Ayah 5:21[ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ ادْخُلُوا : تم لوگ داخل ہوجاؤ] [ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ : پاک کی ہوئی زمین میں ] [ الَّتِيْ : جس کو ] [ كَتَبَ : لکھا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَلَا تَرْتَدُّوْا : اور مت پھرجانا ] [ عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ : اپنی پیٹھوں پر ] [ فَتَنْقَلِبُوْا : ورنہ ہو جاؤگے ] [ خٰسِرِيْنَ : نقصان اٹھانے والے ]
Ayah 5:22[ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰمُوْسٰٓى: اے موسیٰ ] [ اِنَّ : کہ ] [ فِيْهَا : اس میں ہے ] [ قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ڰ: ایک زبر دست قوم ] [ وَاِنَّا : اور ہم ] [ لَنْ نَّدْخُلَهَا : ہرگز داخل نہیں ہوں گے اس میں ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ يَخْرُجُوْا : وہ لوگ نکلیں ] [ مِنْهَا ۚ: اس سے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ يَّخْرُجُوْا : وہ لوگ نکلیں ] [ مِنْهَا : اس سے ] [ فَاِنَّا؛توہم ] [ دٰخِلُوْنَ : داخل ہونے والے ہیں ]
Ayah 5:23[ قَالَ رَجُلٰنِ : کہا مردوں نے ] [ مِنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جو ] [ يَخَافُوْنَ : ڈرتے ہیں (اللہ سے )] [ اَنْعَمَ : انعام کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ عَلَيْهِمَا : جن پر ] [ ادْخُلُوْا : (کہ ) داخل ہوجاؤ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الْبَابَ ۚ فَاِذَا : پھر جب ] [ دَخَلْتُمُوْهُ : تم لوگ داخل ہوگے اس سے ] [ فَاِنَّكُمْ : تو یقینا تم لوگ ] [ غٰلِبُوْنَ ۥ ۚ : غلبہ پانے والے ہوگے ] [ وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَتَوَكَّلُوْٓا : پس تم لوگ بھروسہ کرو ] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : مومن ہو ]
Ayah 5:24[ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰمُوْسٰٓى: اے موسیٰ ] [ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ : کہ ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے اس میں ] [ اَبَدًا : کبھی بھی ] [ مَّا دَامُوْا : جب تک وہ رہیں گے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ فَاذْهَبْ : پس جائیں ] [ اَنْتَ : آپ ] [ وَرَبُّكَ : اور آپ کا رب ] [ فَقَاتِلَآ : پھر آپ دونوں جنگ کریں ] [ اِنَّا : بیشک ہم ] [ ھٰهُنَا : یہیں ] [ قٰعِدُوْنَ : بیٹھنے والے ہیں ]
Ayah 5:25[ قَالَ : کہا (موسی نے )] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ اِنِّىْ : کہ میں ] [ لَآ اَمْلِكُ : اختیار نہیں رکھتا ] [ اِلَّا : سوائے ] [ نَفْسِيْ : اپنی جان ] [ وَاَخِيْ : اور اپنے بھائی کے ] [ فَافْرُقْ : پس تو جدائی ڈال دے ] [ بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [ وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ : اور نافرمانی کرنے والی قوم کے درمیان ]
Ayah 5:26[ قَالَ : کہا (اللہ نے )] [ فَاِنَّهَا : تو یہ ] [ مُحَرَّمَةٌ: حرام کی گئی ہے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ: چالیس سال تک ] [ يَتِيْھُوْنَ : یہ لوگ سرگرداں پھریں گے ] [ فِي الْاَرْضِ ۭ: زمین میں ] [ فَلَا تَاْسَ : تو آپ افسوس نہ کریں ] [ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والی قوم پر ]
Ayah 5:27[ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ : اور آپ پڑھ کر سنائیں ان لوگوں کو ] [ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ : حضرت آدم کے دو بیٹوں کی خبر ] [ بِالْحَقِّ ۘ: حق کے ساتھ ] [ اِذْ : جب ] [ قَرَّبَا : ان دونوں نے پیش کی ] [ قُرْبَانًا : ایک قربانی ] [ فَتُقُبِّلَ : تو قبول کی گئی ] [ مِنْ اَحَدِهِمَا : ان دونوں کے ایک سے ] [ وَلَمْ يُتَقَبَّلْ : اور نہیں قبول کی گئی ] [ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ: دوسرے سے ] [ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۭ : اس نے کہا میں لازما قتل کروں گا تجھ کو ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يَتَقَبَّلُ : قبول کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ : تقوی کرنے والوں سے ]
ب ج ث : (ف) ۔ بحثا ۔ کسی چیز کو کھود کر اس میں کچھ تلاش کرنا ۔ کریدنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ح ج ز : (ض) ۔ عجزا ۔ کسی کام کو کرنے کی قدرت نہ رکھنا ۔ بےاکتیار ہونا ۔ عاجزہونا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ عجوز ۔ فعول کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت بےاختیار ۔ بوڑھی عورت ۔ ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ [ کیا میں جنوں گی اس حال میں کہ میں بڑھیا ہوں ] ۔ 11:72 ۔ عجز ۔ ج ، اعجاز ۔ کھجور کا کھوکھلا تنا ۔ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ [ گویا کہ وہ کسی اکھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں ] ۔ 54:20 ۔ (افعال ) اعجازا۔ کسی کو بےاختیار کرنا ۔ عاجز کرنا ۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ [ اور اللہ وہ نہیں ہے کہ اس کو بےاختیار کردے کوئی بھی چیز ] 35:44 ۔ معجز اسم الفاعل ہے ۔ بےاختیار کرنے والا ۔ عاجز کرنے والا ۔ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ [ اور تم لوگ عاجز کرنے والے نہیں ] ۔ 6 :134 ۔ (مفاعلہ ) معاجزۃ ۔ کسی کو ہرانے کی کوشش کرنا ۔ مسابقت کرنا ۔ معاجز ۔ اسم الفاعل ہے ۔ ہرانے کی کوشش کرنے والا ۔ آگے نکلنے کی کوشش کرنے والا ۔ وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ [ اور وہ وہ لوگ جنھوں نے بھاگ دوڑ کی ہماری نشانیوں میں ہرانے والا ہوتے ہوئے ] ۔ 22 :51 ۔
ن د م (س) ۔ ندما ۔ پشیمان ہونا ۔ شرمندہ ہونا۔ نادم اسم الفاعل ہے پشیمان ہونے والا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ندامۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ پشیمانی ۔ شرمندگی ۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ [ اور چھپائیں گے پشمانی کو جب وہ لوگ دیکھیں گے عذاب ] ۔ 54:10
ترکیب : نبا کا مضاف الیہ ابنین تھا جو آگے ادم کا مضاف بنا تو اس کا نون گرگیا ۔ بباسط اسم الفاعل ہے ۔ اس نے فعل کا عمل کیا ہے اور اس کا مفعول یدا تھا ۔ یائے متکلم اس کا مضاف الیہ ہے اس لیے یدا کی تنوین ختم ہوئی اور یدی استعمال ہوا ۔ باثمی کی با پر عطف ہونے کی وجہ سے اثمک حالت جز میں آیا ہے ۔ فطوعت کا فاعل نفسہ ہے غرابانکرہ مخصوصہ ہے اور یبحث فی الارض اس کی خصوصیت ہے ۔ لیریہ میں ضمیر فاعلی اللہ کے لیے ہے اور ضمیر مفعولی قاتل کے لیے ہے ۔ یواری کی ضمیر فاعلی بھی قاتل کے لیے ہے ۔ ھذا الغراب مرکب اشاری مثل کا مضاف الیہ ہے اس لیے الغراب حالت جز میں آیا ہے جبکہ مثل کی نصب اکون کی خبر ہونے کی وجہ سے ہے ۔ فاواری کا فاسببیہ ہے جس کے مضارع اواری کو نصب دی ہے ۔
نوٹ :1 ۔ قرآن کریم کوئی قصہ کہانی یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے اس لیے اس میں کسی واقعہ کو تفصیلات کے ساتھ اول سے آخر تک بیان نہیں کیا جاتا ۔ البتہ ہدایت کے لیے گزشتہ اقوام کی سرگزشت میں عبرت اور نصیحت کے پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ اس لیے قرآن کا عام اسلوب یہ ہے کہ اکثر پورا واقعہ ایک جگہ بیان نہیں کرتا ، بلکہ اس کے جتنے حصے سے اس جگہ کی نصیحت کا تعلق ہوتا ہے ، اس کا وہی حصہ بیان کرتا ہے (معارف القرآن ) اس لیے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والوں کے حق میں مفید بات یہ ہے کہ وہ ان تفصیلات کی تلاش میں کو لمبس نہ بنیں ، جنھیں قرآن مجید نے نظر انداز کردیا ہے اور اپنی توجہ کو مقصود کلام پر مرتکز کریں ورنہ ہدایت سے محرومی کا اندیشہ ہے ۔
نوٹ : 2 ۔ قابیل کو یہ جان کر کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی ہابیل پر غصہ آیا کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی ۔ حالانکہ اس کی قربانی قبول نہ ہونے میں ہابیل کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ قصور اس کا اپنا تھا ۔ لیکن جب آدمی پر حسد کا دورہ پڑتا ہے ۔ تو اس کو اپنی نالائقیاں نظر نہیں آتیں بلکہ وہ اپنی ناکامی کے اسباب دوسروں پر ڈالتا ہے (تدبرالقرآن ) ۔ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ میں حاسد کے حسد کے علاج کا ذکر کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا فرمائی ہے جو اس کو حاصل نہیں ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنی عملی کوتاہی اور گناہوں کی اصلاح کی فکر کرے ۔
Ayah 5:28[ لَىِٕنْۢ: البتہ اگر ] [ بَسَطْتَّ : تو بڑھائے گا ] [ اِلَيَّ : میری طرف ] [ يَدَكَ : اپنا ہاتھ ] [ لِتَقْتُلَنِيْ : تاکہ تو قتل کرے مجھ کو ] [ مَآ اَنَا : تو میں ] [ بِبَاسِطٍ : بڑھانے والا نہیں ہوں ] [ يَّدِيَ : اپنا ہاتھ ] [ اِلَيْكَ : تیری ] [ لِاَقْتُلَكَ ۚ: کہ میں قتل کروں تجھ کو ] [ اِنِّىْٓ: بیشک میں ] [ اَخَافُ : ڈرتا ہوں ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ہے ]
Ayah 5:29[ اِنِّىْٓ: بیشک میں ] [ اُرِيْدُ : چاہتا ہوں ] [ اَنْ : کہ ] [ تَبُوْۗاَ : تولوٹے ] [ بِاِثْمِيْ : میرے گناہ کے ساتھ ] [ وَاِثْمِكَ : اور اپنے گناہ کے ساتھ ] [ فَتَكُوْنَ : نتیجا تو ہوجائے ] [ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ: آگ والوں میں سے ] [ وَذٰلِكَ : اور یہ (ہی)] [ جَزٰۗؤُ ا الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کا بدلہ ہے ]
Ayah 5:30[ فَطَوَّعَتْ : پس راضی کیا ] [ لَهٗ : اس کو ] [ نَفْسُهٗ : اس کے نفس نے ] [ قَتْلَ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے قتل پر ] [ فَقَتَلَهٗ : تو اس نے قتل کیا اس کو ] [ فَاَصْبَحَ : نتیجتا وہ ہوگیا ] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ اٹھانے والوں میں سے ]
Ayah 5:31[ فَبَعَثَ : پھر بھیجا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ غُرَابًا : ایک ایسا کوا ] [ يَّبْحَثُ : جو کریدتا ہے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ لِيُرِيَهٗ : تاکہ وہ دکھائے اس کو (یعنی اللہ ] [ كَيْفَ : (کہ ) کیسے ] [ يُوَارِيْ : وہ چھپائے ] [ سَوْءَةَ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کی لاش کو ] [ ۭ قَالَ : اس نے کہا ] [ يٰوَيْلَتٰٓى: ہائے میری بدبختی ] [ اَعَجَزْتُ : کیا میں عاجز ہوا ] [ اَنْ : (اس سے بھی ) کہ ] [ اَكُوْنَ : میں ہوتا ] [ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ :: اس کوے کے جیسا ] [ تو میں چھپاتا ] [ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ: اپنے بھائی کی لاش کو ] [ فَاَصْبَحَ : پھر وہ ہوگیا ] [ مِنَ النّٰدِمِيْنَ : پشیمان ہونے والوں میں سے ]
Ayah 5:32[ مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ : اس وجہ سے ] [ كَتَبْنَا : ہم نے لکھا ] [ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل پر ] [ اَنَّهٗ : کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [ مَنْ : جس نے ] [ قَتَلَ : قتل کیا ] [ نَفْسًۢا : کسی جان کو ] [ بِغَيْرِ نَفْسٍ : کسی جان کے (بدلے کے ] [ اَوْ : یا ] [ فَسَادٍ : کسی فساد کے بغیر ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَكَاَنَّمَا : تو گویا کہ ] [ قَتَلَ : اس نے قتل کیا ] [ النَّاسَ : انسانوں کو ] [ جَمِيْعًا : تمام کے تمام ] [ ۭوَمَنْ : اور جس نے ] [ اَحْيَاهَا : زندہ رکھا اس کو ] [ فَكَاَنَّمَآ : تو گویا کہ ] [ اَحْيَا : اس نے زندہ رکھا ] [ النَّاسَ : انسانوں کو ] [ جَمِيْعًا : تمام کے تمام ] [ ۭوَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ : اور آچکے ہیں ان کے پاس ] [ رُسُلُنَا : ہمارے رسول ] [ بِالْبَيِّنٰتِ ۡ: واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [ ثُمَّ : پھر ] [ اِنَّ : بیشک ] [ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ : ان میں سے اکثر ] [ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ لَمُسْرِفُوْنَ : یقینا حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ]
نو : (ن) نفوا۔ کسی کو کسی جگہ سے ہٹانا ۔ نکالنا ۔ (1) ملک بدر کرنا ۔ (2) قید کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : انہ میں ضمیر الشان ہے ۔ فساد کی جز بتارہی ہے کہ یہ بغیر کا دوسرا مضاف الیہ ہے ۔ قتل کا مفعول الناس ہے اور جمیعا تمیز ہے ۔ احیاھا کی ضمیر نفسا کے لیے ہے ۔ ان کا اسم کثیرا منہم ہے اور لمسرفون اس کی خبر ہے ۔
نوٹ : 1 ۔ اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کا مطلب ہے اسلام کے عدل اجتماعی اور اس کے قوانین کے خلاف تگ ودو کرنا ۔ چھوٹے پیمانے پر راہزنی وڈکیتی ہو یا بڑے پیمانے پر اسلامی نظام کی جگہ کوئی دوسرا نظام قائم کرنے کی جدو جہد ہو ، وہ دراصل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندوستان میں برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے ۔ بادشاہ کے خلاف لڑائی (WAGING WAR AGAINST THE DING) کا مجرم قرار دیا گیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ :2 ۔ مختلف سزائیں بیان کردی گئی ہیں ۔ اب یہ عدالت کا کام ہے کہ ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے ( تفہیم القرآن ) ۔ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ کے متعلق حضرت عمر ؓ نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر مجرم کو یہاں سے نکال کر دوسرے شہروں میں آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہاں کے لوگوں کو ستائے گا۔ اس لیے ایسے مجرم کو قید کردیا جائے ۔ یہی اس کو زمین سے نکالنا ہے کہ زمین میں کہیں چل پھر نہیں سکتا ۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی یہی اختیار فرمایا ہے ۔ (معارف القرآن )
نوٹ : 3 ۔ شریعت اسلام میں سزاؤں کی تین قسمیں ہیں ۔ (1) تعزیرات ۔ (2) قصاص اور ۔ (3) حدود ۔ جن جرائم کی سزا قرآن وسنت نے متعین نہیں کی بلکہ حکام کی صوابدید پر چھوڑا ہے ان کو تعزیرات کہتے ہیں ۔ حالات کے تحت یہ سزائیں ہلکی یا سخت بھی کی جاسکتی ہیں اور معاف بھی کی جاسکتی ہیں ۔ ان میں حکام کے اختیارات وسیع ہیں ۔
جن جرائم کی سزائیں قرآن وسنت نے متعین کردی ہیں ان میں سے ایک قسم کی سزا کو قصا ص کہتے ہیں ۔ ان میں حقوق العباد کا پہلو غالب ہے ۔ اس لیے جرم ثابت ہوجانے کے بعد عدالت یا حکومت کو مجرم کی سزا میں کمی کرنے یا معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ البتہ یہ اختیار متاثر بندے یا مقتول کے ولی کو حاصل ہوجاتا ہے ۔ وہ چاہے تو سزا دلوائے یا قصاص لے لے یا فی سبیل اللہ معاف کردے ۔
قرآن وسنت کی معین کردہ سزاؤں کی دوسری قسم کو حدود کہتے ہیں ۔ ان میں حقوق اللہ کا پہلو غالب ہے ۔ اس لیے جرم ثابت ہوجانے کے بعد سزا میں معمولی سا بھی تغیر وتبدل یا کمی بیشی کرنے کی حکومت یا عدالت یا متاثر بندے کو اجازت نہیں ہے ۔ اسی طرح توبہ کرلینے سے بھی دنیوی سزا معاف نہیں ہوگی ۔ البتہ مخلصانہ توبہ سے آخرت کا گناہ معاف ہوجاتا ہے ۔ حدود اللہ میں سفارش کرنے اور سننے سے رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے ۔ حدود کی سزائیں سخت ہیں اور ان کے نفاذ کا قانون بھی سخت ہے لیکن معاملہ کو معتدل کرنے کے لیے ثبوت جرم کی شرطیں بھی سخت رکھی گئی ہیں ۔ اور ثبوت میں ادنی ساشبہ بھی پایا جائے تو حد ساقط ہوجاتی ہے البتہ تعزیری سزا دی جاسکتی ہے ۔ مثلا زنا کے ثبوت میں تین گواہ ہیں جو ثقہ ہیں جن پر جھوٹ کا شبہ نہیں ہوسکتا مگر ازروئے شریعت چوتھا گواہ نہ ہونے کی وجہ سے حد شرعی جاری نہیں ہوگی لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کو کھلی چھٹی دے دی جائے گی ۔ بلکہ عدالت اس کو مناسب تعزیری سزا دے گی ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 5:33[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ : ان لوگوں کی سزا جو ] [ يُحَارِبُوْنَ : لڑتے ہیں ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول سے ] [ وَيَسْعَوْنَ : اور بھاگ دوڑ کرتے ہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَسَادًا : (حقوق و فرائض کا ) توازن بگاڑنے کو ] [ اَنْ : (یہ ہے ) کہ ] [ يُّقَتَّلُوْٓا : وہ لوگ قتل کیے جائیں ] [ اَوْ يُصَلَّبُوْٓا : یا پھانسی دیئے جائیں ] [ اَوْ تُـقَطَّعَ : یا کاٹے جائیں ] [ اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھ ] [ وَاَرْجُلُهُمْ : اور ان کے پیر ] [ مِّنْ خِلَافٍ : مخالف (طرف ) سے ] [ اَوْ يُنْفَوْا : یا وہ قید کئے جائیں ] [ مِنَ الْاَرْضِ ۭ: زمین سے (نکال کر )] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ خِزْيٌ: رسوائی ہے ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں ] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم عذاب ہے ]
Ayah 5:34[ اِلَّا الَّذِيْنَ : سوائے ان کے جنھوں نے ] [ تَابُوْا : توبہ کی ] [ مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَقْدِرُوْا : تم لوگ قابو پاؤ] [ عَلَيْهِمْ ۚ : ان پر ] [ فَاعْلَمُوْٓا : پس جان لو ] [ اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 5:35[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ اتَّقُوا : تو لوگ تقوی کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ وَابْتَغُوْٓا : اور تلاش کرو ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [ الْوَسِيْلَةَ : قربت کو ] [ وَجَاهِدُوْا : اور تم جدوجہد کرو ] [ فِيْ سَبِيْلِهٖ : اس کی راہ میں ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم ] [ تُفْلِحُوْنَ : فلاح پاؤ]
وس ل (ض) ۔ وسیلۃ ۔ کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنا (مفردات القرآن ) اللہ تک تقرب حاصل کرنا ۔ (المنجد) وسیلۃ اسم ذات بھی ہے ۔ تقرب ۔ قربت ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : وابتغو کا مفعول الوسیلۃ ہے ۔ الیہ اور سبیلہ کی ضمیریں اللہ کے لیے ہیں ۔ لو، شرطیہ ہے ۔ مثلہ اور معہ کی ضمیریں مافی الارض کے لیے ہیں ۔ جمیعا تمیز ہے ۔ ما تقبل ماضی مجہول ہے لیکن یہ لو کا جواب شرط ہے اس لیے اس کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا ۔
نوٹ : 1 ۔ عربی میں وسیلۃ کا لفظ ” قربت “ کے معنی میں بھی آتا ہے اور ” ذریعہ “ کے معنی میں بھی ۔ لیکن قرآن مجید میں یہ لفظ دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ قربت کے معنی میں آیا ہے ۔ اذان سننے کے بعد ہم جو دعا مانگتے ہیں اس میں یہ لفظ قربت کے مقام کے لیے آیا ہے ۔
اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ خدا کے منع کردہ کاموں سے رکے رہو اور اس کی طرف قربت تلاش کرو۔ حضرت مجاہد ؓ ، حضرت ابو وائل ؓ ، حضرت حسن ؓ حضرت ابن زید ؓ اور بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے ۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ خدا کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کیے ہیں اس پر سب مفسرین کا گویا اجماع ہے اور کسی ایک کا بھی خلاف نہیں ہے ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں ہے ۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو۔ (منقول از ابن کثیر)
Ayah 5:36[ اِنَّ الَّذِيْنَ : یقینا جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَوْ : اگر ] [ اَنَّ : یہ کہ ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ مَّا : وہ ہو جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ جَمِيْعًا : سب کا سب ] [ وَّمِثْلَهٗ : اور اس کے جیسا ] [ مَعَهٗ : اس کے ساتھ ] [ لِيَفْتَدُوْا : تاکہ وہ خود کو چھڑائیں ] [ بِهٖ : جسے دے کر ] [ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن کے عذاب سے ] [ مَا تُقُبِّلَ : تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا ] [ مِنْهُمْ ۚ: ان سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 5:37[ يُرِيْدُوْنَ : وہ لوگ چاہیں گے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّخْرُجُوْا : وہ نکلیں ] [ مِنَ النَّارِ : آگ سے ] [ وَمَا : حالانکہ ] [ هُمْ : ھم ] [ بِخٰرِجِيْنَ : نکلنے والے نہیں ہیں ] [ مِنْهَا ۡ: اس سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ: ایک ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب ہے ]
Ayah 5:38[ وَالسَّارِقُ : اور چوری کرنے والا ] [ وَالسَّارِقَةُ : اور چوری کرنے والی (جب چوری کریں)] [ فَاقْطَعُوْٓا : تو کاٹ دو ] [ اَيْدِيَهُمَا : ان دونوں کے ہاتھ ] [ جَزَاۗءًۢ: بدلہ ہوتے ہوئے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَسَـبَا : ان دونوں نے کمایا ] [ نَكَالًا : عبرت ہوتے ہوئے ] [ مِّنَ اللّٰهِ ۭ: اللہ (کی طرف ) سے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَزِيْزٌ : بالا دست ہے ] [ حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ]
س ر ق : (ض) کوئی چیز چرانا ۔ يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [ اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ] ۔ 12:81 ۔ سارق ۔ اسم الفاعل ہے ، چوری کرنے والا ۔ چور آیت زیر مطالعہ ۔ (افتعال) ۔ استراقا۔ اہتمام سے چرانا ۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ [ سوائے اس کے جس نے چپکے سے چرایا سننے کو ] ۔ 15 :18 ۔
ترکیب السارق اور السارقۃ پر لام جنس ہے اور یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں ۔ ان کی خبر محذوف ہے جو اذا سرقا ہوسکتی ہے ۔ اذا محذوف کا جواب شرط فاقطعوا ہے ۔ جزاء اور نکالا حال ہیں ۔
نوٹ : 1 ۔ متعدد احادیث میں مختلف اشیاء کی چوری پر ہاتھ کاٹنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔ ان احادیث اور حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ کے فیصلوں کی بنیاد پر مختلف فقہاء نے مختلف چیزوں کو ہاتھ کاٹنے کے حکم سے مستثنی قرار دیا ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک پھل ، گوشت ، پکا ہوا کھانا ، غلہ جس کا ابھی کھلیان نہ کیا گیا ہو، کھیل اور موسیقی کے آلات ، چرتے ہوئے جانور اور بیت المال کی چوری ہاتھ کاٹنے سے مستثنی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے چوروں پر حد جاری نہیں ہوگی بلکہ ان کو مناسب تعزیری سزا دی جائے گی ۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ : 2 ۔ فقہاء اس پر متفق ہیں کہ چور اگر چوری کرنے کے بعد خواہ گرفتاری سے پہلے یا بعد میں ، توبہ کرلے تو دنیاوی سزا یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف نہیں ہوگی ۔ اس کی توبہ قبول ہونے کا مطلب آخرت کے عذاب سے معافی ملنا ہے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 5:39[ فَمَنْ : پھر جس نے ] [ تَابَ : توبہ کی ] [ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ : اپنے ظلم کے بعد ] [ وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کی ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ] [ يَتُوْبُ عَلَيْهِ : اس کی توبہ قبول کرتا ہے ] [ ۭاِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 5:40اَلَمْ : کیا ] [ تَعْلَمْ : تو نے نہیں جانا ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَهٗ : اس کی ہی ہے ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] [ يُعَذِّبُ : وہ عذاب دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَغْفِرُ؛اور وہ بخشتا دیتا ہے ] [ لِمَنْ : اس کو جس ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ ۭوَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قادر ہے ]
Ayah 5:41[ يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ : اے رسول ] [ لَا يَحْزُنْكَ : چاہیے کہ غمگین نہ کریں آپ کو ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يُسَارِعُوْنَ : دوڑ دھوپ کرتے ہیں ] [ فِي الْكُفْرِ : کفر میں ] [ مِنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جنھوں نے ] [ قَالُوْٓا : کہا ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِاَفْوَاهِهِمْ؛ اپنے مونہوں سے ] [ وَ : حالانکہ ] [ لَمْ تُؤْمِنْ : ایمان لائے ہی نہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ : اور ان میں سے جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہیں ] [ ڔ سَمّٰعُوْنَ : بہت ٹوہ لگانے والے ہیں ] [ لِلْكَذِبِ : جھوٹ (پھیلانے ) کے لیے ] [ سَمّٰعُوْنَ : جاسوسی کرنے والے ہیں ] [ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ: ایک دوسری قوم کے لیے ] [ لَمْ يَاْتُوْكَ ۭ: جو ابھی نہیں آئے آپ کے پاس ] [ يُحَرِّفُوْنَ : وہ لوگ پھیرتے ہیں ] [ الْكَلِمَ : کلاموں کو ] [ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ: ان کے رکھنے کی جگہوں (کے تعین ) کے بعد سے ] [ يَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں ] [ اِنْ : اگر ] [ اُوْتِيْتُمْ : تم لوگوں کو دیا جائے ] [ هٰذَا : یہ ] [ فَخُذُوْهُ : تو پکڑ لو اس کو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ لَّمْ تُؤْتَوْهُ : تم کو نہ دیا جائے وہ ] [ فَاحْذَرُوْا ۭ: تو تم لوگ بچو ] [ وَمَنْ : اور جس کے لیے ] [ يُّرِدِ : ارادہ کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فِتْنَتَهٗ : اس کی آزمائش کا ] [ فَلَنْ تَمْلِكَ : تو آپ کو ہرگز اختیار نہیں ] [ لَهٗ : اس کے لیے ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [ شَـيْـــــًٔـا : کچھ بھی ] [ ۭ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ الَّذِيْنَ : جن کے لیے ] [ لَمْ يُرِدِ : ارادہ نہیں کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّطَهِّرَ : وہ پاک کرے ] [ قُلُوْبَهُمْ : ان کے دلوں کوۭ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ خِزْيٌ ښ: ایک رسوائی ہے ] [ وَّلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں ] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ : ایک عظیم عذاب ہے ]
س ح ت : (ف) ۔ سحتا ۔ پھل سے چھلکا اتارنا یا گوشت سے چربی چھیلنا ۔ کسی کو ہلاک کرنا ۔ سحت ۔ حرام اور ناپاک کمائی جو دنیا میں عار اور آخرت میں ہلاکت کا سبب بنے ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (افعال ) اسحاتا جڑ سے اکھاڑ دینا ۔ بیخ کنی کرنا ۔ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ [ تم لوگ مت باندھو اللہ پر جھوٹ ورنہ وہ اکھاڑ پھینکے گا تم لوگوں کو عذاب سے ] 20: 61 ۔
نوٹ : 1 ۔ اللہ کی طرف سے کسی کو فتنہ میں ڈالنے کا ایک مطلب یہ ہے ، اور یہاں یہی مراد ہے ، کہ کسی شخص کے اندر جب برائی پرورش پاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایسے مواقع لاتا ہے جس میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے ، تاکہ وہ سنبھل جائے اور اپنی اصلاح کرلے ، لیکن اگر وہ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا تو پھر وہ مزید برائی میں پھنستا چلا جاتا ہے ۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں نہیں ہوتا ۔ (تفیہم القرآن )
Ayah 5:42[ سَمّٰعُوْنَ : بہت ٹوہ لگانے والے ] [ لِلْكَذِبِ : جھوٹ (پھیلانے ) کے لیے ] [ اَكّٰلُوْنَ؛رج کے کھانے والے ] [ لِلسُّحْتِ ۭ: حرام کی کمائی کے لیے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ جَاۗءُوْكَ : وہ لوگ آئیں آپ کے پاس ] [ فَاحْكُمْ؛تو آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ اَوْ : یا ] [ اَعْرِضْ : اعراض کریں ] [ عَنْهُمْ ۚ: ان سے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُعْرِضْ : آپ اعراض کریں گے ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ : تو وہ ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے آپ کو ] [ شَـيْـــًٔـا ۭ: کچھ بھی ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ حَكَمْتَ : آپ فیصلہ کریں ] [ فَاحْكُمْ : تو آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ بِالْقِسْطِ ۭ: انصاف سے ] [ اِنَّ اللّٰهَ :: بیشک اللہ [ يُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [ الْمُقْسِطِيْنَ : انصاف کرنے والوں کو ]
Ayah 5:43[ وَكَيْفَ؛اور کیسے ] [ يُحَكِّمُوْنَكَ : وہ لوگ حکم مانیں گے آپ کو ] [ وَ؛اس حال میں کہ ] [ عِنْدَهُمُ : ان کے پاس ] [ التَّوْرٰىةُ؛تورات ہے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ حُكْمُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم ہے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ يَتَوَلَّوْنَ : منہ پھیرتے ہیں ] [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ: اس کے (نزول ) کے بعد سے ] [ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ : اور وہ لوگ ] [ بِالْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے نہیں ہیں ]
Ayah 5:44[ اِنَّآ : بیشک ہم نے ] [ اَنْزَلْنَا : نازل کیا ] [ التَّوْرٰىةَ : تورات کو ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ هُدًى: ہدایت ہے ] [ وَّنُوْرٌ ۚ: اور نور ہے ] [ يَحْكُمُ : فیصلہ کیا کرتے تھے ] [ بِهَا؛اس سے ] [ النَّبِيُّوْنَ : انبیاء کرام ] [ الَّذِيْنَ : جنھوں نے ] [ اَسْلَمُوْا؛تابعداری کی ] [ لِلَّذِيْنَ؛ان کے لیے جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ : اور اللہ والے لوگ (بھی ) ] [ وَالْاَحْبَارُ : اور علماء (بھی)] [ بِمَا؛اس وجہ سے کہ ] [ اسْتُحْفِظُوْا : وہ محافظ بنائے گئے ] [ مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ؛اللہ کی کتاب میں سے ] [ وَكَانُوْا؛اور وہ لوگ تھے ] [ عَلَيْهِ : اس پر ] [ شُهَدَاۗءَ : گواہ ] [ ۚ فَلَا تَخْشَوُا : پس تم لوگ مت ڈرو ] [ النَّاسَ : لوگوں سے ] [ وَاخْشَوْنِ : اور (یعنی بلکہ ) مجھ سے ڈرو ] [ وَلَا تَشْتَرُوْا ؛اور مت خریدو ] [ بِاٰيٰتِيْ : میری آیات کے عوض ] [ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ: تھوڑی سی قیمت وَمَنْ : اور جو ] [ لَّمْ يَحْكُمْ ؛فیصلہ نہیں کرتے ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ : ہی کافر ہیں ]
ح ب ر : (ن) ۔ حبرا ۔ آراستہ کرنا ۔ نقش ونگار بنانا۔ (س) ۔ حبرا ۔ کسی چیز کا اپنے نشانات چھوڑ جانا ۔ حبر ج ۔ احبار ۔ عالم دین [ کیونکہ وہ علم سے آراستہ ہوتا ہے اور اپنے علم کے اثرات چھوڑ جاتا ہے ) آیت زیر مطالعہ ۔ (افعال) ۔ احبارا ۔ کسی کو مسرور کرنا ۔ آؤ بھگت کرنا ۔ فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ [ تو ان لوگوں کی ایک باغ میں آؤ بھگت کی جائے گی ] ۔ 30 :15
ء نــ: (س) ۔ انفعا ۔ (1) خود دار ہونا ۔ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا ۔ (2) ناک بھوں چڑھانا ۔ انف۔ ہر چیز کی ابتداء جیسے (1) پہاڑ کی چوٹی ۔ (2) ناک ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ انفا۔ ظرف ہے اس لیے منصوب ہوتا ہے ۔ شروع میں ، ابھی ۔ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۣ [ انھوں نے کیا فرمایا ابھی ] ۔ 47 :16
ترکیب : جملہ فعل ماضی انزلنا سے شروع ہوا ہے اس لیے یحکم سے پہلے کان محذوف مانا جائے گا اور اس کا ترجمہ ماضی میں ہوگا ۔ النبیون موصول ہے اور الذین اسلموا صلہ ہے ۔ صلہ اور موصول مل کر یحکم کا فاعل ہے ۔ جبکہ للذین ھادوا یحکم سے متعلق ہے ۔ الربنیون اور الاحبار بھی یحکم کے فاعل ہیں جبکہ بما بھی یحکم سے متعلق ہیں ۔ علیہ کی ضمیر کتب اللہ کے لیے ہے ۔ من شرطیہ ہے اس لیے لم یحکم کا ترجمہ حال میں ہوگا۔
Ayah 5:45[ وَكَتَبْنَا؛اور ہم نے لکھا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ فِيْهَآ : اس میں ] [ اَنَّ : کہ ] [ النَّفْسَ : جان (کا بدلہ ہے )] [ بِالنَّفْسِ ۙ: جان سے ] [ وَالْعَيْنَ : اور آنکھ (کا بدلہ ہے )] [ بِالْعَيْنِ : آنکھ سے ] [ وَالْاَنْفَ؛اور ناک (کا بدلہ ہے ] [ بِالْاَنْفِ : ناک ہے ] [ وَالْاُذُنَ؛اور کان (کا بدلہ ہے )] [ بِالْاُذُنِ؛کان سے ] [ وَالسِّنَّ : اور دانت (کا بدلہ ہے )] [ بِالسِّنِّ ۙ: دانت سے ] [ وَالْجُرُوْحَ؛اور زخموں ) (کا بھی )] [ قِصَاصٌ ۭ: بدلہ ہے ] [ فَمَنْ؛تو جس نے ] [ تَصَدَّقَ بِهٖ؛اپنا حق چھوڑا ] [ فَهُوَ : تو یہ ] [ كَفَّارَةٌ: کفارہ ہے (گناہوں کا )] [ لَّهٗ ۭ: اس کے لیے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ لَّمْ يَحْكُمْ : اس سے جو ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظلم کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:46[ وَقَفَّيْنَا : اور ہم نے پیچھے بھیجا ] [ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ : ان کے نقوش قدم پر ] [ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ : عیسیٰ ابن مریم کو ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ : ان کے سامنے ہے ] [ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۠: تورات میں سے ] [ وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دی ان کو ] [ الْاِنْجِيْلَ : انجیل ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ هُدًى: ہدایت ہے ] [ وَّنُوْرٌ : اور نور ہےۙ [ َّمُصَدِّقًا : اور تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ : اس کے سامنے ہے ] [ مِنَ التَّوْرٰىةِ : تورات میں سے ] [ وَهُدًى : اور ہدایت ہوتے ہوئے ] [ وَّمَوْعِظَةً : اور نصیحت ہوتے ہوئے ] [ لِّلْمُتَّقِيْنَ : اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ]
ء ث ر : (ن ۔ ض ) اثرا ۔ (1) کسی چیز کا اپنا نشان چھوڑ جانا جو اس کے وجود پر دلیل ہو ۔ (2) کسی کا احترام کرنا ۔ اثر۔ ج ، اثار ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ نشان ۔ اثر ۔ نقش قدم ۔ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ [ ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے ] 48:29 ۔ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ [ تو میں نے قبضے میں لیا ایک مٹھی بھر فرشتے کے نقش قدم سے ) ۔ 20 :96 ۔ اثرۃ ۔ ج ، اثارۃ ، کسی علم کا بقیہ حصہ ۔ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ [ تم لوگ لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کسی علم کے باقی حصے ] 46:4 ۔ (افعال) ایثار ۔ کسی کو کسی پر ترجیح دینا ۔ بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [ بلکہ تم لوگ ترجیح دیتے ہو دنیا کی زندگی کو ] ۔ 87 : 16 ۔
ھ ی م ن ۔ (رباعی ) ۔ ھیمنۃ ، حفاظت کرنا ۔ نگرانی کرنا ۔ مھیمن ۔ اسم الفاعل ہے ۔ حفاظت اور نگرانی کرنے والا ۔
ش ر ع (ف) شرعا ۔ کسی کے لیے قانون بنانا ۔ شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا [ اس نے قانون بنایا تمہارے لیے نظام حیات میں سے ، اس کو اس نے تاکید کی جس کی نوح کو ] 13: 42 ۔ شرعۃ ۔ قوانین کا مجموعہ ۔ دستور ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
شریعۃ۔ قوانین کی پابندی کرنے کا لائحہ عمل ۔ راستہ ۔ ضابطہ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا [ پھر ہم نے رکھا آپ کو ایک ضابطے پر حکم میں سے ، تو آپ پیروی کریں اس کی ] ۔ 45:18 (ف) شروعا۔ پانی میں گھسنا ۔ شارعۃ ۔ ج ، شرع ۔ اسم الفاعل ہے ۔ پانی میں گھسنے والی ۔ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا [ جب آتیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن پانی میں تیرتی ہوئی ] ۔ 7:163
ن ھ ج ۔ (ف) ۔ نھجا ۔ راستہ چلنا ۔ منھاج راستہ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : علی اثارہم کی ضمیر آیت نمبر 44، میں مذکور النبیون ، الربنیون اور الاحبار کے لیے ہے ، مصدقا حال ہے ، وھدی وموعظۃ یہ دونوں بھی حال ہیں۔ الیک الکتاب من الکتاب میں الکتاب پر الام تعریف ہے جبکہ من الکتاب میں الکتاب پر لام جنس ہے ۔ عما دراصل عن ما ہے ۔ اس سے پہلے کوئی ایسا فعل محذوف ہے جس کے ساتھ عن کا صلہ آتا ہے ۔ یہاں پر فتعرض محذوف ماننا مناسب ہے ۔ ولکن کے بعد بھی کوئی فعل محذوف ہے جیسے فرقتہم ۔ اصاب ۔ یصیب ۔ اصابۃ [ ٹھیک نشانہ پر لگنا لازم ہے لیکن یہاں پر یہ ب کے صلے کے ساتھ آیا ہے اس لیے متعدی ہوگیا یعنی ٹھیک نشانے پر لگانا ۔
نوٹ : 1 ۔ قرآن مجید کو ” الکتاب “ پر محافظ اور نگران کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام برحق تعلیمات کو ، جو پچھلی آسمانی کتابوں میں دی گئی تھیں ، اپنے اندر محفوظ کردیا ہے۔ اب ان تعلیمات کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا ۔ گزشتہ کتابوں میں خدا کے کلام اور لوگوں کے کلام کی جو آمیزش ہوگئی ہے ، قرآن کی شہادت سے ان کو پھر چھانٹا جاسکتا ہے ۔ جو کچھ قرآن کے مطابق ہے وہ خدا کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے وہ لوگوں کا کلام ہے ۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ : 2 ۔ جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے (یعنی جو طریقہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا وہ جاہلیت ہے ) اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کی ہے ۔ اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے ۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں علم کے بغیر وہم و گمان اور خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے ۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی اور جہاں کہیں بھی انسان اختیار کرے گا اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا ۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی راہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو نظام زندگی اس جزوی علم کے ساتھ ظنون وادہام اور قیاسات و خواہشات کی آمیزش کرکے بنا لیے گئے ہیں وہ بھی اسی طرح جاہلیت کی تعریف میں آتے ہیں جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اس تعریف میں آتے تھے (تفہیم القرآن )
مولانا مودودی کی مذکورہ وضاحت سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ” جاہلیت “ محض ایک لفظ نہیں بلکہ قرآن مجید کی ایک مخصوص اصطلاح ہے اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اس میں کسی بھی معاشرے کے ، یہاں تک کہ کسی مسلم معاشرے کے بھی وہ رسم و رواج اور طور طریقے شامل ہیں جو غیر اسلامی ہیں ، خواہ وہ ANTI ISLAMIC ہوں یا UN.ISLAMIC ہوں ۔ قرآن مجید میں یہ اصلاح چار جگہ آئی ہے اور ہر جگہ جاہلیت کی کسی مخصوص جہت (DIMENSION) کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس کو سمجھ لینے سے کسی بھی معاشرے کا تجزیاتی جائزہ لینے میں بہت مدد ملتی ہے ۔
(1) سورة ال عمران کی آیت نمبر ۔ 154 میں ” ظن الجاھلیۃ “ آیا ہے یعنی جاہلیت کا گمان اور مذکورہ بالا وضاحت کے بعد اب ہم اس کا ترجمہ کرسکتے ہیں ۔ کہ غیر اسلامی گمان ۔ یہ اعتقادی گمراہی کی جہت ہے ۔ پاکستان کے مسلم معاشرے میں اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے بلی کے راستہ کاٹ جانے کو منحوس خیال کرنا یا رشتے کے بھائی بہنوں (چچا زاد ۔ ماموں زاد وغیرہ) کا ایک دوسرے سے پردہ کرنے کو دقیانوسیت سمجھنا ۔
(2) اس کے بعد سورة المائدہ کی آیت نمبر ۔ 50 میں حکم الجاھلیۃ آیا ہے یعنی جاہلیت کا فیصلہ ۔ یہ قانونی گمراہی کی جہت ہے ۔ آج کل جیسے رجم کی سزا کا انکار کرنا یا ہاتھ کاٹنے اور برسرعام کوڑے مارنے کی سزا کو وحشیانہ قرار دینا ۔
(3) اس کے بعد سورة الاحزاب کی آیت نمبر ۔ 33 میں تبرج الجاھلیۃ آیا ہے یعنی جاہلیت کا دکھاوا کرنا ۔ یہ خود کو نمایاں کرنے اور نمود ونمائش کی جہت ہے ۔ آج کل جیسے شادی بیاہ میں روشنی کا اہتمام کرنا یا بیوٹی پارلر میں بالوں ، آنکھ کی پلکوں اور بھنوؤں وغیرہ کی تراش خراش کرانا ۔
(4) اس کے بعد سورة الفتح کی آیت نمبر 26 ۔ میں حمیۃ الجاھلیۃ آیا ہے یعنی جاہلیت کی حمیت ۔ یہ غیرت اور خود داری میں گمراہی کی جہت ہے ۔ آج کل جیسے غیرت کے نام پر قتل کرنا یا بیک وقت تین طلاق دینے کو درست سمجھنا جبکہ یہ گناہ ہیں ۔
Ayah 5:47[ وَلْيَحْكُمْ؛اور چاہیے کہ فیصلہ کریں ] [ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ : انجیل والے ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ؛اتارا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ فِيْهِ ۭ: اس میں ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ لَّمْ يَحْكُمْ : فیصلہ نہیں کرتا ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:48[ وَاَنْزَلْنَآ : اور ہم نے نازل کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ کی طرف ] [ الْكِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ :: اس کے سامنے ہے ] [ مِنَ الْكِتٰبِ : کتابوں میں سے ] [ وَمُهَيْمِنًا : اور نگراں ہوتے ہوئے ] [ عَلَيْهِ : ان پر ] [ فَاحْكُمْ : پس آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَلَا تَتَّبِعْ : اور آپ پیروی مت کریں ] [ اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ عَمَّا : (ورنہ آپ گریز کریں گے ) اس سے جو ] [ جَاۗءَكَ : آیا آپ کے پاس ] [ مِنَ الْحَقِّ : حق میں سے ] [ ۭ لِكُلٍّ : سب کے لیے ] [ جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ شِرْعَةً : ایک دستور ] [ وَّمِنْهَاجًا : ایک راستہ ] [ ۭوَلَوْ : اور اگر ] [ شَاۗءَ : چاہتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَجَعَلَكُمْ : تو وہ بناتا تم کو ] [ اُمَّةً وَّاحِدَةً : ایک امت ] [ وَّلٰكِنْ : اور لیکن (اس نے فرق رکھا تم میں )] [ لِّيَبْلُوَكُمْ : تاکہ وہ آزمائے تم کو ] [ فِيْ مَآ : اس میں جو ] [ اٰتٰىكُمْ : اس نے دیا تم کو ] [ فَاسْتَبِقُوا : پس سبقت کرو ] [ الْخَيْرٰتِ ۭ: بھلائیوں میں ] [ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ہی ] [ مَرْجِعُكُمْ : تمہارے لوٹنے کی جگہ ہے ] [ جَمِيْعًا : سب کی ] [ فَيُنَبِّئُكُمْ : پھر وہ بتلائے گا تم کو ] [ بِمَا : وہ ] [ كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ : تم لوگ اختلاف کیا کرتے تھے جس میں ]
Ayah 5:49[ وَاَنِ : اور یہ کہ ] [ احْكُمْ : آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَلَا تَتَّبِعْ : اور آپ پیروی مت کریں ] [ اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ وَاحْذَرْهُمْ : اور ان سے محتاط رہیں ] [ اَنْ : کہ (کہیں ) ] [ يَّفْتِنُوْكَ : وہ لوگ پھسلادیں آپ کو ] [ عَنْۢ بَعْضِ مَآ؛اس کے بعض سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اِلَيْكَ ۭ: آپ کی طرف ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَوَلَّوْا : وہ لوگ روگردانی کریں ] [ فَاعْلَمْ : تو جان لو ] [ اَنَّمَا؛کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يُرِيْدُ : چاہتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ اَنْ؛کہ ] [ يُّصِيْبَهُمْ : وہ نشانہ بنائے ان کو ] [ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ۭ: ان کے گناہوں کے کچھ سے ] [ وَاِنَّ : اور یقینا ] [ كَثِيْرًا : بہتیرے ] [ مِّنَ النَّاسِ : لوگوں میں سے ] [ لَفٰسِقُوْنَ : تو حکم عدولی کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:50[ اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ : تو کیا جاہلیت کا فیصلہ ] [ يَبْغُوْنَ ۭ: وہ لوگ چاہتے ہیں ] [ وَمَنْ : اور کون ] [ اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [ حُكْمًا : بلحاذ فیصلہ کرنے کے ] [ لِّقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے ] [ يُّوْقِنُوْنَ : جو یقین کرتے ہیں ]