4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے

(یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ : اے لوگو ! ) (اتَّقُوْا : تم تقویٰ اختیار کرو) (رَبَّـکُمُ : اپنے رب کا ) (الَّذِیْ : جس نے ) (خَلَقَکُمْ : پیدا کیا ) (تم کو ) (مِّنْ نَّـفْسٍ وَّاحِدَۃٍ : ایک ہی جان سے) (وَّخَلَقَ : اور (اس نے) پیدا کیا) (مِنْہَا : اس سے ) (زَوْجَہَا : اس کا جوڑا) (وَبَثَّ : اور (اس نے) پھیلائے) (مِنْہُمَا : ان دونوں سے ) (رِجَالاً کَثِیْرًا : بہت سے مرد) (وَّنِسَآئً : اور عورتیں) (وَاتَّقُوا : اور تم بچو) (اللّٰہَ الَّذِیْ : اس اللہ (کی ناراضگی) سے ) (تَسَآئَ لُوْنَ : تم لوگ باہم مانگتے ہو) (بِہٖ : جس (کے حوالے ) سے ) (وَالْاَرْحَامَ : اور رشتہ داروں (کی حق تلفی) سے) (اِنَّ : یقینا) (اللّٰہَ : اللہ ) (کَانَ : ہے ) (عَلَیْکُمْ : تم پر ) (رَقِـیْـبًا : نگران ) ح و ب حَابَ یَحُوْبُ (ن) حَوْبًا : کسی جرم کا ارتکاب کرنا ‘ گنہگار ہونا۔ حُوْبٌ (اسم ذات) : جرم ‘ گناہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” وَاتَّـقُوْا “ کا مفعولِ اوّل ” اَللّٰہَ “ ہے اور ” اَلْاَرْحَامَ “ مفعولِ ثانی ہے۔ ” تَسَآئَ لُـوْنَ “ دراصل ” تَتَسَائَ لُـوْنَ “ ہے۔ ” کَانَ “ کی خبر ہونے کی وجہ سے ” رَقِـیْـبًا “ حالت ِ نصبی میں ہے۔ نوٹ : کَانَکا ترجمہ ” تھا “ کے بجائے ” ہے “ کیا گیا ہے ‘ کیونکہ یہاں آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ اسی طرح ” لَا تَتَـبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ “ کا ترجمہ قاعدے کے مطابق کیا گیا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ بدلے میں جو لیتے ہیں وہ بِنَفْسِہٖ آتا ہے اور جو دیتے ہیں اس پر ” بِ “ کا صلہ آتا ہے۔ لیکن یہاں معنی مراد یہ نہیں ہے کہ یتیم کے مال میں سے گندی چیز لے کر اس کی جگہ پاکیزہ چیز مت رکھو ‘ بلکہ مراد اس کے برعکس ہے۔ مفسرین نے اس کی یہ توجیہہ کی ہے کہ یتیم کے مال سے اچھی سمجھ کر جو چیز لوگے وہ تمہارے لیے حرام ہے ‘ اس لیے گندی ہے اور اپنی جو ناکارہ چیز اس کی جگہ رکھو گے وہ تمہارے لیے حلال ہے ‘ اس لیے پاکیزہ ہے۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

یتیموں کے مال اُن کو واپس دو، اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے

(وَاٰتُوا : اور تم پہنچائو) (الْیَتٰمٰٓی : یتیموں کو) (اَمْوَالَہُمْ : ان کے مال ) (وَلاَ تَـتَــبَدَّلُــوا : اور تم مت بدلو ) (الْخَبِیْثَ : گندے کو) (بِالطَّیِّبِ : پاکیزہ سے ) (وَلاَ تَاْکُلُوْآ : اور تم مت کھائو ) (اَمْوَالَہُمْ : ان کے مال ) (اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ : اپنے مالوں میں شامل کر کے) (اِنَّـہٗ : یقینا یہ ) (کَانَ : ہے ) (حُوْبًا کَبِیْرًا : ایک بڑا جرم )
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے

(وَاِنْ : اور اگر ) (خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ) (اَلاَّ تُقْسِطُوْا : کہ تم انصاف نہیں کرسکو گے) (فِی الْْیَتٰمٰی : یتیم (لڑکیوں ) میں) (فَانْـکِحُوْا : تو تم نکاح کرو) (مَـا : ان سے جو ) (طَابَ : پسندیدہ ہوں) (لَــکُمْ : تمہارے لیے ) (مِّنَ النِّسَآئِ : عورتوں میں سے ) (مَثْنٰی : دو دو) (وَثُلٰثَ : اور تین تین) (وَرُبٰعَ : اور چار چار ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ) (اَلاَّ تَعْدِلُوْا : کہ تم برابری نہیں کرسکو گے) (فَوَاحِدَۃً : تو پھر (نکاح کرو ) ایک سے ) ) اَوْ مَا : یا اس سے جس کے) (مَلَکَتْ : مالک ہوئے ) (اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ) (ذٰلِکَ : یہ ) (اَدْنٰٓی : زیادہ قریب ہے ) (اَلاَّ تَعُوْلُوْا : کہ تم لوگ ناانصافی نہ کرو) ع و ل عَالَ یَعُوْلُ (ن) عَوْلًا : (1) ناانصافی کرنا (2) بوجھل ہونا ‘ عیال دار ہونا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو

(وَاٰتُوا : اور تم ادا کرو ) (النِّسَآئَ : عورتوں کو) (صَدُقٰـتِہِنَّ : ان کے حق مہر ) (نِحْلَۃً : خوش دلی سے ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (طِبْنَ : وہ (خواتین) پسند کریں) (لَــکُمْ : تمہارے لیے ) (عَنْ شَیْئٍ : کوئی چیز (دینا) ) (مِّنْہُ : اس میں سے ) (نَفْسًا : اپنے آپ ) (فَـکُلُوْہُ : تو تم کھائو اس کو ) (ھَنِیْـئًا : خوشگوا رہوتے ہوئے ) (مَّرِیْئًا : مفید ہوتے ہوئے ) ن ح ل نَحَلَ یَنْحَلُ (ف) نَحْلًا : کسی کو کوئی چیز خوشی سے دینا۔ نِحْلَۃٌ (اسم ذات) : (1) عطیہ ‘ تحفہ۔ (2) خوشدلی ۔ آیت زیر مطالعہ۔ نَحْلٌ : شہد کی مکھی ۔ { وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ } (النحل :68) ” اور الہام کیا تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف۔ “ ھـ ن ء ھَنَی یَھْنِیْ (ف) ھِنَائً : کھانے کا خوشگوار ہونا۔ ھَنِیْ ئٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ اور ہر حال میں خوشگوار۔ آیت زیر مطالعہ۔ م ر ء مَرَئَ یَمْرَئُ (ف) مَرْئً ا : کھانے کا مفید ہونا۔ مَرِیْئٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ اور ہر حال میں مفید۔ آیت زیر مطالعہ۔ مَرِئَ یَمْرَئُ (س) مَرَئً ا : زنانہ طرز کا ہونا۔ مَرُئَ یَمْرُئُ (ک) مُرُوْئَ ۃً : مروت والا ہونا۔ مَرْئٌ (اسم ذات) : (1) انسان (جس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں) (2) آدمی ‘ مرد۔ { یَّـوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ } (النبا :40) ” جس دن دیکھے گا انسان اس کو جو آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے “۔ { مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖط } (البقرۃ :102) ” وہ جدائی ڈالتے ہیں جس سے مرد اور اس کی بیوی کے مابین۔ “ امْرُئٌ (حالت نصبی امْرَئً ا ۔ حالت جری امْرِیٍٔ ۔ شروع میں ہمزۃ الوصل ہے) (اسم ذات): (1) انسان ۔ (2) آدمی ‘ مرد ۔ { لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِج } (النور :11) ” ہر انسان کے لیے ان میں سے وہ ہے جو اس نے کمایا گناہ میں سے “۔{ اِنِ امْرُئٌا ھَلَکَ } (النسائ :176) ” اگر کوئی مرد ہلاک ہوا “۔{ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ } (مریم :28) ” نہیں تھا تیرا باپ کوئی برا آدمی۔ “ اِمْرَأَۃٌ ج نِسَائٌ اور نِسْوَۃٌ (اس میں بھی ہمزۃ الوصل ہے) (اسم ذات ) : عورت { وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ } (القصص :9) ” اور کہا فرعون کی عورت نے “۔ { وَقَالَ نِسْوَۃٌ فِی الْمَدِیْنَۃِ } (یوسف :30) ” اور کہا کچھ عورتوں نے اس شہر میں ۔ “ ترکیب :” اَلاَّ “ دراصل ” اَنْ لَّا “ ہے۔ ” یَتِیْمٌ“ واحد اور اس کی جمع ” یَتٰمٰی “ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے۔ یہاں ” یَتِیْمٌ“ لڑکیاں مراد ہیں۔ ” فَوَاحِدَۃً “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ یعنی یہ ” فَانْکِحُوْا وَاحِدَۃً “ ہے۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو

( وَلاَ تُؤْتُوا : اور تم مت دو ) (السُّفَہَـآئَ : نادانوں کو ) (اَمْوَالَـکُمُ : اپنے مال الَّتِیْ : جن کو) (جَعَلَ : بنایا ) (اللّٰہُ : اللہ نے ) (لَـکُمْ : تمہارے لیے ) (قِیٰمًا : کھڑے ہونے کا ذریعہ (معیشت میں) ) (وَّارْزُقُوْہُمْ : اور رزق دو ان کو ) (فِیْہَا : اس میں سے ) (وَاکْسُوْہُمْ : اور پہنائو ان کو ) (وَقُوْلُوْا : اور کہو ) (لَہُمْ : ان سے ) (قَوْلاً مَّعْرُوْفًا : بھلی بات) ترکیب : ” نِحْلَۃً “ حال ہے۔ ” مِنْہُ “ کی ضمیر ” صَدُقٰتٍ “ کے لیے ہے۔ ” ھَنِیْئًا مَّرِیْئًا “ حال ہے ” کُلُوْہُ “ کی ضمیر مفعولی کا ‘ جو ” شَیْئٍ “ کے لیے ہے۔ ” جَعَلَ “ کا مفعول ” الَّتِیْ “ ہے۔ نوٹ 1: مادہ ” ص د ق “ کی لغت البقرۃ :23 میں دی گئی ہے۔ وہاں لفظ ” صَدُقَۃٌ“ رہ گیا تھا۔ اس کے معنی ہیں بیوی کا حق مہر۔ اس کی جمع ” صَدُقَاتٌ“ ہے۔ اسی طرح مادہ ” ق و م “ کی لغت الفاتحہ :5 میں دی گئی ہے۔ وہاں لفظ ” قِیَامٌ“ رہ گیا تھا۔ یہ مصدر بھی ہے اور اسم الفاعل ” قَائِمٌ“ کی جمع بھی ” قِیَامٌ“ آتی ہے۔ جیسے { سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ } (الفرقان) ” سجدے کرنے والے ہوتے ہوئے اور کھڑے ہونے والے ہوتے ہوئے “۔ اس کے علاوہ ” قِیَامٌ“ اسم ذات بھی ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ چیز جس پر کھڑا ہو اجائے۔ جیسے کِتَابٌ وہ چیز جس پر لکھا جائے۔ یہاں مال کے حوالے سے قِیَامًا آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے معاشی لحاظ سے جس پر کھڑا ہو یعنی معیشت کا ذریعہ۔ نوٹ 2: زیر مطالعہ آیت 3 میں بیک وقت چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ لیکن ایک سے زیادہ شادی کی مخالفت کرنے والے جدید تعلیم یافتہ لوگ بھی اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ اجازت مخصوص حالات میں مخصوص لوگوں کے لیے ہے اور چار شادیاں کرنے کی عام اجازت اسلام میں کہیں نہیں ہے۔ اس مسئلہ کو ایک مثال سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ روزوں کے متعلق جب یہ آیت اتری کہ تم لوگ کھائو پیو یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح ہوجائے (البقرۃ :187) تو ایک صحابی سحری کے وقت سیاہ اور سفید دھاگے کو دیکھا کرتے۔ جب رنگوں کا فرق واضح ہوجاتا تو کھانا بند کردیتے۔ حضور ﷺ نے انہیں سمجھایا کہ صاحب کلام یعنی اللہ تعالیٰ کی اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے۔ اس مثال کے حوالے سے یہ اصول ذہن نشین کرلیں کہ قرآن مجید کی کسی آیت کے اور خاص طور سے عملی ہدایات والی آیات کے جو معانی رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے بیان کیے ہیں ‘ وہ ہمارے لیے حرفِ آخر ہیں۔ جب اہل زبان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ صرف آیات کے الفاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کی منشا اور مرضی معلوم کرلیں تو پھر ہم کس قطار شمار میں ہیں ؟ متعدد احادیث اور اقوالِ صحابہ ؓ سے اس آیت کے معنی مراد کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ اس آیت میں اس کی حد بندی کی گئی ہے۔ چار سے زیادہ شادیاں کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ چوتھی اور تیسری شادی تو دور کی بات ہے ہم تو وہ لوگ ہیں جو دوسری شادی کو بھی بہت برا سمجھتے ہیں ‘ اس لیے عائلی قوانین میں اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس درخت کا پھل یہ سامنے آیا کہ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی معاشرے میں لیڈی سیکرٹری یا گرل فرینڈ رکھنا رواج کی بات ہے ‘ داشتہ رکھنا تو کمال کی بات ہے ‘ لیکن دوسری شادی کرنا معاشرتی عذاب کی بات ہے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ ! ع ” حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں ! “
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کر دو ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنا لو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے

(وَابْتَلُوا : اور تم آزمایا کرو ) (الْیَتٰمٰی : یتیموں کو) (حَتّٰیٓ : یہاں تک کہ ) (اِذَا : جب ) (بَلَغُوا : وہ پہنچیں) (النِّکَاحَ : نکاح (کی عمر) کو ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (اٰنَسْتُمْ : تم پائو ) (مِّنْہُمْ : ان میں ) (رُشْدًا : کچھ معاملہ فہمی ) (فَادْفَعُوْٓا : تو لوٹائو) (اِلَـیْہِمْ : ان کی طرف ) (اَمْوَالَہُمْ : ان کے مال) (وَلاَ تَاْکُلُوْہَـآ : اور مت کھائو اس کو ) (اِسْرَافًا : ضرورت سے زیادہ ہوتے ہوئے) (وَّبِدَارًا : اور عجلت کرتے ہوئے ) (اَنْ : کہ (کہیں) ) (یَّــکْبَرُوْا : وہ بڑے ہوجائیں) (وَمَنْ : اور جو ) (کَانَ : ہے ) (غَنِیًّا : مالدار ) (فَلْیَسْتَعْفِفْ : تو اسے چاہیے کہ وہ باز رہے) (وَمَنْ : اور جو ) (کَانَ : ہے ) (فَقِیْرًا : محتاج ) (فَلْیَاْکُلْ : تو اسے چاہیے کہ وہ کھائے ) (بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ) (فَاِذَا : پھر جب ) (دَفَعْتُمْ : تم لوٹائو) (اِلَـیْہِمْ : ان کی طرف ) (اَمْوَالَہُمْ : ان کے مال ) (فَاَشْہِدُوْا : تو گواہ بنائو) (عَلَیْہِمْ : ان پر ) (وَکَفٰی : اور کافی ہے ) (بِاللّٰہِ : اللہ ) (حَسِیْبًا : حساب لینے والا) ب د ر بَدَرَ یَبْدُرُ (ن) بُدُوْرًا : کام میں جلدی کرنا۔ بَدْرٌ (اسم علم) : مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور جگہ کا نام جہاں جنگ بدر ہوئی تھی۔ بَادَرَ یُـبَادِرُ (مفاعلہ) بِدَارًا : کسی کام کو وقت سے پہلے کرنا ‘ عجلت کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب :” اٰنَسْتُمْ “ کا مفعول ” رُشْدًا “ ہے۔ ” لاَ تَاْکُلُوْا “ کا مفعول ” ھَا “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” اِسْرَافًا “ اور ” بِدَارًا “ حال ہیں۔ ” غَنِیًّا “ اور ” فَقِیْرًا “ ” کَانَ “ کی خبریں ہیں۔ ” فَاَشْھِدُوْا “ کا مفعول محذوف ہے۔ ” عَلَیْھِمْ “ متعلق فعل ہے اور اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ” اَلْیَتٰمٰی “ کے لیے ہے۔ ” بِاللّٰہِ “ پر ” بَا “ خوبی کلام کے لیے ہے ‘ البتہ اپنے لفظی معنی سے مبریٰ ہے اور یہ ” کَفٰی “ کا فاعل ہے۔ ” حَسِیْبًا “ حال یا تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا ہے۔ نوٹ 1: ماقبل آیت 5 میں ہدایت ہے کہ نادانوں کو اپنے مال مت دو ۔ اس میں اَلسُّفَھَائُ کے لفظ میں عمومیت ہے۔ پھر اَمْوَالَھُمْ نہیں کہا بلکہ اَمْوَالَـکُمْ کہا ہے۔ یعنی یہ نہیں کہا کہ ان کے مال مت دو ‘ بلکہ کہا ہے کہ اپنے مال مت دو ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ ہدایت یتیموں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ عام ہے ‘ خواہ وہ اپنے بچے ہوں یا یتیم ہوں۔ ہدایت یہ ہے کہ بچوں کو پیسہ دینے کے بجائے ان کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرو۔ اس آیت سے بچوں کو جیب خرچ دینے کی ممانعت کا جواز پیدا کرنا میرے خیال میں درست نہیں ہے ‘ کیونکہ اس طرح بچوں کی مالی معاملات میں تربیت کرنے اور ان میں معاملہ فہمی پیدا کرنے کا عمل رک جائے گا۔ البتہ اس آیت سے یہ راہنمائی ضرور حاصل ہوتی ہے کہ ضروریات فراہم کرنے کے ساتھ جیب خرچ دینے میں احتیاط کی جائے اور کھلا جیب خرچ نہ دیا جائے۔ نیز اس بات کی نگرانی ضرور کی جائے کہ بچے اپنا جیب خرچ کہاں اور کیسے خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح جیب خرچ کو ان کی مالی تربیت کا ذریعہ بنایا جائے۔ نوٹ 2: اپنے بچوں کی تربیت کے لیے تو عموماً ہر شخص فکر مند ہوتا ہے۔ اس لیے آیت زیر مطالعہ میں یتیموں کا خصوصیت سے ذکر کر کے ہدایت دی کہ بچوں کے بالغ ہونے سے پہلے تک ان کو آزماتے رہو ‘ کیونکہ آزمائش تربیت کا جزو لاینفک ہے۔ مالی تربیت میں آزمائش کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے خریدو فروخت کے معاملات ان کے سپرد کر کے ان کی صلاحیت کا امتحان لیتے رہو اور ان کی ذہنی بلوغت کا اندازہ کرتے رہو۔ نوٹ 3: یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے کے لیے دو شرطیں عائد کی گئی ہیں۔ ایک بلوغت اور دوسرا رشد۔ رُشْدًا کا لفظ نکرہ لا کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ مکمل دانشمندی شرط نہیں ہے ‘ بلکہ کسی قدر ہوشیاری بھی اس کے لیے کافی ہے کہ یتیموں کے مال ان کے حوالے کردیے جائیں۔ دوسری شرط کے متعلق امام ابوحنیفہ (رح) کی رائے ہے کہ سن بلوغ کو پہنچنے پر اگر یتیم میں رشد نہ پایا جائے تو اس کے ولی کو زیادہ سے زیادہ سات سال اور انتظار کرنا چاہیے ۔ پھر خواہ رشد پایا جائے یا نہ پایا جائے ‘ اس کا مال اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ امام شافعی (رح) کی رائے ہے کہ مال حوالے کرنے کے لیے بہرحال رشد کا پایاجانا ناگزیر ہے۔ مولانا مودودی (رح) کی رائے ہے کہ ایسی صورت میں قاضی سے رجوع کیا جائے اور اگر قاضی پر ثابت ہوجائے کہ اس میں رشد نہیں پایا جاتا تو وہ اس کے معاملات کی نگرانی کے لیے کوئی مناسب انتظام کر دے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے

(لِلرِّجَالِ : مردوں کے لیے ہے ) (نَصِیْبٌ : ایک حصہ ) (مِّمَّا : اس میں سے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا ) (الْوَالِدٰنِ : ماں باپ نے ) (وَالْاَقْرَبُوْنَ : اور زیادہ قریبی رشتہ داروں نے ) (وَلِلنِّسَآئِ : اور عورتوں کے لیے ہے ) (نَصِیْبٌ : ایک حصہ ) (مِّمَّا : اس میں سے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا) (الْوَالِدٰنِ : ماں باپ نے ) (وَالْاَقْرَبُوْنَ : اور زیادہ قریبی رشتہ داروں نے ) (مِمَّا : اس میں سے جو ) (قَلَّ : کم ہو ) (مِنْہُ : اس سے ) (اَوْ : یا ) (کَثُرَ : زیادہ ہو ) (نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا : فرض کیا ہوا حصہ ہوتے ہوئے) ترکیب : ” تَرَکَ “ کا فاعل ” اَلْوَالِدَانِ “ اور ” اَلْاَقْرَبُوْنَ “ ہیں اور ” اَلْاَقْرَبُوْنَ “ اسم تفضیل ہے۔ ” تَرَکَ “ کا مفعول ” مِمَّا “ (مِنْ مَا) کا ” مَا “ ہے۔ ” نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا “ حال ہے۔ ” حَضَرَ “ کے فاعل ” اُولُو الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ “ ہیں۔ ” اَلْقِسْمَۃَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصبی میں ہے۔ ” مِنْہُ “ کی ضمیر ” مِمَّا “ کے ” مَا “ کے لیے ہے۔ ” لَــوْ تَرَکُوْا “ کا ”ــلَــوْ “ شرطیہ ہے ‘ ” خَافُوْا “ اس کا جواب ہے۔ ” ذُرِّیَّۃً “ اسم جمع ہے اس لیے اس کی صفت جمع مکسر آئی ہے۔ ” ظُلْمًا “ حال ہے۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو

(وَاِذَا : اور جب ) (حَضَرَ : حاضر ہوں ) (الْقِسْمَۃَ : تقسیم کے وقت ) (اُولُوا الْقُرْبٰی : قرابت والے ) (وَالْیَتٰمٰی : اور یتیم ) (وَالْمَسٰکِیْنُ : اور ضرورت مند لوگ ) (فَارْزُقُوْہُمْ : تو تم دو ان کو ) (مِّنْہُ : اس میں سے ) (وَقُوْلُوْا : اور کہو تم) (لَـہُمْ : ان سے ) (قَوْلاً مَّعْرُوْفًا : بھلی بات ) ق س م قَسَمَ یَقْسِمُ (ض) قَسْمًا : کسی چیز کے حصے کرنا اور بانٹ دینا ‘ تقسیم کرنا۔ { اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَط } (الزخرف :32) ” کیا یہ لوگ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت کو۔ “ مَقْسُوْمٌ (اسم المفعول) : تقسیم کیا ہوا ‘ بٹا ہوا۔ { لِکُلِّ بَابٍ مِّنْھُمْ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ ۔ } (الحجر) ” ان میں سے ہر ایک دروازے کے لیے ایک بٹا ہوا حصہ ہے۔ “ قِسْمَۃٌ (اسم فعل) : بانٹ ‘ تقسیم۔ آیت زیر مطالعہ ۔ قَسَمٌ (اسم ذات) : اولیاء مقتول پر تقسیم کیا جانے والا حلف۔ پھر ہر حلف اور قسم کے لیے آتا ہے : { وَاِنَّـہٗ لَقَسَمٌ لَّــوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ ۔ } (الواقعۃ) ” اور یقینا یہ ایک عظیم قسم ہے ‘ اگر تم سمجھو۔ “ اَقْسَمَ یُقْسِمُ (افعال) اِقْسَامًا : حلف اٹھانا ‘ قسم کھانا ۔ { وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ } (الانعام :109) ” اور انہوں نے قسم کھائی اللہ کی اپنے حلف کی کوشش کرتے ہوئے۔ “ قَسَّمَ یُقَسِّمُ (تفعیل) تَقْسِیْمًا : بتدریج بانٹنا۔ مُقَسِّمٌّ(اسم الفاعل) : بانٹنے والا ۔ { فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۔ } (الذاریات) ” پھر قسم ہے حکم کو بانٹنے والیوں کی۔ “ قَاسَمَ یُقَاسِمُ (مفاعلہ) مُقَاسَمَۃً : دوسرے کو قسم دینا۔ { وَقَاسَمَھُمَآ اِنِّیْ لَـکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ ۔ } (الاعراف) ” اور اس نے قسم دی ان دونوں کو کہ یقینا میں تم دونوں کے لیے نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں۔ “ تَقَاسَمَ یَتَقَاسَمُ (تفاعل) تَقَاسُمًا : ایک دوسرے سے قسم لینا۔ تَقَاسَمْ (فعل امر) : ایک دوسرے سے قسم لو { قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَھْلَہٗ } (النمل :49) ” انہوں نے کہا تم لوگ ایک دوسرے سے حلف لو کہ ہم لازماً شب خون ماریں گے اس پر صالح ( علیہ السلام) اور اس کے گھر والوں پر۔ “ اِقْتَسَمَ یَـقْتَسِمُ (افتعال) اِقْتِسَامًا : اہتمام سے بانٹنا۔ مُقْتَسِمٌ (اسم الفاعل) : اہتمام سے بانٹنے والا ۔ { کَمَآ اَنْزَلْـنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ۔ } (الحجر) ” جیسا کہ ہم نے اتارا اہتمام سے تقسیم کرنے والوں پر۔ “ اِسْتَقْسَمَ یَسْتَقْسِمُ (استفعال) اِسْتِقْسَامًا : بانٹ چاہنا ‘ تقسیم کرنے کی کوشش کرنا۔ { وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِط } (المائدۃ :3) ” اور وہ جو ذبح کیا گیا استھان پر اور یہ کہ تم لوگ تقسیم کرنے کی کوشش کرو فال کے تیروں سے۔ “
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

لوگوں کو اس بات کا خیال کر کے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں

(وَلْـیَخْشَ : اور چاہیے کہ ڈریں) (الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ) (لَــوْ : اگر ) (تَرَکُوْا : چھوڑیں) (مِنْ خَلْفِہِمْ : اپنے پیچھے ) (ذُرِّیَّۃً ضِعٰـفًا : کچھ کمزور اولادیں) (خَافُوْا : تو وہ خوف کریں ) (عَلَیْہِمْ : ان کے بارے میں ) (فَلْیَتَّـقُوا : پس چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں) (اللّٰہَ : اللہ کا ) (وَلْـیَـقُوْلُوْا : اور چاہیے کہ کہیں ) (قَوْلاً سَدِیْدًا : ٹھیک بات ) س د د سَدَّ یَسُدُّ (ن) سَدًّا : کوئی رخنہ یا دراز بند کرنا ‘ درست کرنا ‘ دیوار یا آڑ کھڑی کرنا۔ سَدٌّ (اسم ذات) : دیوار ‘ آڑ۔ { وَجَعَلْنَا مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ سَدًّا } (یٰسٓ:9) ” اور ہم نے بنایا ان کے سامنے ایک آڑ۔ “ سَدِیْدٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : درست ‘ ٹھیک۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں در حقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے

(اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جو ) (یَاْکُلُوْنَ : کھاتے ہیں ) (اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی : یتیموں کے مال ) (ظُلْمًا : ظلم کرتے ہوئے ) (اِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ) (یَاْکُلُوْنَ : وہ کھاتے (یعنی بھرتے) ہیں ) (فِیْ بُطُونِہِمْ : اپنے پیٹوں میں ) (نَارًا : ایک آگ ) (وَسَیَصْلَوْنَ : اور وہ گریں گے ) (سَعِیْرًا : شعلوں والی آگ میں ) ص ل ی صَلَی یَصْلِی (ض) صَلْیًا : کسی چیز کو آگ پر بھوننا ‘ آگ میں ڈالنا۔ صَلِیَ یَصْلَی (س) صِلِیًّا : آگ کی تپش جھیلنا ‘ آگ میں گرنا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ اِصْلَ (فعل امر) : تو جل ۔ { اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ } (یٰسٓ) ” تم لوگ جلو اس میں آج بسبب اس کے جو تم انکار کیا کرتے تھے۔ “ صَالٍ (اسم الفاعل) : جلنے والا۔ { اِنَّھُمْ صَالُوا النَّارِ ۔ } (صٓ) ” بیشک یہ لوگ آگ میں جلنے والے ہیں۔ “ اَصْلَی یُصْلِیْ (افعال) اِصْلَائً : کسی کو آگ میں داخل کرنا ‘ گرانا۔{ فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًاط } (النسائ :30) ” تو عنقریب ہم داخل کریں گے اس کو آگ میں۔ “ نُصْلِ (مضارع مجزوم میں جمع متکلم کا صیغہ) : { وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَط } (النسائ :115) ” اور ہم داخل کریں گے اس کو دوزخ میں۔ “ صَلَّی یُصَلِّیْ (تفعیل) تَصْلِیَۃً : کسی کو آگ میں بھوننا۔ صَلِّ (فعل امر) : تو بھون ‘ تو جلا۔ { خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ } (الحاقۃ) ” تم لوگ اس کو پکڑو پھر اسے طوق ڈالو ۔ پھر بھڑکتی آگ میں اس کو بھونو۔ “ اِصْطَلٰی یَصْطَلِیْ (افتعال) اِصْطِلَائً : اہتمام سے جلنا ‘ آگ تاپنا ‘ سینکنا۔ { اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِھَابٍ قَـبَسٍ لَّـعَلَّـکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ }(النمل) ” یا میں لائوں تمہارے پاس ایک سلگتا انگارہ شاید تم لوگ آگ تاپو۔ “ س ع ر سَعَرَ یَسْعَرُ (ف) سَعْرًا : (1) کسی کو اشتعال دلانا ‘ بھڑکانا۔ (2) آگ جلانا۔ سَعِیْرٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ جلنے والی آگ ‘ شعلوں والی آگ۔ آیت زیر مطالعہ۔ سُعُـرٌ : دیوانگی ‘ پاگل پن ‘ جنون۔ { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وُّسُعُرٍ ۔ } (القمر) ” یقینا مجرم لوگ گمراہی اور جنون میں ہیں۔ “ سَعَّرَ یُسَعِّرُ (تفعیل) تَسْعِیْرًا : کثرت سے آگ جلانا ‘ آگ کو خوب بھڑکانا۔ { وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ ۔ } (التکویر) ” اور جب بھڑکتی آگ خوب بھڑکائی جائے گی۔ “ (نوٹ : مادہ ” ص ل و “ سے باب تفعیل کا فعل امر اصلاً صَلِّوْ بنتا ہے ‘ جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر صَلِّاستعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں تو نماز پڑھ۔ مادہ ” ص ل ی “ سے باب تفعیل کا فعل امر اصلاً صَلِّیْ بنتا ہے ‘ اور قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر یہ بھی صَلِّ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں تو آگ میں بھون۔ اس طرح دونوں ہم شکل ہوجاتے ہیں لیکن عبارت کے سیاق وسباق میں ان کی تمیز آسانی سے ہوجاتی ہے۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے

(یُوْصِیْکُمُ : تاکید کرتا ہے تم کو ) (اللّٰہُ : اللہ ) (فِیْ اَوْلاَدِکُمْ : تمہاری اولاد (کے بارے) میں) (لِلذَّکَرِ : مذکر کے لیے) (مِثْلُ حَظِّ الْاُنْـثَـیَیْنِ : دو مؤنث کے حصے کی مانند) (فَاِنْ کُنَّ : پھر اگر ہوں ) (نِسَآئً : کچھ عورتیں) (فَوْقَ اثْـنَـتَـیْنِ : دو سے اوپر ) (فَلَہُنَّ : تو ان کے لیے ہے ) (ثُـلُـثَا : اس کا دو تہائی ) (مَا : جو) (تَرَکَ : اس نے چھوڑا) (وَاِنْ کَانَتْ : اور اگر ہو ) (وَاحِدَۃً : ایک (مؤنث) ) (فَلَہَا : تو اس کے لیے ہے ) (النِّصْفُ : آدھا) (وَلِاَبَوَیْہِ : اور اس کے ماں باپ کے لیے) (لِکُلِّ وَاحِدٍ : ہر ایک کے لیے ) (مِّنْہُمَا : ان دونوں میں سے ) (السُّدُسُ : چھٹا حصہ ہے) (مِمَّا : اس میں سے جو ) (تَرَکَ : اس نے چھوڑا) (اِنْ کَانَ : اگر ہو ) (لَـہٗ : اس کی ) (وَلَــدٌ : کوئی اولاد ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (لَّـمْ یَکُنْ : نہ ہو ) (لَّــہٗ : اس کی) (وَلَــدٌ : کوئی اولاد ) (وَّوَرِثَہٗ : اور وارث ہوں اس کے ) (اَبَوٰہُ : اس کے ماں باپ ) (فَلاُِمِّہِ : تو اس کی ماں کے لیے ہے ) (الثُّلُثُ : ایک تہائی ) (فَاِنْ کَانَ : پھر اگر ہوں) ( لَـہٗ : اس کے ) (اِخْوَۃٌ : بھائی بہن ) (فَلاُِمِّـہِ : تو اس کی ماں کے لیے ہے ) (السُّدُسُ : چھٹا حصہ ) (مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ : اس وصیت کے بعد ) (یُّوْصِیْ : اس نے وصیت کی ) (بِہَـآ : جس کی ) (اَوْ دَیْنٍ : یا کسی قرضے (کی ادائیگی) کے بعد ) (اٰبَــآؤُکُمْ : تمہارے ماں باپ ) (وَاَبْـنَــآؤُکُمْ : اور تمہارے بیٹے) (لاَ تَدْرُوْنَ : تم نہیں جانتے ) (اَیُّـہُـمْ : ان میں سے کون ) (اَقْرَبُ : زیادہ قریب ہے ) (لَــکُمْ : تمہارے لیے ) (نَفْعًا : بلحاظِ نفع کے) (فَرِیْضَۃً : فرض ہوتے ہوئے ) (مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ) (اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ) (کَانَ عَلِیْمًا : جاننے والا ہے) (حَکِیْمًا : حکمت والا ہے ) ث ل ث ثَلَثَ یَثْلُثُ (ن) ثَلْثًا : کسی چیز کا تیسرا حصہ لینا ‘ ایک تہائی لینا۔ ثَلَاثٌ (اسماء العدد ) : تین ۔ { خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍط } (الزمر :6) ” ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش تین اندھیروں میں “۔ { فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ } (البقرۃ :196) ” تو تین دن کا روزہ رکھنا ہے حج میں۔ “ ثَلَاثُوْنَ : تیس ۔ { وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَـیْلَۃً } (الاعراف :142) ” اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے تیس راتوں کا۔ “ ثُلُثٌ : کسی چیز کا تیسرا حصہ ‘ ایک تہائی ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ثَالِثٌ : ترتیب میں تیسرا ۔ { قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰـثَۃٍ 7} (المائدۃ :73) ” انہوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے ۔ “ ثُـلَاثُ : تکرار کا عدد ہے۔ تین تین ۔ سورة النساء کی آیت 3 دیکھیں۔ ث ن ی ثَنَی یَثْنِیْ (ض) ثَنْیًا : کسی چیز کو تہہ کرنا ‘ دوہرا کرنا۔ { اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ } (ھود :5) ” بے ‘ شک وہ لوگ دہرا کرتے ہیں اپنے سینوں کو۔ “ ثَانٍ (فَاعِلٌ کا وزن) : (1) دہرا کرنے والا ۔ (2) ترتیب میں دوسرا۔ { ثَانِیَ عِطْفِہٖ } (الحج :9) ” اپنی گردن کو دہرا کرنے والا ہوتے ہوئے “۔ { اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ } (التوبۃ :40) ” جب نکالا آپ ﷺ کو ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا ‘ دو کا دوسرا ہوتے ہوئے۔ “ اِثْنَانِ مؤنث اِثْـنَـتَـیْنِ (ان میں ہمزۃ الوصل ہے) : اسماء العدد میں سے ہے۔ دو ۔ { لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـھَیْنِ اثْنَیْنِج } (النحل :51) ” تم لوگ مت بنائو دو اِلٰہ۔ “ مَثْنًی (مَفْعَلٌ کا وزن ہے اور تکرار کا عدد) : دو دو۔ سورة النساء آیت 3 دیکھیں۔ مَثَانِیْ (مَفَاعِلُ کے وزن پر یہ مَثْنًی کی جمع ہے) : بار بار دہرانا ‘ پھر اسم المفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ بار بار دہرایا جانے والا۔ { وَلَقَدْ اٰتَـیْنٰـکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ } (الحجر :87) ” اور بیشک ہم نے دیا ہے آپ ﷺ کو سات یعنی سات آیتیں بار بار دہرائی جانے والی ۔ “ اِسْتَثْنٰی یَسْتَثْنِیْ (استفعال) اِسْتِثْنَائً : کسی اصول سے کسی کو الگ کرنا ‘ مستثنیٰ کرنا۔ { اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّھَا مُصْبِحِیْنَ ۔ وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ ۔ } (القلم) ” جب ان لوگوں نے قسم کھائی کہ وہ لازماً کاٹیں گے اس کو (یعنی کھیت کو) صبح ہوتے ہی ۔ اور انہوں نے استثناء نہیں کیا ‘ یعنی ان شاء اللہ نہیں کہا۔ “ ن ص نَصَفَ یَنْصُفُ ۔ نَصَفَ یَنْصِفُ (ن ۔ ض) نَصْفًا : کسی چیز کا برابر دو حصوں میں ہونا۔ (1) آدھا ہونا۔ (2) برابر ہونا۔ نِصْفٌ : آدھا حصہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَنْصَفَ (افعال) اِنْصَافًـا : کسی چیز کے برابر دو حصے کرنا۔ (1) آدھا کرنا۔ (2) برابر کرنا ‘ انصاف کرنا۔ اس باب سے کوئی لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔ س د س سَدَسَ یَسْدُسُ ۔ سَدَسَ یَسْدِسُ (ن۔ ض) سَدْسًا : چھٹا ہونا ‘ چھٹا حصہ لینا۔ سُدُسٌ : چھٹا حصہ (یعنی کسی چیز کے برابر چھ حصے کیے جائیں تو ایک حصہ پوری چیز کا چھٹا حصہ ہوگا) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ سَادِسٌ : ترتیب میں چھٹا۔ { وَیَقُوْلُوْنَ خَمْسَۃٌ سَادِسُھُمْ کَلْبُھُمْ } (الکہف :22) ” وہ لوگ کہیں گے پانچ ہیں ‘ ان کا چھٹا ان کا کتا ہے۔ “ ء خ و اَخَی یَخِی (ن) اُخُوَّۃً : (1) ماں ‘ باپ یا کسی ایک کی طرف سے نسبی بھائی ہونا۔ (2) دودھ شریک بھائی ہونا۔ (3) معنی کے لحاظ سے بھائی ہونا۔ ہم عقیدہ یا ساتھی ہونا۔ اَخٌ : یہ دراصل اَخَوٌ ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر اَخٌ استعمال ہوتا ہے (آسان عربی گرامر ‘ حصہ سوم ‘ پیراگراف 13:77) ۔ بھائی ‘ نسبی دودھ شریک اور معنوی ‘ ہر طرح کے بھائی کے لیے آتا ہے۔ جب یہ مضاف بنتا ہے تو اس کی رفعی ‘ نصبی اور جری حالت اَخُوْ ‘ اَخَا اور اَخِیْ ہوتی ہے ۔ { اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّـہٗ مِنْ قَـبْلُج } (یوسف :77) ” اگر اس نے چوری کی تو چوری کرچکا ہے اس کا بھائی اس سے پہلے۔ “ { اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ نُوْحٌ} (الشعرائ :106) ” جب کہا ان سے ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے۔ “ { قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ } (الاعراف :111) ” انہوں نے کہا کہ ٹال دو اس کو اور اس کے بھائی کو۔ “ { فَمَنْ عُفِیَ لَـہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ} (البقرۃ :178) ” تو وہ جو معاف کیا گیا جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی۔ “ اَخَوَانِ : یہ اَخٌ کا تثنیہ ہے۔ { فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْج } (الحجرات :10) ” پس تم لوگ صلح کرائو اپنے دونوں بھائیوں کے مابین۔ “ اِخْوَانٌ : یہ اَخٌ کی جمع ہے ۔ { اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِط } (بنی اسرائیل :27) ” یقینا بےجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ “ اِخْوَۃٌ (اسم الجمع) : اس میں بھائی بہن سب شامل ہیں۔ { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ} (الحجرات :10) ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تمام مومن آپس میں بھائی بہن ہیں۔ “ اُخْتٌج اَخَوَاتٌ : بہن۔ { یٰٓــاُخْتَ ھٰرُوْنَ } (مریم :28) ” اے ہارون کی بہن۔ “ { اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِکُمْ }(النور :61) ” یا اپنے بھائیوں کے گھروں میں یا اپنی بہنوں کے گھروں میں۔ “ د ر ی دَرَی یَدْرِیْ (ض) دِرَایَۃً : کسی چیز کا عرفان حاصل کرنا ‘ جاننا ‘ سمجھنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَدْرَی یُدْرِیْ (افعال) اِدْرَائً : کسی کو کسی چیز کا عرفان دینا۔ { لَــوْ شَآئَ اللّٰہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَدْرٰٹکُمْ بِہٖز } (یونس :16) ” اگر اللہ چاہتا تو میں اسے پڑھ کر نہ سناتا تم لوگوں کو اور نہ وہ باخبر کرتا تم کو اس سے۔ “ وَمَا اَدْرٰٹکَ اور وَمَا یُدْرِیْکَ عربی محاورے ہیں۔ ان کا لفظی ترجمہ ہے ” اور اس نے کیا بتایا تم کو “۔” اور وہ کیا بتاتا ہے تم کو “۔ لیکن اس میں ان کا مفہوم ہے ” اور تم کیا جانو۔ اور تم کیا جانتے ہو “۔ ترکیب : ” مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـیَیْنِ “ مرکب اضافی ہے اور مبتدا ٔمؤخر ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے ‘ جبکہ ” لِلذَّکَرِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” ثُلُثَا مَا “ بھی مرکب اضافی ہے ‘ اس لیے ” ثُلُثَانِ “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” وَرِثَ “ کا فاعل ” اَبَـوٰہُ “ ہے۔ ” دِیْنٍ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” مِنْ بَعْدِ “ پر عطف ہے۔ ” اٰبَـآئُ ‘ کُمْ وَاَبْنَائُ کُمْ “ مبتدا ہیں اور آگے پورا جملہ اس کی خبر ہے۔ ” نَفْعًا “ تمیز ہے اور فَرِیْضَۃً حال ہے۔ نوٹ 1: آیت زیر مطالعہ میں گنتی کے کچھ الفاظ آئے ہیں ‘ ان کو أسماء العدد کہتے ہیں۔ ان کے استعمال کے کچھ قواعد ہیں جن کی تفصیل کتاب ” عربی کا معلم “ حصہ چہارم میں دی ہوئی ہے۔ ان میں سے چند ابتدائی باتیں درج ذیل ہیں : (1) پہلے یہ سمجھ لیں کہ آج کل عربی میں گنتی لکھنے کے جو ہند سے ہیں ‘ یعنی 1 ۔ 2 ۔ 3 وغیرہ ‘ ان کو اَرقامِ ہندیہ کہتے ہیں۔ عربی کے اصل ہند سے 3-2-1 وغیرہ ہیں اور ان کو اَرقامِ عربیہ کہتے ہیں۔ اہل یورپ نے اندلس کے مسلمانوں سے یہ ہند سے سیکھے تھے۔ (2) ایک اور دو کی گنتی کے لیے اسم العدد اور معدود مرکب توصیفی کی طرح آتے ہیں ‘ اس لیے جنس کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں۔ جیسے قَلَمٌ وَاحِدٌ‘ وَرَقَۃٌ وَاحِدَۃٌ اور قَلَمَانِ اثْنَانِ ‘ وََرَقَتَانِ اثْنَتَانِ ۔ (3) تین سے دس تک کی گنتی کے لیے اسم العدد مضاف اور معدود مضاف الیہ کی طرح آتے ہیں اور جنس میں ایک دوسرے کے برعکس ہوتے ہیں۔ جیسے تِسْعَۃُ مُعَلِّمِیْنَ اور تِسْعُ مُعَلِّمَاتٍ ۔ (4) اگر ہم کہیں کہ ” گھڑ سوار دو دو ‘ تین تین ‘ چار چار ہو کر آئے “ اور اس کا عربی ترجمہ اس طرح کریں جَائَ تِ الْفُرْسَانُ اثْنَیْنِ اثْنَیْنِ ثَلٰـثَۃً ثَلٰـثَۃً اَرْبَعَۃً اَرْبَعَۃً تو یہ ترجمہ درست ہوگا ‘ لیکن عربی میں اس کا رواج نہیں ہے۔ نوٹ کریں کہ اس ترجمے میں اسماء العدد حال ہونے کی وجہ سے حالت نصبی میں آئے ہیں۔ عدد کے تکرار کے لیے ایک ایک کا مفہوم ادا کرنے کے لیے عام طور پر فُرَادَ آتا ہے۔ دو دو کے لیے اِثْنَانِ کو مَفْعَلُ کے وزن پر مَثْنٰیلاتے ہیں۔ جبکہ تین تین سے نو نو کے لیے اسم العدد کو فُعَالٌ کے وزن پر استعمال کرتے ہیں۔ جیسے ثُلَاثُ اور رُبَاعُ وغیرہ۔ نوٹ 2: اس سورة میں مختلف مقامات پر وراثت کے متعلق متعدد آیات آئی ہیں۔ ان کے حوالے سے اسلام کے قانونِ وراثت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تمام آیات کو یکجا کر کے متعلقہ احادیث اور فقہاء کے اقوال کی روشنی میں ان کا مطالعہ کیا جائے۔ کسی ایک آیت یا چند آیات کے حوالے سے قانونِ وراثت کو سمجھنے کی کوشش ایک سعی لاحاصل ہے۔ اس لیے ان اسباق میں قانون وراثت کی وضاحت شامل نہیں ہوگی۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں ں نے کی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں اُن کا حصہ آٹھواں ہوگا، بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہے) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشر طیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے

(وَلَــکُمْ : اور تمہارے لیے ) (نِصْفُ مَا : اس کا آدھا ہے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا) (اَزْوَاجُکُمْ : تمہاری بیویوں نے) (اِنْ : اگر) (لَّــمْ یَکُنْ : نہ ہو ) (لَّـہُنَّ : ان کا ) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (کَانَ : ہو ) (لَہُنَّ : ان کا ) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَـلَـکُمُ : تو تمہارے لیے ) (الرُّبُعُ مِمَّا : اس میں سے چوتھائی حصہ ہے جو ) (تَرَکْنَ : انہوں نے چھوڑا) (مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ : اس وصیت کے بعد) (یُّوْصِیْنَ : انہوں نے وصیت کی ) (بِہَـآ : جس کی ) (اَوْ دَیْنٍ : یا کسی قرضے کے بعد ) (وَلَہُنَّ : اور ان کے لیے ) (الرُّبُعُ مِمَّا : اس میں سے چوتھائی حصہ ہے جو) (تَرَکْتُمْ : تم نے چھوڑا) (اِنْ : اگر ) (لَّـمْ یَکُنْ : نہ ہو ) (لَّــکُمْ : تمہارا) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (کَانَ : ہو ) (لَــکُمْ : تمہارا) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَلَہُنَّ : تو ان کے لیے ) (الثُّمُنُ مِمَّا : اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو) (تَرَکْتُمْ : تم نے چھوڑا) (مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ : اس وصیت کے بعد) (تُوْصُوْنَ : تم نے وصیت کی ) (بِہَـآ : جس کی ) (اَوْ دَیْنٍ : یا کسی قرضے کے بعد) (وَاِنْ : اور اگر ) (کَانَ : ہو) (رَجُلٌ : کوئی ایسا مرد ) (یُّوْرَثُ : جس کا وارث بنایا جاتا ہے ) (کَلٰـلَۃً : اس حال میں کہ وہ کلالہ تھا) (اَوِ امْرَاَۃٌ : یا کوئی ایسی عورت ہو ) (وَّلَـہٗ : اور اس کا ) (اَخٌ : ایک (اخیافی) بھائی ) (اَوْ : یا ) (اُخْتٌ : ایک (اخیافی) بہن ہے ) (فَلِکُلِّ وَاحِدٍ : تو ہر ایک کے لیے ) (مِّنْہُمَا : ان دونوں میں سے ) (السُّدُسُ : چھٹا حصہ ہے ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (کَانُوْآ : وہ (لوگ) ہوں) (اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ : اس سے زیادہ ) (فَہُمْ : تو وہ (لوگ) (شُرَکَآئُ : شریک ہیں ) (فِی الثُّلُثِ : ایک تہائی میں ) (مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ : اس وصیت کے بعد) (یُّوْصٰی : وصیت کی گئی ) (بِہَـآ : جس کی ) (اَوْ دَیْنٍ : یا کسی قرضے کے بعد) (غَیْرَمُضَآرٍّ : بغیر نقصان دینے والی ہوتے ہوئے) (وَصِیَّۃً : تاکید ہوتے ہوئے ) (مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ) (وَاللّٰہُ : اور اللہ ) (عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ) (حَلِیْمٌ: بردبار ہے) ر ب ع رَبَعَ یَرْبُعُ (ن) رَبْعًا : کسی چیز کا چوتھا حصہ لینا ‘ ایک چوتھائی لینا۔ اَرْبَعٌ : اسماء العدد میں سے ہے۔ چار ۔ { وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍط } (النور :45) ” اور ان میں سے وہ بھی ہے جو چلتا ہے چار پر یعنی چار ٹانگوں پر۔ “ اَرْبَعِیْنَ : چالیس ۔ { وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَـیْلَۃً } (البقرۃ :51) ” اور جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا۔ “ رُبُعٌ : کسی چیز کا چوتھا حصہ ‘ ایک چوتھائی۔ آیت زیر مطالعہ۔ رَابِعٌ : ترتیب میں چوتھا۔ { سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰـثَۃٌ رَّابِعُھُمْ کَلْبُھُمْج } (الکہف :22) ” وہ لوگ کہیں گے تین ہیں اور چوتھا ان کا کتا ہے۔ “ رُبَاعُ (تکرار کا عدد) : چار چار ۔ سورة النساء کی آیت 3 دیکھیں۔ ک ل ل کَلَّ یَکِلُّ (ض) کَلًّا : (1) تھکنا (بہت کام کرنے کی وجہ سے) ۔ والد اور اولاد کے بغیر ہونا۔ کَلٌّ (اسم ذات بھی ہے) : تھکا دینے والی چیز ‘ بوجھ ۔ { وَھُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰٹہُ } (النحل :76) ” اور وہ ایک بوجھ ہے اپنے آقا پر۔ “ کَلَّا : بوجھ یا تھکاوٹ کی نفی سے عام ہے۔ کسی بھی چیز کی کامل نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ { کَلَّاط سَنَـکْتُبُ مَا یَقُوْلُ } (مریم :79) ” ہرگز نہیں۔ ہم لکھیں گے اس کو جو وہ کہتا ہے۔ “ کُلٌّ : (1) سب کے سب۔ ہر ایک ۔ { بَلْ لَّـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلٌّ لَّـہٗ قٰـنِتُوْنَ ۔ } (البقرۃ) ” بلکہ اس کا ہی ہے وہ ‘ جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سب کے سب اس کی ہی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ “ کُلَّمَا : اس میں ما ظرفیہ ہے اور کُلَّ اس کا مضاف ہے۔ ظرف کے تکرار کا مفہوم دیتا ہے ۔ جب کبھی ‘ جب بھی ۔ { کُلَّمَآ اَضَآئَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِق } (البقرۃ :20) ” جب کبھی روشنی ہوتی ہے ان کے لیے تو وہ لوگ چلتے ہیں اس میں ۔ “ کَلَالَۃً : ایسی میت جس کی اولاد اور والد زندہ نہ ہوں۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب :” تَرَکَ “ کا فاعل ” اَزْوَاجُکُمْ “ عاقل کی جمع مکسر ہے ‘ جس کا فعل واحد مذکر اور واحد مؤنث ‘ دونوں طرح آسکتا ہے۔ البتہ آگے ” یَکُنْ “ اور ” لَھُنَّ “ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں ” اَزْوَاجُکُمْ “ (تمہارے جوڑے) سے مراد تمہاری بیویاں ہیں۔ ” دَیْنٍ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” وَصِیَّۃٍ “ پر عطف ہے۔ ” وَاِنْ کَانَ “ میں ” کَانَ تامّہ “ ہے۔ ” رَجُلٌ“ اور ” اَوِ امْرَاَۃٌ“ اس کے فاعل ہیں اور نکرہ موصوفہ ہیں۔ ” یُـوْرَثُ کَلَالَۃً “ صفت ہے۔ ثلاثی مجرد میں ” وَرِثَ “ لازم ہے ‘ جس کا مجہول نہیں بن سکتا۔ اس لیے ” یُـوْرَثُ “ باب افعال کا مجہول ہے۔ اس کا نائب فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” رَجُلٌ“ اور ” اِمْرَاَۃٌ“ کے لیے ہے۔ ” کَلٰلَۃً “ ان کا حال ہے ۔ ” کَانُوْا “ کا اسم اس میں شامل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَخٌ“ اور ” اُخْتٌ“ کے لیے ہے اور اس کی خبر ” اَکْثَرَ “ ہے۔ ” وَصِیَّۃٍ “ کا حال ہونے کی وجہ سے ” غَیْرَ مُضَارٍّّ “ حالت نصبی میں آیا ہے۔ نوٹ : لغوی اعتبار سے ایسی میت کو بھی کلالہ کہتے ہیں جس کا والد اور اولاد نہ ہو ‘ اور میت کے والد اور اولاد کے علاوہ جو وارث ہوں ‘ ان کو بھی کلالہ کہتے ہیں۔ لیکن اس آیت اور اس سورة کی آخری آیت کا سیاق وسباق بتارہا ہے کہ ان میں کلالہ کا لفظ میت کے لیے آیا ہے۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ سے کَلَالَـۃٌ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” وہ ‘ جو مرا اس حال میں کہ نہیں ہے اس کی کوئی اولاد اور نہ ہی والد “۔ (مفردات القرآن)
Ayah 4:13

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے

[ تِلْکَ : یہ ] [ حُدُوْدُ اللّٰہِ : اللہ کی حدیں ہیں ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّطِعِ : اطاعت کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَــہٗ : اور اس کے رسول کی ] [ یُدْخِلْہُ : تو وہ داخل کرے گا ان کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِہَا : نیچے سے جن کے ] [ الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] [ فِیْہَا : جن میں ] [ وَذٰلِکَ : اور یہ ] [ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ : شاندار کامیابی ہے ] ترکیب :” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ شرط ہونے کی وجہ سے ” یُطِیْعُ “ کے بجائے مضارع مجزوم ” یُطِعْ “ آیا ہے۔ پھر اسے اگلے لفظ یعنی اللہ سے ملانے کے لیے قاعدے کے مطابق زیر دی گئی ہے۔ ” یُدْخِلْہُ “ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا۔ ” جَنّٰتٍ “ اس کا مفعول ثانی ہے اس لیے حالت نصب میں آیا ہے اور نکرہ مخصوصہ ہے۔ ” خٰلِدِیْنَ “ حال ہے۔ ” اَلْفَوْزُ الْعَظِیْمُ “ خبر معرفہ ہے اور اس کی ضمیر فاصل محذوف ہے۔ ” یَعْصِ “ اور ” یَتَعَدَّ “ شرط ہونے کی وجہ سے حالت جزم میں ہیں۔ ” یُدْخِلْہُ “ کا مفعول ثانی ” نَارًا “ ہے اور ” خَالِدًا “ حال ہے۔ ” عَذَابٌ مُّھِیْنٌ“ مبتدا موخر نکرہ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔
Ayah 4:14

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے

[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّعْصِ : نافرمانی کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَــہٗ : اور اس کے رسول کی ] [ وَیَتَـعَدَّ : اور تجاوز کرے گا ] [ حُدُوْدَہٗ : اس کی حدوں سے ] [ یُدْخِلْہُ : تو وہ داخل کرے گا اس کو ] [ نَارًا : ایک ایسی آگ میں ] [ خَالِدًا : ہمیشہ رہنے والا ہے ] [ فِیْہَا : جس میں ] [ وَلَـہٗ : اور اس کے لیے ہی ] [ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ: ایک رسوا کرنے والا عذاب ہے ]
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے

[ وَالّٰتِیْ : اور جو عورتیں ] [ یَاْتِیْنَ : کرتی ہیں ] [ الْـفَاحِشَۃَ : بےحیائی ] [ مِنْ نِّسَآئِکُمْ : تمہاری عورتوں میں سے ] [ فَاسْتَشْہِدُوْا : تو گواہ طلب کرو ] [ عَلَیْہِنَّ : ان پر ] [ اَرْبَعَۃً : چار ] [ مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ شَہِدُوْا : وہ لوگ گواہی دیں ] [ فَاَمْسِکُوْہُنَّ : تو تم لوگ روکو ان کو ] [ فِی الْـبُـیُوْتِ : گھروں میں ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَتَوَفّٰـٹہُـنَّ : پورا پورا لے لے ان کو ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ اَوْ : یا ] [ یَجْعَلَ : بنائے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لَـہُنَّ : ان کے لیے ] [ سَبِیْلاً : کوئی راہ ] ترکیب :” یَاْتِیْنَ “ مضارع میں جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے ‘ ” اَلْفَاحِشَۃَ “ اس کا مفعول ہے (دیکھیں البقرۃ :23 کا نوٹ 2) ۔ ” اَرْبَعَۃً “ تمیز ہے۔ ” یَتَوَفّٰی “ کا فاعل ” اَلْمَوْتُ “ ہے۔ ” یَاْتِیٰـنِھَا “ میں ” ھَا “ کی ضمیر مفعولی ” اَلْفَاحِشَۃَ “ کے لیے ہے۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

[ وَالَّذٰنِ : اور جو دو مرد ] [ یَاْتِیٰـنِہَا : کرتے ہیں وہی (یعنی بےحیائی) ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ فَاٰذُوْہُمَا : تو اذیت دو ان دونوں کو ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَابَا : دونوں توبہ کریں ] [ وَاَصْلَحَا : اور دونوں اصلاح کریں ] [ فَاَعْرِضُوْا : تو تم درگزر کرو ] [ عَنْہُمَا : دونوں سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ تَوَّابًا : توبہ قبول کرنے والا ہے ] [ رَّحِیْمًا : رحم کرنے والا ہے ] نوٹ 1: ان آیات میں ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں سزا تجویز کی گئی ہے جن سے فاحشہ یعنی زنا کا صدور ہوجائے ۔ اس کے ثبوت کے لیے چار گواہ طلب کیے جائیں گے۔ اگر چار سے کم لوگ گواہی دیں تو ان کی گواہی نا معتبر ہے۔ ایسی صورت میں مدعی اور گواہ جھوٹے قرار دیے جاتے ہیں اور ایک مسلمان پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر حدقذف جاری کردی جاتی ہے۔ ان دو آیتوں میں زنا کے لیے کوئی حد بیان نہیں کی گئی بلکہ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائو اور زناکار عورتوں کو گھروں میں بند کردو۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان سے تعرض مت کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا کے بعد اگر توبہ کرلیں تو پھر انہیں ملامت نہ کرو اور مزید سزا مت دو ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ توبہ سے سزا بھی معاف ہوگئی ‘ کیونکہ آیت میں توبہ سزا کے بعد مذکور ہے۔ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کی ان دو آیتوں کی ترتیب یہ ہے کہ شروع میں تو ان میں ایذا کا حکم نازل ہوا اور اس کے بعد عورتوں کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ ان کو گھروں میں بند رکھا جائے یہاں تک کہ ان کو موت آجائے یا ان کی زندگی میں کوئی حکم آجائے۔ چناچہ بعد میں وہ ” سبیل “ بیان کردی گئی جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا تھا (ماخوذ از معارف القرآن ) ۔ مذکورہ حکم سورة النور کی آیت 2 میں ہے جس کا مفہوم (ترجمہ نہیں) یہ ہے کہ ” زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور اللہ کے دین کے معاملے میں تمہیں ان پر ترس نہ آئے اگر تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے۔ اور ان دونوں کو سزا دیتے وقت مؤمنوں میں سے ایک گروہ کا موقع پر موجود ہونا ضروری ہے “۔ یعنی مرد اور عورت دونوں کو برسرعام سزا دینا ضروری ہے خواہ ہم مغربی طاغوت کو منہ دکھانے کے قابل رہیں یا نہ رہیں۔ جس کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کو منہ دکھانا ہے۔ دنیا کو منہ دکھانا اس کا مسئلہ ہے جو زبان سے اللہ اور آخرت کا اقرار کرلے لیکن دل یقین سے خالی ہو۔ نوٹ 2: شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا قرآن مجید میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں احادیث میں ملتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے اکثر لوگوں کے ذہن الجھن کا شکار ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ حدیث کو اگر مانتے بھی ہیں تو اسے قرآن مجید سے کمتر درجہ کی چیز سمجھتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ یہ بات بالکل غلط ہے اور کسی درجے میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ سنی سنائی بات پر کوئی رائے قائم کرنے کے بجائے حدیث کی ضرورت و اہمیت اور ثقاہت یعنی قابل اعتبار ہونے کے متعلق خود تحقیق کر کے کوئی رائے قائم کریں۔ اگر انہوں نے غیر متعصب ذہن کے ساتھ یہ تحقیق کی تو ان شاء اللہ سوا نیزے پر دمکتے ہوئے سورج کی طرح یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ قرآن اور حدیث الگ الگ دو چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سکہ رائج الوقت کے دو رخ ہیں۔ اس سلسلہ میں البلاغ فائونڈیشن کے ” حدیث کا جائزہ “ کورس کا مطالعہ بھی ان شاء اللہ مفید ہوگا۔ اس ذہنی الجھن کی دوسری وجہ بھی لاعلمی پر مبنی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ اسلامی قوانین کے ماخذ قرآن اور حدیث ہیں۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ اسلامی قوانین کی غالب اکثریت کے یہی دو ماخذ ہیں ‘ لیکن صرف یہی دو نہیں ہیں۔ اسلامی قوانین کے کچھ اور ماخذ بھی ہیں جن کی وضاحت ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اپنے ” خطباتِ بہاولپور “ میں کی ہے۔ ان میں سے ایک تورات ہے۔ اصول یہ ہے کہ تورات میں درج اللہ کے جن احکام کی قرآن و حدیث میں توثیق کردی گئی وہ اب اسلامی قوانین کا حصہ ہیں۔ اب نوٹ کرلیں کہ رجم کی سزا تورات میں درج ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کر کے اس کے اسلامی قانون ہونے کی حیثیت کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر کردیا ہے۔
Ayah 4:17

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق اُنہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہو جاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے

[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ التَّوْبَۃُ : توبہ (یعنی اپنی رحمت کے ساتھ رجوع کرنا تو ثابت) ہے ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : کرتے ہیں ] [ السُّوْئَ : برا (کام) ] [ بِجَہَالَۃٍ : نادانی میں ] [ ثُمَّ : پھر یَتُوْبُوْنَ : وہ لوگ توبہ کرتے ہیں ] [ مِنْ قَرِیْبٍ : قریب (یعنی جلدی) سے ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو یہ لوگ ہیں ] [ یَتُوْبُ : توبہ قبول کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلَیْہِمْ : جن کی ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ] ع ت د عَتُدَ یَعْتُدُ (ک) عَتَادًا : تیار ہونا ‘ آمادہ ہونا۔ عَتِیْدٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : تیار۔ { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ۔ } (قٓ) ” وہ منہ سے نہیں نکالتا کوئی بات مگر یہ کہ اس کے پاس ہوتا ہے ایک تیار محافظ۔ “ اَعْتَدَ ۔ یُعْتِدُ (افعال) اِعْتَادًا : تیار کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب :” اَلتَّوْبَۃُ “ مبتدأ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ ” ثَابِتٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” عَلَی اللّٰہِ “ اور ” لِلَّذِیْنَ “ دونوں متعلق خبر ہیں۔ ” اَلسُّوْئَ “ صفت ہے ‘ اس کا موصوف ” اَلْفِعْلَ “ یا ” اَلْعَمَلَ “ محذوف ہے۔ ” اَلتَّوْبَۃُ “ اسم ہے ” لَـیْسَ “ کا ‘ اس کی خبر بھی محذوف ہے اور یہاں ” عَلَی اللّٰہِ “ بھی محذ وف ہے ‘ ” لِلَّذِیْنَ “ اور ” وَلَا الَّذِیْنَ “ دونوں متعلق خبر ہیں۔