6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] صُمٌّ [ بہرے ہیں ] وَّبُكْمٌ [ اور گونگے ہیں ] فِي الظُّلُمٰتِ ۭ [ (وہ لوگ) اندھیروں میں ہیں ] مَنْ [ جس کو ] يَّشَاِ [ چاہتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] يُضْلِلْهُ ۭ [ (تو) وہ گمراہ کرتا ہے اس کو ] وَمَنْ [ اور جس کو ] يَّشَاْ [ وہ چاہتا ہے ] يَجْعَلْهُ [ (تو ) وہ ڈالتا ہے اس کو ] عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے پر (39)]
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچے ہو

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتَكُمْ [ تو نے دیکھا اپنے لوگوں کو ] اِنْ [ کہ اگر ] اَتٰىكُمْ [ آئے تمہارے پاس ] عَذَابُ اللّٰهِ [ اللہ کا عذاب ] اَوْ [ یا ] اَتَتْكُمُ [ آئے تم پر ] السَّاعَةُ [ قیامت ] ا [ تو کیا ] اَغَيْرَ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ (کسی ) کو ] تَدْعُوْنَ ۚ [ تو لوگ پکاروگے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]
Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

ا س وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو

بَلْ اِيَّاهُ [ بلکہ صرف اس کو ہی ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] فَيَكْشِفُ [ تو وہ کھول دیتا ہے ] مَا [ اس کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] اِلَيْهِ [ جس کے لئے ] اِنْ [ اگر ] شَاۗءَ [ وہ چاہتا ہے ] وَتَنْسَوْنَ [ اور بھول جاتے ہو ] مَا [ اس کو جس کو ] تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کرتے ہو ]
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ [ اور ہم بھیج چکے ہیں (رسولوں کو ) ] اِلٰٓى اُمَمٍ [ امتوں کی طرف ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] فَاَخَذْنٰهُمْ [ پھر ہم نے پکڑا ان کو ] بِالْبَاْسَاۗءِ [ سختی سے ] وَالضَّرَّاۗءِ [ اور تکلیف سے ] لَعَلَّهُمْ [ شائد کہ وہ لوگ ] يَتَضَرَّعُوْنَ [ گڑگڑائیں ]
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو

فَلَوْلَآ [ تو کیوں نہیں ] اِذْ جَاۗءَهُمْ [ جب آئی ان کے پاس ] بَاْسُنَا [ ہماری سختی تَضَرَّعُوْا [ وہ لوگ گڑگڑاتے ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] قَسَتْ [ سخت ہوئے ] قُلُوْبُهُمْ [ ان کے دل ] وَزَيَّنَ [ اور مزین کیا ] لَهُمُ [ ان کے لئے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] مَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ عمل کرتے تھے (43)]
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے

فَلَمَّا [ پھر جب ] نَسُوْا [ وہ بھولے ] مَا [ اس کو ] ذُكِّرُوْا [ ان کی یاد دہانی کرائی گئی ] بِهٖ [ جس سے ] فَتَحْنَا [ تو ہم نے کھول دیئے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ [ ہر چیز کے دروازے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] فَرِحُوْا [ وہ بہ خوش ہوئے ] بِمَآ [ اس سے جو ] اُوْتُوْٓا [ دیا گیا ان کو ] اَخَذْنٰهُمْ [ تو ہم نے پکڑا ان کو ] بَغْتَةً [ اچانک ] فَاِذَا [ تب پھر ] هُمْ [ وہ لوگ ] مُّبْلِسُوْنَ [ انتہائی غمگین ہوئے ]
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)

فَقُطِعَ [ پھر کاٹی گئی ] دَابِرُ الْقَوْمِ [ اس قوم کی جڑ ] الَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] ظَلَمُوْا ۭ [ ظلم کیا ] وَالْحَـمْدُ [ اور تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لئے ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

اے محمدؐ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون سا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلاسکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چرا جاتے ہیں

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] اَخَذَ [ پکڑلے ] اللّٰهُ [ اللہ ] سَمْعَكُمْ [ تمہاری سماعت کو ] وَاَبْصَارَكُمْ [ اور تمہاری بصارت کو ] وَخَتَمَ [ اور وہ مہر لگا دے ] عَلٰي قُلُوْبِكُمْ [ تمہارے دلوں پر ] مَّنْ [ تو کون ] اِلٰهٌ [ الہ ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] يَاْتِيْكُمْ [ جو لادے تمہارے پاس ] بِهٖ ۭ [ اسکو ] اُنْظُرْ [ آپ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسے ] نُصَرِّفُ [ ہم گھماتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں (یعنی دلیلوں ) کو ] ثُمَّ [ پھر (بھی ) ] هُمْ [ وہ لوگ ] يَصْدِفُوْنَ [ کنارہ کش ہوتے ہیں ] ص د:ـ(ض) صدفا : ہٹانا۔ کنارے کرنا (متعدی) پھرجانا ۔ کنارہ کش ہونا (لازم ) زیرمطالعہ آیت نمبر 46 ۔ صدف ۔ اسم ذات ہے۔ کسی چیز کا کنارہ ۔ حتی اذا ساوی بین الصدفین [ یہاں تک کہ جب برابر کردیا دنوں کناروں کے درمیان کو ] 18:96 ۔ ترکیب : (6:47) بغتۃ اور جھرۃ حال ہیں ۔ اسی لئے حالت نصب میں ہیں ۔ یھلک کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے القوم الظلمون حالت رفع میں ہے ۔ (6:48) اصلح کا مفعول محذوف ہے جو کہ انفسہم ہوسکتا ہے ۔ (6:50) ان اتبع کا ان نافیہ ہے کیونکہ آگے الا آرہا ہے۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتَكُمْ [ تو نے دیکھا اپنوں کو ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] اَتٰىكُمْ [ آئے تمہارے پاس ] عَذَابُ اللّٰهِ [ اللہ کا عذاب ] بَغْتَةً [ اچانک ] اَوْ [ یا ] جَهْرَةً [ کھلم کھلا ] هَلْ [ تو کیا (یعنی کون)] يُهْلَكُ [ ہلاک کیا جائے گا ] اِلَّا [ سوائے ] الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ [ ظلم کرنے والی قوم کے ]
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

ہم جو رسول بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوش خبری دینے والے اور بد کرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے

وَمَا نُرْسِلُ [ اور ہم نہیں بھیجتے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں کو ] اِلَّا [ مگر ] مُبَشِّرِيْنَ [ بشارت دینے والا ] وَمُنْذِرِيْنَ ۚ [ اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ] فَمَنْ [ پھر جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ] وَاَصْلَحَ [ اور اس نے اصلاح کی (اپنی ) ] فَلَا خَوْفٌ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَلَا [ اور نہ ہی ] هُمْ [ وہ لوگ ] يَحْزَنُوْنَ [ غمگین ہوتے ہیں ]
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بھگت کر رہیں گے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] يَمَسُّهُمُ [ پہنچے گا ان کو ] الْعَذَابُ [ عذاب ] بِمَا [ بسبب اسے کے جو ] كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ [ وہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ]
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

ا ے محمدؐ! ان سے کہو، "میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے" پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟

قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَقُوْلُ [ میں نہیں کہتا ] لَكُمْ [ تم لوگوں سے ] عِنْدِيْ [ کہ میرے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ [ اللہ کے خزانے ہیں ] وَلَآ اَعْلَمُ [ اور نہ ہی میں جانتا ہوں ] الْغَيْبَ [ غیب کو ] وَلَآ اَقُوْلُ [ اور نہ ہی میں کہتا ہوں ] لَكُمْ [ تم لوگوں سے ] اِنِّىْ [ کہ میں ] مَلَكٌ ۚ [ کوئی فرشتہ ہوں ] اِنْ اَتَّبِعُ [ میں پیروی نہیں کرتا ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ اس کی جو ] يُوْحٰٓى [ وحی کیا گیا ] اِلَيَّ ۭ [ میری طرف ] قُلْ [ آپ کہئے ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَوِي [ برابر ہوتے ہیں ] الْاَعْمٰى [ اندھے ] وَالْبَصِيْرُ ۭ [ اور دیکھنے والے ] اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ غور فکر نہیں کرتے ]
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اے محمدؐ! تم اس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں

وَاَنْذِرْ [ اور آپ خبردار کریں ] بِهِ [ اس سے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَخَافُوْنَ [ ڈرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يُّحْشَرُوْٓا [ وہ اکٹھا کئے جائیں گے ] اِلٰى رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی طرف ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] مِّنْ دُوْنِهٖ [ جس کے علاوہ ] وَلِيٌّ [ کوئی کارساز ] وَّلَا شَفِيْعٌ [ اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ] لَّعَلَّهُمْ [ شائد کہ وہ لوگ ] يَتَّقُوْنَ [ تقوی کریں ] ط ر د : (ن) طردا کسی کو حقیر سمجھ کر دور کرنا ۔ دھتکارنا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 52 ۔ طارد ۔ اسم الفاعل ہے۔ دھتکارنے والا ۔ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں ] 26:114 ۔ ترکیب : (6:51) بہ میں ضمیر میں گزشتہ آیت میں مایوحی کے لئے ہے یعنی قرآن مجید مندونہ میں ضمیر رب کے لئے ہے ۔ (6:52) یریدون حال ہے یدعون کا ۔ فعل نہی اور فعل نفی کے جواب میں اگر فعل مضارع آتا ہے تو وہ حالت نصب میں ہوتا ہے ۔ یہاں فتطرد کی نصب فعل نہی ولا تطرد کی وجہ سے نہی ہے بلکہ فعل نفی ما علیک مں حسابہم کی وجہ سے ہے جبکہ فتکون فاسببیہ کی وجہ سے نصب میں ہے ۔ (6:53) لیقولوا پر لام کی نہیں بلکہ لام عاقبت ہے۔ (6:54) انہ میں ضمیر الشان ہے جبکہ فانہ میں ضمیر رب کے لئے ہے من عمل کامن شرطیہ ہے۔ اس لئے ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (6:55) تستبین واحد مونث کا صیغہ ہے اور سبیل المجرمین اس کا فاعل ہے۔ نوٹ : آیات مذکورہ سے چند ہدایات واضح ہوتی ہیں ۔ اولا یہ کہ کسی ظاہری خستہ حالی کو دیکھ کر اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں ہے ۔ بسا اوقات ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے نزدیک نہایت معزز ہوتے ہیں ۔ ثانیا یہ کہ شرافت کا معیار محض دنیا کی دولت و ثروت کو سمجھنا انسانیت کی توہین ہے ۔ ثالثا یہ کہ کسی قوم کے مصلح اور مبلغ کے لئے اگرچہ تبلیغ بھی ضروری ہے جس میں ماننے اور نہ ماننے والے سب مخاطب ہوں ، لیکن ان لوگوں کا حق مقدم ہے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوں ۔ رابعا یہ کہ جو شخص انعامات الہیہ کی زیادتی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ قول وعمل سے شکر گزاری کو اپنا شعار بنائے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے

وَلَا تَطْرُدِ [ اور آپ مت دور کریں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَدْعُوْنَ [ پکارتے ہیں ] رَبَّهُمْ [ اپنے رب کو ] بِالْغَدٰوةِ [ صبح سویرے ] وَالْعَشِيِّ [ اور شاموں کو ] يُرِيْدُوْنَ [ چاہتے ہوئے ] وَجْهَهٗ ۭ [ اس کے چہرے (یعنی توجہ ) کو ] مَا عَلَيْكَ [ نہیں ہے آپ پر ] مِنْ حِسَابِهِمْ [ ان کے حساب میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] وَّمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ حِسَابِكَ [ آپ کے حساب میں سے ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں پر ] مِّنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] فَتَطْرُدَهُمْ [ پھر بھی آپ دور کریں گے ان کو ] فَتَكُوْنَ [ تو آپ ہوجائیں گے ] مِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں میں سے ]
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ اِنہیں دیکھ کر کہیں "کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے؟" ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے؟

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] فَتَنَّا [ ہم نے آزمایا ] بَعْضَهُمْ [ ان کے بعض کو ] بِبَعْضٍ [ بعض سے ] لِّيَقُوْلُوْٓا [ تو وہ لوگ کہتے ہیں ] اَ [ کیا ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ یہ لوگ ہیں ] مَنَّ [ حسان کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلَيْهِمْ [ جن پر ] مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ [ ہمارے درمیان سے ] اَ [ (تو) کیا ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاَعْلَمَ [ سب سے زیادہ جاننے والا ] بِالشّٰكِرِيْنَ [ شکر کرنے والوں کو ]
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو "تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اُسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے"

وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءَكَ [ آئیں آپ کے پاس ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان رکھتے ہیں ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] فَقُلْ [ تو آپ کہیں ] سَلٰمٌ [ سلامتی ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] كَتَبَ [ لکھا (یعنی لازم کیا ) ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] عَلٰي نَفْسِهِ [ اپنے آپ پر ] الرَّحْمَةَ ۙ [ رحمت کو ] اَنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] مَنْ [ جو ] عَمِلَ [ کرتا ہے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] سُوْۗءًۢا [ کوئی برائی ] بِجَهَالَةٍ [ نادانی سے ] ثُمَّ [ پھر ] تَابَ [ وہ توبہ کرتا ہے ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [ اس کے بعد ] وَاَصْلَحَ ۙ [ اور اصلاح کرتا ہے ] فَاَنَّهٗ [ تو یہ کہ وہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُفَصِّلُ [ ہم کھول کھول کر بتاتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] وَلِتَسْتَبِيْنَ [ اور تاکہ واضح ہوجائے ] سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کا راستہ ]
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

اے محمدؐ! اِن سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْ [ کہ ] نُهِيْتُ [ مجھ کو منع کیا گیا ہے ] اَنْ [ کہ ] اَعْبُدَ [ میں بندگی کروں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَتَّبِعُ [ میں پیروی نہیں کروں گا ] اَهْوَاۗءَكُمْ ۙ [ تم لوگوں کی خواہشات کی ] قَدْ ضَلَلْتُ [ میں تو گمراہ ہوچکوں گا ] اِذًا [ پھر تو ] وَّمَآ اَنَا اور میں نہیں رہوں گا ] ممِنَ الْمُهْتَدِيْنَ [ ہدایت پانے والوں میں سے ] س ق ط : (ن) سقوطا ۔ بلندی سے پستی میں گرنا ۔ زیرمطالعہ آیت نمبر ۔ 59 ۔ سقط۔ سقط فعل لازم ہے ۔ پھر بھی ایک محاورہ میں اس کا مجہول سقط آتا ہے لیکن وہاں بھی معنی لازم کے دیتا ہے ۔ سقط فی یدہ کا مطلب ہے لغزش کرنا ۔ نادم ہونا ۔ وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ [ اور جب وہ لوگ پچھتائے ] 7:149 ۔ ساقط اسم الفاعل ہے ۔ گرنے والا ۔ وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا [ اور اگر وہ لوگ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرنے والاہوتے ہوئے ] 52:44 ۔ (افعال ) اسقاط ۔ کسی کو گرانا ۔ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ [ یا تو گرا دے آسمان کو جیسا کہ تو نے دعوی کیا ] 17:92 ۔ اسقط ۔ فعل امر ہے ۔ تو گرا ۔ فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ [ پس تو گرا ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان سے ] 26:187 ۔ (مفاعلہ ) مساقطۃ مسلسل یا باری باری گرانا ۔ وَهُزِّيْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا [ تو ہلا اپنی طرف کھجور کے تنے کو تو وہ گراتا رہے گا تجھ پر تازہ پکی کھجوروں کو ] 19:25 ۔ ورق (ض) ورقا ۔ درخت کا پتے دار ہونا ۔ ورق اسم جنس ہے ۔ پتے ۔ واحد ، ورقۃ ۔ جمع ، اوراق ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 95 ۔ ورق اسم ذات ہے ۔ چاندی کا سکہ ۔ فَابْعَثُوْٓا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖٓ [ تو بھیجو اپنے میں سے ایک کو اپنے اس چاندی کے سکے کے ساتھ ] 18:19 ۔ وط ب : (س) وطوبۃ نمی والا ہونا ۔ تر ہونا ۔ رطب تمناک یا تر چیز ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 59 (ن) رطبا ۔ کھجور کا پک جانا۔ رطب پکی کھجور ۔ اوپر مساقطۃ میں آیت نمبر 19 : 25 دیکھیں ۔ ی ب س : (س) یبسا ، کسی چیز کا خشک ہوجانا ۔ سوکھ جانا ۔ یبس ، تری کے بعد خشک ہوجانے والی چیز ۔ یبس ۔ تری کے بعد خشک ہوجانے والی جگہ یا زمین ۔ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا [ پس آپ بنادیں ان کے لئے ایک خشک راستہ سمندر میں ] 20:77 ۔ یابس جمع مونث ، یابسات۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے خشک ۔ ہونے والا یعنی خشک زیر مطالعہ آیت نمبر 59 ۔ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ [ سات ہری بالیں اور دوسری خشک ] 12: 43 ۔ ترکیب : (6:57) بہ میں ضمیر بینۃ کے لیے معنوی لحاظ سے مذکر آئی ہے کیونکہ یہاں بینۃ سے مراد وحی اور قرآن مجید ہے۔ (6:59) تسقط واحد مونث کا صیغہ ہے ۔ اس کا فاعل ورقۃ ہے جو من لگنے کی وجہ سے حالت جر میں آیا ہے ۔ لاحبۃ ۔ لا رطب اور لا یابس ، ان سب میں لا کے بعد تسقط یا یسقط محذوف ہے اور من میں عطف ہونے کی وجہ سے یہ اسماء حالت جر میں آئے ہیں ۔ فی کتاب مبین سے پہلے اس کا مبتدا اور خبر ، دونوں محذوف ہیں ۔ (6:60) فیہ کی ضمیر النھار کے لئے ہے۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے، وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْ [ کہ میں ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک واضح دلیل پر ہوں ] مِّنْ رَّبِّيْ [ اپنے رب ] (کی طرف) سے ] وَكَذَّبْتُمْ [ حالانکہ تم لوگوں نے جھٹلایا ] بِهٖ ۭ [ اس کو ] مَا عِنْدِيْ [ میرے پاس نہیں ہے ] مَا [ وہ ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ] بِهٖ ۭ [ جس کی ] اِنِ [ نہیں ہے ] الْحُكْمُ [ حکم ] اِلَّا [ مگر ] لِلّٰهِ ۭ [ اللہ کا ] يَقُصُّ [ وہ بیان کرتا ہے ] الْحَقَّ [ حق کو ] وَهُوَ [ اور وہ ] خَيْرُالْفٰصِلِيْنَ [ فیصلہ کرنے والوں میں بہترین ہے ]
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہو، اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے

قُلْ [ آپ کہئے ] لَّوْ [ اگر ] اَنَّ [ یہ کہ ] عِنْدِيْ [ میرے پاس ہوتا ] مَا [ وہ ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ] بِهٖ [ جس کی ] لَقُضِيَ [ تو فیصلہ کردیا جاتا ] الْاَمْرُ [ تمام معاملات کا ] بَيْنِيْ [ میرے درمیان ] وَبَيْنَكُمْ ۭ [ اور تمہارے درمیان ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جانتا ہے ] بِالظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کو ]
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے

وَعِنْدَهٗ [ اور اس ہی کے پاس ] مَفَاتِحُ الْغَيْبِ [ غیب کی کنجیاں ] لَا يَعْلَمُهَآ [ نہیں جانتا ان کو ] اِلَّا [ مگر ] هُوَ ۭ [ وہ ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي الْبَرِّ [ خشکی میں ہے ] وَالْبَحْرِ ۭ [ اور پانی میں ہے ] وَمَا تَسْقُطُ [ اور نہی گرتا ] مِنْ وَّرَقَةٍ [ کوئی بھی پتہ ] اِلَّا [ مگر ] يَعْلَمُهَا [ وہ جانتا ہے اس کو ] وَلَا [ اور نہیں (گرتا)] حَبَّةٍ [ کوئی بھی دانہ ] فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ [ زمین کے اندھیروں میں ] وَلَا [ اور نہیں (گرتی)] رَطْبٍ [ کوئی بھی ترچیز ] وَّلَا [ مگر ] يَابِسٍ [ کوئی بھی خشک چیز ] اِلَّا [ مگر ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ وہ ہے ایک واضح کتاب میں ]
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر و ہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جو ] يَتَوَفّٰىكُمْ [ پورا پورا لے لیتا ہے تم لوگوں ] بِالَّيْلِ [ رات میں ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جاتنا ہے ] مَا [ اس کو جو ] جَرَحْتُمْ [ تم لوگوں نے کمایا ] بِالنَّهَارِ [ دن میں ] ثُمَّ [ پھر ] يَبْعَثُكُمْ [ وہ اٹھاتا ہے تم لوگوں کو ] فِيْهِ [ اس میں ] لِيُقْضٰٓى [ تاکہ پورا کیا جائے ] اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ [ مقررہ مدت کو ] ثُمَّ [ پھر ] اِلَيْهِ [ اس کی ہی طرف ] مَرْجِعُكُمْ [ تم لوگوں کے لوٹنے کی جگہ ہے ] ثُمَّ [ پھر ] يُنَبِّئُكُمْ [ وہ جتادے گا تمہیں ] بِمَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (60) [ تم لوگ کیا کرتے تھے ]
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے

وَهُوَ [ اور وہ ہی ] الْقَاهِرُ [ غالب ] فَوْقَ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں پر ] وَيُرْسِلُ [ اور وہ بھیجتا ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] حَفَظَةً ۭ [ ایک نگہبان ] حَتّٰٓي اِذَا [ یہاں تک کہ جب ] جَاۗءَ [ آتی ہے ] اَحَدَكُمُ [ تمہارے کسی ایک کو ] الْمَوْتُ [ موت ] تَوَفَّتْهُ [ تو پورا پورا لے لیتے ہیں اس کو ] رُسُلُنَا [ ہمارے رسول (یعنی فرشتے) ] وَهُمْ [ اور وہ ] لَا يُفَرِّطُوْنَ [ کوتاہی نہیں کرتے ] ک ر ب : (ن) کر با ۔ سخت غمگین ہونا ۔ کرب شدید رنج ، سخت تکلیف ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 64 ۔ ش ی عـ: (ض) شیعا ۔ کسی خبر ، عقیدہ یا نظریہ کا پھیلنا اور زورپکڑنا ۔ (1) پھیلنا ، (2) تقویت حاصل کرنا ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ پھیلے فحاشی ان لوگوں میں جو ایمان لائے تو ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے ] 24:19 ۔ شیع اسم جنس ہے واحد شیعۃ جمع اشیاء ۔ کسی عقیدے یہ شخصیت سے متعلق لوگ جن سے اس کو تقویت حاصل ہو۔ (1) پیرو کار ۔ (2) گروہ ۔ فرقہ ۔ (6:65) هٰذَا مِنْ شِيْعَتِهٖ وَهٰذَا مِنْ عَدُوِّه ٖ [ یہ اس کے فرقے سے ہے اور یہ اس کے دشمنوں میں سے ہے ] 28:15 ۔ وَلَقَدْ اَهْلَكْنَآ اَشْيَاعَكُمْ [ اور ہم نے ہلاک کیا ہے تمہارے گروہوں کو ) 54:51 ۔ ترکیب : (6:61) ھو القاھر میں ھو کی ضمیر مبتدا بھی ہے اور ضمیر فاصل بھی ۔ اذا شرطیہ ہے اور اگلی آیت میں ثم اسی اذا سے متعلق ہے ۔ اس لئے دونوں آیتوں میں افعال ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ توفث واحد مونث کا صیغہ ہے ۔ اس کا فاعل رسلنا عاقل کی جمع مکسر ہے اور اس کی ضمیر مفعولی احدکم کے لئے ہے ۔ (6:62) اللہ کا بدل ہونے کی وجہ سے مولہم کا مضاف مولی حالت جر میں ہے اور الحق اس کی صفت ہے (6:63) من استفہامیہ ہے ۔ تدعونہ کی ضمیر من کے لئے ہے۔ تضرعا اور خفیۃ حال ہیں ۔ ھذا کا اشارہ ظلمت کی طرف ہے ۔ (6:64) منھا کی ضمیر بھی ظلمت کے لئے ہے۔ (6:65) ان پر عطف ہونے کی وجہ سے یلبس اور یذیق حالت نصب میں آئے ہیں ۔ (6 یٔ 67) مستقر اسم المفعول ہے جو ظرف زماں کے طور پر ہے ۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

ثُمَّ [ پھر ] رُدُّوْٓا [ ان کو لوٹایا جاتا ہے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ [ جو ان کا حقیقی آقا ہے ] اَلَا [ سن لو ] لَهُ [ اس ہی کا ہے ] الْحُكْمُ ۣ [ تمام حکم ] وَهُوَ [ اور وہ ] اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ [ حساب لینے والوں میں تیز ترین ہے ]
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

اے محمدؐ! ا ن سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کو ن ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا، گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟

قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [ کون ] يُّنَجِّيْكُمْ [ تو لوگوں کو نجات دیتا ہے ] مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ پانی اور خشکی کے اندھیروں سے ] تَدْعُوْنَهٗ [ تم لوگ پکارتے ہو جس کو ] تَضَرُّعًا [ گڑگڑاتے ہوئے ] وَّخُفْيَةً ۚ [ اور چپکے چپکے ] لَىِٕنْ [ کہ بیشک اگر ] اَنْجٰىنَا [ وہ نجات دے ہم کو ] [ مِنْ هٰذِهٖ [ اس سے ] لَنَكُوْنَنَّ ] [ تاکہ ہم ہوں ] [ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ [ شکر کرنے والوں میں سے ]
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو

قُلِ [ آپ کہئے ] اللّٰهُ [ اللہ ] يُنَجِّيْكُمْ [ نجات دیتا ہے تم کو ] مِّنْهَا [ اس سے ] وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ [ اور ہر ایک دکھ سے ] ثُمَّ [ پھر (بھی )] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] تُشْرِكُوْنَ شریک کرتے ہو (دوسروں کو )
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں

قُلْ [ آپ کہئے ] هُوَ الْقَادِرُ [ وہی قدرت رکھنے والا ہے ] عَلٰٓي [ اس پر ] اَنْ [ کہ ] يَّبْعَثَ [ وہ بھیج دے ] عَلَيْكُمْ [ توم لوگوں پر ] عَذَابًا [ کوئی عذاب ] مِّنْ فَوْقِكُمْ [ تمہارے اوپر سے ] اَوْ [ یا ] مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ [ تمہارے قدموں کے نیچے سے ] اَوْ [ یا ] يَلْبِسَكُمْ [ وہ تم لوگوں کو بھڑا دے ] شِيَعًا [ فرقہ فرقہ ہوتے ہوئے ] وَّيُذِيْقَ [ اور وہ مزا چکھا دے ] بَعْضَكُمْ [ تمہارے بعض کو ] بَاْسَ بَعْضٍ ۭ [ بعض کو جنگ کا ] اُنْظُرْ [ (تو ) دیکھو ] كَيْفَ [ کیسے ] نُصَرِّفُ [ ہم بار بار بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لَعَلَّهُمْ [ شائد کہ وہ ] يَفْقَهُوْنَ [ سجمھیں ]
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں

وَكَذَّبَ [ اور جھٹلایا ] بِهٖ [ اس کو ] قَوْمُكَ [ آپ کی قوم نے ] وَ [ حالانکہ ] هُوَ الْحَقُّ ۭ [ وہی حق ہے ] قُلْ [ آپ کہئے ] لَّسْتُ [ میں نہیں ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی نگراں ]
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا

لِكُلِّ نَبَاٍ [ ہر ایک خبر کے لئے ] مُّسْـتَقَرٌّ ۡ [ ایک وقت ہے ] وَّسَوْفَ [ اور عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ جان لوگے ]
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور اے محمدؐ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو

وَاِذَا [ اور جب کبھی ] رَاَيْتَ [ تو دیکھے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَخُوْضُوْنَ [ بال کی کھال نکالتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں میں ] فَاَعْرِضْ [ تو اعراض کر ] عَنْهُمْ [ ان سے ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَخُوْضُوْا [ وہ بال کی کھال نکالیں ] فِيْ حَدِيْثٍ [ کسی بات میں ] غَيْرِهٖ ۭ [ اس کے علاوہ ] وَاِمَّا [ اور اگر جو ( یعنی یہ کہ ) ] يُنْسِيَنَّكَ [ بھلا ہی دے تجھ کو ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] فَلَا تَقْعُدْ [ تو مت بیٹھ ] بَعْدَ الذِّكْرٰي [ یاد آنے کے بعد ] مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ] [ ـظلم کرنے والی قوم کے ساتھ ] ب س ل : (ن) بسلا کسی کو اس کی حاجت سے روکنا۔ (افعال ) ابسالا ۔ کسی کو ہلاکی کے سپرد کردینا ۔ ہلاکت میں ڈالنا ، زیر مطالعہ آیت نمبر 70 ۔ ح م م : (ن) حما ، کسی چیز کو گرم کرنا ۔ حمیم فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ ہمیشہ اور ہر حال میں گرم ۔ وَلَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ [ اور نہ ہی کوئی گرم جوش دوست ] 26:101 ۔ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا [ اور ان لوگوں کو پلایا جائے گا ایک کھولتا پانی ] 47:15 ۔ (س) حمما ۔ کالا ۔ ہونا ۔ سیاہ ہونا۔ یحموم ، دھوان ۔ وَّظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ [ اور دھویں کے سائے میں ] 56:43 ۔ ح ی ر : (س) حیرۃ ۔ پانی کا کسی جگہ پر چکر لگانا ۔ کسی معاملہ میں دماغ کا چکر لگانا یعنی حیرانی میں پڑنا ۔ حیران ، فعلان کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بےانتہا حیرت زدہ ۔ آیت نمبر ۔ 71 ۔ ترکیب : (6:68) اما۔ دراصل ان ما ہے ۔ (6:70) اتخذوا کا مفعول اول دینہم ہے، جبکہ لعبا اور لھوا مفعول ثانی ہیں ۔ ذکر بہ میں ہ کی ضمیر قرآن مجید کے لئے ہے ۔ تعدل واحد مونث کا صیغہ ہے ۔ اس میں شاملھی کی ضمیر فاعلی نفس کے لئے ہے ۔ (6:71) ندعوا جمع متکلم کے صیغے میں الف کا اضافہ نہیں کیا جاتا ۔ قرآن مجید میں اس کے ساتھ الف کا اضافہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔ حیران حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں آیا ہے ۔ اتی ، یاتی کا فعل امر اصلا انت بنتا ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر ایت استعمال ہوتا ہے لیکن جب ماقبل سے ملا کر پڑھا جاتا ہے تو فعل امر کا ہمزہ الوصل صامت ہوجاتا ہے ۔ اس لئے فاکلمہ کا ہمزہ واپس آجاتا ہے جیسے یہاں الھدی ائتنا آیا ہے ۔ (6:73) علم الغیب والشھادۃ خبر ہے ، اس کا مبتدا ھو محذوف ہے ۔ ھو الحکیم پر ضمیر فاصل ہے ۔ نوٹ 1ــ: جو لوگ اللہ کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ پھر وہ کیوں اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان سے بحث اور مناظرہ کرکے انہیں ضرور قائل کریں ، ان کے ہر لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیں اور کسی نہ کسی طرح منوا کر چھوڑیں ۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے رکھ دیں ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ 2: صور پھونکنے کی صحیح کیفیت ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ کے حکم سے ایک مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب ہلاک ہوجائیں گے۔ پھر نہ معلوم کتنی مدت بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا اور سب دوبارہ زندہ ہو کر اپنے آپ کو میدان حشر میں پائیں گے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں

وَمَا [ اور نہیں ہے ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جو ] يَتَّقُوْنَ [ تقوی اختیار کرتے ہیں ] مِنْ حِسَابِهِمْ [ ان کے حساب میں ] مِّنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] وَّلٰكِنْ [ اور لیکن (یعنی بلکہ ) ] ذِكْرٰي [ نصیحت کرنا ہے ] لَعَلَّهُمْ [ شائد وہ لوگ ] يَتَّقُوْنَ [ تقوی اختیار کریں ]
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور گر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا

وَ [ اور ] ذَرِ [ تو چھوڑ دے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جنھوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنایا ] [ دِيْنَهُمْ ] اپنے دین کو ] لَعِبًا [ کھیل ] وَّلَهْوًا [ اور تماشہ ] وَّغَرَّتْهُمُ [ اور فریب دیا ان کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی نے ] وَذَ كِّرْ [ اور تو یاد کراتا رہ ] بِهٖٓ [ اس (کے ذریعہ ) سے ] اَنْ [ کہ (کہیں )] تُبْسَلَ [ ہلاکت میں ڈالی جائے ] نَفْسٌۢ [ کوئی جان ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَسَبَتْ [ اس نے کمایا ] ڰ لَيْسَ [ نہیں ہے ] لَهَا [ اس کے لئے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَلِيٌّ [ کوئی کارساز ] وَّلَا شَفِيْعٌ ۚ [ اور نہ ہی کوئی سفارشی ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَعْدِلْ [ اور برابر کرے گی (یعنی بدلہ میں دے گی )] كُلَّ عَدْلٍ [ سب کا سب برابر کرنا ] لَّا يُؤْخَذْ [ تو نہیں لیا جائے گا ] مِنْهَا ۭ [ اس سے ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ہیں ] الَّذِيْنَ [ جن کو ] اُبْسِلُوْا [ ہلاکت میں ڈالا گیا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَسَبُوْا ۚ [ انہوں نے کمایا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] شَرَابٌ [ پینے کی چیز ہے ] مِّنْ حَمِيْمٍ [ کھولتے (پانی ) سے ] وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ [ اور ایک دردناک عذاب ہے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ [ وہ لوگ کفر کرتے تھے ]
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

اے محمدؐ! ان سے پو چھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جبکہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے؟کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو

قُلْ [ تو کہہ دے ] اَ [ کیا ] نَدْعُوْا [ ہم پکاریں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کو جو ] لَا يَنْفَعُنَا [ نفع نہیں دیتا ہم کو ] وَلَا يَضُرُّنَا [ اور نہ ہی تکلیف دیتا ہے ہم کو ] وَنُرَدُّ [ اور (کیا ) ہم لوٹا دیئے جائیں ] عَلٰٓي اَعْقَابِنَا [ اپنی ایڑیوں پر ] بَعْدَ اِذْ [ بعد اس کے جب ] هَدٰىنَا [ ہدایت دی ہم کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] كَالَّذِي [ اس کی مانند ] اسْتَهْوَتْهُ [ بہکایا جس کو ] الشَّيٰطِيْنُ [ شیطانوں نے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] حَيْرَانَ ۠ [ سرگرداں ہوتے ہوئے ] لَهٗٓ [ اس کے ہیں ] اَصْحٰبٌ [ کچھ ساتھی ] يَّدْعُوْنَهٗٓ [ جو پکارتے ہیں اس کو ] اِلَى الْهُدَى [ ہدایت کی طرف ] ائْتِنَا ۭ [ کہ تو آہمارے پاس ] قُلْ [ تو کہہ دے ] اِنَّ [ یقینا ] هُدَى اللّٰهِ [ اللہ کی ہدایت ] هُوَ الْهُدٰي ۭ [ ہی کل ہدایت ہے ] وَاُمِرْنَا [ اور حکم دیا گیا ہم کو ] لِنُسْلِمَ [ تاکہ ہم فرمانبردارہوں ] لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ] [ تمام جہانوں کے رب کے لیے ]
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے

وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَقِيْمُوا [ قائم رکھو ] الصَّلٰوةَ [ نماز کو ] وَاتَّقُوْهُ ۭ [ اور تقوی کرو اس کا ] وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ہی ] تُحْشَرُوْنَ [ تم سب جمع کئے جاؤگے ]
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے اور جس د ن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائیگا اس روز پادشاہی اُسی کی ہوگی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَقُوْلُ [ وہ کہے گا ] كُنْ [ تو ہوجا ] فَيَكُوْنُ [ تو ہوجائے گا ] ڛ قَوْلُهُ [ اس کا کہا ] الْحَقُّ ۭ [ حق ہے ] وَلَهُ [ اور اس ہی کی ] الْمُلْكُ [ کل سلطنت ہے ] يَوْمَ [ جس دن ] يُنْفَخُ [ پھونکا جائے گا ] فِي الصُّوْرِ ۭ [ صور میں ] عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭ [ شہادہ اور غیب کا جاننے والا ہے ] وَهُوَ الْحَكِيْمُ [ اور وہی حکیم ہے ] الْخَبِيْرُ [ خبیر ہے ]
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا "کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں"

وَاِذْ [ اور جب ] قَالَ [ کہا ] اِبْرٰهِيْمُ [ ابرہیم نے ] لِاَبِيْهِ اٰزَرَ [ اپنے باپ آزر سے ] اَ [ کیا ] تَتَّخِذُ [ تو بناتا ہے ] اَصْنَامًا [ بتوں کو ] اٰلِهَةً ۚ [ الہ ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَرٰىكَ [ خیال کرتاہوں تجھ کو ] وَقَوْمَكَ [ اور تیری قوم کو ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ ایک کھلی گمراہی میں ] ء زر : (ض) ازرا (1) گتھا ہواہونا ۔ مضبوط ہونا ۔ (2) تہبند باندھنا ۔ ازر ، اسم ذات ہے۔ (1) قوت (2) کمر (تہبند باندھنے کی جگہ ) اشددبہ ازری [ تو سخت کر اس سے میری قوت کو ] 20:31 ۔ ازر ، افعل تفضیل کا وزن ہے۔ زیادہ گتھا ہوا ۔ زیادہ مضبوط زیر مطالعہ آیت ۔ 74 میں یہ اسم علم کے طور پر آیا ہے۔ (مفاعلہ) موازرۃ ۔ کسی کو تقویت دینا ۔ مضبوط کرنا ۔ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ [ ایک ایسی کھیتی کی مانند جس نے نکالا اپنا خوشہ پھر اس نے مضبوط کیا اس کو ] 48:29 ۔ ص ن م : (س) صنما ، غلام کا قوی اور مضبوط ہونا۔ صنم (ج) اصنام ۔ کسی کا مجسمہ ، بت زیر مطالعہ آیت ۔ 74) ک و ک ب : (رباعی) کو کبۃ ۔ لوہے کا چمک اٹھنا ۔ جگ مگ کرنا ۔ کوکب ، ستارہ ، وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ [ اور جب ستارے جھڑجائیں گے ] 82:2 ۔ ءل : (ض۔ ن) افولا ، غروب ہونا ، ڈوب جانا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 76 ۔ افل ۔ اسم الفاعل ہے ۔ غروب ہونے والا ۔ زیر مطالعہ آیت 76 ۔ ب ز غ : (ن) بزغا ، نشتر لگنے سے خون نکلنا ۔ نمودار ہونا ۔ طلوع ہونا ۔ بازغ ۔ اسم الفاعل ہے ، طلوع ہونے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 77 ۔ ترکیب : (6:74) ابی کا بدل ہونے کی وجہ سے ازر حالت جر میں ہے ۔ تتخذ کا مفعول اول اصناما ہے اور الہۃ اس کا مفعول ثانی ہے ۔ سلسلہ کلام اذ سے شروع ہوا ہے اس لئے نری (مضارع ) کا ترجمہ ماضی میں ہوگا ۔ (6:78) الشمس مونث غیر حقیقی ہے اس لئے اس کے لئے کہ ھذا اور کبری کی جگہ اکبر بھی جائز ہے ۔ نوٹ 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر ہے ۔ تورات کے عربی اور انگریزی ترجموں اور تالمود ، سب میں اس لفظ کا تلفظ ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔ قرآن نے یہاں جس تصریح کے ساتھ اس نام کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں یہود کے ہاں روایات کا جو اختلاف ہے وہ اس کو رفع کرنا چاہتا ہے اور قرآن چونکہ براہ راست وحی الہی پر مبنی ہے اس لئے ماننا چاہیے کہ یہی نام صحیح ہے (تدبر قرآن ) یہ بات نوٹ کرلیں کہ ناموں میں تلظ کے اختلاف کا مسئلہ صرف آزر کے نام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ بلکہ متعدد نام ایسے ہیں جن میں تلفظ کا اختلاف موجود ہے، مثلا یعقوب کو جیکب ، موسیٰ کو موسس ، یوسف کو جوزف کہنا ، وغیرہ ۔ نوٹ 2: آیات 76 تا 78 میں ستارہ ، چاند اور سورج کو دیکھنے کا جو ذکر ہے، یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس ابتدائی غور و فکر کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ان کے لئے حقیقت تک پہنچے کا ذریعہ بنی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سوچنے سمجھنے والا انسان ، جس نے سراسر شرک کے ماحول میں آنکھ کھولی تھی ، کس طرح آثار کائنات کا مشاہدہ کرکے اور ان پر غور وفکر کرکے حقیقت معلوم کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے گرد وپیش ہر طرف چاند ، سورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔ اس لئے قدرتی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حقیقت کا آغاز اسی سوال سے ہونا چاہیے تھا کہ کیا فی الواقع ان میں سے کوئی رب ہوسکتا ہے ؟ اسی مرکزی سوال پر انہوں نے غور و فکر کیا اور ان سارے خداؤں کو ایک اٹل قانون کے تحت غلاموں کی طرح گردش کرتے دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ ان میں سے کوئی بھی رب نہیں ہوسکتا ۔ رب صرف وہی ایک ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور اپنے حکم کا پابند کیا ۔ مذکورہ آیات کے الفاظ سے عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ہر روز چاند تاروں اور سورج کو طلوع و غروب ہوتے نہ دیکھتے تھے، لیکن یہ کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے ۔ نیوٹن کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا تو اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ اشیاء آخر زمین پر ہی کیوں گرا کرتی ہیں ۔ اس پر غور کرتے ہوئے وہ کشش ثقل کے قانون تک پہنچ گیا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے نیوٹن نے کبھی کوئی چیز گرتی ہوئی نہیں دیکھی تھی ، ظاہر ہے کہ بار بار دیکھی ہوگی ۔ لیکن ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی چیز کو بارہا دیکھتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں کوئی تحریک نہیں ہوتی ، مگر کسی وقت اسی چیز کو دیکھ کر ذہن میں تحریک ہوتی ہے یا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور انسان کی غور وفکر کی قوتیں کام کرنے لگتی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بھی پیش آیا ۔ سورج ، چاند اور تارے سب ہی ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور ابھرتے رہتے تھے، لیکن وہ ایک خاص دن تھا جب ایک تارے کے مشاہدے نے ان کے ذہن کو اس راہ پر ڈال دیا جس سے وہ توحید الہ کی حقیقت تک پہنچ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تارے ، چاند اور سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا، تو کیا اس وقت عارضی طور پر ہی سہی ، وہ شرک میں مبتلا نہ ہوگئے تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالب حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور وفکر کے لئے ٹھہرتا ہے، اصل اعتبار ان منزلوں کا نہیں ہوتا ، بلکہ اصل اعتبار اس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کررہا ہے اور اس آخری مقام کا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتا ہے ۔ بیچ کی منزلیں ہر جویائے حق کے لئے ناگزیر ہیں ۔ ان پر ٹھہرنا بسلسلہ طلب و جستجو ہوتا ہے نہ کہ بصورت فیصلہ ۔ اصلا یہ ٹھہراؤسوالی واستفہامی ہوتا ہے نہ کہ حکمی ۔ طالب جب ان میں سے کسی منزل پر رک کر کہتا ہے کہ ” ایسا ہے “ تو دراصل یہ اس کی آخری رائے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ” ایسا ہے ؟ “ اور تحقیق سے اس کا جواب نفی میں پاکر وہ آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اس لئے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھہرتا رہا وہاں وہ عارضی طور پر کفر وشرک میں مبتلا رہا (تفہیم القرآن )
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُرِيْٓ [ ہم نے مشاہدہ کرایا ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کو ] مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت کا ] وَلِيَكُوْنَ [ اور تاکہ وہ ہوجائے ] مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ [ یقین کرنے والوں میں سے ]
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تار ا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں

فَلَمَّا [ پھر جب ] جَنَّ [ چھاگئی ] عَلَيْهِ [ ان پر ] الَّيْلُ [ رات ] رَاٰ [ تو انہوں نے دیکھا ] كَوْكَبًا ۚ [ ایک تارہ ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] هٰذَا [ یہ ] رَبِّيْ ۚ [ میرا رب (ہوسکتا) ہے ؟] فَلَمَّآ [ پس جب ] [ اَفَلَ : ڈوب گیا ] [ قَالَ ] [ آپ نے فرمایا ] [ لَآ اُحِبُّ [ میں محبت نہیں کرسکتا ] [ الْاٰفِلِيْنَ : ڈوب جانے والوں سے ]
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا

فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاَ [ انہوں نے دیکھا ] الْقَمَرَ [ چاند کو ] بَازِغًا [ طلوع ہونے والا ہوتے ہوئے ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] هٰذَا [ یہ ] رَبِّيْ ۚ [ میرا رب (ہوسکتا ) ہے ؟] فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَفَلَ [ وہ ڈوب گیا ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] لَىِٕنْ [ یقینا اگر ] لَّمْ يَهْدِنِيْ [ ہدایت نہ دی مجھے ] رَبِّيْ [ میرے رب نے ] لَاَكُوْنَنَّ [ تو میں لازما ہوجاؤں گا ] مِنَ الْقَوْمِ الضَّاۗلِّيْنَ [ گمراہ ہونے والے لوگوں میں سے ]
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا "اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو

فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاَ [ انہوں نے دیکھا ] الشَّمْسَ [ سورج کو ] بَازِغَةً [ طلوع ہونے والا ہوتے ہوئے ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] هٰذَا [ یہ ] رَبِّيْ [ میرا رب (ہوسکتا) ہے ؟ ) هٰذَآ [ یہ ] اَكْبَرُ ۚ [ سب سے بڑا ہے ] فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَفَلَتْ [ وہ ڈوب گیا ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جس کو ] تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کرتے ہو ]