Ayah 6:119وَمَا لَكُمْ [ اور تمہیں کیا ہے ] اَلَّا تَاْكُلُوْا [ کہ تم لوگ نہیں کھاتے ] مِمَّا [ اس میں سے ] ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ [ اللہ کا نام یاد کیا گیا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] وَ [ حالانکہ ] قَدْ فَصَّلَ [ اس نے تفصیل سے بیان کیا ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] مَّا [ اس کو جو ] حَرَّمَ [ اس نے حرام کیا ] عَلَيْكُمْ [ تم پر ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ وہ چیز ] اضْطُرِرْتُمْ [ تم لوگ مجبور کئے گئے ] اِلَيْهِ ۭ [ جس کی طرف ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] كَثِيْرًا [ یقینا بھٹکاتے ہیں ] بِاَهْوَاۗىِٕهِمْ [ اپنی خواہشات سے ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ [ کسی علم کے بغیر ] اِنَّ رَبَّكَ [ بیشک آپ کا رب ] هُوَ [ وہ ہی ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِالْمُعْتَدِيْنَ [ حد سے بڑھنے والوں کو ]
Ayah 6:120وَ [ اور ] ذَرُوْا [ تم لوگ چھوڑدو ] ظَاهِرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے ظاہر کو ] وَبَاطِنَهٗ ۭ [ اور اس کے باطن کو ] اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] يَكْسِبُوْنَ [ کماتے ہیں ] الْاِثْمَ [ گناہ کو ] سَيُجْزَوْنَ [ ان کو بدلہ دیا جائے گا ] بِمَا [ بسبب اس کے جس کا ] كَانُوْا يَقْتَرِفُوْنَ [ وہ لوگ ارتکاب کرتے تھے ]
Ayah 6:121وَلَا تَاْكُلُوْا [ اور تم لوگ مت کھاؤ] مِمَّا [ اس میں سے ] لَمْ يُذْكَرِ [ یاد نہیں کیا گیا ] اسْمُ اللّٰهِ [ اللہ کا نام ] عَلَيْهِ [ جس پر ] وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ ] لَفِسْقٌ ۭ [ یقینا نافرمانی ہے ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] الشَّيٰطِيْنَ [ شیطان لوگ ] لَيُوْحُوْنَ [ یقینا پیغام رسانی کرتے ہیں ] اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ [ اپنے کارسازوں کی طرف ] لِيُجَادِلُوْكُمْ ۚ [ تاکہ وہ تم لوگوں سے مناظرہ کریں ] وَاِنْ [ اور اگر ] اَطَعْتُمُوْهُمْ [ تم لوگ اطاعت کروگے ان کی ] اِنَّكُمْ [ تو بیشک تم لوگ ] لَمُشْرِكُوْنَ [ یقینا شرک کرنے والے ہو۔
Ayah 6:122اَوَمَنْ [ اور کیا وہ ، جو ] كَانَ [ تھا ] مَيْتًا [ مردہ ] فَاَحْيَيْنٰهُ [ پھر ہم نے زندگی دی اس کو ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] لَهٗ [ اس کے لئے ] نُوْرًا [ ایک نور ] يَّمْشِيْ [ وہ چلتا پھرتا ہے ] بِهٖ [ اس سے ] فِي النَّاسِ [ لوگوں میں ] كَمَنْ [ اس کی مانند ہے ] مَّثَلُهٗ [ جس کے جیسا ] فِي الظُّلُمٰتِ [ اندھیروں میں ہے ] لَيْسَ بِخَارِجٍ [ (وہ ) نکلنے والا نہیں ہے ] مِّنْهَا ۭ [ ان سے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] زُيِّنَ [ سجایا گیا ] لِلْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کے لیے ] مَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے ہیں ]
ص غ ر : (س) صغرا چھوٹا ہونا ۔ صغیر ، فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ چھوٹا ۔ وَكُلُّ صَغِيْرٍ وَّكَبِيْرٍ مُّسْـتَـطَرٌ [ اور چھوٹا بڑا سب کچھ لکھا ہوا ہے ] 54:53 ۔ اصغر ، افعل تفضیل ہے ۔ زیادہ چھوٹا ۔ لَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ نہ اس سے زیادہ کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ ہی کوئی بڑی چیز ہے مگر یہ کہ وہ ایک واضح کتاب میں ہے ] 10:61 ۔ (ک) صغارا حقیر ہونا ، ذلیل ہونا ۔ صغار ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ ذلت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 124 ۔ صاغر ۔ اسم الفاعل ہے ۔ چھوٹا ہونے والا ۔ حقیر ہونے والا ۔ ذلیل ہونے والا ۔ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيْنَ [ بیشک تو حقیر و ذلیل ہونے والوں میں سے ہے ] 7:13 ۔
ش ر ح : (ف) شرحا (1) گوشت کے لمبے لمبے ٹکڑے کاٹ کر اسے پھیلانا ۔ پھر مطلقا وسعت دینا ، کشادہ کرنا کے لئے آتا ہے ۔ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ کیا ہم نے کشادہ نہیں کیا آپ کے لئے آپ کے سینے کو ] 94:1 ۔ (2) کسی کام یا مسئلہ کے گہرے مطالب کو کھولنا ۔ پھر مطلقا کھولنا کے لئے آتا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 125 ۔ اشرح ۔ فعل امر ہے ۔ تو کشادہ کر ۔ تو کھول ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ [ اے میرے رب تو کھول دے میرے لئے میرے سینے کو ] 20:25 ۔
ض ی ق : (ض) ضیقا : تنگ ہونا۔ گھٹنا ۔ وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ [ اور تنگ ہوگئی تم لوگوں پر زمین ] 9:25 ۔ ضیق ۔ اسم ذات ہے ۔ تنگی ذات ہے ۔ تنگی ۔ گھٹن ۔ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ [ اور آپ مت پڑیں گھٹن میں اس سے جو یہ لوگ مکر کرتے ہیں ] 16:127 ۔ اسم الفاعل ہے۔ تنگ ہونے والا ۔ گھٹنے والا ۔ فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ [ تو شائد کہ آپ چھوڑنے والے ہوں اس کے بعض کو جو وحی کیا جاتا ہے آپ کی طرف اور گھٹنے والا ہو اس سے آپ کا سینہ ] 11:12 ۔ ضیق ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ تنگ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 125 ۔ (تفعیل ) تضیقا ۔ تنگ کرنا ۔ گھوٹنا ۔ وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ [ اور تم لوگ تکلیف مت دو ان کو تاکہ تنگ کرو ان کو ] 65:6 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 122 ) نورا نکرہ مخصوصہ ہے اور یمشی بہ اس کی خصوصیت ہے ۔ مثلہ مبتدا ہے ۔ اور اس کی خبر محذوف ہے ۔ لیس کا اسم ھو بھی محذوف ہے ۔ کانوا یعملون ماضی استمراری ہے۔ لیکن یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے اس لئے اردو محاورہ میں اس کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (آیت ۔ 123) اکابر مجرمیھا مرکب اضافی ہے اور جعل کا مفعول اول ہے جبکہ اس کا مفعول ثانی محذوف ہے ۔ (آیت ۔ 124) سیصیب کا مفعول الذین اجرموا ہے جبکہ صغار اور عذاب شدید اس کے فاعل ہیں ۔ فمن کا من شرطیہ ہے اس لئے یرد اور یشرح مجزوم ہیں ۔ یجعل کا مفعول ثانی ضیقا ہے جبکہ حرجا حال ہے ۔ یصعد دراصل مادہ ” ص ع د “ سے باب تفعل کا مضارع یتصعد ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر یصعد استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح یذکرون بھی دراصل یتذکرون ہے اور اس سے پہلے مستقیما حال ہے۔
نوٹ 1: (الف) یہاں موت سے مراد کفر کی زندگی ہے اور حیات سے مراد ایمان کی زندگی ہے ۔ نور سے مراد وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز اور حلال و حرام کی تفصیل کے لئے اتاری ہے ۔ ظلمات سے مراد ظنون وادہام اور خواہشات وبدعات ہیں ۔ (تدبر القرآن )
(ب) یمشی بہ فی الناس فرما کر اس طرف بھی ہدایت کردی گئی ہے کہ نور ایمان صرف کسی مسجد یا خانقاہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ نور دیا ہے وہ سب جگہ لوگوں کے رزم وبزم میں اس کو لئے پھرتا ہے اور ہر جگہ اس روشنی سے خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے ۔ نور کسی ظلمت سے دب نہیں سکتا ۔ ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی اندھیرے میں مغلوب نہیں ہوتا ۔ اس کی روشنی تیز ہوتی ہے تو دور تک پھیلتی ہے ، کم ہوتی ہے تو تھوڑی جگہ کو روشن کرتی ہے، مگر اندھیری پر بہرحال غالب ہی رہتی ہے ۔ وہ روشنی ہی نہیں جو اندھیری سے مغلوب ہوجائے۔ اسی طرح وہ ایمان ہی نہیں جو کفر سے مغلوب یا مرعوب ہوجائے۔ یہ نور ایمانی انسانی زندگی کے ہر شعبہ ، ہر حال اور ہر دور میں انسان کے ساتھ ہے۔ (معارف القرآن )
(ج) کمن مثلہ عربی محاورہ ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ تیرے جیسا آدمی تو یہ کام نہیں کرسکتا ۔ اس سے ہماری اصل مراد یہ ہوتی ہے کہ تو یہ کام نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح عربی میں یہ کہنا کہ اس کی مانند جس کے جیسا اندھیروں میں ہے ، اس سے اصل مراد یہی ہے کہ اس کی مانند جو اندھیروں میں ہے ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم) ۔
(د) زین ۔ فعل مجہول ہے یعنی اس کا فاعل نامعلوم ہے اور یہ پتہ نہیں کہ سجانے والا کون ہے ۔ لیکن انسانی ذہن تفتیش کرنے سے باز نہیں آتا اور سوچتا ہے کہ سجانے والا کون ہوسکتا ہے ۔ تو یہ بات ذہن میں واضح کرلیں کہ زین کا بھی فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں ہر کام کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے ۔ کیونکہ ہر کام اسی کے بنائے ہوئے اسباب وعلل (CAUSE ANDEFFECT) کے قوانین کے تحت ہوتا ہے ۔ البتہ ہر کام کا ایک فاعل مجازی بھی ہوتا ہے ۔ جس کو ترک واختیار کی آزادی (FREe DOM OF CHOICE) اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہوئی ہے ۔ وہ اپنی آزاد مرضی سے کسی کام کو ترک کرتا ہے ۔ کسی کو اختیار کرتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اپنے اعمال کا جوابدہ ہے اس لحاظ سے زین کے فاعل مجازی شیاطین جن وانس ہیں ۔ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ یہاں فعل مجہول لا کر اس نے سجائے کے عمل کے دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرلیا ہے ۔
(ھ) صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم کیسے پہچانیں کہ کسی کو شرح صدر حاصل ہے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس کا پتہ اس بات سے چلے گا کہ کون دار الآخرت کی طرف زیادہ جھکا ہوا ہے اور دنیا کے تمتعات سے کس قدر دور رہتا ہے اور موت آنے سے پہلے ہی موت کے لئے خود کو کس قدر تیار کر رکھا ہے ۔ (ابن کثیر )
Ayah 6:123وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنایا ] فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ [ ہر ایک بستی میں ] اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْهَا [ اس کے مجرموں کے سردار ] لِيَمْكُرُوْا [ تاکہ وہ ساز باز کریں ] فِيْهَا ۭ [ اس میں ] وَمَا يَمْكُرُوْنَ [ اور وہ ساز باز نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] بِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں پر ] وَ [ اس حالت میں کہ ] مَا يَشْعُرُوْنَ [ وہ شعور نہیں رکھتے ]
Ayah 6:124وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءَتْهُمْ [ آتی ہے ان کے پاس ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی ] قَالُوْا [ تو وہ لوگ کہتے ہیں ] لَنْ نُّؤْمِنَ [ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] نُؤْتٰى [ ہم کو دیا جائے ] مِثْلَ مَآ [ اس کے جیسا جو ] اُوْتِيَ [ دیا گیا ] رُسُلُ اللّٰهِ [ اللہ کے رسولوں کو ] ۂاَللّٰهُ [ اللہ ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] حَيْثُ [ (کہ ) کہاں ] يَجْعَلُ [ وہ بنائے (یعنی رکھے) ] رِسَالَتَهٗ ۭ [ اپنی رسالت کو ] سَيُصِيْبُ [ پہنچے گی ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جنہوں نے ] اَجْرَمُوْا [ جرم کیا ] صَغَارٌ [ ایک ذلت ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ [ اور ایک شدید عذاب ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ [ یہ لوگ ساز باز کرتے ہیں ]
Ayah 6:125فَمَنْ [ پس جس کے لئے ] يُّرِدِ [ ارادہ کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ ] يَّهدِيَهٗ [ وہ ہدایت دے اس کو ] يَشْرَحْ [ تو وہ کشادہ کردیتا ہے ] صَدْرَهٗ [ اس کے سینے کو ] لِلْاِسْلَامِ ۚ [ اسلام کے لئے ] وَمَنْ [ اور جس کے لئے ] يُّرِدْ [ وہ ارادہ کرتا ہے ] اَنْ [ کہ ] يُّضِلَّهٗ [ وہ بھٹکا دے اس کو ] يَجْعَلْ [ تو وہ بنا دیتا ہے ] صَدْرَهٗ [ اس کے سینے کو ] ضَيِّقًا [ تنگ ] حَرَجًا [ تنگ ہوتے ہوئے ] كَاَنَّمَا [ گویا کہ ] يَصَّعَّدُ [ وہ ہانپتے کانپتے چڑھتا ہے ] فِي السَّمَاۗءِ ۭ [ آسمان میں ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] يَجْعَلُ [ رکھ دیتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الرِّجْسَ [ نجاست کو ] عَلَي الَّذِيْنَ ] ان لوگوں پر جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ]
Ayah 6:126وَھٰذَا [ اور یہ ] صِرَاطُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا راستہ ہے ] مُسْتَقِـيْمًا ۭ [ ہر کجی اور جھکاؤ سے پاک ہوتے ہوئے ] قَدْ فَصَّلْنَا [ ہم نے تفصیل سے بیان کردیا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کرتے ہیں ]
Ayah 6:127لَهُمْ [ ان کے لئے ] دَارُ السَّلٰمِ [ سلامتی کا گھر ہے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کے پاس ] وَهُوَ [ اور وہ ] وَلِيُّهُمْ [ ان کا کارساز ہے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے ہیں
Ayah 6:128وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَحْشُرُهُمْ [ وہ اکٹھا کرے گا ان لوگوں کو ] جَمِيْعًا ۚ [ سب کے سب کو ] يٰمَعْشَرَالْجِنِّ [ (پھر کہے گا) اے جنوں کے گروہ ] قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ [ تم نے بہت جمع کیا ہے ] مِّنَ الْاِنْسِ ۚ [ انسانوں میں سے ] وَقَالَ [ اور کہیں گے ] اَوْلِيٰۗـؤُهُمْ [ ان کے ساتھی ] مِّنَ الْاِنْسِ [ انسانوں میں سے ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اسْتَمْتَعَ [ فائدہ اٹھایا ] بَعْضُنَا [ ہمارے بعض نے ] بِبَعْضٍ [ بعض سے ] وَّبَلَغْنَآ [ اور ہم پہنچے ] اَجَلَنَا الَّذِيْٓ [ اپنی اس مدت کو جو ] اَجَّلْتَ [ تو نے وقت مقرر کیا ] لَنَا ۭ [ ہمارے لئے ] قَالَ [ وہ (یعنی اللہ ) کہے گا ] النَّارُ [ آگ ] مَثْوٰىكُمْ [ تمہارا ٹھکانہ ہے ] خٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَآ [ اس میں ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ وہ جو ] شَاۗءَ [ چاہے ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 128) یحشر کی ضمیر فاعلی گزشتہ آیت میں ربہم کے لئے ہے ۔ جمیعا تاکید کے لئے ہے اور اس کے آگے فیقول محذوف ہے ۔ الجن والانس پر لام جنس ہے ۔ (آیت ۔ 130) ینذرون کا مفعول اول کم ہے اور مفعول ثانی لقاء ہے ۔ (آیت ۔ 133) الغنی صفت ہے ۔ رب کی اور یہ پورا مرکب اضافی مبتدا ہے ، جبکہ ذوالرحمۃ اس کی خبر ہے ۔ آخرین مضاف الیہ قوم کی صفت ہے ۔ (آیت ۔ 134) ات اسم الفاعل ہے اور ان کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے جب کہ ان کا اسم ماتوعدون ہے۔ توعدون مجہول ہے ۔ ثلاثی مجرد اور باب افعال کے مجہول ہم شکل ہوجاتے ہیں ۔ اس کو اگر ثلاثی کا مجہول مانیں تو معنی ہوں گے ” وعدہ دیئے جاتے ہو۔ “ اگر افعال کا مجہول مانیں تو معنی ہوں گے ۔” دھمکائے جاتے ہو یا ڈرائے جاتے ہو۔ “ دونوں طرح سے ترجمہ کو درست مانا جائے گا ۔ (آیت ۔ 135) عاقبۃ کی صفت محذوف ہے اور الدار پر لام تعریف ہے ۔ انہ ضمیر الشان ہے ۔
Ayah 6:129وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُوَلِّيْ [ ہم پھیر دیں گے (یعنی ساتھ ملا دیں گے ) ] بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کے بعض کو ] بَعْضًۢا [ بعض کے ساتھ ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ کمائی کرتے تھے ]
Ayah 6:130يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ اے انسانوں اور جنوں کے گروہ ] اَ [ کیا ] لَمْ يَاْتِكُمْ [ نہیں پہنچے تمہارے پاس ] رُسُلٌ [ کچھ رسول ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] يَقُصُّوْنَ [ وہ بیان کرتے تھے ] عَلَيْكُمْ [ تم پر ] اٰيٰتِيْ [ میری آیتوں (یعنی ہدایات) کو ] وَيُنْذِرُوْنَكُمْ [ اور خبردار کرتے تھے تم کو ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۭ [ تمہارے اس دن کے ملاقات کرنے سے ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] شَهِدْنَا [ ہم نے گواہی دی ] عَلٰٓي اَنْفُسِـنَا [ اپنی جانوں کے خلاف ] وَغَرَّتْهُمُ [ اور (یہ کہ ) ان کو دھوکہ دیا ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی نے ] وَشَهِدُوْا [ اور وہ گواہی دیں گے ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں کے خلاف ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ ] کانوا [ تھے ] كٰفِرِيْنَ [ کفر کرنے والے ]
نوٹ 1: آیت نمبر 130، سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں اور جنوں ، دونوں میں رسول آئے تھے ۔ لیکن اس ضمن میں علماء کی رائے مختلف ہیں ۔ بعض کا کہنا ہے کہ رسول اور نبی صرف انسان ہی ہوئے ہیں ۔ جنوں میں سے کوئی بلاواسطہ رسول نہیں ہوا ۔ بلکہ ایسا ہوا ہے کہ انسانی رسول کا کلام اپنی قوم کو پہنچانے کے لئے جنوں میں کچھ لوگ ہوتے ہیں ۔ جو درحقیقت رسولوں کے قاصد اور پیغامبر ہوتے تھے ۔ مجازی طور پر ان کو بھی رسول کہہ دیا جاتا ہے ۔ ایک رائے یہ ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ سے پہلے انسانوں میں انسانی رسول آتے تھے اور جنوں میں انہیں میں سے رسول ہوتے تھے ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ کو سارے عالم کے انسانوں اور جنوں کا رسول بنا کر بھیجا گیا اور وہ بھی کسی ایک زمانے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن وانس آپ کی امت ہیں ۔ ایک اور رائے یہ ہے کہ جب یہ ثابت ہے کہ انسانوں سے پہلے زمین پر جن آباد تھے اور وہ بھی انسانوں کی طرح احکام شرع کے مکلف ہیں تو از روئے عقل ضروری ہے کہ ان میں بھی رسول اور پیغمبر ہوں (معارف القرآن )
Ayah 6:131ذٰلِكَ [ یہ ] اَنْ [ کہ ] لَّمْ يَكُنْ [ تھا ہی نہیں ] رَّبُّكَ [ آپ کا رب ] مُهْلِكَ الْقُرٰي [ بستیوں کو ہلاک کرنے والا ] بِظُلْمٍ [ ظلم سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] اَهْلُهَا [ اس کے لوگ ] غٰفِلُوْنَ [ غافل ہوں ]
Ayah 6:132وَلِكُلٍّ [ اور ہر ایک کے لئے ] دَرَجٰتٌ [ درجے ہیں ] مِّمَّا [ اس میں سے جو ] عَمِلُوْا ۭ [ انہوں نے عمل کئے ] وَمَارَبُّكَ [ اور آپ کا رب نہیں ہے ] بِغَافِلٍ [ غافل ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ عمل کرتے ہیں ]
Ayah 6:133وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ [ اور آپ کا بےنیاز رب ] ذُو الرَّحْمَةِ ۭ [ رحمت والا ہے ] اِنْ [ اگر ] يَّشَاْ [ وہ چاہے ] يُذْهِبْكُمْ [ تو لے جائے تم لوگوں کو ] وَيَسْتَخْلِفْ [ اور جانشین بنائے ] مِنْۢ بَعْدِكُمْ [ تمہارے بعد ] مَّا [ جس کو ] يَشَاۗءُ [ وہ چاہے ] كَمَآ [ جیسے کہ ] اَنْشَاَكُمْ [ اس نے پیدا کیا تم کو ] مِّنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِيْنَ [ ایک دوسری قوم کی اولاد سے ]
Ayah 6:134اِنَّ [ بیشک ] مَا تُوْعَدُوْنَ [ جس چیز سے تم کو ڈرایا جاتا ہے وہ ] لَاٰتٍ ۙ [ یقینا آنے والی ہے ] وَّمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے ]
Ayah 6:135قُلْ [ آپ کہے ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْمَلُوْا [ تم لوگ عمل کرو ] عَلٰي مَكَانَتِكُمْ [ اپنی جگہ پر ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی) ] عَامِلٌ ۚ [ ایک عمل کرنے والا ہوں ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ ۙ [ تم لوگ جان لوگے ] مَنْ [ (کہ ) کون ہے،] تَكُوْنُ [ ہوگا ] لَهٗ [ جس کے لئے ] عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ [ گھر کا (اچھا ) انجام ] اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] لَايُفْلِحُ [ فلاح نہیں پاتے ] الظّٰلِمُوْنَ [ ظلم کرنے والے ]
Ayah 6:136وَجَعَلُوْا [ اور وہ لوگ بناتے ہیں ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] ذَرَاَ [ اس نے پیدا کیا ] مِنَ الْحَرْثِ [ کھیتی میں سے ] وَالْاَنْعَامِ [ اور مویشیوں میں سے ] نَصِيْبًا [ ایک حصہ ] فَقَالُوْا [ پھر کہتے ہیں ] ھٰذَا [ یہ ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہے ] بِزَعْمِهِمْ [ ان کے گمان میں ] وَھٰذَا [ اور یہ ] لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ [ ہمارے شریکوں کے لئے ہے ] فَمَا [ پس جو ] كَانَ [ ہوتا ہے ] لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ [ ان کے شریکوں کے لئے ] فَلَا يَصِلُ [ تو وہ نہیں پہنچتا ] اِلَى اللّٰهِ ۚ [ اللہ تک ] وَمَا [ اور جو ] كَانَ [ ہوتا ہے ] لِلّٰهِ [ اللہ کیلئے ] فَهُوَ يَصِلُ [ تو وہ پہنچتا ہے ] اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭ [ ان کے شریکوں تک ] سَاۗءَ [ کتنا برا ہے ] مَا [ وہ جو ] يَحْكُمُوْنَ [ یہ لوگ فیصلہ کرتے ہیں ]
ذرء : (ف) ذرءا ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے ارادے کو ظاہر کرنا ۔ (1) پیدا کرنا ۔ (زیر مطالعہ آیت ۔ 136) (2) بکھیرنا ۔ پھیلانا ۔ وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ [ اور وہ جو اس نے بکھیرا تمہارے لئے زمین میں مختلف ہوتے ہوئے ان کے رنگ ] پ 14:13 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 136) جعلوا کا مفعول نصیبا ہے ۔ (آیت ۔ 137) زین کا مفعول قتل اولادہم اور اس کا فاعل شرکاء ہم (آیت ۔ 138) ھذہ مبتدا ہے ۔ انعام اور حرث اس کی خبریں ہیں جبکہ حجر ان دونوں کی صفت ہے ۔ اس کے آگے انعام “ دومرتبہ آیا ہے اور دونوں جگہ یہ نکرہ مخصوصہ ہے۔ افتراء حال ہے اور علیہ کی ضمیر اللہ کے لئے ہے۔ (آیت ۔ 139) ما موصولہ مبتدا ہے ۔ فی بطون ھذہ الانعام قائم مقام خبر ہے ۔ اس کی خبر موجود ‘ محذوف ہے جبکہ خالصۃ اور محرم صفت ہیں ۔ ان آیات میں مشرکین کی مستقل عادت کا بیان ہے اس لئے اردو محاورہ کی ضرورت کے تحت افعال ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔
نوٹ 1: مشرکین رواج کے مطابق اللہ کے نام پر کچھ نکال تو دیتے لیکن اگر اتفاق سے کسی بت کے نام کی بکری مرگئی یا چوری ہوگئی یا اس کے نام کا غلہ چوہے کھاگئے، تو اس کی تلافی لازما خدا کے حصے میں سے کردی جاتی اور اگر اسی قسم کی کوئی آفت خدا کے نام پر نکالے ہوئے حصے پر آجاتی تو یہ ممکن نہیں کہ اس کی تلافی معبودوں کے حصے کے مال سے کرنے کی جرات کریں ۔ (تدبر القرآن)
ان توہمات کی اصل جڑ کیا ہے ۔ اس کو سمجھنے کیلئے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ جو حصہ خدا کے نام پر نکالا جاتا ہے وہ فقیروں ، مسکینوں وغیرہ پر خرچ کیا جاتا ہے اور جو حصہ شریکوں کے لئے نکالا جاتا ہے وہ یا تو براہ راست مذہبی طبقوں کے پیٹ میں جاتا ہے یا نذر ونیاز اور چڑھاوے کی صورت میں بالواسطہ مجاوروں تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس لئے مذہبی پیشواؤں نے مسلسل تلقین سے جاہلوں کے دل میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ خدا کے حصے میں کمی ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن ” خدا کے پیاروں “ کے حصے میں کمی نہ ہونی چاہیے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 6:137وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] زَيَّنَ [ سجایا ] لِكَثِيْرٍ [ بہتوں کے لئے ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ] قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ [ اپنی اولاد کے قتل کرنے کو ] شُرَكَاۗؤُهُمْ [ ان کے شریکوں نے ] لِيُرْدُوْهُمْ [ تاکہ وہ تباہ و برباد کریں ان کو ] وَلِيَلْبِسُوْا [ اور تاکہ وہ گڈمڈ کریں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] دِيْنَهُمْ ۭ [ ان کے دین کو ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَا فَعَلُوْهُ [ تو وہ نہ کرتے اس کو ] فَذَرْهُمْ [ پس آپ چھوڑ دیں ان کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يَفْتَرُوْنَ [ وہ گھڑتے ہیں ]
Ayah 6:138وَقَالُوْا [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] هٰذِهٖٓ [ یہ ] اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ڰ [ یہ ممنوع مویشی اور کھیتی ہیں ] لَّا يَطْعَمُهَآ [ نہیں کھاتا اس کو ] اِلَّا [ مگر ] مَنْ [ وہ جسے ] نَّشَاۗءُ [ ہم چاہیں ] بِزَعْمِهِمْ [ ان کے گمان میں ] وَاَنْعَامٌ [ اور مویشی ] حُرِّمَتْ [ حرام کیا گیا ] ظُهُوْرُهَا [ جن پر سوار ہونا ] وَاَنْعَامٌ [ اور مویشی ] لَّا يَذْكُرُوْنَ [ وہ لوگ یاد نہیں کرتے ] اسْمَ اللّٰهِ [ اللہ کا نام ] عَلَيْهَا [ جن پر ] افْتِرَاۗءً [ گھڑتے ہوئے ] عَلَيْهِ ۭ [ اس پر (یعنی اللہ پر )] سَيَجْزِيْهِمْ [ وہ بدلہ دے گا ان کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑتے ہیں ]
Ayah 6:139وَقَالُوْا [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَا [ وہ جو ] فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ [ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے ] خَالِصَةٌ [ خاص ہے ] لِّذُكُوْرِنَا [ ہمارے مردوں کے لئے ] وَمُحَرَّمٌ [ اور حرام کیا ہوا ہے ] عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ [ ہماری بیویوں پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ وہ ہو ] مَّيْتَةً [ مردہ ] فَهُمْ [ تو وہ (سب) ] فِيْهِ [ اس میں ] شُرَكَاۗءُ ۭ [ شریک ہیں ] سَيَجْزِيْهِمْ [ وہ بدلہ دے گا ان کو ] وَصْفَهُمْ ۭ [ ان کی صفت بیان کرنے کا ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 6:140قَدْ خَسِرَ [ خسارے میں پڑچکے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنہوں نے ] قَتَلُوْٓا [ قتل کیا ] اَوْلَادَهُمْ [ اپنی اولاد کو ] سَفَهًۢا [ احمق ہوتے ہوئے ] بِغَيْرِ عِلْمٍ [ کسی علم کے بغیر ] وَّحَرَّمُوْا [ اور انہوں نے حرام کیا ] مَا [ اس کو جو ] رَزَقَهُمُ [ رزق دیا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] افْتِرَاۗءً [ گھڑتے ہوئے ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ] قَدْ ضَلُّوْا [ وہ لوگ بھٹک چکے ہیں ] وَمَا كَانُوْا [ اور وہ نہیں ہیں ] مُهْتَدِيْنَ [ ہدایت پانے والے ]
Ayah 6:141وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَنْشَاَ [ پیدا کیے ] جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ [ چھپڑ پر ڈالے ہوئے باغات کو ] وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ [ اور چھپر پر نہ ڈالے ہوؤں کو ] وَّالنَّخْلَ [ اور کھجور کو ] وَالزَّرْعَ [ اور کھیتی کو ] مُخْتَلِفًا [ مختلف ہوتے ہوئے ] اُكُلُهٗ [ اس کا پھل ] وَالزَّيْتُوْنَ [ اور زیتون کو ] وَالرُّمَّانَ [ اور انارکو ] مُتَشَابِهًا [ باہم مشابہ ہونے والے ] وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۭ [ اور باہم مشابہ نہ ہونے والے ] كُلُوْا [ تم لوگ کھاؤ] مِنْ ثَمَرِهٖٓ [ اس کے پھل میں سے ] اِذَآ [ جب بھی ] اَثْمَرَ [ وہ پھل دے ] وَاٰتُوْا [ اور تم لوگ دو ] حَقَّهٗ [ اس کا حق ] يَوْمَ حَصَادِهٖ [ اس کی فصل کاٹنے کے دن ] ڮ وَلَا تُسْرِفُوْا ۭ [ اور ضرورت سے زیادہ مت خرچ کرو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ [ لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُسْرِفِيْنَ [ ضرور سے زیادہ خرچ کرنے والوں کو ]
زرع : (ف) زرعا ۔ کھیتی کو اگانا ۔ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ [ تو کیا تم لوگوں نے غور کیا اس پر جو تم لوگ بوتے ہو۔ کیا تم لوگ اگاتے ہو اس کو یا ہم اگانے والے ہیں ] 56:63 تا 64 ۔ زارع ۔ فاعل کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ اگانے والا ۔ زراع ۔ (ج) زراع ، فعال کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بار بار اگانے والا یعنی کسان ۔ یعجب الزراع [ بھلی لگتی ہے کسانوں کو ] 48:29 ۔ زرع ۔ (ج) زروع اسم ذات ہے ۔ اصلا اگی ہوئی چیز کو کہتے ہیں پھر عرف عام میں کھیتی کہہ دیتے ہیں ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيْمٌ [ اور کھیتیوں میں اور کھجوروں میں جن کی کونپل ملائم ہے ] 26:148 ۔
ح ص د : (ن ، ض) حصادا (1) کھیتی کاٹنا ۔ (2) کسی چیز کو تہس نہس کرنا ۔ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ [ پھر جو تم لوگ کاٹو تو اس کو چھوڑ دو اس کی بال میں ] 12:47 ۔ حصید ، فعیل کے وزن پر صفت ہے اسم المفعول کے معنی میں (1) کاٹا ہوا (2) تہس نہس کیا ہوا۔ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ [ پھر ہم نے اگائے اس سے باغات اور کاٹا جانے والا اناج ] 50:9 ۔ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ [ یہ بستیوں کی خبروں میں سے ہے، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر ان میں سے کچھ قائم ہیں اور کچھ تہس نہس کی ہوئی ہیں ] 11:100 ۔
ضء ن : (ف) ضانا ، دنبوں کو بکریوں سے الگ کرنا ۔ ضان ۔ اسم جنس ہے ۔ دنبہ ، بھیڑ ، زیر مطالعہ آیت ۔ 143 ۔
م ع ز : (ف) معزا ۔ بکریوں کو بھیڑیوں سے الگ کرنا۔ معز ۔ اسم جنس ہے ۔ بکری ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 143 ۔
ش م ل : (ن) شملا ۔ بائیں جانب لینا ۔ (س) شملا۔ کسی چیز کو کسی چیز میں لپیٹنا ۔ شمال (ج) شمائل بایاں جانب ۔ وَّنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ڰ [ اور پلٹتے ہیں ان کو دائیں جانب والی (کروٹ) اور بائیں جانب والی ] 18:18 ۔ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ [ اور ان کے دائیں جانب سے اور ان کے بائیں جانب سے ] 7:17 ۔ (افتعال ) اشتمالا ۔ کسی چیز پر پورا لپٹنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 143 ۔
ء ب ل : (س) ابلا ۔ اونٹوں کا اچھی طرح انتظام کرنا۔ ابل ۔ اسم جنس ہے ، اونٹ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 144 ۔ ابابیل ۔ اونٹوں کا قطار درقطار چلنا ۔ اس کا استعمال عام ہے ۔ کسی کا بھی قطار در قطار چلنا یا جھنڈ در جھنڈ اڑنا ۔ وَّاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ [ اور اس نے بھیجا ان پر جھنڈ در جھنڈ پرندوں کو ] 105:3 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 141) انشا کا مفعول ہونے کی وجہ سے جنت معروشت حالت نصب میں ہے جبکہ غیر معروشت میں غیر کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے معروشت حالت جر میں ہے اور یہ مرکب اضافی بھی انشا کا مفعول ہے اس لئے غیر پر نصب آئی ہے ۔ اس کے آگے النخل ، الزرع ، اور الرمان ، یہ سب بھی انشاء کے مفعول ہیں ۔ حقہ کی ضمیر ھوالذی یعنی اللہ کے لئے ہے (آیت ۔ 142) من الانعام سے پہلے انشاء محذوف ہے ۔ اسی طرح ثمنیۃ ازواج میں ثمنیۃ کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے بھی انشاء محذوف ہے ۔ الذکرین حرم کا مفعول مقدم ہے جب کہ الانثیین اور اما (جو دراصل ام ما ہے ) ۔ بھی حرم کے مفعول ہیں ۔ کنتم کا اسم اس میں شام انتم کی ضمیر ہے اور شھداء اس کی خبر ہے۔
نوٹ 1: اسراف کا مطلب ہے کہ کسی بھی کام میں حد سے تجاوز کرنا ۔ لیکن یہ دین اسلام کی ایک اصلاح بھی ہے جس کا مطلب ہے کسی جائز ضرورت پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا ۔ مثلا کپڑا پہننا جائز ضرورت ہے ۔ کسی کے پاس اگر دو چار جوڑے کپڑے ہوں تو یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے ۔ لیکن کسی کی الماری میں اگر اتنے جوڑے لٹکے ہوں کہ صبح کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے کہ آج کون سا جوڑا پہنا جائے تو یہ اسراف ہے ۔ س
اسراف سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ۔ اس میں ایک حکمت یہ سمجھ آتی ہے کہ جو شخص اپنی ضروریات پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرتا ہے ، اس سے رشتہ داروں اور غریبوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی ہے ۔ اسی طرح سے کوئی شخص اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرکے خود خالی ہوکر بیٹھ جائے تو وہ اپنے اہل و عیال کے اور خود اپنے نفس کے حقوق ادا نہیں کرسکتا ۔ اس لئے اسراف کسی بھی شکل میں ہو ، وہ اللہ کو پسند نہیں ہے ۔
Ayah 6:142وَمِنَ الْاَنْعَامِ [ اور (اس نے پیدا کئے ) مویشیوں میں سے ] حَمُوْلَةً [ کوئی بکثرت بوجھ اٹھانے والا ] وَّفَرْشًا ۭ [ اور کوئی بچھا ہوا ] كُلُوْا [ تم لوگ کھاؤ ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] رَزَقَكُمُ [ رزق دیا تم کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَلَا تَتَّبِعُوْا [ اور تم لوگ پیروی مت کرو ] خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ [ شیطان کے نقوش قدم کی ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا دشمن ہے ]
Ayah 6:143ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۚ [ (اس نے پیدا کئے ) آٹھ جوڑ ] مِنَ الضَّاْنِ [ بھیڑ میں سے ] اثْنَيْنِ [ دو ] وَمِنَ الْمَعْزِ [ اور بکری میں سے ] اثْنَيْنِ ۭ [ دو ] قُلْ [ آپ کہئے (یعنی پوچھئے) ] ءٰۗالذَّكَرَيْنِ [ کیا دو مذکر کو ] حَرَّمَ [ اس نے حرام کیا ] اَمِ [ یا ] الْاُنْثَيَيْنِ [ دو مونث کو ] اَمَّا [ یا اس کو ] اشْـتَمَلَتْ [ لپٹیں ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ ۭ [ دو مونث کی بچہ دانیاں ] نَبِّـــــُٔـوْنِيْ [ تم لوگ بتاؤ مجھ کو ] بِعِلْمٍ [ کسی علم (یعنی سند) سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ہو ]
Ayah 6:144وَمِنَ الْاِبِلِ [ اور اونٹ میں سے ] اثْنَيْنِ [ دو ] وَمِنَ الْبَقَرِ [ اور گائے میں سے ] اثْنَيْنِ ۭ [ دو ] قُلْ [ آپ پوچھئے ] ءٰۗ الذَّكَرَيْنِ [ کیا دو مذکر کو ] حَرَّمَ [ اس نے حرام کیا ] اَمِ [ یا ] الْاُنْثَيَيْنِ [ دو مونث کو ] اَمَّا [ یا اس کو ] اشْتَمَلَتْ [ لپٹیں ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ ۭ [ دو مونث کی بچہ دانیاں ] اَمْ [ یا ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] شُهَدَاۗءَ [ موجود تھے ] اِذْ [ جب ] وَصّٰىكُمُ [ تاکید کی تم کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] بِھٰذَا ۚ [ اس کی ] فَمَنْ [ پس کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] لِّيُضِلَّ [ تاکہ وہ گمراہ کرے ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ [ کسی علم کے بغیر ] اِنَّ [ بیشک ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے گروہ کو ]
Ayah 6:145قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّآ اَجِدُ [ میں نہیں پاتا ] فِيْ مَآ [ اس میں جو ] اُوْحِيَ [ وحی کیا گیا ] اِلَيَّ [ میری طرف ] مُحَرَّمًا [ حرام کیا ہوا ] عَلٰي طَاعِمٍ [ کسی کھانے والے پر ] يَّطْعَمُهٗٓ [ وہ کھاتا ہے جس کو ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يَّكُوْنَ [ وہ ہو ] مَيْتَةً [ کوئی مردہ ] اَوْ [ یا ] دَمًا مَّسْفُوْحًا [ بہایا ہوا خون ] اَوْ [ یا ] لَحْمَ خِنْزِيْرٍ [ سور کا گوشت ] فَاِنَّهٗ [ پس بیشک یہ ] رِجْسٌ [ نجاست ہے ] اَوْ [ یا ] فِسْقًا [ ایسی نافرمانی ] اُهِلَّ [ (کہ ) پکارا گیا ] لِغَيْرِ اللّٰهِ [ غیر اللہ کیلئے ] بِهٖ ۚ [ جس پر ] فَمَنِ [ پھر جو ] اضْطُرَّ [ مجبور کیا گیا ] غَيْرَ بَاغٍ [ بغیر باغی ہوتے ہوئے ] وَّلَا عَادٍ [ اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہوتے ہوئے ] فَاِنَّ [ تو بیشک ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
ظر ـــ ـ: (ض) ظفرا ۔ چہرا پر ناخن مارنا ۔ ظفر۔ اسم ذات ہے ۔ ناخن ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 146 ۔ (س) ظفرا مقصد میں کامیاب ہونا۔ (افعال ) اظفارا ۔ کامیاب کرنا ۔ غالب کرنا ۔ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ [ اس کے بعد کہ اس نے غالب کیا تم کو ان پر ] 48:24 ۔
ش ح م : (ف) شحما ۔ چربی کھلانا ۔ شحم ۔ اسم جنس بھی ہے ۔ واحد شحمۃ ، جمع شحوم ، چربی ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 146 ۔
ح و ی : (ض) حوایۃ ۔ جمع کرنا ۔ قبضہ کرنا ۔ حوی۔ مؤنث حویۃ ج حوایا ۔ چھوٹا حوض ۔ انتڑی ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 146 ۔ حوی ۔ سبزی مائل سیاہ ہونا۔ احوی ۔ افعل الوان وعیوب ہے ۔ سبزی مائل سیاہ ۔ فَجَعَلَهٗ غُثَاۗءً اَحْوٰى [ پھر اس نے کردیا اس کو سیاہ کوڑا ] 87:5 ۔
ہ ل م : ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا ۔ ھلم ، اسم فعل ہے ۔ (1) حاضر کرو ۔ لے آؤ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 150 ۔ (2) چلے آؤ ۔ وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا [ اور کہنے والے اپنے بھائیوں سے چلے آؤ ہماری طرف ] 33:18 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 145) میتۃ ، دما مسفوحا ، لحم خنزیر اور فسقا ، یہ سب یکون کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں ۔ ۔ فسقا نکرہ مخصوصہ بھی ہے اور اھل لغیر اللہ بہ اس کی خصوصیت ہے ۔ غیر باغ ولا عاد حال ہیں اس لیے غیر پر نصب آئی ہے ۔ (آیت ۔ 146) حملت کا مفعول ما ہے ۔ جبکہ ظہورھما اور الحوایا اس کے فاعل ہیں ۔ (آیت ۔ 148) تخرجوا فعل امر نہیں ہے۔ اگر فعل امر ہوتا تو اخرجوا آتا ۔ یہ مضارع تخرجون تھا جو فاسببیہ کی وجہ سے حالت نصب میں آیا ہے ۔ الحجۃ البالغۃ مبتدا مؤخر ہے اور للہ قائم مقام خبر مقدم ہے ۔ یعدلون کا مفعول غیر اللہ محذوف ہے۔
Ayah 6:146وَعَلَي الَّذِيْنَ [ اور ان لوگوں پر جو ] هَادُوْا [ یہودی ہوئے ] حَرَّمْنَا [ ہم نے حرام کیا ] كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ [ سب ناخن والے (جانوروں کو ) ] وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ [ اور گائے اور بکری میں سے ] حَرَّمْنَا [ ہم نے حرام کیا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] شُحُوْمَهُمَآ [ دونوں کی چربی کو ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جس کو ] حَمَلَتْ [ اٹھایا ] ظُهُوْرُهُمَآ [ دونوں کی پیٹھوں نے ] اَوِ [ یا ] الْحَوَايَآ [ انتڑیوں نے ] اَوْ [ یا ] مَا [ وہ جو ] اخْتَلَطَ [ رم مل گئی ] بِعَظْمٍ ۭ [ کسی ہڈی سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] جَزَيْنٰهُمْ [ ہم نے بدلہ دیا ] بِبَغْيِهِمْ ڮ [ ان کی سرکشی کا ] وَاِنَّا [ اور بیشک ہم ] لَصٰدِقُوْنَ [ یقینا سچ کہنے والے ہیں ]
Ayah 6:147فَاِنْ [ پھر اگر ] كَذَّبُوْكَ [ اور جھٹلائیں آپ کو ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیں ] رَّبُّكُمْ [ تم لوگوں کا رب ] ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ [ وسیع رحمت والا ہے ] وَ [ اور (یعنی مگر) ] لَا يُرَدُّ [ نہیں لوٹائی جائے ] بَاْسُهٗ [ اس کی سختی ] عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والے گروہ سے ]
Ayah 6:148سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ [ وہ لوگ کہیں گے جنہوں نے ] اَشْرَكُوْا [ شریک بنائے ] لَوْ [ اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَآ اَشْرَكْنَا [ تو نہ ہم شریک بناتے ] وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا [ اور نہ ہی ہمارے آباؤاجداد ] وَلَا حَرَّمْنَا ] اور ہم حرام نہ کرتے ] مِنْ شَيْءٍ ۭ [ کسی بھی چیز کو ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] الَّذِيْنَ [ انہوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے تھے ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] ذَاقُوْا [ انہوں نے چکھا ] بَاْسَـنَا ۭ [ ہماری سختی کو ] قُلْ [ آپ پوچھیے ] هَلْ [ کیا ] عِنْدَكُمْ [ تم لوگوں کے پاس ] مِّنْ عِلْمٍ [ کوئی بھی (سند) ہے ] فَتُخْرِجُوْهُ [ کہ تم لوگ نکال سکو اس کو ] لَنَا ۭ [ ہمارے لئے ] اِنْ تَتَّبِعُوْنَ [ تم لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] الظَّنَّ [ گمان کی ] وَاِنْ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] تَخْرُصُوْنَ [ اٹکل لگاتے ہو ]
نوٹ 1: آیت نمبر ۔ 148 میں اسی پرانے عذر کی نشا ندہی کی گئی ہے جو ہمیشہ سے مجرم اور غلط کار لوگ پیش کرتے رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں اللہ کی مشیت یہی ہے کہ ہم شرک کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حرام ٹھہرارکھا ہے ۔ انہیں حرام ٹھہرائیں ۔ ورنہ اگر اللہ نہ چاہتا کہ ہم ایسا کریں تو کیوں کر ممکن تھا کہ یہ افعال ہم سے صادر ہوتے ۔ چونکہ ہم اللہ کی مشیت کے مطابق یہ سب کچھ کررہے ہیں ۔ اس لئے ہم ایسا ہی کرنے پر مجبور ہیں ۔
اس عذر کے جواب میں پہلی بات یہ فرمائی کہ اپنی گمراہی کے لیے مشیت الہی کو معذرت کے طور پر پیش کرنا اور اسے بہانہ بنا کر صحیح رہنمائی قبول کرنے سے انکار کرنا مجرموں کا قدیم شیوہ رہا ہے ۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ تباہ ہوئے اور حق کے خلاف چلنے کا برا نتیجہ انہوں نے دیکھ لیا ۔ پھر فرمایا کہ یہ عذر جو تم پیش کررہے ہو یہ دراصل کسی حقیقی علم پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض گمان اور تخمینہ ہے ۔ تم نے محض مشیت کا لفظ کہیں سے سن لیا اور اس پر قیاسات کی ایک عمارت کھڑی کرلی ۔ تم نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ انسان کے حق میں فی الواقع اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ تم مشیت کے معنی یہ سمجھ رہے ہو کہ چور اگر مشیت الہی کے تحت چوری کررہا ہے تو ہو مجرم نہیں ہے ، حالانکہ دراصل انسان کے حق میں اللہ کی مشیت یہ ہے کہ وہ شکر اور کفر ، ہدایت اور گمراہی ، اطاعت اور نافرمانی میں جو راہ بھی اپنے لیے منتخب کرے گا ، اللہ تعالیٰ وہی راہ اس کے لیے کھول دے گا۔ پھر غلط یا صحیح ، جو کام بھی انسان کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اپنی عالمگیر مصلحتوں کا لحاظ کرتے ہوئے جس حد تک مناسب سمجھے گا ، اسے اس کام کی اجازت اور توفیق بخش دے گا ۔ لہذا اگر تم نے اور تمہارے باپ دادا نے مشیت الہی کے تحت شرک کرنے اور حلال کو حرام کرنے کا جرم کیا تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ تم اپنے اعمال کے ذمہ دار اور جواب دہ نہیں ہو ۔ اپنے غلط انتخاب راہ کے ذمہ دار تو تم خود ہی ہو ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 6:149قُلْ [ آپ کہئے ] فَلِلّٰهِ [ پس اللہ کے لئے ہی ہے ] الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ [ پہنچنے والی حجت ] فَلَوْ [ پھر اگر ] شَاۗءَ [ وہ چاہتا ] لَهَدٰىكُمْ [ تو ضرور ہدایت دیتا تم لوگوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]
Ayah 6:150قُلْ [ آپ کہئے ] هَلُمَّ [ لے آؤ ] شُهَدَاۗءَكُمُ [ اپنے گواہوں کو ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] يَشْهَدُوْنَ [ گواہی دیتے ہیں ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] ھٰذَا ۚ [ اس کو ] فَاِنْ [ پھر اگر ] شَهِدُوْا [ وہ گواہی دیں ] فَلَا تَشْهَدْ [ تو آپ گواہی مت دیں ] مَعَهُمْ ۚ [ ان کے ساتھ ] وَلَا تَتَّبِعْ [ اور آپ پیروی مت کریں ] اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ [ ان کی خواہشات کی جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان لوگوں کی جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] بِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کے ] يَعْدِلُوْنَ [ برابر کرتے ہیں (غیر اللہ کو ) ]
Ayah 6:151قُلْ [ آپ کہئے ] تَعَالَوْا [ تم لوگ آؤ] اَتْلُ [ میں پڑھتا ہوں ] مَا [ اس کو جو ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] اَلَّا تُشْرِكُوْا [ کہ شریک مت بناؤ ] بِهٖ [ اس کے ساتھ ] شَـيْــــًٔـا [ کسی چیز کو ] وَّبِالْوَالِدَيْنِ [ اور والدین کے ساتھ ] اِحْسَانًا ۚ [ (حسن سلوک کرو) جیسا حسن سلوک کا حق ہے ] وَلَا تَقْتُلُوْٓا [ اور قتل مت کرو ] اَوْلَادَكُمْ [ اپنی اولاد کو ] مِّنْ اِمْلَاقٍ ۭ [ مفلس ہونے (کے خوف ) سے ] نَحْنُ [ ہم ] نَرْزُقُكُمْ [ رزق دیتے ہیں تم کو ] وَاِيَّاهُمْ ۚ [ اور ان کو بھی ] وَلَا تَقْرَبُوا [ اور قریب مت جاؤ] الْفَوَاحِشَ [ بےحیائیوں کے ] مَا [ جو ] ظَهَرَ [ ظاہر ہو ] مِنْهَا [ اس سے ] وَمَا [ اور جو ] بَطَنَ ۚ [ پوشیدہ ہو ] وَلَا تَقْتُلُوا [ اور قتل مت کرو ] النَّفْسَ الَّتِيْ [ اس جان کو جس کو ] حَرَّمَ [ (قتل کرنا ) حرام کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اِلَّا [ مگر ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] ذٰلِكُمْ [ یہ ہے ] وَصّٰىكُمْ [ اس نے تاکید کی تم کو ] بِهٖ [ جس کی ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم لوگ ] تَعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال کرو ]
م ل ق : (ف) ملقا ۔ نرم کرنا ۔ مٹانا ۔ (افعال) املاقا ۔ مفلس ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 151 ۔
ک ی ل : (ض) کیلا ۔ غلہ وغیرہ کسی پیمانہ سے ناپ کردینا ۔ پھر دونوں طرح آتا ۔ (1) ناپنا ۔ (2) ناپ کردینا ۔ وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ [ اور جب بھی وہ لوگ ناپ کردیتے ہیں ان کو یا تول کردیتے ہیں ان کو تو گھٹا دیتے ہیں ] 83:3 ۔ مکیال مفعال ، کے وزن پر اسم الآلہ ہے۔ ناپنے کا آلہ ۔ پیمانہ ۔ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ [ اور کمی مت کرو پیمانے میں اور ترازو میں ] 11:84 ۔ (افتعال) اکتیالا ۔ اپنے لئے پیمانہ بھرنا ۔ ناپ کرلینا ، فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ [ پس آپ بھیجیں ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو تم ہم اپنے لئے پیمانہ بھریں ] 12:63 ۔
وزن : (ض) وزنا ۔ (1) تولنا۔ (2) تول کردینا ۔ اوپر آیت نمبر 83:3 دیکھیں ۔ زن ۔ فعل امر ہے ۔ تو تول ۔ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ [ اور تم لوگ تو لو سیدھی ترازو سے ] 26:182 ۔ موزون ۔ اسم المفعول ہے وزن کیا ہوا ۔ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ [ اور ہم نے اگایا اس میں ہر ایک وزن کی ہوئی چیز میں سے یعنی ایک اندازے سے ] 15:19 ۔ میزان ۔ ج ، جوازین ۔ اسم الآلہ ہے۔ وزن کرنے کا آلہ ۔ ترازو [ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ پس وہ بھاری ہوئے جن کے ترازو تو وہ لوگ ہی مراد پانے والے ہیں ] 7:8 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 151) تعالوا فعل ہے ، اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مضارع اتلو مجزوم ہوا ہے اور اس کی واوگری تو اتل آیا ہے ۔ اس کا مفعول ما ہے ۔ علیکم کا تعلق اتل سے نہیں بلکہ حرم سے ہے۔ بالوالدین کے بعد فعل امر احسنوا محذوف ہے اور احسانا اس کا مفعول مطلق ہے ۔ املاق سے پہلے اس کا مضاف خشیۃ محذوف ہے۔ (آیت ۔ 152) بالتی میں التی کا مرجع محذوف ہے یعنی یہ الا بطریقۃ التی ہے ۔ ھی مبتدا ہے ۔ اس کی خبر حسنی کے بجائے احسن آئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حسنی صرف مؤنث کے لئے آتا ہے ، مذکر کے لیے نہیں آسکتا ۔ جبکہ احسن مذکر کرکے لئے آتا ہے ۔ لیکن مؤنث کے لیے بھی آسکتا ہے ۔ قلتم کا مفعول قولا محذوف ہے ۔ (آیت ۔ 153) تفرق اصل میں السبل کی وجہ سے واحد مؤنث کا صیغہ تتفرق ہے۔ قاعدے کے مطابق ایک تا گری ہوئی ہے اور فاسببیہ کی وجہ سے مضارع منصوب ہوا ہے اس میں ضمیر فاعلیھی السبل کے لیے ہے۔
نوٹ۔ 1: غور کیا جائے تع اولاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہ دینا بھی ایک طرح سے قتل اولاد کی ہی ایک شکل ہے ۔ کیونکہ ایسی اولاد اللہ کی اطاعت ، رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور آخرت کی فکر سے بےپرواہ ہوجاتی ہے ۔ قرآن مجید نے ایسے شخص کو مردہ قرار دیا ہے (6:122) جو لوگ اپنی اولاد کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں یا ایسی غلط تعلیم دلاتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں اسلامی اخلاق تباہ ہوں ، وہ بھی ایک حیثیت سے قتل اولاد کے مجرم ہیں (معارف القرآن )
نوٹ ۔ 2: کسی انسانی جان کو ہلاک کرنا ، اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے سوائے اس کے کہ کسی کو حق کے ساتھ قتل کیا جائے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ” حق کے ساتھ “ کا کیا مفہوم ہے، تو اس کی تین صورتیں قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں اور اس پر زائد دو صورتیں رسول اللہ ـ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ۔
قرآن کی بیان کردہ صورتیں یہ ہیں ۔ (1) انسان کسی کے قتل عمد کا مجرم ہو اور اس پر قصاص کا حق قائم ہوگیا ہو۔ (2) دین حق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہو اور اس سے جنگ کیے بغیر چارہ نہ ہو ۔ (3) دارالسلام کی حدود میں بدامنی پھیلائے یا اسلامی نظام حکومت کو الٹنے کی سعی کرے ۔ باقی دوصورتیں جو حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں (1) شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے ۔ (2) ارتداد اور خروج از جماعت کا مرتکب ہو۔ ان پانچ صورتوں کے سوا کسی صورت میں انسان کا قتل انسان کے لیے حلال نہیں ہے ۔ خواہ وہ مومن ہو یا ذمی ہو یا عام کافر ہو ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 6:152وَلَا تَقْرَبُوْا [ اور قریب مت جاؤ ] مَالَ الْيَتِيْمِ [ یتیم کے مال کے ] اِلَّا [ مگر ] بِالَّتِيْ [ اس (طریقہ ) سے کہ ] هِىَ [ وہ ] اَحْسَنُ [ بہترین ہو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَبْلُغَ [ وہ پہنچے ] اَشُدَّهٗ ۚ [ اپنی پختگی کو ] وَاَوْفُوا [ اور پورا کرو ] الْكَيْلَ [ پیمانے کو ] وَالْمِيْزَانَ [ اور ترازوکو ] بِالْقِسْطِ ۚ [ انصاف سے ] لَا نُكَلِّفُ [ ہم پابند نہیں کرتے ] نَفْسًا [ کسی جان کو ] اِلَّا [ مگر ] وُسْعَهَا ۚ [ اس کی وسعت کو ] وَاِذَا [ اور جب بھی ] قُلْتُمْ [ تم لوگ کہو (کوئی بات ) ] فَاعْدِلُوْا [ تو عدل کرو ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَانَ [ وہ ہو ] ذَا قُرْبٰي ۚ [ قرابت والا ] وَبِعَهْدِ اللّٰهِ [ اور اللہ کے عہد کو ] اَوْفُوْا ۭ [ تم لوگ پورا کرو ] ذٰلِكُمْ [ یہ ہے ] وَصّٰىكُمْ [ اس نے تاکید کی تم کو ] بِهٖ [ جس کی ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم لوگ ] تَذَكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کرو ]