4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی، اور اسی طرح توبہ اُن کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں ا یسے لوگوں کے لیے تو ہم نے درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے

[ وَلَـیْسَتِ : اور (ثابت) نہیں ہے ] [ التَّوْبَۃُ : توبہ (اللہ پر) ] [ لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے رہتے ہیں ] [ السَّیِّاٰتِ : برائیوں کا ] [ حَتّٰیٓ : یہاں تک کہ ] [ اِذَا : جب ] [ حَضَرَ : سامنے آتی ہے ] [ اَحَدَہُمُ : ان کے کسی ایک کے ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ قَالَ : تو وہ کہتا ہے ] [ اِنِّیْ تُـبْتُ : بیشک میں توبہ کرتا ہوں ] [ الْـئٰـنَ : اب ] [ وَلاَ الَّذِیْنَ : اور نہ ہی ان کے لیے جو ] [ یَمُوْتُوْنَ : مرتے ہیں ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُمْ : وہ ] [ کُفَّارٌ : کفر کرنے والے ہیں ] [ اُولٰٓئِکَ : یہ لوگ ہیں ] [ اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ] [ لَہُمْ : جن کے لیے ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک دردناک عذاب ] نوٹ 1: پہلے یہ سمجھ لیں کہ توبہ کسے کہتے ہیں۔ کیونکہ قبول ہونے یا قبول نہ ہونے کا سوال صرف سچی توبہ سے متعلق ہے۔ جھوٹی توبہ کا اس سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سچی توبہ کے تین اجزاء ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اپنے کیے پر ندامت ہو۔ ایک حدیث میں ہے کہ توبہ نام ہی ندامت کا ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ آئندہ وہ کام نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اپنے کیے کی تلافی کرے ‘ مثلاً نماز ‘ روزہ اور زکوٰۃ کی قضا کرے ‘ کسی کا حق مارا ہے تو اسے ادا کرے ‘ کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس سے معافی مانگے ‘ کوئی ایسا شخص وفات پا چکا ہے تو اس کے لیے دعائے مغفرت کرے ‘ وغیرہ۔ یہ بھی سمجھ لیں کہ خطا کا صدور ‘ پھر اس پر ندامت اور اعتراف ‘ انسانیت کا عطر ہے۔ اگر کبھی خطا نہ کرے تو انسان فرشتہ ہوجائے گا ‘ یعنی مسجود کے بجائے ساجد ہوجائے گا۔ اگر خطا پر نادم نہ ہو اور اس کا اعتراف نہ کرے تو انسان شیطان ہوجائے گا (ماخوذ از معارف القرآن ) ۔ اس حوالے سے اب یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ غلطی کرنا اتنی بری بات نہیں ہے۔ برائی کی اصل جڑ یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرے۔ نوٹ 2: اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان سچی توبہ کرے تو اس کی قبولیت کا کیا امکان ہے ۔ آیت 17 میں اس کے لیے پہلی شرط ” بِجَھَالَۃٍ “ ہے ۔ اس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ انجانے میں گناہ کرے تب توبہ قبول ہوگی۔ صحابہ کرام ؓ نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ گناہ کے انجام اور عذاب سے غفلت اس کا سبب بن گئی ہو خواہ وہ اسے گناہ جانتا ہو اور قصداً کیا ہو۔ جیسے یوسف (علیہ السلام) سے ان کے بھائیوں نے جو کیا قصداً کیا تھا پھر بھی قرآن مجید میں اسے جہالت کہا گیا ہے (یوسف :89) ۔ اس لیے امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قصداً گناہ کرے ‘ تو اس کی بھی توبہ قبول ہوسکتی ہے اگر وہ سچی توبہ کرے۔ اسی آیت میں توبہ کی قبولیت کے لیے دوسری شرط ” مِنْ قَرِیْبٍ “ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ قریب کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک بندے پر غرغرہ نہ طاری ہوجائے۔ اس طرح مِنْ قَرِیْبٍکا مطلب ہے کہ انسان کا عرصہ ٔحیات قلیل ہے اور موت اس کے بالکل قریب ہے (ماخوذ از معارف القرآن ) ۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہو ں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو

[ یٰٓـــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ] [ لاَ یَحِلُّ : حلال نہیں ہوتا ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَرِثُوا : تم لوگ وارث بنو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں کے ] [ کَرْہًا : زبردستی ] [ وَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ : اور تم لوگ مت روکو ان کو ] [ لِتَذْہَبُوْا : تاکہ تم لوگ لے جائو ] [ بِبَعْضِ مَـآ : اس کے بعض کو جو ] [ اٰتَـیْتُمُوْہُنَّ : تم لوگوں نے دیا ان کو ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّـاْتِیْنَ : وہ کریں ] [ بِفَاحِشَۃٍ مُّـبَــیِّنَۃٍ : کوئی کھلی بےحیائی ] [ وَعَاشِرُوْہُنَّ : اور تم لوگ مل جل کر رہو ان سے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلے طریقے سے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ کَرِہْتُمُوْہُنَّ : تم لوگ ناپسند کرو ان کو ] [ فَـعَسٰٓی : تو ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَـکْرَہُوْا : تم لوگ ناپسند کرو ] [ شَیْئًا : کسی چیز کو ] [ وَّ : حالانکہ ] [ یَجْعَلَ : (ہو سکتا ہے کہ) پیدا کرے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ خَیْرًا کَثِیْرًا : بہت زیادہ بھلائی ] ع ش ر عَشَرَ یَعْشِرُ ۔ عَشَرَ یَعْشُرُ (ض۔ ن) عَشْرًا : نو میں شامل ہو کر دسواں ہونا۔ عَشْرٌ (اسم العدد) : دس۔ { مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَاج } (الانعام :160) ” جو آیا نیکی کے ساتھ تو اس کے لیے اس کی جیسی دس ہیں۔ “ مِعْشَارٌ : دسواں حصہ یعنی 1/10 ۔ { وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَـآ اٰتَیْنٰـھُمْ } (سبا :45) ” اور وہ لوگ نہیں پہنچے اس کے دسویں حصے کو جو ہم نے دیا ان کو۔ “ عُشَرَائُ ج عِشَارٌ : دس ماہ کی حاملہ اونٹنی جس کا وضع حمل کا وقت قریب ہو۔ { وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۔ } (التکویر) ” اور جب حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔ “ عِشْرُوْنَ : بیس ۔ { اِنْ یَّـکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِج } (الانفال :65) ” اگر ہوں تم لوگوں میں بیس ثابت قدم تو وہ غالب ہوں گے دو سو پر۔ “ عَشِیْرٌ (فَعِیْلٌ کا وزن اسم الفاعل کے معنی میں) : شامل ہونے والا یعنی ساتھی ‘ رفیق۔ { لَبِئْسَ الْمَوْلٰی وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ ۔ } (الحج) ” یقینا بہت ہی برا کارساز ہے اور یقینا بہت ہی برا رفیق ہے۔ “ عَشِیْرَۃٌ : قبیلہ ‘ برادری ‘ رشتہ دار۔ { وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ } (الشُّعرائ) ” اور آپ ﷺ خبردار کریں اپنے قریبی رشتہ داروں کو۔ “ مَعْشَرٌ : جماعت ‘ گروہ۔ { یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَـکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِج } (الانعام :128) ” اے جنوں کے گروہ ! تم نے بہت حاصل کرلیے انسانوں میں سے۔ “ عَاشَرَ (مفاعلہ) مُعَاشَرَۃً : باہم مل جل کر رہنا۔ عَاشِرْ (فعل امر) : تو مل جل کر رہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب :” لَا یَحِلُّ “ میں لام کی ضمہ بتارہی ہے کہ یہ مضارع مجزوم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس سے پہلے لائے نفی ہے ‘ اس کو لائے نہی ماننا ممکن نہیں ہے۔ اس کے آگے ” اَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْھًا “ پورا جملہ ” لاَ یَحِلُّ “ کا فاعل ہے۔ اس جملے میں ” تَرِثُوْا “ کا فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ ” اَلنِّسَائَ “ اس کا مفعول ہے اور ” کَرْھًا “ حال ہے۔ ” لَا تَعْضُلُوْا “ فعل نہی ہے۔ ” یَجْعَلَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ” عَسٰی اَنْ “ پر عطف ہے۔ ” اَتَاْخُذُوْنَ “ کا مفعول ” ہٗ “ کی ضمیر ہے جو ” قِنْطَارًا “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” بُھْتَانًا “ اور مرکب توصیفی ” اِثْمًا مُّبِیْنًا “ دونوں حال ہیں۔ ” فَاحِشَۃً “ اور ” مَقْتًا “ ” کَانَ “ کی خبر ہیں۔ ” سَائَ “ فعل ماضی ہے لیکن اس کا ترجمہ حال میں ہوگا (البقرۃ :49‘ نوٹ 2) ۔” سَبِیْلًا “ تمیز ہے۔
Ayah 4:20

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے؟

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ اَرَدْتُّمُ : تم لوگ ارادہ کرو ] [ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ : کسی بیوی کا بدلے میں لینا ] [ مَّـکَانَ زَوْجٍ : کسی بیوی کی جگہ ] [ وَّاٰتَـیْتُمْ : اور تم نے دیاہو ] [ اِحْدٰٹہُنَّ : ان کی کسی ایک کو ] [ قِنْطَارًا : ایک ڈھیر (مال) ] [ فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ : تم لوگ مت لو اس میں سے ] [ شَیْئًا : کوئی چیز ] [ اَتَـاْخُذُوْنَـہٗ : کیا تم لوگ لیتے ہو اس کو ] [ بُہْتَاناً : جھوٹا الزام لگاتے ہوئے ] [ وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا : اور کھلاگناہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور آخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندو ز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟

[ وَکَیْفَ : اور کیسے ] [ تَاْخُذُوْنَہٗ : تم لوگ لو گے اس کو ] [ وَ : درآنحالیکہ ] [ قَدْ اَفْضٰی : صحبت کرچکا ہے ] [ بَعْضُکُمْ : تم میں سے کوئی ] [ اِلٰی بَعْضٍ : کسی سے ] [ وَّاَخَذْنَ : اور انہوں نے لیا ] [ مِنْکُمْ : تم سے ] [ مِّیْـثَاقًا غَلِیْظًا : ایک پکا وعدہ ] ض و فَضَا یَفْضُوْ (ن) فَضَائً : کسی چیز یا جگہ کا کشادہ ہونا۔ اَفْضٰی (افعال) اِفْضَائً : کشادہ کرنا ‘ صحبت کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے

[ وَلاَ تَـنْکِحُوْا : اور تم لوگ نکاح مت کرو ] [ مَا : اس سے ‘ جس سے ] [ نَــکَحَ : نکاح کیا ] [ اٰبَــآؤُکُمْ : تمہارے اجداد نے ] [ مِّنَ النِّسَآئِ : عورتوں میں سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَا : جو ] [ قَدْ سَلَفَ : گزر گیا ہے ] [ اِنَّـہٗ : یقینا یہ ] [ کَانَ : ہے ] [ فَاحِشَۃً : بےحیائی ] [ وَّمَقْتًا : اور بیزاری ] [ وَسَآئَ : اور برا ہے ] [ سَبِیْلاً : بلحاظ راستے کے ] م ق ت مَقَتَ ۔ یَمْقُتُ (ن) مَقْتًا : نفرت کرنا ‘ بیزار ہونا۔ مَقْتٌ (اسم ذات) : نفرت ‘ بیزاری ‘ آیت زیر مطالعہ۔ نوٹ : ان آیات میں ان غلط رسوم کی ممانعت ہے جو اسلام سے پہلے خواتین کے ضمن میں عام تھیں۔ عورت کی جان اور مال کو مرد کی ملکیت تسلیم کیا جاتا تھا۔ شوہر کے انتقال کے بعد وارث اس کے ترکہ کی طرح اس کی بیوہ کے بھی مالک بن جاتے تھے۔ اس سے اگر خود نکاح کرتے تو مہر نہیں ادا کرتے تھے اور اگر کسی دوسرے سے نکاح کراتے تو مہر خود رکھ لیتے تھے۔ بیوی کو اگر میکے یا کہیں اور سے کوئی چیز ملتی تو شوہر اس کا مالک ہوتا تھا۔ اس طرح کی اور رسومات کی نفی کرتے ہوئے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورت کی شخصیت کے حق کو اور اس کے حق ملکیت کو تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہو چکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو (ا نہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

[ حُرِّمَتْ : حرام کی گئیں ] [ عَلَیْـکُمْ : تم لوگوں پر ] [ اُمَّہٰتُـکُمْ : تمہاری مائیں ] [ وَبَنٰـتُـکُمْ : اور تمہاری بیٹیاں ] [ وَاَخَوٰتُـکُمْ : اور تمہاری بہنیں ] [ وَعَمّٰتُـکُمْ : اور تمہاری پھوپھیاں ] [ وَخٰلٰـتُـکُمْ : اور تمہاری خالائیں ] [ وَبَنٰتُ الْاَخِ : اور بھائی کی بیٹیاں ] [ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ : اور بہن کی بیٹیاں ] [ وَاُمَّہٰتُـکُمُ الّٰتِیْ : اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے ] [ اَرْضَعْنَـکُمْ : دودھ پلایا تم کو ] [ وَاَخَوٰتُـکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ : اور تمہاری دودھ شریک بہنیں ] [ وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ : اور تمہاری عورتوں (بیویوں) کی مائیں ] [ وَرَبَــآئِبُـکُمُ : اور تمہاری زیر تربیت بیٹیاں ] [ الّٰتِیْ : جو ] [ فِیْ حُجُوْرِکُمْ : تمہاری گودوں میں ہیں ] [ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ : تمہاری ان عورتوں سے ] [ دَخَلْتُمْ : تم داخل ہوئے ] [ بِہِنَّ : جن میں ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ لَّمْ تَـکُوْنُوْا : تم نہیں ہوئے ] [ دَخَلْتُمْ : داخل ] [ بِہِنَّ : ان میں ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَـیْـکُمْ : تم پر ] [ وَحَلَآئِلُ اَ بْـنَـآئِکُمُ : اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں ] [ الَّذِیْنَ : جو ] [ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ : تمہاری پیٹھوں سے ہیں ] [ وَاَنْ : اور (حرام کیا گیا تم پر) کہ ] [ تَجْمَعُوْا : تم جمع کرو ] [ بَیْنَ الْاُخْتَـیْنِ : دو بہنوں کے درمیان ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَا : جو ] [ قَدْ سَلَفَ : گزر گیا ہے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ] ع م م عَمَّ ۔ یَعُمُّ (ن) عُمُوْمًا : کسی چیز کا عام ہونا۔ عَمٌّ ج اَعْمَامٌ : چچا۔{ وَبَنٰتِ عَمِّکَ } (الاحزاب :50) ” اور تمہارے چچا کی بیٹیاں۔ “ { اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ } (النور :61) ” یا تمہارے چچائوں کے گھر۔ “ عَمَّۃٌ ج عَمَّاتٌ : پھوپھی۔ آیت زیر مطالعہ۔ عَمَّ : اس کا مادہ ” ع م م “ نہیں ہے بلکہ یہ ” عَنْ مَا “ کی ادغام شدہ شکل ہے۔ { عَمَّ یَتَسَآئَ ‘ لُـوْنَ ۔ } (النبا) ” کس کے بارے میں یہ لوگ باہم پوچھتے ہیں ؟ “ خ و ل خَالَ ۔ یَخُوْلُ (ف) خَوْلًا : غلاموں والا ہونا۔ مالک۔ خَالٌ ج اَخْوَالٌ : ماموں ۔ { وَبَنٰتِ خَالِکَ } (الاحزاب :50) ” اور تمہارے ماموں کی بیٹیاں۔ “ { اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ } (النور :61) ” یا تمہارے ماموئوں کے گھر۔ “ خَالَۃٌ ج خَالَاتٌ : خالہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ خَوَّلَ ۔ یُخَوِّلُ (تفعیل) تَخْوِیْلًا : مالک بنانا ‘ عطا کرنا۔ { وَتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰـکُمْ وَرَآئَ ظُھُوْرِکُمْج } (الانعام :94) ” اور تم لوگ چھوڑ آئے اس کو جو ہم نے عطا کیا تم کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے۔ “ ص ل ب صَلَبَ ۔ یَصْلُبُ (ن) صَلْـبًا : ہڈیوں سے گودا نکالنا۔ سولی پر چڑھانا (قتل کرنے کے لیے) ۔ { وَمَا قَـتَلُوْہُ وَمَا صَلَـبُوْہُ } (النسائ :157) ” ان لوگوں نے قتل نہیں کیا اس کو اور نہ ان لوگوں نے سولی چڑھایا اس کو۔ “ صُلْبٌ ج اَصْلَابٌ : ریڑھ کی ہڈی ‘ پیٹھ۔ { یَخْرُجُ مِنْم بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ ۔ } (الطارق) ” وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے درمیان سے۔ “ صَلَّبَ (تفعیل) تَصْلِیْـبًا : سولی چڑھانا ‘ پھانسی دینا۔ { وَلَاُوصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِز } (طٰہٰ :71) ” اور میں لازماً سولی چڑھائوں گا تم لوگوں کو کھجور کے تنوں پر۔ “
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (محصنات) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے اِن کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، بشر طیکہ حصار نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے

[ وَّالْمُحْصَنٰتُ : اور شادی شدہ خواتین (بھی)] [ مِنَ النِّسَآئِ : عورتوں میں سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَا : جن کے ] [ مَلَکَتْ : مالک ہوئے ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ] [ کِتٰبَ اللّٰہِ : اللہ کا لکھا ہوا ہوتے ہوئے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ وَاُحِلَّ : اور حلال کیا گیا ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ : جو اس کے علاوہ ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَـبْـتَغُوْا : تم لوگ چاہو (ان کو) ] [ بِاَمْوَالِکُمْ : اپنے مال سے ] [ مُّحْصِنِیْنَ : حفاظت کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ : بدکاری نہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ : پھر جو تم نے فائدہ حاصل کیا ] [ بِہٖ : جس سے ] [ مِنْہُنَّ : ان میں سے ] [ فَاٰتُوْہُنَّ : تو تم لوگ دو ان کو ] [ اُجُوْرَہُنَّ : ان کے حقوق ] [ فَرِیْضَۃً : فرض ہوتے ہوئے ] [ وَلاَ جُنَاحَ : اور کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَـیْکُمْ : تم پر ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ تَرٰضَیْتُمْ : تم لوگ باہم راضی ہوئے ] [ بِہٖ : جس پر ] [ مِنْم بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ : فرض کے بعد ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ] ح ص ن حَصُنَ ۔ یَحْصُنُ (ک) حَصَانَۃً : مضبوط و مستحکم ہونا ‘ محفوظ ہونا۔ حِصْنٌ ج حُصُوْنٌ : مضبوط جگہ ‘ قلعہ ۔ { وَظَنُّوْآ اَنَّھُمْ مَّا نِعَتُھُمْ حُصُوْنُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ } (الحشر :2) ” اور ان لوگوں نے گمان کیا کہ بچانے والے ہیں ان کو ان کے قلعے اللہ سے۔ “ اَحْصَنَ (افعال) اِحْصَانًا : حفاظت کرنا ‘ بچانا ‘ محفوظ کرنا۔ { وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّــکُمْ لِتُحْصِنَـکُمْ مِّنْم بَاْسِکُمْج } (الانبیائ :80) ” اور ہم نے سکھایا اس کو ایک لباس بنانا تمہارے لیے تاکہ وہ تمہاری حفاظت کرے تمہاری جنگ میں۔ “ مُحْصِنٌ (اسم الفاعل) : حفاظت کرنے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔ مُحْصَنَۃٌ (اسم المفعول) : محفوظ کی ہوئی۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ قرآن مجید میں متعدد مفاہیم میں آیا ہے : (1) شادی شدہ خاتون۔ آیت زیر مطالعہ۔ (2) آزاد خاتون ‘ یعنی جو کنیز نہ ہو۔ خاندانی لڑکی۔ { اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ } (النسائ :25) ” کہ وہ نکاح کرے خاندانی مسلمان عورت سے۔ “ (3) پارسا ‘ پاک دامن۔ { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ } (النور :4) ” اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔ “ حَصَّنَ (تفعیل) تَحْصِیْنًا : بہت مضبوط کرنا ‘ خوب پختہ کرنا۔ مُحَصَّنَۃٌ (اسم المفعول) : بہت مضبوط کی ہوئی۔ { لاَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ جَمِیْعًا اِلاَّ فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ } (الحشر :14) ” وہ لوگ جنگ نہیں کریں گے تم لوگوں سے سب مل کر مگر قلعہ بند بستیوں میں۔ “ تَحَصَّنَ (تفعل) تَحَصُّنًا : خود کو محفوظ کرنا ‘ بچنا۔ { اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا } (النور :33) ” اگر وہ عورتیں ارادہ کریں بچنے کا۔ “ سح سَفَحَ (ف) سَفْحًا : خون یا آنسو وغیرہ بہانا۔ مَسْفُوْحٌ (اسم المفعول) : بہایا ہوا۔ { اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا } (الانعام :145) ” یا بہایا ہوا خون۔ “ سَافَحَ (مفاعلہ) سِفَاحًا : ایک دوسرے سے بڑھ کر بہانا۔ پھر بدکاری کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مُسَافِحٌ (اسم الفاعل) : بدکاری کرنے والا ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” حُرِّمَتْ “ ماضی مجہول ہے۔ اس کے آگے جو رشتے مذکور ہیں وہ سب اس کے نائب فاعل ہیں اس لیے ان کے مضاف حالت رفع میں آئے ہیں۔ ” اَنْ تَجْمَعُوْا “ سے پہلے ” حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ “ محذوف ہے۔ ” کِتٰبَ اللّٰہِ “ کو فعل محذوف کا مفعول مطلق بھی مانا جاسکتا ہے ‘ لیکن بہتر ہے کہ اس کو حال مانا جائے۔ ” اَنْ تَبْتَغُوْا “ کا مفعول ” ھُنَّ “ محذوف ہے۔ ” مُحْصِنِیْنَ “ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصبی میں ہے۔ ” غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ “ میں ” غَیْرَ “ کی نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے ‘ جبکہ ” مُسٰفِحِیْنَ “ اس کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہوا ہے۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کر دو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اُس سز ا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات) کے لیے مقرر ہے یہ سہولت تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

[ وَمَنْ : اور جو ] [ لَّــمْ یَسْتَطِعْ : صلاحیت نہیں رکھتا ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ طَوْلاً : بلحاظ دولت کے ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـنْـکِحَ : وہ نکاح کرے ] [ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ : مسلمان خاندانی عورتوں سے ] [ فَمِنْ مَّا : تو وہ جن کے ] [ مَلَـکَتْ : مالک ہوئے ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ] [ مِّنْ فَتَیٰـتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ : تمہاری مسلمان لونڈیوں میں سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے ] [ بِاِیْمَانِکُمْ : تم لوگوں کے ایمان کو ] [ بَعْضُکُمْ : تم میں کا کوئی ] [ مِّنْم بَعْضٍ : کسی سے ہے ] [ فَانْکِحُوْہُنَّ : پس تم لوگ نکاح کرو ان سے ] [ بِاِذْنِ اَہْلِہِنَّ : ان کے مالکوں کی اجازت سے ] [ وَاٰتُوْہُنَّ : اور تم لوگ دو ان کو ] [ اُجُوْرَہُنَّ : ان کے حق مہر ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلے طریقے سے ] [ مُحْصَنٰتٍ : محفوظ کی ہوئیں ہوتے ہوئے ] [ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ : بدکاری نہ کرنے والیاں ہوتے ہوئے ] [ وَّلاَ مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ : اور کچھ دوست نہ بنانے والیاں ہوتے ہوئے ] [ فَاِذَآ : پس جب ] [ اُحْصِنَّ : وہ محفوظ کردی جائیں ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ اَتَـیْنَ : وہ کریں ] [ بِفَاحِشَۃٍ : کوئی بےحیائی ] [ فَعَلَیْہِنَّ : تو ان پر ہے ] [ نِصْفُ مَا : اس کا آدھا جو ] [ عَلَی الْمُحْصَنٰتِ : خاندانی خواتین پر ہے ] [ مِنَ الْعَذَابِ : سزا میں سے ] [ ذٰلِکَ : وہ (یعنی کنیز سے شادی کرنا) ] [ لِمَنْ : اس کے لیے ہے جو ] [ خَشِیَ : ڈرے ] [ الْعَنَتَ : مشکل میں پڑنے سے ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ وَاَنْ : اور (یہ) کہ ] [ تَصْبِرُوْا : تم لوگ صبر کرو ] [ خَیْرٌ : (تو یہ) زیادہ بہتر ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ط و ل طَالَ ۔ یَطُوْلُ (ن) طَوْلاً : (1) دراز ہونا ‘ لمبا ہونا۔ (2) خیرات دینا۔ بخشش کرنا (یعنی دولت میں لمبا ہونا) ۔ { فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْط } (الحدید :16) ” پھر دراز ہوئی ان پر مدت تو سخت ہوگئے ان کے دل۔ “ طُوْلٌ (اسم ذات) : لمبائی۔ { وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” اور تو ہرگز نہیں پہنچے گا پہاڑ کو بلحاظ لمبائی کے۔ “ طَوِیْلٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : لمبا۔ { اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا ۔ } (المزمل) ” بیشک آپ کے لیے دن میں ایک لمبی مصروفیت ہے۔ “ طَوْلٌ (اسم ذات) : سخاوت ‘ مال ‘ دولت۔ { شَدِیْدِ الْعِقَابِلا ذِی الطَّوْلِط } (المؤمن :3) ” سخت پکڑ والا ‘ جو دو کرم والا “۔ { اِسْتَاْذَنَکَ اُولُوا الطَّوْلِ } (التوبۃ :86) ” اجازت چاہتے ہیں آپ ﷺ سے دولت والے۔ “ تَطَاوَلَ (تفاعل) تَطَاوُلًا : دور کی چیز کی طرف گردن بلند کر کے دیکھنا ‘ لمبائی ظاہر کرنا۔ { فَتَطَاوَلَ عَلَیْھِمُ الْعُمُرُج } (القصص :45) ” پھر لمبائی ظاہر کی ان پر عمر نے۔ “ ت ی فَتَی۔ یَفْتِیْ (س) فَتًی : نوجوان ہونا ‘ خادم ہونا (زیادہ تر نوعمر لڑکے نوکر رکھے جاتے ہیں) ۔ فَتًی تثنیہ فَتَـیَانِ ج فِتْیَانٌ اور فِتْیَۃٌ : نوجوان لڑکا ‘ نوعمر خادم یا ملازم ۔ { قَالُـوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُھُمْ یُقَالُ لُـہٗ اِبْرٰھِیْمُ ۔ } (الانبیائ) ” انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا ایک نوجوان کو ‘ وہ ذکر کرتا ہے ان کا (یعنی بتوں کو برا کہتا ہے) جس کو کہاجاتا ہے ابراہیم “۔ { وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَـتَیٰنٍط } (یوسف :36) ” اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان “۔{ وَقَالَ لِفِتْیٰـنِہِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَھُمْ } (یوسف :62) ” اور انہوں (علیہ السلام) نے کہا اپنے خادموں سے کہ تم لوگ رکھ دو ان کی پونجی “۔{ اِنَّھُمْ فِتْیَۃٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ } (الکہف :13) ” بیشک وہ لوگ کچھ نوجوان تھے جو ایمان لائے اپنے رب پر۔ “ فَتَاۃٌ ج فَتَـیَاتٌ : نوجوان لڑکی ‘ خادمہ ‘ کنیز ‘ آیت زیر مطالعہ۔ اَفْتٰی (افعال) اِفْتَائً : مسئلے کا حل بتانا ‘ فتویٰ دینا۔ (ذہنی صلاحیت کے لحاظ سے کسی کو نوجوان کرنا۔ علمی خدمت کرنا) ۔ { قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْـکَلٰـلَۃِط } (النسائ :176) ” آپ ﷺ کہیے کہ اللہ بتاتا ہے تم کو کلالہ کے بارے میں ۔ “ اَفْتِ (فعل امر) : تو بتا ‘ تو فتویٰ دے۔ { اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ } (یوسف :46) ” تو بتا ہمیں سات موٹی گایوں کے بارے میں۔ “ اِسْتَفْتٰی (استفعال) اِسْتِفْتَائً : مسئلے کا حل پوچھنا ‘ فتویٰ مانگنا۔ { وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَائِط } (النسائ :127) ” اور یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے عورتوں کے بارے میں۔ “ اِسْتَفْتِ (فعل امر) : تو پوچھ ‘ تو فتویٰ مانگ۔ { فَاسْتَفْتِھِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمُ الْبَنُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” تو آپ ﷺ ان لوگوں سے پوچھیں : کیا آپ ﷺ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ؟ “ خ د ن ثلاثی مجرد سے نہیں آتا۔ خَادَنَ (مفاعلہ) مُخَادَنَۃً : ایک دوسرے سے دوستی کرنا ‘ یاری لگانا۔ خِدْنٌ ج اَخْدَانٌ : (مذکر ومؤنث دونوں کے لیے آتا ہے) دوست ‘ یار ‘ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” طَوْلًا “ تمیز ہے ” یَسْتَطِعْ “ کی۔ ” فَمِنْ مَّا مَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ “ جواب شرط ہے اور ” مِنْ فَـتَیٰـتِکُمْ “ اس کا بدل ہے۔ ” اَعْلَمُ “ تفضیل کل ہے اور ” وَاللّٰہُ “ کی خبر ہے۔ ” مُحْصَنٰتٍ ‘ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ “ اور ” لَامُتَّخِذٰتِ “ یہ سب حال ہیں۔ ” ذٰلِکَ “ کا اشارہ ” فَانْکِحُوْھُنَّ “ کی طرف ہے۔ نوٹ : کوئی آزاد یعنی خاندانی شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزا رجم ہے۔ اگر کوئی غیر شادی شدہ یہی جرم کرے تو اس کی سزا ایک سو کوڑے ہیں۔ لیکن یہی جرم اگر کسی غلام یا کنیز سے ہوتا ہے ‘ تو خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ‘ دونوں صورتوں میں اس کی سزا پچاس کوڑے ہیں۔
Ayah 4:26

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحا٫ کرتے تھے وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی

[ یُرِیْدُ : چاہتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِیُــبَــیِّنَ : کہ وہ خوب واضح کرے ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَیَہْدِیَکُمْ : اور یہ کہ وہ ہدایت دے تم کو ] [ سُنَنَ الَّذِیْنَ : ان (لوگوں) کے طریقوں کی جو ] [ مِنْ قَـبْلِکُمْ : تم سے پہلے (گزرے) ہیں ] [ وَیَتُوْبَ عَلَـیْـکُمْ : اور یہ کہ وہ تمہاری توبہ قبول کرے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [ حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ] ترکیب :” یَھْدِیَ “ اور ” یَتُوْبَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ” لِیُـبَـیِّنَ “ کی لام پر عطف ہیں۔ جبکہ ” سُنَنَ الَّذِیْنَ “ میں ” سُنَنَ “ کی نصب مفعول ہونے کی وجہ سے ہے جو ” یُـبَـیِّنَ “ اور ” یَھْدِیْ “ دونوں کا مفعول ہے۔ ” اَنْ یُّخَفِّفَ “ کا مفعول محذوف ہے جو ” اَلْعَنُوْتَ “ (دشواری) ہوسکتا ہے۔
Ayah 4:27

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ

[ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یُرِیْدُ : چاہتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـتُوْبَ : وہ (رحمت کے ساتھ) متوجہ ہو ] [ عَلَـیْـکُمْ : تم پر ] [ وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ : اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو ] [ یَتَّبِعُوْنَ : پیروی کرتے ہیں ] [ الشَّہَوٰتِ : خواہشات کی ] [ اَنْ : کہ ] [ تَمِیْلُوْا : تم لوگ بھٹک جائو ] [ مَیْلاً عَظِیْمًا : بہت زیادہ بھٹکنا ] م ی ل مَالَ ۔ یَمِیْلُ (ض) مَیْلًا : درست سمت چھوڑ کر غلط سمت میں جھکنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) بھٹک جانا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ (2) جھک جانا ‘ ایک طرف کا ہورہنا۔ { فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْھَا کَالْمُعَلَّقَۃِط } (النسائ :129) ” پس تم لوگ ایک کے مت ہو رہو کہ پھر تم چھوڑ دو دوسری بیوی کو لٹکائی ہوئی کی مانند۔ “ (3) کسی پر حملہ کرنا۔ { فَـیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃًط } (النسائ :102) ” تو وہ لوگ حملہ کردیں تم پر ‘ یکبارگی حملہ کرتے ہوئے۔ “
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

[ یُرِیْدُ : چاہتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّخَفِّفَ : وہ ہلکا کرے (دشواری کو) ] [ عَنْـکُمْ : تم سے ] [ وَخُلِقَ : اور پیدا کیا گیا ] [ الْاِنْسَانُ : انسان کو ] [ ضَعِیْفًا : کمزور ]
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے

[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لاَ تَاْکُلُوْآ : تم لوگ مت کھائو ] [ اَمْوَالَــکُمْ : تمہارے مال ] [ بَیْنَـکُمْ : آپس میں ] [ بِالْبَاطِلِ : ناحق ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ تَــکُوْنَ : وہ ہو ] [ تِجَارَۃً : کوئی تجارت ] [ عَنْ تَرَاضٍ : باہمی رضامندی سے ] [ مِّنْکُمْ : تم لوگوں میں ] [ وَلاَ تَقْتُلُوْآ : اور مت قتل کرو ] [ اَنْفُسَکُمْ : اپنوں کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِکُمْ : تم پر ] [ رَحِیْمًا : رحم کرنے والا ] ترکیب : ” تَـکُوْنَ “ کا اسم اس میں شامل ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” اَمْوَالَ “ کے لیے ہے۔ ” تِجَارَۃً “ اس کی خبر ہے۔ ” یَفْعَلْ “ کا مفعول ” ذٰلِکَ “ ہے۔ ” عُدْوَانًا “ اور ” ظُلْمًا “ حال ہیں۔ ” نُدْخِلْ “ کا مفعول ” کُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” مُدْخَلًا “ ظرف ہے اور ” کَرِیْمًا “ اس کی صفت ہے۔ ” نَصِیْبٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لِلرِّجَالِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے

[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّفْعَلْ : کرے گا ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عُدْوَانًا : زیادتی کرتے ہوئے ] [ وَّظُلْمًا : اور ظلم کرتے ہوئے ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ نُصْلِیْہِ : ہم ڈالیں گے اس کو ] [ نَارًا : ایک آگ میں ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ یَسِیْرًا : آسان ]
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے

[ اِنْ : اگر ] [ تَجْتَنِبُوْا : تم بچو ] [ کَبَــآئِـرَ مَا : بڑوں سے اس کے ] [ تُنْہَوْنَ : تم کو منع کیا گیا ] [ عَنْہُ : جس سے ] [ نُـکَفِّرْ : تو ہم دور کردیں گے ] [ عَنْکُمْ : تم سے ] [ سَیِّاٰتِکُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [ وَنُدْخِلْکُمْ : اور ہم داخل کریں گے تم کو ] [ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا : داخل کرنے کی باعزت جگہ میں ]
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

[ وَلاَ تَتَمَنَّوْا : اور تم لوگ تمنا مت کرو ] [ مَا : اس کی ] [ فَضَّلَ : فضیلت دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ بِہٖ : جس سے ] [ بَعْضَکُمْ : تمہارے کسی کو ] [ عَلٰی بَعْضٍ : کسی پر ] [ لِلرِّجَالِ : مردوں کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : ایک حصہ ہے ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ اکْتَسَبُوْا : انہوں نے کمایا ] [ وَلِلنِّسَآئِ : اور عورتوں کے لیے ہے ] [ نَصِیْبٌ : ایک حصہ ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ اکْتَسَبْنَ : انہوں نے کمایا ] [ وَسْئََلُوا : اور تم لوگ مانگو ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ مِنْ فَضْلِہٖ : اس کے فضل میں سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِکُلِّ شَیْئٍ : تمام چیزوں کو ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] نوٹ 1: اردو میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص میرے پیسے کھا گیا ‘ حالانکہ پیسہ کھایا نہیں جاتا۔ دراصل اس سے مراد یہ ہے کہ پیسے پر تصرف حاصل کرلیا یا استعمال کرلیا۔ اسی طرح عربی میں لَا تَاْکُلُوْا کا مطلب ہے کہ تم لوگ تصرف مت کرو یا استعمال مت کرو۔ باطل یعنی ناحق میں وہ تمام طریقے شامل ہیں جو شرعاً ممنوع اور ناجائز ہیں۔ تجارت میں خریدو فروخت کے علاوہ ملازمت و مزدوری اور کرایہ کے معاملات بھی شامل ہیں ۔ (معارف القرآن) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے زیادہ پاک کمائی تاجروں کی کمائی ہے ‘ بشرطیکہ وہ جب بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں ‘ اور جب وعدہ کریں تو وعدہ خلافی نہ کریں ‘ اور جب ان کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کریں ‘ اور جب کوئی سامان خریدیں تو اس سامان کو (بلاوجہ) برا اور خراب نہ بتائیں ‘ اور جب اپنا سامان فروخت کریں تو (خلافِ واقعہ) اس کی تعریف نہ کریں ‘ اور ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو ٹال مٹول نہ کریں اور جب ان کا قرض کسی کے ذمہ ہو تو اس کو تنگ نہ کریں ۔ (منقول از معارف القرآن) نوٹ 2:{ وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ } پچھلے فقرے کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے اور خود ایک مستقل فقرہ بھی۔ اگر پچھلے فقرے کا تتمہ سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانا خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نظام تمدن خراب ہوجاتا ہے اور اس کے برے نتائج سے حرام خور آدمی خود بھی نہیں بچ سکتا ‘ اور اس کی وجہ سے آخرت میں عذاب کا مستحق بن جاتا ہے ۔ اور اگر اسے مستقل فقرہ سمجھا جائے تو اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے کو قتل مت کرو۔ دوسرے یہ کہ خودکشی مت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے جامع الفاظ استعمال کیے ہیں اور ترتیب کلام ایسی رکھی ہے کہ اس سے یہ تینوں مفہوم نکلتے ہیں اور تینوں حق ہیں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ 3: کبیرہ گناہوں سے بچنے میں یہ بھی داخل ہے کہ تمام فرائض و واجبات کو ادا کرے ‘ کیونکہ فرض اور واجب کا ترک کرنا خود ایک کبیرہ گناہ ہے۔ تو حاصل یہ ہوا کہ جو شخص فرائض اور واجبات ادا کرتے ہوئے تمام کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمالِ صالحہ کو صغیرہ گناہوں کا کفارہ کردیں گے۔ وضو کرنے سے ‘ مسجد جاتے ہوئے ہر قدم پر ‘ نماز اور دوسرے اعمالِ صالحہ سے گناہ معاف ہونے کا جو ذکر احادیث میں آتا ہے ‘ ان سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبیرہ گناہ سچی توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ (معارف القرآن) نوٹ 4: جن فضائل کی تمنا کرنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ان کا تعلق ایسی چیزوں سے ہے جن پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے اور جن میں انسان کی کوشش کا کوئی دخل نہیں ہے ‘ مثلاً کسی کا مرد یا عورت ہونا ‘ کسی خاندان میں پیدا ہونا ‘ خوش شکل ہونا ‘ خوش آواز ہونا ‘ وغیرہ۔ یہ تقدیری معاملات ہیں ‘ جبکہ کچھ فضائل انسان کے اختیار میں ہیں ‘ جیسے علمی ‘ عملی اور اخلاقی کمالات حاصل کرنا۔ ان کے لیے اسی آیت میں ارشاد فرمایا کہ مرد اور عورت دونوں کو ان کی کوشش میں سے ایک حصہ ملے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اپنی کم ہمتی اور بےعملی پر پردہ ڈالنے کے لیے تقدیر کا بہانہ بنانا غلط ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے

[ وَلِکُلٍّ : اور سب کے لیے ] [ جَعَلْنَا : ہم نے بنائے ] [ مَوَالِیَ مِمَّا : وارث اس میں جو ] [ تَرَکَ : چھوڑا ] [ الْوَالِدٰنِ : والدین نے ] [ وَالْاَقْرَبُوْنَ : اور قرابت داروں نے ] [ وَالَّذِیْنَ : اور ان کو جن کو ] [ عَقَدَتْ : باندھا ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہاری قسموں نے ] [ فَاٰتُوْہُمْ : تو تم لوگ دو ان کو ] [ نَصِیْبَہُمْ : ان کا حصہ ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر شَہِیْدًا : گواہ ] ترکیب : ” مَوْلٰی “ کی جمع ” مَوَالِی “ ہے۔ ” جَعَلْنَا “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے یہ ” مَوَالِیًا “ تھا ‘ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی تو ” مَوَالِیَ “ استعمال ہوا۔ اس کا مضاف الیہ ” مِمَّا “ ہے۔ ” عَقَدَتْ “ کا مفعول ” الَّذِیْنَ “ ہے اور اس کا فاعل ” اَیْمَانُکُمْ “ ہے۔ ” فَالصّٰلِحٰتُ “ مبتدأ ہے۔ ” قٰنِتٰتٌ“ اور ” حٰفِظٰتٌ“ اس کی خبریں ہیں۔ ” خِفْتُمْ “ کا مفعول مرکب اضافی ” شِقَاقَ بَیْنِھِمَا “ ہے۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے

[ اَلرِّجَالُ : مرد ] [ قَوَّامُوْنَ : ذمہ دار ‘ کفیل ہیں ] [ عَلَی النِّسَآئِ : عورتوں پر ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَضَّلَ : فضیلت دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ بَعْضَہُمْ : ان کے کسی کو ] [ عَلٰی بَعْضٍ : کسی پر ] [ وَّبِمَآ : اور بسبب اس کے جو ] [ اَنْفَقُوْا : انہوں نے خرچ کیا ] [ مِنْ اَمْوَالِہِمْ : اپنے مال میں سے ] [ فَالصّٰلِحٰتُ : پس نیک عورتیں ] [ قٰـنِتٰتٌ : فرمانبرداری کرنے والیاں ہیں ] [ حٰفِظٰتٌ : حفاظت کرنے والیاں ہیں ] [ لِّـلْغَـیْبِ : پیٹھ پیچھے ] [ بِمَا : اس کی جس کی ] [ حَفِظَ : حفاظت کی (یعنی چاہی) ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَالّٰتِیْ : اور جن عورتوں سے ] [ تَخَافُوْنَ : تم لوگ خوف کرتے ہو ] [ نُشُوْزَہُنَّ : ان کی سرکشی کا ] [ فَعِظُوْہُنَّ : تو نصیحت کرو ان کو ] [ وَاہْجُرُوْہُنَّ : اور قطع تعلق کرو ان سے ] [ فِی الْْمَضَاجِعِ : بستروں میں ] [ وَاضْرِبُوْہُنَّ : اور مارو ان کو ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ اَطَعْنَـکُمْ : وہ اطاعت کریں تمہاری ] [ فَلاَ تَـبْغُوْا : تو مت تلاش کرو ] [ عَلَیْہِنَّ : ان پر ] [ سَبِیْلاً : کوئی الزام ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلِیًّا : بلند ] [ کَبِیْرًا : بڑا ]
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ] [ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا : ان دونوں کے درمیان باہمی مخالفت کا ] [ فَابْعَثُوْا : تو کھڑا کرو ] [ حَکَمًا : ایک منصف ] [ مِّنْ اَہْلِہٖ : اس (مرد) کے گھر والوں سے ] [ وَحَکَمًا : اور ایک منصف ] [ مِّنْ اَہْلِہَا : اس (عورت) کے گھر والوں سے ] [ اِنْ یُّرِیْدَآ : اگر وہ دونوں ارادہ کریں گے ] [ اِصْلاَحًا : اصلاح کرنے کا ] [ یُّوَفِّقِ : تو مطابقت پیدا کرے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بَیْنَہُمَا : ان کے درمیان ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ خَبِیْرًا : باخبر ] وق وَفَقَ ۔ یَفَقُ (ح) وَفْقًا : کسی چیز کا کسی کے ہم آہنگ ہونا ‘ مطابق ہونا۔ اَوْفَقَ (مفاعلہ) وِفَاقًا : کسی کو کسی کے مطابق پانا ۔ { جَزَآئً وِّفَاقًا ۔ }(النبائ)” بدلہ ہوتے ہوئے مطابق۔ “ وَفَّقَ (تفعیل) تَوْفِیْقًا : کسی کو کسی کے ہم آہنگ یا مطابق کرنا ‘ ہم آہنگی دینا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ نوٹ : عرب میں رواج تھا کہ کچھ لوگ آپس میں باپ بیٹے اور بھائی بھائی کے رشتے قائم کرلیتے تھے۔ اسی کے تحت رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔ اس رواج میں یہ بھی شامل تھا کہ منہ بولے رشتہ دار بھی حقیقی رشتہ داروں کے ساتھ ترکہ میں حصہ پاتے تھے۔ آیت 33 میں اسی کی ہدایت ہے کہ منہ بولے رشتہ داروں کو بھی ان کا حصہ دو ۔ بعد میں سورة الانفال کی آیت 75 نازل ہونے سے یہ حکم منسوخ ہوگیا ‘ کیونکہ یہ ایک عبوری حکم تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عبوری احکام کی حکمت اور ان کے اختتام کی وضاحت البقرۃ :160 کے نوٹ 1 میں کی جا چکی ہے۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے

[ وَاعْبُدُوا : اور تم بندگی کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَلاَ تُشْرِکُوْا : اور شریک مت کرو ] [ بِہٖ : اس کے ساتھ ] [ شَیْئًا : کچھ بھی ] [ وَّبِالْوَالِدَیْنِ : اور (حسن سلوک کرو) والدین سے ] [ اِحْسَانًا : جیسا حسن سلوک کا حق ہے ] [ وَّبِذِی الْقُرْبٰی : اور قرابت داروں سے ] [ وَالْیَتٰمٰی : اور یتیموں سے ] [ وَالْمَسٰکِیْنِ : اور مسکینوں سے ] [ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی : اور رشتہ دار پڑوسی سے ] [ وَالْجَارِ الْجُنُبِ : اور دور والے پڑوسی سے ] [ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ : اور پہلو کے ساتھ رہنے والے سے ] [ وَابْنِ السَّبِیْلِ : اور مسافروں سے ] [ وَمَا : اور اس سے جس کے ] [ مَلَکَتْ : مالک ہوئے ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ کَانَ : ہو ] [ مُخْتَالاً : تکبر کرنے والا ] [ فَخُوْرَا : اترانے والا ] ج و ر جَارَ ۔ یَجُوْرُ (ن) جَوْرًا : (1) کسی چیز سے ہٹ جانا ‘ بھٹک جانا ‘ گمراہ ہونا۔ (2) کسی چیز کے قریب ہونا ‘ پڑوسی ہونا ‘ حمایتی ہونا۔ جَائِرٌ (اسم الفاعل) : بھٹکنے والا ۔ { وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْھَا جَآئِرٌط } (النحل :9) ” اور اللہ پر یعنی اس تک معتدل راہ ہے اور کوئی اس سے بھٹکنے والا ہے۔ “ جَارٌ (اسم صفت) : پڑوسی ‘ حمایتی۔ { لَا غَالِبَ لَـکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّــکُمْج } (الانفال :48) ” کوئی غالب آنے والا نہیں تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں تمہارا حمایتی ہوں۔ “ اَجَارَ (افعال) اِجَارَۃً : (1) کسی کو کسی سے دور کرنا ‘ بچانا۔ (2) قریب کرنا ‘ پناہ دینا۔ { فَمَنْ یُّجِیْرُ الْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ } (الملک) ” تو کون بچائے گا کافروں کو ایک دردناک عذاب سے ! “ جَاوَرَ (مفاعلہ) جِوَارًا : کسی کے پڑوس میں رہنا۔ { ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَا اِلاَّ قَلِیْلًا ۔ } (الاحزاب) ” پھر وہ لوگ تمہارے پاس نہیں رہیں گے اس میں ) یعنی مدینہ میں ( مگر تھوڑے دن۔ “ تَجَاوَرَ (تفاعل) تَجَاوُرًا : ایک دوسرے کے قریب ہونا ‘ متصل ہونا۔ مُتَجَاوِرٌ (اسم الفاعل) : ایک دوسرے کے قریب ہونے والا۔ { وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ} (الرعد :4) ” اور زمین میں ایک دوسرے کے قریب قطعات ہیں۔ “ اِسْتَجَارَ (استفعال) اِسْتِجَارَۃً : پناہ مانگنا۔ { وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗط } (التوبۃ :6) ” اور اگر مشرکوں میں سے کوئی ایک پناہ مانگے تم سے تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ سنے اللہ کے کلام کو ‘ پھر اس کو پہنچا دو اس کے امن کی جگہ میں ۔ “ خ ر فَخَرَ یَفْخُرُ (ن) فَخْرًا : فخر کرنا۔ فَخُوْرٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : بےانتہا فخر کرنے والا ‘ اترانے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔ فَخَّارٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بہت فخر کرنے والا۔ پھر استعارۃً پانی رکھنے کے مٹکے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ { خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ } (الرحمٰن) ” اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکتی مٹی سے جیسے پانی کا مٹکا۔ “ تَفَاخَرَ (تفاعل) تَفَاخُرًا : ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ { وَتَفَاخُرٌم بَیْنَکُمْ } (الحدید :20) ” اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ “ ترکیب : ” اِحْسَانًا “ فعل محذوف ” اَحْسِنُوْا “ کا مفعول مطلق ہے ‘ جبکہ ” بِالْوَالِدَیْنِ “ اور ” بِذِی الْقُرْبٰی “ سے ” مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُـکُمْ “ تک متعلق فعل ہیں۔ ” یَکْتُمُوْنَ “ کا مفعول ” مَا “ ہے۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے

[ الَّذِیْنَ : وہ (لوگ ) جو ] [ یَبْخَلُوْنَ : کنجوسی کرتے ہیں ] [ وَیَاْمُرُوْنَ : اور ترغیب دیتے ہیں ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ بِالْـبُخْلِ : کنجوسی کی ] [ وَیَکْتُمُوْنَ : اور چھپاتے ہیں ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتٰٹہُمُ : دیا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَذَابًا مُّہِیْنًا : ایک رسوا کرنے والا عذاب ] نوٹ : ان آیات میں اصل ہدایت حقوق العباد کی ہے ‘ لیکن بات کی ابتدا حقوق اللہ سے کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برادری یا سوسائٹی کے دبائو اور حکومت کے قوانین سے بچنے کی کوئی راہ انسان تلاش کر ہی لیتا ہے۔ کسی کو دوسروں کا حق ادا کرنے کے لیے حقیقتاً اگر کوئی چیز آمادہ کرسکتی ہے تو وہ صرف اللہ کے سامنے جوابدہی کا خوف ہے۔ اس لیے دوسروں کا حق ادا کرنے کی تاکید سے پہلے اس احساس کو اجاگر کیا گیا ہے۔ جس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوگیا ‘ اسے سب سے پہلے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کن لوگوں کا ہم پر حق بنتا ہے ‘ جو ہمیں ادا کرنا ہے۔ آیت میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس ضمن میں وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِکے الفاظ غور طلب ہیں۔ اس کے لفظی معنی ہیں ‘ ہم پہلو ساتھی یعنی ہم نشین۔ یہ بہت ہمہ گیر لفظ ہے۔ اس میں بیوی ‘ بچے ‘ دیگر اہل خانہ اور قریبی پڑوسی کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن سے کاروبار ‘ ملازمت ‘ سفر اور بازار میں خریدو فروخت کے دوران ہمیں واسطہ پڑتا ہے۔ اسی طرح آج کل غلام نہیں ہوتے لیکن ان کی جگہ گھریلو ملازمین کے حقوق آجاتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے تمام لوگوں کے ہم پر کیا حقوق ہیں ؟ اس کے لیے نبی کریم ﷺ ایک اصولی راہنمائی دے گئے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ اس اصول کے تحت ہر شخص آسانی سے معلوم کرسکتا ہے کہ دوسروں کے اس پر کیا حقوق ہیں۔ البتہ چند تعلقات کے کچھ پہلوئوں کی اس اصول سے پوری طرح وضاحت نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شوہر بیوی بن کر نہیں سوچ سکتا کہ وہ اپنے لیے کیا پسند کرتی ہے ‘ نہ ہی بیوی شوہر بن کر سوچ سکتی ہے۔ ایک بچہ جب تک خود باپ نہ بن جائے ‘ اس وقت تک وہ نہیں سوچ سکتا کہ ایک والد کیا پسند کرتا ہے۔ تعلقاتِ باہمی کے ایسے پہلوئوں کی وضاحت قرآن مجید اور احادیث میں کردی گئی ہے۔ اللہ کے بعد بندوں کا حق آتا ہے ‘ لیکن ہماری آخرت کے بننے یا بگڑنے کے لحاظ سے بندوں کا حق زیادہ خطرناک ہے ‘ کیونکہ اللہ کے حقوق میں کوتاہی سچی توبہ کرنے سے معاف ہوجاتی ہے۔ حد یہ ہے کہ بندہ اگر شرک سے بھی سچی توبہ کرلے تو وہ بھی معاف ہوجائے گا لیکن کسی بندے کا حق اللہ بھی معاف نہیں کرے گا جب تک بندہ نہ معاف کرے اور بندوں سے معاف کرانا بھی صرف اس دنیا میں ممکن ہے ‘ آخرت میں کوئی کسی کو معاف نہیں کرے گا۔ بندوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے ‘ اس لیے اس کے متعلق ہدایات زیادہ ہیں۔ والدین اگر مشرک ہوں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں ماننی ہے ‘ لیکن اس کے باوجود ان سے بدتمیزی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ان کی خدمت میں کوئی کمی کرسکتے ہیں (لقمان :15) ۔ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ اس کی ناک خاک آلود ہو جس نے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو بوڑھا پایا اور جنتی نہ ہوگیا (مسلم) ۔ آپ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جو چاہتا ہے کہ اس کے رزق اور عمر میں برکت ہو ‘ اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے (بخاری و مسلم) ۔ والدین کی فرمانبرداری یہاں تک ہے کہ اگر آپ نفل نماز پڑھ رہے ہیں اور ان میں سے کوئی آپ کو آواز دیتا ہے تو آپ نیت توڑ کر جائیں ‘ ان کی بات سنیں ‘ کوئی کام ہو تو اسے کر کے پھر نماز پڑھیں۔ ہم لوگوں میں اکثریت کا تاثر یہ ہوتا ہے کہ ہم تو لوگوں کے حقوق کا خیال کرتے ہیں اور حتی الامکان ادا بھی کرتے ہیں لیکن دوسرے لوگ اس کا خیال نہیں کرتے ۔ نوٹ کرلیں کہ ویسے تو صبر کرنا اچھی بات ہے ‘ لیکن اس مرحلے پر خاموشی اختیار کرنا درست نہیں ہے ‘ کیونکہ آپ دوسروں کی آخرت کی خرابی کو گوارا کر رہے ہیں حالانکہ آپ کو اپنی آخرت کی خرابی گوارا نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ہم کیا کریں ؟ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ تم لوگ دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت سے ‘ یعنی مناسب اور موزوں موقع و محل دیکھ کر ‘ اور اچھی نصیحت سے ‘ یعنی انسان کی ذہنی سطح کے مطابق دل لگتی بات کہہ کر ‘ اور اگر کبھی بحث و مباحثہ کرنا ہی پڑجائے تو ان لوگوں سے مباحثہ کرو خوبصورت انداز میں ‘ کیونکہ غصہ کرنے سے اور دوسروں کو برا بھلا کہنے سے تمہاری بات کی وقعت ختم ہوجاتی ہے (النحل :125) ۔ اس لیے ادائیگی حقوق میں اگر کسی کی کوتاہی ہمارے علم میں آئے تو اسے آگاہ کردینا چاہیے۔ معاشرے میں یہ روش عام ہوگئی تو کوئی ہماری کوتاہی سے ہم کو آگاہ کردے گا۔ اگر سب نے خاموشی اختیار کرنے کی روش اپنا لی تو حق تلفیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا اور معاشرے کا حسن جاتا رہے گا۔ دوسروں کو ان کی کوتاہی سے آگاہ کرنے کے لیے جس احسن طریقے کی مذکورہ آیت میں ہدایت ہے ‘ اس کی عملی تفسیر کی جانب ایک حدیث سے راہنمائی ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” مسلمان ‘ مسلمان کا آئینہ ہے “۔ اب غور کریں کہ آئینہ کیا کرتا ہے۔ آپ کے سر یا چہرے پر ‘ جہاں آپ کی نظر نہیں جاتی ‘ اگر کوئی ناپسندیدہ چیز لگی ہوئی ہے ‘ تو آئینہ آپ کو آگاہ کردیتا ہے۔ آئینہ کا دوسرا کام یہ ہے کہ آپ کی ناپسندیدہ چیز سے وہ نہ صرف آپ کو آگاہ کرتا ہے ‘ بلکہ آپ کے علاوہ کسی اور کو وہ کبھی نہیں بتاتا۔ آئینہ کا تیسراکام یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی چیز کو اگر آپ خود سے دور نہیں کرتے یعنی آئینہ کا مشورہ قبول نہیں کرتے تو وہ آپ سے ناراض نہیں ہوتا ‘ نہ وہ کسی سے آپ کی شکایت کرتا ہے اور نہ ہی آپ سے قطع تعلق کرتا ہے بلکہ اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ احسن طریقے سے دوسروں کی اصلاح کرنے کے یہ تین اصول ہیں جو رسول اللہ ﷺ ہم کو دے گئے ہیں۔ جتنا زیادہ ہم اس پر عمل کریں گے ‘ اتنا ہی معاشرے کے حسن میں اضافہ ہوگا۔ دوسروں کی اصلاح اسی کو زیب دیتی ہے جس نے خود اپنی اصلاح کرلی ہو۔ اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اپنے رویہ کو دوسروں کے رویہ کا تابع مت بنائو ‘ جو تمہارا حق مارتا ہے تم اس کا حق ادا کرو ‘ کوئی تم سے بدسلوکی کرتا ہے تو تم اس کے ساتھ ظلم مت کرو ۔ (تفہیم القرآن ‘ الرعد :22)