5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی

[ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْخَمْرُ : شراب ] [ وَالْمَيْسِرُ : اور جوا ] [ وَالْاَنْصَابُ : اور استھان ] [ وَالْاَزْلَامُ : اور فال کے تیر ] [ رِجْسٌ : (ہر ایک ) نجاست ہے ] [ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ : شیطان کے عمل میں سے ] [ فَاجْتَنِبُوْهُ : پس تم لوگ دور رہو اس سے (یعنی ہر ایک سے ) ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد کہ تم لوگ ] [ تُفْلِحُوْنَ : فلاح پاؤ] رج س (س۔ ک ) رجاسۃ قبیح کام کرنا ۔ رجس ۔ اسم ذات ہے ۔ گندگی ۔ نجاست ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ترکیب : الخمر سے والازلام تک چاروں مبتداء ہیں ۔ رجس ان کی خبر جمع کے بجائے واحد لا کر اسے ہر مبتدا پر عطف کیا گیا ہے یعنی اصل بات اس طرح تھی ۔ [ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ] آیت میں خبر کو جمع کے بجائے واحد لا کر ان چار جملوں کے تاکیدی مفہوم کو ایک جملے میں سمودیا گیا ہے ۔ اجتناب کے حکم میں اسی تاکیدی مفہوم کو برقرار رکھنے کے لیے ضمیر مفعولی بھی واحد آئی ہے ویصد کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ان یوقع کے ان پر عطف ہے ۔ واحذروا کا مفعول محذوف ہے ۔ اس وجہ سے اس حکم کا مفہوم وسیع ہو کر اطاعت کے پورے دائرے پر محیط ہوگیا ہے ۔ نوٹ :1 ۔ عربی میں کھانے کے لیے اکل اور پینے کے لیے شرب کے الفاظ ہیں ۔ جبکہ طعم کا اصل مفہوم ہے ” چکھنا “ اب کسی چیز کو کھا کر بھی چکھا جاسکتا ہے اور پی کر بھی ۔ اس طرح طعم میں کھانے اور پینے ، دونوں کا مفہوم شامل ہوجاتا ہے ۔ مثلا آیت نمبر ۔ 2 :249 میں یہ لفظ پینے کے مفہوم میں آیا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 93 میں یہ لفظ اپنے جامع مفہوم میں آیا ہے جس کو ہم نے ترجمے میں ظاہر کیا ہے ۔ نوٹ : 2 ۔ شراب اور جوئے کے متعلق سب سے پہلے آیت نمبر ۔ 2:219 میں بتایا جا چکا تھا کہ ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے ۔ اس کے بعد آیت نمبر ۔ 4 :43 میں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ۔ پھر زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 90 میں ان کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا ۔ اس حکم کے آنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے ۔ لہذا جس کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کردے۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جس کے پاس شراب ہے وہ نہ تو اسے پی سکتا ہے اور نہ ہی فروخت کرسکتا ہے ۔ بلکہ وہ اسے ضائع دے ۔ چناچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہادی گئی ۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دوا کے طور پر استعمال کرنے کی تو اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے ۔ آپ ﷺ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے بھی منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو ۔ (تفیہم القرآن ) اب اس کے بعد بھی کوئی دانشور اگر اس زعم میں مبتلاء ہوجائے کہ وہ قرآن کو نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ سمجھتا ہے اور دعوی کرے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا ، تو پھر کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ۔ اکثر دانشور بڑے مہذب اور انتہائی نفاست پسند ہوتے ہیں ۔ انسانی عمل کی نجاستوں کے ذکر سے بھی ان کو گھن آتی ہے ۔ فقہہ کی کتابوں میں ایسی چیزوں کے تذکرے پر یہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں ۔ اور شیطان کے عمل کی نجاستوں کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ اپنی وحشت کو دانش وری سمجھ بیٹھے ہیں کیونکہ ۔ وحشت میں ہر نقشہ الٹا نظر آتا ہے مجنوں نظرآتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے ۔
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] اَنْ [ کہ ] يُّوْقِعَ [ وہ ڈال دے ] بَيْنَكُمُ [ تمہارے درمیان ] الْعَدَاوَةَ [ عداوت ] وَالْبَغْضَاۗءَ [ اور بعض ] فِي الْخَمْرِ [ شراب سے ] وَالْمَيْسِرِ [ اور جوئے سے ] وَيَصُدَّكُمْ [ اور (یہ کہ ) وہ روکے تم کو ] عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ [ اللہ کی یاد سے ] وَعَنِ الصَّلٰوةِ [ اور نماز سے ] فَهَلْ [ تو کیا ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّنْتَهُوْنَ [ باز آنے والے ہو ]
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اللہ اور اُس کے رسول کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی

وَاَطِيْعُوا [ اور تم لوگ اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] الرَّسُوْلَ [ ان رسول کی ] وَاحْذَرُوْا [ اور محتاط رہو ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم لوگ منہ موڑتے ہو ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّمَا [ کہ کچھ نہیں مگر ] عَلٰي رَسُوْلِنَا [ ہمارے رسول پر ] الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ [ واضح طور پر پہنچانا ہے ]
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے

لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان پر جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] فِيْمَا [ اس میں جو ] طَعِمُوْٓا [ کھایا پیا ] اِذَا مَا [ جبکہ وہ ، جو ] اتَّقَوْا [ انھوں نے تقوی کیا ] وَّاٰمَنُوْا [ اور ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] ثُمَّ [ پھر ] اتَّقَوْا [ انھوں نے ( مزید) تقوی کیا ] وَّاٰمَنُوْا [ اور (مزید ) ایمان لائے (یعنی پختہ کیا ) ثُمَّ [ پھر ] اتَّقَوْا (مزید ) تقوی کیا ] وَّاَحْسَنُوْا ۭ [ اور بلاکم وکاست کام کیا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُحْسِنِيْنَ [ بلاکم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَيَبْلُوَنَّكُمُ [ لازما آزمائے گا تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِشَيْءٍ [ کسی چیز سے ] مِّنَ الصَّيْدِ [ شکار میں سے ] تَـنَالُهٗٓ [ پہنچیں گے جس کو ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھ ] وَرِمَاحُكُمْ [ اور تمہارے نیزے ] لِيَعْلَمَ [ تاکہ جان لے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَنْ [ کون ] يَّخَافُهٗ [ ڈرتا ہے اس سے ] بِالْغَيْبِ ۚ [ بن دیکھے ] فَمَنِ [ پھر جو ] اعْتَدٰي [ زیادتی کرے گا ] بَعْدَ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] فَلَهٗ [ تو اس کے لیے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ہے ] رم ح : (ف) ۔ رمحا ۔ نیزہ مارنا ۔ رمح ۔ ج ۔ رماح ۔ اسم ذات ہے ۔ نیزہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ترکیب : تنال مضارع کا واحد مؤنث کا صیغہ ہے اور اس کی ضمیر مفعولی الصید کے لیے ہے ، جبکہ ایدیکم اور رماحکم اس کے فاعل ہیں ۔ فجزاء مبتداء نکرہ ہے اس کی خبر واجب محذوف ہے ۔ من النعم کا من بیانیہ ہے اور یہ ماقتل کا نہیں بلکہ جزاء کا بیان یعنی وضاحت ہے ۔ من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ تب جزاء کی وضاھت یحکم بہ ہوگی ۔ یحکم کا فاعل ذواعدل ہے ۔ ھدیا حال ہے ۔ بلغ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ بھی حال ہے ۔ کفارۃ مبتداء نکرہ ہے ۔ اس کی بھی خبر محذوف ہے اور طعام مسکین مبتداء کی وضاحت ہے ۔ اسی طرح عدل ذلک مبتداء کی خبر محذوف ہے جبکہ صیاما مبتداء کی تمیز ہے ۔
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اِس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یااس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے پہلے جو ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَقْتُلُوا [ تم لوگ قتل مت کرو ] الصَّيْدَ [ شکار کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] حُرُمٌ ۭ [ احرام میں ہو ] وَمَنْ [ اور جو ] قَتَلَهٗ [ قتل کرے گا اس کو ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] مُّتَعَمِّدًا [ جانتے بوجھتے ہوئے ] فَجَــزَاۗءٌ [ تو بدلہ (واجب ) ہے ] مِّثْلُ مَا [ اس کے جیسا جو ] قَتَلَ [ اس نے قتل کیا ] مِنَ النَّعَمِ [ مویشی میں سے ] يَحْكُمُ [ فیصلہ کریں ] بِهٖ [ جس کا ] ذَوَا عَدْلٍ [ دوانصاف والے ] مِّنْكُمْ [ تم سے ] هَدْيًۢا [ ہدیہ ہوتے ہوئے ] بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ [ کعبہ کو پہنچنے والا ہوتے ہوئے ] اَوْ [ یا ] كَفَّارَةٌ [ کفارہ (واجب ) ہے ] طَعَامُ مَسٰكِيْنَ [ مسکینوں کا کھانا ] اَوْ [ یا ] عَدْلُ ذٰلِكَ [ اس کے برابر ] صِيَامًا [ روزہ رکھنا ہے ] لِّيَذُوْقَ [ تاکہ وہ چکھے ] وَبَالَ اَمْرِهٖ ۭ [ اپنے کام کا وبال ] عَفَا [ درگزر گیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَمَّا [ اس سے جو ] سَلَفَ ۭ [ پہلے گزرا ] وَمَنْ [ اور جو ] عَادَ [ دوبارہ کرے گا ] فَيَنْتَقِمُ [ تو انتقام لے گا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْهُ ۭ [ اس سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ] ذُو انْتِقَامٍ [ انتقام والا ہے ]
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا، جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زاد راہ بھی بناسکتے ہو البتہ خشکی کا شکار جب تک احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے پس بچو اُس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا

اُحِلَّ [ حلال کیا گیا ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] [ صَيْدُ الْبَحْرِ ] [ سمندر کا شکار ] [ وَطَعَامُهٗ ] [ اور اس کا کھانا ] مَتَاعًا لَّكُمْ [ فائدہ مند ہے تمہارے لیے ] [ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ [ اور قافلے والوں کے لیے ] وَحُرِّمَ [ اور حرام کیا گیا ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] صَيْدُ الْبَرِّ [ خشکی کا شکار ] مَا دُمْتُمْ [ جب تک تم لوگ رہو ] حُرُمًا ۭ [ احرام میں ] وَاتَّقُوا [ اور تقوی کرو ] اللّٰهَ الَّذِيْٓ [ اس اللہ کا ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ] تُحْشَرُوْنَ [ تم لوگ جمع کیے جاؤگے ]
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے مکان محترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنا دیا) تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں او ر زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے

جَعَلَ [ بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الْكَعْبَةَ [ کعبہ کو ] الْبَيْتَ الْحَرَامَ [ جو یہ محترم گھر ہے ] قِــيٰمًا [ کھڑے ہونے کا ذریعہ (معیشت میں ) ] لِّلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ [ اور محترم مہینوں کو (بھی ) ] وَالْهَدْيَ [ اور قربانی کے جانوروں کو (بھی ) ] وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭ [ اور پٹوں (والوں ) کو (بھی )] ذٰلِكَ [ یہ ] لِتَعْلَمُوْٓا [ اس لیے کہ تم لوگ جان لو ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] ترکیب : جعل کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس کو بنایا اور کیا بنایا ۔ یہاں جعل کا مفعول اول الکعبۃ ہے ۔ لیکن البیت الحرام مفعول ثانی نہیں ہے بلکہ یہ الکعبۃ کا بدل ہے اور مفعول ثانی قیما ہے ۔ الشھر الحرام ، الھدی اور القلائد، یہ سب بھی جعل کے مفعول اول ہیں اور ان پر لام جنس ہے جبکہ ان کا مفعول ثانی بھی قیما ہے ۔ یستوی کا فاعل ہونے کی وجہ سے الخبیث اور الطیب حالت رفع میں آئے ہیں اور اعجب کا فاعل کثرۃ ہے۔ نوٹ : 1 ۔ کسی اصول یا چیز کے معقول اور پسندیدہ ہونے کی دلیل کے طور پر اکثر سننے میں آتا ہے کہ ” یہ تو ساری دنیا مانتی ہے “ ۔” یہ بات تو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے “ ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 100 میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اعلان کردیجئے کہ کسی چیز کا رواج پاجانا اس کے معقول اور پسندیدہ ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ یہ ایک غلط معیار ہے جو انسانوں نے اختیار کرلیا ہے ۔ جو انسان تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ رکھتا ہے اسے سوچنا چاہیے کہ ہندوستان کے سارے ہندو گائے کے پیشاب کو کتنا بھی پوتر پاکیزہ قرار دے لیں ، پھر بھی اس کے پیشاب کی نجاست میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ۔ اسے سوچنا چاہیے کہ اگر گائے کا پیشاب واقعی اتنا ہی پاکیزہ ہے تو پھر اس کے گوبر سے پرہیز کیوں ؟ جس طرح وہ گائے کے پیشاب کو اپنے سر اور چہرے پر ملتے ہیں اسی طرح اس کا گوبر بھی مل لیا کریں ۔ بالکل اسی طرح سے جوا ، شراب ، سود اور اس قبیل کی باقی چیزیں خواہ کتنا بھی رواج پاجائیں ، پھر بھی ان کی خباثت اپنی جگہ برقرار رہے گی ۔
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

خبردار ہو جاؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے

اِعْلَمُوْٓا [ تم لوگ جان لو ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ گرفت کا سخت ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ [ غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 5:99

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے

مَا [ نہیں ہے ] عَلَي الرَّسُوْلِ [ ان رسول پر ] اِلَّا [ مگر ] الْبَلٰغُ ۭ [ پہنچانا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُبْدُوْنَ [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تَكْتُمُوْنَ [ تم لوگ چھپاتے ہو ]
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

اے پیغمبرؐ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہر حال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتا ت تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّا يَسْتَوِي [ برابر نہیں ہوتیں ] الْخَبِيْثُ [ ناپاک ] وَالطَّيِّبُ [ اور پاکیزہ (چیزیں )] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] اَعْجَبَكَ [ بھلی لگے تجھ کو ] كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ [ ناپاک کی کثرت ] فَاتَّقُوا [ تو تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ [ اے ہوشمندو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد کہ تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ فلاح پاؤ]
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، وہ درگزر کرنے والا اور برد بار ہے

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَسْــــَٔـلُوْا [ تم لوگ مت پوچھو ] عَنْ اَشْيَاۗءَ [ ایسی چیزوں کے بارے میں ] اِنْ [ کہ اگر ] تُبْدَ [ وہ ظاہر کردی جائیں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] تَسُؤْكُمْ ۚ [ تو وہ بری لگے تم کو ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَسْــــَٔـلُوْا [ تم لوگ پوچھو گے ] عَنْهَا [ ان کے بارے میں [ حِيْنَ اس وقت کہ ] يُنَزَّلُ [ اتارا جاتا ہے ] الْقُرْاٰنُ [ قرآن ] تُبْدَ [ تو وہ ظاہر کردی جائیں گی ] لَكُمْ ۭ [ تمہارے لیے ] عَفَا [ درگزر کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْهَا ۭ [ اس سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] حَلِيْمٌ [ بردبار ہے ] س ی ب :ـ(ض) سیبا ۔ پانی کا ادھر ادھر بہنا ۔ مویشی کا آزاد پھرنا ۔ سائبۃ ۔ اسم الفاعل ہے ۔ آزاد پھرنے والی ۔ اصطلاح ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے مقدس قرار دے کر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ح م ی ۔ (ض) ۔ حمیا کسی چیز کو کسی سے روکنا ۔ بچانا ۔ حمایت کرنا ۔ حام ۔ اسم الفاعل ہے ۔ بچانے والا ۔ اصطلاحا ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جیسے مقدس قرار دے کر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (س) ۔ حمیا ۔ کسی چیز کا بہت تیز گرم ہوجانا۔ حامیۃ ۔ اسم الفاعل ہے ۔ گرم ہونے والی ۔ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً [ وہ گریں گے ایک جلنے والی یعنی دہکتی ہوئی آگ میں ] ۔ 88:4 ۔ حمیۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ جذبات کی گرمی کا ابال ۔ جوش ۔ نخوت ۔ اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ [ اور جب رکھا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا ، اپنے دلوں میں نخوت ] ۔ 48:26 ۔ (افعال ) احماء ۔ کسی چیز کو خوب گرم کرنا ۔ تپانا ۔ يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ [ جس دن تپایا جائے گا اس کو جہنم کی آگ میں ] ۔ 9:35 ۔ ترکیب : شیء کی جمع اشیاء غیر منصرف آتی ہے یہاں اشیاء حالت جر میں ہے اور نکرہ موصوفہ ہے ۔ آگے جملہ شرطیہ ان تبدلکم تسوکم اس کی صفت ہے ۔ تبد دراصل باب افعال کے مضارع مجہول میں مؤنث کا صیغہ تبدی ہے اور ان کی وجہ سے اس کی ” ی “ گری ہوئی ہے ، جبکہ تسؤ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم آیا ہے ۔ سائبۃ وصیلۃ اور حام ، یہ سب من بحیرۃ کی من پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہوئے ہیں اور یہ من تبعیضیہ ہے ۔ لایضر کا فاعل من ہے ۔ نوٹ :1 نبی کریم ﷺ خود بھی لوگوں کو کثرت سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہتے تھے۔ ایسی ہی ایک حدیث میں ہے ” اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں ، انھیں ضائع نہ کرو ، کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ، ان کے پاس نہ پھٹکو ۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو ، اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے، بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو ، لہذا ان کی کھوج نہ لگاؤ “ اب جو شخص مجمل کو مفصل اور غیر معین کو معین کرتا ہے ، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے ۔ (تفیہم القرآن ) سلسلہ وحی منقطع ہونے کے بعد بھی سوالات گھڑ گھڑ کر ان کی تحقیقات میں پڑنا یا بےضرورت چیزوں کے متعلق سوالات کرنا مذموم ہی رہے گا ، کیونکہ اس میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہے ۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان ہونے کی ایک خوبی یہ ہے کہ آدمی فضول باتوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے مسلمان جو فضول چیزوں کی تحقیق میں لگے رہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا کیا نام تھا اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا طول وعرض کیا تھا ، جن کا کوئی اثر انسان کے عمل پر نہیں پڑتا ، ایسے سوالات کرنا مذموم ہے جبکہ ایسے سوالات کرنے والے اکثر حضرات دین کے ضروری اور اہم مسائل سے بیخبر ہوتے ہیں ۔ (معارف القرآن ) نوٹ : 2 ۔ آغاز اسلام سے قبل یہ رواج عام تھا کہ مختلف طریقوں سے مویشیوں کو مقدس قرار دے کر آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا ، نہ اس کا دودھ پیا جاتا ، نہ اسے ذبح کیا جاتا نہ اس کا اون اتارا جاتا، اسے حق ہوتا کہ جس کھیت اور چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیئے ، ایسے مویشیوں کے مختلف نام تھے ۔ تقدس کی علامت کے طور پر جس اونٹنی کے کان چیر کر آزاد کرتے اسے بحیرہ کہتے ۔ کوئی منت پوری ہونے پر شکرانے کے طور پر جس اونٹ یا اونٹنی کو آزاد کرتے اسے سائبہ کہتے ۔ کوئی بکری اگر پہلی بار ایک نر اور ایک مادہ ، جڑواں بچے دیتی تو نر بچے کو آزاد چھوڑ دیتے ۔ اسے وصیلہ کہتے ، جس اونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہوجاتا ۔ اسے بھی آزاد چھوڑ دیتے ۔ اسے حام کہتے ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ : 3 زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 104 میں دوسروں کی غلطی ظاہر کرنے کا ایک موثر طریقہ بتلایا گیا ہے جس سے مخاطب کی دل آزاری نہ ہو ۔ یوں نہیں فرمایا کہ تمہارے باپ دادا جاہل اور گمراہ تھے بلکہ ایک سوال پر سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ کیا باپ دادا کی پیروی اس حالت میں بھی معقول بات ہوگی جبکہ باپ دادا نہ علم رکھتے ہوں یہ عمل ۔ پھر اگلی آیت میں دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنے والوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جب تم نے حق کی تبلیغ اور تعلیم کی مقدور بھر کوشش کرلی اور اس کے بعد بھی کوئی گمراہی پر جما رہے ۔ تو تم اس کی فکر میں نہ پڑو۔ اس حالت میں دوسروں کی گمراہی سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ (معارف القرآن)
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے

قَدْ سَاَلَهَا [ پوچھ چکی ہے ان کو ] قَوْمٌ [ ایک قوم ] مِّنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے ] ثُمَّ [ پھر ] اَصْبَحُوْا [ وہ لوگ ہوگئے ] بِهَا [ اس کا ] كٰفِرِيْنَ [ انکار کرنے والے ]
Ayah 5:103

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں)

مَا جَعَلَ [ نہیں بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْۢ بَحِيْرَةٍ [ کسی قسم کا کوئی بحیرہ ] وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ [ اور نہ کسی قسم کا کوئی سائبہ ] وَّلَا وَصِيْلَةٍ [ اور نہ کسی قسم کا کوئی وصیلہ ] وَّلَا حَامٍ ۙ [ اور نہ ہی کوئی حامی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن (یعنی بلکہ )] الَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر وا ] انکار کیا ] يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ ۭ [ جھوٹ ] وَاَكْثَرُهُمْ [ اور ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبرؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟

وَاِذَا [ اور جب بھی ] قِيْلَ [ کہا جاتا ہے ] لَهُمْ [ ان سے ] تَعَالَوْا [ کہ تم لوگ آؤ ] اِلٰى مَآ [ اس کی طرف جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَاِلَى الرَّسُوْلِ [ اور ان رسول کی طرف ] قَالُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] حَسْبُنَا [ کافی ہے ہم کو ] مَا [ وہ ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اٰبَاۗءَنَا ۭ [ اپنے آباؤاجداد کو ] اَوَ [ تو کیا ] لَوْ [ اگر ] كَانَ [ تھے ] اٰبَاۗؤُهُمْ [ ان کے آباؤاجداد ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ کہ نہیں جانتے تھے ] شَـيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلَا يَهْتَدُوْنَ [ اور نہ ہدایت پاتے تھے ]
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر (ذمہ داری ) ہے ] اَنْفُسَكُمْ ۚ [ اپنے نفوس کی ] لَا يَضُرُّكُمْ [ نقصان نہیں دے گا تم کو ] مَّنْ [ وہ ، جو [ ضَلَّ [ گمراہ ہوا ] اِذَا [ جبکہ ] اهْتَدَيْتُمْ [ تم ہدایت پر ہو ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تم کو لوٹنا ہے ] جَمِيْعًا [ سب کو ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ پھر وہ آگاہ کردے گا تم کو ] بِمَا [ اس سے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]
Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائں پھر اگر کوئی شک پڑ جائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو (مسجد میں) روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ "ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں) اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے یسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے"

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ] [ گواہ ہونا تم میں سے دو آدمیوں کا ] [ اِذَا [ جب کبھی ] حَضَرَ [ سامنے آئے ] اَحَدَكُمُ [ تمہارے کسی ایک کے ] الْمَوْتُ [ موت ] حِيْنَ الْوَصِيَّةِ [ تو وصیت کے وقت ] اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ [ دو عدل والے ہیں ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَوْ [ یا ] اٰخَرٰنِ [ دوسرے دو ہیں ] مِنْ غَيْرِكُمْ [ تمہارے غیر میں سے ] اِنْ [ اگر ] اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ [ تم لوگ سفر کرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَاَصَابَتْكُمْ [ پھر آن پہنچے تم کو ] مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ [ موت کی مصیبت ] تَحْبِسُوْنَهُمَا [ تم لوگ روکے رکھوگے دونوں کو ] مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ [ نماز کے بعد سے ] فَيُقْسِمٰنِ [ پھر وہ دونوں قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] اِنِ ارْتَبْتُمْ [ اگر تمہیں شبہ ہو ] لَا نَشْتَرِيْ [ (کہ ) ہم نہیں خریدتے ] بِهٖ [ اس سے ] ثَـمَنًا [ کوئی قیمت ] وَّلَوْ [ اور اگر ] كَانَ [ وہ ہو ] ذَا قُرْبٰى ۙ [ قرابت والا ] وَلَا نَكْتُمُ [ اور ہم نہیں چھپاتے ] شَهَادَةَ ۙاللّٰهِ [ اللہ کی گواہی کو ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِذًا [ پھر تو ] لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ [ ضرور گناہ کرنے والوں میں سے ہیں ح ب س : (ض) ۔ حبسا ۔ کسی کو اٹھنے یا نکلنے سے روکے رکھنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ع ث ر : ۔ (ن) ۔ عثارا پھسل جانا ۔ بلا ارادہ کسی بات پر مطلع ہونا (لازم ہے ۔ علی کے صلہ کے ساتھ متعدی ہوجاتا ہے ) آیت زیر مطالعہ ۔ (افعال ) اعثارا۔ کسی کو کسی بات پر مطلع کرنا ۔ وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ [ اس طرح ہم نے اطلاع کردی ان کی ] 18:21 ۔ ترکیب : شہادۃ مضاف ہے ۔ بین اس کا مضاف الیہ ہے ۔ اور کم کا مضاف بھی ۔ یہ فقرہ مبتدا ہے ۔ اس کی خبر اثنن ذوا عدل ہے ۔ اس لیے اثنن حالت رفع میں آیا ہے ۔ درمیان میں جملہ معترضہ ہے ۔ اس میں حضر کا فاعل الموت ہے اور اس کا مفعول احدکم ہے ۔ اذا کی شرط حضر کم احدکم الموت ہے اور حین الوصیۃ جواب شرط ہے ۔ ان ارتبتم کا تعلق تحبسون سے ہے جبکہ لا نشتری کا تعلق یقسمن سے ہے ۔ اولین صفت ہے فاخرن کی ۔ نوٹ : 1 ۔ یہ آیت اس وقت اتری جبکہ ایک آدمی مرگیا اور اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ شروع اسلام کا زمانہ تھا ۔ سب شہر دارالحرب تھے ۔ لوگ کافر تھے ۔ وراثت کا کوئی قانون نہ تھا ۔ بطور وصیت تقسیم ہوتی تھی ۔ پھر وصیت منسوخ ہوگئی ، اور وراثت فرض ہوگئی اور لوگ قانون وراثت پر عمل کرنے لگے ۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ "ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے اپنے گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے"

فَاِنْ [ پھر اگر ] عُثِرَ [ مطلع کیا جائے ] عَلٰٓي [ اس پر ] اَنَّهُمَا [ کہ وہ دونوں ] اسْتَحَقَّآ [ مستحق ہوئے ] اِثْمًا [ گناہ کے ] فَاٰخَرٰنِ [ تو دوسرے دو [ يَقُوْمٰنِ [ کھڑے ہوں گے ] مَقَامَهُمَا [ ان دونوں کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے جو ] اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ [ حقدار ہوا ان پر (یعنی جس کا حق دبایا گیا )] الْاَوْلَيٰنِ [ زیادہ قریبی (میت کے )] فَيُقْسِمٰنِ [ پھر وہ دونوں قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَشَهَادَتُنَآ [ یقینا ہماری گواہی ] اَحَقُّ [ زیادہ برحق ہے ] مِنْ شَهَادَتِهِمَا [ ان دونوں کی گواہی سے ] وَمَا اعْتَدَيْنَآ [ اور ہم نے زیادتی نہیں کی ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِذًا [ پھر تو ] لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ضرور ظلم کرنے والوں میں سے ہیں ]
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد ددسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے

ذٰلِكَ [ یہ ] اَدْنٰٓي [ زیادہ نزدیکی ہے ] اَنْ [ کہ ] يَّاْتُوْا [ لوگ لائیں ] بِالشَّهَادَةِ [ گواہی کو ] عَلٰي وَجْهِهَآ [ اس کے چہرے پر (یعنی ٹھیک ٹھیک ) ] اَوْ [ یا ] يَخَافُوْٓا [ لوگ ڈریں ] اَنْ [ کہ ] تُرَدَّ [ رد کیا جائے ] اَيْمَانٌۢ [ (ہماری ) قسموں کو ] بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ ۭ [ ان کی قسموں کے بعد ] وَاتَّقُوا [ اور تم تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاسْمَعُوْا ۭ [ اور سنو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] [ الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والی قوم کو ]
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کر کے پو چھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ہے، تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں، آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں

يَوْمَ [ جس دن ] يَجْمَعُ [ جمع کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] الرُّسُلَ [ تمام رسولوں کو ] فَيَقُوْلُ [ پھر وہ کہے گا ] مَاذَآ [ کیا ] اُجِبْتُمْ ۭ [ جواب دیا گیا تم لوگوں کو ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] لَا عِلْمَ لَنَا [ کسی قسم کا کوئی علم نہیں ہے ہمیں ] اِنَّكَ اَنْتَ [ بیشک تو ہی ] عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [ تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے ] ح و رــ: (ن ) ۔ حورا ۔ گھومنا ، واپس ہونا ۔ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ [ بیشک اس نے گمان کیا کہ وہ ہرگز واپس نہیں ہوگا ] 84:14 ۔ (س) ۔ حورآنکھ کی سیاہی اور سفیدی کا بہت نمایاں ہونا ، آنکھ کا خوبصورت ہونا۔ احور مؤنث حوراء ، ج، حور ، افعل الوان وعیوب ہے ۔ خوبصورت آنکھ والا ۔ وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ [ اور ہم نے جوڑے بنادیئے ان کے خوبصورت آنکھوں والوں : والیوں سے ] 44:54 ۔ (مفاعلہ ) محاورۃ ۔ بات کو واپس کرنا یعنی ۔ (1) جواب دینا (2) نصیحت کرنا ۔ قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ [ کہا اس سے اس کے ساتھی نے اس حال میں کہ وہ نصیحت کرتا تھا اس کو ] 18:37 ۔ حواری ۔ اسم نسبت ہے ، نصیحت والا ، مدد گار ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (تفاعل ) تحاورا ۔ باہم ایک دوسرے کی بات کا جواب دینا ۔ گفتگو کرنا ۔ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا [ اور اللہ سنتا ہے تم دونوں کی باہمی گفتگو ] 58:1 ۔ ترکیب : لاعلم پر لائے نفی جنس ہے اور الغیوب پر لام جنس ہے، اذ قال اللہ کا جملہ اذ سے شروع ہو رہا ہے ۔ اس لئے اس جملہ میں جتنے مضارع آئے ہیں ان سب کا ترجمہ ماضی میں ہوگا ۔ [ 2:11 ۔ 12 نوٹ۔ 1 دیکھیں ] کھلا حال ہے ۔ واشھد کے مخاطب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ اس کا مخاطب خود ذات باری تعالیٰ بھی ہوسکتی ہے ۔ نوٹ : 1 ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رسولوں سے پوچھے گا کہ تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا گیا تھا ، تو وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ، غیب کا علم تو صرف آپ کو ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہر رسول کی امت کے وہ لوگ جو ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ، ان کے بارے میں تو یہ جواب صحیح ہے، لیکن وہ لوگ جو انہی کے ہاتھ پر ایمان لائے اور ان کے احکام کی پیروی کی ان کے سامنے کرتے رہے ، ان کے بارے میں یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا ، اس بات کو سمجھ لیں ۔ ایک انسان کسی دوسرے انسان کے سامنے ہونے کے باوجود اس کے ایمان وعمل کی گواہی اگر دے سکتا ہے تو غلبہ گمان کے اعتبار سے دے سکتا ہے ، ورنہ دلوں میں نیت اور حقیقی یعنی قلبی ایمان کسی کو وحی الہی کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتے ، اور ہر امت میں منافقین کے گروہ رہے ہیں ، جو شخص اپنے اپ کو مسلمان کہے اور احکام خداوندی کی پیروی کرے، انبیاء کرام اور ان کی امتیں ان کو دنیا میں مومن کہنے پر مجبور ہیں ، خواہ وہ دل میں مومن مخلص ہو یا منافق ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہم ظاہر پر حکم جاری کرتے ہیں مخفی رازوں کا متولی اللہ ہے ‘ اسی ضابطہ کے تحت دنیا میں تو انبیاء اکرام اور ان کے خلفاء اور علماء ظاہر پر حسن ظن کے مطابق کسی کے مومن ہونے کی گواہی دے سکتے تھے، لیکن آج وہ دنیا ختم ہوچکی ہے جس کا مدار ظن و گمان پر تھا ، یہ میدان حشر ہے جہاں حقائق کا آشکارا کیا جائے گا ۔ اس لئے رسولوں کا یہ جواب صحیح ہے کہ ہمیں حقیقت کا کوئی علم نہیں ہے ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ) نوٹ : 2 ۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر پھانسی دی گئی تھی ۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے ۔ اس لئے قرآن اس کی تردید کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے متعلق عیسائیوں کا جو عقیدہ ہے ، وہ مطابق واقعہ ہے ۔ اس لئے قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے ۔ لیکن ان معجزات کو دلیل بنا کر کچھ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت کا حامل اور کچھ عیسائی ان کو الوہیت میں شریک قرار دیتے ہیں ، یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ اس لئے قرآن اس کی بھی تردید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ وہ یہ معجزات اللہ تعالیٰ کی اجازت سے دکھاتے تھے ۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

پھر تصور کرو اس موقع کا جب اللہ فرمائے گا کہ "اے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی، میں نے روح پاک سے تیری مدد کی، تو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تو میرے حکم سے مٹی کا پتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا، تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا، پھر جب تو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکر حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادو گری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا

اِذْ [ جب ] قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اے عیسیٰ ابن مریم ] اذْكُرْ [ آپ یاد کریں ] نِعْمَتِيْ [ میری نعمت کو ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] وَعَلٰي وَالِدَتِكَ ۘ [ اور آپ کی والدہ پر ] اِذْ [ جب ] اَيَّدْتُّكَ [ میں تقویت دی آپ کو ] بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ [ روح القدس ] تُكَلِّمُ [ آپ کلام کرتے تھے ] النَّاسَ [ لوگوں سے ] فِي الْمَهْدِ [ گہوارے میں ] وَكَهْلًا ۚ [ اور ادھیڑ عمری کی حالت میں ] وَاِذْ [ اور جب ] عَلَّمْتُكَ [ میں نے علم دیا آپ کو [ الْكِتٰبَ [ کتاب کا ] وَالْحِكْمَةَ [ اور حکمت کا ] وَالتَّوْرٰىةَ [ اور تورات کا ] وَالْاِنْجِيْلَ ۚ [ اور انجیل کا ] وَاِذْ [ اور جب ] تَخْلُقُ [ آپ بناتے تھے ] مِنَ الطِّيْنِ [ گارے سے ] كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ [ پرندوں کی شکل جیسا ] بِاِذْنِيْ [ میری اجازت سے ] فَتَنْفُخُ [ پھر آپ پھونکتے تھے ] فِيْهَا [ اس میں ] فَتَكُوْنُ [ تو وہ ہوجاتا تھا ] طَيْرًۢا [ اڑنے والا ] بِاِذْنِيْ [ میری اجازت سے ] وَتُبْرِئُ [ اور آپ شفاء دیتے تھے ] الْاَكْـمَهَ [ پیدائشی اندھے کو ] وَالْاَبْرَصَ [ اور کوڑھی کو ] بِاِذْنِيْ ۚ [ میری اجازت سے ] وَاِذْ [ اور جب ] تُخْرِجُ [ آپ نکالتے تھے ] الْمَوْتٰى [ مردہ کو ] بِاِذْنِيْ ۚ [ میری اجازت سے ] وَاِذْ [ اور جب ] كَفَفْتُ [ میں نے روکا ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] عَنْكَ [ آپ سے ] اِذْ [ اور جب ] جِئْتَهُمْ [ آپ لائے ان کے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیان )] فَقَالَ [ تو کہا ] [ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ] [ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] اِنْ [ نہیں ہے ] هٰذَآ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] سِحْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا جادو ]
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب اُنہوں نے کہا کہ "ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں"

وَاِذْ [ اور جب ] اَوْحَيْتُ [ میں پوشیدہ پیغام بھیجا [ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ [ حواریوں کی طرف ] اَنْ [ کہ ] اٰمِنُوْا [ تم لوگ ! ایمان لاؤ ] بِيْ [ مجھ پر ] وَبِرَسُوْلِيْ ۚ [ اور میرے رسول پر ] قَالُوْٓا [ تو انہوں نے کہا ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] وَاشْهَدْ [ اور آپ گواہ رہیں ] بِاَنَّنَا [ اس پر کہ ہم ] مُسْلِمُوْنَ [ فرمابرداری کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(حواریوں کے سلسلہ میں) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے؟ تو عیسیٰؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو

اِذْ [ جب ] قَالَ [ کہا ] الْحَوَارِيُّوْنَ [ حواریوں نے ] يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اے عیسیٰ ابن مریم ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَطِيْعُ [ قدرت رکھتا ہے ] رَبُّكَ [ آپ کا رب ] اَنْ [ کہ ] يُّنَزِّلَ [ وہ اتارے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مَاۗىِٕدَةً [ ایک چنا ہوا دسترخوان ] مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ [ آسمان سے ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] اتَّقُوا اللّٰهَ [ اللہ کا خوف کرو ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ مومن ] م ی د (ض) ۔ میدا ۔ ہلنا ، لرزنا ۔ وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ [ اور اس نے ڈالے زمین میں کچھ لنگر یعنی پہاڑ کہ کہیں وہ نہ لرزے تم کو لے کر ] 16: 15 ۔ مائدۃ ۔ اسم الفاعل مائد کا مؤنث ہے ۔ لرزنے والی ۔ پھر کھانا چنے ہوئے دسترخوان کے لئے آتا ہے کیونکہ اس میں چنی ہوئی خوراک مہمانوں کے درمیان ہلتی رہتی ہے ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ترکیب : ان پر عطف ہونے کی وجہ سے تطمئن ، نعلم اور نکون حالت نصب میں آئے ہیں ۔ تکون واحد مؤنث کا صیغہ ہے ۔ اس کا اسم میں شاملھی کی ضمیر ہے جو مائدۃ کے لئے ہے ، جبکہ عیدا اور آیۃ اس کی خبریں ہیں ۔ عذابا نکرہ مخصوصہ ہے۔ نوٹ : 1 ۔ مائدہ کے جس واقعہ کا ان آیات میں ذکر ہے اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جن شاگردوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست تعلیم حاصل کی تھی ، وہ ان کو ایک انسان اور اللہ کا بندہ سمجھتے تھے، اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدایا شریک خدایا فرزند خدا ہونے کا تصور نہیں تھا ۔ نیز یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندہ بےاختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں

قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] نُرِيْدُ [ ہم چاہتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] نَّاْكُلَ [ ہم کھائیں ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَتَطْمَىِٕنَّ [ اور مطمئن ہوں ] قُلُوْبُنَا [ ہمارے دل ] وَنَعْلَمَ [ اور ہم جان لیں ] اَنْ [ کہ ] قَدْ صَدَقْتَنَا [ آپ نے سچ کہا ہے ہم سے ] وَنَكُوْنَ [ اور ہم ہوجائیں ] عَلَيْهَا [ اس پر ] مِنَ الشّٰهِدِيْنَ [ گواہی دینے والوں میں سے ]
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

اس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی "خدایا! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے"

قَالَ [ کہا ] عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ [ عیسیٰ ابن مریم نے ] اللّٰهُمَّ [ اے اللہ ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اَنْزِلْ [ تواتار ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مَاۗىِٕدَةً [ ایک چنا ہوا دسترخوان ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] تَكُوْنُ [ وہ ہوجائے گا ] لَنَا [ ہمارے لیے ] عِيْدًا [ خوشی کا دن ] لِّاَوَّلِنَا [ ہمارے پہلوں کے لئے ] وَاٰخِرِنَا [ اور ہمارے پچھلوں کے لئے ] وَاٰيَةً [ اور ایک نشانی ] مِّنْكَ ۚ [ تیری طرف سے ] وَارْزُقْنَا [ اور تو عطا کر ہم کو ] وَاَنْتَ [ اور تو ] خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ [ سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے ]
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے جواب دیا "میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہو ں، مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی"

قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اِنِّىْ [ کہ میں ] مُنَزِّلُهَا [ اتارنے والا ہوں اس کو ] عَلَيْكُمْ ۚ [ تم لوگوں پر ] فَمَنْ [ پھر جو ] يَّكْفُرْ [ ناشکری کرے گا ] بَعْدُ [ بعد میں ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] فَاِنِّىْٓ [ تو یقینا میں ] اُعَذِّبُهٗ [ عذاب دوں گا اس کو ] عَذَابًا [ ایک ایسا عذاب ] لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ [ (کہ ) میں عذاب نہیں دونگا ویسا ] اَحَدًا [ کسی ایک کو (بھی ) ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام عالموں میں سے ]
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ "اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟" تو وہ جواب میں عرض کرے گا کہ "سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی، تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں

وَاِذْ [ اور جب ] قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اللہ نے اے عیسیٰ ابن مریم ] ءَ [ کیا ] اَنْتَ [ آپ نے ] قُلْتَ [ کہا تھا ] لِلنَّاسِ [ لوگوں سے ] اتَّخِذُوْنِيْ [ تم لوگ بنا لو مجھ کو ] وَاُمِّيَ [ اور میری والدہ کو ] اِلٰــهَيْنِ [ دوالہ ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] سُبْحٰنَكَ [ تیری پاکیزگی ہے ] مَا يَكُوْنُ [ نہیں تھا ] لِيْٓ [ میرے لئے ] اَنْ [ کہ ] اَقُوْلَ [ میں کہوں ] مَا [ اس کو ] لَيْسَ [ نہیں ہے جس کا ] لِيْ ۤ [ مجھے ] بِحَقٍّ ڲ [ کوئی حق ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُ قُلْتُهٗ [ میں نے کہا ہوتا اسے ] فَقَدْ [ تو یقینا ] عَلِمْتَهٗ ۭ [ تو نے جان لیا ہوتا اس کو ] تَعْلَمُ [ تو جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِيْ نَفْسِيْ [ میرے جی میں ہے ] وَلَآ اَعْلَمُ [ اور میں نہیں جانتا ] مَا [ اس کو جو ] فِيْ نَفْسِكَ ۭ [ تیرے جی میں ہے ] ااِنَّكَ اَنْتَ [ بیشک تو ہی ] عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [ تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے ] ترکیب : ان اقول کا مفعول ما ہے ۔ لیس کا اسم اس میں ھو کی ضمیر ہے جو ما عائد بھی ہے اور بحق اس کی خبر ہے ۔ یوم مضاف ہے اور آگے کا پورا جملہ ینفع الصدقین صدقہم اس کا مضاف الیہ ہے ۔ ان ترکیب کا اردو میں ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے یوم کا ترجمہ ھذا کی خبر کے لحاظ سے کیا جائے گا ۔ نوٹ :1 ۔ عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں بلکہ بی بی مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا ۔ بی بی مریم کی الوہیت یا قد وسیت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائبل میں موجود نہیں ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی ۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ بی بی مریم کے لئے ام اللہ ۔ یعنی مادر خدا کے الفاظ استعمال کئے ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ الوہیت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا ۔ ابتداء میں چرچ اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اور مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا ۔ پھر 431 ء میں منعقد ہونے والی کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں بی بی مریم کے لئے مادر خدا کا لقب استعمال کیا گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا ، وہ کلیسا کے اندر بھی پھیلنے لگا ۔ حتی کہ نزول قرآن کے زمانے تک ان کے مجسمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ : ۔ جنگ بدر کے بعد جنگی قیدیوں کے متعلق جب مشاورت ہوئی تو ایک طرف حضرت عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان کو قتل کیا جائے ۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر ؓ کی رائے تھی کہ ان کو فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ شاید بعد میں ان میں سے کوئی ایمان لے آئے ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے ایک تقریر کی تھی جس میں آپ نے فرمایا کہ انسان مختلف طبیعت اور مزاج کے ہوتے ہیں ۔ انبیاء میں بھی کچھ سخت مزاج اور کچھ نرم مزاج تھے ۔ سخت مزاج انبیاء میں آپ ﷺ نے حضرت نوح اور حضرت موسیٰ کی مثال دی تھی ۔ حضرت نوح نے دعا کی تھی کہ زمین پر کوئی بسنے والا بسنے والا کافر مت چھوڑ (71:21 تا 28) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ فرعون کے مال و دولت کو نیست ونابود کردے (10:88) نرم مزاج انبیاء میں آپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دی تھی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو پھر بھی تو غفور رحیم ہے (14:36) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا زیر مطالعہ آیت نمبر 118 میں ہے ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم کے ترجمہ قرآن کیسٹ سے ماخوذ) نوٹ : 3 ۔ عام طور پر واقعہ کے مطابق بات کو سچ اور خلاف واقعہ بات کو جھوٹ کہا جاتا ہے لیکن قرآن وسنت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدق اور کذب قول اور عمل دونوں کو شامل ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو آدمی علانیہ اچھی طرح نماز پڑھتا ہے اور وہ تنہائی میں بھی اسی طرح ادا کرتا ہے تو ایسے آدمی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرا سچ مچ بندہ ہے ۔ (مشکوۃ منقول از معارف القرآن )
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں

مَا قُلْتُ [ نہیں کہا میں نے ] لَهُمْ [ ان سے ] اِلَّا [ مگر ] مَآ [ وہی ] اَمَرْتَنِيْ [ تو نے حکم دیا مجھے ] بِهٖٓ [ جس کا ] اَنِ [ کہ ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] رَبِّيْ [ جو میرا رب ہے ] وَرَبَّكُمْ ۚ [ اور جو تمہارا رب ہے ] وَكُنْتُ [ اور میں تھا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] شَهِيْدًا [ معائنہ کرنے والا ] مَّا دُمْتُ [ جب تک میں رہا ] فِيْهِمْ ۚ [ ان میں ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَوَفَّيْتَنِيْ [ تو نے لیے لیا مجھے ] كُنْتَ اَنْتَ [ تو تو ہی تھا ] الرَّقِيْبَ [ نگران ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] واَنْتَ [ اور تو ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] شَهِيْدٌ [ معائنہ کرنے والا ہے ]
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں"

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ [ اگر تم عذاب دے ان کو ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک یہ لوگ ] عِبَادُكَ ۚ [ تیرے بندے ہیں ] وَاِنْ تَغْفِرْلَهُمْ [ اور اگر تو بخش دے ان کو ] فَاِنَّكَ اَنْتَ [ تو بیشک تو ہی ] الْعَزِيْزُ [ بالا دست ہے ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

تب اللہ فرمائے گا "یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے"

قَالَ اللّٰهُ [ کہا اللہ نے ] هٰذَا [ یہ ] يَوْمُ [ دن ہے ] يَنْفَعُ [ (کہ ) نفع دے گا ] الصّٰدِقِيْنَ [ سچوں کو ] صِدْقُهُمْ ۭ [ ان کا سچ ] لَهُمْ [ انہی کے لیے ہے ] جَنّٰتٌ [ ایسے باغات ہیں ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے دامن سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] فِيْهَآ [ اس میں ] اَبَدًا ۭ [ ہمیشہ ] رَضِيَ [ راضی ہوا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَرَضُوْا [ اور وہ راضی ہوئے ] عَنْهُ ۭ [ اس سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ عظیم کامیابی ہے ]
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی پادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمان کی سلطنت ] وَمَا [ اور اس کی جو ] فِيْهِنَّ ۭ [ ان میں ہے ] وَهُوَ [ اور وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]