Ayah 5:90[ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْخَمْرُ : شراب ] [ وَالْمَيْسِرُ : اور جوا ] [ وَالْاَنْصَابُ : اور استھان ] [ وَالْاَزْلَامُ : اور فال کے تیر ] [ رِجْسٌ : (ہر ایک ) نجاست ہے ] [ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ : شیطان کے عمل میں سے ] [ فَاجْتَنِبُوْهُ : پس تم لوگ دور رہو اس سے (یعنی ہر ایک سے ) ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد کہ تم لوگ ] [ تُفْلِحُوْنَ : فلاح پاؤ]
رج س (س۔ ک ) رجاسۃ قبیح کام کرنا ۔ رجس ۔ اسم ذات ہے ۔ گندگی ۔ نجاست ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : الخمر سے والازلام تک چاروں مبتداء ہیں ۔ رجس ان کی خبر جمع کے بجائے واحد لا کر اسے ہر مبتدا پر عطف کیا گیا ہے یعنی اصل بات اس طرح تھی ۔ [ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ] آیت میں خبر کو جمع کے بجائے واحد لا کر ان چار جملوں کے تاکیدی مفہوم کو ایک جملے میں سمودیا گیا ہے ۔ اجتناب کے حکم میں اسی تاکیدی مفہوم کو برقرار رکھنے کے لیے ضمیر مفعولی بھی واحد آئی ہے ویصد کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ان یوقع کے ان پر عطف ہے ۔ واحذروا کا مفعول محذوف ہے ۔ اس وجہ سے اس حکم کا مفہوم وسیع ہو کر اطاعت کے پورے دائرے پر محیط ہوگیا ہے ۔
نوٹ :1 ۔ عربی میں کھانے کے لیے اکل اور پینے کے لیے شرب کے الفاظ ہیں ۔ جبکہ طعم کا اصل مفہوم ہے ” چکھنا “ اب کسی چیز کو کھا کر بھی چکھا جاسکتا ہے اور پی کر بھی ۔ اس طرح طعم میں کھانے اور پینے ، دونوں کا مفہوم شامل ہوجاتا ہے ۔ مثلا آیت نمبر ۔ 2 :249 میں یہ لفظ پینے کے مفہوم میں آیا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 93 میں یہ لفظ اپنے جامع مفہوم میں آیا ہے جس کو ہم نے ترجمے میں ظاہر کیا ہے ۔
نوٹ : 2 ۔ شراب اور جوئے کے متعلق سب سے پہلے آیت نمبر ۔ 2:219 میں بتایا جا چکا تھا کہ ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے ۔ اس کے بعد آیت نمبر ۔ 4 :43 میں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ۔ پھر زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 90 میں ان کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا ۔ اس حکم کے آنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے ۔ لہذا جس کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کردے۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جس کے پاس شراب ہے وہ نہ تو اسے پی سکتا ہے اور نہ ہی فروخت کرسکتا ہے ۔ بلکہ وہ اسے ضائع دے ۔ چناچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہادی گئی ۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دوا کے طور پر استعمال کرنے کی تو اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے ۔ آپ ﷺ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے بھی منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو ۔ (تفیہم القرآن )
اب اس کے بعد بھی کوئی دانشور اگر اس زعم میں مبتلاء ہوجائے کہ وہ قرآن کو نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ سمجھتا ہے اور دعوی کرے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا ، تو پھر کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ۔ اکثر دانشور بڑے مہذب اور انتہائی نفاست پسند ہوتے ہیں ۔ انسانی عمل کی نجاستوں کے ذکر سے بھی ان کو گھن آتی ہے ۔ فقہہ کی کتابوں میں ایسی چیزوں کے تذکرے پر یہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں ۔ اور شیطان کے عمل کی نجاستوں کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ اپنی وحشت کو دانش وری سمجھ بیٹھے ہیں کیونکہ ۔
وحشت میں ہر نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظرآتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے ۔
Ayah 5:91اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] اَنْ [ کہ ] يُّوْقِعَ [ وہ ڈال دے ] بَيْنَكُمُ [ تمہارے درمیان ] الْعَدَاوَةَ [ عداوت ] وَالْبَغْضَاۗءَ [ اور بعض ] فِي الْخَمْرِ [ شراب سے ] وَالْمَيْسِرِ [ اور جوئے سے ] وَيَصُدَّكُمْ [ اور (یہ کہ ) وہ روکے تم کو ] عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ [ اللہ کی یاد سے ] وَعَنِ الصَّلٰوةِ [ اور نماز سے ] فَهَلْ [ تو کیا ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّنْتَهُوْنَ [ باز آنے والے ہو ]
Ayah 5:92وَاَطِيْعُوا [ اور تم لوگ اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] الرَّسُوْلَ [ ان رسول کی ] وَاحْذَرُوْا [ اور محتاط رہو ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم لوگ منہ موڑتے ہو ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّمَا [ کہ کچھ نہیں مگر ] عَلٰي رَسُوْلِنَا [ ہمارے رسول پر ] الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ [ واضح طور پر پہنچانا ہے ]
Ayah 5:93لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان پر جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] فِيْمَا [ اس میں جو ] طَعِمُوْٓا [ کھایا پیا ] اِذَا مَا [ جبکہ وہ ، جو ] اتَّقَوْا [ انھوں نے تقوی کیا ] وَّاٰمَنُوْا [ اور ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] ثُمَّ [ پھر ] اتَّقَوْا [ انھوں نے ( مزید) تقوی کیا ] وَّاٰمَنُوْا [ اور (مزید ) ایمان لائے (یعنی پختہ کیا ) ثُمَّ [ پھر ] اتَّقَوْا (مزید ) تقوی کیا ] وَّاَحْسَنُوْا ۭ [ اور بلاکم وکاست کام کیا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُحْسِنِيْنَ [ بلاکم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Ayah 5:94يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَيَبْلُوَنَّكُمُ [ لازما آزمائے گا تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِشَيْءٍ [ کسی چیز سے ] مِّنَ الصَّيْدِ [ شکار میں سے ] تَـنَالُهٗٓ [ پہنچیں گے جس کو ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھ ] وَرِمَاحُكُمْ [ اور تمہارے نیزے ] لِيَعْلَمَ [ تاکہ جان لے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَنْ [ کون ] يَّخَافُهٗ [ ڈرتا ہے اس سے ] بِالْغَيْبِ ۚ [ بن دیکھے ] فَمَنِ [ پھر جو ] اعْتَدٰي [ زیادتی کرے گا ] بَعْدَ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] فَلَهٗ [ تو اس کے لیے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ہے ]
رم ح : (ف) ۔ رمحا ۔ نیزہ مارنا ۔ رمح ۔ ج ۔ رماح ۔ اسم ذات ہے ۔ نیزہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : تنال مضارع کا واحد مؤنث کا صیغہ ہے اور اس کی ضمیر مفعولی الصید کے لیے ہے ، جبکہ ایدیکم اور رماحکم اس کے فاعل ہیں ۔ فجزاء مبتداء نکرہ ہے اس کی خبر واجب محذوف ہے ۔ من النعم کا من بیانیہ ہے اور یہ ماقتل کا نہیں بلکہ جزاء کا بیان یعنی وضاحت ہے ۔ من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ تب جزاء کی وضاھت یحکم بہ ہوگی ۔ یحکم کا فاعل ذواعدل ہے ۔ ھدیا حال ہے ۔ بلغ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ بھی حال ہے ۔ کفارۃ مبتداء نکرہ ہے ۔ اس کی بھی خبر محذوف ہے اور طعام مسکین مبتداء کی وضاحت ہے ۔ اسی طرح عدل ذلک مبتداء کی خبر محذوف ہے جبکہ صیاما مبتداء کی تمیز ہے ۔
Ayah 5:95يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَقْتُلُوا [ تم لوگ قتل مت کرو ] الصَّيْدَ [ شکار کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] حُرُمٌ ۭ [ احرام میں ہو ] وَمَنْ [ اور جو ] قَتَلَهٗ [ قتل کرے گا اس کو ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] مُّتَعَمِّدًا [ جانتے بوجھتے ہوئے ] فَجَــزَاۗءٌ [ تو بدلہ (واجب ) ہے ] مِّثْلُ مَا [ اس کے جیسا جو ] قَتَلَ [ اس نے قتل کیا ] مِنَ النَّعَمِ [ مویشی میں سے ] يَحْكُمُ [ فیصلہ کریں ] بِهٖ [ جس کا ] ذَوَا عَدْلٍ [ دوانصاف والے ] مِّنْكُمْ [ تم سے ] هَدْيًۢا [ ہدیہ ہوتے ہوئے ] بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ [ کعبہ کو پہنچنے والا ہوتے ہوئے ] اَوْ [ یا ] كَفَّارَةٌ [ کفارہ (واجب ) ہے ] طَعَامُ مَسٰكِيْنَ [ مسکینوں کا کھانا ] اَوْ [ یا ] عَدْلُ ذٰلِكَ [ اس کے برابر ] صِيَامًا [ روزہ رکھنا ہے ] لِّيَذُوْقَ [ تاکہ وہ چکھے ] وَبَالَ اَمْرِهٖ ۭ [ اپنے کام کا وبال ] عَفَا [ درگزر گیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَمَّا [ اس سے جو ] سَلَفَ ۭ [ پہلے گزرا ] وَمَنْ [ اور جو ] عَادَ [ دوبارہ کرے گا ] فَيَنْتَقِمُ [ تو انتقام لے گا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْهُ ۭ [ اس سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ] ذُو انْتِقَامٍ [ انتقام والا ہے ]
Ayah 5:96اُحِلَّ [ حلال کیا گیا ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] [ صَيْدُ الْبَحْرِ ] [ سمندر کا شکار ] [ وَطَعَامُهٗ ] [ اور اس کا کھانا ] مَتَاعًا لَّكُمْ [ فائدہ مند ہے تمہارے لیے ] [ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ [ اور قافلے والوں کے لیے ] وَحُرِّمَ [ اور حرام کیا گیا ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] صَيْدُ الْبَرِّ [ خشکی کا شکار ] مَا دُمْتُمْ [ جب تک تم لوگ رہو ] حُرُمًا ۭ [ احرام میں ] وَاتَّقُوا [ اور تقوی کرو ] اللّٰهَ الَّذِيْٓ [ اس اللہ کا ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ] تُحْشَرُوْنَ [ تم لوگ جمع کیے جاؤگے ]
Ayah 5:97جَعَلَ [ بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الْكَعْبَةَ [ کعبہ کو ] الْبَيْتَ الْحَرَامَ [ جو یہ محترم گھر ہے ] قِــيٰمًا [ کھڑے ہونے کا ذریعہ (معیشت میں ) ] لِّلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ [ اور محترم مہینوں کو (بھی ) ] وَالْهَدْيَ [ اور قربانی کے جانوروں کو (بھی ) ] وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭ [ اور پٹوں (والوں ) کو (بھی )] ذٰلِكَ [ یہ ] لِتَعْلَمُوْٓا [ اس لیے کہ تم لوگ جان لو ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
ترکیب : جعل کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس کو بنایا اور کیا بنایا ۔ یہاں جعل کا مفعول اول الکعبۃ ہے ۔ لیکن البیت الحرام مفعول ثانی نہیں ہے بلکہ یہ الکعبۃ کا بدل ہے اور مفعول ثانی قیما ہے ۔ الشھر الحرام ، الھدی اور القلائد، یہ سب بھی جعل کے مفعول اول ہیں اور ان پر لام جنس ہے جبکہ ان کا مفعول ثانی بھی قیما ہے ۔ یستوی کا فاعل ہونے کی وجہ سے الخبیث اور الطیب حالت رفع میں آئے ہیں اور اعجب کا فاعل کثرۃ ہے۔
نوٹ : 1 ۔ کسی اصول یا چیز کے معقول اور پسندیدہ ہونے کی دلیل کے طور پر اکثر سننے میں آتا ہے کہ ” یہ تو ساری دنیا مانتی ہے “ ۔” یہ بات تو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے “ ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 100 میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اعلان کردیجئے کہ کسی چیز کا رواج پاجانا اس کے معقول اور پسندیدہ ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ یہ ایک غلط معیار ہے جو انسانوں نے اختیار کرلیا ہے ۔
جو انسان تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ رکھتا ہے اسے سوچنا چاہیے کہ ہندوستان کے سارے ہندو گائے کے پیشاب کو کتنا بھی پوتر پاکیزہ قرار دے لیں ، پھر بھی اس کے پیشاب کی نجاست میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ۔ اسے سوچنا چاہیے کہ اگر گائے کا پیشاب واقعی اتنا ہی پاکیزہ ہے تو پھر اس کے گوبر سے پرہیز کیوں ؟ جس طرح وہ گائے کے پیشاب کو اپنے سر اور چہرے پر ملتے ہیں اسی طرح اس کا گوبر بھی مل لیا کریں ۔ بالکل اسی طرح سے جوا ، شراب ، سود اور اس قبیل کی باقی چیزیں خواہ کتنا بھی رواج پاجائیں ، پھر بھی ان کی خباثت اپنی جگہ برقرار رہے گی ۔
Ayah 5:98اِعْلَمُوْٓا [ تم لوگ جان لو ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ گرفت کا سخت ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ [ غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 5:99مَا [ نہیں ہے ] عَلَي الرَّسُوْلِ [ ان رسول پر ] اِلَّا [ مگر ] الْبَلٰغُ ۭ [ پہنچانا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُبْدُوْنَ [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تَكْتُمُوْنَ [ تم لوگ چھپاتے ہو ]
Ayah 5:100قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّا يَسْتَوِي [ برابر نہیں ہوتیں ] الْخَبِيْثُ [ ناپاک ] وَالطَّيِّبُ [ اور پاکیزہ (چیزیں )] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] اَعْجَبَكَ [ بھلی لگے تجھ کو ] كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ [ ناپاک کی کثرت ] فَاتَّقُوا [ تو تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ [ اے ہوشمندو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد کہ تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ فلاح پاؤ]
Ayah 5:101يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَسْــــَٔـلُوْا [ تم لوگ مت پوچھو ] عَنْ اَشْيَاۗءَ [ ایسی چیزوں کے بارے میں ] اِنْ [ کہ اگر ] تُبْدَ [ وہ ظاہر کردی جائیں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] تَسُؤْكُمْ ۚ [ تو وہ بری لگے تم کو ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَسْــــَٔـلُوْا [ تم لوگ پوچھو گے ] عَنْهَا [ ان کے بارے میں [ حِيْنَ اس وقت کہ ] يُنَزَّلُ [ اتارا جاتا ہے ] الْقُرْاٰنُ [ قرآن ] تُبْدَ [ تو وہ ظاہر کردی جائیں گی ] لَكُمْ ۭ [ تمہارے لیے ] عَفَا [ درگزر کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْهَا ۭ [ اس سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] حَلِيْمٌ [ بردبار ہے ]
س ی ب :ـ(ض) سیبا ۔ پانی کا ادھر ادھر بہنا ۔ مویشی کا آزاد پھرنا ۔ سائبۃ ۔ اسم الفاعل ہے ۔ آزاد پھرنے والی ۔ اصطلاح ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے مقدس قرار دے کر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ح م ی ۔ (ض) ۔ حمیا کسی چیز کو کسی سے روکنا ۔ بچانا ۔ حمایت کرنا ۔ حام ۔ اسم الفاعل ہے ۔ بچانے والا ۔ اصطلاحا ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جیسے مقدس قرار دے کر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (س) ۔ حمیا ۔ کسی چیز کا بہت تیز گرم ہوجانا۔ حامیۃ ۔ اسم الفاعل ہے ۔ گرم ہونے والی ۔ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً [ وہ گریں گے ایک جلنے والی یعنی دہکتی ہوئی آگ میں ] ۔ 88:4 ۔ حمیۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ جذبات کی گرمی کا ابال ۔ جوش ۔ نخوت ۔ اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ [ اور جب رکھا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا ، اپنے دلوں میں نخوت ] ۔ 48:26 ۔ (افعال ) احماء ۔ کسی چیز کو خوب گرم کرنا ۔ تپانا ۔ يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ [ جس دن تپایا جائے گا اس کو جہنم کی آگ میں ] ۔ 9:35 ۔
ترکیب : شیء کی جمع اشیاء غیر منصرف آتی ہے یہاں اشیاء حالت جر میں ہے اور نکرہ موصوفہ ہے ۔ آگے جملہ شرطیہ ان تبدلکم تسوکم اس کی صفت ہے ۔ تبد دراصل باب افعال کے مضارع مجہول میں مؤنث کا صیغہ تبدی ہے اور ان کی وجہ سے اس کی ” ی “ گری ہوئی ہے ، جبکہ تسؤ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم آیا ہے ۔ سائبۃ وصیلۃ اور حام ، یہ سب من بحیرۃ کی من پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہوئے ہیں اور یہ من تبعیضیہ ہے ۔ لایضر کا فاعل من ہے ۔
نوٹ :1 نبی کریم ﷺ خود بھی لوگوں کو کثرت سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہتے تھے۔ ایسی ہی ایک حدیث میں ہے ” اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں ، انھیں ضائع نہ کرو ، کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ، ان کے پاس نہ پھٹکو ۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو ، اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے، بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو ، لہذا ان کی کھوج نہ لگاؤ “ اب جو شخص مجمل کو مفصل اور غیر معین کو معین کرتا ہے ، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے ۔ (تفیہم القرآن )
سلسلہ وحی منقطع ہونے کے بعد بھی سوالات گھڑ گھڑ کر ان کی تحقیقات میں پڑنا یا بےضرورت چیزوں کے متعلق سوالات کرنا مذموم ہی رہے گا ، کیونکہ اس میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہے ۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان ہونے کی ایک خوبی یہ ہے کہ آدمی فضول باتوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے مسلمان جو فضول چیزوں کی تحقیق میں لگے رہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا کیا نام تھا اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا طول وعرض کیا تھا ، جن کا کوئی اثر انسان کے عمل پر نہیں پڑتا ، ایسے سوالات کرنا مذموم ہے جبکہ ایسے سوالات کرنے والے اکثر حضرات دین کے ضروری اور اہم مسائل سے بیخبر ہوتے ہیں ۔ (معارف القرآن )
نوٹ : 2 ۔ آغاز اسلام سے قبل یہ رواج عام تھا کہ مختلف طریقوں سے مویشیوں کو مقدس قرار دے کر آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا ، نہ اس کا دودھ پیا جاتا ، نہ اسے ذبح کیا جاتا نہ اس کا اون اتارا جاتا، اسے حق ہوتا کہ جس کھیت اور چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیئے ، ایسے مویشیوں کے مختلف نام تھے ۔ تقدس کی علامت کے طور پر جس اونٹنی کے کان چیر کر آزاد کرتے اسے بحیرہ کہتے ۔ کوئی منت پوری ہونے پر شکرانے کے طور پر جس اونٹ یا اونٹنی کو آزاد کرتے اسے سائبہ کہتے ۔ کوئی بکری اگر پہلی بار ایک نر اور ایک مادہ ، جڑواں بچے دیتی تو نر بچے کو آزاد چھوڑ دیتے ۔ اسے وصیلہ کہتے ، جس اونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہوجاتا ۔ اسے بھی آزاد چھوڑ دیتے ۔ اسے حام کہتے ۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ : 3 زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 104 میں دوسروں کی غلطی ظاہر کرنے کا ایک موثر طریقہ بتلایا گیا ہے جس سے مخاطب کی دل آزاری نہ ہو ۔ یوں نہیں فرمایا کہ تمہارے باپ دادا جاہل اور گمراہ تھے بلکہ ایک سوال پر سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ کیا باپ دادا کی پیروی اس حالت میں بھی معقول بات ہوگی جبکہ باپ دادا نہ علم رکھتے ہوں یہ عمل ۔ پھر اگلی آیت میں دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنے والوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جب تم نے حق کی تبلیغ اور تعلیم کی مقدور بھر کوشش کرلی اور اس کے بعد بھی کوئی گمراہی پر جما رہے ۔ تو تم اس کی فکر میں نہ پڑو۔ اس حالت میں دوسروں کی گمراہی سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ (معارف القرآن)
Ayah 5:102قَدْ سَاَلَهَا [ پوچھ چکی ہے ان کو ] قَوْمٌ [ ایک قوم ] مِّنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے ] ثُمَّ [ پھر ] اَصْبَحُوْا [ وہ لوگ ہوگئے ] بِهَا [ اس کا ] كٰفِرِيْنَ [ انکار کرنے والے ]
Ayah 5:103مَا جَعَلَ [ نہیں بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْۢ بَحِيْرَةٍ [ کسی قسم کا کوئی بحیرہ ] وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ [ اور نہ کسی قسم کا کوئی سائبہ ] وَّلَا وَصِيْلَةٍ [ اور نہ کسی قسم کا کوئی وصیلہ ] وَّلَا حَامٍ ۙ [ اور نہ ہی کوئی حامی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن (یعنی بلکہ )] الَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر وا ] انکار کیا ] يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ ۭ [ جھوٹ ] وَاَكْثَرُهُمْ [ اور ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 5:104وَاِذَا [ اور جب بھی ] قِيْلَ [ کہا جاتا ہے ] لَهُمْ [ ان سے ] تَعَالَوْا [ کہ تم لوگ آؤ ] اِلٰى مَآ [ اس کی طرف جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَاِلَى الرَّسُوْلِ [ اور ان رسول کی طرف ] قَالُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] حَسْبُنَا [ کافی ہے ہم کو ] مَا [ وہ ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اٰبَاۗءَنَا ۭ [ اپنے آباؤاجداد کو ] اَوَ [ تو کیا ] لَوْ [ اگر ] كَانَ [ تھے ] اٰبَاۗؤُهُمْ [ ان کے آباؤاجداد ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ کہ نہیں جانتے تھے ] شَـيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلَا يَهْتَدُوْنَ [ اور نہ ہدایت پاتے تھے ]
Ayah 5:105يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر (ذمہ داری ) ہے ] اَنْفُسَكُمْ ۚ [ اپنے نفوس کی ] لَا يَضُرُّكُمْ [ نقصان نہیں دے گا تم کو ] مَّنْ [ وہ ، جو [ ضَلَّ [ گمراہ ہوا ] اِذَا [ جبکہ ] اهْتَدَيْتُمْ [ تم ہدایت پر ہو ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تم کو لوٹنا ہے ] جَمِيْعًا [ سب کو ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ پھر وہ آگاہ کردے گا تم کو ] بِمَا [ اس سے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]
Ayah 5:106يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ] [ گواہ ہونا تم میں سے دو آدمیوں کا ] [ اِذَا [ جب کبھی ] حَضَرَ [ سامنے آئے ] اَحَدَكُمُ [ تمہارے کسی ایک کے ] الْمَوْتُ [ موت ] حِيْنَ الْوَصِيَّةِ [ تو وصیت کے وقت ] اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ [ دو عدل والے ہیں ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَوْ [ یا ] اٰخَرٰنِ [ دوسرے دو ہیں ] مِنْ غَيْرِكُمْ [ تمہارے غیر میں سے ] اِنْ [ اگر ] اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ [ تم لوگ سفر کرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَاَصَابَتْكُمْ [ پھر آن پہنچے تم کو ] مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ [ موت کی مصیبت ] تَحْبِسُوْنَهُمَا [ تم لوگ روکے رکھوگے دونوں کو ] مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ [ نماز کے بعد سے ] فَيُقْسِمٰنِ [ پھر وہ دونوں قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] اِنِ ارْتَبْتُمْ [ اگر تمہیں شبہ ہو ] لَا نَشْتَرِيْ [ (کہ ) ہم نہیں خریدتے ] بِهٖ [ اس سے ] ثَـمَنًا [ کوئی قیمت ] وَّلَوْ [ اور اگر ] كَانَ [ وہ ہو ] ذَا قُرْبٰى ۙ [ قرابت والا ] وَلَا نَكْتُمُ [ اور ہم نہیں چھپاتے ] شَهَادَةَ ۙاللّٰهِ [ اللہ کی گواہی کو ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِذًا [ پھر تو ] لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ [ ضرور گناہ کرنے والوں میں سے ہیں
ح ب س : (ض) ۔ حبسا ۔ کسی کو اٹھنے یا نکلنے سے روکے رکھنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ع ث ر : ۔ (ن) ۔ عثارا پھسل جانا ۔ بلا ارادہ کسی بات پر مطلع ہونا (لازم ہے ۔ علی کے صلہ کے ساتھ متعدی ہوجاتا ہے ) آیت زیر مطالعہ ۔ (افعال ) اعثارا۔ کسی کو کسی بات پر مطلع کرنا ۔ وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ [ اس طرح ہم نے اطلاع کردی ان کی ] 18:21 ۔
ترکیب : شہادۃ مضاف ہے ۔ بین اس کا مضاف الیہ ہے ۔ اور کم کا مضاف بھی ۔ یہ فقرہ مبتدا ہے ۔ اس کی خبر اثنن ذوا عدل ہے ۔ اس لیے اثنن حالت رفع میں آیا ہے ۔ درمیان میں جملہ معترضہ ہے ۔ اس میں حضر کا فاعل الموت ہے اور اس کا مفعول احدکم ہے ۔ اذا کی شرط حضر کم احدکم الموت ہے اور حین الوصیۃ جواب شرط ہے ۔ ان ارتبتم کا تعلق تحبسون سے ہے جبکہ لا نشتری کا تعلق یقسمن سے ہے ۔ اولین صفت ہے فاخرن کی ۔
نوٹ : 1 ۔ یہ آیت اس وقت اتری جبکہ ایک آدمی مرگیا اور اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ شروع اسلام کا زمانہ تھا ۔ سب شہر دارالحرب تھے ۔ لوگ کافر تھے ۔ وراثت کا کوئی قانون نہ تھا ۔ بطور وصیت تقسیم ہوتی تھی ۔ پھر وصیت منسوخ ہوگئی ، اور وراثت فرض ہوگئی اور لوگ قانون وراثت پر عمل کرنے لگے ۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:107فَاِنْ [ پھر اگر ] عُثِرَ [ مطلع کیا جائے ] عَلٰٓي [ اس پر ] اَنَّهُمَا [ کہ وہ دونوں ] اسْتَحَقَّآ [ مستحق ہوئے ] اِثْمًا [ گناہ کے ] فَاٰخَرٰنِ [ تو دوسرے دو [ يَقُوْمٰنِ [ کھڑے ہوں گے ] مَقَامَهُمَا [ ان دونوں کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے جو ] اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ [ حقدار ہوا ان پر (یعنی جس کا حق دبایا گیا )] الْاَوْلَيٰنِ [ زیادہ قریبی (میت کے )] فَيُقْسِمٰنِ [ پھر وہ دونوں قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَشَهَادَتُنَآ [ یقینا ہماری گواہی ] اَحَقُّ [ زیادہ برحق ہے ] مِنْ شَهَادَتِهِمَا [ ان دونوں کی گواہی سے ] وَمَا اعْتَدَيْنَآ [ اور ہم نے زیادتی نہیں کی ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِذًا [ پھر تو ] لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ضرور ظلم کرنے والوں میں سے ہیں ]
Ayah 5:108ذٰلِكَ [ یہ ] اَدْنٰٓي [ زیادہ نزدیکی ہے ] اَنْ [ کہ ] يَّاْتُوْا [ لوگ لائیں ] بِالشَّهَادَةِ [ گواہی کو ] عَلٰي وَجْهِهَآ [ اس کے چہرے پر (یعنی ٹھیک ٹھیک ) ] اَوْ [ یا ] يَخَافُوْٓا [ لوگ ڈریں ] اَنْ [ کہ ] تُرَدَّ [ رد کیا جائے ] اَيْمَانٌۢ [ (ہماری ) قسموں کو ] بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ ۭ [ ان کی قسموں کے بعد ] وَاتَّقُوا [ اور تم تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاسْمَعُوْا ۭ [ اور سنو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] [ الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والی قوم کو ]
Ayah 5:109يَوْمَ [ جس دن ] يَجْمَعُ [ جمع کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] الرُّسُلَ [ تمام رسولوں کو ] فَيَقُوْلُ [ پھر وہ کہے گا ] مَاذَآ [ کیا ] اُجِبْتُمْ ۭ [ جواب دیا گیا تم لوگوں کو ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] لَا عِلْمَ لَنَا [ کسی قسم کا کوئی علم نہیں ہے ہمیں ] اِنَّكَ اَنْتَ [ بیشک تو ہی ] عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [ تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے ]
ح و رــ: (ن ) ۔ حورا ۔ گھومنا ، واپس ہونا ۔ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ [ بیشک اس نے گمان کیا کہ وہ ہرگز واپس نہیں ہوگا ] 84:14 ۔ (س) ۔ حورآنکھ کی سیاہی اور سفیدی کا بہت نمایاں ہونا ، آنکھ کا خوبصورت ہونا۔ احور مؤنث حوراء ، ج، حور ، افعل الوان وعیوب ہے ۔ خوبصورت آنکھ والا ۔ وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ [ اور ہم نے جوڑے بنادیئے ان کے خوبصورت آنکھوں والوں : والیوں سے ] 44:54 ۔ (مفاعلہ ) محاورۃ ۔ بات کو واپس کرنا یعنی ۔ (1) جواب دینا (2) نصیحت کرنا ۔ قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ [ کہا اس سے اس کے ساتھی نے اس حال میں کہ وہ نصیحت کرتا تھا اس کو ] 18:37 ۔ حواری ۔ اسم نسبت ہے ، نصیحت والا ، مدد گار ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (تفاعل ) تحاورا ۔ باہم ایک دوسرے کی بات کا جواب دینا ۔ گفتگو کرنا ۔ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا [ اور اللہ سنتا ہے تم دونوں کی باہمی گفتگو ] 58:1 ۔
ترکیب : لاعلم پر لائے نفی جنس ہے اور الغیوب پر لام جنس ہے، اذ قال اللہ کا جملہ اذ سے شروع ہو رہا ہے ۔ اس لئے اس جملہ میں جتنے مضارع آئے ہیں ان سب کا ترجمہ ماضی میں ہوگا ۔ [ 2:11 ۔ 12 نوٹ۔ 1 دیکھیں ] کھلا حال ہے ۔ واشھد کے مخاطب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ اس کا مخاطب خود ذات باری تعالیٰ بھی ہوسکتی ہے ۔
نوٹ : 1 ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رسولوں سے پوچھے گا کہ تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا گیا تھا ، تو وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ، غیب کا علم تو صرف آپ کو ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہر رسول کی امت کے وہ لوگ جو ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ، ان کے بارے میں تو یہ جواب صحیح ہے، لیکن وہ لوگ جو انہی کے ہاتھ پر ایمان لائے اور ان کے احکام کی پیروی کی ان کے سامنے کرتے رہے ، ان کے بارے میں یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا ، اس بات کو سمجھ لیں ۔
ایک انسان کسی دوسرے انسان کے سامنے ہونے کے باوجود اس کے ایمان وعمل کی گواہی اگر دے سکتا ہے تو غلبہ گمان کے اعتبار سے دے سکتا ہے ، ورنہ دلوں میں نیت اور حقیقی یعنی قلبی ایمان کسی کو وحی الہی کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتے ، اور ہر امت میں منافقین کے گروہ رہے ہیں ، جو شخص اپنے اپ کو مسلمان کہے اور احکام خداوندی کی پیروی کرے، انبیاء کرام اور ان کی امتیں ان کو دنیا میں مومن کہنے پر مجبور ہیں ، خواہ وہ دل میں مومن مخلص ہو یا منافق ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہم ظاہر پر حکم جاری کرتے ہیں مخفی رازوں کا متولی اللہ ہے ‘
اسی ضابطہ کے تحت دنیا میں تو انبیاء اکرام اور ان کے خلفاء اور علماء ظاہر پر حسن ظن کے مطابق کسی کے مومن ہونے کی گواہی دے سکتے تھے، لیکن آج وہ دنیا ختم ہوچکی ہے جس کا مدار ظن و گمان پر تھا ، یہ میدان حشر ہے جہاں حقائق کا آشکارا کیا جائے گا ۔ اس لئے رسولوں کا یہ جواب صحیح ہے کہ ہمیں حقیقت کا کوئی علم نہیں ہے ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
نوٹ : 2 ۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر پھانسی دی گئی تھی ۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے ۔ اس لئے قرآن اس کی تردید کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے متعلق عیسائیوں کا جو عقیدہ ہے ، وہ مطابق واقعہ ہے ۔ اس لئے قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے ۔ لیکن ان معجزات کو دلیل بنا کر کچھ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت کا حامل اور کچھ عیسائی ان کو الوہیت میں شریک قرار دیتے ہیں ، یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ اس لئے قرآن اس کی بھی تردید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ وہ یہ معجزات اللہ تعالیٰ کی اجازت سے دکھاتے تھے ۔
Ayah 5:110اِذْ [ جب ] قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اے عیسیٰ ابن مریم ] اذْكُرْ [ آپ یاد کریں ] نِعْمَتِيْ [ میری نعمت کو ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] وَعَلٰي وَالِدَتِكَ ۘ [ اور آپ کی والدہ پر ] اِذْ [ جب ] اَيَّدْتُّكَ [ میں تقویت دی آپ کو ] بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ [ روح القدس ] تُكَلِّمُ [ آپ کلام کرتے تھے ] النَّاسَ [ لوگوں سے ] فِي الْمَهْدِ [ گہوارے میں ] وَكَهْلًا ۚ [ اور ادھیڑ عمری کی حالت میں ] وَاِذْ [ اور جب ] عَلَّمْتُكَ [ میں نے علم دیا آپ کو [ الْكِتٰبَ [ کتاب کا ] وَالْحِكْمَةَ [ اور حکمت کا ] وَالتَّوْرٰىةَ [ اور تورات کا ] وَالْاِنْجِيْلَ ۚ [ اور انجیل کا ] وَاِذْ [ اور جب ] تَخْلُقُ [ آپ بناتے تھے ] مِنَ الطِّيْنِ [ گارے سے ] كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ [ پرندوں کی شکل جیسا ] بِاِذْنِيْ [ میری اجازت سے ] فَتَنْفُخُ [ پھر آپ پھونکتے تھے ] فِيْهَا [ اس میں ] فَتَكُوْنُ [ تو وہ ہوجاتا تھا ] طَيْرًۢا [ اڑنے والا ] بِاِذْنِيْ [ میری اجازت سے ] وَتُبْرِئُ [ اور آپ شفاء دیتے تھے ] الْاَكْـمَهَ [ پیدائشی اندھے کو ] وَالْاَبْرَصَ [ اور کوڑھی کو ] بِاِذْنِيْ ۚ [ میری اجازت سے ] وَاِذْ [ اور جب ] تُخْرِجُ [ آپ نکالتے تھے ] الْمَوْتٰى [ مردہ کو ] بِاِذْنِيْ ۚ [ میری اجازت سے ] وَاِذْ [ اور جب ] كَفَفْتُ [ میں نے روکا ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] عَنْكَ [ آپ سے ] اِذْ [ اور جب ] جِئْتَهُمْ [ آپ لائے ان کے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیان )] فَقَالَ [ تو کہا ] [ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ] [ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] اِنْ [ نہیں ہے ] هٰذَآ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] سِحْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا جادو ]
Ayah 5:111وَاِذْ [ اور جب ] اَوْحَيْتُ [ میں پوشیدہ پیغام بھیجا [ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ [ حواریوں کی طرف ] اَنْ [ کہ ] اٰمِنُوْا [ تم لوگ ! ایمان لاؤ ] بِيْ [ مجھ پر ] وَبِرَسُوْلِيْ ۚ [ اور میرے رسول پر ] قَالُوْٓا [ تو انہوں نے کہا ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] وَاشْهَدْ [ اور آپ گواہ رہیں ] بِاَنَّنَا [ اس پر کہ ہم ] مُسْلِمُوْنَ [ فرمابرداری کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:112اِذْ [ جب ] قَالَ [ کہا ] الْحَوَارِيُّوْنَ [ حواریوں نے ] يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اے عیسیٰ ابن مریم ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَطِيْعُ [ قدرت رکھتا ہے ] رَبُّكَ [ آپ کا رب ] اَنْ [ کہ ] يُّنَزِّلَ [ وہ اتارے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مَاۗىِٕدَةً [ ایک چنا ہوا دسترخوان ] مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ [ آسمان سے ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] اتَّقُوا اللّٰهَ [ اللہ کا خوف کرو ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ مومن ]
م ی د (ض) ۔ میدا ۔ ہلنا ، لرزنا ۔ وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ [ اور اس نے ڈالے زمین میں کچھ لنگر یعنی پہاڑ کہ کہیں وہ نہ لرزے تم کو لے کر ] 16: 15 ۔ مائدۃ ۔ اسم الفاعل مائد کا مؤنث ہے ۔ لرزنے والی ۔ پھر کھانا چنے ہوئے دسترخوان کے لئے آتا ہے کیونکہ اس میں چنی ہوئی خوراک مہمانوں کے درمیان ہلتی رہتی ہے ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : ان پر عطف ہونے کی وجہ سے تطمئن ، نعلم اور نکون حالت نصب میں آئے ہیں ۔ تکون واحد مؤنث کا صیغہ ہے ۔ اس کا اسم میں شاملھی کی ضمیر ہے جو مائدۃ کے لئے ہے ، جبکہ عیدا اور آیۃ اس کی خبریں ہیں ۔ عذابا نکرہ مخصوصہ ہے۔
نوٹ : 1 ۔ مائدہ کے جس واقعہ کا ان آیات میں ذکر ہے اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جن شاگردوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست تعلیم حاصل کی تھی ، وہ ان کو ایک انسان اور اللہ کا بندہ سمجھتے تھے، اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدایا شریک خدایا فرزند خدا ہونے کا تصور نہیں تھا ۔ نیز یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندہ بےاختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 5:113قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] نُرِيْدُ [ ہم چاہتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] نَّاْكُلَ [ ہم کھائیں ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَتَطْمَىِٕنَّ [ اور مطمئن ہوں ] قُلُوْبُنَا [ ہمارے دل ] وَنَعْلَمَ [ اور ہم جان لیں ] اَنْ [ کہ ] قَدْ صَدَقْتَنَا [ آپ نے سچ کہا ہے ہم سے ] وَنَكُوْنَ [ اور ہم ہوجائیں ] عَلَيْهَا [ اس پر ] مِنَ الشّٰهِدِيْنَ [ گواہی دینے والوں میں سے ]
Ayah 5:114قَالَ [ کہا ] عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ [ عیسیٰ ابن مریم نے ] اللّٰهُمَّ [ اے اللہ ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اَنْزِلْ [ تواتار ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مَاۗىِٕدَةً [ ایک چنا ہوا دسترخوان ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] تَكُوْنُ [ وہ ہوجائے گا ] لَنَا [ ہمارے لیے ] عِيْدًا [ خوشی کا دن ] لِّاَوَّلِنَا [ ہمارے پہلوں کے لئے ] وَاٰخِرِنَا [ اور ہمارے پچھلوں کے لئے ] وَاٰيَةً [ اور ایک نشانی ] مِّنْكَ ۚ [ تیری طرف سے ] وَارْزُقْنَا [ اور تو عطا کر ہم کو ] وَاَنْتَ [ اور تو ] خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ [ سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے ]
Ayah 5:115قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اِنِّىْ [ کہ میں ] مُنَزِّلُهَا [ اتارنے والا ہوں اس کو ] عَلَيْكُمْ ۚ [ تم لوگوں پر ] فَمَنْ [ پھر جو ] يَّكْفُرْ [ ناشکری کرے گا ] بَعْدُ [ بعد میں ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] فَاِنِّىْٓ [ تو یقینا میں ] اُعَذِّبُهٗ [ عذاب دوں گا اس کو ] عَذَابًا [ ایک ایسا عذاب ] لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ [ (کہ ) میں عذاب نہیں دونگا ویسا ] اَحَدًا [ کسی ایک کو (بھی ) ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام عالموں میں سے ]
Ayah 5:116وَاِذْ [ اور جب ] قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اللہ نے اے عیسیٰ ابن مریم ] ءَ [ کیا ] اَنْتَ [ آپ نے ] قُلْتَ [ کہا تھا ] لِلنَّاسِ [ لوگوں سے ] اتَّخِذُوْنِيْ [ تم لوگ بنا لو مجھ کو ] وَاُمِّيَ [ اور میری والدہ کو ] اِلٰــهَيْنِ [ دوالہ ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] سُبْحٰنَكَ [ تیری پاکیزگی ہے ] مَا يَكُوْنُ [ نہیں تھا ] لِيْٓ [ میرے لئے ] اَنْ [ کہ ] اَقُوْلَ [ میں کہوں ] مَا [ اس کو ] لَيْسَ [ نہیں ہے جس کا ] لِيْ ۤ [ مجھے ] بِحَقٍّ ڲ [ کوئی حق ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُ قُلْتُهٗ [ میں نے کہا ہوتا اسے ] فَقَدْ [ تو یقینا ] عَلِمْتَهٗ ۭ [ تو نے جان لیا ہوتا اس کو ] تَعْلَمُ [ تو جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِيْ نَفْسِيْ [ میرے جی میں ہے ] وَلَآ اَعْلَمُ [ اور میں نہیں جانتا ] مَا [ اس کو جو ] فِيْ نَفْسِكَ ۭ [ تیرے جی میں ہے ] ااِنَّكَ اَنْتَ [ بیشک تو ہی ] عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [ تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے ]
ترکیب : ان اقول کا مفعول ما ہے ۔ لیس کا اسم اس میں ھو کی ضمیر ہے جو ما عائد بھی ہے اور بحق اس کی خبر ہے ۔ یوم مضاف ہے اور آگے کا پورا جملہ ینفع الصدقین صدقہم اس کا مضاف الیہ ہے ۔ ان ترکیب کا اردو میں ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے یوم کا ترجمہ ھذا کی خبر کے لحاظ سے کیا جائے گا ۔
نوٹ :1 ۔ عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں بلکہ بی بی مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا ۔ بی بی مریم کی الوہیت یا قد وسیت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائبل میں موجود نہیں ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی ۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ بی بی مریم کے لئے ام اللہ ۔ یعنی مادر خدا کے الفاظ استعمال کئے ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ الوہیت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا ۔ ابتداء میں چرچ اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اور مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا ۔ پھر 431 ء میں منعقد ہونے والی کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں بی بی مریم کے لئے مادر خدا کا لقب استعمال کیا گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا ، وہ کلیسا کے اندر بھی پھیلنے لگا ۔ حتی کہ نزول قرآن کے زمانے تک ان کے مجسمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے ۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ : ۔ جنگ بدر کے بعد جنگی قیدیوں کے متعلق جب مشاورت ہوئی تو ایک طرف حضرت عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان کو قتل کیا جائے ۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر ؓ کی رائے تھی کہ ان کو فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ شاید بعد میں ان میں سے کوئی ایمان لے آئے ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے ایک تقریر کی تھی جس میں آپ نے فرمایا کہ انسان مختلف طبیعت اور مزاج کے ہوتے ہیں ۔ انبیاء میں بھی کچھ سخت مزاج اور کچھ نرم مزاج تھے ۔ سخت مزاج انبیاء میں آپ ﷺ نے حضرت نوح اور حضرت موسیٰ کی مثال دی تھی ۔ حضرت نوح نے دعا کی تھی کہ زمین پر کوئی بسنے والا بسنے والا کافر مت چھوڑ (71:21 تا 28) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ فرعون کے مال و دولت کو نیست ونابود کردے (10:88) نرم مزاج انبیاء میں آپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دی تھی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو پھر بھی تو غفور رحیم ہے (14:36) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا زیر مطالعہ آیت نمبر 118 میں ہے ۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم کے ترجمہ قرآن کیسٹ سے ماخوذ)
نوٹ : 3 ۔ عام طور پر واقعہ کے مطابق بات کو سچ اور خلاف واقعہ بات کو جھوٹ کہا جاتا ہے لیکن قرآن وسنت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدق اور کذب قول اور عمل دونوں کو شامل ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو آدمی علانیہ اچھی طرح نماز پڑھتا ہے اور وہ تنہائی میں بھی اسی طرح ادا کرتا ہے تو ایسے آدمی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرا سچ مچ بندہ ہے ۔ (مشکوۃ منقول از معارف القرآن )
Ayah 5:117مَا قُلْتُ [ نہیں کہا میں نے ] لَهُمْ [ ان سے ] اِلَّا [ مگر ] مَآ [ وہی ] اَمَرْتَنِيْ [ تو نے حکم دیا مجھے ] بِهٖٓ [ جس کا ] اَنِ [ کہ ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] رَبِّيْ [ جو میرا رب ہے ] وَرَبَّكُمْ ۚ [ اور جو تمہارا رب ہے ] وَكُنْتُ [ اور میں تھا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] شَهِيْدًا [ معائنہ کرنے والا ] مَّا دُمْتُ [ جب تک میں رہا ] فِيْهِمْ ۚ [ ان میں ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَوَفَّيْتَنِيْ [ تو نے لیے لیا مجھے ] كُنْتَ اَنْتَ [ تو تو ہی تھا ] الرَّقِيْبَ [ نگران ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] واَنْتَ [ اور تو ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] شَهِيْدٌ [ معائنہ کرنے والا ہے ]
Ayah 5:118اِنْ تُعَذِّبْهُمْ [ اگر تم عذاب دے ان کو ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک یہ لوگ ] عِبَادُكَ ۚ [ تیرے بندے ہیں ] وَاِنْ تَغْفِرْلَهُمْ [ اور اگر تو بخش دے ان کو ] فَاِنَّكَ اَنْتَ [ تو بیشک تو ہی ] الْعَزِيْزُ [ بالا دست ہے ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 5:119قَالَ اللّٰهُ [ کہا اللہ نے ] هٰذَا [ یہ ] يَوْمُ [ دن ہے ] يَنْفَعُ [ (کہ ) نفع دے گا ] الصّٰدِقِيْنَ [ سچوں کو ] صِدْقُهُمْ ۭ [ ان کا سچ ] لَهُمْ [ انہی کے لیے ہے ] جَنّٰتٌ [ ایسے باغات ہیں ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے دامن سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] فِيْهَآ [ اس میں ] اَبَدًا ۭ [ ہمیشہ ] رَضِيَ [ راضی ہوا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَرَضُوْا [ اور وہ راضی ہوئے ] عَنْهُ ۭ [ اس سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ عظیم کامیابی ہے ]
Ayah 5:120لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمان کی سلطنت ] وَمَا [ اور اس کی جو ] فِيْهِنَّ ۭ [ ان میں ہے ] وَهُوَ [ اور وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]