3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 3:112

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں بھی پائے گئے اِن پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے، اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے

[ضُرِبَتْ : تھوپی گئی ] [عَلَیْہِمُ : ان پر ] [ الذِّلَّــۃُ : ذلت ] [اَیْنَ مَا : جہاں کہیں ] [ثُقِفُوْآ : وہ لوگ پائے جائیں ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [بِحَبْلٍ : کسی معاہدے سے ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَحَبْلٍ : اور کسی معاہدے سے ] [مِّنَ النَّاسِ : لوگوں (کی طرف) سے ] [وَبَآئُ وْ : اور وہ لوٹے ] [بِغَضَبٍ : ایک غضب کے ساتھ ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ کی طرف سے ] [وَضُرِبَتْ : اور تھوپی گئی ] [عَلَیْہِمُ : ان پر ] [الْمَسْکَنَۃُط : محتاجی ] [ذٰلِکَ : یہ ] [بِاَنَّہُمْ : اس وجہ سے کہ وہ لوگ ] [کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ : انکار کیا کرتے تھے ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی نشانیوں کا ] [وَیَـقْـتُلُوْنَ : اور قتل کرتے تھے ] [الْاَنْبِیَـآئَ : نبیوں کو ] [بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [ذٰلِکَ : یہ ] [بِمَا : اس وجہ سے جو ] [عَصَوْا : انہوں نے نافرمانی کی ] [وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ : اور حد سے تجاوز کرتے تھے ] ء ن ی اَنَی (ض) اِنًی : (1) کسی چیز کا وقت قریب آنا۔ (2) کسی چیز کا انتہا کو پہنچ جانا۔ { اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } (الحدید :16) ” کیا وقت نہیں آیا ان کے لیے جو ایمان لائے ؟ “ اٰنٍ (مؤنث اٰنِیَۃٍ ) : فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ (1) قریب ہونے والا یعنی قریبی۔ (2) انتہا کو پہنچنے والا یعنی انتہائی۔ { یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ ۔ } (الرحمٰن) ” وہ لوگ طواف کریں گے اس کے اور انتہائی گرم پانی کے مابین۔ “ اَنًی ج اٰنَائٌ : وقت کا کچھ حصہ۔ آیت زیر مطالعہ ترکیب : ” لَـیْسُوْا “ کا اسم اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” سَوَائً “ اس کی خبر ہے۔” یَتْلُوْنَ “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ” اٰیٰتِ اللّٰہِ “ منصوب ہے ‘ جبکہ ” اٰنَائَ الَّــیْلِ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” اَللَّیْل “ کو ایک لام سے لکھنا قرآن کا مخصوص املاء ہے۔
Ayah 3:113

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اسکے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں

[لَـیْسُوْا : وہ لوگ نہیں ہیں ] [سَوَآئً : برابر ] [مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [اُمَّـۃٌ : ایک گروہ ہے جو ] [قَـآئِمَۃٌ : قائم ہے (دین پر) ] [یَّـتْـلُوْنَ : وہ لوگ پڑھتے ہیں ] [اٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کو ] [اٰنَــآئَ الَّــیْلِ : رات کے وقتوں میں ] [وَہُمْ : اور وہ لوگ ] [یَسْجُدُوْنَ : سجدہ کرتے ہیں ] نوٹ : یہ مضمون البقرۃ :61 میں بھی گزر چکا ہے ‘ لیکن وہاں ذلت اور مسکنت تھوپنے میں ہمیشگی کا مفہوم نہیں تھا۔ آیت زیر مطالعہ میں { اَیْنَ مَا ثُقِفُوْا } کے الفاظ سے ہمیشگی کا مفہوم پیدا ہوا ہے ‘ اس لیے استثناء کا بھی یہیں ذکر کیا گیا ہے۔ معاہدہ بھی عربی لفظ ہے اور اس کے فعل کے مختلف صیغے قرآن مجید میں استعمال بھی ہوئے ہیں۔ لیکن آیت زیر مطالعہ میں لفظ معاہدہ کے بجائے استعارے کے طور پر ” حبل “ کا لفظ لانے سے اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہوگئی ہے۔ اب ان میں ایسی دعائیں بھی شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قبول کرلیتا ہے۔ جیسے ابلیس نے اس وقت دعا مانگی تھی جب اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرما رہا تھا کہ تو مجھے قیامت تک کے لیے مہلت دے دے (الاعراف :14) اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ دعا قبول کرلی۔ یہ بھی ” بِحَبْلٍ مِّنْ اللّٰہِ “ کی ایک صورت ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی ایسی سنتیں بھی شامل ہیں جو تبدیل نہیں ہوتیں (الاحزاب :62) ۔ جیسے یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو اپنے عمل کا بدلہ دنیا میں چاہتا ہے اسے اللہ دنیا میں جتنا مناسب سمجھتا ہے دے دیتا ہے (آل عمران :145) ۔ یہ بھی ” بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ “ کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ اسی طرح سے ” بِحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ “ کی بھی متعدد صورتیں ہیں۔ جیسے کسی اسلامی حکومت میں جزیہ دے کر امن اور سکون سے رہنا۔ کسی غیر مسلم قوم یا حکومت کا تعاون اور مدد حاصل کرلینا۔ آج کے دور میں اسرائیل کی حکومت اس کی بہت واضح مثال ہے جو امریکہ کی پشت پناہی پر قائم ہے۔ آیت زیر مطالعہ کا مضمون اور اس کا سیاق وسباق بہت واضح طور پر بتارہا ہے کہ یہاں مسکنت کا مطلب مال و دولت کی محتاجی نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ذلت و خواری سے بچنے کے لیے دوسروں کے محتاج رہیں گے۔ اس پس منظر میں ذلت و خواری اور دوسروں کی محتاجی میں ہمیشگی کا مفہوم سمجھ لیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنو اسرائیل (یہودیوں) کا اصل مقدر تو ذلت و خواری ہی ہے۔ البتہ کبھی کبھی وقتی طور پر اور جزوی طور پر سانس لینے کا کچھ وقفہ مل جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ یہ وقفہ بھی یہ لوگ اپنے بل بوتے پر کبھی حاصل نہ کرسکے ‘ بلکہ اس کے لیے یہ لوگ ہمیشہ دوسروں کے محتاج رہے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ان کے عذاب استیصال تک جاری رہے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کوئی قوم اپنے رسول کا انکار کردیتی ہے تو پھر اس پر عذاب استیصال نازل ہوتا ہے اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ بنو اسرائیل اپنے آخری رسول حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کر کے اس ‘ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ ان کا یہ عذاب عیسیٰ ( علیہ السلام) ہی کے ذریعے آئے گا اور وہی اللہ کے حکم سے ان کو صفحۂ ہستی سے نابود کردیں گے۔
Ayah 3:114

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں یہ صالح لوگ ہیں

[یُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان لاتے ہیں ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَالْـیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [وَیَاْمُرُوْنَ : اور تلقین کرتے ہیں ] [بِالْمَعْرُوْفِ : نیکی کی ] [وَیَنْہَوْنَ : اور منع کرتے ہیں ] [عَنِ الْمُنْکَرِ : برائی سے ] [وَیُسَارِعُوْنَ : اور وہ لوگ باہم سبقت کرتے ہیں ] [فِی الْْخَیْرٰتِ : بھلائیوں میں ] [ وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [مِنَ الصّٰلِحِیْنَ : نیکوں میں سے ہیں ] ترکیب :” یُؤْمِنُوْنَ “ کا فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو گزشتہ آیت میں ” اُمَّـۃٌ“ کے لیے ہے ‘ کیونکہ یہ اسم جمع ہے۔ ” مَا “ شرطیہ ہے اس لیے ” یَفْعَلُوْا “ مجزوم ہوا ہے۔ ” یُکْفَرُوْا “ ثلاثی مجرد کا مجہول ہے۔ اس کا نائب فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” ہُ “ کی ضمیر مفعول ثانی ہے جو ” خَیْرٍ “ کے لیے ہے۔
Ayah 3:115

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی، اللہ پرہیزگار لوگوں کو خوب جانتا ہے

[وَمَا : اور جو (بھی)] [یَـفْعَلُوْا : وہ لوگ کریں گے ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [فَلَنْ یُّــکْفَرُوْہُ : تو ان سے ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی اس کی ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [بِالْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ]
Ayah 3:116

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے

[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [لَنْ تُغْنِیَ : ہرگز کام نہ آئیں گے ] [عَنْہُمْ : ان کے ] [اَمْوَالُہُمْ : ان کے مال ] [وَلاَ اَوْلَآٓدُہُمْ : اور نہ ان کی اولاد ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ سے (بچنے میں) ] [شَیْئًا : ذرا بھی ] [وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَّارِ : آگ والے ہیں ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [فِیْہَا : اس میں ہی ] [خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 3:117

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ اُن لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا در حقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

[مَثَلُ مَا : اس کی مثال جو ] [یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ] [فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : اس دنیوی ] [زندگی میں ] [کَمَثَلِ رِیْحٍ : ایک ایسی ہوا کی مثال کی مانند ہے ] [فِیْہَا : جس میں ] [صِرٌّ : کچھ پالا ہے ] [اَصَابَتْ : وہ آن لگی ] [حَرْثَ قَوْمٍ : ایک ایسی قوم کی کھیتی کو ] [ظَلَمُوْآ : جنہوں نے ظلم کیا ] [اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [فَاَہْـلَـکَتْہُ : پھر اس نے ہلاک کیا اس کو ] [وَمَا ظَلَمَہُمُ : اور ظلم نہیں کیا ان پر ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَلٰــکِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [یَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ (خود ہی) ظلم کرتے ہیں ] ص ر ر صَرَّ (ن) صَرًّا : کسی چیز کو تھیلی میں باندھنا۔ صَرَّ (ض) صَرَرًا : زور سے بولنا۔ صَرَّۃٌ : چیخ ‘ تیز آواز۔{ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ } (الذٰریٰت :29) ” تو سامنے آئیں ان کی بیوی تیز آواز میں “ یعنی زور سے بولتی ہوئی۔ صِرٌّ : ٹھنڈک ‘ پالا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ اَصَرَّ (افعال) اِصْرَارًا : اپنی بات پر جمے رہنا ‘ اَڑنا ‘ اصرار کرنا۔ { وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا } (آل عمران :135) ” اور وہ لوگ اڑتے نہیں اس پر جو انہوں نے کیا۔ “ خ ب ل خَبَلَ (ن) خَبْلاً : دماغ خراب کرنا ‘ عقل کو بگاڑنا ‘ مَت مار دینا۔ خَبَالٌ : عقلی فساد ‘ ذہنی پراگندگی۔ آیت زیر مطالعہ۔ و ھـ فَاہَ (ن) فَوْھًا : بولنا ‘ بات کرنا۔ فَــوٌ (اسم ذات) : منہ ‘ یہ جب مضاف ہوتا ہے تو رفع میں ” فُوْ “ نصب میں ” فَا “ اور جر میں ” فِیْ “ آتا ہے۔ اس کی جمع ” اَفْوَاہٌ“ ہے۔ { کَبَاسِطِ کَفَّـیْہِ اِلَی الْمَائِ لِیَـبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھُوَ بِبَالِغِہٖط } (الرعد :14) ” اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پھیلانے والے کی مانند ‘ پانی کی طرف تاکہ وہ پہنچے اس کے منہ کو ‘ حالانکہ وہ پہنچنے والا نہیں ہے اس کو۔ “ ب غ ض بَغَضَ (ن) و بَغِضَ (س) بَغَاضَۃً : کسی مکروہ چیز سے دل کا متنفر ہونا۔ بَغْضَائُ (ج) بُغْضٌ : افعل الوان و عیوب کا وزن ہے۔ نفرت ‘ کراہیت ‘ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب :” مَثَلُ “ کا مضاف الیہ ” مَا “ ہے۔ ” اَصَابَتْ “ کا فاعل ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” رِیْحٍ “ کے لیے ہے اور ” حَرْثَ قَوْمٍ “ اس کا مفعول ہے۔ ” اَھْلَکَتْہُ “ کا فاعل ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” رِیْحٍ “ کے لیے ہے اور اس کی ضمیر مفعولی ” ہُ “” حَرْثَ “ کے لیے ہے۔ ” لَا یَاْلُـوْنَ “ کا فاعل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” مِنْ دُوْنِکُمْ “ کے لیے ہے۔ اس کا مفعول ” کُمْ “ ہے اور ” خَبَالًا “ تمیز ہے۔ ” وَدُّوْا “ کا مفعول ” مَا “ ہے۔ ” بَدَتْ “ کا فاعل ” اَلْبَغْضَائُ “ ہے ‘ اور یہ مؤنث ہے اس لیے فعل مؤنث آیا ہے ۔ ” تُخْفِیْ “ کا فاعل ” صُدُوْرُ “ ہے ‘ اور یہ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے فعل مؤنث آیا ہے۔ نوٹ : حضرت عمر ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر ایک (غیر مسلم) شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظے والا ہے ‘ آپ ؓ اسے اپنا منشی مقرر کرلیں۔ آپ ؓ نے فرمایا : پھر تو میں غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) بعد میں مسلمانوں نے اس اصول کو ترک کردیا۔ امام قرطبی (رح) پانچویں صدی ہجری کے عالم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ” حالات میں ایسا انقلاب آیا کہ یہود و نصاریٰ کو رازدار اور امین بنا لیا گیا اور اس ذریعہ سے وہ جاہل اغنیاء و امراء پر مسلط ہوگئے “۔ چناچہ اسلامی مملکتوں اور خلافت ِ عثمانیہ کے زوال کے اسباب میں ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ مسلمانوں نے اپنے امور کارازدار ومعتمد غیر مسلموں کو بنا لیا تھا (یعنی وہ لوگ حساس عہدوں پر فائز تھے) ۔ اس کے برعکس روس اور چین میں کسی ایسے شخص کو جو کمیونزم پر ایمان نہ رکھتاہو ‘ کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز نہیں کیا جاتا۔ (معارف القرآن)
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)

[يٰٓاَيُّھَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تَـتَّخِذُوْا : تم لوگ مت بنائو ] [بِطَانَۃً : کوئی دل کا بھیدی ] [مِّنْ دُوْنِکُمْ : اپنوں کے سوا ] [لاَ یَاْلُوْنَـکُمْ : وہ لوگ کوتاہی نہیں کریں گے تم سے ] [خَبَالاً : بلحاظ ذہنی خلفشار کے ] [وَدُّوْا : انہوں نے چاہا ] [مَا : اس کو جو ] [عَنِتُّمْ : مشکل میں ڈالے تم کو ] [قَدْ بَدَتِ : ظاہر ہوچکی ہے ] [الْـبَـغْضَآئُ : نفرت ] [مِنْ اَفْوَاہِہِمْ : ان کے مونہوں سے ] [وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [تُخْفِیْ : چھپاتے ہیں ] [صُدُوْرُہُمْ : ان کے سینے ] [اَکْبَرُ : زیادہ بڑا ہے ] [قَدْ بَـیَّـنَّا : ہم نے واضح کردیا ہے ] [لَـکُمُ : تمہارے لیے ] [الْاٰیٰتِ : آیتوں کو ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [تَعْقِلُوْنَ : عقل سے کام لیتے ہو ]
Ayah 3:119

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتب آسمانی کو مانتے ہو جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے غصہ میں آپ جل مرو اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

[ھٰٓانتم : سنو ! تم لوگ ] [اُولَآئِ : یہ ہو (کہ) ] [تُحِبُّـوْنَـہُمْ : تم لوگ محبت کرتے ہو ان سے ] [وَلاَ یُحِبُّوْنَـکُمْ : اور وہ لوگ محبت نہیں کرتے تم سے ] [وَ : حالانکہ ] [َتُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ ایمان رکھتے ہو ] [بِالْکِتٰبِ : تمام (آسمانی) کتابوں پر ] [کُلِّہٖ : ان کے کل پر ] [وَاِذَا : اور جب بھی ] [لَقُوْکُمْ : وہ سامنے آتے ہیں تمہارے ] [قَالُوْآ : تو کہتے ہیں ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [وَاِذَا : اور جب کبھی ] [خَلَوْا : وہ تنہا ہوتے ہیں ] [عَضُّوْا : تو چباتے ہیں ] [عَلَیْکُمُ : تم پر ] [الْاَنَامِلَ : انگلیوں کے سروں کو ] [مِنَ الْغَیْظِ : شدید غصے سے ] [قُلْ : کہو ] [مُوْتُوْا : تم لوگ مرو ] [بِغَیْظِکُمْ : اپنے غیظ کے سبب سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [عَلِیْمٌم : جاننے والا ہے ] [بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو ] ع ض ض عَضَّ (س) عَضًّا : کسی چیز کو دانت سے چبانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ن م ل نَمَلَ (ن) نَمْلاً : چغلی کھانا۔ نَمْلٌ (اسم جنس) واحد نَمْلَۃٌ ج نِمَالٌ : چیونٹی ۔ { قَالَتْ نَمْلَۃٌ یّٰـاَیــُّـھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَـکُمْ ج } (النمل :18) ” کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو ! تم لوگ داخل ہو اپنے ٹھکانوں میں۔ “ اَنْمِلَۃٌ ج اَنَامِلُ : انگلی کا سرا۔ آیت زیر مطالعہ۔ غ ی ظ غَاظَ (ض) غَیْظًا : سخت غصہ دلانا ‘ خون کھولا دینا۔ { لـِیَـغِیْظَ بِھِمُ الْـکُفَّارَط } (الفتح :29) ” تاکہ وہ خون کھولائے ان سے کافروں کا۔ “ غَائِظٌ (اسم الفاعل) : غصہ دلانے والا ۔ { وَاِنَّھُمْ لَـنَا لَغَـآئِظُوْنَ ۔ } (الشعرائ) ” اور یقینا وہ سب ہم لوگوں کا خون کھولانے والے ہیں۔ “ غَیْضٌ (اسم ذات) : شدید غصہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ تَغَیَّظَ (تفعّل) تَغَیُّظًا : سخت غصہ ہونا ‘ غصے سے کھولنا۔ { سَمِعُوْا لَھَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا ۔ } (الفرقان) ” وہ لوگ سنیں گے اس کو غصے سے کھولتے ہوئے اور چنگھاڑتے ہوئے۔ “ ر ح فَرِحَ (س) فَرْحًا : (1) بہت خوش ہونا۔ (2) خوشی سے پھٹ پڑنا۔ { وَیَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ } (الروم) ” اور اس دن بہت خوش ہوں گے ایمان لانے والے۔ “{ وَاِذَا اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً فَرِحُوْا بِھَاط } (الروم :36) ” اور جب بھی ہم مزا چکھاتے ہیں لوگوں کو کسی رحمت کا تو وہ لوگ اتراتے ہیں اس پر۔ “ فَرِحٌ (اسم صفت) : بہت خوش ہونے والا ‘ اِترانے والا۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ۔ } (القصص) ” بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اترانے والوں کو۔ “ ک ی د کَادَ (ض) کَیْدًا : خفیہ تدبیر کرنا ‘ چالبازی کرنا۔ { کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَط } (یوسف :76) ” اس طرح ہم نے خفیہ تدبیر کی یوسف (علیہ السلام) کے لیے۔ “ کَیْدٌ (اسم ذات) : خفیہ تدبیر ‘ دائو۔ آیت زیر مطالعہ۔ کِدْ (فعل امر) : تو خفیہ تدبیر کر ‘ تو چالبازی کر۔ { فَـکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ۔ } (ھود) ” پس تم لوگ چالبازی کرو مجھ سے پھر تم مہلت نہ دو مجھے۔ “ مَکِیْدٌ (اسم الظرف) : خفیہ تدبیر یا چالبازی کی جگہ یعنی اس کا نشانہ۔ { فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھُمُ الْمَکِیْدُوْنَ ۔ } (الطور) ” تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی چالبازی کا نشانہ ہیں۔ “ ترکیب : ” بِالْکِتٰبِ “ پر لام جنس ہے جو تمام آسمانی کتابوں کے لیے ہے۔ ” کُلِّہٖ “ تاکید کے لیے اس کا بدل آیا ہے ‘ اس لیے ” کُلِّ “ مجرور ہے اور لفظی رعایت سے ضمیر واحد آئی ہے۔ ” یَفْرَحُوْا “ جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔” لَا یَضُرُّ “ پر لائے نفی ہے۔ البتہ جواب شرط ہونے کی وجہ سے ” یَضُرُّ “ مجزوم ہے۔ اس کو ادغام کے بغیر ” یَضْرُرْ “ لکھنا بھی درست ہے اور ادغام کر کے ” یَضُرُّ “۔ ” یَضُرَّ “ اور ” یَضُّرِّ “ تینوں طرح لکھنا بھی درست ہے۔ ” کَیْدُھُمْ “ اس کا فاعل ہے اور ” شَیْئًا “ مفعول مطلق ہے۔
Ayah 3:120

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے

[اِنْ : اور اگر ] [تَمْسَسْکُمْ : پہنچتی ہے تم کو ] [حَسَنَۃٌ : کوئی بھلائی ] [تَسُؤْہُمْ : تو وہ بری لگتی ہے ان کو وَاِنْ : اور اگر ] [تُصِبْکُمْ : آن لگتی ہے تم کو ] [سَیِّـئَۃٌ : کوئی برائی ] [یَّـفْرَحُوْا : تو وہ لوگ بہت خوش ہوتے ہیں ] [بِھَا : اس سے ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تَصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَتَتَّقُوْا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [لاَ یَضُرُّکُمْ : تو نقصان نہیں دے گی تم کو ] [کَیْدُہُمْ : ان کی چالبازی ] [شَیْئًا : ذرا بھی ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ بِمَا : اس کا جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ] [مُحِیْطٌ : احاطہ کرنے والا ہے ]
Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

(اے پیغمبرؐ! مسلمانوں کے سامنے اُس موقع کا ذکر کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور (احد کے میدان میں) مسلمانوں کو جنگ کے لیے جا بجا مامور کر رہے تھے اللہ ساری باتیں سنتا ہے اور وہ نہایت باخبر ہے

[ وَاِذْ : اور جب ] [غَدَوْتَ : آپ ﷺ نکلے صبح کے وقت ] [مِنْ اَہْلِکَ : اپنے گھر والوں سے ] [تُبَـوِّیُٔ : (اور جب) آپ ﷺ ٹھکانہ دیتے تھے ] [الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کو ] [مَقَاعِدَ : بیٹھنے کی جگہوں میں ] [لِلْقِتَالِ : جنگ کے لیے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ] غ د و غَدَا (ن) غُدُوًّا : صبح سویرے نکلنا ‘ سویرے پہنچنا۔ (آیت زیر مطالعہ) اُغْدُ (فعل امر) : تو سویرے نکل۔ { اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ } (القلم :22) ” کہ تم لوگ صبح سویرے پہنچو اپنی کھیتی پر۔ “ غَدَاۃٌج غُدُوٌّ : صبح سویرے کا وقت۔ { الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ }(الکہف :28) ” وہ لوگ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح کو اور شام کو۔ “{ یُسَبِّحُ لَـہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔ } (النور) ” وہ لوگ تسبیح کرتے ہیں اس کی اس میں صبحوں اور شاموں کو۔ “ غَـدٌ : آنے والی صبح یا دن (1) آنے والا کل (2) آنے والا قیامت کا دن۔ { وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ۔ اِلاَّ اَنْ یَّشَائَ اللّٰہُز } (الکہف) ” تم ہرگز مت کہنا کسی چیز کے لیے کہ میں کرنے والا ہوں اسے کل ‘ سوائے اس کے کہ اگر چاہا اللہ نے۔ “{ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج } (الحشر :18) ” اور چاہیے کہ دیکھے ہر جان اس کو جو اس نے آگے بھیجا قیامت کے دن کے لیے۔ “ غَدِیَ (س) غَدًا و غَدَائً : صبح کا ناشتہ کرنا یا دوپہر کا کھانا کھانا۔ غَدَائٌ (اسم ذات) : صبح کا ناشتہ یا دوپہر کا کھانا ۔ { قَالَ لِفَتٰـٹہُ اٰتِنَا غَدَائَ نَاز } (الکہف :62) ” انہوں نے کہا اپنے خادم سے تو دے ہم کو ہمارا ناشتہ۔ “ ھـ م م ھَمَّ (ن) ھَمًّا : پختہ ارادہ کرنا ‘ ہمت کرنا۔ (آیت زیر مطالعہ) اَھَمَّ (افعال) اِھْمَامًا : بےچین کرنا۔ { وَطَائِفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ } (آل عمران :154) ” اور ایک جماعت ہے ‘ بےچین کیا ہے جن کو ان کی جانوں نے۔ “ ش ل فَشِلَ (س) فَشَلًا : بزدلی دکھانا ‘ ہمت ہارنا۔ و ک ل وَکَلَ (ض) وَکْلًا : اپنا کام کسی کے سپرد کرنا ‘ سونپنا۔ وَکِیْلٌ (فَعِیْلٌ کا وزن ہے اسم المفعول کے معنی میں) : سپرد کیا ہوا ‘ سونپا ہوا یعنی نگہبان ‘ کارساز۔ { وَمَا اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ } (الانعام) ” اور آپ ﷺ ان کے نگہبان نہیں ہیں۔ “{ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ ۔ } (الانعام) ” اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔ “ وَکَّلَ (تفعیل) تَوْکِیْلًا : کسی کو نگہبان مقرر کرنا۔ { یَتَوَفّٰـٹکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ } (السجدۃ :11) ” موت دیتا ہے تم لوگوں کو موت کا فرشتہ جس کو نگہبان مقرر کیا گیا تمہارا۔ “ تَوَکَّلَ (تفعل) تَوَکُّلًا : قرآن مجید میں ” عَلٰی “ کے صلے کے ساتھ آیا ہے جس کے معنی ہیں کسی پر بھروسہ کرنا۔{ اِنِّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ } (ھود :56) ” بیشک میں بھروسہ کرتا ہوں اللہ پر۔ “ مُتَوَکِّلٌ (اسم فاعل) : بھروسہ کرنے والا ۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔ } (آل عمران) ” بیشک اللہ پسند کرتا ہے بھروسہ کرنے والوں کو۔ “ ترکیب : ” غَدَوْتَ “ اور ” تُبَوِّئُ “ کا فاعل ان میں ” تَ “ اور ” اَنْتَ “ کی ضمائر ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہیں۔ ” تُبَوِّئُ “ سے پہلے ” وَاِذْ “ محذوف ہے اور اس کا مفعولِ اوّل ” اَلْمُؤْمِنِیْنَ “ ہے اور ” مَقَاعِدَ “ مفعولِ ثانی ہے۔ ” اَنْ “ کی وجہ سے ” تَفْشَلَانِ “ کا نون گرا ہوا ہے۔ نوٹ : یہاں سے اب جنگ احد پر تبصرہ شروع ہو رہا ہے۔ اور یہاں جن دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے وہ قبیلۂ خزرج کے بنوسلمہ اور قبیلہ ٔ اوس کے بنوحارثہ ہیں۔ منافقوں کی شرارت کی وجہ سے ان میں کچھ کم ہمتی پیدا ہوئی تھی لیکن پھر وہ سنبھل گئے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بزدلی د کھانے پر آمادہ ہوگئے تھے، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

[اِذْ : جب ] [ہَمَّتْ : ارادہ کیا ] [طَّـآئِفَتٰنِ : دو جماعتوں نے ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [اَنْ : کہ ] [تَفْشَلاَ : وہ دونوں ہمت ہاریں ] [وَ : حالانکہ ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَلِیُّہُمَا : ان کا پشت پناہ تھا ] [وَعَلَی اللّٰہِ : اور اللہ پر ہی ] [فَلْیَتَوَکَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ]
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکر ی سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے

[وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ : اور مدد کرچکا ہے تمہاری ] [اللّٰہُ : اللہ ] [بِبَدْرٍ : بدر میں ] [وَّ : حالانکہ ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ] [اَذِلَّــۃٌ : نرم (چارہ) تھے ] [فَاتَّـقُوا : پس تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [تَشْکُرُوْنَ : شکر ادا کرو ]
Ayah 3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے، "کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے؟"

[اِذْ : جب ] [تَقُوْلُ : آپ ﷺ کہتے تھے ] [لِلْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں سے ] [اَ : کیا ] [لَنْ یَّـکْفِیَکُمْ : ہرگز کافی نہیں ہوگا تم کو ] [اَنْ : (یہ) کہ ] [یُّمِدَّکُمْ : مدد کرے تمہاری ] [رَبُّـکُمْ : تمہارا رب ] [بِثَلٰـثَۃِ اٰلٰفٍ : تین ہزار ] [مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ : فرشتوں سے ] [مُنْزَلِیْنَ : اتارے ہوئے ہوتے ہوئے ] و ر فَارَ (ن) فَوْرًا : جوش مارنا ‘ اُبلنا۔ { وَفَارَ التَّـنُّـوْرُ } (ھود :40) ” اور ابلا تنور۔ “ فَوْرٌ (اسم ذات بھی ہے) : جوش ‘ اُبال۔ (آیت زیر مطالعہ) ط ر طَرَفَ (ض) طَرْفًا : کسی کو کسی چیز کے کنارے پر کرنا۔ طَرْفٌ (اسم ذات بھی ہے) : (1) کسی چیز کا کنارہ ‘ پہلو۔ (2) آنکھ کی پلک۔ { قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَـیْکَ طَرْفُکَط } (النمل :40) ” قبل اس کے کہ لوٹے آپ کی طرف آپ کی پلک۔ “ ک ب ت کَبَتَ (ض) کَبْتًا : کسی کو ذلیل کرنا ۔ (آیت زیر مطالعہ) خ ی ب خَابَ (ض) خَیْبَۃً : مقصد میں ناکام ہونا ‘ نامراد ہونا۔ { وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ } (ابرٰھیم) ” اور نامراد ہوا ہر ایک سرکش ہٹ دھرم۔ “ خَائِبٌ (اسم الفاعل) : نامراد ہونے والا۔ (آیت زیر مطالعہ) ترکیب :” کُمْ “ کی ضمیر ” یَکْفِیَ “ کا مفعول ہے اور آگے ” اَنْ یُمِدَّ “ سے ” مُنْزَلِیْنَ “ تک پورافقرہ اس کا فاعل ہے۔ ” مُنْزَلِیْنَ “ اگر ” مَلٰئِکَۃِ “ کی صفت ہوتا تو پھر ” اَلْمُنْزَلِیْنَ “ آتا ‘ اس لیے یہ ان کا حال ہے۔ اسی طرح ” مُسَوِّمِیْنَ “ بھی حال ہے۔ ” مَا جَعَلَہُ “ میں ” ٹہُ “ کی ضمیر مفعولی گزشتہ بات کے لیے ہے جس میں مدد کا ذکر ہے۔ اور ” جَعَلَ “ کا مفعول ثانی ” بُشْرٰی “ ہے۔ ” بِہٖ “ کی ضمیر ” بُشْرٰی “ کے لیے ہے جو مؤنث غیر حقیقی ہے ‘ اس لیے مذکر ضمیر بھی جائز ہے۔ ” اَلنَّصْرُ “ پر لام جنس ہے۔ ” لِیَقْطَعَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ” فَا “ سببیہ کی وجہ سے ” یَنْقَلِبُوْا “ منصوب ہوا ہے اور یہ فعل لازم ہے ‘ اس لیے ” خَائِبِیْنَ “ اس کا مفعول نہیں ہوسکتا ‘ بلکہ یہ اس کا حال ہے۔
Ayah 3:125

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

بے شک، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ کر آئیں گے اُسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا

[بَلٰٓی : کیوں نہیں ] [اِنْ : اگر ] [تَصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] [وَیَاْتُوْکُمْ : اور وہ آئیں تمہارے پاس ] [مِّنْ فَوْرِہِمْ ہٰذَا : اپنے اس جوش سے ] [یُمْدِدْکُمْ : تو مدد کرے گا تمہاری ] [رَبُّـکُمْ : تمہارا رب ] [بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ : پانچ ہزار ] [مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ : فرشتوں سے ] [مُسَوِّمِیْنَ : نشان لگانے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے

[وَمَا جَعَلَہُ : اور نہیں بنایا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [اِلاَّ : مگر ] [بُشْرٰی : ایک خوشخبری ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [وَلِتَطْمَئِنَّ : اور تاکہ مطمئن ہوں ] [قُلُوْبُـکُمْ : تمہارے دل ] [بِہٖ : اس سے ] [وَمَا النَّصْرُ : اور کسی نوع کی کوئی مدد نہیں ہے ] [اِلاَّ : مگر ] [مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ] [الْعَزِیْزِ : جو بالادست ہے ] [الْحَکِیْمِ : حکمت والا ہے ] نوٹ : آیت 124 میں رسول اللہ ﷺ کے قول کی آیت 125 میں اللہ تعالیٰ نے تصدیق کی ہے ‘ اور آپ ﷺ کے اعزاز کے طور پر فرشتوں کی تعداد بڑھا دی ‘ لیکن یہ وضاحت بھی کردی کہ مدد کے لیے فرشتوں کا اترنا ثابت قدمی اور تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔ ساتھ ہی اس اصول کی وضاحت کردی کہ مدد کی خواہ کوئی بھی نوعیت ہو اور خواہ وہ کسی کے لیے ہو ‘ مدد بہرحال اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔ جنگ ِ احد میں مسلمانوں نے ثابت قدمی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے۔ اب یہ عجیب بات ہے کہ جنگ جیتنے کے باوجود ‘ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو ختم کردینے کا حوصلہ کافروں کو نصیب نہیں ہوا۔ چناچہ ذلیل و خوار ہو کر انہیں نامراد واپس جانا پڑا۔ یہ بھی اللہ کی مدد کا ایک انداز ہے۔
Ayah 3:127

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں

[لِیَـقْطَعَ : تاکہ وہ کاٹے ] [طَرَفًا : ایک پہلو کو ] [مِّنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [اَوْ : یا ] [یَکْبِتَہُمْ : وہ ذلیل کرے ان کو ] [فَـیَنْقَلِبُوْا : نتیجتاً وہ لوگ پلٹیں ] [خَآئِبِیْنَ : نامراد ہونے والے ہو کر
Ayah 3:128

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبرؐ) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں

[لَـیْسَ : نہیں ہے ] [لَکَ : آپ ﷺ کے لیے ] [مِنَ الْاَمْرِ : اس حکم میں سے ] [شَیْئٌ : کوئی چیز ] [اَوْ : یا ] [یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ : وہ توبہ قبول کرے ان کی ] [اَوْ : یا ] [یُـعَذِّبَہُمْ : وہ عذاب دے ان کو ] [فَاِنَّـہُمْ : تو یقینا وہ لوگ ] [ظٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے (تو) ہیں ] ترکیب :” شَیْئٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور ” لَـیْسَ “ کا اسم ہے۔ ” لَکَ “ قائم مقام خبر مقدم ہے اور ” مِنَ الْاَمْرِ “ متعلق خبر ہے۔ درمیان میں یہ جملۂ معترضہ ہے ‘ کیونکہ آگے ” یَتُوْبَ “ اور ” یُعَذِّبَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ گزشتہ آیت کے ” لِیَطْقَعَ “ اور ” اَوْ یَکْبِتَھُمْ “ پر عطف ہے۔ جملۂ معترضہ میں ” اَلْاَمْرِ “ پر لام تعریف انہی امور کے لیے ہے۔
Ayah 3:129

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، و ہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے

[وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [مَا : وہ ‘ جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [یَغْفِرُ : وہ بخشتا ہے ] [لِمَنْ : اسے جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَیُـعَذِّبُ : اور وہ عذاب دیتا ہے ] [مَنْ : اسے جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [غَفُوْرٌ : غفور ہے ] [رَّحِیْمٌ: رحیم ہے
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے

[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِينَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تَاْکُلُوا : تم لوگ مت کھائو ] [الرِّبٰٓوا : سود ] [اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً : ضرب دے کر کئی گنا کرتے ہوئے ] [وَاتَّقُوا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم ] [تُفْلِحُوْنَ : فلاح پائو ] ک ظ م کَظَمَ (ض) کَظْمًا : کسی چیز کی روانی کو روکنا ‘ جیسے پانی ‘ سانس یا جذبات وغیرہ روکنا۔ کَظَمَ (ض) کَظْمًا وَکُظُوْمًا غَیْظَہٗ : غصہ کو پی جانا۔ کَاظِمٌ (اسم الفاعل) : روکنے والا۔ { اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کٰظِمِیْنَط } (المؤمن :18) ” جب دل نرخروں کے پاس ہوں گے روکنے والے ہوتے ہوئے یعنی سانس گھوٹنے والے ہوتے ہوئے۔ “ مَکْظُوْمٌ (اسم المفعول) : روکا ہوا ‘ غم زدہ ۔ { اِذْ نَادٰی وَھُوَ مَکْظُوْمٌ ۔ } (القلم) ” جب اس نے پکارا اس حال میں کہ وہ غم زدہ تھا۔ “ کَظِیْمٌ (فَعِیْلٌ کا وزن اسم المفعول کے معنی میں) : ہمیشہ سے غم زدہ۔ { وَابْیَضَّتْ عَیْنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ فَـھُوَ کَظِیْمٌ ۔ } (یوسف) ” اور سفید ہوئیں ان (علیہ السلام) کی دونوں آنکھیں غم سے اس حال میں کہ وہ مستقل غم زدہ ہیں۔ “ ترکیب :” لاَ تَاْکُلُوْا “ کا مفعول ” الرِّبٰوا “ ہے۔ مرکب ِ توصیفی ” اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” مَغْفِرَۃٍ “ نکرہ مخصوصہ ہے اور ” مِنْ رَّبِّکُمْ “ اس کی خصوصیت ہے۔ ” اِلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” جَنَّۃٍ “ مجرور ہے اور یہ بھی نکرہ مخصوصہ ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ “ گزشتہ آیت میں ” لِلْمُتَّقِیْنَ “ پر عطف ہے اور یہ پورا جملہ ان کی صفت ہے۔ ” لِلْمُتَّقِیْنَ “ کی صفت ہونے کی وجہ سے ” اَلْکٰظِمِیْنَ “ مجرور ہے اور یہ اسم الفاعل ہے ‘ اس کا مفعول ” اَلْغَیْظَ “ ہے۔ ” اَلْعَافِیْنَ “ بھی ” لِلْمُتَّقِیْنَ “ کی صفت ہے۔
Ayah 3:131

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے

[وَاتَّقُوا : اور تم لوگ بچو ] [النَّارَ الَّتِیْ : اس آگ سے جو ] [اُعِدَّتْ : تیار کی گئی ] [لِلْکٰفِرِیْنَ : انکار کرنے والوں کے لیے ]
Ayah 3:132

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول کا حکم مان لو، توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

[وَاَطِیْعُوا : اور تم لوگ اطاعت کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کی ] [وَالرَّسُوْلَ : اور ان رسول ﷺ ‘ کی ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ ] [تُرْحَمُوْنَ : تم لوگ رحم کیے جائو
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی

[وَسَارِعُوْآ : اور تم لوگ لپکو ] [اِلٰی مَغْفِرَۃٍ : ایک ایسی مغفرت کی طرف جو ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ہے ] [وَجَنَّۃٍ : اور ایک ایسی جنت کی طرف ] [عَرْضُہَا : جس کی چوڑائی ] [السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : آسمان اور زمین ہیں ] [اُعِدَّتْ : وہ تیار کی گئی ] [لِلْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں کے لیے ]
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں

[الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [فِی السَّرَّآئِ : خوشی میں ] [وَالضَّرَّآئِ : اور تکالیف میں ] [وَالْکٰظِمِیْنَ : اور جو روکنے والے ہیں ] [الْغَیْظَ : غیظ کو ] [وَالْعَافِیْنَ : اور جو درگزر کرنے والے ہیں ] [عَنِ النَّاسِ : لوگوں سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الْمُحْسِنِیْنَ : بلاکم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو او ر وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے

[وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [اِذَا : جب کبھی ] [فَعَلُوْا : کرتے ہیں ] [فَاحِشَۃً : کوئی کھلی گمراہی ] [اَوْ ظَلَمُوْآ : یا ظلم کرتے ہیں ] [اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [ذَکَرُوا : تو وہ لوگ یاد کرتے ہیں ] [اللّٰہَ : اللہ کو ] [فَاسْتَغْفَرُوْا : پھر ] [مغفرت چاہتے ہیں ] [لِذُنُوْبِہِمْ : اپنے گناہوں کی ] [وَمَنْ : اور کون ] [یَّغْفِرُ : بخشتا ہے ] [الذُّنُوْبَ : گناہوں کو ] [اِلاَّ اللّٰہُ : سوائے اللہ کے ] [وَلَمْ یُصِرُّوْا : اور وہ ہرگز نہیں اڑتے ] [عَلٰی مَا : اس پر جو ] [فَـعَلُوْا : انہوں نے کیا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [یَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوں ] س ن ن سَنَّ (ن) سَنًّا : کثیر المعانی لفظ ہے (1) چھری تیز کرنا ‘ دانت میں مسواک کرنا۔ (2) آہستہ آہستہ پانی گرانا ‘ گیلا کرنا۔ (3) کوئی طریقہ اختیار کرنا ‘ کسی طریقے کو عادت بنانا۔ مَسْنُوْنٌ (اسم المفعول) : پانی گرایا ہوا یعنی گیلا۔ { وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ } (الحجر) ” اور ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو ایسی کھنکتی مٹی سے جو گیلے گارے سے تھی۔ “ سِنٌّ (اسم ذات) : دانت۔ { وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ } (المائدۃ :45) ” اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت۔ “ سُنَّــۃٌ ج سُنَنٌ (اسم ذات) : طریقہ ‘ عادت ۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا ۔ } (الاحزاب) ” اور تو ہرگز نہیں پائے گا اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی۔ “ س ی ر سَارَ (ض) سَیْرًا : چلنا ‘ سفر کرنا۔ { وَّتُسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا ۔ } (الطور) ” اور چلیں گے پہاڑ جیسا کہ چلنے کا حق ہے۔ “ سِرْ ج سِیْرُوْا (فعل امر) : تو چل۔ (آیت زیر مطالعہ) سَیَّارَۃٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مؤنث) : بار بار چلنے والی۔ پھر اصطلاحاً قافلے اور قافلے والوں ‘ دونوں کے لیے آتا ہے۔ { وَجَائَ تْ سَیَّارَۃٌ} (یوسف :19) ” اور آیا ایک قافلہ۔ “ { وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّـکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِج } (المائدۃ :96) ” اور اس کا کھانا ایک سامان ہے تمہارے لیے اور قافلے والوں کے لیے۔ “ سِیْرَۃٌ : طور طریقہ ‘ خصلت۔ { سَنُعِیْدُھَا سِیْرَتَھَا الْاُوْلٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” ہم لوٹا دیں گے اس کو اس کی پہلی خصلت پر۔ “ سَیَّرَ (تفعیل) تَسْیِیْرًا : چلانا ‘ گھمانا پھرانا۔ { ھُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِط } (یونس :22) ” وہی ہے جو گھماتا پھراتا ہے تم لوگوں کو خشکی میں اور سمندر میں۔ “ ترکیب :” وَالَّذِیْنَ “ گزشتہ آیت میں ” لِلْمُتَّقِیْنَ “ پر عطف ہے۔ ” فَعَلُوْا “ سے ” اَنْفُسَھُمْ “ تک ” اِذَا “ کی شرط ہے۔ ” فَاحِشَۃً “ پر تائے مبالغہ ہے جیسے ” عَلَّامَۃٌ“ پر ہے۔ ” ذَکَرُوْا “ اور ” فَاسْتَغْفَرُوْا “ جوابِ شرط ہیں۔ ” خٰلِدِیْنَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس سے پہلے ” ھُمْ یَدْخُلُوْنَ “ محذوف ہے۔
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے

[اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [جَزَآؤُہُمْ : جن کی جزا ] [مَّغْفِرَۃٌ : مغفرت ہے ] [مِّنْ رَّ بِّہِمْ : ان کے رب (کی طرف) سے ] [وَجَنّٰتٌ : اور ایسے باغات ہیں ] [تَجْرِیْْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِیْنَ : (وہ لوگ داخل ہوں گے) ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِیْہَا : ان میں ] [وَنِعْمَ : اور کیا ہی اچھا ہے ] [اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ : عمل کرنے والوں کا اجر ]
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ اُن لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام و ہدایات کو) جھٹلایا

قَدْ خَلَتْ : گزرے ہیں ] [مِنْ قَبْلِکُمْ : تم لوگوں سے پہلے ] [سُنَنٌ : کچھ طریقے ] [فَسِیْرُوْا : تو تم لوگ چلو پھرو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [فَانْظُرُوْا : پھر دیکھو ] [کَیْفَ : کیسا ] [کَانَ : تھا ] [عَاقِـبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ : جھٹلانے والوں کا انجام ]
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں اُن کے لیے ہدایت اور نصیحت

[ہٰذَا : یہ ] [بَیَانٌ : ایک خطبہ ہے ] [لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [وَہُدًی : اور ہدایت ہے ] [وَّمَوْعِظَۃٌ: اور ایک نصیحت ہے ] [ لِّلْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں کے لیے ]
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو

[وَلاَ تَهِنُوْا : اور تم لوگ ہمت مت ہارو ] [وَلاَ تَحْزَنُوْا : اور تم لوگ غمگین مت ہو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمُ : تم لوگ ] [الْاَعْلَوْنَ : برتر ہو ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [مُّؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والے ہو ] و ھـ ن وَھَنَ (ض) وَھْنًا : (1) جسمانی طور پر کمزور ہونا ‘ سست ہونا۔ (2) ارادہ اور ہمت کا کمزور ہونا ‘ ہمت ہارنا۔ { وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ } (مریم :4) ” کمزور ہوئی ہڈی مجھ سے یعنی میری۔ “{ فَمَا وَھَنُوْا لِمَا اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } (آل عمران :146) ” تو وہ لوگ ہمت نہیں ہارے اس سے جو مصیبت آئی انہیں اللہ کی راہ میں۔ “ وَھْنٌ (اسم ذات) : کمزوری ‘ تکلیف۔ { حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ } (لقمٰن :14) ” اٹھایا اس کو اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف میں ہوتے ہوئے۔ “ اَوْھَنَ (افعال) اِیْھَانًا : کمزور کرنا۔ مُوْھِنٌ (اسم الفاعل) : کمزور کرنے والا۔ { وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ } (الانفال) ” اور یہ کہ اللہ کافروں کے دائوں کو کمزور کرنے والا ہے۔ “ ق ر ح قَرَحَ (ف) قَرْحًا : زخمی کرنا۔ قَرْحٌ (اسم ذات) : زخم ‘ چرکا۔ (آیت زیر مطالعہ) د و ل دَالَ (ن) دَوْلاً ‘ دُوْلَۃً اور دَوْلَۃً : زمانے کا ادل بدل ہونا ۔ یعنی جو حالت آج ایک کی ہے وہ کل دوسرے کی ہوجائے اور دوسرے کی حالت پہلے کی ہوجائے ‘ کسی چیز کا گردش میں ہونا۔ { کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَائِ مِنْکُمْط } (الحشر :7) ” تاکہ وہ نہ ہو گردش میں تم میں سے غنی لوگوں کے مابین۔ “ دَاوَلَ (مفاعلہ) مُدَاوَلَۃً : ادل بدل کرنا ‘ گردش دینا۔ (آیت زیر مطالعہ) م ح ص مَحَصَ (ف) مَحْصًا : کسی چیز کو کرید کر اس کے ناپسندیدہ اجزا کو الگ کرنا ‘ کسی چیز کو نکھارنا۔ مَحَّصَ (تفعیل) تَمْحِیْصًا : بتدریج نکھارنا ‘ کثرت سے یعنی بالکل نکھار دینا۔ (آیت زیر مطالعہ) ترکیب :” اَعْلَوْنَ “ افعل التفضیل ” اَعْلٰی “ کی جمع ہے۔ ” اَفْعَلُ “ کے وزن پر یہ ” اَعْلَیُ “ بنتا ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر ” اَعْلٰی “ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع ” اَفْعَلُوْنَ “ کے وزن پر ” اَعْلَیُوْنَ “ بنتی ہے جو قاعدے کے مطابق ” اَعْلَوْنَ “ استعمال ہوتی ہے۔ ” اَلْقَوْمَ “ پر لام تعریف ہے۔ ” لِیُمَحِّصَ “ کے لام ” کَـْی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” یَمْحَقَ “ منصوب ہے۔ ” لَمَّا “ جازمہ ہے اس لیے ” یَعْلَمِ “ دراصل ” یَعْلَمْ “ ہے۔ آگے ملانے کے لیے اسے کسرہ دی گئی ہے۔ جبکہ ” وَیَعْلَمَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ گزشتہ آیت کے لام ” کَـیْ “ پر عطف ہے۔ ” تَلْقَوْہُ “ اور ” رَاَیْتُمُوْہُ “ کی ضمیر مفعولی ” اَلْمَوْتَ “ کے لیے ہیں۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

ا ِس وقت اگر تمھیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں

[اِنْ یَّمْسَسْکُمْ : اگر لگا تم لوگوں کو ] [قَرْحٌ : کوئی چرکا ] [فَقَدْ مَسَّ : تو لگ چکا ہے ] [الْقَوْمَ : اس قوم کو ] [قَرْحٌ : ایک چرکا ] [مِّثْلُہٗ : اس کے جیسا ] [وَتِلْکَ الْاَیَّامُ : اور یہ دن ‘] [نُدَاوِلُہَا : ہم گردش دیتے ہیں ان کو ] [بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [وَلِیَعْلَمَ : اور (یہ اس لیے) کہ جان لے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَیَتَّخِذَ : اور تاکہ وہ بنائے ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [شُہَدَآئَ : گواہ ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [الظّٰلِمِیْنَ : ظالموں کو ]
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کر دینا چاہتا تھا

[وَلِیُمَحِّصَ : اور (اس لیے ) کہ نکھار دے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَیَمْحَقَ : اور تاکہ وہ گھٹائے ] [الْکٰفِرِیْنَ : کافروں کو ]
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں

[اَمْ حَسِبْتُمْ : کیا تم لوگوں نے خیال کیا ] [اَنْ تَدْخُلُوا : کہ تم لوگ داخل ہو گے ] [الْجَنَّـۃَ : جنت میں ] [وَ : حالانکہ ] [لَمَّا یَعْلَمِ : ابھی تک نہیں جانا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جنہوں نے ] [جٰہَدُوْا : جدوجہد کی ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [وَیَعْلَمَ : اور تاکہ وہ جان لے ] [الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم رہنے والوں کو ]
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے! مگر یہ اُس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی، لو اب وہ تمہارے سامنے آ گئی اور تم نے اُسے آنکھوں دیکھ لیا

[وَلَـقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ : اور بیشک تم لوگ تمنا کرچکے تھے ] [الْمَوْتَ : موت کی ] [مِنْ قَـبْلِ : اس سے پہلے اَنْ : کہ ] [تَلْقَوْہُ : تم لوگ سامنے آتے اس کے ] [فَقَدْ رَاَ یْتُمُوْہُ : تو تم لوگ دیکھ چکے اس کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَنْظُرُوْنَ : آنکھوں دیکھتے ہو ] نوٹ : آیت 140 میں ایام کو گردش دینے کا ایک مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ ہم میں سے کون سچ مچ ایمان لایا ہے۔ پھر آیت 142 میں ایک دوسرے پیرائے میں اس کا اعادہ کیا گیا کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ یہ نہ جان لے کہ کس نے اس کی راہ میں جدوجہد کی اور کون ثابت قدم رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے ‘ پھر اس کے جان لینے کا کیا مطلب ہے۔ اس بات کو سمجھ لیں۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے لیے عالم الغیب کے الفاظ آئے ہیں ‘ حالانکہ اللہ کے لیے تو غیب ہے ہی نہیں ‘ اس کے لیے تو ہر چیز ہر لمحہ الشہادۃ ہے۔ اس لیے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے عالم الغیب کے الفاظ کا استعمال ہماری نسبت سے کیا جاتا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کا بھی جاننے والا ہے جو ہمارے لیے غیب ہے۔ اسی طرح سے آیات زیر مطالعہ میں اور قرآن مجید میں دیگر مقامات پر ‘ جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کے لیے جان لینے کے الفاظ آئے ہیں ‘ وہ ہماری نسبت سے ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کو ہم نہیں جانتے انہیں اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے ‘ کھول دے یا ریکارڈ پر لے آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کے کچھ ظاہری اقوال یعنی دعوے اور وعدے ہوتے ہیں اور کچھ ظاہری اعمال ہوتے ہیں ‘ لیکن ان کے پیچھے کچھ باطنی کیفیات بھی ہوتی ہیں جن سے وہ شخص خود بھی اکثر اوقات پوری طرح باخبر نہیں ہوتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ قیامت میں فیصلہ کرتے وقت وہ اقوال و اعمال بھی شامل کیے جائیں گے جو ریکارڈ پر آئے اور ان کو مٹایا نہیں گیا ‘ یعنی عفو کی درخواست نہیں کی گئی۔ لیکن ان کے ساتھ باطنی کیفیات بھی شامل کی جائیں گی۔ اسی لیے بتادیا کہ جب لوگوں کو قبروں سے نکالا جائے گا تو جو کچھ ان کے سینوں یعنی جی میں تھا وہ بھی حاصل کرلیا جائے گا۔ (العٰدیٰت :9‘10) باطنی کیفیات کن عناصر پر مشتمل ہوتی ہیں ان کی وضاحت بہت مشکل ہے اور انسان کے تمام جذبات و احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنا ناممکن نہیں ہے۔ لیکن قرآن اور حدیث میں دو ایسے عناصر کی راہنمائی موجود ہے جو انسانی ذہن کی گرفت میں آسکتے ہیں۔ ایک انسان کا حقیقی نظریہ اور عقیدہ جو بعض اوقات اس کے ظاہر سے مختلف ہوتا ہے اور دوسرے اس کی نیت۔ باطنی کیفیات کی اصل ضرورت تو آخرت میں پڑے گی لیکن کبھی کسی فرد یا کسی اجتماعیت کے مفاد کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کی باطنی کیفیات میں سے کسی عنصر کو ظاہر کردیا جائے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جب ہماری اس ضرورت کو پورا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے طریقہ کار (procedure ) وہ ہے جسے ہم لوگ آزمائش کہتے ہیں۔ میدان احد میں مسلمانوں کی فتح کا شکست میں تبدیل ہوجانا بھی اسی طریقۂ کار کے تحت تھا تاکہ آئندہ مسلمان کوئی منصوبہ بندی کرتے وقت صرف افراد کی گنتی کو سامنے نہ رکھیں بلکہ ان میں باطنی کیفیات کے مختلف ہونے کی گنجائش بھی رکھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ مردم شماری کرائی تھی ‘ اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ پہلی مردم شماری میں عورتوں اور بچوں سمیت مسلمانوں کی کل تعداد 500 تھی اور دوسری میں 1500 تھی۔ آیت 141 میں ” مَحَّصَ “ کا ترجمہ ہم نے ” نکھارنا “ کیا ہے۔ اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ باطنی کیفیات میں اگر کہیں کوئی کمی ‘ خامی یا کجی رہ گئی ہے تو اسے دور کردیا جائے۔.
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا

[وَمَا مُحَمَّدٌ : اور نہیں ہیں محمد ] [اِلاَّ : مگر ] [رَسُوْلٌ : ایک رسول ] [قَدْ خَلَتْ : گزرے ہیں ] [مِنْ قَـبْلِہِ : ان ؐ سے پہلے ] [الرُّسُلُ : رسول (لوگ) ] [اَفَائِنْ : تو کیا اگر ] [مَّاتَ : وہ ﷺ بےجان ہوجائیں گے ] [اَوْ قُتِلَ : یا قتل کیے جائیں گے ] [انْقَلَبْتُمْ : تو تم لوگ پلٹ جائو گے ] [عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ : اپنی ایڑیوں پر ] [وَمَنْ : اور جو ] [یَّنْقَلِبْ : پلٹے گا ] [عَلٰی عَقِبَیْہِ : اپنی دونوں ایڑیوں پر ] [فَلَنْ یَّضُرَّ : تو وہ ہرگز نقصان نہیں کرے گا ] [اللّٰہَ : اللہ کا شَیْئًا : کچھ بھی ] [وَسَیَجْزِی : اور عنقریب جزا دے گا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الشّٰکِرِیْنَ : شکر کرنے والوں کو ] ترکیب :” مَا “ کا اسم ” مُحَمَّدٌ“ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور ” مُحَمَّدٌ“ کا بدل ہونے کی وجہ سے ” رَسُوْلٌ“ مرفوع ہے۔ ” خَلَتْ “ کا فاعل ” الرُّسُلُ “ ہے۔ ” اَفَائِنْ “ کا جوابِ شرط ” اِنْـقَـلَـبْتُمْ “ ہے ۔ ” وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ “ میں ” کَانَ “ کی خبر محذوف ہے جو کہ ” مُمْکِنًا “ ہوسکتی ہے۔ ” کِتَابًا مُّـؤَجَّلاً “ کو تفسیر حقانی میں فعل محذوف کا مفعول مطلق مانا گیا ہے ۔ لیکن ہماری ترجیح یہ ہے کہ اسے ظرف مانا جائے۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم اُن کی جزا ضرور عطا کریں گے

[وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے (ممکن) ] [لِنَفْسٍ : کسی جان کے لیے ] [اَنْ : کہ ] [تَمُوْتَ : وہ بےجان ہو ] [اِلاَّ : مگر ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کی اجازت سے ] [کِتٰـبًا مُّؤَجَّلاً : ایک لکھے ہوئے مقررہ وقت پر ] [وَمَنْ : اور جو یُّرِدْ : ارادہ کرتا ہے ] [ثَوَابَ الدُّنْیَا : دنیا کے بدلے کا ] [نُؤْتِہٖ : تو ہم دیتے ہیں اس کو ] [مِنْہَا : اس میں سے ] [وَمَنْ : اور جو ] [یُّرِدْ : ارادہ کرتا ہے ] [ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ : آخرت کے بدلے کا ] [نُؤْتِہٖ : تو ہم دیتے ہیں اس کو ] [مِنْہَا : اس میں سے ] [وَسَنَجْزِی : اور عنقریب ہم جزا دیں گے ] [الشّٰکِرِیْنَ : شکر کرنے والوں کو ]
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اِس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُن پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہیں ہوئے ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے

[وَکَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ : اور نبیوں میں سے کتنے ہی ہیں ] [قٰـتَلَ : قتال کیا ] [مَعَہٗ : جن کے ساتھ (مل کر) ] [رِبِّـیُّـوْنَ کَثِیْرٌ : بہت سے اللہ والوں نے ] [فَمَا وَہَنُوْا : تو وہ لوگ ہمت نہیں ہارے ] [لِمَآ : اس سے جو ] [اَصَابَہُمْ : پہنچی ان کو (کوئی تکلیف) ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [وَمَا ضَعُفُوْا : اور نہ کمزور ہوئے ] [وَمَا اسْتَـکَانُوْا : اور نہ جھکے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم رہنے والوں کو ] ک و ن کَانَ (ن) کَوْنًا : کسی چیز کا اپنا وجود پانا ‘ واقع ہونا ‘ ہوجانا۔ افعالِ ناقصہ میں سے ہے۔ کُنْ (فعل امر) : تو ہوجا۔{ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ } (الاعراف) ” اور تو ہوجا شکر کرنے والوں میں سے۔ “ مَکَانٌ (مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف) : واقع ہونے کی جگہ ‘ پھر مطلقاً جگہ ‘ ٹھکانہ وغیرہ کے معانی میں آتا ہے۔ { وَاِذَا بَدَّلْـنَا اٰیَۃً مَّـکَانَ اٰیَۃٍ } (النحل :101) ” اور جب ہم بدلتے ہیں کسی آیت کو کسی آیت کی جگہ۔ “{ اُولٰٓـئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا } (المائدۃ :60) ” وہ لوگ زیادہ برے ہیں ٹھکانے کے لحاظ سے ۔ “ اِسْتَـکَانَ (استفعال) اِسْتِکَانَۃً : عاجزی کرنا ‘ جھک جانا۔ (آیت زیر مطالعہ) س ر سَرَفَ (ن) سَرْفًا : کسی چیز کا ضرورت سے زیادہ ہونا۔ اَسْرَفَ (افعال) اِسْرَافًا : کسی چیز کو ضرورت سے زیادہ کرنا ‘ کسی کام میں حد سے تجاوز کرنا۔ { یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط } (الزمر :53) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے حد سے تجاوز کیا اپنے آپ پر ‘ تم لوگ مایوس مت ہو اللہ کی رحمت سے۔ “ مُسْرِفٌ (اسم الفاعل) : حد سے تجاوز کرنے والا۔ { وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ھُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ۔ } (المؤمن) ” اور یہ کہ حد سے تجاوز کرنے والے ہی آگ والے ہیں۔ “ ترکیب :” کَاَ یِّنْ “ یہاں کم خبریہ کے معنی میں آیا ہے۔ ” مِنْ نَّبِیٍّ “ اس کا اسم ہے۔ ” مَعَہٗ “ میں ” ٹہٗ “ کی ضمیر ” نَبِیٍّ “ کے لیے ہے۔ لفظی رعایت کے تحت ضمیر واحد آئی ہے لیکن کم خبریہ کا اسم ہونے کی وجہ سے اس میں جمع کا مفہوم ہے۔ ” قٰـتَلَ “ کا فاعل ” رِبِّیُّوْنَ “ ہے ‘ ” کَثِیْرٌ“ اس کی صفت ہے۔ ” کَثِیْرٌ“ واحد اور جمع دونوں کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع ” کَثِیْرُوْنَ “ بھی آتی ہے ‘ لیکن یہ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوئی۔ ” قَالُوْا رَبَّـنَا “ سے ” الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ “ تک پورا جملہ کَانَ کا اسم ہے اور ” قَوْلَھُمْ “ کَانَکی خبر مقدم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

ان کی دعا بس یہ تھی کہ، "اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر"

[وَمَا کَانَ : اور نہیں تھا ] [قَوْلَہُمْ : ان کا کہنا ] [اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ربَّـنَا : اے ہمارے رب ] [اغْفِرْ : تو بخش دے ] [لَـنَا : ہمارے لیے ] [ذُنُوْبَنَا : ہمارے گناہوں کو ] [وَاِسْرَافَنَا : اور ہمارے حد سے تجاوز کرنے کو ] [فِیْ اَمْرِنَا : ہمارے کام میں ] [وَثَـبِّتْ : اور تو جما دے ] [اَقْدَامَنَا : ہمارے قدموں کو ] [وَانْصُرْنَا : اور تو ہماری مدد کر ] [عَلَی الْقَوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ : کافروں کی قوم (کے مقابلہ) پر ]
Ayah 3:148

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

آخرکار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت بھی عطا کیا اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں

[فَاٰتٰٹہُمُ : تو دیا ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [ثَـوَابَ الدُّنْیَا : دنیا کا ثواب ] [وَحُسْنَ ثَـوَابِ الْاٰخِرَۃِ : اور آخرت کے ثواب کا حسن ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الْمُحْسِنِیْنَ : بلاکم وکاست کام کرنے والوں کو ]