6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"

اِنِّىْ [ بیشک میں نے ] وَجَّهْتُ [ رخ کیا ] وَجْهِيَ [ اپنے چہرے کا ] لِلَّذِيْ [ اس کی طرف جس نے ] فَطَرَ [ وجود بخشا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] حَنِيْفًا [ یکسوہوتے ہوئے ] وَّمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شریک کرنے والوں میں سے ]
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا "کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟

وَحَاۗجَّهٗ [ اور ان سے حجت بازی کی ] قَوْمُهٗ ۭ [ ان کی قوم نے ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] ا [ کیا ] اَتُحَاۗجُّوْۗنِّىْ [ تم لوگ حجت بازی کرتے ہو مجھ سے ] فِي اللّٰهِ [ اللہ (کے بارے ) میں ] وَ [ اس حال میں کہ ] قَدْ هَدٰىنِ ۭ [ وہ ہدایت دے چکا ہے مجھ کو ] وَلَآ اَخَافُ [ اور میں نہیں ڈرتا ] مَا [ اس سے ] تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کرتے ہو ] بِهٖٓ [ جس کو ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يَّشَاۗءَ [ چاہے ] رَبِّيْ [ میرا رب ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ (تکلیف دینا )] وَسِعَ [ کشادہ ہوا ] رَبِّيْ [ میرا رب ] كُلَّ شَيْءٍ [ ہرچیز پر ] عِلْمًا ۭ [ بلحاظ علم کے ] اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ یاد دہانی حاصل نہیں کرتے ] ترکیب : (6:80) یہاں وسع فعل لازم ہے ۔ ربی اس کا فاعل ہے اور کل کی نصب ظرف ہونے کی وجہ سے ہے جب کہ علما تمیز ہے ۔ (6:38) نررع کا مفعول من ہے جبکہ درجت تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو

وَكَيْفَ [ اور کیسے ] اَخَافُ [ میں ڈروں ] مَآ [ اس سے جس کو ] اَشْرَكْتُمْ [ تم لوگوں نے شریک کیا ] وَ [ حالانکہ ] لَاتَخَافُوْنَ [ تم لوگ نہیں ڈرتے ] اَنَّكُمْ [ کہ تم نے ] اَشْرَكْتُمْ [ شریک کیا ] بِاللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] مَا [ اس کو ] لَمْ يُنَزِّلْ [ اس نے نہیں اتاری ] بِهٖ [ جس کی ] عَلَيْكُمْ [ تم پر ] سُلْطٰنًا ۭ [ کوئی دلیل ] فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ [ تو دونوں فریقوں میں سے کون ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہے ] بِالْاَمْنِ ۚ [ سکون میں ہونے کا ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] تَعْلَمُوْنَ [ جانتے ہو ]
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا"

اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا [ اور انہوں نے گڈمڈ نہیں کیا ] اِيْمَانَهُمْ [ اپنے ایمان کو ] بِظُلْمٍ [ ظلم کے ساتھ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] لَهُمُ [ جن کے لئے ہے ] الْاَمْنُ [ سکون میں ہونا ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ہی ] مُّهْتَدُوْنَ [ ہدایت پانے والے ہیں ]
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیمؑ کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے

وَتِلْكَ [ اور یہ ] حُجَّتُنَآ [ ہماری حجت ہے ] اٰتَيْنٰهَآ [ جو ہم نے دی ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کو ] عَلٰي قَوْمِهٖ ۭ [ ان کی قوم پر ] نَرْفَعُ [ ہم بلند کرتے ہیں ] دَرَجٰتٍ [ درجات کے لحاظ سے ] مَّنْ [ اس کو جس کو ] نَّشَاۗءُ ۭ [ ہم چاہتے ہیں ] اِنَّ [ یقینا ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 6:84

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی (وہی راہ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی) اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں

وَوَهَبْنَا [ اور ہم نے عطا کیا ] لَهٗٓ [ ان کو ] اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۭ [ اسحاق اور یعقوب ] كُلًّا [ سب کو ] هَدَيْنَا ۚ [ ہم نے ہدایت دی ] وَنُوْحًا [ اور نوح (علیہ السلام) کو (بھی ) ] هَدَيْنَا [ ہم نے ہدایت دی ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ [ اور ان کی اولاد میں سے ] دَاوٗدَ [ داود کو ] وَسُلَيْمٰنَ [ اور سلیمان (علیہ السلام) کو ] وَاَيُّوْبَ [ اور ایوب (علیہ السلام) کو ] وَيُوْسُفَ [ اور یوسف (علیہ السلام) کو ] وَمُوْسٰي [ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ] وَهٰرُوْنَ ۭ [ اور ہارون (علیہ السلام) کو ] وَكَذٰلِكَ [ اور اسی طرح ] نَجْزِي [ ہم جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [ بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ] ق د ر : (ن) قدوا ۔ گھوڑے کا سوار کو لے جانا ۔ (افتعال ) اقتداء ۔ کسی کے نقش قدم پر چلنا ۔ پیروی کرنا ۔ اقتد ، فعل امر ہے ۔ تو پیروی کر ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 90 ۔ مقتد ۔ اسم الفاعل ہے۔ پیروی کرنے والا ۔ وانا علی اثارہم مقتدون [ اور بیشک ہم ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ] 43 :23 ۔ ترکیب : (6:84) لہ میں ضمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ہے ۔ ونوحا ھدینا میں ھدینا کا مفعول ہونے کی وجہ سے نوحا حالت نصب میں آیا ہے ۔ اس کے آگے انبیاء کرام کے تمام نام بھی اسی ھدینا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں ۔ ذریۃ کی ضمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے ہے۔ (6:89) یکفر کا فاعل ھولاء ہے ۔ (6:90) اقتد فعل امر ہے ۔ اس کے آگے ہائے سکت لگی ہوئی ہے ۔ (آیت 2:259، نوٹ 2) اقتد کا مفعول بھدہم ہے۔
Ayah 6:85

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

(اُسی کی اولاد سے) زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ اور الیاسؑ کو (راہ یاب کیا) ہر ایک ان میں سے صالح تھا

وَزَكَرِيَّا [ اور زکریا (علیہ السلام) کو ] وَيَحْيٰى [ اور یحی (علیہ السلام) کو ] وَعِيْسٰي [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ] وَاِلْيَاسَ ۭ [ اور الیاس (علیہ السلام) ] كُلٌّ [ یہ سب ] مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ [ صالحین میں سے ہیں ]
Ayah 6:86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

(اسی کے خاندان سے) اسماعیلؑ، الیسعؑ، اور یونسؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا) اِن میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی

وَاِسْمٰعِيْلَ [ اور اسمعیل (علیہ السلام) کو ] وَالْيَسَعَ [ اور الیسع (علیہ السلام) ] وَيُوْنُسَ [ اور یونس (علیہ السلام) ] وَلُوْطًا ۭ [ اور لوط (علیہ السلام) کو ] وَكُلًّا [ اور سب کو ] فَضَّلْنَا [ ہم نے فضیلت دی ] عَلَي الْعٰلَمِيْنَ [ تمام عالموں پر ]
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

نیز ان کے آبا و اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا، انہیں اپنی خدمت کے لیے چن لیا اور سیدھے راستے کی طرف اُن کی رہنمائی کی

وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ [ اور ان کے آباواجداد میں سے ] وَذُرِّيّٰتِهِمْ [ اور ان کی اولاد میں سے ] وَاِخْوَانِهِمْ ۚ [ اور ان کے بھائیوں میں سے (کچھ کو ہم نے فضیلت دی ) ] وَ [ اس حال میں کہ ] اجْتَبَيْنٰهُمْ [ ہم نے ان کو چن لیا ] وَهَدَيْنٰهُمْ [ اور ہم نے ان کو ہدایت دی ] اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا

ذٰلِكَ [ یہ ] هُدَى اللّٰهِ [ اللہ کی ہدایت ہے ] يَهْدِيْ [ وہ ہدایت دیتا ہے ] بِهٖ [ اس کی ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ ۭ [ اپنے بندوں میں سے ] وَلَوْ [ اور اگر ] اَشْرَكُوْا [ وہ لوگ شرک کرتے ] لَحَبِطَ [ تو یقینا اکارت ہوجاتا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں

اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں ] اٰتَيْنٰهُمُ [ ہم نے دیا جن کو ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] وَالْحُكْمَ [ اور حکم دینے کا اختیار ] وَالنُّبُوَّةَ ۚ [ اور نبوت ] فَاِنْ [ پھر اگر ] يَّكْفُرْ [ انکار کریں ] بِهَا [ اس کا ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ یہ لوگ (یعنی اہل مکہ ) ] فَقَدْ وَكَّلْنَا [ تو ہم نے نگہبان مقرر کیا ہے ] بِهَا [ اس کا ] قَوْمًا [ ایک ایسی قوم کو جو ] لَّيْسُوْا [ نہیں ہے ] بِهَا [ اس کا ] بِكٰفِرِيْنَ [ انکار کرنے والی ]
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

اے محمدؐ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ و ہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے

اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جن کو ] هَدَى [ ہدایت دی ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] فَبِهُدٰىهُمُ [ پس ان کی ہدایت کی ] اقْتَدِهْ ۭ [ آپ پیروی کریں ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ [ میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] اَجْرًا ۭ [ کوئی اجرت ] اِنْ هُوَ [ نہیں ہے یہ ] اِلَّا [ مگر ] ذِكْرٰي [ ایک یاد دہانی ] لِلْعٰلَمِيْنَ [ تمام عالموں کے لئے ]
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دو

وَمَا قَدَرُوا [ اور انہوں نے قدر نہیں کی ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖٓ [ جیسا اس کی قدر کا حق ہے ] اِذْ [ جب ] قَالُوْا [ انہوں نے کہا ] مَآ اَنْزَلَ [ نہیں اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلٰي بَشَرٍ [ کسی بشر پر ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [ کچھ بھی ] قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [ کس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] الْكِتٰبَ الَّذِيْ [ اس کتاب کو ] جَاۗءَ بِهٖ [ لائے جس کو ] مُوْسٰي [ موسیٰ ] نُوْرًا [ نور ہوتے ہوئے ] وَّهُدًى [ اور ہدایت ہوئے ] لِّلنَّاسِ [ لوگوں کے لئے ] تَجْعَلُوْنَهٗ [ تم لوگ بناتے ہو اس کے ] قَرَاطِيْسَ [ اوراق (یعنی اوراق میں نقل کرتے ہو)] تُبْدُوْنَهَا [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو اس کو ] وَتُخْفُوْنَ [ اور چھپاتے ہو ] كَثِيْرًا ۚ [ اکثر کو ] وَعُلِّمْتُمْ [ اور علم دیا گیا تمہیں ] مَّا [ اس کا جو ] لَمْ تَعْلَمُوْٓا [ نہیں جانتے تھے ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] وَلَآ اٰبَاۗؤُكُمْ ۭ [ اور نہ ہی تمہارے آباواجداد قُلِ [ آپ کہئے ] اللّٰهُ ۙ [ اللہ نے ] ثُمَّ [ پھر ] ذَرْ [ آپ چھوڑدیں ] هُمْ [ ان کو ] فِيْ خَوْضِهِمْ [ ان کی لاحاصل بات میں ] يَلْعَبُوْنَ [ کھیلتے ہوئے ] غ م ر (ن) غمرا ۔ پانی کا اتنا زیادہ ہونا کہ ہر چیز ڈھنک جائے ۔ (1) زیادہ ہونا ۔ سخت ہونا۔ (2) عقل کا کسی چیز سے ڈھنکا ہوا ہونا۔ غافل ہونا ۔ مدہوش ہونا۔ غمرۃ (ج) غمرات ۔ اسم ذات ہے ۔ (1) زیادتی ، سختی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 93 ۔ (2) غفلت ، مدہوشی ، فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِيْنٍ [ پس آپ چھوڑدیں ان کو ان کی مدہوشی میں ایک مدت تک ] 23:54 ۔ رد (ن ۔ ک) فرودا۔ اکیلا ، تنہا ہونا۔ فردا (ج) فرادی ، صفت ہے ۔ اکیلا تنہا ۔ رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا ۔ [ اے میرے رب تو نہ چھوڑ مجھ کو تنہا ] 21:89 ۔ ترکیب : (6:91) نورا اور ھدی حال ہیں ۔ تجعلونہ میں ضمیر مفعولی الکتب کے لئے ہے جبکہ تبدونھا میں ضمیر مفعولی قراطیس کے لئے ہے ۔ لم تعلموا میں ضمیر فاعلی انتم ۔ از خود شامل ہے لیکن یہاں اس کا ایک اور فاعل اباء کم بھی تھا اس لئے انتم کی ضمیر کو ظاہر کیا گیا ۔ قل اللہ جواب ہے من انزل کا ۔ یلعبون بھی حال ہے ۔ (6:92) وھذا مبتدا ہے ۔ کتب خبر ہے ، انزلنہ اس کی صفت اول ہے ۔ مبارک صفت ثانی ہے۔ مصدق الذی میں مضاف کی رفع بتارہی ہے کہ یہ حال نہیں ہے بلکہ کتب کی تیسری صفت ہے ۔ بہ کی ضمیر کتب کیلئے ہے ۔ (6:93) الظلمون مبتدا ہے اور فی غمرت الموت قائم مقام خبر ہے ۔ پھر یہ پورا جملہ ولو تری کا مفعول ہونے کی وجہ سے محلا منصوب ہے ۔ اسی طرح والملئکۃ مبتدا ہے اور باسطوا ایدیہم اس کی خبر ہے ۔ پھر یہ جملہ بھی ولو تری کا مفعول ہے ۔ باسطوا دراصل باسطون تھا ۔ آگے ایدکا مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہے اور الف کا اضافہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ اخرجوا سے پہلے ان محذوف ہے ۔ الیوم ظرف ہے ۔ (6:94) فرادی حال ہے ۔ وراء ظرف ہے تقطع کا فاعل محذوف ہے۔ نوٹ 1: مکہ معظمہ کو ام القری اس لئے کہا گیا ہے کہ تاریخی روایات کے مطابق ابتداء آفرینش میں پیدائش زمین کی ابتدا یہیں سے ہوئی ہے۔ نیز یہ کہ سارے عالم کا قبلہ اور عبادت میں مرکز توجہ یہی ہے ۔ اس کے ساتھ ومن حولھا سے مراد مکہ کے تمام اطراف ہیں ، جس میں پورا عالم مشرق ومغرب اور جنوب و شمال داخل ہے ۔ (معارف القرآن ) نوٹ 2: رسول اللہ صلی اللہ علی کا ارشاد ہے کہ ابن آدم کہتا ہے میرا مال میرا مال ۔ لیکن تیرا مال تو صرف اتنا ہی تھا جو تو نے کھایا اور فنا کردیا ، پہنا اور پرانا کردیا یا دوسروں کو دیا اور گویا باقی رکھ لیا ۔ اس کے سوا تیری ساری دولت دوسروں کے لئے ہے (ابن کثیر )
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

(اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی خیر و برکت والی ہے اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اِس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو جو لو گ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

وَهٰذَا [ اور یہ ] كِتٰبٌ [ ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ ہم نے اتارا جس کو ] مُبٰرَكٌ [ برکت دی ہوئی ] مُّصَدِّقُ الَّذِيْ [ تصدیق کرنے والی اس کی جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ [ اس کے سامنے (یعنی پہلے ) ہے ] وَلِتُنْذِرَ [ اور تاکہ آپ خبردار کریں ] اُمَّ الْقُرٰي [ بستیوں کی ماں (یعنی مکہ والوں ) کو ] وَمَنْ [ اور ان کو جو ] حَوْلَهَا ۭ [ اس کے اردگرد ہیں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان رکھتے ہیں ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] يُؤْمِنُوْنَ [ وہ ایمان لاتے ہیں ] بِهٖ [ اس پر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] عَلٰي صَلَاتِهِمْ [ اپنی نماز پر (یعنی کی ) ] يُحَافِظُوْنَ [ حفاظت کرتے ہیں ]
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالیکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کر کے دکھا دوں گا؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "لاؤ، نکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے"

وَمَنْ [ اور کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] قَالَ [ اس نے کہا ] اُوْحِيَ [ وحی کی گئی ] اِلَيَّ [ میری طرف ] وَ [ حالانکہ ] لَمْ يُوْحَ [ وحی نہیں کی گئی ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] شَيْءٌ [ کوئی چیز ] وَّمَنْ [ اور (اس سے ) جس نے ] قَالَ [ کہا ] سَاُنْزِلُ [ میں اتاروں گا ] مِثْلَ مَآ [ اس کے جیسا جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] وَلَوْ [ اور اگر ] تَرٰٓي [ آپ دیکھتے ] اِذِ [ جب ] الظّٰلِمُوْنَ [ ظالم لوگ ] فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ [ موت کی سختیوں میں ہوں گے ] وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ [ اور فرشتے ] بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ [ اپنے ہاتھوں کو پھیلانے والے ہوں گے ] اَخْرِجُوْٓا [ (کہ ) تم لوگ نکالو ] اَنْفُسَكُمْ ۭ [ اپنی جانوں کو ] اَلْيَوْمَ [ آج کے دن ] تُجْزَوْنَ [ تم لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ] عَذَابَ الْهُوْنِ [ ذلت کے عذاب کا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ [ تم لوگ کہتے تھے ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] غَيْرَ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَكُنْتُمْ [ اور تم لوگ ] عَنْ اٰيٰتِهٖ [ اس کی نشانیوں سے ] تَسْتَكْبِرُوْنَ [ تکبر کرتے تھے ]
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

(اور اللہ فرمائے گا) "لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے"

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا [ اور بیشک تم لوگ آگئے ہو ہمارے پاس ] فُرَادٰي [ اکیلے اکیلے ] كَمَا [ جیسے کہ ] خَلَقْنٰكُمْ [ ہم نے پیدا کیا تم کو ] اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] وَّتَرَكْتُمْ [ اور تم لوگ چھوڑ آئے ] مَّا [ اس کو جو ] خَوَّلْنٰكُمْ [ ہم نے عطا کیا تم کو ] وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ [ اپنی پیٹھوں کے پیچھے ] وَمَا نَرٰي [ اور ہم نہیں دیکھتے ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ [ تمہارے ان سفارشیوں کو جن کو ] زَعَمْتُمْ [ تم جتاتے تھے ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ لوگ ] فِيْكُمْ [ تم میں ] شُرَكٰۗؤُا ۭ [ ساجھے دار ہیں ] لَقَدْ تَّقَطَّعَ [ یقینا کٹ چکے ہیں (سارے ناطے )] بَيْنَكُمْ [ تمہارے درمیان ] وَضَلَّ [ اور گم ہوگئے ] عَنْكُمْ [ تم سے ] مَّا [ وہ جن کا ] كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ [ تم زعم کرتے تھے ]
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے یہ سارے کام کرنے والا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟

اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ (ہی ) ] فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى ۭ [ گٹھلی اور دانے پھاڑنے والا ہے ] يُخْرِجُ [ وہ نکالتا ہے ] الْحَيَّ [ زندہ کو ] مِنَ الْمَيِّتِ [ مردہ (میں) سے ] وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ [ اور (وہ) مردہ کو نکالنے والا ہے ] مِنَ الْـحَيِّ ۭ [ زندہ (میں) سے ] ذٰلِكُمُ [ یہ ] اللّٰهُ [ اللہ ہے ] فَاَنّٰى [ پھر کہاں سے ] تُؤْفَكُوْنَ ] [ تم لوگ پھیرے جاتے ] ل ق : (ض) فلقا ۔ کسی چیز کو پھاڑ کر اس میں سے کسی چیز کو ظاہر کرنا ۔ جیسے رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح کی روشنی ظاہر کرنا ۔ فالق ۔ اسم الفاعل ہے (1) پھاڑنے والا ۔ (2) ظاہر کرنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 95 ۔ فلق کسی چیز کے پھٹنے سے ظاہر ہونے والی چیز جیسے صبح پودا وغیرہ ۔ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ [ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے مالک کی ] 113:1 ۔ (انفعال ) انفلاقا۔ پھٹنا ۔ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ [ پھر وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا تھا بڑے پہاڑ کی مانند ] 26:63 ۔ ن و ی : (ض) نواۃ گٹھلی پھینکنا ۔ نوی ۔ اسم ذات ہے ۔ گٹھلی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 95 ۔ ص ب ح : (ف) صبحا ۔ کسی چیز کو ظاہر کرنا ۔ صبح کے وقت نمودار کرنا ۔ (س ، ک) صبحا ۔ کسی چیز کا روشن اور چمکدار ہونا ۔ صباحۃ ۔ مصباح (ج) مصابیح اسم الآلہ ہے ۔ روشن کرنے کا آلہ ۔ چراغ ۔ مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح [ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی مانند ہے جس میں ہو ایک چراغ ] 24: 35 ۔ وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ [ اور بیشک ہم نے زینت دی ہے دنیوی آسمان کو چراغوں سے ] 67:5 ۔ صبح وصباح ۔ دونوں ہم معنی ہیں ۔ دن کا ابتدائی حصہ ۔ صبح ۔ الیس الصبح بقریب [ کیا صبح قریب نہیں ہے ] آیت 11:81 ۔ فَسَاۗءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ [ تو کتنی بری ہوگی خبردار کئے ہوؤں کی صبح ] 37:177 ۔ (افعال) اصباحا (1) صبح کرنا ۔ صبح کے وقت داخل ہونا ۔ فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ (پھر وہ صبح کے وقت داخل ہوئے شہر میں ] 28:18 ۔ (2) افعال ناقصہ میں سے ہے ۔ دیکھیں آیت نمبر 2:57، نوٹ 1 ۔ اصباح مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے ۔ صبح کی روشنی ۔ زیر مطالعہ آیت 96 ۔ (تفعیل ) تصبیحا صبح کے وقت ۔ وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ [ اور بیشک صبح کے وقت آچکا ہے ان پر ] سویرے سویرے ، ایک ٹھہرنے والا عذاب ] 54:38 ۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

پردہ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ [ (وہ) صبح کی روشنی کو ظاہر کرنے والا ہے ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] الَّيْلَ [ رات کو ] سَكَنًا [ آرام ] وَّالشَّمْسَ [ اور سورج کو ] وَالْقَمَرَ [ اور چاند کو ] حُسْـبَانًا ۭ [ حساب رکھنے والا ] ذٰلِكَ [ یہ ] تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ [ علیم ، بالادست (ہستی ) کا طے شدہ امر ہے ]
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنائے ] لَكُمُ [ تمہارے لئے ] النُّجُوْمَ [ ستارے ] لِتَهْتَدُوْا [ تاکہ تم لوگ راہ پاؤ] بِهَا [ ان سے ] فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ [ سمندر اور زمین کے اندھیروں میں ] قَدْ فَصَّلْنَا [ ہم نے کھول کھول کر بیان کیا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایک ایسے گروہ کے لئے ] يَّعْلَمُوْنَ [ جو علم رکھتے ہیں ]
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے ایک متنفس سے تم کو پید ا کیا پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہی ہے جس نے ] اَنْشَاَكُمْ [ اٹھایا تم کو ] مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ [ ایک اکیلی جان سے ] فَمُسْتَقَرٌّ [ تو (تمہارے لئے ہے ) ایک ٹھہرنے کی جگہ ] وَّمُسْـتَوْدَعٌ ۭ [ اور ایک بطور امانت رکھے جانے کی جگہ ] قَدْ فَصَّلْنَا [ ہم نے کھول کھول کر بیان کیا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے ] يَّفْقَهُوْنَ [ جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ]
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہی ہے جس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً ۚ [ کچھ پانی ] فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نے نکالا ] بِهٖ [ اس سے ] نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا اگنا ] فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نے نکالا ] مِنْهُ [ اس میں سے ] خَضِرًا [ کچھ سبزی ] نُّخْرِجُ [ (پھر ) ہم نکالتے ہیں ] مِنْهُ [ اس میں سے ] حَبًّا مُّتَرَاكِبًا ۚ [ ایک پر ایک چڑھنے والے دانوں کو ] وَمِنَ النَّخْلِ [ اور کجھور سے، ] مِنْ طَلْعِهَا [ اس کی کونپل میں ] قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ ۙ [ کچھ نزدیک ایک ہونے والے گچھے ہیں ] وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ [ اور (ہم نکالتے ہیں ) انگور کے باغات کو ] وَّالزَّيْتُوْنَ [ اور زیتون کو ] وَالرُّمَّانَ [ اور انار کو ] مُشْتَبِهًا [ ملتے جلتے ہوئے ] وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۭ [ اور باہم نہ ہوتے ہوئے ] اُنْظُرُوْٓا [ تم لوگ دیکھو ] اِلٰى ثَمَرِهٖٓ [ اس کے پھل کی طرف ] اِذَآ جب ] اَثْمَــرَ [ وہ پھل دے ] وَيَنْعِهٖ ۭ [ اور اس کے پکنے کی طرف ] اِنَّ [ یقینا ] فِيْ ذٰلِكُمْ [ اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ کچھ نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے ] يُّؤْمِنُوْنَ [ جو ایمان رکھتے ہیں ] نوٹ 1: آیت نمبر 99 میں الی ثمرہ میں ضمیر کا مرجع وہ ساری ہی چیزیں ہیں جن کا ذکرگزرا ہے لیکن جمع کے بجائے ضمیر واحد اس وجہ سے ہے کہ قرآن چاہتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز کو الگ الگ لے کر ان کے پیدا ہونے سے ان کے پکنے تک کے تمام مراحل پر غور کیا جائے ۔ غور وفکر کا عمل فطری طور پر تقاضہ کرتا ہے کہ ایک وقت میں ایک چیز پر نگاہ جمائی جائے تاکہ قوت فکر منتشر نہ ہو ۔ گویا یہاں قرآن نے صرف غور وفکر کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ اس کا صحیح طریقہ بھی بتادیا (تدبر قرآن )
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اِس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا، حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کر دیں، حالانکہ وہ پاک اور بالا تر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں

وَجَعَلُوْا [ اور انہوں نے بنایا ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ] شُرَكَاۗءَ [ ساجھی ] الْجِنَّ [ جنوں کو ] وَ [ حالانکہ ] خَلَقَهُمْ [ اس نے پیدا کیا ان کو ] وَخَرَقُوْا [ اور انہوں نے گھڑے ] لَهٗ [ اس کے لئے ] بَنِيْنَ [ کچھ بیٹے ] وَبَنٰتٍۢ [ اور کچھ بیٹیاں ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ [ کسی علم کے بغیر ] سُبْحٰنَهٗ [ اس کی پاکیزگی ہے ] وَتَعٰلٰى [ اور وہ بلند ہے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَصِفُوْنَ [ یہ لوگ بتاتے ہیں ]
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ (وہ) زمین اور آسمانوں کا ایجاد کرنے والا ہے ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يَكُوْنُ [ ہوگی ] لَهٗ [ اس کے لئے ] وَلَدٌ [ کوئی اولاد ] وَّ [ اس حال میں کہ ] لَمْ تَكُنْ [ تھی ہی نہیں ] لَّهٗ [ اس کے لئے ] صَاحِبَةٌ ۭ [ کوئی ساتھی (یعنی بیوی ) ] وَخَلَقَ [ اور اس نے پیدا کیا ] كُلَّ شَيْءٍ ۚ [ ہر چیز کو ] وَهُوَ [ اور وہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] ل ط: (ن) لطفا ۔ لطیف ہونا ۔ یہ ثقیل اور کثیف کی ضد ہے۔ یعنی ہر قسم کے ثقل اور کثافت سے مبرا ہونا ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے ۔ (1) نرم اور مہربان ہونا ۔ (2) ایسی تدبیر کرنا کہ کسی کو اس کا احساس نہ ہو (3) باریک بین ہونا ۔ لطیف ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ، اسم الفاعل کے معنی میں ۔ ہمیشہ اور ہر حال میں (1) نرمی اور مہربانی کرنے والا (2) غیر محسوس تدبیر کرنے والا (3) باریک بین ۔ اللہ لطیف بعبادہ [ اللہ نرمی کرنے والا ہے اپنے بندوں سے ] 42:19 ۔ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ [ بیشک میرا رب غیر محسوس تدبیر کرنے والا ہے اس کے لئے جو وہ چاہتا ہے ] 12:100 اور زیرمطالعہ آیت ۔ 103 ۔ (تفعل ) بتکلف نرمی اختیار کرنا ۔ فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ [ پھر چاہیے کہ وہ لائے تمہارے لئے کچھ کھانا اس میں سے اور چاہیے کہ وہ نرمی اختیار کرے ] 18:19 ۔ ترکیب : (2:101) یکون کان تامہ ہے اور ولد اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے ۔ (6:102) ذلکم اللہ مرکب اشاری اور مبتدا ہے ۔ ربکم اس کی خبر ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ذلکم کو مبتدا اور اللہ کو خبر مانیں ، تو ربکم بدل ہوگا اللہ کا ۔ ترجمے میں ہم پہلی صورت کو ترجیح دیں گے ۔ (6:104) لنفسہ قائم مقام خبر ہے ۔ اس کا مبتدا فبصیرتہ محذوف ہے ۔ اسی طرح علیھا کا مبتدا فعمیہ محذوف ہے ۔ (6:105) لیقولوا پر لام عاقبت ہے جبکہ لنبینہ پر لام کی ہے ۔ نوٹ 1: انسان کو اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوسکتی ہے یا نہیں ۔ اس مسئلہ میں اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اللہ تعالیٰ سے زیارت کی درخواست کی تو جواب ملا کہ آپ ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے (7:143) البتہ آخرت میں مومنین کو اللہ تعالیٰ کی زیارت نصیب ہوگی ۔ یہ بات متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے اور قرآن مجید میں بھی ہے کہ ” قیامت کے روز بہت سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ۔ “ (75:22 ۔ 23) البتہ کفار و منکرین اس روز بھی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ کی زیارت سے محروم رہیں گے (83:15) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر یہ نعمت ہوگی کہ وہاں جنتیوں کو اللہ تعالیٰ کی زیارت نصیب ہوگی ۔ (مسلم) اور اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جنت میں خاص درجہ عطا فرمائیں گے ، ان کو روزانہ صبح وشام زیارت نصیب ہوگی ۔ (ترمذی ۔ مسند احمد ) آیت زیر مطالعہ لا تدرکہ الابصار کا مطلب یہ ہے کہ انسانی نگاہ اس کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ کیونکہ اس کی ذات غیر محدود اور انسانی نگاہ محدود ہے ۔ دنیا میں انسانی نگاہ میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ رویت کو بھی برداشت کرسکے ۔ البتہ قیامت میں یہ قوت پیدا ہوجائے گی تو زیارت ہوسکے گی ۔ لیکن ذات حق کا احاطہ اس وقت بھی نہ ہوسکے گا ۔ (معارف القرآن)
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ ۚ [ تم لوگوں کا رب ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] هُوَ ۚ [ وہ (ہی ) ] خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ] فَاعْبُدُوْهُ ۚ [ پس تو لوگ بندگی کرو اس کی ] وَهُوَ [ اور وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] وَّكِيْلٌ [ کارساز ہے ]
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے

لَا تُدْرِكُهُ [ نہیں پاتیں اس کو ] الْاَبْصَارُ ۡ [ آنکھیں ] وَهُوَ [ اور وہ ] يُدْرِكُ [ پالیتا ہے ] الْاَبْصَارَ ۚ [ آنکھوں کو ] وَهُوَ [ اور وہ ] اللَّطِيْفُ [ باریک بین ] الْخَبِيْرُ [ باخبر ہے ]
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں

قَدْ جَاۗءَكُمْ [ آچکی ہیں تمہارے پاس ] بَصَاۗىِٕرُ [ سمجھ میں آنے والی دلیلیں ] مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ [ تمہارے رب (کی طرف) سے ] فَمَنْ [ پس جو ] اَبْصَرَ [ بینا ہوا ] فَلِنَفْسِهٖ ۚ [ تو (اس کی بصیرت ) اس کے اپنے لئے ہے ] وَمَنْ [ اور جو ] عَمِيَ [ اندھا ہوا ] فَعَلَيْهَا ۭ [ تو (اس کا اندھا پن ) اس پر ہے ] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] بِحَفِيْظٍ ] کوئی نگرانی کرنے والا ]
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اِس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کر دیں

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُصَرِّفُ [ ہم پھیر بدل کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] وَلِيَقُوْلُوْا [ اور نتیجتا وہ کہتے ہیں ] دَرَسْتَ [ تو نے سبق پڑھا ] وَلِنُبَيِّنَهٗ [ اور تاکہ ہم واضح کریں اس کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے ] يَّعْلَمُوْنَ [ جو علم رکھتے ہیں ]
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اے محمدؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو

اِتَّبِعْ [ آپ پیروی کریں ] مَآ [ اس کی جو ] اُوْحِيَ [ وحی کی گئی ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ ۚ [ آپ کے رب (کی جانب) سے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] هُوَ ۚ [ وہ (ہی ) ] وَاَعْرِضْ [ اور آپ بےرخی برتیں ] عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں سے ]
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو

وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] [ مَآ اَشْرَكُوْا ۭ] تو یہ لوگ شرک نہ کرتے ] وَمَا جَعَلْنٰكَ [ اور ہم نے نہیں بنایا آپ کو ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] حَفِيْظًا ۚ [ کوئی نگرانی کرنے والا ] وَمَآ اَنْتَ [ اور آپ نہیں ہیں ] عَلَيْهِمْ [ ان کے ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی کارساز ]
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں

وَلَا تَسُبُّوا [ اور تم لوگ مت دو ] الَّذِيْنَ [ ان کو جن کو ] يَدْعُوْنَ [ یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] فَيَسُبُّوا [ نتیجتا وہ برا کہیں گے ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] عَدْوًۢا [ زیادتی کرتے ہوئے ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ [ کسی علم کے بغیر ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] زَيَّنَّا [ ہم نے خوشمنا کیا ] لِكُلِّ اُمَّةٍ [ ہر ایک گروہ کے لئے ] عَمَلَهُمْ ۠ [ ان کے عمل کو ] ثُمَّ [ پھر ] اِلٰى رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی طرف ] مَّرْجِعُهُمْ [ ان کا لوٹنا ہے ] فَيُنَبِّئُهُمْ [ پھر وہ جتادے گا انہیں ] بِمَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) [ وہ لوگ کرتے تھے ] ء د : (ف ) فادا ۔ (1) دل پر مارنا ۔ دل پر لگانا (2) دل پر لگنا ۔ بزدل ہونا ۔ فواد (ج) افئدۃ ، اسم ذات ہے ۔ دل ۔ وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا [ اور ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےقرار ] 28:10 ۔ ز خ ر: (رباعی ) زخرفۃ ۔ سجانا ۔ ملمع چڑھانا ۔ زخرف ، اسم ذات ہے ۔ (1) سجاوٹ ۔ ملمع ۔ (2) سونا (کیونکہ سجاوٹ کے لئے سونا زیادہ استعمال ہوتا ہے ) اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ [ یا ہوتا تیرے لئے کوئی گھر سونے کا ] 17:93 ۔ ص غ و : (س) صغی بائل ہونا ۔ کسی کی طرف جھکنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 113 ۔ ق ر: (ض) قرفا ۔ درخت کی چھال اتارنا ۔ کسی چیز کو چھیلنا ۔ (افعال ) اقترافا ۔ کمانا ۔ ارتکاب کرنا زیر مطالعہ آیت ۔ 113 ۔ مقترف ۔ اسم الفاعل ہے ارتکاب کرنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 113 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 108) تسبوا کا اور یدعون کا ، دونوں کا مفعول الذین ہے ۔ فیسبوا کا فاسببیہ ہے۔ عدوا حال ہے ۔ (آیت 109) جھد ایمانہم میں جھد کی نصب بتارہی ہے کہ وہ یہ بھی حال ہے ۔ ما یشعر کا ما استفہامیہ ہے۔ انھا کی ضمیر ایہ کے لئے ہے ۔ (آیت ۔ 110) اول مرۃ میں اول کو نصب ظرف ہونے کی وجہ سے ہے ۔ (آیت 112) عدوا۔ واحد اور جمع ، دونوں کے لئے آتا ہے اس لئے اس کا بدل شیطن کے بجائے شیطین الانس والجن بھی درست ہے ۔ ولو شاء ربک سے یفترون تک درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور ولتصغی کا تعلق یوحی والے جملے سے ہے۔ الیہ کی ضمیر زخرف القول کے لئے ہے۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں

وَاَقْسَمُوْا [ اور انہوں نے قسم کھائی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ [ اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے (یعنی پختہ کرتے ہوئے ) ] لَىِٕنْ [ کہ یقینا اگر ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئے ان کے پاس ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی (یعنی معجزہ ) ] لَّيُؤْمِنُنَّ [ تو وہ لوگ لازما ایمان لائیں گے ] بِهَا ۭ [ اس سے ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْاٰيٰتُ [ نشانیاں ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ہیں ] وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ [ اور تم کو کیا چیز شعور دیتی ہے (یعنی تم کو کیا خبر )] اَنَّهَآ [ کہ وہ ] اِذَا [ جب ] جَاۗءَتْ [ آئے ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ تو یہ لوگ ایمان نہ لائیں ]
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں

وَنُقَلِّبُ [ اور ہم پلٹ دیتے ہیں ] اَفْــــِٕدَتَهُمْ [ ان کے دلوں کو ] وَاَبْصَارَهُمْ [ اور ان کی نگاہوں کو ] كَمَا [ جیسے کہ ] لَمْ يُؤْمِنُوْا [ یہ لوگ ایمان نہیں لائے ] بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] وَّنَذَرُهُمْ [ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں ان کو ] فِيْ طُغْيَانِهِمْ [ ان کی سرکشی میں ] يَعْمَهُوْنَ ] [ بھٹکتے ہوئے ] نوٹ 1: قلب اور فؤاد۔ دونوں کے معنی دل ہی ہے ۔ لیکن فؤاد کا لفظ اس عضو کے لئے استعمال نہیں ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے، بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک ، جذبات و خواہشات ، عقائد و افکار اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے (تفہیم القرآن ۔ ج 6 ۔ ص 459) یہ بات نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ قلب اور اس کی جمع قلوب کے الفاظ گوشت کے اس لوتھڑے کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں جو ہمارے جسم میں خون پمپ کرتا ہے ۔ لیکن اس معنی میں قرآن مجید ان الفاظ کو استعمال نہیں کرتا ۔ قلب اور قلوب کو بھی قرآن مجید عام طور پر اس مقام کے لئے ہی استعمال کرتا ہے جو انسان کی خواہشات اور امنگوں کی آماجگاہ ہے ۔ اس بات کو ذہن میں واضح کرکے جب ہم قرآن مجید کے ایسے مقامات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر ایسی آیات کا مفہوم بہتر طور پر ذہن میں اجاگر ہوتا ہے ۔ پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم کا کہنا ہے کہ کسی خارجی دباؤ سے انسان کے عقائد میں تبدیلی نہیں آتی ۔ عقائد میں تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب انسان کے اندر کوئی تبدیلی آئے (ترجمہ قرآن کیسٹ سیریز ) حافظ صاحب مرحوم کی بات کو عام فہم انداز میں یوں سمجھ لیں کہ جب تک انسان کی امنگوں ، نیتوں اور ارادوں میں تبدیلی نہ آئے کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی اس کے نظریات و عقائد کو تبدیل نہیں کرسکتا ۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حقیقت سے انسان کو آگاہ کیا گیا ہے ۔ آیت نمبر 113 میں اس حقیقت کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے کہ امنگوں اور ارادوں میں تبدیلی کے ضمن میں ایمان بالآخرہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ مشیت الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں، مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں

وَلَوْ [ اور اگر ] اَنَّنَا [ یہ کہ ہم ] نَزَّلْنَآ [ اتاریں ] اِلَيْهِمُ [ ان کی طرف ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ [ فرشتوں کو ] وَكَلَّمَهُمُ [ اور بات کریں ان سے ] الْمَوْتٰى [ مردے ] وَحَشَرْنَا [ اور ہم اکٹھا کردیں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] كُلَّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] قُبُلًا [ سامنے ہوتے ہوئے ] مَّا كَانُوْا [ تو (بھی ) وہ لوگ نہیں ہیں ] لِيُؤْمِنُوْٓا [ کہ ایمان لائیں ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يَّشَاۗءَ [ چاہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] يَجْهَلُوْنَ [ غلط عقائد رکھتے ہیں ]
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں اگر تمہارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنایا ] لِكُلِّ نَبِيٍّ [ ہر ایک نبی کیلئے ] عَدُوًّا [ کچھ دشمن ] شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ [ جو جنوں اور انسانوں کے شیاطین ہیں ] يُوْحِيْ [ پیغام رسانی کرتے ہیں ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اِلٰى بَعْضٍ [ بعض کی طرف ] زُخْرُفَ الْقَوْلِ [ بات کے ملمع سے ] غُرُوْرًا ۭ [ دھوکے ہوتے ہوئے ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] رَبُّكَ [ آپ کا رب ] مَا فَعَلُوْهُ [ تو وہ یہ نہ کرتے ] فَذَرْهُمْ [ پس آپ چھوڑیں ان کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يَفْتَرُوْنَ [ یہ گھڑتے ہیں ]
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

(یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں

وَلِتَصْغٰٓى [ اور تاکہ مائل ہوں ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] اَفْـــِٕدَةُ الَّذِيْنَ [ ان کے دل جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں رکھتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] وَلِيَرْضَوْهُ [ اور تاکہ وہ پسند کریں اس کو ] وَلِيَقْتَرِفُوْا [ اور تاکہ وہ ارتکاب کریں ] مَا [ اس کا جس کا ] هُمْ [ وہ ] مُّقْتَرِفُوْنَ [ ارتکاب کرنے والے ہیں ]
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو

اَفَغَيْرَ اللّٰهِ [ تو کیا اللہ کے علاوہ (کسی ) کو ] اَبْتَغِيْ [ میں چاہوں ] حَكَمًا [ بطور منصف کے ] وَّ [ حالانکہ ] هُوَ [ وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اِلَيْكُمُ [ تم لوگوں کی طرف ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] مُفَصَّلًا ۭ [ تفصیل سے بیان کی ہوئی ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ کتاب ] يَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جانتے ہیں ] اَنَّهٗ [ کہ یہ ] مُنَزَّلٌ [ اتاری ہوئی ہے ] مِّنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف) سے ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [ تو آپ ہرگز نہ ہوں ] مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ [ شک کرنے والوں میں سے ] خ رص : (ن) خرصا ۔ کسی پیمانے یا وزن کے بغیر پھلوں کا اندازہ کرنا ۔ تخمینہ لگانا ، اٹکل لگانا ۔ زیر مطالعہ آیت 116 ۔ خراص ۔ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بار بار ہر وقت اٹکل لگانے والا یعنی جھوٹا ۔ قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ [ مارے گئے جھوٹ اڑانے والے ] ترکیب : (آیت ۔ 114) تبتغی کا مفعول غیر اللہ ہے جبکہ حکما تمیز ہے ۔ مفصلا اسم المفعول ہے اور حال ہے ۔ (آیت ۔ 115) صدقا اور عدلا کو تمیز بھی مانا جاسکتا ہے اور حال (آیت ۔ 116) تطع کا مفعول اکثرمن ہے اور جواب شرط ہونے کی وجہ سے یضلوا مجزوم ہوا ہے ۔ ان یتبعون اور ان ھم ، دونوں میں ان نافیہ ہے کیونکہ آگے الا آیا ہے ۔ اعلم تفضیل کل ہے اور اس کا مفعول من ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر 2:54، نوٹ ۔ 1) نوٹ 1: آیت نمبر 116 ۔ کے حوالے سے کچھ لوگ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں جمہور یت نہیں ہے ۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے ۔ البتہ اس سے یہ ہدایت ضرور ملتی ہے کہ اکثریت کی رائے کو حق و باطل کا معیار قرار دینا درست نہیں ہے ۔ اس کا معیار کچھ اور ہوگا ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم ۔ ترجمہ قرآن کیسٹ سیزیر ) آیت نمبر 116 ۔ کے ساتھ آیت نمبر 115 کو بھی ملا کر غور کیا جائے تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام قرآن وحدیث سے ثابت ہیں ان میں کسی تبدیلی کا اختیار عوام کی اکثریت کو اور کسی قانون ساز اسمبلی کو حاصل نہیں ہے ۔ اس طرح ان آیات سے جمہوریت کی نفی تو نہیں ہوتی ۔ البتہ قانون ساز اسمبلی کے اختیار مطلق پر تحدید عائد کرنے کے لئے یہ آیات نص صریح ہیں کہ قرآن وحدیث کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی ۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

وَتَمَّتْ [ اور پورا ہوا ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا فرمان ] صِدْقًا [ بطور سچائی کے ] وَّعَدْلًا ۭ [ اور بطور عدل کے ] لَا مُبَدِّلَ [ کوئی تبدیلی کرنے والا نہیں ہے ] لِكَلِمٰتِهٖ ۚ [ اس کے فرمانوں کا ] وَهُوَ [ اور وہی ] السَّمِيْعُ [ سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اے محمدؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں

وَاِنْ [ اور اگر ] تُطِعْ [ آپ کی اطاعت کریں ] اَكْثَرَ مَنْ [ ان کی اکثریت کی جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہیں ] يُضِلُّوْكَ [ تو وہ بھٹکا دیں گے آپ کو ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے راستے سے ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] الظَّنَّ [ گمان کی ] وَاِنْ هُمْ [ اور وہ نہیں ہیں ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] يَخْرُصُوْنَ [ اٹکل لگاتے ہیں ] نوٹ 1: کچھ قدیم علماء نے ظاہری گناہ اور باطنی گناہ سے کچھ مخصوص گناہ مراد لئے ہیں ۔ موجودہ دور کے علماء میں سے مولانا امین احسن اصلاحی نے باطنی گناہ سے شرکیہ عقائد اور ظاہری گناہ سے شرکیہ عقائد کے مظاہر مراد لئے ہیں ۔ جبکہ ابن کثیر نے لکھا ہے ” لیکن صحیح یہی ہے کہ آیت اس بارے میں بالکل عام ہے ۔ کسی بات کی تخصیص نہیں ہے ۔ “ یعنی اس آیت میں ہر قسم کے کھلے اور چھپے گناہ کو چھوڑنے کی تاکید ہے۔
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے

اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] هُوَ [ وہی ہے ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] مَنْ [ اس کو جو ] يَّضِلُّ [ بھٹکتا ہے ] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۚ [ اس کے راستے سے ] وَهُوَ [ اور وہ ہی ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِالْمُهْتَدِيْنَ [ ہدایت پانے والوں کو ]
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ

فَكُلُوْا [ پس تم لوگ کھاؤ] مِمَّا [ اس میں سے ] ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ [ اللہ کا نام یاد کیا گیا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] بِاٰيٰتِهٖ [ اس کی آیتوں پر ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]