Ayah 5:51[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تَتَّخِذُوا : تم لوگ مت بناو ] [ الْيَھُوْدَ : یہودیوں کو ] [ وَالنَّصٰرٰٓى: اور نصرانیوں کو ] [ اَوْلِيَاۗءَ : کارساز ] [ ۘبَعْضُهُمْ : ان کے بعض ] [ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : بعض کے کار ساز ہیں ] [ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ :: دوستی کرے گا ان سے ] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے ] [ فَاِنَّهٗ : تو یقینا وہ ] [ مِنْهُمْ ۭ: ان میں سے ہے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يَهْدِي : ہدایت نہیں دیتا ] [ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگوں کو ]
ج ھ د : (ف) ۔ جھدا ۔ کسی کام میں طاقت صرف کرنا ۔ کوشش کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ جہد ۔ اسم ذات ہے ۔ کوشش ۔ محنت ۔ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ [ اور ان لوگوں کو جو نہیں پاتے مگر محنت سے ] ۔ 9 :79 ۔ (مفاعلہ ) ۔ مجاھدۃ ۔ کسی کے مقابلے پر محنت صرف کرنا ۔ کشمکش کرنا ۔ وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ [ اور جس نے کشمکش کی تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ کشمکش کرتا ہے اپنے ہی لیے ] 29:6 ۔ جاھد ۔ فعل امر ہے تو کشمکش کر ۔ جدوجہد کر۔ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا [ اور آپ ان سے جدوجہد کریں اس سے یعنی قرآن سے جیسے کہ بڑی جدوجہد کرنے کا حق ہے ] ۔ 52 : 56 ۔
ل و م :ـ (ن) لوما ۔ برا بھلا کہنا ۔ ملامت کرنا ۔ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ [ تو یہ وہ ہے تم عورتوں نے ملامت کی مجھ کو جس کے بارے میں ] ۔ 12:32 ۔ لم ۔ فعل امر ہے ۔ تو ملامت کر ۔ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ [ پس تم لوگ ملامت مت کرو مجھ کو اور ملامت کرو اپنے آپ کو ] ۔ 14:22 ۔ لومۃ اسم ذات ہے ۔ ملامت ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ لائم ۔ اسم الفاعل ہے ۔ ملامت کرنے والا۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ملوم ۔ اسم المفعول ہے ۔ ملامت کیا ہوا ۔ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ [ پس آپ منہ پھیر لیں ان سے تو آپ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں یعنی آپ پر کوئی الزام نہیں ہے ] ۔ 51 :54 ۔ لوام ۔ فعال ۔ کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بار بار ملامت کرنے والے نفس کی ] ۔ 75:6 ۔ (افعال) ۔ الا مۃ ۔ اپنے آپ کو ملامت کرنا۔ ملیم۔ اسم الفاعل ہے ۔ خود کو ملامت کرنے والا ۔ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيْمٌ [ تو ہم نے پھینکا ان کو پانی میں اس حال میں کہ وہ خود کو ملامت کرنے والا تھا ] ۔ 51:40 ۔ (تفاعل ) ۔ تلاوما ۔ ایک دوسرے کو ملامت کرنا ۔ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَلَاوَمُوْنَ [ تو ان کے بعض سامنکے آئے بعض کے ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہوئے ] ۔ 68:30 ۔
ح ز ب : (ن) ۔ حزبا۔ سخت ہونا ۔ مضبوط ہونا۔ حزب ۔ ج ۔ احزاب ۔ مضبوط جتھایا گروہ ۔ لشکر ۔ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ۭ [ اور گروہوں میں وہ بھی ہیں جو انکار کرتے ہیں اس کے بعض کا ] ۔ 13:36 ۔
ترکیب : یسارعون کی ضمیر فاعلی ھم ہے جو کہ الذین فی قلوبہم مرض کے لیے ہے جبکہ فیہم کی ضمیر یہود اور نصاری کے لیے ہے ۔ بالفتح کی با پر عطف ہونے کی وجہ سے امر مجرور ہوا ہے ۔ فیصبحوا کا فاسبیبہ ہے ۔ جھدا ایمانہم مرکب اضافی ہے اور اس کے مضاف جھد کی نصب بتارہی ہے کہ یہ پورا مرکب فعل محذوف جھدوا کا مفعول مطلق ہے ۔ یحبہم کی ضمیر فاعلی ھو ہے جو اللہ کے لیے ہے اور یحبونہ کی ضمیر فاعلی ھم ہے جو بقوم کے لیے بقوم کی صفت ہونے کی وجہ سے اذلۃ اور اعذۃ مجرور ہیں ۔ حزب اسم جمع ہے اس لیے اس کی خبر الغلبون جمع آئی ہے۔ ؎
نوٹ : 1 ۔ آیات زیر مطالعہ کے نزول کے وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا ۔ اگرچہ اسلام ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبردست تھیں ۔ اس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی ۔ عرب کے سرسبز و شاداب خطے ان کے قبضے میں تھے ۔ ان کے سودی قرضوں کا جال ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اس لیے دائرہ اسلام میں شامل کچھ دنیا پرستی کے روگی لوگوں کو خطرہ تھا کہ اسلام کا ساتھ دیتے ہوئے ان سب قوموں سے تعلقات منقطع کرنا سیاسی اور معاشی دونوں لحاظ سے خطرناک ہوگا ۔ (تفہیم القرآن )
کفر واسلام کی کشمکش کی جو صورتحال ان آیات کے نزول کے وقت عرب میں تھی ، بالکل وہی صورتحال آج پوری دنیا میں ہے ۔ آج بھی مسلم امت میں جہاں کچھ مخلص دیوانے ہیں ، وہیں دنیا پرست فرزانے بھی ہیں ، جو کافر قوموں سے قطع تعلق کو خود کشی قرار دے رہے ہیں کیونکہ کفار کی معاشی اور فوجی برتری ناقابل تسخیر نظر آرہی ہے۔ لیکن بہرحال اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ کہ بالآخر مسلم امت ہی غالب ہونے والی ہے (ان شاء اللہ ) ۔
یہ بات بھی ذہن میں واضح رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کی کسی ایک آیت سے کافروں سے تعلقات کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہے ۔ پورے قرآن مجید ، سنت اور صحابہ کرام ؓ اجمعین کے عمل کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل بنتا ہے اس کی وضاحت آیت نمبر ۔ 3:28 کے نوٹ ۔ 1 ، میں کی جاچکی ہے ۔ اس لحاظ سے آج تک (15: دسمبر 2002 ء ) امریکہ ، برطانیہ ، بھارت اور اسرائیل کافر حربی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ باقی غیر مسلم ممالک کو فی الحال کافر حربی قرار دینا محل نظر ہے۔
نوٹ : 2 ۔ آیت نمبر ۔ 51، میں کہا گیا ہے کہ یہود ونصری ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ یہ قرآن کی پیشنگوئیوں میں سے ایک ایسی پیشنگوئی ہے جواب پوری ہوئی ہے ۔ عیسائی عقیدے کے مطابق یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاتل ہیں ۔ اس لیے اس آیت کے نزول کے وقت یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے اور ان کی یہ دشمنی بیسویں صدی کے وسط تک قائم تھی ، حضرت عمر ؓ کے زمانے میں یروشلم پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا ۔ اس وقت وہاں مدتوں سے عیسائی حکومت تھی اور انھوں نے وہاں یہودیوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہوئی تھی ۔ حضرت عمر ؓ نے یہودیوں کو یروشلم میں آنے اور وہاں آباد ہونے کی اجازت دی تھی ۔ 1939 ء کی دوسری عالمی جنگ سے پہلے جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تو وہ لوگ جرمنی سے بھاگ کر یورپ کے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے ۔ اس وقت کوئی عیسائی ملک انھیں اپنے ملک میں آباد کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھا ۔ پھر بڑی کوششوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ملک کے لیے یہودیوں کو آباد کرنے کا کوٹہ مقرر کیا گیا ۔ کیوبا اور امریکہ میں آباد کیے جانے والے یہودیوں کو لے کر ایک بحری جہاز یورپ سے روانہ ہوا جب وہ کیوبا پہنچا تو وہاں کی حکومت نے اپنے کوٹے کے صرف بیس فیصد افراد کو اترنے کی اجازت دی اور باقی کو لینے سے انکار کردیا ۔ جب یہ جہاز امریکہ پہنچا تو انھوں نے ایک آدمی کو بھی اترنے کی اجازت نہیں دی اور سب کو لے کر جہاز کو یورپ واپس آنا پڑا ۔ پھر موجودہ پوپ سے پہلے پوپ صاحب نے یہودیوں کو عیسیٰ کا خون معاف کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست بنے ۔ اس طرح یہ قرآنی پیشنگوئی پوری ہوئی ہے ۔
Ayah 5:52[ فَتَرَى: پس تو دیکھے گا ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جن کے ] [ فِيْ قُلُوْبِهِمْ : دلوں میں ] [ مَّرَضٌ: ایک روگ ہے ] [ يُّسَارِعُوْنَ : (کہ ) وہ لپکتے ہیں ] [ فِيْهِمْ : ان میں ] [ يَقُوْلُوْنَ : (اور) کہتے ہیں ] [ نَخْشٰٓى: ہم ڈرتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ تُصِيْبَنَا : آن لگے ہم کو ] [ دَاۗىِٕرَةٌ: کوئی گردش ] [ ۭفَعَسَى: تو قریب ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّاْتِيَ : وہ لے آئے ] [ بِالْفَتْحِ : فتح ] [ اَوْ : یا ] [ اَمْرٍ : کوئی حکم ] [ مِّنْ عِنْدِهٖ : اپنے پاس سے ] [ فَيُصْبِحُوْا : نتیجتا وہ ہوجائیں ] [ عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [ اَ سَرُّوْا : انھوں نے چھپایا ] [ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : اپنے جیئوں میں ] [ نٰدِمِيْنَ : ندامت کرنے والے ]
Ayah 5:53[ وَيَقُوْلُ : اور کہیں گے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اَ : کیا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ : وہ لوگ ہیں جنہوں نے ] [ اَقْسَمُوْا : قسم کھائی ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کی ] [ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ: جیسا کہ اپنی قسموں سے کوشش کرنے کا حق ہے ] [ اِنَّهُمْ : کہ وہ لوگ ] [ لَمَعَكُمْ ۭ: ضرور تمہارے ساتھ ہیں ] [ حَبِطَتْ : اکارت ہوئے ] [ اَعْمَالُهُمْ : ان کے اعمال ] [ فَاَصْبَحُوْا : تو وہ ہوگئے ] [ خٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والے ]
Ayah 5:54[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ مَنْ : جو ] [ يَّرْتَدَّ : پھرے گا ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ عَنْ دِيْنِهٖ : اپنے دین سے ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ يَاْتِي : لائے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِقَوْمٍ : ایک ایسی قوم ] [ يُّحِبُّهُمْ : وہ محبت کرے گا جن سے ] [ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ: اور وہ محبت کریں گے اس سے ] [ ۙ اَذِلَّةٍ : نرم ہوں گے ] [ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں پر ] [ اَعِزَّةٍ : سخت ہوں گے ] [ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ: کافروں پر ] [ يُجَاهِدُوْنَ : وہ لوگ جدوجہد کریں گے ] [ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَلَا يَخَافُوْنَ : اور وہ نہیں ڈریں گے ] [ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ۭ: کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ فَضْلُ اللّٰهِ : اللہ کا فضل ہے ] [ يُؤْتِيْهِ : وہ دیتا ہے اسے ] [ مَنْ : اس کو جسے ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ ۭوَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ وَاسِعٌ: وسعت رکھنے والا ہے ] [ عَلِيْمٌ: علم والا ہے ]
Ayah 5:55[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ وَلِيُّكُمُ : تم لوگوں کا کارساز ] [ اللّٰهُ : اللہ ہے ] [ وَرَسُوْلُهٗ : اور اس کے رسول ہیں ] [ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ ہیں جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ الَّذِيْنَ : جو لوگ (کہ )] [ يُقِيْمُوْنَ : قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَيُؤْتُوْنَ : اور پہنچاتے ہیں ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ کو ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ رٰكِعُوْنَ : جھکنے والے ہیں ]
Ayah 5:56وَمَنْ : اور جو ] [ يَّتَوَلَّ : دوستی کرے گا ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول سے ] [ وَالَّذِيْنَ : اور ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ فَاِنَّ : تو بیشک ] [ حِزْبَ اللّٰهِ : اللہ کی جماعت ] [ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ : ہی غالب ہونے والی ہے ]
Ayah 5:57[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تَتَّخِذُوا : تم لوگ مت بناؤ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جنھوں نے ] [ اتَّخَذُوْا : بنایا ] [ دِيْنَكُمْ : تمہارے دین کو ] [ هُزُوًا : تمسخر ] [ وَّلَعِبًا : اور تفریح ] [ مِّنَ الَّذِيْنَ : ان لوگوں میں سے جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے ] [ وَالْكُفَّارَ : اور (نہ ہی ) کافروں کو ] [ اَوْلِيَاۗءَ : (اپنا ) کارساز ] [ ۚوَاتَّقُوا ا : اور تقوی اختیار کرو ] [ للّٰهَ : اللہ کا ] [ اِنْ؛اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ]
ل ع ب ۔ (ف) ۔ لعبا۔ بچے کے منہ سے رال ٹپکنا ۔ لعاب نکلنا ۔ (س) ۔ لعبا ۔ تفریح کے لیے کوئی کام کرنا ۔ اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ يَلْعَبُوْنَ [ اور کیا امن میں ہوگئے بستی والے اس سے کہ ان کے پاس آئے ہماری سختی دن کے وقت اس حال میں کہ وہ کھیلتے ہوں ] ۔ 7:98 ۔ لعب۔ اسم ذات ہے ۔ کھیل کود۔ تفریح ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ لاعب، اسم الفاعل ہے۔ کھیلنے والا ۔ کھلاڑی ، اَجِئْـتَنَا بِالْحَــقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ [ کیا تو لایا ہمارے پاس حق یا تو کھلینے والوں میں سے ہے ] 21: 55 ۔
ترکیب : لا تتخذوا کے مفعول اول الذین اتتخذوا اور الکفار ہیں جبکہ اس کا مفعول ثانی اولیاء ہے الذین اتتخذوا کا مفعول اول دینکم جبکہ اس کے مفعول ثانی ھزوا اور لعبا ہیں ۔ من الذین کا من بیانیہ ہے ۔ اتخذوھا کی ضمیر مفعولی نادیتم کے مصدر مناداۃ کے لیے ہے ۔ انبئکم کا مفعول بشر من ذلک ہے اور شر افعل تفضیل ہے ( دیکھیں آسان عربی گرامر ، پیراگراف ۔ 6:61) جبکہ مثوبۃ اس کی تمیز ہے ۔ شر بھی افعل تفضیل ہے اور مکانا اس کی تمیز ہے ۔
Ayah 5:58وَاِذَا [ اور جب بھی ] نَادَيْتُمْ [ تم لوگ پکارتے ہو ] اِلَى الصَّلٰوةِ [ نماز کی طرف ] اتَّخَذُوْهَا [ تو وہ لوگ بناتے ہیں اس کو ] هُزُوًا [ تمسخر ] وَّلَعِبًا [ اور تفریح ] ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس لیے کہ وہ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال نہیں کرتے ]
Ayah 5:59قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب ] هَلْ تَنْقِمُوْنَ [ تم لوگ کیا برا مانتے ہو ] مِنَّآ [ ہم سے ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْنَا [ ہماری طرف ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] مِنْ قَبْلُ ۙ [ اس سے پہلے ] وَاَنَّ [ اس حال میں کہ ] اَكْثَرَكُمْ [ تمہارے اکثر لوگ ] فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:60قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] هَلْ [ کیا ] اُنَبِّئُكُمْ [ میں خبر دوں تم لوگوں ] بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ [ اس سے زیادہ بری چیز کی ] مَثُوْبَةً [ بطور بدلے کے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] مَنْ [ وہ لوگ ] لَّعَنَهُ [ لعنت کی جن پر ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَغَضِبَ [ اور اس نے غضب کیا ] عَلَيْهِ [ جن پر ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] مِنْهُمُ [ جن میں سے ] الْقِرَدَةَ [ بندر ] وَالْخَـنَازِيْرَ [ اور سور ] وَعَبَدَ [ اور جنھوں نے غلامی کی ] الطَّاغُوْتَ ۭ [ طاغوت کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] شَرٌّ [ سب سے زیادہ برے ہیں ] مَّكَانًا [ بلحاظ ٹھکا نے کے ] وَّاَضَلُّ [ اور سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ] عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ [ درمیانی راہ سے ]
Ayah 5:61وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءُوْكُمْ [ وہ آتے ہیں تمہارے پاس ] قَالُوْٓا [ تو کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] وَ [ حالانکہ ] قَدْ دَّخَلُوْا [ وہ داخل ہوئے ہیں ] بِالْكُفْرِ [ کفر کے ساتھ ] وَهُمْ [ اور وہ ] قَدْ خَرَجُوْا [ نکلے ہیں ] بِهٖ ۭ [ اس کے ساتھ ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جانتا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ [ وہ لوگ چھپا یا کرتے ہیں ]
Ayah 5:62وَتَرٰى [ اور آپ دیکھیں گے ] كَثِيْرًا [ بہت سے لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يُسَارِعُوْنَ [ کہ وہ لوگ باہم سبقت کرتے ہیں ] فِي الْاِثْمِ [ گناہ میں ] وَالْعُدْوَانِ [ اور زیادتی میں ] وَاَكْلِهِمُ [ اور اپنے کھانے میں ] السُّحْتَ ۭ [ ناپاک کمائی کو ] لَبِئْسَ [ یقینا بہت برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کیا کرتے ہیں ]
آیت نمبر۔ 5: 62 تا 66
طء (س) طفوء ۔ کسی چیز کی روشنی کا ختم ہوجانا ۔ آگ کا بجھ جانا ۔ (افعال ) اطفاء ۔ روشنی کو ختم کرنا ۔ آگ بجھانا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ق ص د (ض) قصدا ۔ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا ۔ اقصد ۔ فعل امر ہے ۔ تومیانہ روی اختیار کر۔ واقصد فی مشیک [ اور تم میانہ روی اختیار اپنی چال میں ] ۔ 1:19 ۔ قصد ۔ کسی چیز کا اوسط ۔ درمیان ۔ وعلی اللہ قصد السبیل [ اور اللہ پر ہے راستے کا اعتدال یعنی اسے واضح کرنا ] ۔ 16:9 ۔ قاصد ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ درمیان میں ہونے والا یعنی درمیانی ۔ متوسط ۔ لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ [ اگر ہوتا کوئی قریبی سامان سفر تو وہ لوگ ضرور پیروی کرتے آپ کی ] ۔ 9 :42 ۔ (افتعال) اقتصادا۔ اہتمام سے میانہ رو ہونا ۔ مقتصد ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اہتمام سے میانہ روی اختیار کرنے والا یعنی میانہ رو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : کثیرا صفت ہے ، اس کا موصوف رجالا محذوف ہے ۔ فی پر عطف ہونے کی وجہ سے اکلہم کا مضاف اکل مجرور ہوا اور اس مصدر نے فعل کا عمل کیا ہے ، السحت اس کا مفعول ہے ۔ اسی طرح قولہم کے مصدر قول کا مفعول الاثم ہے ۔ لولا کے بعد فعل مضارع ینھی آیا ہے ۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ ہوگا ۔ (آیت نمبر ۔ 2 :64، نوٹ ۔ 1) الیھود عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے واحدمؤنث قالت بھی جائز ہے ۔ ید للہ مغلولۃ اگر قالت کا مفعول ہوتا تو پھر ید اللہ آتا ۔ ید کی رفع بتارہی ہے کہ یہود جس طرح کہتے تھے ، ان کی بات کو ویسے ہی یعنی (TENSE DIRECT) میں نقل کیا گیا ہے ، عربی میں اعراب کی سہولت موجود ہونے کی وجہ سے مقولہ (TENSE DIRECT) کی پہچان کے لیے کوئی شناختی نشان لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی ، جیسے کہ انگریزی میں ضرورت ہوتی ہے ۔ یدہ میں ید دراصل یدان تھا ۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے اور ہ کی ضمیر اس کا مضاف الیہ ہے ید مؤنث سماعی ہے اس لیے اس کی خبر میں مبسوطۃ کا تثنیہ مبسوطتن آیا ہے ۔ لیریدن کا مفعول کثیرا ہے اور یہاں بھی رجالا محذوف ہے، جبکہ اس کا فاعل ماانزل ہے ۔ طغیانا اور کفرا اس کی تمیز ہیں ۔ آیت نمبر ۔ 65 ۔ 66، دنوں میں لو شرطیہ ہیں ۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ اس لحاظ سے ہوگا ۔ ساء آفاقی صداقت ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:49، نوٹ ۔ 2)
نوٹ : 1 ۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب کسی قوم میں گناہ کے کام کئے جائیں اور کوئی آدمی اس قوم میں رہتا ہے اور ان کو منع نہیں کرتا تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب بھیج دے ۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے ایک لاکھ آدمی عذاب سے ہلاک کئے جائیں گے ، جن میں چالیس ہزار نیک لوگ ہیں اور ساٹھ ہزار بدعمل ہیں ۔ انھوں نے عرض کیا کہ رب العالمین بدکاروں کی ہلاکت کی وجہ تو ظاہر ہے لیکن نیک لوگوں کو کیوں ہلاک کیا جارہا ہے تو ارشاد ہوا کہ یہ نیک لوگ ان بدکاروں کے ساتھ کھانے پینے اور ہنسی دل لگی میں شریک رہتے تھے۔ میری نافرمانیاں اور گناہ دیکھ کر بھی ان کے چہرے پر کوئی ناگواری کا اثر تک نہ آیا (معارف القرآن )
Ayah 5:63لَوْلَا [ کیوں نہ ایسا ہوا کہ ] يَنْھٰىهُمُ [ روکتے ان کو ] الرَّبّٰنِيُّوْنَ [ اللہ والے ] وَالْاَحْبَارُ [ اور علماء ] عَنْ قَوْلِهِمُ [ ان کی بات سے ] الْاِثْمَ [ گناہ کی ] وَاَكْلِهِمُ [ اور ان کے کھانے سے ] السُّحْتَ [ ناپاک کمائی کو ] لَبِئْسَ [ یقینا بہت برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ [ وہ لوگ ہنر مندی کیا کرتے ہیں ]
Ayah 5:64وَقَالَتِ [ اور کہا ] الْيَھُوْدُ [ یہودیوں نے ] يَدُاللّٰهِ [ اللہ کا ہاتھ ] مَغْلُوْلَةٌ ۭ [ بندھا ہوا ہے ] غُلَّتْ [ باندھے گئے ] اَيْدِيْهِمْ [ ان کے ہاتھ ] وَلُعِنُوْا [ اور ان پر لعنت کی گئی ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] قَالُوْا ۘ [ انھوں نے کہا ] بَلْ [ بلکہ ] يَدٰهُ [ اس کے دونوں ہاتھ ] مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ [ کھلے ہوئے ہیں ] يُنْفِقُ [ وہ خرچ کرتا ہے ] كَيْفَ [ جیسے ] يَشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا [ بہت سے لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف سے ) ] طُغْيَانًا [ بلحاظ سرکشی کے ] وَّكُفْرًا ۭ [ اور بلحاظ انکار کے ] وَاَلْقَيْنَا [ اور ہم نے ڈالا ] بَيْنَهُمُ [ ان کے مابین ] الْعَدَاوَةَ [ عداوت ] وَالْبَغْضَاۗءَ [ اور بغض ] اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن تک ] كُلَّمَآ [ جب بھی ] اَوْقَدُوْا [ وہ لوگ بھڑکاتے ہیں ] نَارًا [ کوئی آگ ] لِّـلْحَرْبِ [ لڑائی کے لیے ] اَطْفَاَهَا [ تو بجھاتا ہے اس کو ] اللّٰهُ ۙ [ اللہ ] وَيَسْعَوْنَ [ اور وہ لوگ تک ودو کرتے ہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَسَادًا ۭ [ نظم بگاڑتے ہیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں کو ]
Ayah 5:65وَلَوْ اَنَّ [ اور اگر یہ کہ ] اَهْلَ الْكِتٰبِ [ اہل کتاب ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائیں ] وَاتَّقَوْا [ اور تقوی اختیار کریں ] لَكَفَّرْنَا [ تو ہم دور کردیں گے ] عَنْهُمْ [ ان سے ] سَيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں کو ] وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ [ اور ہم داخل کریں گے ان کو ] جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [ ہمیشہ سرسبزی کے باغات میں ]
Ayah 5:66وَلَوْ اَنَّهُمْ [ اور اگر یہ کہ وہ لوگ ] اَقَامُوا [ قائم کریں ] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ] وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] مِّنْ رَّبِّهِمْ [ ان کے رب (کی طرف ) سے ] لَاَكَلُوْا [ تو وہ لوگ کھائیں گے ] مِنْ فَوْقِهِمْ [ اپنے اوپر سے ] وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭ [ اور اپنے پیروں کے نیچے سے ] مِنْهُمْ [ ان میں ] اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ [ ایک میانہ روگروہ ہے ] وَكَثِيْرٌ [ اور اکثر ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] سَاۗءَ [ برا ہے ] مَا [ وہ ، جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ کرتے ہیں ]
Ayah 5:67يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ [ اے رسول !] بَلِّــغْ [ آپ پہنچاتے رہیں ] مَآ [ اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ ۭ [ آپ کی رب (کی طرف ) سے ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ تَفْعَلْ [ آپ (یہ ) نہیں کریں گے ] فَمَا بَلَّغْتَ [ تو آپ نے نہیں پہنچایا ] رِسَالَتَهٗ ۭ [ اس کے پیغام کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْصِمُكَ [ بچائے گا آپ کو ] مِنَ النَّاسِ ۭ [ لوگوں سے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ [ کافر قوم کو ]
ترکیب : لستم کا اسم اس میں شامل انتم کی ضمیر ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور علی شیء قائم مقام خبر ہے ۔ فلاتاس فعل نہی ہے اور مجزوم ہونے کی وجہ سے تاسی کی ’ یا ‘ گری ہوئی ہے ۔ من امن میں منہم محذوف ہے ۔ خوف مبتداء نکرہ ہے ، اس کی خبر محذوف ہے اور علیہم قائم مقام خبر ہے ۔ وارسلنا میں لقد محذوف ہے ۔ فریقا کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کذبوا اور یقتلون کے مفعول مقدم ہیں ۔ الا میں ان کی وجہ سے تکون منصوب ہوا ہے اور یہ کان تامہ ہے
Ayah 5:68قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب !] لَسْتُمْ [ تم لوگ نہیں ہو ] عَلٰي شَيْءٍ [ کسی چیز پر ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] تُقِيْمُوا [ تم لوگ قائم کرو ] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ] وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تم لوگوں کی طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا ] [ اکثرا لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ ، جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] طُغْيَانًا [ بلحاظ سرکشی کے ] وَّكُفْرًا ۚ [ اور بلحاظ انکار کرنے کے ] فَلَا تَاْسَ [ پس آپ افسوس نہ کریں ] عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ [ کافر قوم پر ]
Ayah 5:69اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَالَّذِيْنَ هَادُوْا [ اور جو یہودی ہوئے ] وَالصّٰبِـُٔــوْنَ [ اور صائبی ہوئے ] وَالنَّصٰرٰى [ اور نصاری ہوئے ] مَنْ [ (ان میں سے ) جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَعَمِلَ [ اور عمل کیا ] صَالِحًا [ نیک ] فَلَا خَوْفٌ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَلَا هُمْ [ اور نہ وہ لوگ ] [ يَحْزَنُوْنَ : غمگین ہوتے ہیں ]
Ayah 5:70لَقَدْ اَخَذْنَا [ یقینا ہم لے چکے ہیں ] مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کا پختہ عہد ] وَاَرْسَلْنَآ [ اور ہم بھیج چکے ہیں ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] رُسُلًا ۭ [ بہت سے رسول ] كُلَّمَا [ جب بھی ] جَاۗءَهُمْ [ آیا ان کے پاس ] رَسُوْلٌۢ [ کوئی رسول ] بِمَا [ اس کے ساتھ جو ] لَا تَهْوٰٓى [ پسند نہیں کرتے ] اَنْفُسُهُمْ ۙ [ ان کے جی ] فَرِيْقًا [ تو ایک فریق کو ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] وَفَرِيْقًا [ اور ایک فریق کو ] يَّقْتُلُوْنَ [ وہ قتل کرتے ہیں ]
Ayah 5:71وَحَسِبُوْٓا [ اور انھوں نے گمان کیا ] اَلَّا تَكُوْنَ [ کہ نہیں ہوگی ] فِتْنَةٌ [ کوئی آفت ] فَعَمُوْا [ پس وہ لوگ اندھے ہوئے ] وَصَمُّوْا [ اور بہرے ہوئے ] ثُمَّ تَابَ [ متوجہ ہوا (اپنی شفقت کے ساتھ )] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] ثُمَّ [ پھر ] عَمُوْا [ اندھے ہوگئے ] وَصَمُّوْا [ اور بہرے ہوگئے ] كَثِيْرٌ [ اکثر ] مِّنْهُمْ ۭ [ ان میں سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بَصِيْرٌۢ [ ہمیشہ دیکھنے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ۔]
Ayah 5:72لَقَدْ كَفَرَ [ یقینا کفر کرچکے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ الْمَسِيْحُ [ ہی مسیح ہے ] ابْنُ مَرْيَمَ ۭ [ جو مریم کا بیٹا ہے ] وَ [ حالانکہ ] قَالَ [ کہا ] الْمَسِيْحُ [ مسیح نے ] يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ اے بنی اسرائیل ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] رَبِّيْ [ جو میرا رب ہے ] وَرَبَّكُمْ ۭ [ اور تمہارا رب ہے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] مَنْ [ جو ] يُّشْرِكْ [ شرک کرتا ہے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] فَقَدْ حَرَّمَ [ تو حرام کرچکا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِ [ اس پر ] الْجَنَّةَ [ جنت کو ] وَمَاْوٰىهُ [ اور اس کا ٹھکانہ ] النَّارُ ۭ [ آگ ہے ] وَمَا [ اور نہیں ہے ] لِلظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کے لیے ] مِنْ اَنْصَارٍ [ کسی قسم کا کوئی مددگار ]
ءک : (ض) ۔ افکا ۔ (1) کسی چیز کو اس کے رخ سے پھیر دینا ۔ (2) جھوٹ گھڑنا ۔ جھوٹی چیزیں بنانا ۔ قَالُوْٓا اَجِئْتَـنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا ۚ ۔ [ کیا تو آیا ہمارے پاس تاکہ تو پھیر دے ہم کو ہمارے خداؤں سے ] 46:22 فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ [ تو جب ہی وہ نکلتی ہے اس کو جو وہ لوگ جھوٹ بناوٹ کرتے ہیں ] ۔ 7:117 ۔ افک ۔ اسم ذات ہے ۔ گھڑا ہوا جھوٹ ۔ بہتان ۔ ھذا افک مبین [ یہ ایک کھلا بہتان ہے ] ۔ 24:12 ۔ افاک ۔ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بار بار یا بکثرت جھوٹ گھڑنے والا ۔ بہتان لگانے والا ۔ وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ [ تباہی ہے ہر ایک بہتان باز گنہگار کے لیے ] ۔ 45:7 ۔ (افتعال ) ایتفا کا ۔ کسی جگہ یا بستی کا الٹ جانا ۔ اوندھا ہونا ۔ مؤتفکۃ۔ اسم الفاعل ہے ۔ الٹ جانے والی ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى [ اور الٹ جانے والی بستی کو اس نے نیچے گرایا ] ۔ 53: 53 ۔
ترکیب : ان کا اسم اللہ ہے، المسیح اس کی خبر معرف باللام آئی ہے اس لیے ھو کی ضمیر فاصل آئی ہے جبکہ ابن مریم بدل ہے المسیح کا ۔ انہ میں ہ کی ضمیر ان کا اسم ہے جبکہ من یشرک سے الجنۃ تک پورا جملہ اس کی خبر ہے ۔ قدخلت کا فاعل الرسل ہے جو عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے واحد مؤنث کا صیغہ بھی جائز ہے ۔ امہ میں ہ کی ضمیر المسیح کے لیے ہے ۔ غیرالحق حال ہے اس لیے غیر منصوب ہوا ہے ۔
نوٹ :1 ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی پیروکار جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انھوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دی تھی ۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف ان کی تعظیم میں غلو کرکے اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے ادہام اور فلسفوں سے متاثر ہوکر ایک بالکل نیا مذہب تیار کرلیا جس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل تعلیمات سے دور کا واسطہ بھی نہ رہا ۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں JESUS CHRIST کے عنوان پر ایک مسیحی عالم دینیات ریواینڈ چارلس اینڈ رسن اسکاٹ کا ایک طویل مضمون شامل ہے ۔ اس میں صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ پہلی تین انجیلوں (متی ۔ مرقس ۔ لوقا) میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکتا ہو کہ ان انجیلوں کے لکھنے والے یسوع کو انسان کے سوا کچھ اور سمجھتے تھے ۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھے ۔ درحقیقت ان کے حاضروناضر ہونے کا اگر دعوی کیا جائے تو یہ اس پورے تصور کے بالکل خلاف ہوگا جو ہمیں انجیلوں سے حاصل ہوتا ہے ۔ پھر مسیح کو قادر مطلق سمجھنے کی گنجائش تو انجیلوں میں اور بھی کم ہے ۔ فی الواقع یہ بات ان انجیلوں (یعنی مذکورہ تین انجیلوں ) کے تاریخی حیثیت سے معتبر ہونے کی اہم شہادت ہے کہ ان میں ایک طرف مسیح کے فی الحقیقت انسان ہونے کی شہادت محفوظ ہے اور دوسری طرف ان کے اندر کوئی شہادت اس امر کی موجود نہیں ہے کہ مسیح اپنے آپ کو خدا سمجھتے تھے ۔ یہ سینٹ پال تھا جس نے اعلان کیا کہ واقعہ رفع کے وقت اسی فعل رفع کے ذریعہ سے یسوع کو پورے اختیارات کے ساتھ ابن اللہ کے مرتبہ پر اعلانیہ فائز کیا گیا ۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک دوسرے مضمون CHRISTIANITY میں ریورنڈ جارج ولیم ناکس مسیح کلیسا کے بنیادی عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عقیدہ تثلیت کا فکری سانچہ یونانی ہے اور یہودی تعلیمات اس میں ڈھالی گئی ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے لیے ایک عجیب قسم کا مرکب ہے ۔ مذہبی خیالات بائبل کے اور ڈھلے ہوئے ایک اجنبی فلسفے کی صورتوں میں ۔ نیقیا کی کونسل نے اس عقدے میں جو درج کیا ہے اسے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی تمام خصوصیات میں بالکل یونانی فکر کا نمونہ ہے ۔
اسی سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے ایک اور مضمون CHURCH HISTORY میں لکھا ہے کہ تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ سے پہلے مسیح کو عام طور پر ” کلام “ کا جدی ظہور تو مان لیا گیا تھا تاہم بکثرت عیسائی ایسے تھے جو مسح کی الوہیت کے قائل نہ تھے ۔ چوتھی صدی میں اس مسئلہ پر سخت بحثیں چھڑی ہوئی تھیں جن سے کلیسا کی بنیادیں ہل گئی تھیں ۔ آخرکار 325 ء میں نیقیا کی کونسل نے الوہیت مسیح کو باضابطہ سرکاری طور پر اصل مسیحی عقیدہ قرار دیا اور مخصوص الفاظ میں اسے مرتب کردیا ۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ مدت تک جھگڑا چلتا رہا لیکن آخری فتح نیقیا ہی کے فیصلے کی ہوئی ۔ اس طرح عقیدہ تثلیث مسیحی مذہب کا ایک جزو لاینفک قرار پا گیا ۔
نوٹ :2 ۔ ابن حزم وغیرہ کی رائے ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نبیہ تھیں کیونکہ بی بی سارہ سے فرشتوں نے کلام کیا تھا (11:73) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی تھی (28:7) اور بی بی مریم سے بھی فرشتے نے کلام کیا تھا (19: 19) جبکہ جمہور علماء کی رائے ہے کہ نبوت مردوں میں رہتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے پیغام دے کر نہیں بیجھا آپ سے پہلے مگر مردوں کو (12:109) ۔ (تفسیر ابن کثیر سے ماخوذ)
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کسی سے صرف فرشتوں کا خطاب کرلینا یا کسی کی طرف اللہ کا وحی بھیج دینا اس کے نبی ہونے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ نبی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی قوم کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مامور بھی کیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ زیر مطالعہ آیت نمبر 75 میں بی بی مریم کو نبیہ کے بجائے صدیقہ کہا گیا ہے ۔
Ayah 5:73لَقَدْ كَفَرَ [ بیشک کفر کرچکے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ [ تین کا تیسرا ہے ] وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ اِلٰهٍ [ کسی قسم کا کوئی الہ ] اِلَّآ [ سوائے ] اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭ [ واحد الہ کے ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ يَنْتَھُوْا [ یہ لوگ باز نہ آئے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ کہتے ہیں ] لَيَمَسَّنَّ [ تو لازما پہنچے گا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ]
Ayah 5:74اَفَلَا [ تو کیوں نہیں ] يَتُوْبُوْنَ [ یہ لوگ پلٹتے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭ [ اور معافی مانگتے اس سے ] وَ [ جبکہ ] اللّٰهُ [ اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہامعاف کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 5:75مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ [ مریم کے بیٹے مسیح نہیں ہیں ] اِلَّا [ مگر ] رَسُوْلٌ ۚ [ ایک رسول ] قَدْ خَلَتْ [ گزرچکے ہیں ] مِنْ قَبْلِهِ [ ان سے پہلے ] الرُّسُلُ ۭ [ بہت سے رسول ] وَاُمُّهٗ [ اور ان کی والدہ ] صِدِّيْقَةٌ ۭ [ سچی ہیں ] كَانَا يَاْكُلٰنِ [ وہ دونوں کھاتے تھے ] الطَّعَامَ ۭ [ کھانا ] اُنْظُرْ [ تو دیکھو ] كَيْفَ [ کیسے ] نُبَيِّنُ [ ہم واضح کرتے ہیں ] لَهُمُ [ ان کے لیے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] ثُمَّ انْظُرْ [ پھر دیکھو ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ [ یہ لوگ پھیرے جاتے ہیں ]
Ayah 5:76قُلْ [ آپ کہئے ] اَتَعْبُدُوْنَ [ کیا تم لوگ عبادت کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی جو ] لَا يَمْلِكُ [ مالک نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] ضَرًّا [ کسی نقصان کا ] وَّلَا نَفْعًا ۭ [ اور نہ ہی کسی نفع کا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 5:77قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب ] لَا تَغْلُوْا [ تم لوگ زیادتی مت کرو ] فِيْ دِيْنِكُمْ [ اپنے دین میں ] غَيْرَ الْحَقِّ [ ناحق کی ] وَلَا تَتَّبِعُوْٓا [ اور پیروی مت کرو ] اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کی خواہشات کی ] قَدْ ضَلُّوْا [ جو بھٹک چکے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَاَضَلُّوْا [ اور جنھوں نے گمراہ کیا ] كَثِيْرًا [ بہتوں کو ] وَّضَلُّوْا [ اور گمراہ ہوئے ] عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ [ راستے کے بیچ سے ]
Ayah 5:78لُعِنَ [ لعنت کی گئی ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل میں سے ] عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ [ داؤد کی زبان پر (یعنی سے ) وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭ [ اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِمَا [ اس سبب سے کہ ] عَصَوْا [ انھوں نے نافرمانی کی ] وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ [ اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ]
ق س س : (ن) قسا ۔ رات میں کسی چیز کی جستجو کرنا ۔ قسیس۔ رات میں علم کی جستجو کرنے والا ۔ نصاری کا عالم پادری ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
د م ع : (ف) دمعا ۔ آنسو جاری ہونا ۔ دمع ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ آنسو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : و عیسیٰ ابن مریم میں ابن کی جز بتارہی ہے کہ یہ فقرہ بھی علی لسان کا مضاف الیہ ہے ۔ یتناھون باب تفاعل کا مضارع ہے فعلوہ کی ضمیر مفعولی منکر کے لیے ہے ۔ ھم مبتداء ہے ، خلدون اس کی خبر ہے اور فی العذاب متعلق خبر مقدم ہے ۔ لو شرطیہ ہے ۔ کانوا سے الیہ تک شرط ہے اور مااتخذوا جواب شرط ہے ۔ کانوا کا اسم اس میں ھم کی ضمیر ہے اور یؤمنون اس کی خبر ہے ۔ لتجدن کا مفعول اول اشد ہے جبکہ الیھود اور والذین اشرکوا مفعول ثانی ہیں ۔ بان کا اسم قسیسین اور رھبانا ہیں ، اس کی خبر محذوف ہے اور منہم قائم مقام خبر مقدم ہے ۔
نوٹ : 1 ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلی برائی بنی اسرائیل میں یہی داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا ۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا اور میل جول باقی رکھتا ۔ اس وجہ سے سب میں ہی سنگ دلی آگئی ۔ (ابو داؤد ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر کوئی عذاب بھیج دے گا ۔ پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا (مسند احمد اور ترمذی ) ایک اور حدیث میں فرمایا کہ اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں (ابن ماجہ ) ۔ (منقول از ابن کثیر) نوٹ : 2 ۔ آیات زیر مطالعہ میں یہود، مشرکین اور نصاری کے متعلق جو بات کی گئی ہے وہ مطلق نہیں ہے بلکہ تناسب کے لحاظ سے ہے ۔ آج بھی صورتحال یہی ہے کہ یہودی اور آج کے مشرک یعنی ہندو ، مسلمانوں کا وجود بھی گوارہ نہیں کرتے اور انھیں صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لیے کوشاں ہیں ، جبکہ عیسائی بھی مسلمانوں کو مغلوب اور دست نگر بنا کر رکھنے کے لیے تو کوشاں ہیں لیکن اس مخالفت میں وہ اتنے شدید نہیں ہیں ۔
Ayah 5:79كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ [ ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے ] عَنْ مُّنْكَرٍ [ کسی برائی سے ] فَعَلُوْهُ ۭ [ جو انھوں نے کیں ] لَبِئْسَ [ تو کتنا برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 5:80تَرٰى [ تو دیکھے گا ] كَثِيْرًا [ اکثر کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يَتَوَلَّوْنَ [ کہ وہ دوستی کرتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۭ [ کفر کیا ] لَبِئْسَ [ توکتنا برا ہے ] مَا [ وہ جو ] قَدَّمَتْ [ آگے بھیجا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کے نفسوں نے ] اَنْ [ کہ ] سَخِـــطَ [ غصہ کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَفِي الْعَذَابِ [ اور عذاب میں ] هُمْ [ وہ لوگ ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 5:81وَلَوْ [ اور اگر ] كَانُوْا [ وہ لوگ ہوتے ] يُؤْمِنُوْنَ [ کہ ایمان لاتے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالنَّبِيِّ [ اور ان نبی پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْهِ [ ان کی طرف ] مَا اتَّخَذُوْهُمْ [ تو نہ بناتے ان کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ دوست ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] كَثِيْرًا [ اکثر ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 5:82لَتَجِدَنَّ [ تو لازما پائے گا ] اَشَدَّ النَّاسِ [ لوگوں میں سب سے سخت ] عَدَاوَةً [ بلحاظ عداوت کے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] الْيَھُوْدَ [ یہودیوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کو جنھوں نے ] اَشْرَكُوْا ۚ [ شرک کیا ] وَلَتَجِدَنَّ [ اور تو لازما پائے گا ] اَقْرَبَهُمْ [ ان میں سب سے قریب ] مَّوَدَّةً [ بلحاظ دوستی کے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّا [ کہ ہم ] نَصٰرٰى ۭ [ نصرانی ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے کہ ] مِنْهُمْ [ ان میں ] قِسِّيْسِيْنَ [ علماء ہیں ] وَرُهْبَانًا [ اور درویش ہیں ] وَّاَنَّهُمْ [ اور یہ کہ وہ لوگ ] لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ [ تکبر نہیں کرتے ]
Ayah 5:83وَاِذَا [ اور جب ] سَمِعُوْا [ وہ سنتے ہیں ] مَآ [ اس کو جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَى الرَّسُوْلِ [ ان رسول کی طرف ] تَرٰٓي [ تو ، تو دیکھتا ہے ] اَعْيُنَهُمْ [ ان کی آنکھوں کو ] تَفِيْضُ [ بھر آتی ہیں ] مِنَ الدَّمْعِ [ آنسوں سے ] مِمَّا [ اس سے جو ] عَرَفُوْا [ انھوں نے پہچانا ] مِنَ الْحَـقِّ ۚ [ حق میں سے ] يَقُوْلُوْنَ [ وہ کہتے ہیں ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب !] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] فَاكْتُبْنَا [ پس تو لکھ دے ہم کو ] مَعَ الشّٰهِدِيْنَ [ گواہی دینے والوں کے ساتھ ]
Ayah 5:84[ وَمَا لَنَا : اور کیا ہے ہم کو ] [ لَا نُؤْمِنُ : (کہ ) ہم ایمان نہ لائیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَمَا : اور اس پر جو ] [ جَاۗءَنَا : آیا ہمارے پاس ] [ مِنَ الْحَقِّ ۙ : حق میں سے ] [ وَنَطْمَعُ : اور ہم امید کرتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّدْخِلَنَا : داخل کرے گا ہم کو ] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ] [ مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ : صالح لوگوں کے ساتھ ]
Ayah 5:85[ فَاَثَابَهُمُ : تو بدلے میں دیا ان کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ بِمَا : سبب اس کے جو ] [ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْاَنْھٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوتے ] [ فِيْهَا ۭ: اس میں ] [ وَ : اور ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کا بدلہ ہے ]
Ayah 5:86[ وَالَّذِيْنَ : اور جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَكَذَّبُوْا : اور جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَآ : ہماری نشانیوں کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ الْجَــحِيْمِ : جہنم والے ہیں ] ۔
Ayah 5:87[ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تُحَرِّمُوْا : تم لوگ حرام مت کرو ] [ طَيِّبٰتِ مَآ : اس کے پاکیزہ کو جس کو ] [ اَحَلَّ : حلال کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ: اور حد سے مت بڑھو ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ الْمُعْتَدِيْنَ : حد سے بڑھنے والوں کو ]
ترکیب : طیبت مضاف ہے اور ما اس کا مضاف الیہ ہے کلوا کا مفعول مما رزقکم اللہ ہے جبکہ حلالا طیبا حال ہے ۔ یؤاخذ باب مفاعلہ کا مضارع ہے ۔ کفارتہ کی ضمیر عقدتم کے مصدر تعقید کے لیے ہے، کسوتہم کی ضمیر مسکین کے لیے ہے ۔ اطعام عشرۃ مسکین اور کسوتہم اور تحریر رقبۃ ، یہ سب خبریں ہیں ، اس لیے ان کے مضاف حالت رفع میں ہیں ، جبکہ ان کا مبتداء کفارتہ ہے ۔
نوٹ : 1 ۔ آیت نمبر ۔ 87 کے دو مفہوم ہیں ۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختیار نہ بنو۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا ۔ دوسرے یہ کہ عیسائی راہبوں ، ہندو جوگیوں ، بدھ مت کے بھکشوؤں اور اشراقی متصوفین کی طرح قطع لذات کا طریقہ اختیار نہ کرو ، مذہبی رجحان کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس وجسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ روحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے نفس کو لذتوں سے محروم کرنا ایک نیکی ہے اور خدا کا تقرب اس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا ۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین میں سے بھی بعض میں یہ سوچ پائی جاتی تھی ۔ چناچہ اس سے ممانعت کی متعدد احادیث ہیں ۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا یہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ انھوں نے عورتوں کو اور اچھے کھانے کو اور خوشبو اور نیند اور دنیا کی لذتوں کو اپنے حرام کرلیا ہے ۔ میں نے تمہیں یہ تعلیم نہیں دی ہے کہ تم راہب اور پادری بن جاؤ ۔ رہبانیت کے سارے فائدے جہاد سے حاصل ہوتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
نوٹ : 2 ۔ قسم کھانے کی چند صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ کسی گزشتہ واقعہ پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے ، اس کو ” یمین غموس “ کہتے ہیں ۔ یہ سخت گناہ کبیرہ ہے اور اس کا کفارہ نہیں ہے ۔ حقیقی توبہ سے معافی کی امید ہے ۔ دوسری یہ کہ بلاقصد زبان سے لفظ قسم نکل جائے یا کسی گزشتہ واقعہ پر اپنے نزدیک سچا سمجھ کر قسم کھائے جبکہ دراصل وہ غلط ہو۔ اس کو ” یمین لغو ‘ ‘ کہتے ہیں ۔ اس پر گناہ نہیں ہے اس لیے کفارہ بھی نہیں ہے ۔ تیسری یہ کہ آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے ۔ اس کو ” یمین منعقدہ “ کہتے ہیں ۔ اس قسم کو توڑنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے (معارف القرآن )
Ayah 5:88[ وَكُلُوْا : اور کھاؤ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ رَزَقَكُمُ : عطا کیا تم کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠: پاکیزہ حلال ہوتے ہوئے ] [ وَّاتَّقُوا : اور تقوی کرو ] [ اللّٰهَ الَّذِيْٓ: اس اللہ کے لیے ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ بِهٖ : جس پر ] [ مُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھنے والے ہو ]
Ayah 5:89[ لَا يُؤَاخِذُكُمُ : جواب طلبی نہیں کرے گا تم سے ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاللَّغْوِ [ بغیر سوچی سمجھی بات پر ] [ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ : تمہاری قسموں میں سے ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يُّؤَاخِذُكُمْ : وہ جواب طلبی کرے گا تم سے ] [ بِمَا : اس پر جو ] عَقَّدْتُّمُ [ پختہ کیا تم نے ] الْاَيْمَانَ ۚ [ قسموں کو ] فَكَفَّارَتُهٗٓ [ تو اس کا (پختہ کرنے کا ) کفارہ ] اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ [ دس مسکینوں کو کھلانا ہے ] مِنْ اَوْسَطِ مَا [ اس کے اوسط سے جو ] تُطْعِمُوْنَ [ تم لوگ کھلاتے ہو ] اَهْلِيْكُمْ [ اپنے گھروالوں کو ] اَوْ [ یا ] كِسْوَتُهُمْ [ ان کو پہنانا ہے ] اَوْ [ یا ] تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ۭ [ کسی گردن کا آزاد کرنا ہے ] فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ : [ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ۭ: تو تین دن کا روزہ رکھنا ہے ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ : تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ] [ اِذَا : جب بھی ] [ حَلَفْتُمْ ۭ: تم لوگ قسمیں کھاؤ ] [ وَاحْفَظُوْٓا : اور حفاظت کرو ] [ اَيْمَانَكُمْ ۭ: اپنی قسموں کی ] [ كَذٰلِكَ اس طرح ] [ يُبَيِّنُ : واضح کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ اٰيٰتِهِ : اپنی آیات کو ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : حق مانو ]