قَالُوْا [ تو کہتے ہیں ] يٰحَسْرَتَنَا [ ہائے ہماری حسرت ] عَلٰي مَا [ اس پر جو ] فَرَّطْنَا [ ہم نے کوتاہی کی ] فِيْهَا ۙ [ اس میں ] وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ [ اور وہ لوگ اٹھائیں گے ] اَوْزَارَهُمْ [ اپنے بوجھ ] عَلٰي ظُهُوْرِهِمْ ۭ [ اپنی پیٹھوں پر ] اَلَا [ خبردار ] سَاۗءَ [ برا ] مَا [ وہ جو ] يَزِرُوْنَ [ یہ بوجھ اٹھاتے ہیں ]
Ayah 6:32وَمَا [ اور نہیں ہے ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ [ دنیوی زندگی ] اِلَّا [ مگر ] لَعِبٌ [ ایک کھیل ] وَّلَهْوٌ ۭ [ اور ایک تماشا ] وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ [ اور یقینا آخری گھر ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لئے جو ] يَتَّقُوْنَ ۭ [ تقوی کرتے ہیں ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 6:33قَدْ نَعْلَمُ [ ہم جان چکے ہیں ] اِنَّهٗ [ کہ یہ حقیقت ہے کہ ] لَيَحْزُنُكَ [ بیشک غمگین کرتی ہے آپ کو ] الَّذِيْ [ وہ (بات) جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک یہ لوگ ] لَا يُكَذِّبُوْنَكَ [ نہیں جھٹلاتے آپ کو ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن (یعنی بلکہ )] الظّٰلِمِيْنَ [ یہ ظالم لوگ ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کا ] يَجْحَدُوْنَ [ جانتے بوجھتے انکار کرتے ہیں ]
ج ح د : (ف) جحدا۔ اس کا انکار کرنا جس کا دل میں اقرار ہو ، جانتے بوجھتے انکار کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 33 ۔
ترکیب : انہ میں ضمیر الشان ہے ۔ (آیت نمب ر 2:85، نوٹ ۔ 1) الیحزنک کا فاعل الذی ہے ۔ الظلمین پر لام تعریف ہے ۔ (6:34) رسل اسم عاقل کی جمع مکسر ہے ۔ اس لئے واحد مونث کا صیغہ کذبت بھی جائز ہے۔ جاءک کا فاعل الباء محذوف ہے ۔ نبای میں یا زائدہ ہے ۔ یہ اصلا من نبا تھا المرسلین کا مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی ہے ۔ (6:35) ان شرطیہ کی وجہ سے کان کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ فتاتیھم میں فاسببہ کی وجہ سے تاتی حالت نصب میں آیا ہے ۔ (6:37) نزل کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے آیۃ حالت میں رفع میں ہے ۔
نوٹ 1: رسول اللہ ﷺ جب دیکھتے تھے کہ اس قوم کو سمجھاتے ہوئے مدت گزر گئی ہے اور یہ راہ راست پر نہیں آتے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کی طرف سے کوئی ایسی نشانی ظاہر ہو کہ یہ لوگ ایمان لے آئیں ۔ اس کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ اللہ کی اس حکمت کے خلاف ہے جس کے تحت اس نے انسان کو دنیا میں ایک ذمہ دار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے ، اسے تصرف کے اختیارات دئے ہیں، اطاعت اور نافرمانی کی آزادی بخشی ہے، امتحان کی مہلت عطا کی ہے اور اس کے طرز عمل کے مطابق جزا وسزا دینے کے لئے فیصلے کا ایک وقت مقرر کردیا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 6:34وَلَقَدْ كُذِّبَتْ [ اور بیشک جھٹلائے جاچکے ہیں ] رُسُلٌ [ بہت سے رسول ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] فَصَبَرُوْا [ تو وہ ثابت قدم رہے ] عَلٰي مَا [ اس پر جس پر ] كُذِّبُوْا [ انہیں جھٹلایا گیا ] وَاُوْذُوْا [ اور انہیں اذیت دی گئی ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اَتٰىهُمْ [ آئی ان کے پاس ] نَصْرُنَا ۚ [ ہماری مدد ] وَلَا مُبَدِّلَ [ اور کوئی بھی بدلنے والا نہیں ہے ] لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ [ اللہ کے فرمانوں کو ] وَلَقَدْ جَاۗءَكَ [ اور بیشک آچکی ہیں آپ کے پاس (کچھ خبریں ) ] مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں ) کی خبر میں سے ]
Ayah 6:35وَاِنْ كَانَ [ اور اگر ہے ] كَبُرَ [ بہت بھاری ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] اِعْرَاضُهُمْ [ ان کا اعراض کرنا ] فَاِنِ [ تو اگر ] اسْتَطَعْتَ [ آپ میں استطاعت ہے ] اَنْ [ کہ ] تَبْتَغِيَ [ آپ تلاش کریں ] نَفَقًا [ کوئی سرنگ ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] اَوْ [ یا ] سُلَّمًا [ کوئی سیڑھی ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] فَتَاْتِيَهُمْ [ تو آپ لے آئیں ان کے پاس ] بِاٰيَةٍ ۭ [ کوئی نشانی ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَجَمَعَهُمْ [ تو جمع کردیتا ان کو ] عَلَي الْهُدٰي [ ہدایات پر ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [ پس آپ ہرگز نہ ہوں ] مِنَ الْجٰهِلِيْنَ [ نادانوں میں سے ]
Ayah 6:36اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَسْتَجِيْبُ [ جواب دیتے ہیں (یعنی مانتے ہیں )] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَسْمَعُوْنَ ۭ [ سنتے ہیں ] وَالْمَوْتٰى [ اور مردے ] يَبْعَثُهُمُ [ اٹھائے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] ثُمَّ [ پھر ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ہی ] يُرْجَعُوْنَ [ وہ لوٹائے جائیں گے ]
Ayah 6:37وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] لَوْلَا [ کیوں نہیں ] نُزِّلَ [ اتاری گئی ] عَلَيْهِ [ ان پر ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [ ان کے رب (کی طرف ) سے ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] قَادِرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ] عَلٰٓي [ اس پر ] اَنْ [ کہ ] يُّنَزِّلَ [ کہ وہ اتارے ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Ayah 6:38وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [ کوئی چلنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَا [ اور نہ ہی ہے ] طٰۗىِٕرٍ [ کوئی بھی اڑنے والا ] يَّطِيْرُ [ جو اڑتا ہے ] بِجَنَاحَيْهِ [ اپنے دونوں بازؤں سے ] اِلَّآ [ مگر یہ کہ ] اُمَمٌ [ (وہ بھی ) امتیں ہیں ] اَمْثَالُكُمْ ۭ [ تم لوگوں کی مانند ] مَا فَرَّطْنَا [ ہم نے کمی نہیں کی ] فِي الْكِتٰبِ [ کتاب میں ] مِنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] ثُمَّ [ پھر ] اِلٰى رَبِّهِمْ [ ان کے رب کی طرف ہی ] يُحْشَرُوْنَ [ جمع کیے جاؤ گے ]
ترکیب : (6:38) من دابۃ کے من پر عطف ہونے کی وجہ سے طئر حالت جز میں ہے اور یہ نکرہ مخصوصہ ہے ۔ جناحی دراصل جناحین ) (تثنیہ ) تھا ۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہے ۔ امم خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے (6:39) فی ظلمت قائم مقام خبر ہے اور اس کا بھی مبتدا محذوف ہے ۔ (6:40) تدعون کا مفعول ہونے کی وجہ سے غیر اللہ حالت نصب میں ہے (6:42) لقد ارسلنا کا مفعول رسلا محذوف ہے ۔ (6:43) فلولا فعل تضرعوا سے متعلق ہے ۔ درمیان میں اذ جاء ہم باسنا جملہ معترضہ ہے۔
نوٹ : اس کائنات میں ، زمین میں ہو یا فضاؤں میں، جہاں کہیں جو بھی چیز ہے، ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی صناعی ، قدرت اور سبحانیت (Perfectionism) کی نشانیاں موجود ہیں جن کو دیکھ کر انسان اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کا ادراک حاصل کرسکتا ہے ۔ یہ کیسی نشانیاں ہیں اور ان سے کیا مراد ہے ، اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں ۔ اگر کسی پارک میں گھاس ، بوٹے، جھاڑیاں وغیرہ بےترتیبی سے اگے ہوئے ہیں تو اسے دیکھنے والا ہر شخص یہی کہے گا کہ اس پارک کا کوئی مالی کہیں نظر نہیں آرہا ہے، پھر بھی باغ کی حالت دیکھ کر ہر شخص مالی کے وجود کو بھی تسلیم کرے گا اور اس کی صلاحیت کا بھی اسے اندازہ ہوجائے گا ۔ اسی طرح ہر جاندار کے جسم میں ایک نظام اپنا کام کررہا ہے اور خود کائنات میں ایک نظم و ترتیب موجود ہے جسے دیکھ کر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کا ایک خالق ہے جو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے اور یہ سب کچھ خود بخود وجود میں آنے والی چیز نہیں ہے ۔ ا سی بنیاد پر ” عظیم دھماکہ “ (Big Bang) تھیوری پر تنقید کرتے ہوئے اور اسے رد کرتے ہوئے ایک مغربی سائنسدان نے کہا ہے کہ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ایک پریس میں دھماکہ ہوا اور ایک اور عظیم لغت (Dictonary) خود بخود وجود میں آگئی ۔
کائنات کی ہر چیز میں اپنے وجود اور اپنی صفات کی نشانیاں اور انسان میں مشاہدہ اور غور و فکر کی صلاحیتیں ودیعت کرکے اللہ تعالیٰ نے نتیجہ اخذ کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے لئے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے۔ انسان کی اس آزادی میں وہ مداخلت نہیں کرتا ۔ اس وجہ سے انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو کائنات اور زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بجائے انہیں باہمی تکاثر اور تفاخر پر صرف کردیتے ہیں ۔ یہ لوگ بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں اور لاعلمی کے اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں ، خواہ اپنے پیشے میں ماسڑس اور ڈاکٹریٹ کرلیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا فتوی تو یہی ہے۔
پھر جو لوگ اپنی صلاحیتوں کو کائنات اور زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، ان میں سے کسی کو گمراہی ملتی ہے اور کسی کو یہی نشانیاں سیدھی راہ پر ڈال دیتی ہیں ۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کون کس نیت اور ارادے سے تحقیق و جستجو کرنا ہے۔ جو ایک نامور سائنسدان اور موجد بننے کے لئے کرتا ہے ، اس کے حصے میں مادہ پرستی آتی ہے اور جو واقعی زندگی کے مقصد کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور اس کو یہی نشانیاں سیدھی راہ پر ڈال دیتی ہیں ۔
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ اصولوں اور نظام کے تحت ہوتا ہے اس لئے گمراہ کرنے اور ہدایت دینے کے عمل کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کرتا ہے ۔ جبکہ رائے قائم کرنے اور فیصلہ کرنے کے اختیار اور آزادی کی بنیاد پر انسان کی ذمہ داری اور جوابدہی برقرار رہتی ہے ۔