Ayah 3:2[ اللّٰہُ : اللہ ] [لَآ اِلٰــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ہُوَ : وہ ہے ] [الْحَیُّ : جو (حقیقتاً ) زندہ ہے ] [الْقَیُّوْمُ : جو (حقیقی) نگران و کفیل ہے ]
Ayah 3:3[نَزَّلَ : اس نے بتدریج اتارا ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [الْکِتٰبَ : اس کتاب کو ] [بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [مُصَدِّقًـا : تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] [لِّمَا : اس کی جو ] [بَیْنَ یَدَیْہِ : اس سے پہلے ہے ] [وَاَنْزَلَ : اور اس نے اتارا ] [التَّوْرٰٹۃَ : تورات کو ] [وَالْاِنْجِیْلَ : اور انجیل کو ]
Ayah 3:4[مِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [ہُدًی : ہدایت ہوتے ہوئے ] [لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [وَاَنْزَلَ : اور (پھر) اس نے اتارا ] [الْفُرْقَانَ : خوب فرق واضح کرنے والے کو ] [اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : انکار کیا ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کا ] [لَہُمْ : ان کے لیے ہے ] [عَذَابٌ شَدِیْدٌ : ایک سخت عذاب ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ذُوانْتِقَامٍ : بدلہ لینے والا ہے
ن ق م
نَقَمَ (ض) نَقْمًا : (1) کسی چیز کی کوئی چیز بری لگنا۔ (2) سزا دینا۔ { وَمَا نَقَمُوْا اِلاَّ اَنْ اَغْنٰـٹھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ } (التوبۃ :74)” اور ان کو برا نہیں لگا سوائے اس کے کہ ان کو مال ‘ دار کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے “۔
اِنْـتَقَمَ (افتعال) اِنْتِقَامًا : اہتمام سے سزا دینا ‘ بدلہ لینا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
مُنْتَقِمٌ (اسم الفاعل) : بدلہ لینے والا۔ { اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ ۔ } (السجدۃ) ” یقینا ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں۔ “
ترکیب : ” مُصَدِّقًا “ حال ہے ” اَلْکِتٰبَ “ کا اور ” یَدَیْہِ “ کی ضمیر بھی ” اَلْکِتٰبَ “ کے لیے ہے جس پر لام تعریف ہے۔ ” ھُدًی “ حال ہے ” اَلتَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ‘ ‘ کا۔ ” وَاللّٰہُ “ مبتدأ ہے۔ ” عَزِیْزٌ“ اس کی خبر اوّل ہے اور ” ذُو انْتِقَامٍ “ خبر ثانی ہے۔
Ayah 3:5[اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [لاَ یَخْفٰی : پوشیدہ نہیں ہوتی ] [عَلَیْہِ : اس سے ] [شَیْئٌ : کوئی چیز ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَلاَ فِی السَّمَآئِ : اور نہ ہی آسمان میں ]
Ayah 3:6[ہُوَ الَّذِیْ : وہ ہے جو ] [یُصَوِّرُکُمْ : شکل دیتا ہے تم لوگوں کو ] [فِی الْاَرْحَامِ : رحموں میں ] [کَیْفَ : جیسی ] [یَشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [لَآ اِلٰــہَ : کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ہُوَ : وہ ہے ] [الْعَزِیْزُ : جو بالادست ہے ] [الْحَکِیْمُ : جو حکمت والا ہے
Ayah 3:7[ہُوَ الَّذِیْ : وہ ہے جس نے ] [اَنْزَلَ : اتاری ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [الْکِتٰبَ : یہ کتاب ] [مِنْہُ : اس میں ہیں ] [اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ : پختہ کی ہوئی (یعنی واضح) آیات ] [ہُنَّ : یہ سب ] [اُمُّ الْکِتٰبِ : اس کتاب کی اصل ہیں ] [وَاُخَرُ : اور دوسری ] [مُتَشٰبِہٰتٌ : باہم ملنے جلنے والی (یعنی غیر واضح ) ہیں ] [فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ جو ہیں ] [فِیْ قُلُوْبِہِمْ : جن کے دلوں میں ] [زَیْغٌ : کجی ہے ] [فَـیَتَّبِعُوْنَ : تو وہ لوگ پیچھا کرتے ہیں ] [مَا : اس کا جو ] [تَشَابَہَ : باہم ملتا جلتا (یعنی غیر واضح) ہوا ] [مِنْہُ : اس میں سے ] [ابْتِغَـآئَ الْفِتْنَۃِ : آزمائش کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَابْتِغَـآئَ تَاْوِیْلِہٖ : اور اس کی تعبیر کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَمَا یَعْلَمُ : اور کوئی نہیں جانتا ] [تَاْوِیْلَہٗ : اس کی تعبیر کو ] [اِلاَّ : سوائے
اللّٰہُ : اللہ کے ] [وَالرّٰسِخُوْنَ : اور جم جانے والے ] [فِی الْْعِلْمِ : علم میں ] [یَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [بِہٖ : اس پر ] [کُلٌّ : سب (کا سب) ] [مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا : ہمارے رب کے پاس سے (آیا) ہے ] [وَمَا یَذَّکَّرُ : اور نصیحت نہیں حاصل کرتے ] [اِلَّآ : مگر ] [اُولُوا الْاَلْبَابِ : تعصبات سے پاک عقل والے ]
ر س خ
رَسَخَ (ن) رُسُوْخًا : اپنی جگہ گڑ جانا ‘ جم جانا۔
رَاسِخٌ (اسم الفاعل) : گڑ جانے والا ‘ جم جانے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ز ی غ
زَاغَ (ض) زَیْغًا : کسی چیز کی سیدھ یعنی صحیح سمت سے کسی ایک طرف مائل ہوجانا یا جھک جانا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) ٹیڑھا ہونا۔ (2) بہک جانا۔ { وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ } (الاحزاب :10) ” اور جب کج ہوئیں (یعنی پتھرا گئیں) آنکھیں۔ “{ اَمْ زَاغَتْ عَنْھُمُ الْاَبْصَارُ ۔ } (صٓ) ” یا بہک گئیں ان سے آنکھیں۔ “
زَیْغٌ (اسم ذات) : ٹیڑھ ‘ کجی۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَزَاغَ (افعال) اِزَاغَۃً : ٹیڑھا کرنا ‘ بہکانا۔ { فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْط } (الصّف :5) ” پھر جب وہ لوگ بہکے تو ٹیڑھا کیا اللہ نے ان کے دلوں کو۔ “
ترکیب : ” اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” مِنْہُ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔” ھُنَّ “ مبتدأ ہے اور یہ ضمیر ” اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ“ کے لیے ہے۔ ” اُمُّ الْکِتٰبِ “ اس کی خبر ہے۔ ” اُمُّ “ اسم جنس کے طور پر آیا ہے اس لیے یہ واحد لفظ جمع (ھُنَّ ) کی خبر دے رہا ہے۔” اُخَرُ “ جمع ہے ” اُخْرٰی “ کی اور مبتدأ ہے۔ ” مُتَشٰبِھٰتٌ“ اس کی خبر ہے۔ ” اِبْتِغَائَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” مَا تَشَابَہَ مِنْہُ “ میں ” مِنْہُ “ کی ضمیر ” الْکِتٰبَ “ کے لیے ہے۔ اگر ” اٰیٰت “ کے لیے ہوتی تو ” مِنْھَا “ آتا۔
نوٹ : محکم آیات سے مراد وہ آیات ہیں جن کے مفہوم میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ متشابہات وہ آیات ہیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے۔ قرآن مجید میں متشابہات کو جگہ دینے کی کیا وجہ ہے ‘ اس کو سمجھ لیں۔
اس کائنات میں بیشمار حقائق ایسے ہیں جو ہمارے حواس خمسہ کے دائرے کے باہر ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو نہ ہم نے کبھی دیکھا ‘ نہ سنا ‘ نہ سونگھا اور نہ ہی کبھی چھوا۔ اس وجہ سے ان چیزوں کے لیے کسی بھی انسانی زبان میں ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں جن کو استعمال کرنے سے ان کا حقیقی تصور ہمارے ذہن میں واضح ہو سکے۔ دوسری طرف انسانیت کی فلاح و بہبود کا تقاضا ہے کہ ایسے حقائق کے متعلق کم از کم ضروری معلومات انسان کو فراہم کی جائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو اصل حقیقت سے قریب تر مشابہت رکھنے والی معلوم چیزوں کے لیے انسانی زبان میں رائج ہیں۔
Ayah 3:8[رَبَّـنَا : (اور وہ لوگ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ ] [لاَ تُزِغْ : تو ٹیڑھا مت کر ] [قُلُوْبَنَا : ہمارے دلوں کو ] [بَعْدَ اِذْ : اس کے بعد کہ جب ] [ہَدَیْتَنَا : تو نے ہدایت دی ہم کو ] [وَ : اور ] [ہَبْ : تو عطا کر ] [لَـنَا : ہم کو ] [مِنْ لَّدُنْکَ : اپنے خزانے سے ] [رَحْمَۃً : رحمت ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [اَنْتَ الْوَہَّابُ : ہی بےانتہا عطا کرنے والا ہے ]
ل د ن
لَدُنَ (ک) لَدَانَۃً : نرم ہونا۔
لَدُنْ (یہ ظرفِ زمان اور ظرفِ مکان ہے) : (1) کسی کام کی ابتداء کا وقت۔ (2) کسی کے خزانے میں ‘ کسی کے پاس۔ آیت زیر مطالعہ۔
و ھـ ب
وَھَبَ (ف) وَھْبًا اور ھِبَۃً : کسی استحقاق یا معاوضہ کے بغیر دینا ‘ بخش دینا ‘ عطا کرنا۔ { وَوَھَبْنَا لَـہٗ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط } (الانعام :84) ” اور ہم نے عطا کیا ان کو اسحٰق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ۔ “
ھَبْ (فعل امر) : تو عطا کر۔ آیت زیر مطالعہ۔
وَھَّابٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بہت زیادہ اور بار بار عطا کرنے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” رَبَّـنَا “ گزشتہ آیت میں ” یَقُوْلُوْنَ “ پر عطف ہے۔ اس لیے اس سے پہلے ” وَیَقُوْلُوْنَ “ محذوف مانا جائے گا جس کی ضمیر فاعلی ” ھُمْ ‘ اَلرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ “ کے لیے ہے۔ ” اَلْوَھَّابُ “ سے پہلے ” اَنْتَ “ ضمیر فاصل ہے۔ ” لِیَوْمٍ “ نکرہ مخصوصہ ہے۔
Ayah 3:9[رَبَّـنَـآ : (اور وہ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ ] [اِنَّکَ : یقینا تو ] [جَامِعُ النَّاسِ : لوگوں کو جمع کرنے والا ہے ] [لِیَوْمٍ : ایک ایسے دن کے لیے ] [لاَّ رَیْبَ : کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] [فِیْہِ : جس میں ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [لاَ یُخْلِفُ : خلاف نہیں کرتا ] [الْمِیْعَادَ : وعدے کے ]
Ayah 3:10[اِنَّ الَّذِیْنَ : یقینا وہ لوگ جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [لَنْ تُغْنِیَ : ہرگز کفایت نہ کریں گے ] [عَنْہُمْ : ان کو ] [اَمْوَالُہُمْ : ان کے مال ] [وَلَآ اَوْلاَدُہُمْ : اور نہ ہی ان کی اولادیں ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [شَیْئًا : کچھ بھی ] [وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [ہُمْ : وہی ] [وَقُوْدُ النَّارِ : آگ کا ایندھن ہیں ]
Ayah 3:11[کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں کی عادت کے مطابق ] [وَالَّذِیْنَ : اور ان لوگوں کی جو ] [مِنْ قَبْلِہِمْ : ان سے پہلے تھے ] [کَذَّبُوْا : (کہ) انہوں نے جھٹلایا ] [بِاٰیٰـتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [فَاَخَذَ : تو پکڑا ] [ہُمُ : ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [بِذُنُوْبِہِمْ : ان کے گناہوں کے سبب سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [شَدِیْدُ الْعِقَابِ : سخت گرفت کرنے والا ہے ]
د ء ب
دَأَبَ (ف) دَأْبًا : کسی کام کو لگاتار کرنا ‘ کسی راستے پر مسلسل چلنا۔
دَأْبٌ (اسم ذات بھی ہے) : عادت ‘ دستور۔ آیت زیر مطالعہ۔
دَأْبٌ : لگاتار ‘ مسلسل۔{ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًاج } (یوسف :47) ” تم لوگ کھیتی کرو گے سات سال لگاتار۔ “
دَائِبٌ (اسم الفاعل) : لگاتار کرنے والا ‘ مسلسل چلنے والا۔ { وَسَخَّرَلَـکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِج } (ابرٰھیم :33) ” اور اس نے مسخر کیا تمہارے لیے سورج کو اور چاند کو مسلسل چلنے والا ہوتے ہوئے۔ “
ذ ن ب
ذَنَبَ (ض۔ ن) ذَنْبًا : کسی کی دُم پر پیر رکھنا ‘ ایسا کام کرنا جس کا برا نتیجہ نکلے۔
ذَنْبٌ ج ذُنُوْبٌ : جرم ‘ گناہ۔ { غَافِرِ الذَّنْبِم وَقَابِلِ التَّوْبِ } (المؤمن :3) ” گناہ کو بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا۔ “
ذَنُوْبٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : بھیانک انجام ‘ برا نتیجہ۔ { فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا } (الذٰرٰیت :59) ” پس یقینا ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک بھیانک انجام ہے “
ترکیب : ” لَنْ تُغْنِیَ “ کا فاعل ” اَمْوَالُـھُمْ “ اور ” اَوْلَادُھُمْ “ ہیں۔ یہ جمع مکسر ہیں اس لیے فعل واحد مونث آیا ہے۔ ” اُولٰٓئِکَ “ کے بعد ” ھُمْ “ ضمیر فاصل ہے۔ ” کَدَاْبِ “ سے ” بِاٰیٰتِنَا “ تک ” کَفَرُوْا “ کا بدل یعنی وضاحت ہے۔ اسی طرح ” کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا “ پورا جملہ ” کَدَاْبِ “ کا بدل ہے۔ ” بِذُنُوْبِھِمْ “ کا ” بَا “ سببیہ ہے۔
Ayah 3:12[قُلْ : آپ ‘ کہہ دیجیے ] [لِّلَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [سَتُغْلَبُوْنَ : تم لوگ مغلوب ہو گے ] [وَتُحْشَرُوْنَ : اور تم لوگ اکٹھا کیا جائوگے ] [اِلٰی جَہَنَّمَ : جہنم کی طرف ] [وَبِئْسَ الْمِہَادُ : اور کتنا برا ٹھکانہ ہے (وہ) ]
Ayah 3:13[قَدْ کَانَ : ہوچکی ہے ] [لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [اٰیَۃٌ : ایک نشانی ] [فِیْ فِئَتَیْنِ : دو جماعتوں میں جو ] [الْـتَقَتَا : آمنے سامنے ہوئیں ] [فِئَۃٌ : ایک جماعت ] [تُـقَاتِلُ : قتال کرتی ہے ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [وَاُخْرٰی : اور دوسری ] [کَافِرَۃٌ : کافر ہے ] [یَّرَوْنَہُمْ : وہ لوگ سمجھتے ہیں ان کو ] [مِّثْلَیْہِمْ : اپنے کی دو مثالیں (یعنی دوگنا) ] [رَاْیَ الْعَیْنِ : آنکھوں کا دیکھنا (یعنی آنکھوں دیکھے) ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُؤَیِّدُ : تائید کرتا ہے ] [بِنَصْرِہٖ : اپنی مدد سے ] [مَنْ : اس کی جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ : بیشک اس میں ] [لَعِبْرَۃً : ایک عبرت ہے ] [لِّاُولِی الْاَبْصَارِ : بصیرت والوں کے لیے ]
ع ب ر
عَبَرَ (ن) عَبْرًا : کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جانا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) کسی وادی یا دریا کو پار کرنا ‘ عبور کرنا۔ (2) کسی واقعہ کو دیکھ کر ان دیکھے نتیجہ تک پہنچ جانا ‘ نصیحت حاصل کرنا ‘ عبرت پکڑنا۔ (3) خواب سن کر اس کی حقیقت تک پہنچ جانا ‘ تعبیر بتانا۔ { اِنْ کُنْتُمْ لِلرُّئْ یَا تَعْبُرُوْنَ ۔ } (یوسف) ” اگر تم لوگ خواب کی تعبیر بتاتے ہو۔ “
عِبْرَۃٌ (اسم ذات) : نصیحت ‘ عبرت۔ آیت زیر مطالعہ۔
عَبَرَ (ف) عَبْرًا : کسی جگہ سے گزرجانا ‘ سفر کرنا۔
عَابِرٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : گزرنے والا ‘ سفر کرنے والا۔ { اِلاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ } (النسائ :43) ” سوائے اس کے کہ کسی راستے کا گزرنے والا۔ “
اِعْتَـبَرَ (افتعال) اِعْتِبَارًا : اہتمام سے عبرت پکڑنا۔
اِعْتَـبِرْ (فعل امر) : تو عبرت پکڑ۔ { فَاعْتَبِرُوْا یٰـاُولِی الْاَبْصَارِ ۔ } (الحشر) ” پس تم لوگ عبرت پکڑو ‘ اے بصیرت والو۔ “
ترکیب : ” کَانَ “ کا اسم ” اٰیَۃٌ“ مؤنث غیرحقیقی ہے اس لیے ” کَانَتْ “ کے بجائے ” کَانَ “ بھی جائز ہے۔ ” فِئَتَـیْنِ “ نکرہ موصوفہ ہے اور ” اِلْتَقَتَا “ اس کی صفت ہے۔ اس کا مادہ ل ق ی ہے اور یہ باب افتعال کے ماضی کا تثنیہ مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ ” یَرَوْنَ “ کا فاعل اس میں شامل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جبکہ اس کے آگے ” ھُمْ “ ضمیر مفعولی ہے۔ ان کے مراجع کے متعدد امکانات ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ ضمیر فاعلی کافروں کے لیے اور ضمیر مفعولی مسلمانوں کے لیے مانی جائے۔
” مِثْلٌ“ کا تثنیہ ” مِثْلَانِ ‘ یَرَوْنَ “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہو کر ” مِثْلَیْنِ “ تھا۔ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے نون گراتو ” مِثْلَیْھِمْ “ آیا۔ ” رَاْیَ الْعَیْنِ “ مرکب اضافی ہے اور مفعول مطلق ہے ‘ اس لیے ” رَاْیـًا “ آیا پھر مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی تو ” رَاْیَ “ استعمال ہوا۔ ” لَعِبْرَۃً “ اِنَّ “ کا اسم ہے۔
Ayah 3:14[ زُیِّنَ : سجایا گیا ] [لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [حُبُّ الشَّہَوٰتِ : آرزئوں کی محبت کو ] [مِنَ النِّسَآئِ : جیسے عورتوں کی ] [وَالْبَنِیْنَ : اور بیٹوں کی ] [وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ : اور جمع کیے ہوئے ڈھیروں (کی محبت کو) ] [مِنَ الذَّہَبِ : جیسے سونے کی ] [وَالْفِضَّۃِ : اور چاندی کی ] [وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ : اور نشان زدہ گھوڑوں کی ] [وَالْاَنْعَامِ : اور مویشیوں کی ] [وَالْحَرْثِ : اور کھیتی کی ] [ذٰلِکَ : یہ ] [مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : دنیوی زندگی کا سامان ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عِنْدَہٗ : اس کے پاس ہی ] [حُسْنُ الْمَاٰبِ : اچھا ٹھکانہ ہے ]
ش ھـ و
شَھَا (ن) شَھْوَۃً : دل میں کسی چیز کو حاصل کرنے کی طلب پیدا ہونا ‘ آرزو کرنا ‘ خواہش کرنا ‘ چاہنا۔
شَھْوَۃٌ ج شَھَوٰتٌ (اسم ذات بھی ہے) : آرزو ‘ خواہش ‘ چاہت۔ { اِنَّـکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً } (الاعراف :81) ” بیشک تم لوگ آتے ہو مردوں کے پاس خواہش کرتے ہوئے۔ “
اِشْتَھَا (افتعال) اِشْتِھَائً : اہتمام سے خواہش کرنا ‘ چاہنا۔ { وَلَـکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَھِیْ اَنْفُسُکُمْ } (حٰم السجدۃ :31) ” اور تمہارے لیے ہے اس میں وہ ‘ جو تمہارا جی چاہے گا۔ “
ق ن ط ر
قَنْطَرَ (رباعی) قَنْطَرَۃً : کوئی چیز بہت زیادہ مقدار میں جمع کرنا۔
مُقَنْطَرَۃٌ (اسم المفعول) : جمع کیا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ۔
قِنْطَارٌ ج قَنَاطِیْرُ : ایک وزن کا نام ہے جس کی مقدار بدلتی رہتی ہے۔ اصطلاحاً کسی چیز کے ڈھیر کے لیے آتا ہے۔ { اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَـیْکَج } (آل عمران :75) ” اگر تو بھروسہ کرے اس پر کسی ڈھیر کے بارے میں تو وہ لوٹا دے گا اس کو تیری طرف۔ “
ض ض
فَضَّ (ن) فَضًّا : کسی چیز کو توڑ کر منتشر کرنا۔
فِضَّۃٌ (اسم ذات) : (1) ایسی زمین جہاں پتھر ایک دوسرے پر بکھرے ہوں۔ (2) چاندی۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِنْفَضَّ (انفعال) اِنْفِضَاضًا : ٹوٹنا ‘ منتشر ہونا۔ { لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْاط } (المُنٰفقون :7) ” تم لوگ خرچ مت کرو ان پر جو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ منتشر ہوجائیں۔ “
خ ی ل
خَالَ (ف) خَیْلًا : ذہن میں کسی چیز کی تصویر بنانا ‘ تصور کرنا ‘ سمجھنا ‘ خیال کرنا۔
خَیْلٌ (اسم ذات) : گھوڑے سوار (کیونکہ وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے) ۔ پھر گھوڑے اور سوار دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اسم جمع ہے اور اس کی جمع بھی آتی ہے۔ { وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ } (بنی اسرائیل :64) ” اور چڑھا لا ان پر اپنے سواروں کو اور اپنے پیادوں کو۔ “
خَیَّلَ (تفعیل) تَخْیِیْلاً : دوسروں کے ذہن میں کوئی تصور قائم کرنا ‘ تصور دینا۔ { فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی ۔ } (طٰــہٰ ) ” پھر جب ان کی رسیوں اور ان کی لاٹھیوں کا تصور دیا گیا اس کو ان کے جادو سے کہ وہ دوڑتی ہیں۔ “
اِخْتَالَ (افتعال) اِخْتِیَالًا : خود کو برتر تصور کرنا ‘ تکبر کرنا ‘ اترانا۔
مُخْتَالًا (اسم الفاعل) : اترانے والا۔ { وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ۔ } (الحدید) ” اور اللہ پسند نہیں کرتا کسی بھی اترانے والے فخر کرنے والے کو۔ “
ء و ب
ئَ ا بَ (ن) اَوْبًا : واپس ہونا ‘ لوٹنا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی طرف واپس ہونے اور رجوع کرنے کے لیے آیا ہے۔
اِیَابٌ (اسم فعل) : واپسی۔{ اِنَّ اِلَـیْنَــآ اِیَابَھُمْ ۔ } (الغاشیۃ) ” یقینا ہماری طرف ہی ان کی واپسی ہے۔ “
اَوَّابٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بار بار رجوع کرنے والا۔ { فَاِنَّـہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” تو بیشک وہ بار بار رجوع کرنے والوں کے لیے بےانتہا بخشنے والا ہے۔ “
مَاٰبٌ (مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف) : واپس ہونے کی جگہ ‘ ٹھکانہ۔ آیت زیرمطالعہ۔
اَوَّبَ (تفعیل) تَاْوِیْبًا : کسی کے ساتھ واپس ہونا ‘ کسی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘ ہم قدمی کرنا ‘ ہم نوائی کرنا۔
اَوِّبْ (فعل امر) : تو ہم نوائی کر۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ } (سبا :10) ” اے پہاڑو ! تم ہم نوائی کرو اس کے ساتھ۔ “
ترکیب : ” زُیِّنَ “ کا نائب فاعل ” حُبُّ الشَّھَوٰتِ “ ہے۔ ” مِنَ النِّسَائِ “ کا ” مِنْ “ بیانیہ ہے۔ ” اَلْقَنَاطِیْرِ “ کا مضاف ” حُبُّ “ محذوف ہے۔ ” مِنَ الذَّھَبِ “ کا ” مِنْ “ بھی بیانیہ ہے۔
Ayah 3:15[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اَؤُنَــبِّئُکُمْ : کیا میں خبر دوں تم لوگوں کو ] [بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ : اس سے زیادہ بہتر (چیز ) کی ] [لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ] [اتَّقَوْا : تقویٰ اختیار کیا ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [جَنّٰتٌ : ایسے باغات ہیں ] [تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے دامن میں ] [الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِیْہَا : ان میں ] [وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ : اور پاک کیے ہوئے جوڑے ہیں ] [وَّرِضْوَانٌ : اور خوشنودی ہے ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ] [بِالْعِبَادِ : بندوں کو ]
ترکیب :” بِخَیْرٍ “ تفضیل بعض ہے۔ ” ذٰلِکُمْ “ دراصل ” ذٰلِکَ “ ہے ‘ صرف واحد ضمیر ” کَ “ کے بجائے جمع کی ضمیر ” کُمْ “ آئی ہے ‘ معنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ” لِلَّذِیْنَ اتَّـقَوْا “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” جَنّٰتٌ ‘ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ“ اور ” رِضْوَانٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہیں۔ ” خٰلِدِیْنَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
” اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ “ گزشتہ آیت میں ” لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا “ کا بدل ہے۔ اسی طرح ” اَلصّٰبِرِیْنَ “ سے ” اَلْمُسْتَغْفِرِیْنَ “ تک ” لِلَّذِیْنَ “ کا بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہیں۔
Ayah 3:16[اَلَّذِیْنَ : جو لوگ ] [یَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں ] [رَبَّـنَـآ : اے ہمارے ربّ ] [اِنَّــنَــآ اٰمَنَّا : بیشک ہم ایمان لائے ] [فَاغْفِرْ : پس تو بخش دے ] [لَـنَا : ہمارے لیے ] [ذُنُوْبَنَا : ہمارے گناہوں کو ] [وَ : اور ] [قِنَا : تو بچا ہم کو ] [عَذَابَ النَّارِ : آگ کے عذاب سے ]
Ayah 3:17[اَلصّٰبِرِیْنَ : (جو لوگ رہے) ثابت قدم رہنے والے ] [وَالصّٰدِقِیْنَ : اور سچ کرنے والے ] [وَالْقٰنِتِیْنَ : اور فرماں برداری کرنے والے ] [وَالْمُنْفِقِیْنَ : اور انفاق کرنے والے ] [وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ : اور مغفرت مانگنے والے ] [بِالْاَسْحَارِ : سویرے سویرے
Ayah 3:18[شَہِدَ : گواہی دی ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [اَنَّــہٗ لَآ اِلٰــہَ : کہ کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے ] [ہُوَ : اس کے ‘] [وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتوں نے ] [وَاُولُوا الْعِلْمِ : اور علم والوں نے ‘] [قَــآئِمًا : نگرانی کرنے والا ہوتے ہوئے ] [بِالْقِسْطِ : حق کی ] [لَآ اِلٰــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے ] [ہُوَ : اس کے ] [الْعَزِیْزُ : جو بالادست ہے ] [الْحَکِیْمُ : حکمت والا ہے ]
ترکیب :” شَھِدَ “ کے فاعل ” اَللّٰہُ ‘ اَلْمَلٰٓئِکَۃُ “ اور ” اُولُوا الْعِلْمِ “ ہیں۔ ” اِلاَّ ھُوَ “ کا حال ہونے کی وجہ سے ” قَائِمًا “ منصوب ہے۔ ” اِنَّ “ کا اسم ” الدِّیْنَ “ ہے اور ” اَلْاِسْلَامُ “ اس کی خبر ہے۔ ” بَغْیًا “ حال ہے۔
نوٹ : عدل اور قسط کا ترجمہ انصاف کیا جاتا ہے جو کہ درست ہے۔ لیکن ان تینوں الفاظ کے بنیادی مفہوم میں جو فرق ہے وہ ذہن میں واضح ہونا چاہیے۔
مادہ ” ن ص“ سے باب افعال کا مصدر ہے ” اِنْصَافٌ“۔ اس کا بنیادی مفہوم ہے آدھا کرنا۔ کسی چیز کو برابر یعنی مساوی حصوں میں تقسیم کرنا۔ عدل کا بنیادی مفہوم ہے کسی چیز کو وزن یا رتبہ کے لحاظ سے کسی دوسری چیز کے برابر کرنا یعنی ہم پلہ کرنا۔ اس طرح عدل میں بدلہ دینے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے ‘ یعنی کسی چیز کے عوض اس کے ہم پلہ کوئی دوسری چیز دینا۔ جبکہ قسط ‘ میں بنیادی مفہوم ہے کسی چیز کا کسی کے حق کے مطابق ہونا۔ اب ایک مثال کی مدد سے اس کو مزید سمجھ لیں۔
اکبر ایک مزدور ہے اور اس کے زیر کفالت دس افراد ہیں۔ اصغر بھی ایک مزدور ہے اور اس کے زیر کفالت پانچ افراد ہیں۔ میرے پاس پندرہ سو روپے زکوٰۃ ہے جو میں دونوں میں 750 ۔ 750 تقسیم کردیتا ہوں۔ یہ مساوات ہے ‘ انصاف ہے ‘ لیکن اقساط نہیں ہے۔ اگر میں ایک ہزار اکبر کو اور پانچ سو اصغر کو دوں تو یہ مساوات یا انصاف تو نہیں ہے لیکن اقساط ہے۔
اب ایک عام قاری کے لیے تو خیر ہے ہی لیکن ” اسلامی سوشلزم “ کے علمبرداروں کے لیے یہ ایک خصوصی لمحۂ فکریہ ہے کہ قرآن مجید میں عدل اور قسط کے الفاظ تو استعمال ہوئے ہیں ‘ ثلاثی مجرد سے لفظ ” نِصْفٌ“ (آدھا) بھی آیا ہے ‘ لیکن پورے قرآن مجید میں کسی ایک جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے انصاف کا لفظ استعمال نہیں کیا۔{ اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَط }” تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ “ (النسائ :82)
قسط کا مفہوم اگر سمجھ میں آگیا ہے تو اب آیت زیر مطالعہ میں ” قَائِمًا بِالْقِسْطِ “ کا مفہوم ذہن میں واضح کرلیں کہ اللہ تعالیٰ قسط کی نگرانی کرنے والا ہے۔ اور اس سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ کس کا کس وقت کیا حق ہے !
Ayah 3:19[اِنَّ : یقینا ] [الدِّیْنَ : دین ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے ہاں ] [الْاِسْلاَمُ : اسلام ہی ہے ] [وَمَا اخْتَلَفَ : اور اختلاف نہیں کیا ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی ] [الْکِتٰبَ : کتاب ‘] [اِلاَّ : مگر ] [مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد جو ] [جَآئَ : آیا ] [ہُمُ : ان کے پاس ] [الْعِلْمُ : علم ‘] [بَغْیًا : سرکشی کرتے ہوئے ] [بَیْنَہُمْ : آپس میں ] [وَمَنْ یَّـکْفُرْ : اور جو انکار کرتا ہے ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کا ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [سَرِیْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے میں تیز ہے ]
Ayah 3:20[فَاِنْ : پھر اگر ] [حَآجُّوْکَ : وہ لوگ دلیل بازی کریں آپ ﷺ سے ] [فَقُلْ : تو آپ ﷺ کہہ دیں ] [اَسْلَمْتُ : میں نے فرماں ] [بردار کیا ] [وَجْہِیَ : اپنے چہرے کو ] [لِلّٰہِ : اللہ کا ] [وَمَنِ : اور اس نے جس نے ] [اتَّــبَـعَنِ : میری پیروی کی ] [وَقُلْ : اور آپ کہہ دیں ] [لِّلَّذِیْنَ : ان سے جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی ] [الْکِتٰبَ : کتاب ] [وَالْاُمِّیّٖنَ : اور اَن پڑھ لوگوں سے ] [ئَ : کیا ] [ اَسْلَمْتُمْ : تم لوگوں نے فرماں برداری قبول کی ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [اَسْلَمُوْا : وہ لوگ فرماں برداری قبول کرلیں ] [فَقَدِ اہْتَدَوْا : تو انہوں نے ہدایت پالی ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تَوَلَّوْا : وہ لوگ بےرخی کریں ] [فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ہے ] [الْبَلٰغُ : پہنچا دینا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ] [بِالْعِبَادِ : بندوں کو ]
ترکیب : ” وَمَنِ اتَّـبَعَنِ “ میں ” مَنْ “ کا عطف ہے ” اَسْلَمْتُ “ پر اور فاعل ثانی ہے۔ ” اِتَّـبَعَنِ “ میں نون کی جرّبتا رہی ہے کہ یہاں یائے متکلم محذوف ہے۔ ” قُلْ “ کا ایک مفعول ” لِلَّذِیْنَ “ ہے اور دوسرا مفعول ” اَلْاُمِّیّٖنَ “ ہے جو کہ ” لِلَّذِیْنَ “ کی ” لِ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ ” اَلْبَلٰغُ “ مبتدأ مؤخر ہے۔
Ayah 3:21[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جو ] [یَکْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کا ] [وَیَقْتُلُوْنَ : اور قتل کرتے ہیں ] [النَّبِیّٖنَ : نبیوں کو ] [بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [وَّیَـقْتُلُوْنَ : اور وہ لوگ قتل کرتے ہیں ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [یَاْمُرُوْنَ : ترغیب دیتے ہیں ] [بِالْقِسْطِ : حق کے مطابق ہونے کی ] [مِنَ النَّاسِ : لوگوں میں سے ] [فَـبَشِّرْ : تو آپ ﷺ بشارت دے دیجیے ] [ہُم : ان کو ] [بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ : ایک دردناک عذاب کی ]
Ayah 3:22[اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ : یہ وہ لوگ ہیں ] [حَبِطَتْ : اکارت ہوئے ] [اَعْمَالُہُمْ : جن کے اعمال ] [فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [ وَمَا لَہُمْ : اور ان کے لیے نہیں ہے ] [مِّنْ نّٰصِرِیْنَ : کوئی بھی مدد کرنے والا ]
Ayah 3:23[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] [اِلَی الَّذِیْنَ : ان (کی حالت) کی طرف جن کو ] [اُوْتُوْا : دیا گیا ] [نَصِیْبًا : ایک حصہ ] [مِّنَ الْکِتٰبِ : کتاب سے ] [یُدْعَوْنَ : (جب) وہ لوگ بلائے جاتے ہیں ] [اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ : اللہ کی کتاب کی طرف ] [لِیَحْکُمَ : تاکہ وہ فیصلہ کرے ] [بَیْنَہُمْ : ان کے مابین ] [ثُمَّ : پھر ] [یَتَوَلّٰی : بےرُخی کرتا ہے ] [فَرِیْقٌ : ایک فریق ] [مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [وَہُمْ : اور وہ لوگ ] [مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]
غ ر ر
غَـرَّ (ن) غَرًّا : دھوکا دینا ‘ فریب دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
غُرُوْرٌ (فُعُوْلٌ کے وزن پر جمع) : دھوکے۔ { وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔ } (آل عمران) ” اور نہیں ہے دنیوی زندگی مگر فریبوں کا سامان۔ “
غَرُوْرٌ (فَـعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : بےانتہا دھوکا دینے والا۔ { وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ } (الحدید) ” اور تم کو دھوکا دیا اللہ کے بارے میں اس انتہائی دھوکے باز نے۔ “
ر ی
فَرٰی (ض) فَرْیًا : (1) کاٹنا ‘ چیرنا۔ (2) غلط یا بےبنیاد بات کہنا۔
فَرِیَ (س) فَرًی : دہشت زدہ ہونا ‘ متحیر ہونا۔
فَرِیٌّ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : دہشت زدہ کرنے والی چیز ‘ حیران کن۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا ۔ } (مریم) ” بیشک تو آئی ہے ایک حیران کن چیز کے ساتھ۔ “
اِفْتَرٰی (افتعال) اِفْتِرَائً : اہتمام سے بےبنیاد بات کہنا ‘ بات گھڑنا۔ { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } (الانعام :21) ” اور کون اس سے زیادہ ظالم ہے جس نے گھڑا اللہ پر ایک جھوٹ ؟ “
مُفْتَرٍ (اسم الفاعل) : گھڑنے والا۔ { اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍط } (النحل :101) ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تو گھڑنے والا ہے۔ “
مُفْتَرًی (اسم المفعول) : گھڑا ہوا۔ { مَا ھٰذَا اِلاَّ اِفْکٌ مُّفْتَرًیط } (سبا :43) ” یہ نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا بہتان۔ “
ترکیب :” لِیَحْکُمَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” کِتٰبِ اللّٰہِ “ کے لیے ہے۔ ” ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ “ میں ” ذٰلِکَ “ کا اشارہ ” یَتَوَلّٰی “ اور ” مُعْرِضُوْنَ “ کی طرف ہے۔ ” اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ “ ظرف ہے۔ ” غَرَّ “ کے آگے ” ھُمْ “ ضمیر مفعولی ہے اور اس کا فاعل ” مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ “ ہے۔ ” وُفِّیَتْ “ کا نائب فاعل ” کُلُّ نَفْسٍ “ ہے اور مفعول ثانی ” مَا کَسَبَتْ “ ہے۔
Ayah 3:24[ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ : یہ اس سبب سے کہ انہوں نے ] [قَالُوْا : کہا ] [لَنْ تَمَسَّنَا : ہرگز نہیں چھوئے گی ہم کو ] [النَّارُ : آگ ] [اِلَّآ : مگر ] [اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ : چند گنے ہوئے دن ] [وَّغَرَّ : اور دھوکا دیا ] [ہُمْ : ان کو ] [فِیْ دِیْنِہِمْ : ان کے دین میں مَّا : اس نے جو ] [کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ : وہ لوگ گھڑا کرتے تھے ]
نوٹ : لفظ ” یَفْتَرُوْنَ “ کے متعلق ایک بات نوٹ کرلیں۔ مادہ ”ر ی “ سے باب افتعال میں یہ جمع مذکر غائب کا صیغہ اصلاً ” یَفْتَرِیُوْنَ “ تھا جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر ” یَفْتَرُوْنَ “ استعمال ہوتا ہے اور یہ قرآن مجید میں 17 مقامات پر آیا ہے۔ جبکہ مادہ ”ت ر “ (ن) سے ثلاثی مجرد میں جمع مذکر غائب کا صیغہ ” یَفْتُرُوْنَ “ آتا ہے جس کے معنی ہیں تھکنا اور یہ قرآن مجید میں صرف ایک جگہ (الانبیائ :20) آیا ہے۔ ان دونوں میں فرق ” تا “ کی فتحہ اور ضمہ سے کیا جاتا ہے۔ اس فرق کو ذہن نشین کرلیں۔
Ayah 3:25[فَکَیْفَ : تو کیسا ہوگا ] [اِذَا : جب ] [جَمَعْنٰہُمْ : ہم جمع کریں گے ان کو ] [لِیَوْمٍ : ایک ایسے دن کے لیے ] [لاَّ رَیْبَ : کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] [فِیْہِ : جس میں ] [ وَوُفِّیَتْ : اور پور اپورا دیا جائے گا ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان کو ] [مَّا : وہ ‘ جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَہُمْ : اور ان پر ] [لاَ یُظْلَمُوْنَ : ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Ayah 3:26[قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [اللّٰہُمَّ : اے اللہ ! ] [مٰلِکَ الْمُلْکِ : اے ملک کے مالک ] [تُؤْتِی : تو دیتا ہے ] [الْمُلْکَ : ملک ] [مَنْ : اس کو جسے ] [تَشَآئُ : تو چاہتا ہے ] [وَتَنْزِعُ : اور تو چھین لیتا ہے ] [الْمُلْکَ : ملک ] [مِمَّنْ : اس سے جس سے ] [ تَشَآئُ : تو چاہتا ہے ] [وَتُعِزُّ : اور تو عزت دیتا ہے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [تَشَآئُ : تو چاہتا ہے ] [وَتُذِلُّ : اور تو ذلت دیتا ہے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [تَشَآئُ : تو چاہتا ہے ] [بِیَدِکَ : اور تیرے ہاتھ میں ] [الْخَیْرُ : کل خیر ہے ] [اِنَّکَ : یقینا تو ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے ]
ن ز ع
نَزَعَ (ض) نَزْعًا : کسی چیز میں سے کوئی چیز کھینچ لینا ‘ چھین لینا ‘ اکھاڑنا۔ { وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ } (الاعراف :43) ” اور ہم نے کھینچا اس کو جو ان کے سینوں میں تھی کوئی بھی کدورت۔ “
نَازِعٌ (اسم الفاعل) : کھینچنے والا۔ { وَالنّٰـزِعٰتِ غَرْقًا ۔ } (النّٰزعٰت) ” قسم ہے کھینچنے والوں کی غوطہ لگا کر۔ “
نَزَّاعٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بار بار کھینچنے والا۔ { نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ۔ } (المعارج) ” بار بار کھینچنے والی کھال کو۔ “
نَازَعَ (مفاعلہ) نِزَاعًا : باہم جھگڑنا۔ { فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ } (الحج :67) ” تو وہ لوگ ہرگز جھگڑا مت کریں آپ ﷺ سے اس معاملہ میں۔ “
تَنَازَعَ (تفاعل) تَنَازُعًا : باہم کھینچا تانی کرنا ‘ اختلاف کرنا۔ { فَـتَنَازَعُوْا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ } (طٰہٰ :62) ” تو انہوں نے اختلاف کیا اپنے معاملہ میں آپس میں۔ “
و ل ج
وَلَجَ (ض) وَلُوْجًا : کسی تنگ جگہ میں گھسنا ‘ داخل ہونا۔ { حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِط } (الاعراف :40) ” یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ “
وَلِیْجَۃٌ : (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے اور اس پر تائے مبالغہ ہے جیسے ” عَلَّامَۃٌ“ ): دل کا بھیدی ‘ رازداں۔{ وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَۃًط } (التوبۃ :16) ” اور انہوں نے بنایا ہی نہیں اللہ کے سوا اور نہ اس کے رسول کے سوا اور نہ مؤمنوں کے سوا کوئی دل کا بھیدی۔ “
اَوْلَجَ (افعال) اِیْلَاجًا : گھسانا ‘ داخل کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب :” اَللّٰھُمَّ “ میں لفظ ” اَللّٰہُ “ کے آگے حرفِ ندا ” مّ “ (میم مشدّد) ہے۔ ” مٰلِکَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ منادیٰ مضاف ہے اور ندائے ثانی ہے۔ ” مِمَّنْ “ دراصل ” مِنْ مَنْ “ ہے۔ ” اَلْخَیْرُ “ مبتدأ مؤخر ہے اور اس پر لام جنس ہے۔
نوٹ (1) : ترکیب میں بتایا گیا کہ ” اَللّٰھُمَّ “ میں حرفِ ندا میم مشدّد لگا ہے ‘ یعنی یہ دراصل ” الَلّٰہُ مَّ “ ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں نوٹ کرلیں۔ اوّلاً یہ کہ حرف ” یَا “ کی طرح میم مشدد (مّ ) بھی ایک حرفِ ندا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ” یَا “ منادیٰ سے پہلے آتا ہے ‘ جبکہ میم مشدد منادیٰ کے بعد آتا ہے۔ ثانیاً یہ کہ اسلام کے آغاز سے پہلے بھی عربی میں میم مشدد کا استعمال صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے لیے مخصوص تھا اور آج تک ہے۔
نوٹ (2) : آیات زیر مطالعہ میں ” بِیَدِکَ الْخَیْرُ “ کے الفاظ بہت توجہ طلب ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم سے کوئی چیز چھن جاتی ہے یا کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جس میں ہم اپنی سبکی محسوس کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمارے لیے کوئی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے ‘ تو اسے اس حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کیسے رات کو دن میں اور دن کو رات میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ کسی ایسی بات سے خیر برآمد کر دے جو ہماری محدود سمجھ کے مطابق نقصان دہ اور تکلیف دہ ہے۔ البتہ اس میں کچھ وقت لگتا ہے جیسے رات کو دن میں تبدیل ہونے میں لگتا ہے۔
اکثر و بیشتر ہم لوگ اپنی منفی سوچ اور غلط ردّعمل کی وجہ سے خود کو اس آنے والے خیر سے محروم کرلیتے ہیں۔ جن کا دل اس حقیقت پر مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس کے ہاتھ میں کل خیر ہے ‘ وہ لوگ وقت آنے پر اس کے خیر سے مستفید ہوتے ہیں۔
Ayah 3:27[تُوْلِـجُ : تو گھساتا ہے ] [الَّـیْلَ : رات کو ] [فِی النَّہَارِ : دن میں ] [وَتُوْلِـجُ : اور تو گھساتا ہے ] [النَّہَارَ : دن کو ] [فِی الَّـیْلِ : رات میں ] [وَتُخْرِجُ : اور تو نکالتا ہے ] [الْحَیَّ : زندہ کو ] [مِنَ الْمَیِّتِ : مردہ سے ] [وَتُخْرِجُ : اور تو نکالتا ہے ] [الْمَیِّتَ : مردہ کو ] [مِنَ الْحَیِّ : زندہ سے ] [وَتَرْزُقُ : اور تو عطا کرتا ہے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [تَشَآئُ : تو چاہتا ہے ] [بِغَیْرِ حِسَابٍ : کسی حساب کے بغیر ]
Ayah 3:28[لاَ یَتَّخِذِ : چاہیے کہ مت بنائیں ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن لوگ ] [الْکٰفِرِیْنَ : کافروں کو ] [اَوْلِیَـآئَ : کارساز ] [مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے علاوہ ] [وَمَنْ یَّفْعَلْ : اور جو کرے گا ] [ذٰلِکَ : یہ ] [فَلَیْسَ : تو وہ نہیں ہے ] [مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کے دین) سے ] [فِیْ شَیْئٍ : کسی چیز میں ] [اِلاَّ : سوائے اس کے ] [اَنْ : کہ ] [تَـتَّقُوْا : تم لوگ بچو ] [مِنْہُمْ : ان سے تُقٰٹۃً : جیسے بچنا چاہیے ] [وَیُحَذِّرُ : اور محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے ] [کُمُ : تم لوگوں کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [نَفْسَہٗ : اس کے نفس (یعنی غضب) سے ] [وَاِلَی اللّٰہِ : اور اللہ کی طرف ہی ] [الْمَصِیْرُ : لوٹنا ہے ]
ص د ر
صَدَرَ (ن) صَدْرًا : (1) سینے میں درد ہونا۔ (2) واپس ہونا ‘ پھرنا۔{ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًالا } (الزلزال :6) ” جس دن واپس ہونگے لوگ گروہ در گروہ۔ “
صَدْرٌ ج صُدُوْرٌ : سینہ۔ { رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۔ } (طٰہٰ ) ” اے میرے ربّ ! تو کھول دے میرے لیے میرے سینے کو۔ “
اَصْدَرَ (افعال) اِصْدَارًا : واپس کرنا ‘ واپس لے جانا ‘ یعنی پھیرنا۔ { لاَ نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَائُ سکتہ } (القصص :23) ” ہم نہیں پلاتے یہاں تک کہ واپس لے جائیں چرواہے۔ “
ء م د
اَمِدَ (س) اَمَدًا : غصہ ہونا (کسی چیز کے انجام کے پیش نظر) ۔
اَمَدٌ : کسی چیز کی انتہا ‘ مدت ۔ { اَمْ یَجْعَلُ لَـہٗ رَبِّیْ اَمَدًا ۔ } (الجن) ” یا مقرر کرے گا اس کے لیے میرا رب ایک مدت۔ “
ترکیب : ” مِنَ اللّٰہِ “ سے مراد ہے ” مِنْ دِیْنِ اللّٰہِ “۔ ” اِلاَّ “ کا استثناء ” لاَ یَتَّخِذْ “ کے لیے ہے ۔ ” مِنْ خَیْرٍ “ اور ” مِنْ سُوْئٍ “ کا ” مِنْ “ تبعیضیہ ہے۔ ” مُّحْضَرًا “ حال ہے۔ ” تَوَدُّ “ کا فاعل اس میں ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” کُلُّ نَفْسٍ “ کے لیے ہے۔ ” اَمَدًام بَعِیْدًا “ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور ” اَنَّ “ کا اسم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
نوٹ (1) : آیات زیر مطالعہ کے علاوہ بھی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر غیر مسلموں سے تعلقات کی ممانعت آئی ہے۔ اس حکم کا ایک استثناء آیات زیر مطالعہ میں اِلاَّ اَنْ تَـتَّـقُوْا کے الفاظ میں آیا ہے اور دوسرا استثناء سورة الممتحنۃ کی آیت 8 میں ہے۔ اس مسئلہ پر مفتی محمد شفیع صاحب (رح) نے معارف القرآن میں کافی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
باہمی تعلقات میں ایک درجہ قلبی تعلق کا ہے ‘ جس میں یہ چیزیں آتی ہیں : (i) مودّت : یعنی ایک دوسرے کے دل میں باہمی چاہت اور محبت کا رشتہ استوار کرنا (المجادلۃ :22) ۔ (ii) دوسرے کو اپنا ولیجہ یعنی دل کا بھیدی اور رازدار بنانا (التوبۃ :16) ۔ (iii) دوسرے کو اپنا ولی یعنی حمایتی اور کارساز بنانا اور ضرورت ہو تو اس کا احسان لینے میں تکلف نہ کرنا ‘ (آیت زیر مطالعہ) ۔
قلبی تعلق کے اس درجہ کے لیے ” موالات “ ‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور اس درجہ کے تعلقات مؤمنوں کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ جائز نہیں ہیں۔
تعلقات کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے ‘ ان کا حق ادا کیا جائے اور حالات اجازت دیں تو ان پر احسان کیا جائے۔ اس کے لیے ” مواسات “ کی اصطلاح ہے۔ اس درجہ ‘ کے تعلقات مسلمانوں اور ذمی کافر کے علاوہ ایسے کافر کے ساتھ بھی جائز ہیں جس کی قوم مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں نہ ہو۔ البتہ حربی کافر کے ساتھ اس درجہ کے تعلقات بھی جائز نہیں ہیں۔ (المُمتحنۃ :8)
تعلقات کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے رسمی میل ملاقات اور راہ و رسم ہو ‘ ان کے ساتھ ہنس مکھ ہو اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ اس کے لیے ” مدارات “ کی اصطلاح ہے اور یہ تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔ اور آیت زیر مطالعہ میں اِلاَّ اَنْ تَـتَّـقُوْاسے یہی درجہ مراد ہے۔
چوتھا درجہ یہ ہے کہ کسی کے ساتھ تجارت ‘ ملازمت ‘ اجرت ‘ صنعت یا حرفت کا معاملہ کیا جائے۔ اس کے لیے ” معاملات “ کی اصطلاح ہے اور یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا عمل اس بات کی سند ہے۔ البتہ حربی کافر کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
Ayah 3:29[قُلْ : آپ ﷺ کہیے !] [اِنْ : اگر ] [تُخْفُوْا : تم لوگ چھپائو ] [مَا : اس کو جو ] [فِیْ صُدُوْرِکُمْ : تمہارے سینوں میں ہے ] [اَوْ : یا ] [تُبْدُوْہُ : تم لوگ ظاہر کرو اس کو ] [یَعْلَمْہُ : جانتا ہے اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَیَعْلَمُ : اور وہ جانتا ہے ] [مَا : اس کو جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور اس کو جو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْرٌ : قادر ہے ]
Ayah 3:30[یَوْمَ : جس دن ] [تَجِدُ : پائے گی ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [مَّا : اس کو جو ] [عَمِلَتْ : اس نے عمل کیا ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی بھی بھلائی میں سے ] [مُّحْضَرًا : حاضر کیا ہوا ] [وَّمَا : اور اس کو جو ] [عَمِلَتْ : اس نے عمل کیا ] [مِنْ سُوْئٍ : کسی بھی برائی میں سے ] [تَوَدُّ : وہ چاہے گی ] [لَوْ : کاش ] [اَنَّ : کہ ] [بَیْنَہَا وَبَیْنَہٗ : اس (نفس) کے اور اس (برائی) کے مابین ] [اَمَدًام بَعِیْدًا : انتہائی دوری ہوتی ] [وَیُحَذِّرُ : اور محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے ] [کُمُ : تم لوگوں کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [نَفْسَہٗ : اپنے نفس (یعنی غضب) سے ] [وَاللّٰـہُ : اور اللہ ] [رَؤُوْفٌ : بہت نرمی کرنے والا ہے ] [بِالْعِبَادِ : بندوں سے ]
Ayah 3:31[قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہیے !] [اِنْ : اگر ] [کُنْتُمْ : تم لوگ ہو کہ ] [تُحِبُّوْنَ : تم محبت کرتے ہو ] [اللّٰہَ : اللہ سے ] [فَاتَّبِعُوْنِیْ : تو پھر پیروی کرو میری ] [یُحْبِبْکُمُ : تو محبت کرے گا تم سے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَیَغْفِرْ : اور وہ بخش دے گا ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ذُنُوْبَکُمْ : تمہارے گناہوں کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [رَّحِیْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
ترکیب : حرف شرط ” اِنْ “ ماضی (کُنْتُمْ ) پر آیا ہے اس لیے اس کا عمل ظاہر نہیں ہوا ‘ لیکن وہ محلاًّ مجزوم ہے۔ جوابِ شرط میں فعل امر ” اِتَّبِعُوْا “ آیا ہے جو کہ از خود مجزوم ہوتا ہے۔ ” یُحْبِبْ “ اور ” یَغْفِرْ “ جواب شرط نہیں ہیں ‘ بلکہ ” اِتَّبِعُوْا “ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔” تَوَلَّوْا “ کے دو امکانات ہیں۔ یہ ماضی میں جمع مذکر غائب کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور مضارع میں جمع مذکر مخاطب ” تَتَوَلَّوْنَ “ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی پہلی تا حذف ہوئی اور شرط ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو ” تَوَلَّوْا “ آیا۔ پیچھے فعل امر مخاطب ” اَطِیْعُوْا “ آیا ہے اس لیے اس کو جمع مذکر مخاطب ماننا بہتر ہے۔ ” اٰدَمَ “ ۔ ” نُوْحًا “ اور ” اٰلَ “ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ‘ جبکہ ” اِبْرٰھِیْمَ “ اور ” عِمْرٰنَ “ مجرور ہیں ‘ کیونکہ یہ ” اٰلَ “ کا مضاف الیہ ہیں۔ ” ذُرِّیَّۃً “ حال ہے۔
نوٹ : البقرۃ :49 کے نوٹ :1 میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ کسی نبی کی پیروی کرنے والے اس کی آل میں ہیں ‘ خواہ نبی سے ان کا نسلی رشتہ ہو یا نہ ہو۔ غالباً اسی لیے آیت زیر مطالعہ میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ آل ابراہیم (علیہ السلام) اور آل عمران میں سے جن کو اللہ نے چنا وہ ان کی نسل سے تھے۔
Ayah 3:32[قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہیے ] [اَطِیْعُوا : تم لوگ اطاعت کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کی ] [وَالرَّسُوْلَ : اور رسول ﷺ ‘ کی ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [تَوَلَّوْا : تم لوگ روگردانی کرو گے ] [فَاِنَّ : تو یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ ] [لاَ یُحِبُّ : محبت نہیں کرتا ] [الْکٰفِرِیْنَ : انکار کرنے والوں سے ]
Ayah 3:33[اِنَّ : یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ نے ] [اصْطَفٰٓی : چن لیا ] [اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [وَنُوْحًا : اور نوح (علیہ السلام) کو ] [وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ : اور ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو ] [وَاٰلَ عِمْرٰنَ : اور عمران کے پیروکاروں کو ] [عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہان (والوں ) پر ]
Ayah 3:34[ذُرِّیَّۃًم : اولاد ہوتے ہوئے ] [بَعْضُہَا مِنْم بَعْضٍ : ان کا کوئی کسی کی ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے
Ayah 3:35[اِذْ : جب ] [قَالَتِ : کہا ] [امْرَاَتُ عِمْرٰنَ : عمران کی بیوی نے ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اِنِّیْ : بیشک میں نے ] [نَذَرْتُ : منت مانی ] [لَکَ : تیرے لیے ] [مَا : اس کی جو ] [فِیْ بَطْنِیْ : میرے پیٹ میں ہے ] [مُحَرَّرًا : آزاد کیا ہواہوتے ہوئے ] [فَتَقَبَّلْ : پس تو قبول فرما ] [مِنِّیْ : مجھ سے ] [اِنَّکَ اَنْتَ : بیشک تو ہی ] [السَّمِیْعُ : سننے والا ہے ] [الْعَلِیْمُ : جاننے والا ہے ]
Ayah 3:36[فَلَمَّا : پھر جب ] [وَضَعَتْہَا : اس نے جنا اس کو ] [قَالَتْ : تو اس نے کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اِنِّیْ : بیشک میں نے ] [وَضَعْتُہَآ : جنا اس کو ] [اُنْثٰی : مؤنث ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [اَعْلَمُ : زیادہ جانتا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [وَضَعَتْ : اس نے جنا ] [وَلَـیْسَ الذَّکَرُ : اور نہیں ہے مذکر ] [کَالْاُنْثٰی : مؤنث کی مانند ] [وَاِنِّیْ : اور بیشک میں نے ] [سَمَّیْتُہَا : نام رکھا اس کا ] [مَرْیَمَ : مریم ] [وَاِنِّیْ : اور بیشک میں ] [اُعِیْذُہَا : پناہ میں دیتی ہوں اس کو ] [بِکَ : تیری ] [وَذُرِّیَّـتَہَا : اور اس کی اولاد کو ] [مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ : دھتکارے ہوئے شیطان سے ]
و ض ع
وَضَعَ (ف) وَضْعًا : (1) تیز چلنا ‘ دوڑنا۔ (2) کسی چیز کو اتار کر نیچے رکھنا۔ (i) اُتارنا۔ (ii) رکھنا۔ (iii) بچہ جننا۔ { وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ۔ } (الم نشرح) ” اور ہم نے اتارا آپ ﷺ سے آپ ﷺ کا بوجھ۔ “{ حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَاج } (محمد :4) ” یہاں تک کہ جنگ رکھ دے اپنے بوجھ یعنی ہتھیار۔ “
مَوْضُوْعٌ (اسم المفعول) : رکھا ہوا۔ { وَاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ ۔ } (الغاشیۃ) ” اور آبخورے رکھے ہوئے۔ “
مَوْضَعٌ ج مَوَاضِعُ (مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف) : رکھنے کی جگہ ‘ مقام۔ { یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ } (النسائ :46) ” اور وہ لوگ پھیر دیتے ہیں باتوں کو ان کی جگہوں سے “۔
اَوْضَعَ (افعال) اِیْضَاعًا : تیز چلانا ‘ دوڑانا۔ { لَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ } (التوبۃ :47) ” اور وہ لوگ ضرور دوڑاتے تم لوگوں کے بیچ میں۔ “
ترکیب : ” اِمْرَاَتُ “ لمبی تا سے لکھا گیا ہے ‘ یہ قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ ” اِمْرَاَتُ “ کا مضاف الیہ ” عِمْرٰنَ “ ہے۔ ” نَذَرْتُ “ کا مفعول ” مَا “ ہے۔ ” مُحَرَّرًا “ اسم المفعول ہے اور حال ہے۔ ” اِنِّیْ “ میں ہر جگہ یائے متکلم کی ضمیریں ” اِمْرَاَتُ عِمْرَانَ “ کے لیے ہیں ‘ درمیان میں ” وَاللّٰہُ اَعْلَمُ “ سے ” کَالْاُنْثٰی “ تک جملہ معترضہ ہے۔ ” اُنْثٰی “ حال ہے۔