Ayah 4:38[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ (لوگ) جو ] [ یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [ اَمْوَالَـہُمْ : اپنے مالوں کو ] [ رِئَـــآئَ النَّاسِ : لوگوں کو دکھاتے ہوئے ] [ وَلاَ یُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان نہیں لاتے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور نہ ہی آخری دن پر ] [ وَمَنْ : اور وہ ] [ یَّـکُنِ : ہوا ] [ الشَّیْطٰنُ : شیطان ] [ لَہٗ : جس کا ] [ قَرِیْنًا : ساتھی ] [ فَسَآئَ : تو وہ برا ہے ] [ قَرِیْنًا : بطور ساتھی کے ]
ق ر ن
قَرِنَ یَقْرَنُ (س) قَرَنًا : دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا باہم جمع ہونا ‘ اکٹھا ہونا ‘ جڑنا۔
قَرِیْنٌ ج قُـرَنَــآئُ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہر وقت جڑا رہنے والا ‘ ساتھی ‘ ہم نشین۔ { وَقَیَّضْنَا لَھُمْ قُرَنَائَ } (حٰم السجدۃ :25) ” اور ہم نے تعینات کیے ان کے لیے کچھ ساتھی۔ “
قَرْنٌ ج قُرُوْنٌ : زمانہ ‘ ایک سو سال جمع ہونے کا عرصہ ‘ پھر ایک زمانے میں ساتھ رہنے والے لوگوں کے لیے بھی آتا ہے۔ امت ‘ جماعت۔ { وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ۔ } (الانعام) ” اور ہم نے اٹھایا ان کے بعد ایک دوسری امت کو “۔ { وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوْالا } (یونس :13) ” اور ہم ہلاک کرچکے ہیں تم سے پہلے قوموں کو جب انہوں نے ظلم کیا۔ “
قَرْنَیْنِ ( قَرْنٌ کا تثنیہ ) : ذُوالْقَرْنَیْنِ کا مطلب ہے دو زمانوں یا دو قوموں والا۔ قرآن میں یہ ایک بادشاہ کے نام (اسم علم) کے طور پر آیا ہے۔ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِط } (الکہف :83) ” یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں۔ “
قَارُوْنَ : موسیٰ ( علیہ السلام) کی امت کے ایک سرمایہ دار کا نام ہے۔ { اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَـبَغٰی عَلَیْھِمْص } (القصص :76) ” بیشک قارون موسیٰ (d ) کی قوم میں سے تھا پھر اس نے بغاوت کی ان سے (یعنی قوم سے) ۔ “
اَقْرَنَ (افعال) اِقْرَانًا : دو یا زیادہ چیزوں کو اکٹھا کرنا ‘ باندھنا۔
مُقْرِنٌ (اسم الفاعل) : باندھنے والا۔ { سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَـہٗ مُقْرِنِیْنَ ۔ } (الزخرف) ” پاک ہے وہ جس نے مسخر کیا ہمارے لیے اس کو اور ہم نہیں تھے اس کو باندھنے والے (یعنی قابو پانے والے) ۔ “
قَرَّنَ (تفعیل) تَقْرِیْنًا : خوب کس کے باندھنا۔
مُقَرَّنٌ (اسم المفعول) : کس کے باندھا ہوا۔ { وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ } (ابراھیم) ” اور تو دیکھے گا اس دن مجرموں کو بندھے ہوئے بیڑیوں میں۔ “
اِقْتَرَنَ (افتعال) اِقْتِرَانًا : اہتمام سے متصل ہونا ‘ جڑنا۔
مُقْتَرِنٌ (اسم الفاعل) : جڑنے والا۔ { اَوْ جَائَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ } (الزخرف) ” یا آتے فرشتے اس کے ساتھ متصل ہونے والے ہوتے ہوئے (یعنی ساتھ رہنے والے ) ۔ “
ترکیب : ” یُنْفِقُوْنَ “ کا مفعول ” اَمْوَالَھُمْ “ ہے ‘ جبکہ ” رِئَائَ النَّاسِ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے اس لیے ” یَکُنْ “ مجزوم ہوا ہے۔ ” اَلشَّیْطٰنُ “ اس کا اسم ہے اور ” قَرِیْنًا “ اس کی خبر ہے۔ ” فَسَائَ “ فعل ذم ہے لیکن یہ جوابِ شرط بھی ہے اور آفاقی صداقت (البقرۃ :49‘ نوٹ 2) بھی ہے ‘ اس لیے اس کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” قَرِیْنًا “ تمیز ہے۔ ” تَکُ “ کا اسم اس میں شامل ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے اور ” حَسَنَۃً “ اس کی خبر ہے۔ ” یُضٰعِفْ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ ” وَجِئْنَا “ کا مفعول ” بِکَ “ ہے اور ” شَھِیْدًا “ تمیز ہے۔ ” تُسَوّٰی “ فعل مضارع مجہول ہے۔ ” اَلْاَرْضُ “ اس کا نائب فاعل ہے۔
Ayah 4:39[ وَمَاذَا : اور کیا ہے ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ لَـوْ : اگر ] [ اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ وَاَنْفَقُوْا : اور خرچ کریں ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ رَزَقَہُمُ : عطا کیا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِہِمْ : ان کو ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]
Ayah 4:40[ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یَظْلِمُ : ظلم نہیں کرتا ] [ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ : کسی ذرے کے ہم وزن ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَکُ : وہ ہو ] [ حَسَنَۃً : کوئی نیکی ] [ یُّضٰعِفْہَا : تو وہ کئی گنا بڑھاتا ہے اس کو ] [ وَیُؤْتِ : اور وہ دیتا ہے ] [ مِنْ لَّدُنْہُ : اپنے پاس سے ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ]
ث ق ل
ثَقَلَ ۔ یَثْقُلُ (ن) ثَقَلًا : وزن معلوم کرنے کے لیے ہاتھ میں اٹھانا۔
ثَقَلٌ ج اَثْقَالٌ (اسم ذات ) : وزن ‘ بوجھ۔ { وَلَـیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِھِمْز } (العنکبوت :13) ” اور وہ لوگ لازماً اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کچھ دوسرے بوجھ اپنے بوجھ کے ساتھ۔ “
مِثْقَالٌ (اسم الآلہ) : تولنے کے اوزان ‘ باٹ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ثَقُلَ یَثْقُلُ (ک) ثِقَالَـۃً : وزنی ہونا ‘ بھاری ہونا۔ { فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” پس بھاری ہوئے جس کے پلڑے تو وہ لوگ ہی مراد پانے والے ہیں۔ “
ثَقِیْلٌ ج ثِقَالٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : وزنی ‘ بھاری۔ { اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا } (المزمل) ” بیشک ہم ڈالیں گے آپ ﷺ پر ایک بھاری بات “۔ { وَیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ ۔ } (الرعد) ” اور وہ اٹھاتا ہے بھاری بدلیوں کو۔ “
اَثْقَلَ (افعال) اِثْقَالًا : کسی کو بھاری کرنا ‘ کسی پر بوجھ لادنا۔{ فَلَمَّا اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰہَ } (الاعراف :189) ” پھر جب اس نے بھاری کیا تو دونوں نے پکارا اللہ کو۔ “
مُثْقَلٌ (اسم المفعول) : لدا ہوا ‘ بوجھ تلے دبا ہوا۔ { وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِھَا } (فاطر :18) ” اور جب پکارے گی کوئی لدی ہوئی جان اپنے بوجھ کی طرف۔ “
تَثَاقَلَ (تفاعل) اِثَّاقُلًا : بوجھ کے سبب سے کسی طرف جھک جانا ‘ مائل ہونا ‘ گرپڑنا۔ { اِذَا قِیْلَ لَـکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِط } (التوبۃ :38) ” جب کہاجاتا ہے تم لوگوں سے کہ کوچ کرو اللہ کی راہ میں تو تم لوگ گرے پڑتے ہو زمین کی طرف۔ “
Ayah 4:41[ فَکَیْفَ : تو کیسا ہوگا (ان کا حال) ] [ اِذَا : جب ] [ جِئْنَا : ہم لائیں گے ] [ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ : ہر امت سے ] [ بِشَہِیْدٍ : ایک گواہ کو ] [ وَّجِئْنَا : اور ہم لائیں گے ] [ بِکَ : آپ ﷺ کو ] [ عَلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ : ان لوگوں پر ] [ شَہِیْدًا : بطور گواہ ]
Ayah 4:42[ یَوْمَئِذٍ : اس دن ] [ یَّوَدُّ : چاہیں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ (لوگ) جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَعَصَوُا : اور نافرمانی کی ] [ الرَّسُوْلَ : اِن رسول ﷺ کی ] [ لَوْ : کہ کاش ] [ تُسَوّٰی : ہموار کردیا جائے ] [ بِہِمُ : ان پر ] [ الْاَرْضُ : زمین کو ] [ وَلاَ یَکْتُمُوْنَ : اور وہ نہیں چھپائیں گے ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ حَدِیْثًا : کوئی بات ]
نوٹ 1 : آیت 41 میں ” ہٰٓــؤُلَآئِ “ کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کی امت کی طرف ہے ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے اعمال آپ ﷺ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرح اس آیت سے معلوم ہوا کہ گزشتہ امتوں کے انبیاء اپنی اپنی امت پر بطور گواہ پیش ہوں گے اور آپ ﷺ بھی اپنی امت کے اعمال کی گواہی دیں گے ۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2 : قرآن مجید کے اس اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے جو اپنی کسی امت کے متعلق گواہی دے ‘ ورنہ قرآن مجید میں اس کا بھی ذکر ہوتا۔ اس اعتبار سے یہ آیت ختم نبوت کی دلیل بھی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 4:43[ یٰٓـــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے وہ لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لاَ تَقْرَبُوا : تم قریب مت جائو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْــتُمْ : تم ] [ سُکٰرٰی : مدہوش ہو ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ تَعْلَمُوْا : تم جانو ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَقُوْلُوْنَ : تم کہتے ہو ] [ وَلاَ جُنُبًا : اور نہ ہی ناپاک ہوتے ہوئے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ : کسی راستے کے گزرنے والے ہوتے ہوئے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ تَغْتَسِلُوْا : تم غسل کرلو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ کُنْتُمْ : تم ہو ] [ مَّرْضٰٓی : مریض ] [ اَوْ عَلٰی سَفَرٍ : یا کسی سفر پر ] [ اَوْ جَآئَ : یا آئے ] [ اَحَدٌ : کوئی ایک ] [ مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [ مِّنَ الْغَآئِطِ : بیت الخلاء سے ] [ اَوْ لٰمَسْتُمُ : یا تم مباشرت کرو ] [ النِّسَآئَ : بیویوں سے ] [ فَلَمْ تَجِدُوْا : پھر تم لوگ نہ پائو ] [ مَآئً : کوئی پانی ] [ فَـتَـیَمَّمُوْا : تو تم تیمم کرو ] [ صَعِیْدًا طَـیِّـبًا : کسی پاک مٹی سے ] [ فَامْسَحُوْا : تو ہاتھ پھیرو ] [ بِوُجُوْہِکُمْ : اپنے چہروں پر ] [ وَاَیْدِیْکُمْ : اور اپنے ہاتھوں پر ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَفُوًّا : بےانتہا درگزر کرنے والا ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]
س ک ر
سَکَرَ ۔ یَسْکُرُ (ن) سَکْرًا : کسی چیز کی روانی کو روک دینا ‘ جیسے دریا پر بند بنانا۔
سَکِرَ ۔ یَسْکَرُ (س) سَکَرًا : عقل کی روانی کا رک جانا ‘ غصہ یا نشے سے مدہوش ہونا۔
سَکَرٌ : مدہوش کرنے والی چیز ‘ نشہ آور چیز۔ { تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا } (النحل :67) ” تم لوگ بناتے ہو اس سے نشہ آور چیز۔ “
سَکْرَۃٌ : مدہوشی ‘ نشہ۔ { وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط } (قٓ:19) ” اور آتی ہے موت کی مدہوشی حق کے ساتھ۔ “
سُکٰرٰی : مبالغہ کے وزن فَعْلَانُ کی مؤنث فَعْلٰی اور جمع فُعَالٰی کے وزن پر آتی ہے۔ اس طرح سَکِرَ کے مبالغہ سَکْرٰی کی جمع سُکَارٰی ہے جسے قرآن مجید میں سُکٰرٰی لکھا گیا ہے۔ بہت زیادہ مدہوش ہونا۔ آیت زیر مطالعہ۔
سَکَّرَ (تفعیل) تَسْکِیْرًا : گلا گھونٹنا ‘ روک دینا۔ { اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا } (الحجر :15) ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ باندھ دی گئیں ہماری نگاہیں۔ “
غ س ل
غَسَلَ ۔ یَغْسِلُ (ض) غَسْلاً : کسی چیز کو پانی سے دھونا ‘ میل کچیل دور کرنا۔
اِغْسِلْ (فعل امر) : تو دھو۔{ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ } (المائدۃ :6) ” جب بھی تم لوگ کھڑے ہو نماز کے لیے تو تم لوگ دھو لو اپنے چہروں کو۔ “
غِسْلِیْنٌ : دور کیا ہوا میل کچیل ‘ زخموں کا دھو ون۔ { وَلَا طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ غِسْلِیْنٍ ۔ } (الحاقۃ) ” اور کوئی کھانا نہیں ہوگا مگر زخموں کے دھو ون میں سے۔ “
اِغْتَسَلَ (افتعال) اِغْتِسَالاً : اہتمام سے دھونا ‘ نہانا ‘ غسل کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
مُغْتَسَلٌ (اسم المفعول جو ظرف کے معنی میں آتا ہے) : نہانے کی جگہ ‘ غسل خانہ۔ { ھٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ} (صٓ:42) ” یہ ٹھنڈا کرنے والی نہانے کی جگہ ہے۔ “
ل م س
لَمَسَ یَلْمُسُ وَیَلْمِسُ (ن ۔ ض) لَمْسًا : (1) کسی چیز کو چھونا (2) کسی چیز کو ڈھونڈنا۔ { وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَائَ } (الجن :8) ” اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو۔ “
لَامَسَ (مفاعلہ) مُلَامَسَۃً : ایک دوسرے کو چھونا ‘ مباشرت کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِلْتَمَسَ (افتعال) اِلْتِمَاسًا : اہتمام سے ڈھونڈنا ‘ تلاش کرنا۔
اِلْتَمِسْ (فعل امر) : تو تلاش کر۔ { قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًاط } (الحدید :13) ” کہا جائے گا تم لوگ واپس جائو اپنے پیچھے پھر تلاش کرو نور کو۔ “
غ و ط
غَاطَ ۔ یَغُوْطُ (ن) غَوْطًا : گڑھا کھودنا ‘ کسی کو غوطہ دینا۔
غَائِطٌ (اسم الفاعل) : غوطہ دینے والا ۔ پھر استعارۃً رفع حاجت کی جگہ کے لیے بھی آتا ہے ‘ یعنی
بیت الخلائ ‘ لیٹرین ‘ باتھ روم ‘ کیونکہ اس زمانہ میں بیت الخلاء کے لیے نشیبی زمین کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ آیت زیرمطالعہ۔
م س ح
مَسَحَ ۔ یَمْسَحُ (ف) مَسْحًا : کسی چیز پر ہاتھ پھیرنا ‘ پونچھنا ‘ مسح کرنا۔
اِمْسَحْ (فعل امر) : تو مسح کر۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَلْمَسِیْحُ (فَعِیْلٌ کا وزن) : حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا لقب ہے ‘ کیونکہ ان کے ہاتھ پھیرنے سے مریض اچھے ہوجاتے تھے۔
ترکیب : ” وَلَا جُنُبًا “ حال ہے اور ” لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ “ پر عطف ہے۔ ” عَابِرِیْنَ “ بھی حال ہونے کی وجہ سے حالت نصبی میں ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے اس کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” مَرْضٰی “ سے ” مَائً “ تک ان کی شرط ہے اور ” فَتَیَمَّمُوْا “ جواب شرط ہے ‘ جبکہ ” فَامْسَحُوْا “ اس کی وضاحت ہے۔
Ayah 4:44[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ؐنے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان کی (حالت کی) طرف جن کو ] [ اُوْتُوْا : دیا گیا ] [ نَصِیْبًا : ایک حصہ ] [ مِّنَ الْکِتٰبِ : کتاب سے ] [ یَشْتَرُوْنَ : وہ لوگ خریدتے ہیں ] [ الضَّلٰلَۃَ : گمراہی کو ] [ وَیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ تَضِلُّوا : تم لوگ (بھی) گمراہ ہو ] [ السَّبِیْلَ : راستے سے ]
ترکیب : ” اُوْتُوْا “ کا نائب فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلَّذِیْنَ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” نَصِیْبًا “ مفعول ثانی ہے۔ ” کَفٰی بِاللّٰہِ “ میں با زائدہ ہے اور یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے ‘ اس لیے ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” وَلِیًّا “ اور ” نَصِیْرًا “ تمیز ہیں۔ ” کَلِمَۃٌ“ کی جمع ” کَلِمٌ“ ہے۔ ” غَیْرَ مُسْمَعٍ “ حال ہے ‘ اس لیے اس کا مضاف ” غیر “ منصوب ہوا ہے۔ ” لَــیًّا “ اور ” طَعْنًا “ بھی حال ہیں۔ ” اَقْوَمَ “ افعل تفضیل ہے اور ” کَانَ “ کی خبر ثانی ہے۔
Ayah 4:45[ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے ] [ بِاَعْدَآئِکُمْ : تمہارے دشمنوں کو ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ وَلِـیًّا : بطور کارساز کے ] [ وَّکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ نَصِیْرًا : بطور مددگار کے ]
Ayah 4:46[ مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا : جو یہودی ہوئے ان میں وہ بھی ہیں ] [ یُحَرِّفُوْنَ : جو پھیرتے ہیں ] [ الْکَلِمَ : کلاموں کو ] [ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ : ان کے رکھنے کی جگہوں سے ] [ وَیَـقُوْلُوْنَ : اور کہتے ہیں ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَعَصَیْنَا : اور ہم نے نافرمانی کی ] [ وَاسْمَعْ : اور (کہتے ہیں) تو سن ] [ غَیْرَ مُسْمَعٍ : نہ سنایا ہوا ہوتے ہوئے ] [ وَّرَاعِنَا : اور (کہتے ہیں) راعنا ] [ لَـیًّا : مروڑتے ہوئے ] [ بِاَلْسِنَتِہِمْ : اپنی زبانوں کو ] [ وَطَعْنًا : اور طعنہ دیتے ہوئے ] [ فِی الدِّیْنِ : دین میں ] [ وَلَوْ اَنَّـہُمْ : اور یہ کہ اگر وہ ] [ قَالُوْا : کہتے ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَاَطَعْنَا : اور ہم نے اطاعت کی ] [ وَاسْمَعْ : اور (کہتے) آپ ﷺ سنیے ] [ وَانْظُرْنَا : اور آپ ﷺ مہلت دیں ہم کو ] [ لَـکَانَ : تو یقینا وہ ہوتا ] [ خَیْرًا : بہتر ] [ لَّہُمْ : ان کے لیے ] [ وَاَقْوَمَ : اور زیادہ پائیدار ] [ وَلٰــکِنْ : اور لیکن ] [ لَّــعَنَہُمُ : لعنت کی ان پر ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ بِکُفْرِہِمْ : ان کے کفر کے سبب سے ] [ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ : پس وہ ایمان نہیں لائیں گے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ قَلِیْلاً : تھوڑا ]
ط ع ن
طَعَنَ ۔ یَطْعَنُ (ف) طَعْنًا : کسی کو نیزہ چبھونا۔ طنز کرنا ‘ طعنہ دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:47[ یٰٓـــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْکِتٰبَ : کتاب ] [ اٰمِنُوْا : تم ایمان لائو ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ نَزَّلْـنَا : ہم نے اتارا ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَکُمْ : تمہارے ساتھ ہے ] [ مِّنْ قَـبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ نَّطْمِسَ : ہم بگاڑ دیں ] [ وُجُوْہًا : کچھ چہروں کو ] [ فَنَرُدَّہَا : پس ہم لوٹا دیں ان کو ] [ عَلٰٓی اَدْبَارِہَآ : ان کی پیٹھوں پر ] [ اَوْ : یا ] [ نَلْعَنَہُمْ : پھر ہم لعنت کریں ] [ کَمَا : جیسے کہ ] [ لَعَنَّــآ : ہم نے لعنت کی ] [ اَصْحٰبَ السَّبْتِ : ہفتے کے دن والوں پر ] [ وَکَانَ : اور ہوتا ہے ] [ اَمْرُاللّٰہِ : اللہ کا حکم ] [ مَفْعُوْلاً : کیا ہوا ]
ط م س
طَمَسَ ۔ یَطْمِسُ (ض) طَمْسًا : کسی چیز کا حلیہ بگاڑ دینا ‘ نام و نشان مٹا دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِطْمِسْ (فعل امر) : تو بگاڑ دے۔ { رَبَّـنَا اطْمِسْ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ } (یونس :88) ” اے ہمارے ربّ ! تو برباد کر دے ان کے اموال کو ۔ “
ترکیب : ” مُصَدِّقًا “ حال ہے۔ ” فَنَرُدَّ “ کا فا سببیہ ہے اس لیے مضارع ” نَرُدَّ “ حالت نصبی میں ہے۔ فاسببیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” اَوْ نَلْعَنَھُمْ “ منصوب ہوا ہے اور اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ” وُجُوْھًا “ کے لیے ہے۔ ” کَانَ “ کا اسم ” اَمْرُ اللّٰہِ “ ہے اور ” مَفْعُوْلاً “ اس کی خبر ہے اور یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے۔ ” اَنْ یُشْرَکَ “ کا نائب فاعل محذوف ہے جو کہ ” شَیْ ئٌ“ ہوسکتا ہے ۔ ” بِہٖ “ کی ضمیر اللہ کے لیے ہے ۔ ” اِثْمًا عَظِیْمًا “ حال ہے۔ ” فَتِیْلًا “ تمیز ہے۔ ” بِہٖ “ کی ضمیر ” اَلْکَذِبَ “ کے لیے ہے۔ ” اِثْمًا مُّبِیْنًا “ تمیز ہے۔
Ayah 4:48[ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یَغْفِرُ : نہیں بخشے گا ] [ اَنْ : (اس کو) کہ ] [ یُّشْرَکَ : شریک کیا جائے (کچھ بھی) ] [ بِہٖ : اس کے ساتھ ] [ وَیَغْفِرُ : اور وہ بخش دے گا ] [ مَا : اس کو جو ] [ دُوْنَ ذٰلِکَ : اس کے علاوہ ہے ] [ لِمَنْ : جس کے لیے ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّشْرِکْ : شرک کرتا ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کے ساتھ ] [ فَقَدِ افْتَرٰٓی : تو اس نے جھوٹ گھڑا ہے ] [ اِثْمًا عَظِیْمًا : ایک عظیم گناہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 4:49[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان (کی حالت) کی طرف جو ] [ یُزَکُّوْنَ : تزکیہ کرتے ہیں ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے نفس کا ] [ بَلِ اللّٰہُ : بلکہ اللہ ] [ یُزَکِّیْ : تزکیہ کرتا ہے ] [ مَنْ : اس کا ‘ جس کا ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [ فَتِیْلاً : کسی دھاگے برابر بھی ]
ت ل
فَـتَلَ ۔ یَفْتِلُ (ض) فَتْلًا : رسی بٹنا۔
فَتِیْلٌ : بٹی ہوئی باریک بتی ‘ دھاگہ ‘ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:50[ اُنْظُرْ : تو دیکھ ] [ کَیْفَ : کیسے ] [ یَفْتَرُوْنَ : وہ گھڑتے ہیں ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ الْکَذِبَ : جھوٹ ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِہٖٓ : وہ ] [ اِثْمًا مُّبِیْنًا : بطور واضح گناہ کے ]
نوٹ 1 : کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مذکورہ آیت 47 کے نزول کے بعد بیشمار یہود و نصاریٰ ایمان نہیں لائے پھر بھی مذکورہ عذاب نازل نہیں ہوا۔ یہ سوال قرآن مجید کے طرز بیان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کا کہنا ہے کہ سرے سے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ کیونکہ یہاں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ عذاب ضرور واقع ہوگا ‘ بلکہ اس کے امکان کا ذکر ہے ۔ (منقول از معارف القرآن)
ہمارے چند متقدمین نے اس کو استعارۃً لیا ہے۔ مثلاً مجاہد (رح) کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے راستے سے دھکیل کر گمراہی کی طرف متوجہ کردیں۔ ابوزید (رح) کے نزدیک لوٹادینا یہ تھا کہ ارض حجاز سے بلاد شام میں پہنچادیا جائے (منقول از تفسیر ابن کثیر) ۔ استعارے کی گنجائش اس لیے بھی نکلتی ہے کہ وُجُوْہٌ کا لفظ چہروں کے علاوہ پوری شخصیت اور توجہ وغیرہ کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
نوٹ 2 : کوئی شخص اگر مرنے سے پہلے کسی بھی گناہ سے سچی توبہ کرلے تو وہ معاف ہوجائے گا ‘ یہاں تک کہ شرک بھی سچی توبہ سے معاف ہوجاتا ہے۔ آیت 48 میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ ایسے لوگوں میں سے جو شرک میں ملوث تھے ‘ تو وہ معاف نہیں ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے۔ اگر کوئی شرک میں ملوث نہیں تھا لیکن کچھ دوسرے گناہ تھے ‘ تو ان کی معافی کا امکان ہے۔ اور یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل کی بنیاد پر کرے گا کہ کس کا کون سا گناہ معاف کیے جانے کے قابل ہے۔
نوٹ 3: آیت 49 میں { الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ } کا ہم نے لفظی ترجمہ کیا ہے۔ سات مختلف ترجموں میں چیک کیا تھا اور ان سب میں اس کا مطلب یہ دیا گیا ہے کہ جو لوگ خود کو پاکیزہ سمجھتے ہیں یا اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ یہ دراصل تفسیری ترجمہ ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔
اس آیت میں جو طرز بیان ہے وہ قرآن مجید میں اور بھی متعدد مقامات پر اختیار کیا گیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک کے حوالے سے ان شاء اللہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” یقینا آپ ﷺ ہدایت نہیں دیتے اس کو جس کو آپ ﷺ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ‘ اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو “۔ (القصص :56) ۔ اس مقام پر یہ بات بہت واضح ہے کہ اس آیت میں ہدایت دینے کی کوشش کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔ یہ نہ صرف مطلوب اور محمود ہے بلکہ بعض اوقات فرض بھی ہے۔ البتہ یہ بات سمجھانا مقصود ہے کہ ہماری اس کوشش کا نتیجہ کس کے حق میں نکلے گا ‘ کب نکلے گا اور کتنا نکلے گا ‘ یہ سارے فیصلے کلیتاً اللہ تعالیٰ کے قبضہ ٔقدرت میں ہیں اور یہ فیصلے وہ اپنے علم کامل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس لیے اپنی کوشش میں لگے رہو اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ اسی کا نام توکل ہے۔
اسی طرح آیت زیر مطالعہ میں بھی اپنے نفس کا تزکیہ کرنے کی کوشش کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔ یہ کوشش بھی مطلوب و محمود ہے۔ البتہ یہاں ایسے لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو اس کوشش کے نتیجے کو یقینی سمجھ کر خود کو پاک سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور اپنی پاکیزگی کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں۔ آیت کے مفہوم کے اسی پہلو کو تفسیری ترجموں میں اجاگر کیا گیا ہے۔
نوٹ 4 : آیت 48 میں اللہ تعالیٰ نے قطعی اعلان کردیا ہے کہ وہ شرک معاف نہیں کرے گا۔ اس لیے ہر صاحب ایمان کا یہ فرض بنتا ہے کہ شرک کو پہچاننے کی وہ خود استعداد حاصل کرے اور دوسروں کے کہنے پر بھروسہ نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میدان حشر میں یہ بات قبول نہیں کی جائے گی کہ فلاں نے ہم کو غلط بتایا تھا ‘ اس لیے اس کو پکڑو اور ہم کو چھوڑ دو ۔ وہ بھی پکڑ اجائے گا اور ساتھ میں ہم بھی پکڑے جائیں گے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی وضاحت موجود ہے ‘ مثلاً الاعراف :38‘ الاحزاب :67 وغیرہ۔ غلط لوگوں کی پیروی کرنے والوں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ غور و فکر اور عقل کی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا اور کسی تحقیق کے بغیر دوسروں کی پیروی کی (بنی اسرائیل :36) ۔ اس لیے کم از کم شرک کی حد تک تو یہ لازمی ہے کہ دوسروں سے فتویٰ مانگنے کے بجائے ہم خود فیصلہ کرسکیں کہ کیا شرک ہے اور کیا نہیں ہے ؟ اسی مقصد سے اس نوٹ میں شرک کے متعلق ضروری معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انسانی تاریخ کا یہ ایک المیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں شرک ان قوموں نے کیا جو اللہ اور آخرت کو مانتے تھے۔ یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنایا جبکہ بنواسماعیل نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ اس پس منظر میں یہ ایک معجزہ ہے کہ امت محمد (ﷺ) تاحال شرک بالذات سے بچی ہوئی ہے ‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک کرنے کے جرم سے ہم لوگ بھی نہ بچ سکے۔ اس لیے اس نوٹ میں ہم شرک فی الصفات کے متعلق کچھ اصولی باتیں سمجھیں گے تاکہ اس کو پہچاننے کی صلاحیت حاصل ہوجائے۔
شرک فی الصفات میں مغالطہ لاحق ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری زبان میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کی صفات کے لیے استعمال ہوتے ہیں وہی الفاظ مخلوق کی صفات کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً اللہ سمیع ہے تو ہم بھی سنتے ہیں ‘ اللہ عالم ہے تو ہم بھی عالم ہیں وغیرہ۔ اس سبب سے پیدا ہونے والے مغالطے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ اور مخلوق کی صفات میں تین بنیادی فرق ذہن میں رکھیں تاکہ شرک فی الصفات سے بچ سکیں۔
(1) پہلا فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذاتی ہیں ‘ کسی نے اس کو دی نہیں ‘ جبکہ مخلوق کی صفات ان کی ذاتی نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہیں تو ان کو ملی ہیں۔
(2) دوسرا فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اسے ہمیشہ سے حاصل ہیں اور ہمیشہ رہیں گی ‘ جبکہ مخلوق کی صفات حادث بھی ہیں اور فانی بھی۔ حادث کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق میں صفات پہلے نہیں تھیں ‘ اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے اسے حاصل ہوئیں۔ فانی کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کی صفات ختم ہوجاتی ہیں۔
(3) تیسرا اور بہت اہم فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات لامحدود ہیں جبکہ مخلوق کی صفات محدود ہیں۔ مثلاً جو آواز فاصلے پر ہو ‘ اسے ہم نہیں سن سکتے۔ آواز اگر ہلکی ہو تو آوازکا احساس ہوتا ہے لیکن بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر ہمارے سامنے کئی افراد بیک وقت ایک دوسرے سے بات (cross talk) شروع کردیں تو سب کی آواز ہمارے کان میں آئے گی لیکن بات کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ یہ سب کچھ ہماری صفت سماعت کے محدود ہونے کا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت سماعت کے لامحدود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ فاصلے اس کے لیے بےمعنی ہیں۔ بندہ چاہے قطب شمالی پر ہو یا قطب جنوبی پر ‘ وہ سب کی سنتا ہے۔ آواز کا تیز یا ہلکا ہونا بھی اس کے لیے بےمعنی ہے ‘ وہ تو دل میں آنے والے خیال بھی سن لیتا ہے۔ اگر پوری دنیا کے انسان اسے بیک وقت پکاریں تو وہ ہر ایک کی سن لیتا ہے۔ اسی طرح ہم بقیہ صفات کے محدود اور لامحدود ہونے کا فرق سمجھ سکتے ہیں۔
یہ ایک پیمانہ (yard stick) ہے جس پر رکھ کر ہر شخص خود معلوم کرسکتا ہے کہ کیا شرک ہے اور کیا شرک نہیں ہے۔ اب یہ بھی نوٹ کرلیں کہ قرآن مجید میں شرک سے متعلق آیات کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں اکثر شرک فی الصفات سے متعلق ہیں۔ نمونے کے طور پر صرف دو آیات دیکھ لیں :
(1) ” اور تم لوگ اس کے علاوہ جن لوگوں کو پکارتے ہو وہ قطمیر (کھجور کی گٹھلی پر پائی جانے والی سفید جھلی) کے بھی مالک نہیں ہیں۔ اگر تم لوگ ان کو پکارو گے تو وہ لوگ تمہاری پکار کو نہیں سنیں گے ‘ اور اگر سنیں گے تو تم لوگوں کی حاجت روائی نہیں کرسکیں گے ‘ اور قیامت کے دن انکار کریں گے تم لوگوں کے شرک کا۔ “ (فاطر :13‘14)
(2) ” اسی کو (یعنی اللہ کو ہی ) پکارنا حق ہے۔ اور یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کے کچھ کام نہیں آتے مگر (اس طرح) جیسے کسی نے پانی کی طرف دونوں ہتھیلیاں پھیلائیں کہ وہ اس کے منہ تک آپہنچے اور وہ اس تک پہنچنے والا نہیں ہے۔ “ (الرعد :14)
Ayah 4:51[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان کی طرف جن کو ] [ اُوْتُوْا : دیا گیا ] [ نَصِیْبًا : ایک حصہ ] [ مِّنَ الْکِتٰبِ : کتاب سے ] [ یُـؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لاتے ہیں ] [ بِالْجِبْتِ : توہمات پر ] [ وَالطَّاغُوْتِ : اور طاغوت پر ] [ وَیَـقُوْلُوْنَ : اور کہتے ہیں ] [ لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ ہٰٓؤُلَآئِ : کہ یہ لوگ ] [ اَہْدٰی : زیادہ ہدایت پر ہیں ] [ مِنَ الَّذِیْنَ : ان سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ سَبِیْلاً : بلحاظ راستے کے ]
ج ب ت
(x) : اس مادہ سے کوئی فعل استعمال نہیں ہوا۔
جِبْتٌ : انتہائی نکمی اور ناکارہ چیز۔ واحد اور جمع سب کے لیے ہے۔ پھر استعارۃً بتوں ‘ جادوگروں اور نجومیوں کے لیے آتا ہے (مفردات القرآن) ‘ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” اُوْتُوْا “ کا نائب فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اِلَی الَّذِیْنَ “ کے لیے ہے اور ” نَصِیْبًا “ مفعول ثانی ہے۔ ” الطَّاغُوْتِ “ حرف ِ جر ” ب “ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہوا ہے۔ ” ھٰؤُلَائِ “ اشارہ ہے ‘” لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ کے لیے جبکہ ” سَبِیْلًا “ تمیز ہے۔ ” اَمْ لَھُمْ “ میں ” اَمْ “ استفہام کا ہے یعنی ” أَ “ کے معنی میں ہے۔
Ayah 4:52[ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ الَّذِیْنَ : وہ ہیں ] [ لَـعَنَہُمُ : لعنت کی جن پر ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَمَنْ : اور جس پر ] [ یَّلْعَنِ : لعنت کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فَلَنْ تَجِدَ : تو تو ہرگز نہیں پائے گا ] [ لَــہٗ : اس کے لیے ] [ نَصِیْرًا : کوئی مددگار ]
Ayah 4:53[ اَمْ : کیا ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : کوئی حصہ ہے ] [ مِّنَ الْمُلْکِ : سلطنت میں ] [ فَاِذًا : پھر تو ] [ لاَّ یُؤْتُوْنَ : وہ نہیں دیں گے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ نَقِیْرًا : تل بھر بھی ]
ن ق ر
نَقَرَ ۔ یَنْقُرُ (ن) نَقْرًا : (1) ٹھونگے مار کر کسی چیز میں سوراخ یا گڑھا کرنا۔ (2) پھونک مار کر بانسری یا بگل بجانا۔ { فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُــوْرِ ۔ } (المدثر) ” پھر جب پھونکا جائے گا بگل میں (یعنی صور پھونکا جائے گا) ۔ “
نَاقُوْرٌ : بگل ‘ صور۔
نَقِیْرٌ : کھجور کی گٹھلی کا گڑھا۔ یہ کسی انتہائی حقیر چیز کے لیے عربی محاورہ ہے جس کا اردو متبادل ہے ” تل بھر “۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:54[ اَمْ : یا ] [ یَحْسُدُوْنَ : وہ حسد کرتے ہیں ] [ النَّاسَ : لوگوں سے ] [ عَلٰی مَآ : اس پر جو ] [ اٰتٰٹہُمُ : دیا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ فَقَدْ اٰتَـیْنَــآ : تو ہم دے چکے ہیں ] [ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو ] [ الْکِتٰبَ : کتاب ] [ وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت ] [ وَاٰتَـیْنٰـہُمْ : اور ہم نے دی ان کو ] [ مُّلْکًا عَظِیْمًا : ایک شاندار سلطنت ]
Ayah 4:55[ فَمِنْہُمْ مَّنْ : تو ان میں وہ بھی ہیں جو ] [ اٰمَنَ : ایمان لائے ] [ بِہٖ : اس پر ] [ وَمِنْہُمْ مَّنْ : اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] [ صَدَّ : رکے رہے ] [ عَنْہُ : اس سے ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِجَہَنَّمَ : جہنم ] [ سَعِیْرًا : بطور شعلوں والی آگ کے ]
Ayah 4:56[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : انکار کیا ] [ بِاٰیٰتِنَا : ہماری نشانیوں کا ] [ سَوْفَ : عنقریب ] [ نُصْلِیْہِمْ : ہم ڈالیں گے ان کو ] [ نَارًا : ایک آگ میں ] [ کُلَّمَا : جب کبھی بھی ] [ نَضِجَتْ : پک جائیں گی ] [ جُلُوْدُہُمْ : ان کی کھالیں ] [ بَدَّلْنٰہُمْ : تو ہم تبدیل کردیں گے ان کو (یعنی ان کے لیے) ] [ جُلُوْدًا : کھالوں کو ] [ غَیْرَہَا : ان کے (یعنی پہلی کھالوں کے) علاوہ ] [ لِیَذُوْقُوا : تاکہ وہ لوگ چکھیں ] [ الْعَذَابَ : عذاب کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
ن ض ج
نَضِجَ ۔ یَنْضَجُ (س) نَضْجًا : پھل یا گوشت کا پکنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ج ل د
جَلَدَ یَجْلِدُ (ض) جَلْدًا : چمڑے یا کھال پر مارنا۔
اِجْلِدْ (فعل امر) : تو مار۔ { فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً } (النور :4) ” تو تم لوگ مارو ان کو اسّی کوڑے۔ “
جَلْدَۃٌ : کوڑا۔
جِلْدٌ ج جُلُوْدٌ : کھال۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” نُصْلِیْ “ کا مفعول اوّل ” ھِمْ “ کی ضمیر ہے اور ” نَارًا “ مفعول ثانی ہے۔ ” کُلَّمَا “ شرطیہ ہے ‘ اس لیے ” نَضِجَتْ “ ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ ” بَدَّلْـنَا “ کا مفعول اوّل ” ھُمْ “ ہے اور ” جُلُوْدًا “ مفعول ثانی ہے۔ ” غَیْرَھَا “ میں ” ھَا “ کی ضمیر ” جُلُوْدٌ“ کے لیے ہے۔ ” اَنْ تَحْکُمُوْا “ کا ” اَنْ “ ‘ ” یَاْمُرُکُمْ “ پر عطف ہے ۔
Ayah 4:57[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ (لوگ) جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [ سَنُدْخِلُہُمْ : ہم داخل کریں گے ان کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [ الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] [ فِیْہَآ : ان میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ہیں ] [ فِیْہَآ : ان میں ] [ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ : پاک کیے ہوئے جوڑے ] [ وَّنُدْخِلُہُمْ : اور ہم داخل کریں گے ان کو ] [ ظِـلاًّ ظَلِیْلاً : ہمیشگی والے سائے میں ]
Ayah 4:58[ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ یَاْمُرُکُمْ : حکم دیتا ہے تم لوگوں کو ] [ اَنْ : کہ ] [ تُــؤَدُّوا : تم لوٹا دو ] [ الْاَمٰنٰتِ : امانتوں کو ] [ اِلٰٓی اَہْلِہَا : ان کے اہل (یعنی اہلیت والوں) کی طرف ] [ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ حَکَمْتُمْ : تم فیصلہ کرو ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے مابین ] [ اَنْ : (تو یہ) کہ ] [ تَحْکُمُوْا : تم لوگ فیصلہ کرو ] [ بِالْعَدْلِ : عدل سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ نِعِمَّا : کیا ہی اچھی ہے جو ] [ یَعِظُکُمْ : وہ نصیحت کرتا ہے تم کو ] [ بِہٖ : اس کے بارے میں ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ سَمِیْعًام : سننے والا ] [ بَصِیْرًا : دیکھنے والا ]
نوٹ 1 : جن لوگوں کے بدن پر کبھی کوئی پھوڑا یا پھنسی نکلی ہے وہ جانتے ہیں کہ جب وہ پک جاتے ہیں تو ان کی کھال گل کر الگ ہوجاتی ہے اور نیچے سے نئی کھال نکلتی ہے۔ اس وقت وہ اتنی نازک اور حساس ہوتی ہے کہ اگر کوئی چیز اس کو چھو جائے تو آدمی بلبلا اٹھتا ہے۔ جن لوگوں کو اس کا تجربہ ہے وہ کسی درجے میں { لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ } کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں۔
نوٹ 2 : آیت 58 میں لفظ امانات جمع کے صیغے میں آیا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ صرف مال و دولت ہی امانت نہیں ہوتی بلکہ اس کی اور بھی قسمیں ہیں۔ مثلاً ایک حدیث کے مطابق کسی مجلس میں جو بات کہی جائے وہ اس مجلس کی امانت ہے اور اہل مجلس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو بتانا خیانت ہے۔ ایک دوسری حدیث کے مطابق جس شخص سے کوئی مشورہ طلب کیا جائے تو وہ امین ہوتا ہے ‘ اس لیے اس پر لازم ہے کہ مشورہ وہی دے جو مشورہ مانگنے والے کے حق میں مفید ہے۔ اگر جانتے بوجھتے غلط مشورہ دیا تو اس نے خیانت کی۔
اسی طرح خانہ کعبہ کی کنجی کی تولیت کے مسئلہ پر اس آیت کا نازل ہونا واضح کردیتا ہے کہ جو بھی عہدے اور منصب ہیں ‘ وہ سب اللہ کی امانتیں ہیں اور ان کے امین وہ حکام ہیں جن کو ان عہدوں پر تقرری کا اختیار حاصل ہے۔ ان کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جو علم وعمل اور کسی قابلیت کے لحاظ سے اس عہدے کا اہل نہیں ہے۔ حکومت کے عہدے باشندگانِ ملک کے حقوق نہیں ہیں جنہیں آبادی کے تناسب کے اصول پر تقسیم کیا جائے ‘ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانتیں ہیں جو صرف ان کے اہل لوگوں کو دیے جاسکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کی بنیاد پر ‘ اہلیت معلوم کیے بغیر دے دیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ‘ نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل ‘ یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے (منقول از معارف القرآن) ۔
Ayah 4:59[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [ اَطِیْعُوا : تم لوگ اطاعت کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَاَطِیْعُوا : اور اطاعت کرو ] [ الرَّسُوْلَ : ان رسول ﷺ کی ] [ وَاُولِی الْاَمْرِ : اور حکم والوں کی ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَنَازَعْتُمْ : تم لوگ باہم کھینچا تانی کرو ] [ فِیْ شَیْئٍ : کسی چیز میں ] [ فَرُدُّوْہُ : تو لوٹا دو اس کو ] [ اِلَی اللّٰہِ : تو لوٹادو اس کو ] [ وَالرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی طرف ] [ اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [ تُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ خَیْرٌ : سب سے بہتر ہے ] [ وَّاَحْسَنُ : اور سب سے اچھا ہے ] [ تَاْوِیْلاً : بلحاظ انجام کار کے ]
ترکیب :” اُولُوْا “ کی نصب اور جر دونوں ” اُولِیْ “ آتی ہے۔ اس آیت میں یہ ” اَطِیْعُوْا “ پر عطف ہونے کی وجہ سے مفعول ہے اور حالت نصب میں ہے۔ ” کُنْتُمْ “ کا اسم اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” تُؤْمِنُوْنَ “ اس کی خبر ہے۔ ” ذٰلِکَ “ مبتدأ ہے۔ ” خَیْرٌ“ اس کی خبر اوّل ہے اور ” اَحْسَنُ “ خبر ثانی ہے ‘ جبکہ ” تَاْوِیْلًا “ تمیز ہے۔
نوٹ 1 : اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بعد جو اطاعت مسلمانوں پر واجب ہے وہ اولی الامر کی اطاعت ہے ‘ مسلمانوں کی فکری راہنمائی کرنے والے علمائ ‘ سیاسی راہنمائی کرنے والے لیڈر ‘ ملکی انتظام کرنے والے حکام ‘ عدالتی فیصلے کرنے والے جج وغیرہ سب اولی الامر میں شامل ہیں۔ جو شخص جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا صاحب امر ہے اس کی اطاعت لازمی ہے۔ اس سے تنازعہ کر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے ‘ البتہ اولی الامر کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے تحت ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے ‘ خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند ‘ تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا ہے نہ ماننا ہے۔ (بخاری و مسلم ‘ بحوالہ تفہیم القرآن)
بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں قرآن و سنت کی رو سے کوئی پابندی عائد نہیں ہے ‘ نہ وہ واجب ہیں ‘ نہ حرام ہیں ‘ بلکہ اختیاری ہیں۔ ان کو اصطلاح میں مباحات کہا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں عملی انتظام اولی الامر کے سپرد ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2 : ہندوستان پر انگریزوں کے دور حکومت میں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور کچھ علمائِ سوء نے اس آیت کے حوالے سے کہا تھا کہ مسلمانوں پر اولی الامر کی اطاعت فرض ہے اور اس وقت انگریز ہمارے اولی الامر ہیں اس لیے ان کی اطاعت بھی فرض ہے۔ لیکن اسی آیت میں لفظ اولی الامر کے آگے ” مِنْکُمْ “ کا اضافہ کر کے واضح کردیا گیا ہے کہ یہ اطاعت کا حکم ایسے اولی الامر کے لیے ہے جو خود مسلمانوں میں سے ہو۔
Ayah 4:60[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی طرف جو ] [ یَزْعُمُوْنَ : جتاتے ہیں ] [ اَنَّـہُمْ : کہ وہ لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ بِمَـآ : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اُتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَـآ : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَـبْلِکَ : آپ سے پہلے ] [ یُرِیْدُوْنَ : وہ لوگ چاہتے ہیں ] [ اَنْ یَّـتَحَاکَمُوْآ : کہ فیصلے کے لیے لے جائیں (جھگڑے کو) ] [ اِلَی الطَّاغُوْتِ : سرکشوں کی طرف ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَدْ اُمِرُوْآ : حکم دیا گیا ہے ان کو ] [ اَنْ یَّــکْفُرُوْا : کہ وہ انکار کریں ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَیُرِیْدُ : اور چاہتا ہے ] [ الشَّیْطٰنُ : شیطان ] [ اَنْ یُّضِلَّہُمْ : کہ وہ گمراہ کرے ان کو ] [ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا : دور کی گمراہی میں ]
ز ع م
زَعَمَ ۔ یَزْعُمُ (ن) زُعْمًا : کسی غلط یا غیر یقینی بات کو یقینی سمجھنا یا جتانا۔ آیت زیر مطالعہ۔
زَعَامَۃً : کسی چیز کا ذمہ دار اور جواب دہ ہونا ‘ ضامن ہونا۔
زَعْمٌ (اسم ذات) : گمان ‘ خیال۔ { ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ } (الانعام :136) ” یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال میں۔ “
زَعِیْمٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : جواب دہ ‘ ضامن ۔ { سَلْھُمْ اَیُّھُمْ بِذٰلِکَ زَعِیْمٌ ۔ } (القلم) ” آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ ان میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟ “
ترکیب : ” یَتَحَاکَمُوْا “ کا مفعول محذوف ہے ‘ ” اِلَی الطَّاغُوْتِ “ متعلق فعل ہے۔ ” بِہٖ “ کی ضمیر طاغوت کے لیے ہے۔ ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” قِیْلَ “ شرط اور ” رَاَیْتَ “ اس کا جواب شرط ہے۔ اس لیے دونوں کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” یَحْلِفُوْنَ “ حال ہے۔
Ayah 4:61[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قِیْلَ : کہا جاتا ہے ] [ لَہُمْ : ان سے ] [ تَـعَالَــوْا : تم لوگ آئو ] [ اِلٰی مَــآ : اس کی طرف جو ] [ اَنْزَلَ : اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَاِلَی الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی طرف ] [ رَاَیْتَ : تو آپ ﷺ دیکھتے ہیں ] [ الْمُنٰفِقِیْنَ : منافقوں کو ] [ یَصُدُّوْنَ : (کہ) وہ لوگ رکتے ہیں ] [ عَنْکَ : آپ ﷺ سے ] [ صُدُوْدًا : جیسے کہ رکا جاتا ہے ]
Ayah 4:62[ فَکَیْفَ : تو کیسا ہوگا ] [ اِذَآ : جب ] [ اَصَابَتْہُمْ : آن لگے گی ان کو ] [ مُّصِیْبَۃٌم : کوئی مصیبت ] [ بِمَا : اس کے سبب سے جو ] [ قَدَّمَتْ : آگے بھیجا ] [ اَیْدِیْہِمْ : ان کے ہاتھوں نے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ جَآئُ وْکَ : وہ آئیں گے آپ ﷺ کے پاس ] [ یَحْلِفُوْنَ : قسم کھاتے ہوئے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کی ] [ اِنْ : (کہ) نہیں ] [ اَرَدْنَــآ : ارادہ کیا ہم نے ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اِحْسَانًا : بھلائی کا ] [ وَّتَوْفِیْقًا : اور ہم آہنگ کرنے کا ]
ح ل
حَلَفَ ۔ یَحْلِفُ (ض) حَلْفًا : قسم کھا کر عہد و پیمان کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
حَلَّافٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بار بار اور کثرت سے قسم کھانے والا ۔ { فَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّھِیْنٍ ۔ } (القلم) ” اور تو کہنا مت مان ہر ایک بےوقعت قسمیں کھانے والے کا۔ “
Ayah 4:63[ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ : وہ لوگ ہیں کہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِیْ قُلُوْبِہِمْ : ان کے دلوں میں ہے ] [ فَاَعْرِضْ : تو آپ ﷺ اعراض کریں ] [ عَنْہُمْ : ان سے ] [ وَ : اور ] [ عِظْہُمْ : آپ ﷺ نصیحت کریں ان کو ] [ وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیں ] [ لَّـہُمْ : ان سے ] [ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ : ان کے جی (یعنی دل) میں ] [ قَوْلاً م بَلِیْغًا : ایک پہنچنے (یعنی اترنے) والی بات ]
نوٹ : آیت 60 اپنے حکم اور الفاظ کے اعتبار سے عام ہے۔ یہ ہر اس شخص کی مذمت اور برائی کا اظہار کرتی ہے جو کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی اور باطل کی طرف اپنا فیصلہ لے جائے ۔ یہاں طاغوت سے یہی مراد ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 4:64[ وَمَــآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی رسول ] [ اِلاَّ : مگر ] [ لِیُطَاعَ : (اس لیے) کہ اس کی اطاعت کی جائے ] [ بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کے اذن سے ] [ وَلَــوْ : اور اگر ] [ اَنَّــہُمْ : یہ (ہوتا) کہ وہ لوگ ] [ اِذْ ظَّلَمُوْآ : جب انہوں نے ظلم کیا ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [ جَآئُ وْکَ : آتے آپ ﷺ کے پاس ] [ فَاسْتَغْفَرُوا : پھر استغفار کرتے ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ : اور استغفار کرتے ان کے لیے ] [ الرَّسُوْلُ : رسول ﷺ ] [ لَــوَجَدُوا : تو وہ لوگ پاتے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ تَوَّابًا : بار بار توبہ قبول کرنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
ترکیب : ” لِیُطَاعَ “ مضارع مجہول ہے اور اس کا نائب فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو رسول کے لیے ہے۔ ” وَلَــوْ اَنَّـھُمْ “ کا ” لَـوْ “ شرطیہ ہے اور ” لَــوَجَدُوْا “ پر لام جوابِ شرط کا ہے اس لیے ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا۔ ” وَرَبِّکَ “ میں ” رَبِّ “ کی جربتا رہی ہے کہ اس سے پہلے وائوقسمیہ ہے۔
Ayah 4:65[ فَلاَ : پس نہیں ! ] [ وَرَبِّکَ : آپ ﷺ کے رب کی قسم ] [ لاَ یُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُحَکِّمُوْکَ : وہ حاکم تسلیم کریں آپ ﷺ کو ] [ فِیْمَا : اس میں ‘ جس میں ] [ شَجَرَ : اختلاف کیا ] [ بَیْنَہُمْ : آپس میں ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لاَ یَجِدُوْا : وہ نہ پائیں ] [ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ : اپنے جی میں ] [ حَرَجًا : کوئی تنگی ] [ مِّمَّا : اس سے ‘ جو ] [ قَضَیْتَ : آپ ﷺ نے فیصلہ کیا ] [ وَیُسَلِّمُوْا : اور وہ لوگ تسلیم کریں ] [ تَسْلِیْمًا : جیسے تسلیم کرتے ہیں ]
ح ر ج
حَرِجَ ۔ یَحْرَجُ (س) حَرَجًا : کسی چیز کا تنگ ہونا۔ پھر استعارۃً گناہ ہونے کے لیے آتا ہے ‘ کیونکہ احساسِ گناہ (guilty conscious) انسان کے دل کو بھینچتا یعنی تنگ کرتا ہے۔
حَرَجٌ (اسم ذات) : تنگی ‘ گناہ۔ { وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍط } (الحج :78) ” اور اس نے نہیں بنائی تم پر دین میں کوئی تنگی “۔ { لَـیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ} (النور :61) ” اندھے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ “
نوٹ : اس آیت کا حکم قیامت تک کے لیے ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ قیامت تک کے لیے نبی ٔوقت ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ کی ہدایات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہیں۔ ان کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے یا نہ ہونے کا انحصار ہے۔ اسی بات کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 4:66[ وَلَــوْ : اور اگر ] [ اَنَّا کَتَـبْـنَا : ہم لکھتے ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ اَنِ : کہ ] [ اقْتُلُوْآ : تم لوگ قتل کرو ] [ اَنْفُسَکُمْ : اپنے آپ کو ] [ اَوِ : یا ] [ اخْرُجُوْا : تم لوگ نکلو ] [ مِنْ دِیَارِکُمْ : اپنے گھروں سے ] [ مَّا فَـعَلُوْہُ : تو وہ لوگ نہ کرتے اس کو ] [ اِلاَّ : مگر ] [ قَلِیْلٌ : تھوڑے سے ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ اَنَّــہُمْ : یہ (ہوتا) کہ وہ لوگ ] [ فَـعَلُوْا : کرتے ] [ مَا : اس کو ] [ یُوْعَظُوْنَ : نصیحت کی جاتی ہے ان کو ] [ بِہٖ : جس کی ] [ لَــکَانَ : تو ہوتا ] [ خَیْرًا : بہتر ] [ لَّــہُمْ : ان کے لیے ] [ وَاَشَدَّ : اور (ہوتا) زیادہ سخت ] [ تَثْبِیْتًا : بلحاظ جما دینے کے ]
ترکیب :” مَا فَعَلُوْہُ “ کی ضمیر مفعولی ” کَتَبْنَا “ کے حکم کے لیے ہے جس کی وضاحت ” اَنِ “ کے ساتھ آگے آئی ہے۔ ” خَیْرًا “ اور ” اَشَدَّ “ کی نصب ” کَانَ “ کی خبر ہونے کی وجہ سے ہے ‘ جبکہ ” تَثْبِیْتًا “ تمیز ہے۔ ’ اَلصِّدِّیْقِیْنَ ‘ الشُّھَدَائِ “ اور ” الصّٰلِحِیْنَ “ یہ سب ” مِنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں آئے ہیں اور یہ ” مِنْ “ بیانیہ ہے۔ جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے ” اَنْعَمَ “ کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ ” حَسُنَ “ فعل لازم ہے ‘ ” اُولٰئِکَ “ فاعل ہے اور ” رَفِیْقًا “ تمیز ہے۔
Ayah 4:67[ ؐوَّاِذًا : اور تب تو ] [ لَّاٰتَیْنٰـہُمْ : ہم ضرور دیتے ان کو ] [ مِّنْ لَّدُنَّــآ : اپنے پاس سے ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ]
Ayah 4:68[ وَّلَـہَدَیْنٰـہُمْ : اور ہم ضرور ہدایت دیتے ان کو ] [ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا : ایک سیدھے راستے کی ]