Ayah 3:179[مَا کَانَ : نہیں ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [لِـیَذَرَ : کہ وہ چھوڑ دے ] [الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کو ] [عَلٰی مَـآ : اس پر ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [عَلَیْہِ : جس پر ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [یَمِیْزَ : وہ نمایاں کر دے ] [الْخَبِیْثَ : ناپاک کو ] [مِنَ الطَّـیِّبِ : پاکیزہ سے ] [وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [لِیُطْلِعَکُمْ : کہ وہ آگاہ کرے تم لوگوں کو ] [عَلَی الْغَیْبِ : غیب پر ] [وَلٰــکِنَّ : اور لیکن ] [اللّٰہَ : اللہ ] [یَجْتَبِیْ : منتخب کرتا ہے ] [مِنْ رُّسُلِہٖ : اپنے رسولوں میں سے ] [مَنْ : جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [فَاٰمِنُوْا : پس تم لوگ ایمان لائو ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [وَاِنْ تُـؤْمِنُوْا : اور اگر تم لوگ ایمان لائو ] [وَتَـتَّقُوْا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [فَـلَـکُمْ : تو تمہارے لیے ] [اَجْرٌ عَظِیْمٌ : ایک شاندار بدلہ ہے ]
م ی ز
مَازَ (ض) مَیْزًا : کسی کو کسی سے الگ کرنا ‘ نمایاں کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
تَمَیَّزَ (تفعّل) تَمَیُّزًا : پھٹ کر الگ ہونا ‘ پھٹ پڑنا۔ { تَـکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِط } (الملک :8) ” قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے شدید غصے سے۔ “
اِمْتَازَ (افتعال) اِمْتِیَازًا : کسی سے الگ ہونا ‘ نمایاں ہونا۔
اِمْتَزْ (فعل امر) : تو الگ ہو۔ { وَامْتَازُوا الْـیَوْمَ اَیـُّـھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ } (یٰسٓ) ” تم لوگ الگ ہو آج کے دن اے جرم کرنے والو۔ “
ط ل ع
طَلَعَ (ن) طُلُوْعًا : بلند ہو کر سامنے آنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ مثلاً : (1) چڑھنا ‘ (2) نکلنا۔ { وَتَرَی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ } (الکہف :17) ” اور تم دیکھتے ہو سورج کو جب وہ نکلتا ہے۔ “
طَلْعٌ (اسم ذات) : پھل نکلنے کا خوشہ ‘ کونپل۔ { وَزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُھَا ھَضِیْمٌ ۔ } (الشعرائ) ” اور کھیتیوں میں اور کھجوروں میں جن کی کونپل ملائم ہے۔ “
مَطْلَعٌ اور مَطْلِـعٌ (اسم الظرف) : نکلنے کی جگہ ‘ وقت۔ { حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ } (القدر) ” فجر کے نکلنے کے وقت تک “۔ { حَتّٰی اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ } (الکہف :90) ” یہاں تک کہ جب وہ پہنچا سورج کے نکلنے کی جگہ پر۔ “
اَطْلَعَ (افعال) اِطْلَاعًا : بلند کر کے سامنے لانا یعنی کسی کو کسی بات سے آگاہ کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِطَّلَعَ (افتعال) اِطِّلَاعًا : (1) چڑھنا۔ (2) کسی چیز پر چڑھ کر جھانکنا۔ (3) آگاہ ہونا۔ { نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ ۔ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـــٔـِدَۃِ ۔ } (الھمزۃ) ” اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جو چڑھتی ہے دلوں پر “۔ { فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْ اَطَّلِعُ اِلٰی اِلٰـہِ مُوْسٰیلا } (القصص :38) ” پھر تو بنا میرے لیے ایک بلند مکان شاید کہ میں جھانکوں موسیٰ کے الٰہ کی طرف “۔{ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَـآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ } (المآئدہ :13) ” اور تم ہمیشہ آگاہ رہو گے کسی خیانت پر ان کی طرف سے۔ “
مُطَّلِـعٌ (اسم الفاعل) : جھانکنے والا ‘ آگاہ ہونے والا۔ { ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰتٓ) ” کیا تم لوگ جھانکنے والے ہو۔ “
ج ب ی
جَبٰی (ض) جِبَایَۃً : ُ چن کر اکٹھا کرنا ‘ جیسے پھل یا چندہ وغیرہ۔ { یُّجْبٰی اِلَـیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْئٍ } (القصص :57) ” اکٹھا کیے جاتے ہیں اس کی طرف ہر چیز کے پھل۔ “
جِیَابَۃً ج جَوَّابٍ (اسم ذات) : پانی اکٹھا کرنے کا حوض۔ { وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ } (سبا :13) ” اور لگن حوضوں کی مانند۔ “
اِجْتَبٰی (افتعال) اِجْتِبَائً : (1) اہتمام سے ُ چن لینا ‘ منتخب کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ (2) کسی کو نوازنا۔ { ثُمَّ اجْتَبٰـٹہُ رَبُّـہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدٰی۔} (طٰہٰ ) ” پھر نوازا ان کو ان کے رب نے ‘ تو اس نے توبہ قبول کی ان کی اور ہدایت دی “۔ (3) کوئی مضمون تصنیف کرنا یعنی الفاظ اکٹھا کرنا۔ { وَاِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَــوْ لاَ اجْتَـبَیْتَھَاط } (الاعراف :203) ” اور جب کبھی آپ نہیں لاتے کوئی آیت تو وہ لوگ کہتے ہیں کیوں نہیں آپ نے تصنیف کیا اس کو۔ “
ب خ ل
بَخِلَ (س) بَخَلًا : جائز ضرورت پر خرچ نہ کرنا ‘ کنجوسی کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
بُخْلٌ (اسم ذات) : کنجوسی۔ { اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ } (النسآئ :37) ” وہ لوگ جو جائز خرچ نہیں کرتے اور ترغیب دیتے ہیں لوگوں کو کنجوسی کی۔ “
ترکیب :” لاَ یَحْسَبَنَّ ‘ ‘ کا فاعل ” اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ “ ہے۔ ” حَسِبَ “ کے دو مفعول آتے ہیں۔ یہاں ” لَا یَحْسَبَنَّ “ کا مفعول اوّل ” بُخْلًا “ محذوف ہے اور ” خَیْرًا “ اس کا مفعول ثانی ہے۔ اس کے ساتھ ” ھُوَ “ کی ضمیر ” بُخْلًا “ کے لیے ہے ۔
نوٹ : اللہ تعالیٰ اس صورت حال کو زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہنے دیتا کہ مسلمانوں کی جماعت میں مومن اور منافق خلط ملط رہیں۔ لیکن ان کی تمیز نمایاں کرنے کے لیے وہ یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا کہ غیب سے مؤمنوں ‘ کو منافقوں کے نام بتادے ‘ کیونکہ اس طرح منافقوں پر حجت قائم نہیں ہوگی اور ان کا دعویٰ برقرار رہے گا۔ اس لیے اللہ کے حکم سے ایسی آزمائشیں پیش آتی رہتی ہیں جن سے ایمان کی قلبی کیفیت عمل میں نمایاں ہوجاتی ہے۔
Ayah 3:180[وَلاَ یَحْسَبَنَّ : اور ہرگز گمان نہ کریں ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یَبْخَلُوْنَ : کنجوسی کرتے ہیں ] [بِمَآ : اس میں جو ] [اٰتٰـٹہُمُ : دیا ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ہُـوَ : (کہ) یہ ] [خَیْرًا : بہتر ہے ] [لَّــہُمْ : ان کے لیے ] [بَلْ ہُوَ : بلکہ یہ ] [شَرٌّ : نقصان دہ ہے ] [لَّـہُمْ : ان کے لیے ] [سَیُطَوَّقُــوْنَ : عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے ] [مَا : (اس کا) جو ] [بَخِلُوْا : انہوں نے کنجوسی کی ] [بِہٖ : جس میں ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا ترکہ ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِمَا : اس سے جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [خَبِیْرٌ: باخبر ہے ]
Ayah 3:181[لَقَدْ سَمِعَ : بیشک سن لیا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [قَوْلَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی بات جنہوں نے ] [قَالُوْآ : کہا ] [اِنَّ : کہ ] [اللّٰہَ : اللہ ] [فَقِیْرٌ : فقیر ہے ] [وَّنَحْنُ : اور ہم ] [اَغْنِیَـآئُ : مالدار ہیں ] [سَنَـکْتُبُ : ہم لکھ لیں گے ] [مَا : اس کو جو ] [قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [وَقَتْلَہُمُ : اور (لکھیں گے) ان کا قتل کرنا ] [الْاَنْبِیَـآئَ : نبیوں کو ] [بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [وَّنَـقُوْلُ : اور ہم کہیں گے ] [ذُوْقُوْا : تم لوگ چکھو ] [عَذَابَ الْحَرِیْقِ : بھڑکائی گئی آگ کا عذاب ]
ز ب ر
زَبُرَ (ک) زَبَارَۃً : بڑے جسم والا ہونا ‘ موٹا ہونا ‘ مضبوط ہونا۔ َ
زُبْرَۃً ج زُبَرٌ : لوہے کا بڑا ٹکڑا ‘ لوہے کی سل۔{ اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِط } (الکہف :96) ” تم لوگ لائو میرے پاس لوہے کی سلیں۔ “ َ
زَبُوْرٌ ج زُبُرٌ : (1) موٹے حروف میں لکھی ہوئی عبارت ‘ کتابچہ ‘ صحیفہ (2) کسی چیز کا ٹکڑا۔ { وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا ۔ } (النسائ) ” اور ہم نے دیا دائود کو ایک صحیفہ “۔{ فَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًاط } (المؤمنون :53) ” تو ان لوگوں نے بانٹا اپنے کام کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے۔ “
ترکیب :” سَنَـکْتُبُ “ کی ضمیر فاعلی ” اَللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” سَنَکْتُبُ “ پر عطف ہونے اور اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے ” قَتْلَھُمْ “ حالت نصب میں ہے اور مصدر ” قَتْلَ “ نے فعل کا کام کیا ہے۔” اَلْاَنْبِیَائَ “ اس کا مفعول ہے۔ ” وَنَقُوْلُ “ کی ضمیر فاعلی بھی ” اَللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” قَدَّمَتْ “ کا فاعل ” اَیْدِیْکُمْ “ ہے اور اس کی رفعی حالت ہے۔ ” تَاْکُلُہٗ “ کی ضمیر مفعولی ” بِقُرْبَانٍ “ کے لیے ہے اور ” اَلنَّارُ “ اس کا فاعل ہے۔
نوٹ 1: جب سورة البقرۃ کی آیت 245 نازل ہوئی کہ کون ہے جو اللہ کو قرضہ دے تو یہود اپنی مجالس میں مذاق کے طور پر کہتے تھے کہ آج کل اللہ تعالیٰ محتاج ہوگیا ہے ‘ اپنے غلاموں سے قرضہ مانگ رہا ہے (نعوذ باللہ) ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ ان کی یہ بات ان کے قتل انبیاء کے جرم کے ساتھ لکھی جائے گی۔
سوال یہ ہے کہ یہ بات کہنے والے مدینہ کے یہودی تھے جبکہ نبیوں کو قتل کرنے والے یہودی ان سے بہت ‘ پہلے گزر چکے تھے ‘ پھر ان کے جرم کو ان کی طرف کیسے منسوب کیا گیا ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود مدینہ اپنے سابق یہودیوں کے اس فعل کو درست قرار دیتے تھے اور اس پر خوش تھے اس لیے انہیں بھی قاتلوں کے ساتھ شمار کیا گیا ہے ۔
رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب بھی زمین پر کوئی گناہ کیا جاتا ہے ‘ تو جو شخص وہاں موجود ہو مگر اس گناہ کی مخالفت کرے اور اس کو برا سمجھے ‘ تو وہ ایسا ہے گویا وہاں موجود نہیں ‘ یعنی وہ ان کے گناہ کا شریک نہیں اور جو شخص اگرچہ وہاں موجود نہیں مگر ان کے اس فعل سے راضی ہے ‘ وہ باوجود غائب ہونے کے ان کا شریک گناہ سمجھا جائے گا ۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2: موجودہ دور میں ہمارے لیے اس میں مذکورہ بالا راہنمائی کے ساتھ ایک اور راہنمائی بھی ہے کہ کبھی مذاق میں بھی کوئی غلط بات نہیں کہنی چاہیے۔ کوئی پتہ نہیں کون سی بات لکھ لی جائے اور گناہ لازم ہوجائے۔
نوٹ 3: کسی بات کی نفی کو قطعی اور حتمی قرار دینے کے لیے کبھی لائے نفی جنس استعمال کرتے ہیں اور کبھی منفی جملے میں متعلقہ اسم المبالغہ لا کر یہ مفہوم ادا کرتے ہیں۔ جیسے آیت 182 میں ” ظَلَّامٌ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ ” فَعَّالٌ“ کا وزن ہے اور اس کا مطلب ہے بار بار اور کثرت سے ظلم کرنا۔ جب اس کی نفی کی جائے گی تو ظلم کرنے کی قطعی نفی ہوجائے گی۔ اس مفہوم کو ترجمہ میں ” ذرّہ برابر بھی “ سے ظاہر کیا گیا ہے۔
Ayah 3:182[ذٰلِکَ : یہ ] [بِمَا : اس سبب سے جو ] [قَدَّمَتْ : آگے بھیجا ] [اَیْدِیْـکُمْ : تمہارے ہاتھوں نے ] [وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [اللّٰہَ : اللہ ] [لَـیْسَ : نہیں ہے ] [بِظَلاَّمٍ : ذرّہ برابر بھی ظلم کرنے والا ] [لِّلْعَبِیْدِ : بندوں پر ]
Ayah 3:183[ اَلَّذِیْنَ : جنہوں نے ] [قَالُوْٓا : کہا ] [اِنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ نے ] [عَہِدَ اِلَـیْنَــآ : ہم سے عہد لیا ] [اَلاَّ نُؤْمِنَ : کہ ہم بات نہیں مانیں گے ] [لِرَسُوْلٍ : کسی رسول کی ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [یَاْتِیَنَا : وہ لائے ہمارے پاس ] [بِقُرْبَانٍ : ایک ایسی قربانی ] [تَاْکُلُہُ : کھاتی ہے جس کو ] [النَّارُ : آگ ] [قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [قَدْ جَآئَ کُمْ : آ چکے ہیں تمہارے پاس ] [رُسُلٌ : کچھ رسول ] [مِّنْ قَـبْلِیْ : مجھ سے پہلے ] [بِالْـبَــیِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [وَبِالَّذِیْ : اور اس کے ساتھ جو ] [قُلْتُمْ : تم لوگوں نے کہا ] [فَلِمَ : تو کیوں ] [قَتَلْتُمُوْہُمْ : تم لوگوں نے قتل کیا انہیں ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [صٰدِقِیْنَ : سچ کہنے والے ]
Ayah 3:184[فَاِنْ : پھر اگر ] [کَذَّبُوْکَ : انہوں نے جھٹلایا آپ ‘ کو ] [فَقَدْ کُذِّبَ : تو جھٹلائے جا چکے ہیں ] [رُسُلٌ : بہتیرے رسول ] [مِّنْ قَـبْلِکَ : آپ سے پہلے ] [جَآئُ ‘ وْ : وہ لوگ آئے ] [ بِالْبَـیِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [وَالزُّبُرِ : اور صحیفوں کے ساتھ ] [وَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ : اور روشنی دینے والی کتاب کے ساتھ ]
Ayah 3:185[ کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ : موت کو چکھنے والی ہے ] [وَاِنَّمَا : اور بات صرف اتنی ہے کہ ] [تُوَفَّوْنَ : تم لوگوں کو پورے پورے دیے جائیں گے ] [اُجُوْرَکُمْ : تمہارے اجر ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [فَمَنْ : پس جو ] [زُحْزِحَ : دور کیا گیا ] [عَنِ النَّارِ : آگ سے ] [وَاُدْخِلَ : اور داخل کیا گیا ] [الْجَنَّۃَ : جنت میں ] [فَقَدْ فَازَ : تو وہ کامیاب ہوا ہے ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَــآ : دنیوی زندگی ] [اِلاَّ : مگر ] [مَتَاعُ الْغُرُوْرِ : دھوکے کا سامان ]
و ز
فَازَ (ن) فَـوْزًا : (1) نجات پانا (2) کامیاب ہونا۔ آیت زیر مطالعہ۔
فَوْزٌ (اسم ذات بھی ہے) : نجات ‘ کامیابی۔ { وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔ } (التوبۃ) ” اور یہی شاندار کامیابی ہے۔ “
فَائِزٌ (اسم الفاعل) : نجات پانے والا ‘ کامیاب ہونے والا ۔ { وَاُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْفَـآئِزُوْنَ ۔ } (التوبۃ) ” اور وہ لوگ ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ “
مَفَازٌ (اسم الظرف) : نجات کی جگہ ‘ کامیابی کی جگہ ۔ { فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِج } (آل عمران :188) ” پس تو ہرگز گمان نہ کر ان کو کسی نجات کی جگہ میں ‘ عذاب سے “۔{ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا } (النبا) ” یقینا متقی لوگوں کے لیے ہی کامیابی کا ٹھکانہ ہے۔ “
ترکیب :” کُلُّ نَفْسٍ “ مرکب اضافی اور مبتدأ ہے جبکہ مرکب اضافی ” ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ “ اس کی خبر ہے۔ ” تُوَفَّوْنَ “ کا نائب فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اُجُوْرَکُمْ “ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” اُدْخِلَ “ کا نائب فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے اور ” اَلْجَنَّـۃَ “ مفعول ہے۔
نوٹ : ابھی آیت 184 میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی تھی کہ ان لوگوں کے جھٹلانے سے آپ پریشان نہ ہوں ‘ کیونکہ اسلام کے مخالفین کی یہ پرانی عادت ہے اور آپ ﷺ سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب اور تضحیک ہوتی آئی ہے۔ اب آیت 186 میں اہل ایمان کو خبردار کیا گیا ہے کہ ختم نبوت کے ساتھ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ تکذیب و استہزا اور آزمائشوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک اس زمین پر حق و صداقت کے نام لیوا موجود ہیں۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وقتی نقصانات اور تکالیف سے دلبرداشتہ ہو کر یا مخالفین کی مبالغہ آرائی ‘ جھوٹے پروپیگنڈے اور طنز و استہزاء کے طوفان بدتمیزی سے پریشان ہو کر اپنے موقف سے دستبردار مت ہونا۔ نیز ان کا جواب دینے میں اللہ کی حدود سے تجاوز مت کرنا ‘ ان کی کسی غلطی کو اپنی غلطی کا جواز مت بنانا اور اسلام کے معیار سے نیچے اتر کر ان کے جیسے اوچھے ہتھیار مت استعمال کرنا ‘ کیونکہ حوصلہ مند لوگوں کا یہ کام نہیں ہے۔
Ayah 3:186[لَتُـبْـلَوُنَّ : تم لوگوں کو لازماً آزمایا جائے گا ] [فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ : تمہارے اموال میں ] [وَاَنْفُسِکُمْ : اور تمہاری جانوں میں ] [وَلَـتَسْمَعُنَّ : اور تم لوگ لازماً سنو گے ] [مِنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی
الْـکِتٰبَ : کتاب ] [مِنْ قَـبْلِکُمْ : تم سے پہلے ] [وَمِنَ الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں سے جنہوں نے ] [اَشْرَکُوْٓا : شرک کیا
اَذًی کَثِیْرًا : بہت زیادہ اذیت (کی باتیں) ] [وَاِنْ تَصْبِرُوْا : اور اگر تم لوگ ثابت قدم رہے ] [وَتَـتَّقُوْا : اور تم لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ] [فَاِنَّ : تو یقینا ] [ذٰلِکَ : یہ ] [مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ : حوصلے کے کاموں میں سے ہے ]
Ayah 3:187[وَاِذْ : اور جب ] [اَخَذَ : پکڑا (یعنی لیا) ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا عہد جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی ] [الْـکِتٰبَ : کتاب (کہ) ] [لَتُـبَــیِّنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ : تم لوگ لازماً واضح کرو گے اس کو ] [وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗ : اور تم لوگ نہیں چھپائو گے اس کو (یعنی کتاب کو ) ] [فَـنَـبَذُوْہُ : تو انہوں نے پھینکا اس کو (یعنی عہد کو) ] [وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ : اپنی پیٹھوں کے پیچھے ] [وَاشْتَرَوْا : اور انہوں نے خریدا (یعنی حاصل کیا) ] [بِہٖ : اس کے (یعنی کتاب کے ) بدلے ] [ثَمَنًا قَلِیْلاً : تھوڑی قیمت کو ] [فَبِئْسَ : تو کتنا برا ہے ] [مَا : وہ جو ] [یَشْتَرُوْنَ : یہ لوگ خریدتے ہیں ]
ترکیب :” لَتُـبَـیِّنُـنَّہٗ “ اور ” تَـکْتُمُوْنَـہٗ “ کی مفعولی ضمیریں ” اَلْـکِتٰبَ “ کے لیے ہیں جبکہ ” فَـنَـبَذُوْہُ “ کی ضمیر مفعولی ” مِیْثَاقَ “ کے لیے ہے ۔
نوٹ 1: آیت 187 میں جس عہد کا حوالہ دیا گیا ہے وہ قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے۔ البتہ بائبل میں جگہ جگہ اس کا ذکر آتا ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں انہیں اپنے دل پر نقش کرنا ‘ آئندہ نسلوں کو سکھانا اور اٹھتے بیٹھتے ان کا چرچا کرنا (تفہیم القرآن) ۔ لیکن انہوں نے اس عہد کی پرواہ نہیں کی اور دنیا کمانے کے لیے نہ صرف تورات کے احکام کو چھپایا بلکہ اس میں تحریف بھی کی۔
نوٹ 2: کوئی نیک عمل کرنے کے بعد اس کی تشہیر کا اہتمام کرے ‘ تو عمل کرنے کے باوجود قواعد شرعیہ کی رو سے یہ مذموم ہے اور عمل نہ کرنے کی صورت میں تو اور بھی زیادہ مذموم ہے۔ البتہ طبعی طور پر یہ خواہش ہونا کہ میں فلاں نیک کام کروں اور نیک نام ہوں ‘ وہ اس میں داخل نہیں ہے جبکہ اس نیک نامی کا اہتمام نہ کرے۔ (معارف القرآن)
Ayah 3:188[لاَ تَحْسَبَنَّ : تو ہرگز گمان نہ کر ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [یَفْرَحُوْنَ : اتراتے ہیں ] [بِمَآ : اس پر جو
اَتَوْا : انہوں نے کیا ] [وَّیُحِبُّوْنَ : اور پسند کرتے ہیں ] [اَنْ : کہ ] [یُّحْمَدُوْا : ان کی تعریف کی جائے ] [بِمَا : اس پر جو ] [لَمْ یَفْعَلُوْا : انہوں نے کیا ہی نہیں ] [فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ : پس تو ہرگز گمان نہ کر ان کو ] [بِمَفَازَۃٍ : کسی نجات کی جگہ میں ] [مِّنَ الْعَذَابِ : عذاب سے ] [وَلَہُمْ : اور ان کے لیے ہی ہے ] [عَذَابٌ اَلِیْمٌ : ایک دردناک عذاب ]
Ayah 3:189[وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی حکومت ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ
عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْــرٌ: ہمیشہ سے قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 3:190[اِنَّ : یقینا ] [فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ] [وَاخْتِلَافِ الَّــیْلِ وَالنَّہَارِ : اور دن اور رات کے مختلف ہونے (یعنی آنے جانے) میں ] [لَاٰیٰتٍ : بیشک کچھ نشانیاں ہیں ] [لّاُولِی الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے ]
ج ن ب
جَنَبَ (ن) جَنْـبًا : پہلو پر مارنا ‘ کسی سے کسی چیز کو ہٹانا ‘ دُور کرنا۔
اُجْنُبْ (فعل امر) : تو دور کر ۔ { وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ۔ } (ابراھیم) ” تو دور کر دے مجھے اور میرے بیٹوں کو کہ ہم پرستش کریں بتوں کی۔ “
جَنِبَ (س) جَنَابَۃً : ناپاک ہونا۔ (اس حالت میں انسان دوسروں سے اور عبادات سے دور رہتا ہے) ۔
جَنَّبَ (تفعیل) تَجْنِیْبًا : کسی کو کسی چیز سے ہٹانا ‘ بچانا۔ { وَسَیُجَنَّـبُھَا الْاَتْقَی ۔ } (الیل) ” اور بچایا جائے گا اس سے زیادہ پرہیزگار کو۔ “
تَجَنَّبَ (تفعّل) تَجَنُّـبًا : دور ہونا۔ { وَیَتَجَنَّـبُھَا الْاَشْقَی ۔ } (الاعلٰی) ” اور دور ہوتا ہے اس سے زیادہ بدبخت۔ “
اِجْتَنَبَ (افتعال) اِجْتِنَابًا : کسی چیز سے اہتمام سے بچنا ‘ دور رہنا۔ { وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓــئِرَ الْاِثْمِ } (الشوریٰ :37) ” اور وہ لوگ جو دور رہتے ہیں کبیرہ گناہوں سے۔ “
اِجْتَنِبْ : تو بچ ‘ تو دور رہ۔ { وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔ } (الحج) ” اور تم لوگ دور رہو جھوٹی بات سے۔ “
جَنْبٌ ج جُنُوْبٌ : (1) پہلو ‘ کروٹ (2) پہلو والا ‘ قربت والا۔ { وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَــآئِمًاج } (یونس :12) ” اور جب کبھی چھوتی ہے انسان کو تکلیف تو وہ پکارتا ہے ہم کو اپنی کروٹ سے یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے “۔ { وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا } (النسآئ :36) ” اور کروٹ کے ساتھی سے اور مسافر سے۔ “
جُنُبٌ : (1) دوری والا (2) ناپاک۔ { وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ } (النسآ :36) ” اور دور کے پڑوسی اور قریبی ساتھی سے “۔ { وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُـبًا فَاطَّھَّرُوْاط } (المآئدۃ :6) ” اگر تم لوگ ناپاک ہو تو خوب پاک ہو جائو۔ “
جَانِبٌ (فَاعِلٌ کا وزن) : (1) کسی چیز کا کنارہ ۔ (2) کسی کی طرف ۔ { اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ } (بنیٓ اسرائیل :68) ” تو کیا تم لوگ امن میں ہوگئے اس سے کہ وہ دھنسا دے تمہارے ساتھ زمین کے کنارے کو “۔ { وَنَادَیْنٰـہُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ } (مریم :52) ” اور ہم نے آواز دی اس کو طور کی داہنی طرف سے۔ “
ترکیب : ” لَاٰیٰتٍ “ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور ” اِنَّ “ کا اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ ” فِیْ خَلْقِ “ سے ” وَالنَّھَارِ “ تک قائم مقام خبر ہے اور ” لِاُولِی الْاَلْبَابِ “ متعلق خبر ہے۔ ” قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا “ حال ہے ” اُولِی الْاَلْبَابِ “ کا۔” رَبَّـنَا مَا خَلَقْتَ “ سے پہلے ” فَـیَقُوْلُوْنَ “ محذوف ہے۔ ” خَلَقْتَ “ کا مفعول ” ھٰذَا “ ہے اور ” بَاطِلًا “ حال ہے ” ھٰذَا “ کا۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے اس لیے ” تُدْخِلِ “ مجزوم ہے۔
نوٹ 1 : اگر آپ کسی باغ (park) میں دیکھتے ہیں کہ گھاس اور پودے بےترتیبی سے جھاڑ جھنکاڑ کی طرح اگے ہوئے ہیں ‘ تو آپ کی عقل تسلیم کرے گی کہ یہ گھاس اور پودے خود بخود اُگ آئے ہیں اور ان کا کوئی مالی نہیں ہے۔ پھر آپ کسی دوسرے باغ میں دیکھتے ہیں کہ وہاں کی گھاس اور پودوں کے اگنے میں ایک نظم ‘ ترتیب اور حسن ہے ‘ تو آپ کی عقل تسلیم کرلے گی کہ اس باغ کا ایک مالی ہے ‘ خواہ وہ مالی کہیں نظر نہ آ رہا ہو۔ اس کائنات میں ہم دیکھتے ہیں کہ زمین ‘ چاند ‘ سورج ‘ سیارے ‘ یہاں تک کہ ایک حقیر سے ذرّے ایٹم کے اندر الیکٹرون تک گردش کر رہے ہیں۔ ہر چیز کی گردش دائیں سے بائیں جانب (anti clockwise ) ہے۔ ہر ایک کی گردش کا ایک مقررّہ مدار (orbit) ہے۔ ہر ایک کی شکل بیضوی ہے۔ باغ میں سب پودوں کو پانی ایک ہی دیا جاتا ہے لیکن پھل غذائیت اور ذائقے کے لحاظ سے مختلف آتے ہیں۔ دودھ دینے والے جانور چارہ کھاتے ہیں ‘ اسی سے خون بھی بنتا ہے اور گوبر بھی ‘ پھر انہی کے درمیان سے خالص دودھ نکلتا ہے۔ یہ اور ایسی بیشمار نشانیوں کے ذکر سے قرآن مجید بھرا پڑا ہے جن سے ہر دور کا انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق بہت آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتا ہے کہ یہ کائنات خود بخود وجود میں آنے والی چیز نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا ایک خالق اور مالک ہے ‘ خواہ ہم کو وہ نظر نہ آئے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہر ایک غیر متعصب ّذہن ایمان باللہ تک خود بخود رسائی حاصل کرسکتا ہے اور جس کے لیے وہ کسی نبی یا رسول کی دعوت کا محتاج نہیں ہے۔
نوٹ 2: کسی الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے کی کوشش میں جب ڈور کا سرا ہاتھ آجاتا ہے تو پھر اسے مضبوطی سے پکڑ کر ہم ڈور کو مزید سلجھاتے ہیں۔ اسی طرح ایمان باللہ تک رسائی ہوجانے کے بعد جب انسان اللہ کو یاد کرتے ہوئے کائنات پر مزید غور و فکر کرتا ہے ‘ تو اس کا ذہن کچھ مزید حقائق تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک تو کوئی اور ہے لیکن اس پر تصرف کا اختیار انسان کو حاصل ہے۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ انسان میں غلط اور صحیح کی تمیز اور ایک اخلاقی حس موجود ہے۔ لیکن صحیح پر انعام اور غلطی پر سزا نہیں ملتی۔ اخلاقی قوانین کا نتیجہ اوّل تو نکلتا نہیں اور اگر کبھی نکلتا بھی ہے تو وہ غیر متناسب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مادی قوانین کا نتیجہ لازمی نکلتا ہے ‘ البتہ اس کے ظہور میں وقفہ حائل ہوتا ہے۔ گندم کے بیج سے گندم ہی نکلتی ہے لیکن تین چار ماہ بعد۔ آم کے بیج سے آم ہی نکلتا ہے لیکن چار پانچ سال بعد۔ کھجور اور جامن کے بیج کا نتیجہ نکلنے میں تیس چالیس سال کا وقفہ حائل ہوتا ہے۔
یہ مشاہدہ ہر غیر متعصب ّذہن کو اس نتیجہ تک پہنچا دیتا ہے کہ اس کائنات پر تصرف ّکا اختیار اس کے خالق ومالک کی مرضی کے مطابق کرنے یا نہ کرنے کا نتیجہ اور دیگر اخلاقی قوانین کا نتیجہ لازماً نکلتا ہے ‘ البتہ اس کے ظہور میں ہر انسان کی اپنی زندگی کا وقفہ حائل ہوتا ہے جو عام طور پر ستر اسّی (70 ۔ 80) سال کا ہوتا ہے۔ ایک حکیمانہ قول کے مطابق جب کسی انسان کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے۔ اس طرح ہر ایک غیرمتعصب ذہن ایمان بالآخرۃ تک از خود رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
نوٹ 3: اپنے مشاہدے اور غور و فکر کے نتیجے میں جن لوگوں کا ذہن ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کا ایک اجمالی تصو ّر حاصل کرلیتا ہے ‘ ان کے سامنے جب کسی نبی یا رسول کی دعوت پیش کی جاتی ہے تو وہ لپک کر اس کو قبول کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے۔ پھر وہ نبی یا رسول علم ِ وحی کے ذریعے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کے اجمالی خاکے میں تفصیلات کا رنگ بھرتا ہے۔ اس طرح ایمانیاتِ ثلاثہ یعنی ایمان باللہ ‘ ایمان بالآخرہ اور ایمان بالرسالت کی تکمیل ہوتی ہے۔
Ayah 3:191[الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یَذْکُرُوْنَ : یاد کرتے ہیں ] [اللّٰہَ : اللہ کو ] [قِیٰمًا : کھڑے ہوئے ] [وَّقُعُوْدًا : اور بیٹھے ہوئے ] [وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ : اور اپنی کروٹوں پر ] [وَیَتَفَکَّرُوْنَ : اور سوچ بچار کرتے ہیں ] [فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں ] [رَبَّـنَا : (تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے ربّ ] [مَا خَلَقْتَ : تو نے نہیں پیدا کیا ] [ہٰذَا : اس کو ] [بَاطِلًا : بےمقصد ہوتے ہوئے ] [سُبْحٰنَکَ : (ہم پاکی بیان کرتے ہیں) تیری پاکی بیان کرنا ] [فَقِنَا : پس تو بچا ہم کو ] [عَذَابَ النَّارِ : آگ کے عذاب سے ]
Ayah 3:192[رَبَّـنَــآ : اے ہمارے ربّ ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [مَنْ : جس کو ] [تُدْخِلِ : داخل کرے گا ] [النَّارَ : آگ میں ] [فَقَدْ اَخْزَیْـتَہٗ : تو تو نے رسوا کردیا ہے اس کو ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [لِلظّٰلِمِیْنَ : ظالموں کے لیے ] [مِنْ اَنْصَارٍ : کسی قسم کا کوئی مددگار ]
Ayah 3:193[رَبَّــنَــآ : اے ہمارے رب ] [اِنَّــنَا : بیشک ہم نے ] [سَمِعْنَا : سنا ] [مُنَادِیًا : ایک آواز دینے والے کو جو ] [یُّـنَادِیْ : آواز دیتا ہے ] [لِلْاِیْمَانِ : ایمان کے لیے ] [اَنْ : کہ ] [اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لائو ] [بِرَبِّکُمْ : اپنے رب پر ] [فَاٰمَنَّا : توہم ایمان لائے ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [فَاغْفِرْلَـنَا : پس تو بخش دے ہمارے لیے ] [ذُنُوْبَنَا : ہمارے گناہوں کو ] [وَکَفِّرْ : اور تو دور کر دے ] [عَنَّا : ہم سے ] [سَیِّاٰتِنَا : ہماری برائیوں کو ] [وَتَوَفَّــنَا : اور تو موت دے ہم کو ] [مَعَ الْاَبْرَارِ : نیک لوگوں کے ساتھ ]
Ayah 3:194[رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [وَاٰتِنَا : اور تو عطا کر ہم کو ] [مَا : وہ جس کا ] [وَعَدْتَّــنَا : تو نے وعدہ کیا ہم سے
] [عَلٰی رُسُلِکَ : اپنے رسولوں (کی زبانی) ] [وَلَا تُخْزِنَا : اور تو رسوا مت کرنا ہم کو ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [لَا تُخْلِفُ : خلاف نہیں کرتا ] [الْمِیْعَادَ : وعدے کے ]
Ayah 3:195[فَاسْتَجَابَ : تو قبول کیا ] [لَہُمْ : ان کے لیے ] [رَبُّہُمْ : ان کے رب نے (ان کی دعا کو یہ کہتے ہوئے ) ] [اَنِّیْ : کہ میں ] [لَآ اُضِیْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [عَمَلَ عَامِلٍ : کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ] [مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [مِّنْ ذَکَرٍ : مذکر ہو ] [اَوْ اُنْثٰی : یا مؤنث ] [بَعْضُکُمْ : تم میں سے بعض ] [مِّنْ بَعْضٍ : بعض سے ہیں ] [فَالَّذِیْنَ : پس وہ لوگ جنہوں نے ] [ہَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [وَاُخْرِجُوْا : اور جو نکالے گئے ] [مِنْ دِیَارِہِمْ : اپنے گھروں سے ] [وَاُوْذُوْا : اور جن کو اذیت دی گئی ] [فِیْ سَبِیْلِیْ : میرے راستے میں ] [وَقٰـــتَلُوْا : اور جنہوں نے جنگ کی ] [وَقُتِلُوْا : اور قتل کیے گئے ] [لَاُکَفِّرَنَّ : تو میں لازماً دور کروں گا ] [عَنْہُمْ : ان سے ] [سَیِّاٰتِہِمْ : ان کی برائیوں کو ] [وَلَاُدْخِلَنَّہُمْ : اور میں لازماً داخل کروں گا ان کو ] [جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰـرُ : نہریں ] [ثَوَابًا : بدلہ ہوتے ہوئے ] [مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عِنْدَہٗ : اس کے پاس ہی ] [حُسْنُ الثَّوَابِ : اچھا بدلہ ہے ]
ترکیب :” مِنْ ذَکَرٍ “ کا ” مِنْ “ بیانیہ ہے اور ” مِنْکُمْ “ کی تفصیل کے لیے ہے۔ ” فَالَّذِیْنَ “ سے ” وَقُتِلُوْا “ تک صلہ موصول مل کر مبتدأ ہے۔ ” لَاُکَفِّرَنَّ “ سے ” جَنّٰتٍ “ تک اس کی خبر ہے۔ ” ثَوَابًا “ حال ہے اسی لیے منصوب ہے۔ ” لَا یَغُرَّنَّکَ “ کا فاعل ” تَقَلُّبُ “ ہے۔ ” فِی الْبِلَادِ “ متعلق ہے ” تَقَلُّبُ “ سے ‘ اور ” کَفَرُوْا “ سے متعلق نہیں ہے۔ ” مَتَاعٌ قَلِیْلٌ“ صفت موصوف مل کر خبر ہے۔ اس کا مبتدأ ” ھُوَ “ یا ” ذٰلِکَ “ محذوف ہے۔
Ayah 3:196[لاَ یَغُرَّنَّکَ : ہرگز دھوکہ نہ دے تجھ کو ] [تَقَـلُّبُ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا گھومنا پھرنا جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [فِی الْْبِلاَدِ : شہروں میں ]
Ayah 3:197[مَتَاعٌ قَلِیْلٌ : (یہ) تھوڑا سا سامان ہے ] [ثُمَّ : پھر ] [مََاْوٰٹہُمْ : ان کی منزل ] [جَہَنَّمُ : جہنم ہے ] [وَبِئْسَ : اور (وہ) کتنا برا ] [الْمِہَادُ : ٹھکانہ ہے ]
Ayah 3:198[لٰــکِنِ : لیکن ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [اتَّـقَوْا : تقویٰ اختیار کیا ] [رَبَّہُمْ : اپنے رب کا ] [لَـہُمْ : ان کے لیے ہی ] [جَنّٰتٌ : ایسے باغات ہیں ] [تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰـرُ : نہریں ] [خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہیں ] [فِیْہَا : ان میں ] [نُزُلاً : مہمان نوازی ہوتے ہوئے ] [مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ] [وَمَا : اور جو ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے پاس ہے ] [خَیْـرٌ : (وہ) بہتر ہے ] [لِّــلْاَبْرَارِ : نیک لوگوں کے لیے ]
ر ب ط
رَبَطَ (ض) رَبْطًا : کسی چیز کو مضبوطی سے باندھنا ‘ مضبوط کرنا۔ { وَلِـیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیُثَــبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ ۔ } (الانفال) ” تاکہ وہ مضبوط کرے تمہارے دلوں کو اور وہ جما دے اس سے قدموں کو۔ “
رِبَاطٌ (اسم ذات بھی ہے) : وہ چیز جسے مضبوط کیا گیا ہو ‘ کسی کام کے لیے تیار کیا گیا ہوا۔ { مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ } (الانفال :60) ” قوت میں سے اور تیار کیے ہوئے گھوڑوں میں سے۔ “
رَابَطَ (مفاعلہ) مُرَابَطَۃً اور رِبَاطًا : مقابلہ میں ہمیشگی کرنا ‘ ہمیشہ تیار رہنا۔
رَابِطْ (فعل امر) : تو مقابلے میں ہمیشہ مضبوط رہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 3:199[وَاِنَّ : اور بیشک ] [مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں وہ بھی ہیں ] [لَـمَنْ : یقینا جو ] [یُّؤْمِنُ : ایمان لاتے ہیں ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَمَـآ : اور اس پر جو ] [اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ] [اِلَـیْکُمْ : تم لوگوں کی طرف ] [وَمَـآ : اور اس پر جو ] [اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ] [اِلَـیْہِمْ : ان لوگوں کی طرف ] [خٰشِعِیْنَ : عاجزی کرنے والے ہوتے ہوئے ] [لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [لاَ یَشْتَرُوْنَ : وہ لوگ نہیں خریدتے (یعنی نہیں حاصل کرتے) ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کے بدلے ] [ثَمَنًا قَلِیْلاً : تھوڑی قیمت ] [اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [لَہُمْ : جن کے لیے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر ہے ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [اِنَّ : یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ ] [سَرِیْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے میں جلدی کرنے والا ہے ]
Ayah 3:200[یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [اصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَصَابِرُوْا : اور مدمقابل سے زیادہ ثابت قدمی دکھائو ] [وَرَابِطُوْا : اور مقابلے میں ہمیشہ مضبوط رہو ] [وَاتَّـقُوا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ ] [تُفْلِحُوْنَ : تم لوگ مراد حاصل کرو ]