Ayah 5:1[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوجو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اَوْفُوْا : تو لوگ پورا کرو ] [ بِالْعُقُوْدِ : عہدوں کو ] [ ڛ اُحِلَّتْ : حلال کیا گیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ : بےزبان مویشیوں کو ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو ] [ يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سنایا جائے گا تم کو ] [ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ : شکار کو حلال کرنے والے نہ ہوتے ہوئے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ حُرُمٌ ۭ: محترم (یعنی احرام میں ہو)] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يَحْكُمُ : حکم دیتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ]
ب ھ م
ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا ۔ بھیمہ جس کے منہ سے نکلی ہوئی آواز مبہم ہو ۔ بےزبان آیت زیر مطالعہ ۔
ص ی د ۔ (ض) صیداشکار کرنا ۔ صیدٌ اسم ذات بھی ہے ۔ شکار ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ اصطیادٌ شکار کھلینا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ق ل د قلدا (ض) (1) رسی بٹلنا ۔ (2) گلے میں تلوار یا کوئی چیز لٹکانا ۔ قلادۃ ج قلاید ۔ گلے میں پڑی ہوئی کوئی چیز جیسے پٹہ ۔ ہار ۔ نیکلس وغیرہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
مقلادج مقالید ۔ پٹہ کھولنے کا آلہ ۔ کنجی ۔ (آیت ) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ اس کے لیے ہی ہیں زمین اور آسمانوں کی کنجیاں ] ۔ 39:63
ج ر م (ض) (س) جرما کسی کو کسی برائی پر آمادہ کرنا ۔ پھر مطلقا آمادہ کرنے کے لیے بھی آتا ہے ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
جرما صاف ہونا ۔ یقینی ہونا ۔
جرم صاف ۔ یقینی ۔ (آیت ) لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ [ نہیں ! یقینی ہے کہ ان لوگوں کے لیے آگ ہے ] 16:62 ۔ اس میں لا منفصلہ ہے ۔ جیسے لاَ اُقسم کا الگ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں قسم نہیں کھاتا ، بلکہ لا الگ یعنی منفصل ہے اور اقسم الگ ہے ۔ اس لیے اس کا مطلب ہے نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ۔ ایسے ہی لا جرم کا لا بھی الگ یعنی منفصل ہے ۔ عام قاری کو اس باریکی میں الجھانے کے بجائے عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ” کوئی شک نہیں ہے “۔
(افعال ) اجراما برائی کرنا ۔ جرم کرنا ۔ (آیت ) فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ [ تو مجھ پر ہے میرا جرم کرنا اور میں بری ہوں اس سے جو تم لوگ جرم کرتے ہو ] ۔ 11:35 ۔
مجرم اسم الفاعل ہے ۔ جرم کرنے والا ۔ مجرم ۔ (آیت ) وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْن (اور خواہ کراہیت کریں مجرم لوگ ۔ 8:8
ش نء (ف۔ س) شنان بغض رکھنا ۔ نفرت کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ شانی اسم الفاعل ہے ۔ (آیت ) اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتر [ بیشک آپ ﷺ سے بغض رکھنے والا ہی انتہائی بےنام ونشان ہے ] ۔ 108:3
ترکیب ۔ احلت کا نائب فاعل بھیمۃ الانعام ہے جو کہ مرکب اضافی ہے لیکن اردو محاورے کی ضرورت کے تحت اس کا ترجمہ مرکب توصیفی کا ہوگا یعنی بےزبان مویشی ۔ غیر حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس کا مضاف الیہ محلین تھا جو الصید کا مضاف بنا تو اس کا نون اعرابی گرگیا ۔ القلائد سے پہلے ذوات محذوف ہے یعنی پٹوں والے ۔ امین اسم الفاعل ہے اور لا تحلوا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ پھر اس نے فعل کا عمل کیا ہے ۔ تو البیت الحرام اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا ہے ۔
نوٹ ۔ 1 ، چوپاؤں میں سے انعام یعنی مویشی ایسے جانوروں کو کہتے ہیں جن کے پیر کے سم چرے ہوئے ہوں اور وہ جگالی کرتے ہوں ۔ اس لحاظ سے بھیڑ، بکری ، اونٹ ، ہرن ، نیل گائے وغیرہ سب انعام ہیں ۔ لیکن گھوڑے ، گدھے، شیر ، ریچھ وغیرہ انعام نہیں ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آیت نمبر ۔ 3:14 میں گھوڑوں کو انعام میں شامل نہیں کیا گیا اور ان کا ذکر الگ کیا گیا ہے ۔ گھوڑوں کے حلال ہونے کا علم اور اسی طرح سے پر وندوں میں سے کسی کے حلال ہونے اور کسی کے حرام ہونے کا علم ہمیں احادیث سے حاصل ہوتا ہے ۔
Ayah 5:2[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تُحِلُّوْا : تم لوگ حلال مت کرو (بےادبی کے لیے)] [ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ : اللہ کی علامتوں کو ] [ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ : اور نہ ہی محترم مہینے کو ] [ وَلَا الْهَدْيَ : اور نہ ہی قربانی کے جانور کو ] [ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ : اور نہ ہی پٹے (والوں ) کو ] [ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ : [ اور نہ ہی ارادہ کرنے والوں کو ] [ الْبَيْتَ الْحَرَامَ : اس محترم گھر کا ] [ يَبْتَغُوْنَ : جو تلاش کرتے ہیں ] [ فَضْلًا : فضل کو ] [ مِّنْ رَّبِّهِمْ : اپنے رب (کی طرف ) سے ] [ وَرِضْوَانًا ۭ: اور (اس کی ) رضاکو ] [ وَاِذَا : اور جب ] [ حَلَلْتُمْ : تم لوگ حلال ہوجاؤ(یعنی احرام کھول دو )] [ فَاصْطَادُوْا : تو شکار کرو ] [ ۭوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ : اور تم کو ہرگز آمادہ نہ کرے ] [ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ : کسی قوم کی عداوت ] [ اَنْ : (کیوں ) کہ ] [ صَدُّوْكُمْ : انھوں نے روکا تم کو ] [ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام سے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَعْتَدُوْا ۘ: تم لوگ زیادتی کرو ] [ وَتَعَاوَنُوْا : اور تم لوگ آپس میں تعاون کرو ] [ عَلَي الْبِرِّ : نیکی میں ] [ وَالتَّقْوٰى ۠ : اور تقوی میں ] [ وَلَا تَعَاوَنُوْا : اور تعاون مت کرو ] [ عَلَي الْاِثْمِ : گناہ میں ] [ وَالْعُدْوَانِ ۠: اور زیادتی میں ] [ وَاتَّقُوا : اور تقوی کرو ] [ اللّٰهَ ۭ : اللہ کا ] [ اِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : سزا دینے کا سخت ہے ]
Ayah 5:3[ حُرِّمَتْ : حرام کیا گیا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَيْتَةُ : مردار کو ] [ وَالدَّمُ : اور خون کو ] [ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ : اور سور کے گوشت کو ] [ وَمَآ : اور اس کو ] [ اُهِلَّ : پکارا گیا ] [ لِغَيْرِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا ] [ بِهٖ : جس کو ] [ وَالْمُنْخَنِقَةُ : اور گلا گھٹ کر مرنے والے کو ] [ وَالْمَوْقُوْذَةُ : اور چوٹ سے مارے ہوئے کو ] [ وَالْمُتَرَدِّيَةُ : اور گڑھے میں گرنے والے کو ] [ وَالنَّطِيْحَةُ : اور سینگ مارے ہوئے کو ] [ وَمَآ : اور اس کو ، جس کو ] [ اَ كَلَ : کھایا ] [ السَّبُعُ : درندے نے ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جس کو ] [ ذَكَّيْتُمْ ۣ : اچھی طرح ذبح کیا تم نے ] [وَمَا : اور اس کو ، جس کو ] [ ذُبِحَ : ذبح کیا گیا ] [ عَلَي النُّصُبِ : استھان پر ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَسْـتَقْسِمُوْا : تم لوگ تقیسم کرو ] [ بِالْاَزْلَامِ ۭ: فال نکالنے کے تیروں سے ] [ ذٰلِكُمْ : یہ ] [ فِسْقٌ ۭ: نافرمانی ہے ] [ اَلْيَوْمَ : آج کے دن ] [ يَىِٕسَ : مایوس ہوئے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ مِنْ دِيْنِكُمْ : تمہارے دین سے ] [ فَلَا تَخْشَوْهُمْ : پس تم لوگ مت ڈروان سے ] [ وَاخْشَوْنِ ۭ: اور ڈرومجھ سے ] [ اَلْيَوْمَ : آج کے دن ] [ اَ كْمَلْتُ : میں نے مکمل کیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ دِيْنَكُمْ : تمہارے دین کو ] [ وَاَتْمَمْتُ : اور میں نے تمام کردیا ] [ عَلَيْكُمْ؛تم لوگوں پر ] [ نِعْمَتِيْ : اپنی نعمت کو ] [ وَرَضِيْتُ : اور میں راضی ہوا ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الْاِسْلَامَ : اسلام سے ] [ دِيْنًا : بطور دین کے ] [ ۭ فَمَنِ : پھر جو ] [ اضْطُرَّ : لاچار کیا گیا ] [ فِيْ مَخْمَصَةٍ : سخت بھوک کے وقت میں ] [ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ : مائل ہونے والا ہوئے بغیر ] [ لِّاِثْمٍ ۙ : گناہ کے لیے ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
آیت نمبر 5:3
ل ح م (ف) لحما ۔ گوشت ۔ لحم ج لحوم ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ گوشت ۔ (آیت ) لن ینال اللہ لحومھا ولا دماوھا [ہرگز نہیں پہنچتے اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ہی ان کے خون ] 22:37 ۔
خ ن ق (ن) خنقا گلا گھونٹنا ۔ (انفعال) انخناقا گلا گھٹنا ۔ منخنق اسم الفاعل ہے ۔ گلا گھٹنے والا ۔ گلا گھٹ کر مرنے والا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
و ق ذ(ض) وقذا مہلک چوٹ لگانا ۔ موقوذ اسم المفعول ہے ۔ مہلک چوٹ لگایا ہوا ۔ چوٹ سے مارا ہوا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ر د ی (س) ردی تباہ و برباد ہونا ۔ ہلاک ہونا ۔ گڑھے میں گرنا ۔ فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى [پس ہرگز نہ روکے تجھ کو اس سے یعنی قیامت پر ایمان لانے سے ہو جو ایمان نہیں لاتا اس پر اور پیروی کرتا ہے اپنی خواہش کی ، ورنہ تو ہلاک ہوگا ] 20:16
(افعال) ارداء تباہ و برباد کرنا ۔ ہلاک کرنا ۔ وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ [اور تمہارا وہ گمان ہے جو تم نے گمان کیا اپنے رب کے بارے میں تو اس نے تم کو ہلاک کیا ] 41:23 ۔
(تفعل ) تردی ہلاک ہونا ۔ گڑھے میں گرنا ۔ وَمَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗٓ اِذَا تَرَدّٰى [اور کام نہ آئے گا اس کے اس کا مال جب ہو ہلاکت میں گرے گا ] 92:11 ۔ متردی اسم الفاعل ہے ۔ گڑھے میں گرنے والا۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ن ط ح (ف) نظحا سینگ مارنا۔ نطیح ، فعیل کا وزن ہے اسم المفعول کے معنی میں ۔ سینگ مارا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ذک و (ن) ذکا جانور کو ذبح کرنا ۔ (تفعیل ) تذکیۃ خوب اچھی طرح ذبح کرنا۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ذ ل م (ن) ذلما خطاکرنا ۔ ذلم ج اذلام ۔ بغیر پر کا تیر ۔ ایسے تیر جن سے فال نکالتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ ۔
خ م ص (ن) خمصا شدید بھوک سے پیٹ کا پچک جانا ۔ کمر سے لگ جانا ۔ مخمص اسم الظرف ہے ۔ شدید بھوک کے وقت۔ آیت زیر مطالعہ
ی ء س (س) یاسا ، ناامید ہونا ۔ مایوس ہونا۔ آیت زیر مطالعہ ۔ یئوس فعول کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ انتہائی مایوس ۔ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـــــُٔوْسًا [اور جب کبھی اس کو لگے برائی تو وہ ہوجاتا ہے انتہائی مایوس ] 17:83 ۔ (استفعال ) استیئاسا ۔ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے مایوسی سمجھنا یعنی مایوس ہونا ۔ فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا [پھر جب وہ لوگ ناامید ہوئے اس سے یعنی یوسف سے تو وہ لوگ الگ ہوئے سرگوشی کرتے ہوئے ] 12:80 ۔
ترکیب ۔ حرمت ماضی مجہول ہے ۔ آگے اس کے نائب الفاعل آئے ہیں ۔ الا ما ذکیتم درمیان میں جملہ معترضہ ہے ۔ اس کے بعد باذبح اور ان تستقسموا بھی نائب الفاعل ہیں ۔ الیوم ظرف ، دینا تمیز اور غیر حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ۔
نوٹ ۔ 1 ، اسلام سے کافروں کی مایوسی کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ان کی یہ توقع ختم ہوگئی کہ وہ اسلام میں کچھ خلط ملط کرسکیں یا اپنے دین کو اسلام میں گڈ مڈ کرلیں ۔ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں نازل ہوئی ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اکیاسی (81) دن حیات رہے ، (ابن کثیر ) اس آیت کے نزول کے بعد کوئی نیا حکم نازل نہیں ہوا ۔ جو چند آیتیں اس کے بعد نازل ہوئیں ۔ ان میں یا تو ترغیب وترہیب کے مضامین تھے یا انہی احکام کی تاکید تھی جن کا بیان پہلے ہوچکا تھا ۔ (معارف القرآن )
Ayah 5:4[ يَسْـــَٔلُوْنَكَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ مَاذَآ : وہ کیا ہے جو ] [ اُحِلَّ : حلال کی گئی ] [ لَهُمْ ۭ: ان کے لیے ] [ قُلْ : آپ کہہ دیجئے ] [ اُحِلَّ : حلال کیا گیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الطَّيِّبٰتُ ۙ: پاکیزہ (چیزوں ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ عَلَّمْتُمْ : تم نے سکھایا ] [ مِّنَ الْجَوَارِحِ : درندوں میں سے ] [ مُكَلِّبِيْنَ : شکار کے لیے سدھانے والا ہوتے ہوئے ] [ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ : تم لوگ سکھاتے ہو ان کو ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ عَلَّمَكُمُ : سکھایا تم کو ] [ اللّٰهُ ۡ: اللہ نے ] [ فَكُلُوْا : تو تم لوگ کھاو ] [ مِمَّآ : اس میں سے جو ] [ اَمْسَكْنَ : انھوں نے تھاما ] [ عَلَيْكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاذْكُرُوا : اور ذکر کرو ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کے نام کا ] [ عَلَيْهِ ۠ : اس پر ] [ وَاتَّقُوا : اور تقوی کرو ] [ اللّٰهَ ۭ: اللہ کا ] [ اِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے کا تیز ہے ]
ج رح (ف) جرحا (1) کمانا ۔ (2) زخمی کرنا ۔ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ [ اور وہ جانتا ہے جو تم لوگ کماتے ہو دن میں ) ۔ 6:60 ۔ جرح ، ج ، جروح ، اسم ذات ہے ۔ زخم ۔ والجروح قصاص (اور زخموں میں بدلہ ہے ) ۔ 5:45 ۔ جارحۃ ، ج، جوارح ۔ یہ اسم الفاعل جارح کا مونث ہے ۔ زخمی کرنے والا ۔ درندہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
(افتعال) اجتراحا ، اہتمام سے کمانا ۔ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ [ جنھوں نے کمائیں برائیاں ] ۔ 45:21
ک ل ب (ض) کلبا کتے کی طرح آواز نکالنا ۔ بھونکنا۔ کلب اسم ذات ہے ۔ کتا ۔ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۔ [ پس اس کی مثال کتے کی مثال کی مانند ہے ] ۔ 7:176 ۔ (تفعیل ) تکلیبا ، کتوں کو شکار کے لیے سدھانا۔ مکلب ، اسم الفاعل ہے ۔ سدھانے والا ۔
ترکیب : احل کا نائب فاعل الطیبت اور وما ہیں ۔ مکلبین حال ہے ۔ تعلمونھن میں ھن کی ضمیر الجوارح کے لیے ہے ۔ دونوں جگہ طعام اپنے مضاف الیہ کے ساتھ مل کر مبتداء ہے اور حل ان کی خبریں ہیں جبکہ لکم اور لہم متعلق خبر ہیں ۔ والمحصنت سے اخدان تک پورا فقرہ حل لکم پر عطف ہے جس میں مخاطب اہل ایمان ہیں اور حل لہم پر نہیں ہے ، جس میں غائب کی ضمیر اہل کتاب کے لیے ہے کیونکہ اذا شرطیہ کے بعد اتیتموھن آیا ہے ، جو جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہوگا کہ اے ایمان والو ! جب تم ان عورتوں کو ان کے حقوق دے دو تو وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ محصنین اور مسفحین حال ہیں ۔ متخذی دراصل متخذین ہے ۔ مضاف ہونے کی وجہ سے اس کا نون گرا ہوا ہے اور یہ بھی حال ہے ۔
Ayah 5:5[ اَلْيَوْمَ : آج کے دن ] [ اُحِلَّ : حلال کیا گیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الطَّيِّبٰتُ ۭ: پاکیزہ (چیزوں ) کو ] [ وَطَعَامُ الَّذِيْنَ : اور ان کا کھانا جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ حِلٌّ: حلال ہے ] [ لَّكُمْ ۠: تمہارے لیے ] [ وَطَعَامُكُمْ : اور تمہارا کھانا ] [ حِلٌّ؛حلال ہے ] [ لَّهُمْ ۡ: ان کے لیے ] [ وَالْمُحْصَنٰتُ : اور خاندانی عورتیں ] [ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ : مسلمان عورتیں میں سے ] [ وَالْمُحْصَنٰتُ : اور خاندانی عورتیں ] [ مِنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے (حلال میں تمہارے لیے )] [ اِذَآ : جب ] [ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ : تم دو ان کو ] [ اُجُوْرَهُنَّ : ان کے حقوق ] [ مُحْصِنِيْنَ : حفاظت کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ : بدکاری نہ کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ ۭ: اور نہ ہی یاری بنانے والا ہوتے ہوئے ] [ وَمَنْ يَّكْفُرْ : اور جو انکار کرتا ہے ] [ بِالْاِيْمَانِ : ایمان کا ] [ فَقَدْ حَبِطَ : تو اکارت ہوچکے ہیں ] [ عَمَلُهٗ ۡ: اس کے عمل ] [ وَهُوَ : اور وہ ہے ] [ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں ] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ] ۧ
Ayah 5:6[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ قُمْتُمْ : تم لوگ اٹھو ] [ اِلَى الصَّلٰوةِ : نماز کی طرف ] [ فَاغْسِلُوْا : تو دھولو ] [ وُجُوْهَكُمْ : اپنے چہروں کو ] [ وَاَيْدِيَكُمْ : اور اپنے ہاتھوں کو ] [ اِلَى الْمَرَافِقِ؛ کہنیوں تک ] [ وَامْسَحُوْا : اور مسح کرو ] [ بِرُءُوْسِكُمْ : اپنے سروں کا ] [ وَاَرْجُلَكُمْ : اور (دھولو) اپنے پیروں کو ] [ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ: دونوں ٹخنوں تک ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ جُنُبًا : ناپاک ] [ فَاطَّهَّرُوْا ۭ : تو خود کو پاک کرو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ كُنْتُمْ : تو لوگ ہو ] [ مَّرْضٰٓى؛مریض ] [ اَوْ : یا (ہو)] [ عَلٰي سَفَرٍ؛کسی سفر پر ] [ اَوْ جَاۗءَ : یا آئے ] [ اَحَدٌ: کوئی ایک ] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے ] [ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ : باتھ روم میں سے ] [ اَوْ لٰمَسْتُمُ : یا تم لوگ مباشرت کرو ] [ النِّسَاۗءَ : بیویوں سے ] [ فَلَمْ تَجِدُوْا : پھر تم لوگ نہ پاؤ] [ مَاۗءً : پانی ] [ فَتَيَمَّمُوْا : تو تیمم کرو ] [ صَعِيْدًا طَيِّبًا : کسی پاک مٹی سے ] [ فَامْسَحُوْا : تو مسح کرو ] [ بِوُجُوْهِكُمْ : اپنے چہروں کا ] [ وَاَيْدِيْكُمْ : اور اپنے ہاتھوں کا ] [ مِّنْهُ ۭ: اس سے ] [ مَا يُرِيْدُ : نہیں چاہتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لِيَجْعَلَ : کہ وہ بنائے ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنْ حَرَجٍ : کسی قسم کی کوئی تنگی ] [ وَّلٰكِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ )] [ يُّرِيْدُ : وہ چاہتا ہے ] [ لِيُطَهِّرَكُمْ : کہ وہ پاک کرے تم لوگوں کو ] [ وَلِيُتِمَّ : اور (یہ) کہ وہ تمام کرے ] [ نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد کہ ] [ تَشْكُرُوْنَ : حق مانو ]
ک ع ب (ن۔ ض) کعوبا (1) کوئی بھی اٹھنے والی یا ابھرنے والی چیز ۔ (2) کوئی مکعب چیز یعنی جس کی لمبائی ، چوڑائی اور اونچائی ایک جیسی ہو۔ کعب ، کسی چیز کی ابھری ہوئی گرہ ۔ جیسے گنے کے دو پوروں کے درمیان کی گرہ یا پنڈلی اور پیر کے درمیان کی گرہ یعنی ٹخنہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ کعبۃ کوئی مربع کمرہ ۔ خانہ کعبہ ۔ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ [ بنایا اللہ نے کعبہ کو محترم گھر ] ۔ 5:97 ۔ کا عب ، ج ، کو اعب ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اٹھنے والا ۔ ابھرنے والا ۔ پھر استعارۃ نو عمر لڑکی کے لیے بھی آتا ہے ۔ وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا [ اور نوعمر لڑکیاں ہم عمر ] 78:33 ۔
ترکیب ۔ فاغسلوا کا مفعول اول وجوھکم اور مفعول ثانی ایدیکم ہے ۔ اس لیے دونوں کے مضاف حالت نصب میں ہیں ۔ وامسحوا کا مفعول
برء و سکم ہے جو کہ با کہ صلہ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جز میں وارجلکم کی نصب بتارہی ہے کہ یہ فاغسلوا کا مفعول ثالث ہے ۔ صعیدا طیبا کے بعد فامسحوا کا مفول بوجوھکم ہے ۔ با کے صلہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ایدیکم حالت جز میں آیا ہے ۔ اس لیے یہ اس فامسحوا کا مفعول ثانی ہے ۔
Ayah 5:7[ وَاذْكُرُوْا : اور یاد کرو ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : اپنے اوپر ] [ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ : اور اس کے اس پختہ عہد کو ] [ وَاثَقَكُمْ : اس نے معاہدے میں جکڑا تم لوگوں کو ] [ بِهٖٓ ۙ: جس سے ] [ اِذْ : جب ] [ قُلْتُمْ : تم لوگوں نے کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَاَطَعْنَا ۡ: اور ہم نے اطاعت کی ] [ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ: اور تقوی کرو اللہ کا ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے ] [ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (باتوں ) کو ]
Ayah 5:8[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ كُوْنُوْا : تم لوگ ہوجاؤ] [ قَوّٰمِيْنَ : خوب نگرانی کرنے والے ] [ لِلّٰهِ : اللہ کی خاطر ] [ شُهَدَاۗءَ : گواہی دینے والے ] [ بِالْقِسْطِ ۡ: انصاف کی ] [ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ : اور تم کو ہرگز آمادہ نہ کرے ] [ شَنَاٰنُ قَوْمٍ : کسی قوم کی عداوت ] [ عَلٰٓي : اس پر ] [ اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭ: کہ تم لوگ عدل نہ کرو ] [ اِعْدِلُوْا ۣ: (بلکہ ) تم لوگ عدل کرو ] [ هُوَ اَقْرَبُ : یہ زیادہ قریب ہے ] [ لِلتَّقْوٰى ۡ: تقوی کے لیے ] [ وَاتَّقُوا : اور ڈرو تم ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ ۭاِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ خَبِيْرٌۢ : باخبر ہے ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ]
ترکیب : الا دراصل ان لا ہے ۔ وعد کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس سے وعدہ کیا اور کیا وعدہ کیا ۔ اس کا مفعول اول الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ہے اور مفعول ثانی لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ ہے ۔ اس لیے پورا جملہ محلا حالت نصب میں ہے ۔ آیت نمبر 11 میں ’ نعمت ‘ لمبی تا سے لکھی گئی ہے جو کہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔ کیف کا فاعل اس میں ھو کی ضمیر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔
نوٹ :1 ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 8 کا مضمون سورة النساء کی آیت نمبر ۔ 135 میں بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ گزر چکا ہے ۔ دونوں کے تقابلی مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو عدل و انصاف سے روکنے کے عموما دو سبب ہوا کرتے ہیں ۔ ایک اپنے نفس یا عزیزوں کی طرفداری اور دوسرے کسی کی عداوت ۔ سورة النساء میں پہلے سبب کی اور آیت زیر مطالعہ میں دوسرے سبب کی نشاندہی کی گئی ہے اور حکم یہ دیا ہے کہ اپنے نفس ، والدین اور عزیزوں کی رعایت میں انصاف کا دامن مت چھوڑو ۔ اور کسی کی دشمنی کی وجہ سے ، اس کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے مت جانے دو ۔ (معارف القرآن )
نوٹ :2 ۔ ان دونوں آیتوں میں دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ سچی گواہی دینے سے پہلو تہی مت کرو تاکہ فیصلہ کرنے والوں کو حق اور انصاف سے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو ۔ قرآن مجید میں متعدد آیات میں تاکید کی گئی ہے کہ سچی گواہی دینے میں کوتاہی اور سستی نہ کی جائے ۔ مثلا ایک جگہ فرمایا کہ ” تم لوگ مت چھپاؤ گواہی کو ، اور جو چھپاتا ہے اس کو تو یقینا اس کا دل گناہ کرنے والا ہے “ (2:283) اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سچی گواہی دینا واجب اور اس کو چھپانا سخت گناہ ہے ۔
اس کے ساتھ ہی قرآن مجید میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ ” تکلیف نہ دی جائے کسی لکھنے والے کو اور نہ ہی کسی گواہ کو “ (2:282) اس حکم پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ موقع کے سچے گواہ شاذونادر ہی ملتے ہیں ۔ لوگ ایسی جگہوں سے دور بھاگتے ہیں کہ کہیں گواہی میں نام نہ آجائے ۔ پولیس ادھر ادھر کے گواہوں سے خانہ پری کرتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت کم مقدمات کا فیصلہ حق و انصاف پر ہوتا ہے ۔ عدالتیں مجبور ہیں کیونکہ جیسی شہادتیں ان کے پاس پہنچتی ہیں ، وہ انھیں کی بنیاد پر فیصلہ کرسکتی ہیں ۔ جبکہ آج بھی سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک میں قرآن کی اس ہدایت پر عمل ہو رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں جرائم اور مقدمات کی نہ تو اتنی کثرت ہے اور نہ ہی گواہی دینا کوئی مصیبت ہے ۔
اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ آج کل عام طور پر شہادت کا مطلب صرف یہ لیا جاتا ہے کہ مقدمات میں عدالت کے سامنے گواہی دینا ۔ لیکن قرآن وسنت کی اصطلاح میں لفظ شہادت اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ مثلا کسی کو ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ دینا کہ وہ ڈیوٹی ادا کرنے کے قابل نہیں ہے یا نوکری کرنے کے قابل نہیں ہے ۔ یہ بھی ایک شہادت ہے ۔ اگر اس میں واقعہ کے خلاف لکھا گیا تو وہ جھوٹی شہادت ہوکر گناہ کبیرہ ہوگیا ۔ اسی طرح امتحانات میں طلبا کے پرچوں پر نمبر لگانا بھی ایک شہادت ہے ۔ اگر جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے نمبروں میں کمی بیشی کردی گئی تو وہ بھی جھوٹی شہادت ہے اور حرام اور سخت گناہ ہے ۔
اسی طرح انتخابات میں کسی امیدوار کو ووٹ دینا بھی ایک شہادت ہے ۔ جس میں ووٹ دینے والے کی طرف سے اس کی گواہی ہے کہ اس کے نزدیک یہ امیدوار اپنی استعداد اور قابلیت کے اعتبار سے بھی اور دیانت و امانت کے اعتبار سے بھی نمائندہ بننے کے قابل ہے ، مگر ہم لوگوں نے اس کو محض ہار جیت کا کھیل سمجھ رکھا ہے ۔ اس لیے ووٹ اکثر رشتہ داری یا دوستی کی نبی اد پر استعمال ہوتا ہے ، کبھی کسی دباؤ کے تحت استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی فروخت کردیا جاتا ہے ۔ اور تو اور پڑھے لکھے دیندار مسلمان بھی نااہل لوگوں کو ووٹ دیتے وقت کبھی یہ محسوس نہیں کرتے کہ ہم یہ جھوٹی گواہی دے کر مستحق لعنت و عذاب بن رہے ہیں ۔
ووٹ دینے از روئے قرآن ایک دوسری حیثیت بھی ہے جس کو شفاعت یا سفارش کہا جاتا ہے کہ ووٹ دینے والا گویا سفارش کرتا ہے کہ فلاں امیدوار کو نمائندگی دی جائے ۔ سفارش کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اچھی سفارش کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں ایک حصہ ہوتا ہے اور جو کوئی بری سفارش کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں سے ایک ذمہ داری ہوتی ہے (4:85) اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نمائندہ جب کوئی غلط اور ناجائز کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسے ووٹ دینے والوں کو بھی پہنچے گا۔ (معارف القرآن )
شہادت (گواہی) اور شفاعت (سفارش) کی جو مذکورہ بالا تفسیر مفتی محمد شفیع (رح) نے کی ہے ، انتخابات کے وقت اس پر عمل کرنے میں ہمیں کچھ الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان میں سے دو زیادہ عام ہیں۔ مناسب ہے کہ ان کی وضاحت یہاں پر کردی جائے تاکہ جو اللہ کے حکم پر عمل کرنے کا جذبہ رکھتا ہے وہ اطمینان قلب کے ساتھ اس پر عمل کرے ۔ (مرتب)
امیدوار اگر ہماری برادری یا قبیلے کا ہے تو ہمارے ووٹ پر اس کا حق بنتا ہے ۔ یا امیدوار ہماری اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑا ہوا ہے تو اس کو ووٹ دینا امیر کا حکم ہے ۔ اس کی صلاحیت اور امانت ودیانت قابل اعتماد نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رشتہ داروں کا حق ادا کرنا اور امیر کی اطاعت کرنا بھی اللہ کا ہی حکم ہے ۔ اس مسئلہ کا حل سورة النساء کی آیت نمبر ۔ 135 میں موجود ہے جہاں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ انصاف پر قائم رہو خواہ وہ ہمارے اپنے یا والدین یا قرابت داروں کے خلاف ہو۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی کی بھی کوئی اطاعت نہیں ہے اللہ کی معصیت میں ۔ یعنی اگر کسی رشتہ دار کا حق ادا کرنے سے یا امیر کی اطاعت کرنے سے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ دونوں چیزیں ساقط ہوجائیں گئی اور اللہ کا حکم قائم رہے گا۔
دوسری الجھن یہ ہوتی ہے کہ کہیں فلاں پارٹی کی حکومت نہ بن جائے اس لیے کم برائی والے (LESSER EVIL) کو ووٹ دے دو ۔ یہ خود فریبی ہے ۔ کسی کی حکومت کے آنے یا نہ آنے کے متعلق قیامت میں ہم سے جواب طلب نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس پر ہمارا اختیار نہیں ہے ۔ وہاں ہم سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ ایک اہل اور دیانتدار شخص کے حق میں ووٹ کیوں نہیں دیا تھا یا ایک نااہل اور بددیانت کو ووٹ کیوں دیا تھا ۔
Ayah 5:9[ وَعَدَ : وعدہ کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ ۙ: نیک ] [ لَهُمْ : (کہ ) ان کے لیے ] [ مَّغْفِرَةٌ: مغفرت ہے ] [ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ : ایک شاندار بہ لہ ہے ]
Ayah 5:10[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ وَكَذَّبُوْا : اور جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَآ : ہماری نشانیوں کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : (تو ) وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ : دوزخ والے ہیں ]
Ayah 5:11[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوجو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَتَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِذْ : جب ] [ هَمَّ : ارادہ کیا ] [ قَوْمٌ: ایک قوم نے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّبْسُطُوْٓا : وہ لوگ پھیلائیں ] [ اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف ] [ اَيْدِيَهُمْ : اپنے ہاتھوں کو ] [ فَكَفَّ : تو اس نے روکا ] [ اَيْدِيَهُمْ : ان کے ہاتھوں کو ] [ عَنْكُمْ ۚ: تم سے ] [ وَاتَّقُوا : اور تقوی کرو ] [ اللّٰهَ ۭ : اللہ کا ] [ وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ] [ الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن لوگ ]
Ayah 5:12[ وَلَقَدْ اَخَذَ : اور بیشک لیا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ: بنی اسرائیل سے عہد ] [ وَبَعَثْنَا : اور ہم نے اٹھائے (یعنی مقرر کیے )] [ مِنْهُمُ : ان میں سے ] [ اثْنَيْ عَشَرَ : بارہ ] [ نَقِيْبًا ۭ: نقیب ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ اللّٰهُ؛اللہ نے ] [ اِنِّىْ : کہ میں ] [ مَعَكُمْ ۭ: تمہارے ساتھ ہوں ] [ لَىِٕنْ : بیشک اگر ] [ اَقَمْــتُمُ؛تم لوگ قائم کروگے ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَاٰتَيْتُمُ : اور پہنچاؤ گے ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ کو ] [ وَاٰمَنْتُمْ : اور ایمان لاؤگے ] [ بِرُسُلِيْ : میرے رسولوں پر ] [ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ؛اور تقویت دوگے ان کو ] [ وَاَقْرَضْتُمُ : اور قرضہ دوگے ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَـنًا : جیسا کہ خوبصورت قرضہ دینے کا حق ہے ] [ لَّاُكَفِّرَنَّ : تو میں لازما دور کروں گا ] [ عَنْكُمْ : تم سے ] [ سَيِّاٰتِكُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [ وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ : اور میں لازما داخل کروں گا تم لوگوں کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْاَنْھٰرُ ۚ: نہریں ] [ فَمَنْ : پھر جو ] [ كَفَرَ : انکار کرے گا ] [ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ ضرور گمراہ ہوگا ] [ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : راستے کے بیچ سے ]
ن ق ب (ن) نقبا ۔ کسی چمڑے یا دیوار میں سوراخ کرنا ۔ نقب لگانا ۔ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا [ اور انہیں قدرت نہیں اس میں سوراخ کرنے کی ] ۔ 18 :97
(س) نقبا ۔ راستوں پر چلنا (یعنی فضا میں سوراخ کرنا ) (ک) نقابہ (1) سوراخ میں سے جھانکنا یعنی ایسی جگہ سے نگرانی کرنا جہاں سے نگرانی کرنے والا دوسروں کو دیکھ سکے لیکن اس کو نہ دیکھا جاسکے ۔ (2) سردار ہونا ۔ کیونکہ سردار دوسروں سے معلومات حاصل کرکے اپنی قوم کی نگرانی کرتا ہے ۔ نقیب ۔ فعیل ، کے وزن پر صفت ہے ۔ نگرانی کرنے والا ۔ سردار ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (تفعیل ) ۔ تنقیبا۔ کثرت سے آنا جانا بھاگ دوڑ کرنا ۔ فنقبوا فی البلاد [ تو انھوں نے بھاگ دوڑ کی شہروں میں ] ۔ 50:36 ۔
ع ز ر (ض) عزرا ۔ کسی کو اس کے فرائض سے آگاہ کرنا ۔ مدد کرنا ۔ (تفعیل) تعزیرا۔ کسی کی تعظیم میں اس کے مشن کو تقویت دینا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
غ ر و (س ) غراء ۔ چمٹنا لازم ہونا ۔ (افعال ) اغراء ۔ (1) چمٹانا ۔ لازم کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (2) کسی کو کسی پر حاوی کردینا ۔ لنغرینک بہم [ ہم لازما حاوی کردیں گے آپ کو ان پر ] ۔ 33:60
ص ن ع (ف) صنعا اور صنعا ۔ کسی خام مال سے اچھی چیز بنانا ۔ کاریگری کرنا ۔ صنعت کاری کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ اصنع ۔ فعل امر ہے ۔ فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک [ توہم نے وحی کیا ان کی طرف کہ آپ کشتی بنائیں ] 23:27 ۔ مصنع ج مصانع ۔ اسم الظرف ہے ۔ صنعت گری کی جگہ ۔ قلعہ ۔ محل ۔ وتتخذون مصانع لعلکم تخلدون [ اور تم لوگ بناتے ہو محلات شائد کہ تم ہمیشہ رہو گے ] 26 ۔:129 ۔ (افعال ) اصنعاعا ۔ کسی چیز کو بڑی مہارت سے بنانا ۔ پرورش کرنا ۔ پروان چڑھانا ۔ ولتصنع علی عینی [ اور تاکہ تو پروان چڑھایا جائے میری نگاہ کے سامنے ] ۔ 20:39 ۔ ( افتعال) ۔ اصطناعا اہتمام سے بنانا ۔ واصطنعتک لنفسی [ اور میں نے اہتمام سے پروان چڑھایا آپ کو اپنے واسطے ] ۔ 20: 41 ۔
ترکیب : اثنی دراصل اثنین ہے جو بعثنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے نقیبا تمیز ہے ۔ لئن میں ان شرطیہ پر لام تاکید ہے ۔ ان شرطیہ کی وجہ سے آگے شرط میں افعال ماضی کے ترجمے مستقبل میں ہوں گے ۔ فبما میں باسییہ ہے اور اس کا بدل ہونے کی وجہ سے نقضہم کا مضاف مجرور ہوا ہے ۔ نقض مصدر نے فعل کا عمل کیا ہے میثاقہم اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ تطلع باب افتعال کا مضارع ہے ۔ خائنۃ پر تائے مبالغہ ہے جیسے علامۃ ۔ بما کانوا میں بافعل ینبا کا صلہ ہے ۔
نوٹ :1 ۔ سواء السبیل مرکب اضافی ہے اور اس کا لفظی ترجمہ ” راستے کا درمیان “ بنتا ہے لیکن اردو میں اس مفہوم کے لیے مرکب توصیفی ” درمیانی راستہ “ استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سواء السبیل اور الصراط المستقیم قرآن مجید کی اہم اصطلاحات ہیں جن کا اصطلاحی مفہوم اردو ترجمے میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے ان کے معانی مراد کی وضاحت ضروری ہے ۔ یہ بھی نوٹ کرلیں کہ یہ وضاحت تفیہم القرآن سے ماخوذ ہے ۔
یہ دنیا ہر انسان کا کمرہ امتحان ہے ۔ اور امتحان کی غرض سے ہر انسان کے اندر بہت سی مختلف اور باہم متصادم صلاحیتوں ، جذبات اور رجحانات کو ودیعت کرکے اسے امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے ۔ ہمارے نفس اور جسم کے تقاضے بھی مختلف ہیں جبکہ روح اور طبیعت کے بھی مختلف تقاضے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم کسی موڈ میں ہوتے ہیں اور کبھی ہمارا موڈ کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ ایسے افراد کے باہمی ربط و تعلقات سے جو اجتماعی زندگی وجود میں آتی ہے وہ بھی بہت پیچیدہ اور متصادم تعلقات باہمی سے مرکب ہوتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں یہاں ہر شخص کے جہاں کچھ حقوق ہیں ، وہیں اس کے کچھ فرائض بھی ہیں ۔ پھر اس دنیا میں جو سامان زندگی ہمارے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے ۔ اسے استعمال کرنے اور آپس میں تقسیم کرنے پر بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر بہت سے پیچیدہ اور متصادم مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے پورے عرصہ حیات پر پھیلے ہوئے تمام مسائل کے ہر پہلو پر بیک وقت ایک متوازن نظر ڈال سکے ۔ اس لیے وہ خود اپنی زندگی کے لیے کوئی ایسا راستہ نہیں بنا سکتا جس میں اس کے سارے جذبات ورجحانات میں توازن قائم رہ سکے اور تمام انفرادی واجتماعی تقاضوں کے ساتھ وہ انصاف کرسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان اپنی زندگی کا راستہ خود متعین کرتا ہے تو ضروریات میں سے کوئی ایک ضرورت اور مسائل میں سے کوئی ایک مسئلہ اس کے دماغ پر اس طرح مسلط ہوجاتا ہے کہ دوسری ضروریات اور مسائل کے ساتھ وہ باارادہ یا بلا ارادہ ناانصافی کرنے لگتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ جس کے لیے قرآن مجید کی اصطلاح فساد ہے ۔ انسان کی یہ کج روی اپنی انتہا کو پہنچنے لگتی ہے تو باقی ضروریات اور مسائل بغاوت کرکے زور لگاتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ پھر انسان ان میں سے کچھ کی طرف توجہ کرکے اور باقیوں کو نظر انداز کرکے ایک نئی ٹیڑھی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے ۔ اس طرح انسان اپنی خود ساختہ ٹیڑھی میڑھی (ZIG ZAG) راہوں پر اپنی زندگی کا سفر طے کرتا ہے ۔
زندگی کی ایک راہ ایسی بھی ہے جو ان ٹیڑھی میڑھی راہوں کے عین وسط میں واقع ہے جس میں نہ کوئی افراط اور نہ تفریط ہے ۔ اس لیے اس راہ پر سفر کرتے ہوئے انسان اپنی تمام ضروریات کو ان کا حق دے سکتا ہے اور مسائل کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے انھیں حل کرسکتا ہے ۔ اس طرح وہ دنیاوی زندگی اطمینان اور سکون سے بسر کرسکتا ہے اور دائمی زندگی میں اپنی مراد پاسکتا ہے ۔ ہر انسان کی فطرت اسی درمیانی اور متوازن راہ کو تلاش کرتی لیکن انسان اسے معلوم کرنے پر قادر نہیں ہے ۔ اس کی نشاندہی وہی ہستی کرسکتی ہے جو انسان کی مصور (DESIGNER) اور خالق ہے ۔ اور اس نے اپنے رسول اسی لیے بھیجے کہ اس راہ کی طرف وہ انسانوں کی راہنمائی کرے ۔ قرآن اسی راہ کو سواء السبیل اور الصراط المستقیم کہتا ہے ۔
علم وحی سے محروم بعض فلسفیوں نے یہ دیکھ کر کہ انسانی زندگی پے درپے ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف دھکے کھاتی چلی جارہی ہے ۔ یہ غلط نتیجہ نکال لیا کہ ” جدلی عمل “ (DEALECTICAL PROCESS) انسانی زندگی کے ارتقاء کا فطری طریق ہے ۔ چناچہ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ انسان کے ارتقاء کا راستہ یہ ہے کہ پہلے ایک انتہا پسندانہ دعوی (THSIS) اسے ایک رخ پر بہا لے جائے ، پھر اس کے جواب میں دوسرا انتہا پسندانہ دعوی ( ANTITHESIS) اسے دوسری انتہا کی طرف کھینچے اور پھر دونوں کے امتزاج (SYNTHSIS) سے ارتقاء حیات کا راستہ بنے ۔ حالانکہ دراصل یہ ارتقاء کی راہ نہیں ہے بلکہ بدنصیبی کے دھکے ہیں جو انسانی زندگی کے فلاحی ارتقاء میں مانع ہو رہے ہیں ۔ فلاحی ارتقاء کی راہ یعنی سواء السبیل علم وحی کی روشنی کے بغیر نظر نہیں آتی اور اس پر ثابت قدم رہنا ایمان کی قوت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
نوٹ :2 ۔ آج کل کے عیسائیوں کے حالات سے یہ شبہہ پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ باہم متحد ہیں ۔ لیکن آیت زیر مطالعہ میں بات ان لوگوں کی ہے جو عیسائی مذہب کے پابند ہیں ۔ ان کی فرقہ بندی اور عداوت آج بھی ہے ، خصوصا کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی عداوت (معارف القرآن سے ماخوذ ) دنیاوی سطح پر عیسائیوں کے باہمی بغض اور عداوت کی وجہ سے گزشتہ صدی میں انسانیت کو دو عالمگیر جنگوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا وقتی طور پر یہ عداوت کچھ دب گئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی ہے ۔ اس کا اظہار دوبارہ جرمنی ، فرانس اور اٹلی وغیرہ کے رویہ سے ہو رہا ہے جو انھوں نے امریکہ اور برطانیہ کے خلاف عراق کے مسئلہ پر اختیار کیا ہوا ہے (فروری 2003)
Ayah 5:13[ فَبِمَا نَقْضِهِمْ : پس بسبب اس کے جو ان کا توڑنا ہے ] [ مِّيْثَاقَهُمْ : اپنے عہد کو ] [ لَعَنّٰهُمْ : ہم نے لعنت کی ان پر ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنادیا ] [ قُلُوْبَهُمْ : ان کے دلوں کو ] [ قٰسِـيَةً ۚ: سخت ہونے والا ] [ يُحَرِّفُوْنَ : وہ لوگ پھیرتے ہیں ] [ الْكَلِمَ : کلاموں کو ] [ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ: ان کے رکھنے کی جگہوں سے ] [ وَنَسُوْا : اور انہوں نے بھلادیا ] [ حَظًّا : ایک حصہ ] [ مِّمَّا : اس میں سے ] [ ذُكِّرُوْا : ان کو نصیحت کی گئی ] [ بِهٖ ۚ: جس سے ] [ وَلَا تَزَالُ : اور ہمیشہ ] [ تَطَّلِعُ : آپ آگاہ ہوں گے ] [ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ : کسی بڑے وعدہ خلاف پر ] [ مِّنْهُمْ؛ان میں سے ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ قَلِيْلًا : تھوڑے سے ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ فَاعْفُ : تو آپ درگزر کریں ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ وَاصْفَحْ ۭ: اور نظر انداز کریں ] [ اِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ يُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : احسان کرنے والوں کو ]
Ayah 5:14[ وَمِنَ الَّذِيْنَ : اور ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے ] [ قَالُوْٓا : کہا ] [ اِنَّا : کہ ہم ] [ نَصٰرٰٓى: نصاری ہیں ] [ اَخَذْنَا : ہم نے لیا ] [ مِيْثَاقَهُمْ : ان سے عہد ] [ فَنَسُوْا : تو انھوں نے بھلا دیا ] [ حَظًّا : ایک حصہ ] [ مِّمَّا : اس میں سے ] [ ذُكِّرُوْا : ان کو نصیحت کی گئی ] [ بِهٖ ۠: جس سے ] [ فَاَغْرَيْنَا : تو ہم نے چپکا دیا ] [ بَيْنَهُمُ : ان کے مابین ] [ الْعَدَاوَةَ : عداوت کو ] [ وَالْبَغْضَاۗءَ : اور بغض کو ] [ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ: قیامت کے دن تک ] [ وَسَوْفَ : اور عنقریب ] [ يُنَبِّئُهُمُ : جتادے گا ان کو ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِمَا : وہ جو ] [ كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ : وہ کاریگری کیا کرتے تھے ]
Ayah 5:15[ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [ قَدْ جَاۗءَكُمْ : آچکا ہے تمہارے پاس ] [ رَسُوْلُنَا : ہمارا رسول ] [ يُبَيِّنُ : جو واضح کرتا ہے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ كَثِيْرًا : بہت کچھ ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ] [ تُخْفُوْنَ : چھپاتے ہو ] [ مِنَ الْكِتٰبِ : کتاب میں سے ] [ وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے ] [ عَنْ كَثِيْرٍ : بہتوں سے ] [ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ : آچکا ہے تمہارے پاس ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف ) سے ] [ نُوْرٌ: ایک نور ] [ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ : اور ایک واضح کتاب ]
ت ر : (ن) فتورا ۔ تیزی کے بعد ساکن ہونا یعنی آنا یا سست پڑنا ۔ يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ [ تسبیح کرتے ہیں رات اور دن کے وقت ، وہ لوگ سست نہیں پڑتے ] 21 :20 ۔ فترۃ ۔ اس ذات ہے ۔ وقفہ ۔ سستی ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (تفعیل ) تفتیرا ۔ وقفہ دینا ، سست کرنا ۔ ہلکا کرنا ۔ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ [ وہ ہلکا نہیں کیا جائے گا ان سے ] ۔ 43:75 ۔
ترکیب : کنتم تخفون کو ماضی استمراری بھی مانا جاسکتا ہے لیکن ترجیح یہ ہے کہ کنتم کو فعل ناقص اور تخفون کو اس کی خبر مانا جائے اور ترجمہ جملہ اسمیہ کا کیا جائے ۔ یھدی بہ میں ضمیر واحد آئی ہے اور بھما نہیں آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نور وکتب ایک ہی چیز ہے ۔ یھدی کا مفعول اول من ہے اور سبل السلام مفول ثانی ہے ھو ضمیر فاصل ہے اور المسیح خبر ہے جبکہ ابن مریم اس کا بدل ہے ۔
نوٹ : 1 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کی درمیانی مدت میں انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا سلسلہ برابر جاری رہا اس میں کبھی وفقہ نہیں ہوا ۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کے درمیانی عرصہ میں سلسلہ انبیاء بند رہا ۔ اس سے پہلے کبھی اتنا زمانہ انبیاء کی بعثت سے خالی نہیں رہا ۔ اسی لیے اس زمانے کو زمانہ فترت کہتے ہیں ۔ (معارف القرآن )
Ayah 5:16[ يَّهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے ] [ بِهِ : اس سے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مَنِ : اس کو جس نے ] [ اتَّبَعَ : پیروی کی ] [ رِضْوَانَهٗ : اس کی رضا کی ] [ سُبُلَ السَّلٰمِ : سلامتی کی راہوں کی ] [ وَيُخْرِجُهُمْ : اور وہ نکالتا ہے ان کو ] [ مِّنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [ اِلَى النُّوْرِ : نور کی طرف ] [ بِاِذْنِهٖ : اپنے حکم سے ] [ وَيَهْدِيْهِمْ : اور وہ ہدایت دیتا ہے ان کو ] [ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Ayah 5:17[ لَقَدْ كَفَرَ : یقینا کفر کیا ہے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ قَالُوْٓا : کہا ] [ اِنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ هُوَ الْمَسِيْحُ : مسیح ہی ہیں ] [ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ: جو بی بی مریم کے بیٹے ہیں ] [ قُلْ : آپ کہیے ] [ فَمَنْ : تو کون ] [ يَّمْلِكُ : اختیار رکھتا ہے ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے (اس کے مقابلہ پر ] [ شَـيْـــًٔـا : کچھ بھی ] [ اِنْ : اگر ] [ اَرَادَ : وہ ارادہ کرے ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّهْلِكَ : وہ ہلاک کرے ] [ الْمَسِيْحَ : مسیح کو ] [ ابْنَ مَرْيَمَ : جو بی بی مریم کے بیٹے ہیں ] [ وَاُمَّهٗ : اور ان کی والدہ کو ] [ وَمَنْ : اور اس کو جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ جَمِيْعًا : سب کو ] [ ۭوَلِلّٰهِ : اور اللہ کی ہی ہے ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] [ وَمَا : اور اس کی جو ] [ بَيْنَهُمَا ۭ: ان دونوں کے درمیان ہے ] [ يَخْلُقُ : وہ تخلیق کرتا ہے ] [ مَا يَشَاۗءُ : جو وہ چاہتا ہے ] [ ۭوَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ : قاد رہے ]
Ayah 5:18وَقَالَتِ : اور کہا ] [ الْيَھُوْدُ : یہودیوں نے ] [ وَالنَّصٰرٰى: اور نصاری نے ] [ نَحْنُ : ہم ] [ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ : اللہ کے بیٹے ہیں ] [ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ : اور اس کے چہیتے ہیں ] [ ۭقُلْ : آپ کہہ دیجئے ] [ فَلِمَ : پھر کیوں ] [ يُعَذِّبُكُمْ : وہ عذاب دیتا ہے تم کو ] [ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ : تمہارے گناہوں کے سبب سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ بَشَرٌ: ایک بشرہو ] [ مِّمَّنْ : اس میں سے جو ] [ خَلَقَ ۭ: اس نے تخلیق کیا ] [ يَغْفِرُ : وہ بخشتا ہے ] [ لِمَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيُعَذِّبُ : اور وہ عذاب دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ ۭوَلِلّٰهِ : اور اس کی ہی ہے ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] [ وَمَا : اور اس کی جو ] [ بَيْنَهُمَا ۡ: ان دونوں کے درمیان ہے ] [ وَاِلَيْهِ : اور اس کی طرف ہی ] [ الْمَصِيْرُ : لوٹنا ]
Ayah 5:19[ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ : اپنے اہل کتاب ] [ قَدْ جَاۗءَكُمْ : تمہارے پاس آچکا ہے ] [ رَسُوْلُنَا : ہمارا رسول ] [ يُبَيِّنُ : وہ کھولتا ہے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ عَلٰي فَتْرَةٍ : وفقہ پر ] [ مِّنَ الرُّسُلِ : رسولوں کے ] [ اَنْ : کہ (کہیں)] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ مَا جَاۗءَنَا : نہیں آیا ہمارے پاس ] [ مِنْۢ بَشِيْرٍ : کوئی بھی بشارت دینے والا ] [ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ: اور نہ ہی کوئی خبردار کرنے والا ] [ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ : تو آچکا ہے تمہارے پاس ] [ بَشِيْرٌ: ایک بشارت دینے والا ] [ وَّنَذِيْرٌ ۭ: اور خبر دار کرنے والا ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر ایک چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 5:20[ وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ] [ مُوْسٰى: موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم سے ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم !] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : اپنے اوپر ] [ اِذْ جَعَلَ : جب اس نے بنائے ] [ فِيْكُمْ : تم لوگوں میں سے ] [ اَنْۢبِيَاۗءَ : انبیاء ] [ وَجَعَلَكُمْ : اور بنایا تم لوگوں کو ] [ مُّلُوْكًا : بادشاہ ] [ ڰ وَّاٰتٰىكُمْ : اور اس نے دیا تم لوگوں کو ] [ م :َّا : وہ جو ] [ لَمْ يُؤْتِ : اس نے نہیں دیا ] [ [ اَحَدًا : کسی ایک کو ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ : تمام عالموں میں سے ]
ج ب ر : (ن) جبرا۔ (1) زبردستی یا دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنا ۔ جیسے ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑنا ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت الجبار اسی معنی میں ہے ۔ (2) کسی کو اس کی مرضی کے خلاف کام پر مجبور کرنا ۔ زبردستی کرنا ۔ بندوں کی صفت عموما اسی معنی میں آتی ہے ۔ جبار۔ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے (1) بار بار اور کثرت سے اصلاح کرنے والا ۔ (2) بار بار اور کثرت سے زبردستی کرنے والا ۔ زبردست ۔ طاقتور آیت زیر مطالعہ ۔
ت ی ھ : (ض) تیھا ۔ راستے سے بھٹک جانا ۔ سرگردان پھرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ء س و : (ن) اسوا مایوسیوں کا علاج کرنا ۔ کسی کو کسی کے لیے نمونہ بنانا ۔ اسوۃ۔ وہ چیز جس سے تسلی حاصل کی جائے ۔ نمونہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [ بیشک ہوچکا ہے تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بھلائی والا ایک نمونہ ] 33:21 (س) ۔ اسی ۔ مایوس ہونا ۔ افسوس کرنا ۔ فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ [ پھر کیسے میں افسوس کروں ایک کافر قوم پر ] ۔ 7:93 ۔ لاتاس ۔ فعل نہی ہے ۔ تو افسوس مت کر۔ تو مایوس مت ہو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : یقوم دراصل یقومی ہے ۔ لاترتدوا کے لائے نہی پر عطف مانیں تو فتنقلبوا مجزوم ہے اور فا کو سبیہ مانیں تو یہ حالت نصب میں ہے ۔ ہماری ترجیح ہے کہ اسے فاسببیہ مانا جائے ۔ ان کا اسم قوما جبارین ہے ، اس کی خبر محذوف ہے اور فیھا قائم مقام خبر ہے ۔ رب بھی دراصل ربی ہے ۔ اربعین ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ سنۃ اس کی تمیز ہے ۔
نوٹ :1 ۔ مصر سے نکلنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی منزل فلسطین تھی ۔ آپ جب اس کے پاس پہنچے تو دشت فاران میں قیام فرمایا اور بنواسرائیل کے بارہ سرداروں کی وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا ۔ واپس آکر ان سرداروں نے علاقے کی زرخیزی اور شادابی کی رپورٹ دی اور یہ بھی بتایا وہاں پر لوگ بڑے قد آور اور زور آور ہیں ۔ یہ سن کر بنواسرائیل نے حوصلہ ہار دیا اور جس ملک میں آباد ہونے کے لیے یہاں تک پہنچے تھے ، اس میں داخل ہونے کے بجائے پھر مصر پلٹ جانے کی باتیں کرنے لگے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ یہ علاقہ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ۔ بارہ میں سے دو سرداروں نے بھی ان کی ہمت بندھانے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں نے اپنے رسول کا حکم ماننے سے انکار کردیا ۔ (تدبر القرآن )