6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو

وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] ھٰذَا [ یہ ] صِرَاطِيْ [ میرا راستہ ہے ] مُسْتَقِـيْمًا [ ہر کجی سے پاک ہوتے ہوئے (سیدھا) ] فَاتَّبِعُوْهُ ۚ [ پس تم لوگ پیروی کرو اس کی ] وَلَا تَتَّبِعُوا [ اور پیروی مت کرو ] السُّبُلَ [ (دوسرے) راستوں کی ] فَتَفَرَّقَ [ ورنہ وہ جداہو جائیں گے ] بِكُمْ [ تمہارے ساتھ ] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ [ اس کے راستے سے ] [ ذٰلِكُمْ [ اسی کی ] [ وَصّٰىكُمْ تاکید کی تم کو ] بِهٖ [ جس کی ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم لوگ ] تَتَّقُوْنَ [ پرہیزگار بنو ]
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں

ثُمَّ [ پھر ] اٰتَيْنَا [ ہم نے دی ] مُوْسَى [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] تَمَامًا [ مکمل ہوتے ہوئے ] عَلَي الَّذِيْٓ [ اس پر (یعنی اس کے لئے ) جس نے ] اَحْسَنَ [ بلا کم وکاست کام کیا ] وَتَفْصِيْلًا [ اور تفصیل ہوتے ہوئے ] لِّكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کے لیے ] وَّهُدًى [ اور ہدایت ہوتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً [ اور رحمت ہوتے ہوئے ] لَّعَلَّهُمْ [ شائد وہ لوگ ] بِلِقَاۗءِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی ملاقات پر ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لائیں ]
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے، ایک برکت والی کتاب پس تم اِس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے

وَھٰذَا [ اور یہ ] كِتٰبٌ [ ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ ہم نے اتارا اس کو ] مُبٰرَكٌ [ برکت دی ہوئی ] فَاتَّبِعُوْهُ [ پس تم لوگ پیروی کرو اس کی ] وَاتَّقُوْا [ اور تقوی اختیار کرو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم پر ] تُرْحَمُوْنَ [ رحم کیا جائے ] ترکیب : (آیت ۔ 155) وھذا مبتدا ہے اور کتب اس کی خبر ہے ۔ انزلنہ اس کی صفت اول اور مبرک صفت ثانی ہے ۔ (آیت ۔ 156) ان کنا کا ان مخففہ ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر 6:143 ۔ نوٹ، 1) دراستہم کی ضمیر اگر الکتب کے لیے ہوتی تو واحد ” ہ “ آتی اور اگر طائفتین کے لیے ہوتی تو تثنیہ ھما آتی ۔ جمع کی ضمیر ہم بتارہی ہے کہ یہ طائفتین کے لوگوں کیلئے ہے ۔ (آیت ۔ 157) بینۃ ۔ ھدی اور رحمۃ یہ تینوں جاء کے فاعل ہیں ۔ سنجزی کا مفعول اول الذین ہے اور سوء العذاب مفعول ثانی ہے ۔ یہ مرکب اضافی ہے لیکن اردو محاورہ کی وجہ سے اس کا ترجمہ مرکب توصیفی سے ہوگا ۔ (آیت ۔ 158) نفسا نکرہ مخصوصہ ہے لم تکن سے خیرا تک اس کی خصوصیت ہے ۔ امنت اور کسبت کی ضمیر فاعلیھی ہے جو نفسا کے لیے ہے۔ کانوا کی خبر ہونے کی وجہ سے شیعا حالت نصب میں ہے ۔ نوٹ۔ 1 : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں جب ظاہر ہوجائیں گی تو ان کے ظہور سے پہلے کوئی اگر ایمان نہیں لایا تھا تو اب ایمان لانا بیکار ہوگا اور پہلے اگر نیک عمل نہیں کیے تھے تو اب کرنا بیکار ہوگا ۔ پہلی نشانی سورج کا مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہونا ۔ دوسرے دجال کا نکلنا ۔ تیسرے دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے تک توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول ہو سکے گی ورنہ نہیں ۔ اصحاب ستہ میں سے ایک نے اس کو روایت نہیں کیا باقی پانچ کتابوں میں موجود ہے (ابن کثیر) ۔ نوٹ۔ 2: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص نے اگر کسی نیک کام کا ارادہ کیا لیکن عمل نہ کرسکا تو بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر عمل کرلیا تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہے۔ حسن نیت کا لحاظ کرتے ہوئے یہ اضافہ سات سو گنا تک بھی جا پہنچتا ہے اور اگر کسی نے کسی گناہ کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے لیے بھی ایک نیکی درج ہوجاتی ہے اور اگر وہ گناہ کا ارتکاب کربیٹھے تو گناہ دس نہیں بلکہ ایک لکھا جائے گا اور اگر اللہ چاہے تو اس کو بھی مٹا دیتا ہے (ابن کثیر)
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی، اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے

[ اَنْ تَقُوْلُوْٓا [ یہ تم کہنے لگو ] [ اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ ] [ کہ یہ اتاری گئی ] [ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ ] [ پہلے دو گرہوں (یہود ونصاری) پر ] [ مِنْ قَبْلِنَا ۠] [ ہم سے پہلے ] [ وَاِنْ كُنَّا ] [ اور ہم تھے ] [ عَنْ دِرَاسَتِهِمْ ] [ اس کے پڑھنے سے ] [ لَغٰفِلِيْنَ : بلکل بیخبر ]
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس رو گردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے

اَوْ [ کہ (کہیں ) ] تَقُوْلُوْا [ تم لوگ کہو ] لَوْ [ اگر ] اَنَّآ [ ہم لوگ ہوتے کہ ] اُنْزِلَ [ اتاری جاتی ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] الْكِتٰبُ [ کتاب ] لَكُنَّآ [ تو ہم ضرور ہوتے ہیں ] اَهْدٰي [ زیادہ ہدایت پر ] مِنْهُمْ ۚ [ ان لوگوں سے ] فَقَدْ جَاۗءَكُمْ [ تو آچکی ہے تمہارے پاس ] بَيِّنَةٌ [ ایک واضح (دلیل) ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف) سے ] وَهُدًى [ اور ہدایت ] وَّرَحْمَةٌ ۚ [ اور رحمت ] فَمَنْ [ تو کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنْ [ اس سے جس نے ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کو ] وَصَدَفَ [ اور کنی کترائی ] عَنْهَا ۭ [ اس سے ] سَنَجْزِي [ ہم بدلہ دیں گے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَصْدِفُوْنَ [ کنی کتراتے ہیں ] عَنْ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں سے ] سُوْۗءَ الْعَذَابِ [ برا عذاب ہے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ [ وہ کنی کتراتے تھے ]
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آ کھڑے ہوں، یا تمہارا رب خود آ جائے، یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہو جائیں؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں نمودار ہو جائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو اے محمدؐ! ان سے کہہ دو کہ اچھا، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

هَلْ [ کیا ] يَنْظُرُوْنَ [ انتظار کرتے ہیں یہ لوگ ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] تَاْتِيَهُمُ [ آئیں ان کے پاس ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] اَوْ يَاْتِيَ [ یا آئے ] رَبُّكَ [ آپ کے رب ] اَوْ يَاْتِيَ [ یا آئیں ] بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ [ آپ کے رب کی نشانیوں سے کوئی ] يَوْمَ [ جس دن ] يَاْتِيْ [ آئے گی ] بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ [ آپ کے رب کی نشانیوں سے کوئی ] لَا يَنْفَعُ [ تو فائدہ نہیں دے گا ] نَفْسًا [ کسی ایسی جان کو ] اِيْمَانُهَا [ اس کا ایمان ] لَمْ تَكُنْ [ جو نہیں تھی کہ ] اٰمَنَتْ [ ایمان لاتی ] ممِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] اَوْ كَسَبَتْ [ یا کماتی ] فِيْٓ اِيْمَانِهَا [ اپنے ایمان میں ] خَيْرًا ۭ [ کوئی نیکی ] قُلِ [ آپ کہئے ] انْتَظِرُوْٓا [ تم لوگ انتظار کرو ] اِنَّا [ بیشک ہم (بھی ) ] مُنْتَظِرُوْنَ [ انتظار کرنے والے ہیں ]
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے

اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ جن لوگوں نے ] فَرَّقُوْا [ الگ الگ کیا ] دِيْنَهُمْ [ اپنے دین کو ] وَكَانُوْا [ اور وہ ہوئے ] شِيَعًا [ فرقے ] لَّسْتَ [ آپ (کو سروکار) نہیں ہے ] مِنْهُمْ [ ان سے ] فِيْ شَيْءٍ ۭ [ کسی چیز میں ] اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَمْرُهُمْ [ ان کا کام ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہے ] ثُمَّ [ پھر ] يُنَبِّئُهُمْ [ وہ جتادے گا ان کو ] بِمَا [ اسے جو ] كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے، اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا

مَنْ [ جو ] جَاۗءَ [ آیا ] بِالْحَسَنَةِ [ نیکی کے ساتھ ] فَلَهٗ [ تو اس کے لیے ] عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ [ اس کے جیسی دس (نیکیاں) ہیں ] وَمَنْ [ اور جو ] جَاۗءَ [ آیا ] بِالسَّيِّئَةِ [ برائی کے ساتھ ] فَلَا يُجْزٰٓى [ تو اس کا بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا [ مگر ] مِثْلَهَا [ اس کے جیسی (برائی) سے ] وَهُمْ [ اور ان پر ] لَا يُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

اے محمدؐ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّنِيْ [ بیشک میں ہوں (کہ ) ] هَدٰىنِيْ [ مجھے ہدایت دی ] رَبِّيْٓ [ میرے رب نے ] اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف ] ڬ دِيْنًا قِــيَمًا [ سیدھا سادہ دین ہوتے ہو ] مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ [ جو ابراہیم کا مذہب ہے ] حَنِيْفًا ۚ [ اس حال میں کہ وہ یکسو تھے ] وَمَا كَانَ [ اور وہ نہیں تھے ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ] ترکیب : (آیت ۔ 161) صراط مستقیم کا حال ہونے کیوجہ سے دینا قیما حالت نصب میں آیا ہے اور دینا قیما کا بدل ہونے کی وجہ سے ملۃ ابراہیم حالت نصب میں ہے ، جبکہ ابراہیم کا حال حنیفا ہے۔ (آیت ۔ 164) ابغی کا مفعول غیر اللہ ہے اور ربا تمیز ہے ۔ تزر کی ضمیر فاعلیھی ، نفس کے لیے ہے ۔
Ayah 6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّ [ یقینا ] صَلَاتِيْ [ میری نماز ] وَنُسُكِيْ [ اور میری قربانی ] وَمَحْيَايَ [ اور میرا عرصہ حیات ] وَمَمَاتِيْ [ اور میرا عرصہ موت ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ہی ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں

لَا شَرِيْكَ [ کسی قسم کا کوئی شریک نہیں ] لَهٗ ۚ [ اس کے لئے ] وَبِذٰلِكَ [ اور اس کا ہی ] اُمِرْتُ [ مجھے حکم دیا گیا ] وَاَنَا [ اور میں ] اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں کا پہلا ہوں ]
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالاں کہ وہی ہر چیز کا رب ہے؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا، پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] غَيْرَ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا (کسی ) کو ] اَبْغِيْ [ میں چاہوں ] رَبًّا [ بطور رب کے ] وَّ [ حالانکہ ] هُوَ [ وہ ] رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۭ [ ہر چیز کا رب ہے ] وَلَا تَكْسِبُ [ اور نہیں کماتی ] كُلُّ نَفْسٍ [ ہر جان ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] عَلَيْهَا ۚ(وہ ) اس پر ہے ] وَلَا تَزِرُ [ اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [ کوئی اٹھانے والی ] وِّزْرَ اُخْرٰي ۚ [ کسی دوسری کا بوجھ ] ثُمَّ [ پھر ] اِلٰي رَبِّكُمْ [ تمہارے رب کی طرف ہی ] مَّرْجِعُكُمْ [ تمہیں لوٹنا ہے ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ تو وہ تمہیں جتا دے گا ] بِمَا [ اس کو ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] فِيْهِ [ جس میں ] تَخْتَلِفُوْنَ [ اختلاف کرتے ہو ]
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اسی میں تمہاری آزمائش کرے بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] جَعَلَكُمْ [ بنایا تم لوگوں کو ] خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ [ زمین کے جانشین ] وَرَفَعَ [ اور بلند کیا ] بَعْضَكُمْ [ تمہارے کسی کو ] فَوْقَ بَعْضٍ [ کسی کے اوپر ] دَرَجٰتٍ [ بلحاظ درجات کے ] لِّيَبْلُوَكُمْ [ تاکہ وہ آزمائے تمہیں ] فِيْ مَآ [ اس میں جو ] اٰتٰىكُمْ ۭ [ اس نے دیا تم کو ] اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] سَرِيْعُ الْعِقَابِ [ سزا دینے کا تیز ہے ] ڮوَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ [ لَغَفُوْرٌ [ یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]