4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے

[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ہو ] [ کُوْنُوْا : تم ہو جائو ] [ قَوّٰمِیْنَ : بہت زیادہ نگرانی کرنے والے ] [ بِالْقِسْطِ : انصاف کی ] [ شُہَدَآئَ : (اور) گواہی دینے والے ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ وَلَــوْ : اور اگرچہ (وہ پڑے) ] [ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ : تمہارے اپنے آپ پر ] [ اَوِالْوَالِدَیْنِ : یا والدین پر ] [ وَالْاَقْرَبِیْنَ : اور قرابت داروں پر ] [ اِنْ یَّــکُنْ : اگر وہ ہوں ] [ غَنِیًّا : مالدار ] [ اَوْ فَقِیْرًا : یا محتاج ] [ فَاللّٰہُ : تو اللہ ] [ اَوْلٰی : زیادہ حمایتی ہے ] [ بِہِمَا : ان دونوں کا ] [ فَلاَ تَتَّبِعُوا : پس تم پیروی مت کرو ] [ الْہَوٰٓی : خواہش کی ] [ اَنْ : کہ ] [ تَعْدِلُوْا : انصاف (نہ) کرو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَلْوٗآ : تم مروڑتے ہو (زبانوں کو) ] [ اَوْ : یا ] [ تُعْرِضُوْا : بےرخی کرتے ہو ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ خَبِیْرًا : باخبر ] ترکیب : ” کُوْنُوْا “ کا اسم اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” قَوّٰمِیْنَ “ اور ” شُھَدَآئَ “ دونوں اس کی خبر ہیں۔ ” عَلٰی اَنْفُسِکُمْ “ کا مبتدأ اور خبر دونوں محذوف ہیں۔ پورا جملہ کچھ اس طرح ہوتا ” وَلَوْ ھُوَ صَوْبٌ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ “۔ ” اَلْوَالِدَیْنِ “ اور ” اَلْاَقْرَبِیْنَ ‘ عَلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔ لفظ ” اَوْلٰی “ افعل تفضیل ہے۔ ” بِھِمَا “ میں تثنیہ کی ضمیر ” اَلْوَالِدَیْنِ “ اور ” اَلْاَقْرَبِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” تَلْوٗ “ کا مفعول ” اَلْسِنَتَکُمْ “ محذوف ہے۔ ” لِلّٰہِ جَمِیْعًا “ میں لفظ ” اَللّٰہ “ پر لام تملیک ہے۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا

[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ہو ] [ اٰمِنُوْا : تم ایمان لائو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَرَسُوْلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ : اور اس کتاب پر جو ] [ نَزَّلَ : اس نے بتدریج اتاری ] [ عَلٰی رَسُوْلِہٖ : اپنے رسول پر ] [ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ : اور اس کتاب پر جو ] [ اَنْزَلَ : اتاری ] [ مِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّـکْفُرْ : انکار کرے گا ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کا ] [ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ : اور اس کے فرشتوں کا ] [ وَکُتُبِہٖ : اور اس کی کتابوں کا ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن کا ] [ فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ گمراہ ہوا ہے ] [ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا : دور کی گمراہی میں ]
Ayah 4:137

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے، تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی اُن کو راہ راست دکھائے گا

[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ کَفَرُوْا : انہوں نے کفر کیا ] [ ثُمَّ اٰمَنُوْا : پھر ایمان لائے ] [ ثُمَّ کَفَرُوْا : پھر کفر کیا ] [ ثُمَّ : پھر ] [ ازْدَادُوْا : وہ زیادہ ہوئے ] [ کُفْرًا : بلحاظ کفر کے ] [ لَّـمْ یَکُنِ : تو ہرگز نہیں ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِیَغْفِرَ : کہ وہ معاف کرے ] [ لَہُمْ : ان کو ] [ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ : اور نہ (یہ) کہ وہ ہدایت دے ان کو ] [ سَبِیْلاً : راستے کی ]
Ayah 4:138

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

اور جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں انہیں یہ مثردہ سنا دو کہ اُن کے لیے دردناک سزا تیار ہے

[ بَشِّرِ : آپ ﷺ بشارت دیجیے ] [ الْمُنٰفِقِیْنَ : منافقوں کو ] [ بِاَنَّ : اس کی کہ ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک درد ناک عذاب ہے ]
Ayah 4:139

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں اُن کے پاس جاتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے

[ الَّذِیْنَ : (یہ) وہ لوگ (ہیں) جو ] [ یَتَّخِذُوْنَ : بناتے ہیں ] [ الْکٰفِرِیْنَ : کافروں کو ] [ اَوْلِیَـآئَ : کارساز ] [ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے علاوہ ] [ اَ : کیا ] [ یَبْتَغُوْنَ : یہ لوگ تلاش کرتے ہیں ] [ عِنْدَہُمُ : ان کے پاس ] [ الْعِزَّۃَ : عزت کو ] [ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ : تو یقینا عزت تو ] [ لِلّٰہِ : اللہ ہی کی ملکیت ہے ] [ جَمِیْعًا : کل کی کل ] نوٹ 1 : آیت 135 میں اللہ تعالیٰ کا حکم بہت واضح ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا ہے کہ انصاف کرو بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ انصاف کی نگہبانی کرنے والے بنو۔ اس طرز کلام سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انصاف کرنے کا اختیار تو معاشرے میں چند افراد کو حاصل ہوتا ہے اور انصاف کرنا ان کا فرض ہے ‘ البتہ انصاف کی نگہبانی کرنا معاشرے کے ہر فرد پر فرض ہے۔ اس لیے کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ حق بات کہنے اور حق کی گواہی دینے سے گریز کرے ‘ خواہ اس کے نتیجے میں اپنا نقصان ہوتا ہو یا والدین اور رشتہ داروں کا نقصان ہوتا ہو ‘ مزید یہ کہ اس فرض کی ادائیگی میں نہ تو کسی مالدار کی کوئی رعایت کرے اور نہ کسی غریب پر ترس کھائے۔ ہم لوگ اپنے رب کے اس حکم کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ‘ کیونکہ ہر شخص کو اس کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ نوٹ 2 : آیت 136 میں جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ‘ انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ تم لوگ ایمان لائو۔ یہ دراصل اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کی بات ہے۔ اس لیے کہ ایک شخص جب دین کی مبادیات کا زبان سے اقرار کرلیتا ہے تو وہ اہل ایمان کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے۔ اب اس سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ جن باتوں کا زبان سے اقرار کیا ہے ‘ ان پر اب دلی یقین کی کیفیت بھی پیدا کرو۔ اس حکم کی اہمیت کو سمجھ لیں۔ اس دنیا میں کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف زبانی اقرار کی بنیاد پر ہوگا ‘ کیونکہ دلی یقین کو ناپنے کا ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ زبانی اقرار ایک جامد حقیقت ہے۔ اس کا وجود یا تو ہوگا یا نہیں ہوگا۔ اس میں کسی کمی بیشی کا امکان نہیں۔ اس لیے دنیوی حقوق میں تمام مسلمان برابر ہیں۔ کسی باپ کا ایک بیٹا عابد و زاہد اور فرمانبردار ہے ‘ جبکہ دوسرا بیٹا فاسق و فاجر اور نافرمان ہے ‘ لیکن والد کے انتقال پر ترکہ میں دونوں کو برابر حصہ ملے گا۔ فرمانبردار کو زیادہ اور نافرمان کو کم دینے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اولاد کو عاق کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ آخرت میں فیصلے کے وقت بھی پہلے زبانی اقرار کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ کیونکہ اقرار کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کا حساب الگ الگ ہوگا۔ اقرار کرنے والوں کی نمازوں کی پہلے گنتی ہوگی۔ اگر نمازوں کی گنتی پوری ہوگی تو حساب کتاب آگے بڑھے گا اور باقی نیکیوں کی گنتی ہوگی۔ اعمال کی گنتی کے بعد ان کا وزن ہوگا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دلی یقین کی ضرورت پڑے گی۔ اس لیے کہ ایک مسلمان دلی یقین کے ساتھ نیکیاں کرتا رہا اور دوسرا یقین سے خالی دل کے ساتھ نیکیاں کرتارہا ‘ تو دونوں کی نیکیاں گنتی میں اگر برابر بھی ہوں ‘ تب بھی وزن میں برابر نہیں ہوں گی۔ ایک نیکی کے عوض دس سے سات سو نیکی کے اجر کے فیصلے میں نیکی کرنے والے کے ظروف و احوال کے ساتھ اس کی نیت اور دلی کیفیت کا بھی عمل دخل ہوگا۔ اس لیے زبانی اقرار کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہے کہ دلی یقین بھی پیدا کرو۔ اللہ تعالیٰ کے مطالبے کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح زبانی اقرار ایک جامد حقیقت ہے اور اس میں کمی بیشی کا امکان نہیں ہے ‘ اسی طرح دلی یقین ایک متغیر حقیقت ہے اور اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے آخرت میں کامیابی کے خواہش مند مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے دلی یقین کے لیے فکر مند رہے ‘ اللہ سے دعا بھی کرتا رہے اور اسے برابر چیک بھی کرتا رہے۔ جس طرح ذیابیطس کا مریض صبح و شام اپنا شوگر لیول چیک کرتا ہے۔
Ayah 4:140

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اللہ اِس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ا ن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے

[ وَقَدْ نَزَّلَ : اور وہ (یعنی اللہ) اتار چکا ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِی الْکِتٰبِ : کتاب میں ] [ اَنْ : کہ ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ سَمِعْتُمْ : تم لوگ سنو ] [ اٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کو ] [ یُـکْفَرُ : (کہ) انکار کیا جاتا ہو ] [ بِہَا : ان کا ] [ وَیُسْتَہْزَاُ : اور مذاق اڑایا جاتا ہو ] [ بِہَا : ان کا ] [ فَلاَ تَقْعُدُوْا : تو مت بیٹھو ] [ مَعَہُمْ : ان کے ساتھ ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَخُوْضُوْا : وہ لوگ بےپر کی اڑائیں ] [ فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖٓ : ان کے علاوہ کسی اور بات میں ] [ اِنَّــکُمْ : یقینا تم لوگ ] [ اِذًا : پھر تو ] [ مِّثْلُہُمْط : ان جیسے ہو گے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ جَامِـعُ الْمُنٰفِقِیْنَ : منافقوں کو جمع کرنے والا ہے ] [ وَالْکٰفِرِیْنَ : اور کافروں کو ] [ فِیْ جَھَنَّمَ : جہنم میں ] [ جَمِیْعًا : سب کو ] خ و ض خَاضَ یَخُوْضُ (ن) خَوْضًا : (1) پانی کی تہہ میں اترنا (2) بال کی کھال نکالنا ‘ لاحاصل گفتگو کرنا ‘ بےپر کی اڑانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ خَائِضٌ (اسم الفاعل) : لاحاصل گفتگو کرنے والا ۔ { وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَائِضِیْنَ ۔ } (المدّثر) ” اور ہم لوگ لاحاصل گفتگو کرتے تھے لاحاصل بات کرنے والوں کے ساتھ۔ “ ترکیب :” سَمِعْتُمْ “ کا مفعول ” اٰیٰتِ اللّٰہِ “ ہے۔ ” بِھَا “ میں ” ھَا “ کی ضمیر ” اٰیٰتِ اللّٰہِ “ کے لیے ہے۔ ” جَمِیْعًا “ تمیز ہے اور تاکید کے لیے ہے۔ ” اِنْ “ شرطیہ کی وجہ سے ” کَانَ “ کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” فَتْحٌ“ اور ” نَصِیْبٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ اور ” کَانَ “ کا اسم ہیں ‘ ان کی خبریں محذوف ہیں۔ ” وَنَمْنَعْکُمْ “ کا مجزوم ہونا بتارہا ہے کہ یہ ” اَلَمْ “ پر عطف ہے۔ ” لَنْ یَّجْعَلَ “ کا مفعول ” سَبِیْلًا “ ہے۔
Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آ کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ ا گر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلہ میں) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے

[ الَّذِیْنَ : (یہ) وہ لوگ (ہیں) جو ] [ یَتَرَبَّصُوْنَ : انتظار کرتے ہیں ] [ بکُمْ : تمہارے بارے میں ] [ فَاِنْ : تمہارے بارے میں ] [ کَانَ : ہوتی ہے ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ فَتْحٌ : کوئی فتح ] [ مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [ قَالُوْآ : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اَلَمْ نَـکُنْ : کیا ہم نہیں تھے ] [ مَّعَکُمْ : تمہارے ساتھ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ کَانَ : ہوتا ہے ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : کوئی حصہ ] [ قَالُوْآ : تو وہ کہتے ہیں ] [ اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ : کیا ہم قابو یافتہ نہ تھے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ وَنَمْنَعْکُمْ : اور کیا ہم نے نہیں بچایا تم کو ] [ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں سے ] [ فَاللّٰہُ : پس اللہ ] [ یَحْکُمُ : فیصلہ کرے گا ] [ بَیْنَـکُمْ : تم لوگوں کے درمیان ] [ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ : قیامت کے دن ] [ وَلَنْ یَّجْعَلَ : اور ہرگز نہیں بنائے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں پر ] [ سَبِیْلاً : کوئی الزام ] حَاذَ یَحُوْذُ (ن) حَوْذًا : حفاظت کرنا ‘ نگہبانی کرنا۔ اِسْتَحْوَذَ یَسْتَحْوِذُ (استفعال) اِسْتِحْوَاذًا : گھیر لینا ‘ غالب ہونا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ نوٹ (1) : سورة النساء مدنی ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں سورة الانعام کی آیت 68 میں یہی حکم آچکا تھا جس کا یہاں حوالہ دیا گیا ہے۔ نوٹ (2) : اللہ کی آیات کا انکار کرنے اور مذاق اڑانے کے مفہوم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے قیامت تک کے لیے ان لو گوں کو بھی شامل کیا ہے جو قرآن کی غلط تفسیر کریں یا اس کے معانی میں تحریف کریں یا بدعات نکالیں (مظہری ‘ ج 2 ‘ ص 263) ۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جس بات کا زبان سے کہنا گناہ ہے اس کا کانوں سے بااختیار سننا بھی گناہ ہے۔ اس بارے میں اختلاف رائے ہے کہ جب وہ اس گفتگو کو ختم کر کے کوئی بات شروع کردیں تو پھر ایسے لوگوں کی مجلس میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں۔ تفسیر مظہری میں دونوں آراء کی تطبیق اس طرح کی گئی ہے کہ ایسے لوگوں کی مجلس میں بلاضرورت شرکت کرنا تو حرام ہے ‘ البتہ کسی شرعی ضرورت کے تحت یا دعوت و تبلیغ کے لیے شرکت کی جائے تو جائز ہے (منقول از معارف القرآن) ۔ نوٹ (2) : دیندار لوگوں کی محفل میں اگر شخصیات زیر بحث ہوں اور غیبت و بہتان کا بازار گرم ہو ‘ تو اللہ کے حکم کی یہ خلاف ورزی بھی اس کی آیات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اوّل انہیں اس کام سے روکیں اور اگر نہ مانیں تو احتجاجاً واک آئوٹ کر جائیں۔
Ayah 4:142

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ در حقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الْمُنٰفِقِیْنَ : منافق لوگ ] [ یُخٰدِعُوْنَ : دھوکہ دیتے ہیں ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ وَہُوَ : اور وہ ] [ خَادِعُہُمْ : ان کو دھوکہ دینے والا ہے ] [ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قَامُوْآ : وہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں ] [ اِلَی الصَّلٰوۃِ : نماز کے لیے ] [ قَامُوْا : تو وہ کھڑے ہوتے ہیں ] [ کُسَالٰی : انتہائی سستی سے ] [ یُرَآئُ وْنَ : دکھاتے ہوئے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ : اور وہ لوگ نہیں یاد کرتے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ اِلاَّ قَلِیْلاً : مگر تھوڑاسا ] ک س ل کَسِلَ یَکْسَلُ (س) کَسِلًا : کاہل ہونا ‘ سستی کرنا۔ کَسْلَانُ ج کُسَالٰی (فَعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ) : انتہائی کاہل ‘ سست ‘ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” قَامُوْا “ کی ضمیر فاعلی ” ھُمْ “ کا حال ” کُسَالٰی “ ہے۔ ” یُرَائُ وْنَ “ بھی انہی کا حال ہے۔ ” لاَ یَذْکُرُوْنَ “ کی ضمیر فاعلی ” ھُمْ “ کا حال ” مُذَبْذَبِیْنَ “ ہے۔ ” ذٰلِکَ “ کا اشارہ ذکر اللہ کی طرف ہے۔ ” اَلدَّرْکِ الْاَسْفَلِ “ تفضیل کل ہے۔ ” مَا یَفْعَلُ “ کا ” مَا “ استفہامیہ ہے۔
Ayah 4:143

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں نہ پورے اِس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے

[ مُّذَبْذَبِیْنَ : مضطرب ہوتے ہوئے ] [ بَیْنَ ذٰلِکَ : اس کے دوران ] [ لَآ اِلٰی ہٰٓـؤُلَآئِ : اور نہ اس طرف ہوتے ہوئے ] [ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ : نہ اس طرف ہوتے ہیں ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ یُّضْلِلِ : گمراہ کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فَلَنْ تَجِدَ : تو ‘ تو ہرگز نہیں پائے گا ] [ ؐلَہٗ : اس کے لیے ] [ سَبِیْلاً : کوئی راستہ ] ذ ب ذ ب (رباعی) ذَبْذَبَۃٌ : کسی لٹکی ہوئی چیز کا ہوا میں ہلنا (گھڑی کے پنڈولم کی طرح) ‘ مضطرب ہونا۔ مُذَبْذَبٌ (اسم الفاعل جو صفت کے طور پر آتا ہے) : مضطرب ہونے والا یعنی مضطرب ‘ آیت زیرمطالعہ۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو؟

[ یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ہو ] [ لاَ تَـتَّخِذُوا : تم لوگ مت بنائو ] [ الْکٰفِرِیْنَ : کافروں کو ] [ اَوْلِیَـآئَ : کارساز ] [ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے علاوہ ] [ اَ : کیا ] [ تُرِیْدُوْنَ : تم لوگ چاہتے ہو ] [ اَنْ : کہ ] [ تَجْعَلُوْا : تم بنائو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ عَلَـیْکُمْ : اپنے خلاف ] [ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا : ایک واضح دلیل ]
Ayah 4:145

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مدد گار نہ پاؤ گے

[ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ : یقینا منافق لوگ ] [ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ : سب سے نچلی گہرائی میں ] [ مِنَ النَّارِ : آگ میں سے ] [ وَلَنْ تَجِدَ : اور تو ہرگز نہیں پائے گا ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ نَصِیْرًا : کوئی مددگار ] سل سَفَلَ یَسْفُلُ ۔ سَفِلَ یَسْفَلُ ۔ سَفُلَ یَسْفُلُ (ن۔ س۔ ک) سَفَالًا : (1) نیچا یا پست ہونا۔ (2) حقیر یا گھٹیا ہونا۔ سَافِلٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت) : پست ‘ حقیر ۔ { فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا } (الحجر :74) ” تو کردیا ہم نے اس کے یعنی بستی کے بلند کو اس کا پست۔ “ اَسْفَلُ مؤنث سُفْلٰی (افعل تفعضیل) : زیادہ پست ‘ زیادہ حقیر ۔
Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

البتہ جو اُن میں سے تائب ہو جائیں او ر اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دیں، ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا فرمائے گا

[ اِلاَّ الَّذِیْنَ : سوائے ان کے جنہوں نے ] [ تَابُوْا : توبہ کی ] [ وَاَصْلَحُوْا : اور اصلاح کی ] [ وَاعْتَصَمُوْا : اور مضبوطی سے پکڑا ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کو ] [ وَاَخْلَصُوْا : اور خالص کیا ] [ دِیْنَہُمْ : اپنے دین کو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے ساتھ ہیں ] [ وَسَوْفَ : اور عنقریب ] [ یُؤْتِ : دے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کو ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ]
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے

[ مَا : کیا ] [ یَفْعَلُ : کرے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِعَذَابِکُمْ : تمہارے عذاب سے ] [ اِنْ : اگر ] [ شَکَرْتُمْ : تم لوگ شکر کرو ] [ وَاٰمَنْتُمْ : اور ایمان لائو ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ شَاکِرًا : بھلائی کا حق ادا کرنے والا ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

[ لاَ یُحِبُّ : نہیں پسند کرتا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ الْجَہْرَ : نمایاں کرنا ] [ بِالسُّوْٓئِ : برائی کو ] [ مِنَ الْقَوْلِ : بات سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے ] [ مَنْ : جس پر ] [ ظُلِمَ : ظلم کیا گیا ] [ وَکَانَ : ہو رہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ سَمِیْعًا : سننے والا ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

(مظلوم ہونے کی صورت میں اگر چہ تم پر بد گوئی کا حق ہے) لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ، یا کم از کم برائی سے در گزر کرو، تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے

[ اِنْ : اگر ] [ تُبْدُوْا : تم لوگ نمایاں کرو ] [ خَیْرًا : کسی بھلائی کو ] [ اَوْ : یا ] [ تُخْفُوْہُ : چھپائو اس کو ] [ اَوْ : یا ] [ تَعْفُوْا : درگزر کرو ] [ عَنْ سُوْٓئٍ : کسی برائی سے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَفُــوًّا : بےانتہا درگزر کرنے والا ] [ ؐقَدِیْرًا : قدرت رکھنے والا ]
Ayah 4:150

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے، اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جو لوگ ] [ یَکْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کا ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّفَرِّقُوْا : وہ فرق کریں ] [ بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ : اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان ] [ وَیَــقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ] [ نُــؤْمِنُ : ہم ایمان لاتے ہیں ] [ بِبَعْضٍ : کسی پر ] [ وَّنَــکْفُرُ : اور انکار کرتے ہیں ] [ بِبَعْض : کسی کا ] [ وَّیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّــتَّخِذُوْا : وہ بنائیں ] [ بَیْنَ ذٰلِکَ : اس کے درمیان ] [ سَبِیْلاً : ایک راستہ ]
Ayah 4:151

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہوگی

[ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ : ہی کافر ہیں ] [ حَقًّا : یقینا ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَذَابًا مُّہِیْنًا : ایک رسوا کرنے والا عذاب ]
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور ا س کے تمام رسولوں کو مانیں، اور اُن کے درمیان تفریق نہ کریں، اُن کو ہم ضرور اُن کے اجر عطا کریں گے، اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے

[ وَالَّذِیْنَ : اور جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [ وَلَمْ یُـفَرِّقُوْا : اور انہوں نے فرق نہیں کیا ] [ بَیْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے درمیان ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ سَوْفَ : عنقریب ] [ یُــؤْتِیْہِمْ : وہ دے گا جن کو ] [ اُجُوْرَہُمْ : ان کے اجر ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ] نوٹ : آیت 148 میں ہدایت کی گئی ہے کہ اشخاص کے تعین کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے ‘ دوسروں کے لیے اللہ اس کو پسند نہیں فرماتا۔ دوسرے شخص کو اگر کسی برائی کا ذکر کرنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ عام صیغے میں بات کرے۔ جیسے رسول اللہ ﷺ عام صیغے میں فرماتے تھے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو اس اس طرح کے کام کرتے ہیں ۔ (تدبر القرآن) آیت 48 1 اور 140 کا حاصل یہ ہے کہ ظلم کے جواب میں ظلم کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ظلم کا بدلہ انصاف سے ہی لیا جاسکتا ہے اور بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے مگر صبر کرنا اور معاف کردینا بہتر ہے ۔ (معارف القرآن)
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر اُن پر نازل کراؤ تو اِس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰؑ سے کر چکے ہیں اُس سے تو اِنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اِسی سرکشی کی وجہ سے یکایک اِن پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے اس پر بھی ہم نے اِن سے درگزر کیا ہم نے موسیٰؑ کو صریح فرمان عطا کیا

[ یَسْئَلُکَ : مانگتے ہیں آپ سے ] [ اَہْلُ الْکِتٰبِ : اہل کتاب ] [ اَنْ : کہ ] [ تُـنَـزِّلَ : آپ ﷺ اتاریں ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ کِتٰـبًا : کوئی کتاب ] [ مِّنَ السَّمَآئِ : آسمان سے ] [ فَقَدْ سَاَلُــوْا : تو وہ مانگ چکے ہیں ] [ مُوْسٰٓی : موسیٰ (علیہ السلام) سے ] [ اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ : اس سے زیادہ بڑی (چیز) ] [ فَقَالُوْآ : تو انہوں نے کہا ] [ اَرِنَا : آپ ؐ دکھائیں ہمیں ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ جَہْرَۃً : کھلم کھلا ] [ فَاَخَذَتْہُمُ : تو پکڑا ان کو ] [ الصّٰعِقَۃُ : آسمانی بجلی نے ] [ بِظُلْمِہِمْ : ان کے ظلم کے سبب سے ] [ ثُمَّ اتَّخَذُوا : پھر انہوں نے بنایا ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الٰہ) ] [ مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ ] [ جَآئَ تْہُمُ : آئیں ان کے پاس ] [ الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [ فَعَفَوْنَا : پھر ہم نے درگزر کیا ] [ عَنْ ذٰلِکَ : اس سے ] [ ؐوَاٰتَـیْنَا : اور ہم نے دیا ] [ مُوْسٰی : موسیٰ (علیہ السلام) کو ] [ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا : واضح علبہ ]
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور اِن لوگوں پر طور کو اٹھا کر اِن سے (اُس فرمان کی اطاعت کا) عہد لیا ہم نے اِن کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہوں ہم نے اِن سے کہا کہ سبت کا قانون نہ توڑو اوراس پر اِن سے پختہ عہد لیا

[ وَرَفَعْنَا : اور ہم نے بلند کیا ] [ فَوْقَہُمُ : ان لوگوں کے اوپر ] [ الطُّوْرَ : کوہِ طور کو ] [ بِمِیْثَاقِہِمْ : ان کے پختہ عہد کے لیے ] [ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ لَہُمُ : ان سے ] [ ادْخُلُوا : تم داخل ہو ] [ الْبَابَ : دروازے میں ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] [ وَّقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ لَہُمْ : ان سے ] [ لاَ تَعْدُوْا : تم حد سے مت بڑھو ] [ فِی السَّبْتِ : ہفتے کے دن میں ] [ وَاَخَذْنَا : اور ہم نے لیا ] [ مِنْہُمْ : ان سے ] [ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا : ایک مضبوط عہد ]
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

آخر کا ر اِن کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو نا حق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ در حقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے اِن کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں

[ فَبِمَا : پس جو (ان کی سزا ہے) وہ ہے ] [ نَقْضِہِمْ : ان کے توڑنے کے سبب سے ] [ مِّیْثَاقَہُمْ : اپنے عہد کو ] [ وَکُفْرِہِمْ : اور ان کے انکار کرنے کے سبب سے ] [ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی نشانیوں کا ] [ وَقَتْلِہِمُ : اور ان کے قتل کرنے کے سبب سے ] [ الْاَنْبِیَـآئَ : نبیوں کو ] [ بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [ وَّقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے کے سبب سے ] [ قُلُوْبُنَا : ہمارے دل ] [ غُلْفٌ : غلافوں میں بند ہیں ] [ بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ ] [ طَبَعَ : چھاپ لگا دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ عَلَیْہَا : ان پر (یعنی دلوں پر) ] [ بِکُفْرِہِمْ : ان کے کفر کے سبب سے ] [ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ : پس یہ ایمان نہیں لائیں گے ] [ اِلاَّ قَلِیْلاً : مگر تھوڑے سے ] ط ب ع طَبَعَ یَطْبَعُ (ف) طَبْعًا : کسی چیز کو ڈھال کر کوئی شکل دینا جیسے سکہ ڈھالنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے : (1) کوئی تصویر یا نقش و نگار بنانا ۔ (2) کسی چیز پر کچھ چھاپنا یا چھاپ لگانا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

پھر اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا

[ وَّبِکُفْرِہِمْ : اور ان کے کفر کے سبب سے ] [ وَقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے سے ] [ عَلٰی مَرْیَمَ : بی بی مریم پر ] [ بُہْتَانًا عَظِیْمًا : ایک عظیم بہتان ] ترکیب :” قَتَلْنَا “ کا مفعول ” اَلْمَسِیْحُ “ ہے اور اس کا بدل ” عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ “ ہے۔ پھر ” عِیْسَی ابْن 3 مَرْیَمَ “ کا بدل ” رَسُوْلُ اللّٰہِ “ ہے۔ ” بِہٖ “ اور ” مَوْتِہٖ “ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہیں۔ اسی طرح ” یَـکُوْنُ “ کا اسم اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہے۔
Ayah 4:157

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا

[ وَّقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے سے ] [ اِنَّا : کہ ہم نے ] [ قَـتَلْنَا : قتل کیا ] [ الْمَسِیْحَ : مسیح (علیہ السلام) کو ] [ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ بن مریم ہیں ] [ رَسُوْلَ اللّٰہِ : جو اللہ کے رسول ہیں ] [ وَمَا قَتَلُوْہُ : اور انہوں نے قتل نہیں کیا ان کو ] [ وَمَا صَلَبُوْہُ : اور نہ ہی انہوں نے سولی چڑھایا ان (علیہ السلام) کو ] [ وَلٰــکِنْ : اور لیکن ] [ شُبِّہَ : مشتبہ کیا گیا (معاملہ) ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ وَاِنَّ : اور بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ لَفِیْ شَکٍّ : یقینا (وہ) شک میں ہیں ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ مَا لَہُمْ : ان کے لیے ] [ بِہٖ : نہیں ہے ان کے لیے ] [ مِنْ عِلْمٍ : کسی قسم کا کوئی علم ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ ؐ اتِّبَاعَ : پیروی کرنا ] [ الظَّنِّ : گمان کی ] [ وَمَا قَتَلُوْہُ : اور انہوں نے نہیں قتل کیا ان کو ] [ یَـقِیْنًام : یقینا ]
Ayah 4:158

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے

[ بَلْ : بلکہ ] [ رَّفَعَہُ : اٹھایا ان (علیہ السلام) کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِلَـیْہِ : اپنی طرف ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اُس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا

[ وَاِنْ : اور نہیں ہے ] [ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں کوئی ] [ اِلاَّ : مگر یہ کہ ] [ لَیُؤْمِنَنَّ : وہ لازماً ایمان لائے گا ] [ بِہٖ : ان (علیہ السلام) پر ] [ قَبْلَ مَوْتِہٖ : ان کی موت سے پہلے ] [ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : اور قیامت کے دن ] [ یَکُوْنُ : وہ ہوں گے ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ شَہِیْدًا : گواہ ] نوٹ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کی وضاحت آل عمران :55 کے نوٹ 1 میں کی جا چکی ہے۔ آیات زیر مطالعہ میں اس عقیدے کی بہت واضح الفاظ میں تردید کی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نعوذ باللہ قتل کیا گیا یا سولی چڑھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہ معاملہ ان لوگوں کے لیے مشتبہ کردیا گیا تھا۔ اس معاملے کو کس طرح مشتبہ کیا گیا ‘ اس کی وضاحت قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی حدیث میری نظر سے گزری ہے ۔ البتہ اس کی تفسیر میں ابن کثیر (رح) نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور وہب بن منبہ ؓ کے اقوال نقل کیے ہیں۔ دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جب شاہی سپاہیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مکان کا محاصرہ کیا تو اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ سترہ حواری تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون اسے پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شبیہہ ڈالی جائے ‘ وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور جنت میں میرا رفیق بنے۔ ایک حواری اس کے لیے تیار ہوگئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جگہ ان کو قتل کر کے صلیب پر لٹکایا گیا۔ جبکہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔
Ayah 4:160

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

غرض اِن یہودی بن جانے والوں کے اِسی ظالمانہ رویہ کی بنا پر، اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں

[ فَبِظُلْمٍ : پس ظلم کے سبب سے ] [ مِّنَ الَّذِیْنَ : ان میں سے جو ] [ ہَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ حَرَّمْنَا : ہم نے حرام کیں ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ طَیِّبٰتٍ : کچھ ایسی پاکیزہ چیزیں جو ] [ اُحِلَّتْ : حلال کی گئی تھیں ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ وَبِصَدِّہِمْ : اور ان کے روکنے کے سبب سے ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ کَثِیْرًا : بہتوں کو ] ترکیب :” طیبت “ نکرہ موصوفہ ہے اور ” احلت “ اس کی صفت ہے۔ ” بصدھم “ کے ” با “ سببیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” اخذھم “ اور ” اکلھم “ مجرور ہوئے ہیں۔ ” والمقیمین “ اسم الفاعل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں، اور جو لوگ اِن میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

[ وَّاَخْذِہِمُ : اور ان کے پکڑنے کے سبب سے ] [ الرِّبٰوا : سود کو ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَدْ نُھُوْا : وہ لوگ روکے گئے ہیں ] [ عَنْہُ : اس سے ] [ وَاَکْلِہِمْ : اور ان کے کھانے کے سبب سے ] [ اَمْوَالَ النَّاسِ : لوگوں کے مال کو ] [ بِالْبَاطِلِ : باطل سے ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک درد ناک عذاب ]
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی اِس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے

[ لٰـکِنِ : لیکن ] [ الرّٰسِخُوْنَ : جم جانے والے ] [ فِی الْْعِلْمِ : علم میں ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [ یُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَآ : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَــآ : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَبْلِکَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَالْمُقِیْمِیْنَ : اور قائم رکھنے والے ہوتے ہوئے ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کے ] [ وَالْمُؤْتُوْنَ : اور پہنچانے و الے ] [ الزَّکٰوۃَ : زکوٰۃ کو ] [ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ اُولٰٓئِکَ : یہ لوگ ہیں ] [ سَنُؤْتِیْہِمْ : ہم دیں گے جن کو ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ] نوٹ : آیت 160 میں یہودیوں کا ایک جرم یہ بتایا گیا ہے کہ یہ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خود اللہ کے راستے سے منحرف ہونے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے میں اپنی تمام صلاحیتیں اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ اور اس جرم پر یہ آج تک بڑی استقامت سے قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے دنیا میں جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے تو اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ کام کرتا نظرآتا ہے ۔ (تفہیم القرآن) آج کل امریکہ کی سربراہی میں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانی کی جو تحریک برپا ہے وہ بھی یہودی ذہن اور سرمائے کی پیداوار ہے۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوحؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ہم نے ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ، عیسیٰؑ، ایوبؑ، یونسؑ، ہارونؑ اور سلیمانؑ کی طرف وحی بھیجی ہم نے داؤدؑ کو زبور دی

[ اِنَّــآ اَوْحَیْنَــآ : بیشک ہم نے وحی کی ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ کَمَآ : جیسے کہ ] [ اَوْحَیْنَــآ : ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰی نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَّالنَّبِیّٖنَ : اور نبیوں کی طرف ] [ مِنْم بَعْدِہٖ : ان (علیہ السلام) کے بعد ] [ وَاَوْحَیْنَـآ : اور ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَاِسْمٰعِیْلَ : اور اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَیَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَالْاَسْبَاطِ : اور (ان کی) نسل کی طرف ] [ وَعِیْسٰی : اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَاَیُّــوْبَ : اور ایوب (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَیُوْنُسَ : اور یونس (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَہٰرُوْنَ : اور ہارون (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَسُلَیْمٰنَ : اور سلیمان (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَاٰتَـیْنَا : اور ہم نے دیا ] [ دَاوٗدَ : دائود (علیہ السلام) کو ] [ زَبُوْرًا : زبور ] ترکیب :” اَلنَّبِیّٖنَ ‘ اِلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہے۔ ” اِلٰی اِبْرٰھِیْمَ “ کے بعد تمام پیغمبروں کے نام بھی ” اِلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہیں۔ آیت 164 میں دو مرتبہ اور 165 میں ایک مرتبہ ” رُسُلًا “ آیا ہے ان سے پہلے ” کَانُوْا “ محذوف ہے۔ اس کا اسم اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” رسلا “ خبر ہے۔ ” مُبَشِّرِیْنَ “ اور ” مُنْذِرِیْنَ “ حال ہیں۔ ” حُجَّۃً “ مبتدأ موخر نکرہ اور ” یَکُوْنَ “ کا اسم ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو ” بَاقِیًا “ ہوسکتی ہے۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے

[ وَرُسُلاً : اور (تھے) کچھ رسول ] [ قَدْ قَصَصْنٰـہُمْ : ہم نے بیان کیا ہے جن کا ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ ؐمِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَرُسُلاً : اور (تھے) کچھ رسول ] [ لَّمْ نَقْصُصْہُمْ : ہم نے نہیں بیان کیا جن کا ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ وَکَلَّمَ : اور کلام کیا ] [ اللّٰہُ مُوْسٰی : اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ] [ تَـکْلِیْمًا : جیسے کلام کرتے ہیں ]
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے

[ رُسُلاً : (وہ تھے) کچھ رسول ] [ مُّبَشِّرِیْنَ : خوشخبری دینے والے ] [ وَمُنْذِرِیْنَ : اور خبردار کرنے والے ] [ لِئَلاَّ یَکُوْنَ : تاکہ (باقی) نہ رہے ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ حُجَّۃٌم : کوئی حجت ] [ بَعْدَ الرُّسُلِ : رسولوں کے بعد ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

(لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اُس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے، اور اِس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے

[ لٰـکِنِ : لیکن ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یَشْہَدُ : گواہی دیتا ہے ] [ بِمَآ : اس کی جو ] [ اَنْزَلَ : اس نے اتارا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ اَنْزَلَہٗ : کہ اس نے اتارا اس کو ] [ بِعِلْمِہٖ : اپنے علم سے ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتے ] [ یَشْہَدُوْنَ : (بھی) گواہی دیتے ہیں ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ شَہِیْدًا : بطور گواہ کے ]
Ayah 4:167

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو لوگ اِس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستہ سے روکتے ہیں وہ یقیناً گمرا ہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَصَدُّوْا : اور رکے رہے ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ قَدْ ضَلُّوْا : اور گمراہ ہوئے ہیں ] [ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا : دور کا گمراہ ہونا ]
Ayah 4:168

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

ا ِس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ،

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَظَلَمُوْا : اور ظلم کیا ] [ لَمْ یَکُنِ : ہے ہی نہیں ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِیَغْفِرَ : کہ و ہ معاف کرے ] [ لَہُمْ : ان کو ] [ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ : اور نہ ہی (یہ) کہ وہ ہدای دے ان کو ] [ طَرِیْقًا : کسی راہ کی ] ط ر ق طَرَقَ یَطْرُقُ (ن) طَرْقًا : (1) ہتھوڑا مارنا ‘ لوہا کاٹنا۔ (2) کسی چیز میں راستہ بنانا۔ طُرُوْقًا : رات میں آنا۔ طَارِقٌ (اسم الفاعل) : رات میں آنے والا ‘ ستارہ۔ { وَمَا اَدْرٰٹکَ مَا الطَّارِقُ ۔ اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ ۔ } (الطارق) ” اور تو نے کیا سمجھا ہے رات میں آنے والا ‘ (وہ ہے) تارا چمکنے والا ۔ “ طَرِیْقٌ مؤنث طَرِیْقَۃٌ ج طَرَائِقُ : چلنے کا راستہ۔ { فَاضْرِبْ لَھُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ } (طٰہٰ :77) ” پھر تو بنا ان کے لیے ایک راستہ سمندر میں۔ “ { وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَق } (المؤمنون :17) ” اور بیشک ہم نے تخلیق کیے ہیں تمہارے اوپر سات راستے ۔ “ (2) کوئی کام کرنے یا عمل کرنے کا طریقہ ‘ راہ ‘ مسلک ‘ آیت زیر مطالعہ اور { وَیَذْھَبَا بِطَرِیْقَتُکُمُ الْمُثْلٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” اور وہ دونوں لے جائیں تمہارے بےمثال چلن کو۔ “{ کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا ۔ } (الجن) ” ہم تھے الگ الگ راہوں پر۔ “
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے

[ اِلاَّ : سوائے ] [ طَرِیْقَ جَہَنَّمَ : جہنم کی راہ کے ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] [ فِیْہَآ : اس میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ یَسِیْرًا : آسان ] نوٹ : آیت 165 میں فرمایا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ سلسلہ نبوت و رسالت حجت نہیں ہے بلکہ اتمام حجت ہے۔ انسانوں پر اصل حجت ان کی فطرت کے داعیات اور فکر و عقل کی صلاحیتیں ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان تک کسی نبی یا رسول کی دعوت نہیں پہنچی تب بھی وہ جواب دہ ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسانی فطرت خیر وشر کے شعور سے محروم نہیں ہے اور نہ ہی عقل حق و باطل کے امتیاز سے قاصر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو عقل و فطرت کی راہنمائی کے ساتھ وحی اور انبیاء کی راہنمائی سے بھی نوازا تاکہ گمراہوں کے لیے کوئی ادنیٰ عذر بھی باقی نہ رہے ۔ (تدبر القرآن)
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے، ایمان لے آؤ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور اگر انکار کرتے ہو تو جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی

[ یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ قَدْ جَآئَ کُمُ : تمہارے پاس آچکے ہیں ] [ الرَّسُوْلُ : یہ رسول ؐ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ مِنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب کی طرف سے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم ایمان لائو ] [ خَیْرًا : (تو وہ ہوگا) بہتر ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَـکْفُرُوْا : تم انکار کرو گے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہی ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَالْاَرْضِ : اور زمین میں ہے ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ] ترکیب : پہلی آیت میں فعل امر ” فَاٰمِنُوْا “ کے بعد اور اگلی آیت میں ” اِنْتَھُوْا “ کے بعد ” خیرا “ آیا ہے ‘ اس سے پہلے ” فَـیَـکُوْنُ “ محذوف ہے۔ اس کا اسم اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے اور ” خیرا “ اس کی خبر ہے۔ ” لَا تَقُوْلُوْا “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ” اَلْحَقُّ “ منصوب ہے۔ ” اَلْمَسِیْحُ “ مبتدأ ہے اور ” عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ “ اس کا بدل ہے۔ جبکہ ” رَسُوْلُ اللّٰہِ “ اور ” کَلِمَتُہٗ “ اور ” رُوْحٌ“ اس کی خبریں ہیں۔ ” ثَلٰـثَۃٌ“ اگر ” لَا تَقُوْلُوْا “ کا مفعول ہوتا تو ” ثَلَاثَۃٌ“ آتا۔ اس کی رفع بتارہی ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں اسے direct tense میں نقل کیا گیا ہے (دیکھیں آیت البقرۃ :58‘ ترکیب) ۔ ” اَنْ یَـکُوْنَ “ کا اسم ” وَلَدٌ“ ہے اور خبر محذوف ہے۔ ” یَسْتَنْکِفُ “ کا فاعل ” اَلْمَسِیْحُ “ اور ” اَلْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ “ ہیں۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُ س کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ "تین" ہیں باز آ جاؤ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے

[ یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ : اے اہل کتاب ! ] [ لاَ تَغْلُوْا : تم لوگ مبالغہ مت کرو ] [ فِیْ دِیْـنِکُمْ : اپنے دین میں ] [ وَلاَ تَقُوْلُوْا : اور تم لوگ مت کہو ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ اِلاَّ : سوائے ] [ ؐالْحَقَّ : حق کے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْمَسِیْحُ : مسیح (علیہ السلام) ] [ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ ابن مریم ہیں ] [ رَسُوْلُ اللّٰہِ : (وہ) اللہ کے رسول ہیں ] [ وَکَلِمَتُہٗ : اور اس کا فرمان ہیں ] [ اَلْقٰہَآ : اس نے ڈالا جس کو ] [ اِلٰی مَرْیَمَ : بی بی مریم کی طرف ] [ وَرُوْحٌ : اور ایک روح ہیں ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم ایمان لائو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [ وَلاَ تَقُوْلُوْا : اور تم مت کہو ] [ ثَلٰـثَۃٌ : ”(کہ وہ) تین ہیں “] [ اِنْتَہُوْا : تم باز آ جائو ] [ خَیْرًا : (تو وہ ہوگا) بہتر ] [ لَّـکُمْ : تمہارے لیے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ اِلٰـــہٌ وَّاحِدٌ : واحد الٰہ ہے ] [ سُبْحٰنَہٓٗ : وہ پاک ہے ] [ اَنْ : (اس سے) کہ ] [ یَّــکُوْنَ : ہو ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ وَلَــدٌ : کوئی اولاد ] [ 8 لَہٗ : اس کا ہی ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ وَکِیْلاً : بطور کام بنانے والے کے ] غ ل و (ن) غُلُوًّا : تیر کو انتہائی دور تک پھینکنا ‘ مبالغہ کرنا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا

[ لَنْ یَّسْتَنْکِفَ : ہرگز عار نہیں سمجھتے ] [ الْمَسِیْحُ : مسیح (علیہ السلام) ] [ اَنْ : (اس کو) کہ ] [ یَّکُوْنَ : وہ ہوں ] [ عَبْدًا : ایک بندے ] [ لِّلّٰہِ : اللہ کے ] [ وَلاَ الْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ : اور نہ ہی مقرب فرشتے ] [ وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ : اور جو عار سمجھ کر رکے گا ] [ عَنْ عِبَادَتِہٖ : اس کی عبادت سے ] [ وَیَسْتَـکْبِرْ : اور بڑائی چاہے گا ] [ فَسَیَحْشُرُہُمْ : تو وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] [ اِلَـیْہِ : اپنی طرف ] [ جَمِیْعًا : کل کے کل کو ] ن ک نَـکَفَ یَنْکُفُ (ن) نَـکْفًا : ناک بھوں چڑھانا ‘ بیزار ہونا۔ اِسْتَنْکَفَ یَسْتَنْکِفُ (استفعال) اِسْتِنْکَافًا : باعث ننگ عار سمجھنا ‘ عار سمجھ کر رکنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:173

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے

[ فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [ فَیُوَفِّیْہِمْ : تو وہ پورا پورا دے گا ان کو ] [ اُجُوْرَہُمْ : ان کے بدلے ] [ وَیَزِیْدُہُمْ : اور وہ زیادہ دے گا ان کو ] [ مِّنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ وَاَمَّا الَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ ؓ اسْتَنْکَفُوْا : عار سمجھ کر رکے ] [ وَاسْتَـکْبَرُوْا : اور بڑائی چاہی ] [ فَـیُعَذِّبُہُمْ : تو وہ عذاب دے گا ان کو ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک دردناک عذاب ] [ وَّلاَ یَجِدُوْنَ : اور وہ لوگ نہیں پائیں گے ] [ لَہُمْ : اپنے لیے ] [ ؓ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے سوا ] [ وَلِـیًّا : کوئی کارساز ] [ وَّلاَ نَصِیْرًا : اور نہ ہی کوئی مددگار ] نوٹ (1) : دین میں مبالغہ کا مطلب یہ ہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ اور مقام ہے اس کو اس سے بڑھادیا جائے۔ جو حکم مستحب کے درجہ میں ہے اسے فرض اور واجب کا درجہ دیا جائے۔ کسی فقیہہ یا مجتہد یا صحابی ؓ کو امام معصوم بنادیا جائے۔ جس کی تعظیم مطلوب ہے اس کی عبادت شروع کردی جائے۔ یہ اور اسی قبیل کی ساری باتیں غلو میں داخل ہیں۔ یوں تو اس غلو میں تمام اہل مذاہب مبتلا ہوئے ہیں ‘ یہاں تک کہ ہم مسلمان بھی اس فتنہ میں مبتلا ہوگئے ‘ لیکن نصاریٰ کو اس فساد میں امامت کا درجہ حاصل ہے ۔ (تدبر القرآن) نوٹ (2) : اس کائنات میں ہر چیز اللہ کے حکم سے ہی وجود میں آتی ہے۔ البتہ اس حکم پر عمل درآمد اس کے تخلیق کردہ کسی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) باپ کے بغیروجود میں آئے تھے اس لیے کَلِمَتُہٗ کا اضافہ کر کے بتادیا کہ یہ بھی اللہ کا ہی فرمان تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا وجود اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کا مظہر ہے۔ کَلِمَتُہٗکی طرح آگے رُوْحُہٗ آتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کی یعنی اللہ کی روح ہیں۔ لیکن ضمیر کے ساتھ مِنْ کا اضافہ کر کے اس عقیدے کی نفی کردی گئی اور واضح کردیا گیا کہ ہر ذی روح کی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ آیات 174 تا 176
Ayah 4:174

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آ گئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے

[ یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ : اے لوگو !] [ قَدْ جَآئَ ‘ کُمْ : آچکی ہے تمہارے پاس ] [ بُرْہَانٌ : ایک روشن دلیل ] [ مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ] [ وَاَنْزَلْـنَــآ : اور ہم نے اتارا ] [ اِلَـیْکُمْ : تمہاری طرف ] [ نُوْرًا مُّبِیْنًا : ایک روشن نور ]