Ayah 4:95[ لاَ یَسْتَوِی : برابر نہیں ہوتے ] [ الْقٰـعِدُوْنَ : بیٹھنے والے ] [ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں میں سے ] [ غَیْرُاُولِی الضَّرَرِ : جو بغیر تکلیف والے ہوں ] [ وَالْمُجٰہِدُوْنَ : اور جہاد کرنے والے ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ بِاَمْوَالِہِمْ : اپنے اموال سے ] [ وَاَنْفُسِہِمْ : اور اپنی جانوں سے ] [ فَضَّلَ : زیادہ بلند کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ الْمُجٰہِدِیْنَ : جہاد کرنے والوں کو ] [ بِاَمْوَالِہِمْ : اپنے اموال سے ] [ وَاَنْفُسِہِمْ : اور اپنی جانوں سے ] [ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ : بیٹھ جانے والوں پر ] [ دَرَجَۃً : درجے کے لحاظ سے ] [ وَکُلاًّ : اور سب سے ] [ وَّعَدَ : وعدہ کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ الْحُسْنٰی : خوبصورت ] [ وَفَضَّلَ : اور زیادہ کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ الْمُجٰہِدِیْنَ : جہاد کرنے والوں کو ] [ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ : بیٹھ جانے والوں پر ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار اجر کے لحاظ سے ]
Ayah 4:96[ دَرَجٰتٍ : درجات ہوتے ہوئے ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ وَمَغْفِرَۃً : اور مغفرت ہوتے ہوئے ] [ وَّرَحْمَۃً : اور رحمت ہوتے ہوئے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
نوٹ 1: جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو ‘ تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو مسلمان سمجھیں۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتا ‘ روزہ نہیں رکھتا اور ہر قسم کے گناہوں میں ملوث ہے ‘ پھر بھی اس کو اسلام سے خارج کہنے یا اس کے ساتھ کافروں کا معاملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے جب تک اس سے کسی ایسے قول و فعل کا صدور نہ ہو جو کفر کی یقینی علامت ہے ۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2 : اگر ایک مسلمان حقوق اللہ اور حقوق العباد کی حتی المقدور ادائیگی کرتا ہے لیکن اللہ کے دین کی نشرواشاعت ‘ دعوت و تبلیغ اور سربلندی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیتا ‘ تو اس کوتاہی کی وجہ سے وہ دنیا میں فاسق یا مردود نہیں ہوجاتا بلکہ ایک اچھا مومن ہی رہتا ہے۔ البتہ جنت کی سوسائٹی میں ‘ مذکورہ جدوجہد میں حصہ لینے والوں کے مقابلہ میں اس کا رتبہ (status) کمتر ہوگا۔
اس سے معلوم ہوگیا کہ جہاد (قتال) فرض کفایہ ہے ‘ فرض عین نہیں ہے۔ یعنی اگر مسلمانوں کی کافی تعداد وقت کی ضرورت کے مطابق جہاد کرتی رہے ‘ تو جہاد نہ کرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں ورنہ سب گنہگار ہوں گے ۔ (تفسیر عثمانی (رح) )
Ayah 4:97[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ ] [ تَوَفّٰٹہُمُ : پورا پورا لیتے ہیں جن کو (یعنی روح قبض کرتے ہیں ) ] [ الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتے ] [ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ : خود پر ظلم کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ قَالُوْا : وہ کہتے ہیں ] [ فِیْمَ : کس چیز میں ] [ کُنْتُمْ : تم تھے ] [ قَالُوْا : وہ کہتے ہیں ] [ کُنَّا : ہم ] [ مُسْتَضْعَفِیْنَ : کمزور تھے ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ قَالُوْآ : وہ (فرشتے) کہتے ہیں ] [ اَ : کیا ] [ لَمْ تَـکُنْ : نہیں تھی ] [ اَرْضُ اللّٰہِ : اللہ کی زمین ] [ وَاسِعَۃً : کشادہ ] [ فَتُہَاجِرُوْا : تو تم ہجرت کرتے ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ فَاُولٰٓئِکَ : پس وہ لوگ ہیں ] [ مَاْوٰٹہُمْ : جن کا ٹھکانہ ] [ جَہَنَّمُ : جہنم ہے ] [ وَسَآئَ تْ : اور کتنی بری ہے وہ ] [ مَصِیْرًا : لوٹنے کی جگہ ]
ترکیب :” ظَالِمِیْ “ دراصل ” ظَالِمِیْنَ “ تھا جو ” اَلَّذِیْنَ “ کا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصبی میں ہے اور ” اَنْفُسِھِمْ “ کا مضاف ہونے کی وجہ سے اس کا نون اعرابی گرا ہوا ہے ۔ ” کُنَّا “ کا اسم اس میں ” نَحْنُ “ کی ضمیر ہے اور ” مُسْتَضْعَفِیْنَ “ اس کی خبر ہے۔ ” تَکُنْ “ کا اسم ” اَرْضُ اللّٰہِ “ اور ” وَاسِعَۃً “ اس کی خبر ہے ۔ ” اِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ “ استثناء ہے ” کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ “ سے اور اس کی مزید وضاحت ” مِنَ الرِّجَالِ “ کے ” مِنْ “ بیانیہ سے ہوئی ہے۔ ” یَجِدْ “ جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے اور مرکب توصیفی ” مُرَاغَمًا کَثِیْرًا “ اس کا مفعول ہے ‘ جبکہ ” سَعَۃً ‘ مُرَاغَمًا “ پر عطف ہے۔
Ayah 4:98[ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ : کمزور ہوں ] [ مِنَ الرِّجَالِ : مردوں میں سے ] [ وَالنِّسَآئِ : اور عورتوں میں سے ] [ وَالْوِلْدَانِ : اور بچوں میں سے ] [ لاَیَسْتَطِیْعُوْنَ : وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں ] [ حِیْلَۃً : کسی تدبیر کی ] [ وَّلاَ یَہْتَدُوْنَ : اور وہ نہ پاتے ہوں ] [ سَبِیْلاً : کوئی راستہ ]
Ayah 4:99[ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ہیں ] [ عَسَی اللّٰہُ اَنْ : امید ہے کہ اللہ ] [ یَّعْفُوَ : درگزر کرے ] [ عَنْہُمْ : جن سے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَفُوًّا : بےانتہا درگزر کرنے والا ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]
Ayah 4:100[ وَمَنْ یُّہَاجِرْ : اور جو ہجرت کرے گا ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ یَجِدْ : تو وہ پائے گا ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا : جانے کی کثیر جگہیں ] [ وَّ : اور ] [ سَعَۃً : کشادگی ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّخْرُجْ : نکلتا ہے ] [ مِنْم بَیْتِہٖ : اپنے گھر سے ] [ مُہَاجِرًا : ہجرت کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ] [ وَرَسُوْلِہٖ : اور اس کے رسول کی طرف ] [ ثُمَّ : پھر ] [ یُدْرِکْہُ : آ لیتی ہے اس کو ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ فَقَدْ وَقَعَ : تو واقع ہوچکا ہے ] [ اَجْرُہٗ : اس کا اجر ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
ر غ م
رَغِمَ ۔ یَرْغَمُ (س) رَغَمًا : (1) ذلیل ہونا۔ (2) رَغِمَ اِلٰی کسی کے پاس جانا۔
رَاغَمَ (مفاعلہ) مُرَاغَمَۃً : (1) ایک دوسرے کو ذلیل کرنا۔ (2) ایک دوسرے کے پاس جانا۔
مُرَاغَمٌ (اسم المفعول) : ظرف کے معنی میں جانے کی جگہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
و ق ع
وَقَعَ یَـقَعُ (ف) وُقُوْعًا اور وَقْعَۃً : (1) گرپڑنا۔ (2) ہو پڑنا ‘ واقع ہونا۔ (3) ثابت ہونا ‘ لازم ہونا۔ { وَیُمْسِکُ السَّمَآئَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ } (الحج :65) ” اور وہ تھامتا ہے آسمان کو کہ کہیں وہ گرپڑے زمین پر۔ “ { وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْا } (النمل :85) ” اور ثابت ہوئی بات ان لوگوں پر بسبب اس کے جو انہوں نے ظلم کیا ۔ “
قَعْ (فعل امر) : تو گر پڑ ‘ تو واقع ہو۔ { فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ } (الحجر) ” تو تم لوگ گرپڑنا اس کے لیے سجدہ کرنے والوں کی حالت میں۔ “
وَاقِـعٌ (اسم الفاعل) : گر پڑنے والا ‘ واقع ہونے والا۔ { وَظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌم بِھِمْج } (الاعراف :171) ” اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ (یعنی پہاڑ) گر پڑنے والا ہے ان پر ۔ “{ وَاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ } (الذّٰریٰت) ” اور یقینا بدلہ (یعنی بدلے کا دن ) ضرور واقع ہونے والا ہے ۔ “
مَوْقَعٌ ج مَوَاقِعُ (اسم الظرف) : گر پڑنے کی جگہ۔{ فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ۔ } (الواقعہ) ” پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گر پڑنے (یعنی ڈوبنے ) کی جگہوں کی۔ “
وَاقَعَ (مفاعلہ) مُوَاقَعَۃً : کسی چیز میں گرنا۔
مُوَاقِعٌ (اسم الفاعل) : گرنے والا ۔ { وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْا اَنَّھُمْ مُّـوَاقِعُوْھَا } (الکہف :53) ” اور دیکھیں کہ مجرم لوگ آگ کو تو وہ گمان کریں گے کہ وہ گرنے والے ہیں اس میں ۔ “
Ayah 4:101[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ ضَرَبْتُمْ : تم سفر کرو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَلَیْسَ : تو نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [ اَنْ : کہ ] [ تَقْصُرُوْا : تم کمی کرو ] [ مِنَ الصَّلٰوۃِ : نماز میں سے ] [ اِنْ : اگر ] [ خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّفْتِنَکُمُ : تمہیں تکلیف دیں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ : یقینا کافر ] [ کَانُوْا : ہیں ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ عَدُوًّا مُّبِیْنًا : کھلے دشمن ]
ق ص ر
قَصَرَ یَقْصُرُ (ن) قُصُوْرًا : (1) ناقص ہونا ‘ سست ہونا (لازم) ۔ (2) ناقص کرنا ‘ نیچا رکھنا ‘ کمی کرنا (متعدی) ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
قَاصِرٌ (اسم الفاعل) : نیچا رکھنے والا ‘ کمی کرنے والا ۔ { وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ } (صٓ:52) ” اور ان کے پاس نگاہ نیچی رکھنے والیاں ہیں۔ “
قَصَرَ یَقْصِرُ (ض) قَصْرًا : (1) در و دیوار مضبوط کرنا۔ (2) رہائش دینا۔
قَصْرٌج قُصُوْرٌ : محل ۔{ اِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ ۔ } (المرسلت) ” بیشک وہ (دوزخ) پھینکے گی چنگاریاں محل کی مانند۔ “ { وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا ۔ } (الفرقان) ” اور وہ بنائے گا آپ ﷺ کے لیے محلات۔ “
مَقْصُوْرٌ (اسم المفعول) : رہائش دیا ہوا ۔ { حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ۔ } (الرحمٰن) ” رہائش دی ہوئی حوریں ہیں خیموں میں۔ “
اَقْصَرَ (افعال) اِقْصَارًا : گھٹانا ‘ کم کرنا۔ { یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” وہ بڑھاتے ہیں ان کی گمراہی میں پھر گھٹاتے نہیں۔ “
قَصَّرَ (تفعیل) تَقْصِیْرًا : کم کرنا ‘ تراشنا۔
مُقَصِّرٌ (اسم الفاعل) : تراشنے والا۔ { مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ } (الفتح :27) ” مونڈنے والے اپنے سروں کو اور تراشنے والے۔ “
ترکیب : ” جُنَاحٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور ” لَـیْسَ “ کا اسم ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور ” عَلَیْکُمْ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” اِنَّ “ کا اسم ” الْـکٰفِرِیْنَ “ اور آگے ” کَانُوْا “ سے ” مُبِیْنًا “ تک پور اجملہ اس کی خبر ہے۔ ” کَانُوْا “ کا اسم اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلْـکٰفِرِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” عَدُوًّا مُّبِیْنًا “ اس کی خبر ہے۔ ” کُنْتَ “ اور ” اَقَمْتَ “ افعال ماضی ہیں لیکن ان سے پہلے ” اِذَا “ شرطیہ آیا ہے اس لیے ان کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ ” طَائِفَۃٌ اُخْرٰی “ نکرہ مخصوصہ ہے اور ” لَمْ یُصَلُّوْا “ اس کی خصوصیت ہے۔ ” قِیٰمًا ‘ قُعُوْدًا “ اور ” عَلٰی جُنُوْبِکُمْ “ یہ تینوں حال ہیں۔ ” اِنَّ الصَّلٰوۃَ “ سے ” مَوْقُوْتًا “ تک کے جملے کی بھی وہی ترکیب ہے جو اوپر ” اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ “ سے ” مُبِیْنًا “ تک کے جملے کی دی گئی ہے۔
Ayah 4:102[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ کُنْتَ : آپ ﷺ ہوں گے ] [ فِیْہِمْ : ان میں ] [ فَاَقَمْتَ : تو آپ ﷺ قائم کریں گے ] [ لَہُمُ : ان کے لیے ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ فَلْـتَقُمْ : پس چاہیے کہ کھڑی ہو ] [ طَـآئِفَۃٌ : ایک جماعت ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ مَّعَکَ : آپ ﷺ کے ساتھ ] [ وَلْیَاْخُذُوْآ : اور چاہیے کہ وہ پکڑیں ] [ اَسْلِحَتَہُمْ : اپنے اسلحے ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ سَجَدُوْا : وہ سجدہ کرلیں ] [ فَلْیَکُوْنُوْا : تو چاہیے کہ وہ ہوجائیں ] [ مِنْ وَّرَآئِکُمْ : تمہارے پیچھے ] [ وَلْتَاْتِ : اور چاہیے کہ آئے ] [ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی : دوسری جماعت ] [ لَمْ یُصَلُّوْا : جس نے نماز نہیں پڑھی ] [ فَلْیُصَلُّوْا : تو چاہیے کہ وہ نماز پڑھیں ] [ مَعَکَ : آپ ﷺ کے ساتھ ] [ وَلْیَاْخُذُوْا : اور چاہیے کہ پکڑیں ] [ حِذْرَہُمْ : اپنا بچائو ] [ وَاَسْلِحَتَہُمْ : اور اپنے اسلحے ] [ وَدَّ : چاہا ] [ الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَوْ : (کہ) اگر ] [ تَغْفُلُوْنَ : تم غافل ہوتے ] [ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ : اپنے اسلحوں سے ] [ وَاَمْتِعَتِکُمْ : اور اپنے سامانوں سے ] [ فَیَمِیْلُوْنَ : تو وہ پل پڑیں ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً : یکبارگی حملہ کر کے ] [ وَلاَ جُنَاحَ : اور کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ اِنْ : اگر ] [ کَانَ : ہو ] [ بِکُمْ : تم کو ] [ اَذًی : کوئی تکلیف ] [ مِّنْ مَّطَرٍ : بارش سے ] [ اَوْ : یا ] [ کُنْتُمْ : تم ہو ] [ مَّرْضٰٓی : مریض ] [ اَنْ : کہ ] [ تَضَعُوْٓا : تم رکھ دو ] [ اَسْلِحَتَکُمْ : اپنے اسلحوں کو ] [ وَخُذُوْا : اور پکڑو ] [ حِذْرَکُمْ : اپنا بچائو ] [ اِنَّ : یقینا ] [ اللّٰہَ : اللہ نے ] [ اَعَدَّ : تیار کیا ہے ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَذَابًا مُّہِیْنًا : ایک رسوا کرنے والا عذاب ]
س ل ح
سَلَحَ یَسْلَحُ (ف) سَلْحًا : ہتھیار پہننا ‘ ہتھیار لگانا (اپنے آپ پر) ۔
سِلَاحٌ ج اَسْلِحَۃٌ (اسم ذات) : ہتھیار۔ آیت زیر مطالعہ۔
م ط ر
مَطَرَ یَمْطُرُ (ن) مَطْرًا : آسمان سے کسی چیز کا برسنا ‘ جیسے بارش ‘ اولے ‘ پتھر وغیرہ۔
مَطَرٌ (اسم ذات) : برسنے والی چیز ‘ بارش۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَمْطَرَ (افعال) اِمْطَارًا : آسمان سے کسی چیز کو برسانا۔ { وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًاط } (الاعراف :84) ” اور ہم نے برسائی ان پر ایک برسنے والی چیز ۔ “
اَمْطِرْ (فعل امر) : تو برسا۔ { فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِ } (الانفال :32) ” پھر تو برسا ہم پر کچھ پتھر آسمان سے۔ “
مُمْطِرٌ (اسم الفاعل) : برسانے والا۔ { ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَاط } (الاحقاف :24) ” یہ ایک بادل ہے ‘ ہم پر برسانے والا ہے ۔ “
Ayah 4:103[ فَاِذَا : پھر جب ] [ قَضَیْتُمُ : تم پورا کرو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ فَاذْکُرُوا : تو تم یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ قِیٰـمًا : کھڑے ہوئے ] [ وَّقُعُوْدًا : اور بیٹھے ہوئے ] [ وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ : اور اپنی کروٹوں پر ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ اطْمَاْنَنْتُمْ : تم مطمئن ہو ] [ فَاَقِیْمُوا : تو تم قائم کرو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ اِنَّ : بیشک ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز ] [ کَانَتْ : ہے ] [ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں پر ] [ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا : مقرر وقت پر فرض ]
Ayah 4:104[ وَلاَ تَہِنُوْا : اور تم سست مت ہو ] [ فِی ابْتِغَــآئِ الْقَوْمِ : اس قوم کی جستجو میں ] [ اِنْ : اگر ] [ تَـکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ : تکلیف اٹھایا کرتے ہو تم ] [ فَاِنَّــہُمْ : تو وہ لوگ (بھی) ] [ یَاْلَمُوْنَ : تکلیف اٹھاتے ہیں ] [ کَمَا : اس کی مانند جیسی ] [ تَاْلَمُوْنَ : تم تکلیف اٹھاتے ہو ] [ وَتَرْجُوْنَ : اور تم امید رکھتے ہو ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ مَا : اس کی ‘ جس کی ] [ لاَ یَرْجُوْنَ : وہ امید نہیں رکھتے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
نوٹ : ان آیات میں قصر نماز اور صلوٰۃِ خوف کا بیان ہے جن کی تفصیل خاصی طویل ہے۔ ان کو مستند تفاسیر میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہاں ہم صرف اہم نکات بیان کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ پورا نوٹ تفہیم القرآن سے ماخوذ ہے۔
(1) آیت 101 میں { اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاط } کے فقرے سے خیال آتا ہے کہ قصر کا حکم صرف خوف کے سفر کے لیے ہے۔ حضرت عمر ؓ نے یہی خیال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ قصر کی اجازت ایک انعام ہے جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے۔ لہٰذا اس کے انعام کو قبول کرو “۔ یہ بات قریب قریب تواتر سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امن اور خوف دونوں حالتوں کے سفر میں قصر فرمایا ہے۔
(2) زمانہ ٔامن کے سفر میں قصر یہ ہے کہ جن اوقات کی نماز میں چار رکعتیں فرض ہیں ان میں دو رکعتیں پڑھی جائیں اور حالت جنگ میں قصر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جنگی حالات جس طرح اجازت دیں نماز پڑھی جائے۔ اگر حالات زیادہ پرخطر ہوں تو نماز کو مؤخر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ جنگ خندق کے موقع پر ہوا۔
(3) رسول اللہ ﷺ سفر میں فجر کی سنتوں اور عشاء کے وتر کا التزام فرماتے تھے ‘ مگر باقی اوقات میں صرف فرض پڑھتے تھے۔ البتہ نفل نماز جب موقع ملتا تھا پڑھ لیا کرتے تھے۔ اسی بنا پر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے لوگوں کو سفر میں فجر کے سوا دوسرے اوقات کی سنتیں پڑھنے سے منع کیا ہے۔ لیکن اکثر علماء سنتیں پڑھنے اور نہ پڑھنے ‘ دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور اسے بندے کے اختیار پر چھوڑ دیتے ہیں۔ فقہ حنفی کے مطابق مسافر جب راستہ طے کر رہا ہو تو سنتیں نہ پڑھنا افضل ہے اور جب کسی جگہ قیام کرلے تو پڑھنا افضل ہے۔
(4) امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک 48 میل (77 کلومیٹر) یا اس سے زیادہ طویل سفر میں قصر کیا جائے گا۔ امام مالک (رح) کے نزدیک 45 میل (4 ئ 72 کلومیٹر) ‘ حضرت انس ؓ کے نزدیک 15 میل (24 کلومیٹر) کے سفر میں قصر کرنا جائز ہے۔
(5) سفر میں کسی جگہ 15 دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت ہو تو پھر پوری نماز ادا کرنی ہوگی۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کی رائے ہے۔ امام احمد (رح) چار دن ‘ جبکہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ چار دن سے زیادہ کے ارادئہ قیام پر قصر کو جائز نہیں سمجھتے۔ نبی ﷺ سے اس باب میں کوئی صریح حکم مروی نہیں ہے۔
Ayah 4:105[ اِنَّــآ اَنْزَلْـنَــآ : یقینا ہم نے اتارا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ الْـکِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ لِتَحْکُمَ : تاکہ آپ ﷺ فیصلہ کریں ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَرٰٹکَ : سمجھایا آپ ﷺ کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَلاَ تَـکُنْ : اور آپ ﷺ مت ہوں ] [ لِّلْخَآئِنِیْنَ : خیانت کرنے والوں کے لیے ] [ خَصِیْمًا : جھگڑا کرنے والے ]
Ayah 4:106[ وَّاسْتَغْفِرِ : اور آپ ﷺ مغفرت چاہیں ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
Ayah 4:107[ وَلاَ تُجَادِلْ : اور تم مناظرہ مت کرو ] [ عَنِ الَّذِیْنَ : ان کی طرف سے جنہوں نے ] [ یَخْتَانُوْنَ : خیانت کی ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ کَانَ : ہو ] [ خَوَّانًا : بار بار خیانت کرنے والا ] [ اَثِیْمًا : ہمیشہ گناہ کرنے والا ]
Ayah 4:108[ یَّسْتَخْفُوْنَ : وہ پوشیدگی چاہتے ہیں ] [ مِنَ النَّاسِ : لوگوں سے ] [ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ : اور پوشیدگی نہیں چاہتے ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ وَہُوَ : اور وہ ] [ مَعَہُم : ان کے ساتھ ہوتا ہے ] [ اِِذْ : جب ] [ یُـبَـیِّتُوْنَ : وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ] [ مَا : اس کا ] [ لاَ یَرْضٰی : وہ (یعنی اللہ) راضی نہیں ہوتا ] [ مِنَ الْقَوْلِ : جس بات سے ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : وہ کرتے ہیں ] [ مُحِیْطًا : گھیرنے والا ]
Ayah 4:109[ ہٰٓــاَنْتُمْ : ارے تم لوگ تو ] [ ہٰٓــؤُلَآئِ : وہ ہو (کہ) ] [ جٰدَلْـتُـمْ : مناظرہ کرتے ہو ] [ عَنْہُمْ : ان کی طرف سے ] [ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : اس دنیوی زندگی میں ] [ فَمَنْ : تو کون ] [ یُّجَادِلُ : مناظرہ کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ عَنْہُمْ : ان کی طرف سے ] [ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ اَمْ : یا ] [ مَّنْ : کون ] [ یَّــکُوْنُ : ہوگا ] [ عَلَیْہِمْ : ان کا ] [ وَکِیْلاً : کارساز ]
نوٹ : یہ آیات اور اس کے آگے کی چند آیات ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں جس میں مدینہ میں آباد ایک مسلمان قبیلے کے ایک فرد نے چوری کی اور اس کا الزام ایک یہودی کے سر ڈال دیا۔ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو قبیلے کے لوگوں نے باہم مشورہ کر کے اپنے آدمی کی حمایت میں اور یہودی کی مخالفت میں اپنے دلائل اور شہادتیں پیش کیں جس کو اللہ تعالیٰ نے خیانت اور جدال کہا اور ان آیات کے ذریعے رسول اللہ ﷺ پر حقیقت واضح کردی۔
لیکن عام قرآنی اسلوب کے مطابق جو ہدایات اس سلسلہ میں دی گئیں وہ مخصوص اس واقعہ کے ساتھ نہیں بلکہ تمام موجودہ اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لیے عام اور بہت اصولی اور فروعی مسائل پر مشتمل ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 4:110[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّعْمَلْ : کرتا ہے ] [ سُوْٓئً : کوئی برائی ] [ اَوْ : یا ] [ یَظْلِمْ : ظلم کرتا ہے ] [ نَفْسَہٗ : اپنے آپ پر ] [ ثُمَّ : پھر ] [ یَسْتَغْفِرِ : مغفرت مانگتا ہے ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ یَجِدِ : تو وہ پاتا ہے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
ترکیب : ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یَعْمَلْ “ اور ” یَظْلِمْ “ اور ” یَسْتَغْفِرْ “ یہ تینوں افعال شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں ‘ جبکہ ” یَجِدْ “ جواب شرط ہے۔ ” یَکْسِبْ “ بھی شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور ” یَکْسِبُـہٗ “ جواب شرط ہے ‘ لیکن درمیان میں ” اِنَّمَا “ آجانے کی وجہ سے یہ مجزوم نہیں ہوا۔ اسی طرح ” یَرْمِ “ شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور ” فَقَدِ احْتَمَلَ “ جواب شرط ہے لیکن فعل ماضی ہے اس لیے محلاً مجزوم ہے۔
Ayah 4:111[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّــکْسِبْ : کماتا ہے ] [ اِثْمًا : کوئی گناہ ] [ فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ یَکْسِبُــہٗ : وہ کماتا ہے اس کو ] [ عَلٰی نَفْسِہٖ : اپنی ہی جان پر ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
Ayah 4:112[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّــکْسِبْ : کماتا ہے ] [ خَطِـیْٓــئَـۃً : کوئی خطا ] [ اَوْ : یا ] [ اِثْـمًا : کوئی گناہ ] [ ثُمَّ : پھر ] [ یَرْمِ : وہ الزام ڈالتا ہے ] [ بِہٖ : اس کا ] [ بَرِیْٓــئًا : کسی بےگناہ پر ] [ فَقَدِ احْتَمَلَ : تو اس نے اٹھایا ہے ] [ بُہْتَانًا : ایک بہتان ] [ وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا : اور ایک کھلا گناہ ]
ر م ی
رَمَی یَرْمِی (ض) رَمْیًا : (1) کوئی چیز پھینکنا۔ (2) کسی پر الزام لگانا ‘ تہمت لگانا۔ { وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیج } (الانفال :17) ” اور آپ ﷺ نے نہیں پھینکا ‘ جب آپ ﷺ نے پھینکا اور لیکن (یعنی بلکہ) اللہ نے پھینکا۔ “ { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ } (النور :4) ” اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر ۔ “
Ayah 4:113[ وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا ] [ فَضْلُ اللّٰہِ : اللہ کا فضل ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ وَرَحْمَتُـہٗ : اور اس کی رحمت ] [ لَہَمَّتْ : تو ارادہ کیا تھا ] [ طَّـآئِفَۃٌ : ایک گروہ نے ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّضِلُّوْکَ : وہ بہکادیں آپ ﷺ کو ] [ وَمَا یُضِلُّوْنَ : اور وہ نہیں بہکاتے ہیں ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ کو ] [ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ : اور وہ نہیں نقصان کرتے آپ ؐ کا ] [ مِنْ شَیْئٍ : کچھ بھی ] [ وَاَنْزَلَ : اور اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ عَلَـیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ الْکِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کو ] [ وَعَلَّمَکَ : اور سکھایا آپ ﷺ کو ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ لَمْ تَـکُنْ : آپ ﷺ نہیں تھے ] [ تَعْلَمُ : (کہ) آپ ﷺ جانتے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ فَضْلُ اللّٰہِ : اللہ کا فضل ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ عَظِیْمًا : بہت زیادہ ]
Ayah 4:114[ لاَ خَیْرَ : کسی قسم کی کوئی بھلائی نہیں ہے ] [ فِیْ کَثِیْرٍ : اکثر میں ] [ مِّنْ نَّجْوٰٹہُمْ : ان کی سرگوشی میں سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَنْ : جو ] [ اَمَرَ : ترغیب دے ] [ بِصَدَقَۃٍ : کسی خیرات کی ] [ اَوْ مَعْرُوْفٍ : یا کسی بھلائی کی ] [ اَوْ اِصْلاَحٍ : یا کسی اصلاح کی ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [ وَمَنْ : اور ] [ یَّفْعَلْ : کرے گا ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ ابْتِغَــآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ : اللہ کی رضا چاہنے میں ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ نُــؤْتِیْـہِ : ہم دیں گے اس کو ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ]
ترکیب :” وَمَنْ “ شرطیہ ہے اور ” یَفْعَلْ “ شرط ہے ‘ جبکہ ” نُؤْتِیْہِ “ اس کا جوابِ شرط ہے ‘ لیکن ” سَوْفَ “ آجانے سے یہ مجزوم نہیں ہوا۔ اسی طرح ” وَمَنْ “ شرطیہ کی شرط ” یُشَاقِقْ “ آئی ہے۔ اگر مجزوم ہونے کی وجہ سے مضاعف کا لام کلمہ ساکن ہو تو اسے ادغام کر کے اور ادغام کے بغیر ‘ دونوں طرح استعمال کرنا جائز ہوتا ہے۔ ” یُشَاقِقْ “ یہاں ادغام کے بغیر آیا ہے۔ اور ” یَتَّبِعْ “ بھی شرط ہے جبکہ ” نُوَلِّہٖ “ اور ” نُصْلِہٖ “ جوابِ شرط ہے۔
Ayah 4:115[ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّشَاقِقِ : مخالفت کرے گا ] [ الرَّسُوْلَ : ان رسول ﷺ کی ] [ مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ تَــبَـیَّنَ : واضح ہوئی ] [ لَــہُ : اس کے لیے ] [ الْہُدٰی : ہدایت ] [ وَیَـتَّـبِعْ : اور پیروی کرے گا ] [ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے راستے کے علاوہ کی ] [ نُوَلِّـہٖ : تو ہم پھیر دیں گے اس کو ] [ مَا : ادھر ‘ جدھر ] [ تَوَلّٰی : وہ پھرا ] [ وَنُصْلِہٖ : اور ہم ڈالیں گے اس کو ] [ جَہَنَّمَ : جہنم میں ] [ وَسَآئَ تْ : اور کتنابرا ہے وہ ] [ مَصِیْرًا : لوٹنا ]
Ayah 4:116[ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یَغْفِرُ : نہیں بخشے گا ] [ اَنْ : (اس کو) کہ ] [ یُّشْرَکَ : شریک کیا جائے (کچھ بھی) ] [ بِہٖ : اس کے ساتھ ] [ وَیَغْفِرُ : اور وہ بخش دے گا ] [ مَا : اس کو جو ] [ دُوْنَ ذٰلِکَ : اس کے علاوہ ہے ] [ لِمَنْ : جس کے لیے ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّشْرِکْ : شریک کرتا ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کے ساتھ ] [ فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ گمراہ ہوا ہے ] [ ضَللٰاً م بَعِیْدًا : دور کا گمراہ ہونا ]
Ayah 4:117[ اِنْ یَّدْعُوْنَ : وہ لوگ نہیں پکارتے ] [ مِنْ دُوْنِہٖٓ : اس کے علاوہ ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اِنٰـثًا : عورتوں کو ] [ وَاِنْ یَّدْعُوْنَ : اور وہ نہیں پکارتے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا : سرکش شیطان کو ]
م ر د
مَرِدَ یَمْرَدُ (س) مَرَدًا : (1) درخت کی ٹہنی کا پتوں کے بغیر ہونا۔ (2) چکنا ہونا۔
مَرَدَ یَمْرُدُ (ن) مُرُوْدًا : (1) ہمسروں سے آگے نکلنا۔ (2) نافرمان و سرکش ہونا۔ { وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِقف }(التوبۃ :101) ” اور مدینے والوں میں سے کچھ لوگ آگے بڑھے نفاق پر۔ “
مَارِدٌ (اسم الفاعل) : سرکشی کرنے والا ۔ { وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ۔ } (الصفت) ” اور حفاظت کرتے ہوئے ہر ایک سرکشی کرنے والے شیطان سے۔ “
مَرِیْدٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ اور ہر حال میں سرکش۔ آیت زیر مطالعہ۔
مَرَّدَ (تفعیل) تَمْرِیْدًا : کسی چیز کو ہموار اور چکنا کرنا۔
مُمَرَّدٌ (اسم المفعول) : چکنا کیا ہوا۔ { قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ} (النمل :44) ” اس نے کہا کہ یہ ایک چکنا کیا ہوا محل ہے۔ “
ترکیب :” اِنْ یَّدْعُوْنَ “ کا ” اِنْ “ نافیہ ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ آگے ” اِلاَّ “ آ رہا ہے۔ اگر یہ ” اِنْ “ شرطیہ ہوتا تو مضارع کو مجزوم کرتا اور ” اِنْ یَّدْعُوْا “ آتا۔ ” وَقَالَ “ کا وَ حالیہ ہے اور ” قَالَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” شَیْطَانًا مَّرِیْدًا “ کے لیے ہے۔ ” فَلْیُبَتِّکُنَّ “ اور ” فَلْیُغَیِّرُنَّ “ ‘ دونوں جمع کے صیغے ہیں۔ ان کا فاعل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” مِنْ عِبَادِکَ “ کے لیے ہے ۔
Ayah 4:118[ لَّـعَنَہُ : لعنت کرے اس پر ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ وَ : اور ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ لَاَتَّخِذَنَّ : میں لازماً ہتھیا لوں گا ] [ مِنْ عِبَادِکَ : تیرے بندوں میں سے ] [ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا : ایک مقرر حصہ ]
Ayah 4:119[ وَّلَاُضِلَّـنَّـہُمْ : اور میں لازماً بہکائوں گا ان کو ] [ وَلَاُمَنِّیَنَّـہُمْ : اور میں لازماً تمنائوں میں مبتلا کروں گا ان کو ] [ وَلَاٰمُرَنَّـھُمْ : اور میں لازماً ترغیب دوں گا ان کو ] [ فَلَیُـبَـتِّکُنَّ : پھر وہ لوگ لازماً چیریں گے ] [ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ : چوپائوں کے کان ] [ وَلَاٰمُرَنَّـھُمْ : اور میں لازماً ترغیب دوں گا ان کو ] [ فَلَیُغَـیِّرُنَّ : پھر وہ لازماً بدلیں گے ] [ خَلْقَ اللّٰہِ : اللہ کی خلقت کو ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّتَّخِذِ : بناتا ہے ] [ الشَّیْطٰنَ : شیطان کو ] [ وَلِـیًّا : کارساز ] [ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے علاوہ ] [ فَقَدْ خَسِرَ : تو اس نے گھاٹا اٹھایا ہے ] [ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا : کھلم کھلا ایک بہت بڑا گھاٹا ]
ب ت ک
بَتَکَ یَبْتُکُ ۔ یَبْتِکُ (ن۔ ض) بَتْکًا : کسی چیز کو کاٹنا ‘ چیرنا۔
بَتَّکَ (تفعیل) تَبْتِیْکًا : تسلسل سے کاٹنا ‘ چیرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
غ ی ر
غَارَ یَغِیْرُ (ض) غَیْرًا : کسی چیز سے مختلف ہونا ‘ علاوہ ہونا۔
غَیْرٌ : مختلف چیز ‘ علاوہ چیز۔ { وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّط } (البقرۃ :61) ” اور وہ لوگ قتل کرتے تھے انبیاء کو حق کے علاوہ سے۔ “
اَغَارَ (افعال) اِغَارَۃً : کسی چیز کو مختلف کرنا ‘ تاخت و تاراج کرنا ‘ غارت گری کرنا۔
مُغِیْرٌ (اسم الفاعل) : تاراج کرنے والا ۔ { فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا ۔ } (العٰدیٰت) ” پھر تاراج کرنے والے صبح کو۔ “
غَیَّرَ (تفعیل) تَغْیِیْرًا : کسی کی صورت یا صفات بدل دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
مُغَـیِّرٌ (اسم الفاعل بدلنے والا) : { ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْلا } (الانفال :53) ” یہ اس لیے کہ اللہ نہیں ہے بدلنے والا اس نعمت کو ‘ اس نے انعام کیا جسے کسی قوم پر یہاں تک کہ وہ لوگ بدلیں اس کو جو ان کے جی میں ہے۔ “
تَغَیَّرَ (تفعّل) تَغَیُّرًا : بدل جانا۔ { وَاَنْھٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗج } (محمد :15) ” اور نہریں ہیں دودھ میں سے ‘ نہیں بدلتا اس کا مزہ۔ “
Ayah 4:120[ یَـعِدُہُمْ : وہ وعدہ کرتا ہے ان سے ] [ وَیُمَنِّیْہِمْ : اور وہ تمنائوں میں مبتلا کرتا ہے ان کو ] [ وَمَا یَعِدُہُمُ : اور وعدہ نہیں کرتا ان سے ] [ الشَّیْطٰنُ : شیطان ] [ اِلاَّ : مگر ] [ غُرُوْرًا : دھوکوں کا ]
Ayah 4:121[ اُولٰٓئِکَ : یہ لوگ ہیں ] [ مَاْوٰٹہُمْ : جن کا ٹھکانہ ] [ جَہَنَّمُ : جہنم ہے ] [ وَلاَ یَجِدُوْنَ : اور وہ نہیں پائیں گے ] [ عَنْہَا : اس سے ] [ مَحِیْصًا : کوئی بچنے کی جگہ ]
ح ی ص
حَاصَ یَحِیْصُ (ض) حَیْصًا : کسی چیز سے بچنا ‘ ہٹنا۔
مَحِیْصٌ (اسم الظرف) : بچنے کی جگہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
نوٹ : آیت میں جس ردوبدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے وہ کام لے جس کے لیے اللہ نے اسے پیدا نہیں کیا ہے ‘ اور کسی چیز سے وہ کام نہ لے جس کے لیے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ بالفاظِ دیگر وہ تمام افعال جو انسان اپنی اور اشیاء کی فطرت کے خلاف کرتا ہے ‘ اور وہ تمام صورتیں جو وہ منشائے فطرت سے گریز کے لیے اختیار کرتا ہے ‘ اس آیت کی رو سے شیطان کی گمراہ کن تحریکات کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً رہبانیت ‘ مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا ‘ عورتوں کو ان خدمات سے منحرف کرنا جو فطرت نے ان کے سپرد کی ہیں اور انہیں تمدن کے ان شعبوں میں گھسیٹ لانا جن کے لیے مرد پیدا کیا گیا ہے۔ یہ اور اس طرح کے بیشمار افعال جو شیطان کے شاگرد دنیا میں کر رہے ہیں ‘ دراصل یہ معنی رکھتے ہیں کہ یہ لوگ خالق کائنات کے ٹھہرائے ہوئے قوانین کو غلط سمجھتے ہیں اور ان میں اصلاح فرمانا چاہتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 4:122[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکی کے ] [ سَنُدْخِلُہُمْ : ہم عنقریب داخل کریں گے ان کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [ الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہتے ہوئے ] [ فِیْہَـآ : اس میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ ] [ وَعْدَ اللّٰہِ : (ہو چکا) اللہ کا وعدہ ] [ حَقًّا : حق ہوتے ہوئے ] [ وَمَنْ : اور کون ] [ اَصْدَقُ : زیادہ سچا ہے ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ قِیْلاً : بلحاظ بات کے ]
ترکیب :” وَعْدَ اللّٰہِ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کسی فعل محذوف کا مفعول ہے۔ وہ فعل ” قَدْ وَقَعَ “ بھی ہوسکتا ہے۔ ” حَقًّا “ حال ہے اور ” قِیْلًا “ تمیز ہے۔ ” بِاَمَانِیِّکُمْ “ اگر ” لَـیْسَ “ کی خبر ہوتی پھر ” لَـیْسَ “ کے بجائے ” لَـیْسَتْ “ آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ خبر نہیں ہے اور ” لَـیْسَ “ کا اسم اور خبر دونوں محذوف ہیں جو کہ ” اَمْرُ الْقِیٰمَۃِ وَاجِبًا “ ہوسکتا ہے۔ اس طرح ” بِاَمَانِیِّکُمْ “ متعلق خبر ہے اور اس پر ” بِ “ مطابقت کا ہے۔ ” وَلَا اَمَانِیِّ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” بِ “ پر عطف ہے۔ ” یُجْزَ “ دراصل مضارع مجہول ” یُجْزٰی “ ہے ‘ جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو ” ی “ گرگئی۔ ” وَلَا یَجِدْ “ کا مفعول ” وَلِـیًّا “ اور ” نَصِیْرًا “ ہیں۔ ” مِنْ ذَکَرٍ “ کا ” مِنْ “ بیانیہ ہے۔” حَنِیْفًا “ حال ہے۔ اس کو ” اِبْرٰھِیْمَ “ کا حال بھی مانا جاسکتا ہے اور ” اِتَّـبَعَ “ کی ضمیر فاعلی کا بھی۔ ہماری ترجیح ہے کہ اس کو ضمیر فاعلی کا حال مانا جائے ۔
Ayah 4:123[ لَــیْسَ : (قیامت کا معاملہ) نہیں ہے ] [ بِاَمَانِیِّـکُمْ : تمہاری آرزئوں کے مطابق ] [ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اور نہ اہل کتاب کی آرزئوں کے مطابق ] [ مَنْ : جو ] [ یَّعْمَلْ : عمل کرے گا ] [ سُوْٓئً ا : کسی برائی کا ] [ ؐیُّجْزَ : تو اس کو بدلہ دیا جائے گا ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَلاَ یَجِدْ : اور وہ نہیں پائے گا ] [ لَــہٗ : اپنے لیے ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے علاوہ ] [ وَلِــیًّا : کوئی کارساز ] [ وَّلاَ نَصِیْرًا : اور نہ کوئی مددگار ]
Ayah 4:124[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّـعْمَلْ : کرے گا ] [ مِنَ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں میں سے ‘] [ مِنْ ذَکَرٍ : مذکر ہو ] [ اَوْ اُنْثٰی : یا مؤنث ‘] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ مُؤْمِنٌ : مومن ہو ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ یَدْخُلُوْنَ : داخل ہوں گے ] [ الْجَنَّۃَ : جنت میں ] [ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [ نَقِیْرًا : اِک تل بھر بھی ]
Ayah 4:125[ وَمَنْ : اور کون ] [ اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے ] [ دِیْنًا : بلحاظ دین کے ] [ مِّمَّنْ : اس سے جس نے ] [ اَسْلَمَ : فرمانبردار کیا ] [ وَجْہَہٗ : اپنے چہرے کو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کا ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ مُحْسِنٌ : احسان کرنے والا ہے ] [ وَّاتَّـبَعَ : اور اس نے پیروی کی ] [ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کی ] [ حَنِیْفًا : یکسو ہو کر ] [ وَاتَّخَذَ : اور بنایا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو ] [ خَلِیْلاً : دوست ]
Ayah 4:126[ وَلِلّٰہِ : اور اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِکُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز کا ] [ مُّحِیْطًا : احاطہ کرنے والا ]
Ayah 4:127[ وَیَسْتَفْتُوْنَکَ : اور یہ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ فِی النِّسَآئِ : عورتوں کے بارے میں ] [ قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یُـفْتِیْـکُمْ : بتاتا ہے تم کو ] [ فِیْہِنَّ : ان عورتوں کے بارے میں ] [ وَمَا : اور جو ] [ یُـتْلٰی عَلَـیْـکُمْ : پڑھ کر سنایا گیا تم کو ] [ فِی الْْـکِتٰبِ : اس کتاب میں ] [ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ : ایسی عورتوں کے یتیموں کے بارے میں ] [ لاَ تُـؤْتُوْنَہُنَّ : تم نہیں دیتے جن کو ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ لَـہُنَّ : ان کے لیے ] [ وَ : اور (یعنی پھر بھی) ] [ َتَرْغَبُوْنَ : رغبت رکھتے ہو ] [ اَنْ : کہ ] [ تَنْکِحُوْہُنَّ : تم نکاح کرو ان سے ] [ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ : اور لڑکوں میں سے کمزوروں کے بارے میں ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَقُوْمُوْا : تم قائم رہو ] [ لِلْیَتٰمٰی : یتیموں کے لیے ] [ بِالْقِسْطِ : انصاف پر ] [ وَمَا : اور جو ] [ تَفْعَلُوْا : تم کرو گے ] [ مِنْ خَیْرٍ : کوئی بھی بھلائی ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِہٖ : اس کو ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]
ترکیب :” وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ ‘ فِیْ یَتٰمَی النِّسَائِ “ کے ” فِیْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہے۔ ” وَاَنْ “ بھی ” وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ “ پر عطف ہے۔ ” وَمَا تَفْعَلُوْا “ کا ” مَا “ شرطیہ ہے اس لیے ” تَفْعَلُوْا “ مجزوم ہے۔ ” وَاِنِ امْرَاَۃٌ“ میں ” اِمْرَاَۃٌ“ مبتدأ ہے اور جملہ فعلیہ ” خَافَتْ “ اس کی خبر ہے۔ ” اُحْضِرَتْ “ کا نائب فاعل ” اَلْاَنْفُسُ “ ہے اور ” اَلشُّحَّ “ مفعول ثانی ہے۔ ” یُغْنِ “ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے تو اس کی ” ی “ گرگئی ہے۔
Ayah 4:128[ وَاِنِ : اور اگر ] [ امْرَاَۃٌ : کوئی عورت ] [ خَافَتْ : خوف رکھتی ہے ] [ مِنْم بَعْلِہَا : اپنے شوہر سے ] [ نُشُوْزًا : بدمزاجی کا ] [ اَوْ : یا ] [ اِعْرَاضًا : بےتوجہی کا ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِمَـآ : ان دونوں پر ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّصْلِحَا : وہ دونوں سمجھوتہ کرلیں ] [ بَیْنَہُمَا : آپس میں ] [ صُلْحًا : صلح کا ] [ وَالصُّلْحُ : اور صلح ] [ خَیْـرٌ: بہتر ہے ] [ وَاُحْضِرَتِ : اور حاضر کی گئی (یعنی رچابسا دی گئی ) ] [ الْاَنْفُسُ : طبیعتوں میں ] [ الشُّحَّ : لالچ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُحْسِنُوْا : تم احسان کرو ] [ وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو ] [ خَبِیْرًا : باخبر ]
ش ح ح
شَحَّ یَشُحُّ (ن) شُحًّا : لالچ کرنا ‘ بخل کرنا۔
شُحٌّ (اسم ذات) : لالچ ‘ بخل ‘ آیت زیر مطالعہ۔
شَحِیْحٌ ج اَشِحَّۃٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ لالچ کرنے والا ‘ لالچی ‘ بخیل ۔ { اَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْرِط } (الاحزاب :19) ” رال ٹپکاتے ہوئے مال پر۔ “
Ayah 4:129[ وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا : اور تم ہرگز استطاعت نہیں رکھتے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَعْدِلُوْا : عدل کرو ] [ بَیْنَ النِّسَآئِ : عورتوں ] [ بیویوں) کے مابین ] [ وَلَوْ : اور اگر (یعنی خواہ) ] [ حَرَصْتُمْ : تم خواہش کرو ] [ فَلاَ تَمِیْلُوْا : تو پھر تم ایک (ہی) کے مت ہو رہو ] [ کُلَّ الْمَیْلِ : بالکل ایک طرف کا ہونا ] [ فَتَذَرُوْہَا : کہ چھوڑدو اس کو (یعنی دوسری بیوی کو) ] [ کَالْمُعَلَّقَۃِ : لٹکائی ہوئی کی مانند ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُصْلِحُوْا : تم اصلاح کرو ] [ وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
ع ل ق
عَلِقَ یَعْلَقُ (س) عُلُوْقًا : کسی چیز کا کسی چیز میں پھنس کر اس میں الجھ جانا ‘ چمٹ جانا ‘ لٹک جانا۔
عَلَقٌ : چمٹی ہوئی یا لٹکی ہوئی چیز ‘ جمے ہوئے خون کا لوتھڑا۔ { فَاِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } (الحج :5) ” تو ہم نے پیدا کیا تم کو ایک مٹی سے ‘ پھر پانی کی ایک بوند سے ‘ پھر خون کے ایک لوتھڑے سے۔ “
عَلَّقَ (تفعیل) تَعْلِیْقًا : چمٹانا ‘ لٹکانا۔
مُعَلَّـقٌ (اسم المفعول) : لٹکایا ہوا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:130[ وَاِنْ : اور اگر ] [ یَّـتَفَرَّقَا : وہ دونوں الگ ہوجائیں ] [ یُغْنِ : تو بےنیاز کر دے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ کُلاًّ : سب کو ] [ مِّنْ سَعَتِہٖ : اپنی وسعت سے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ وَاسِعًا : وسعت دینے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
نوٹ : بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سورة کی آیت 3 میں عدل کی شرط کے ساتھ چار تک کی شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی تھی ‘ لیکن اب آیت 129 میں عدل کو ناممکن قرار دے کر اس اجازت کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
اس آیت میں اگر صرف اتنا ہی کہا ہوتا کہ تم عورتوں کے درمیان عدل نہیں کرسکتے ‘ تو پھر اس استدلال کو قبول کرنا ممکن تھا ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ہدایت موجود ہے کہ ایسی صورت میں ایک ہی بیوی کے مت ہو رہو۔ اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ چار تک شادیاں کرنے کی اجازت منسوخ نہیں ہوئی ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ ابتدا میں جو ہدایات دی گئی تھیں ان کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے سلسلے میں کچھ الجھنیں اور سوالات پیدا ہوئے تھے۔ ان کی وضاحت ان آیات زیر مطالعہ میں کی گئی ہے۔ اس پس منظر میں آیت 129 کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ طبعی میلان اور دلی لگائو کے پہلو سے تمام بیویوں کے درمیان برابری کرنا تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔ اور اسلام کا یہ اصول ہے کہ جس چیز پر انسان کا اختیار نہ ہو تو اس پر اس سے مواخذہ نہیں ہوتا۔ اس لیے اس پہلو سے برابری نہ کرنے پر تم سے مواخذہ نہیں ہوگا۔ البتہ دلی لگائو میں فرق کے باوجود تمام بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں برابری کرنا تمہارے اختیار میں ہے۔ اس لیے اس میں کوتاہی پر تمہارا مواخذہ ہوگا۔
Ayah 4:131[ وَلِلّٰہِ : اور اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَلَقَدْ وَصَّیْنَا : اور بیشک ہم تاکید کرچکے ہیں ] [ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جن کو ] [ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ : دی گئی کتاب ] [ مِنْ قَـبْلِکُمْ : تم سے پہلے ] [ وَاِیَّاکُمْ : اور تم کو بھی ] [ اَنِ : کہ ] [ اتَّقُوا : تقویٰ کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَـکْفُرُوْا : تم انکار کرو گے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ لِلّٰہِ : اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ غَنِیًّا : بےنیاز ] [ حَمِیْدًا : حمد کیا ہوا ]
ترکیب :” وَصَّیْنَا “ کا مفعول اوّل ” اَلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ “ ہے اور ” اِیَّاکُمْ “ اس کا مفعول ثانی ہے۔ ” یَاْتِ “ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور اس کی ’ ی ‘ گری ہوئی ہے۔ ” ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ “ مبتدأ موخر نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” فَعِنْدَ اللّٰہِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔
Ayah 4:132[ وَلِلّٰہِ : اور اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ وَکِیْلاً : بطور کام نکالنے والے کے ]
Ayah 4:133[ اِنْ : اگر ] [ یَّشَاْ : وہ چاہے ] [ یُذْہِبْـکُمْ : تو وہ لے جائے گا تم کو ] [ اَیُّـہَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ وَیَاْتِ : اور وہ لے آئے گا ] [ بِاٰخَرِیْنَ : دوسروں کو ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلٰی ذٰلِکَ : اس پر ] [ قَدِیْرًا : قدرت رکھنے والا ]
Ayah 4:134[ مَنْ : جو ] [ کَانَ یُرِیْدُ : ارادہ کرے گا ] [ ثَوَابَ الدُّنْیَا : دنیا کے ثواب کا ] [ فَعِنْدَ اللّٰہِ : تو اللہ کے پاس (تو) ] [ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ : دنیا اور آخرت (دونوں) کا ثواب ہے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ سَمِیْعًا : سننے والا ] [ بَصِیْرًا : دیکھنے والا ]