Ayah 3:37[فَتَقَبَّـلَہَا : تو قبول کیا اس کو ] [رَبُّہَا : اس کے رب نے ] [بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ : خوبصورت قبول کرنا ] [وَّاَنْبَتَہَا : اور اس نے نشو و نما کی اس کی ] [نَــبَاتًا حَسَنًا : خوبصورت نشو و نما کرنا ] [وَّکَفَّلَہَا : اور اس نے کفیل بنایا ان کا ] [زَکَرِیَّا : زکریا (علیہ السلام) کو ] [کُلَّمَا : جب کبھی ] [دَخَلَ : داخل ہوتے ] [عَلَیْہَا : ان پر ] [زَکَرِیَّا : زکریا (علیہ السلام) ] [الْمِحْرَابَ : محراب میں ] [وَجَدَ : تو وہ پاتے ] [عِنْدَہَا : ان کے پاس ] [رِزْقًا : کچھ رزق ] [قَالَ : تو وہ کہتے ] [یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [لَکِ : تیرے لیے ] [ہٰذَا : یہ ہے ] [قَالَتْ : تو وہ کہتیں ] [ہُوَ : یہ ] [مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ہے ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ
یَرْزُقُ : رزق دیتا ہے ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [بِغَیْرِ حِسَابٍ : کسی حساب کے بغیر ]
کل
کَفَلَ (ن۔ ض) کَفْلًا : کسی شخص یا مال کا ضامن ہونا۔
کَفَالَۃً : کسی کی ضروریات کا ضامن ہونا ‘ رکھوالی کرنا ‘ کفالت کرنا۔ { ھَلْ اَدُلُّـکُمْ عَلٰی اَھْلِ بَیْتٍ یَّـکْفُلُوْنَہٗ لَـکُمْ } (القصص :12) ” کیا میں پتا بتائوں تم لوگوں کو ایک ایسے گھر والوں کا جو پال پوس دیں گے اس کو تمہارے لیے۔ “
کَفِیْلٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : (1) ضمانت دینے والا یعنی ضامن۔ (2) رکھوالی کرنے والا یعنی رکھوالا ‘ نگران۔ { وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًاط } (النحل :91) ” اور تم لوگ بنا چکے ہو اللہ کو اپنا ضامن۔ “
کِفْلٌ (اسم ذات) : (1) ضمانت۔ (2) حصہ (اچھے یا برے نتیجے میں) ۔ { وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّـکُنْ لَّـہٗ کِفْلٌ مِّنْھَاط } (النسائ :85) ” اور جو سفارش کرتا ہے ‘ کوئی بری سفارش ‘ تو ہوگا اس کے لیے ایک حصہ اس میں سے۔ “
ذَا الْکِفْلِ : ایک نبی کا نام ہے۔ { وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِط } (الانبیائ :85) ” اور اسماعیل (علیہ السلام) کو اور ادریس (علیہ السلام) اور ذو الکفل (علیہ السلام) کو۔ “
اَکْفَلَ (افعال) اِکْفَالاً : کسی کو کسی کی کفالت میں دینا۔
اَکْفِلْ (فعل امر) : تو کفالت میں دے۔ { فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا } (ص :23) ” پھر اس نے کہا تو میری کفالت میں دے اس کو۔ “
کَفَّلَ (تفعیل) تَـکْفِیْلًا : کسی کو کفیل بنانا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب :” تَقَبَّلَھَا “ اور ” اَنْبَتَھَا “ میں ضمیر مفعولی مریم کے لیے ہے اور ان کا فاعل ” رَبُّھَا “ ہے۔ ” بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ “ اور ” نَبَاتًا حَسَنًا “ ثلاثی مجرد سے مفعول مطلق آئے ہیں ‘ جبکہ فعل علی الترتیب باب تفعّل اور افعال سے آئے ہیں۔ (آل عمران :37 ‘ نوٹ :1) ” کَفَّلَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو رب کے لیے ہے۔ ” ھَا “ مفعول اور ” زَکَرِیَّا “ مفعول ثانی ہے۔ ” زَکَرِیَّا “ مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے ‘ اس لیے اس کی رفع ‘ نصب اور جر ظاہر نہیں ہوتی۔ ” کُلَّمَا “ حرفِ شرط ہے۔ ” دَخَلَ “ کا فاعل ” زَکَرِیَّا “ ہے۔ ” اَلْمِحْرَابَ “ ظرف ہے۔ ” وَجَدَ عِنْدَھَا “ جواب شرط ہے۔
Ayah 3:38[ھُنَالِكَ : وہیں ] [دَعَا : پکارا ] [زَکَرِیَّا : زکریا (علیہ السلام) نے ] [رَبَّہٗ : اپنے رب کو ] [قَالَ : انہوں نے کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ
ھَبْ : تو عطا کر ] [لِیْ : میرے لیے ] [مِنْ لَّدُنْکَ : اپنے خزانے سے ] [ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً : ایک پاکیزہ اولاد ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [سَمِیْعُ الدُّعَآئِ : دعا کا سننے والا ہے ]
Ayah 3:39[فَنَادَتْہُ : تو آواز دی ان (علیہ السلام) کو ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتوں نے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُوَ : وہ ] [قَــآئِمٌ : کھڑے تھے ] [یُّصَلِّیْ : نماز پڑھتے ہوئے ] [فِی الْْمِحْرَابِ : محراب میں ] [اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [یُـبَشِّرُکَ : بشارت دیتا ہے آپ (علیہ السلام) کو ] [بِیَحْیٰی : یحییٰ (علیہ السلام) کی ] [مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [بِکَلِمَۃٍ : ایک فرمان کی ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَسَیِّدًا : اور سردار ہوتے ہوئے ] [وَّحَصُوْرًا : اور عورتوں سے الگ ہوتے ہوئے ] [وَّنَبِیًّا : اور نبی ہوتے ہوئے ] [مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ : صالحین میں سے ]
ع ق ر
عَقَرَ (ض) عَقْرًا : (1) درخت کو جڑ سے کاٹنا۔ (2) چوپائے کی ٹانگیں کاٹنا۔ (3) اپنی نسل کاٹنا یعنی بانجھ ہونا۔ { فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ } (الاعراف :77) ” پھر ان لوگوں نے ٹانگیں کاٹیں اونٹنی کی۔ “
عَاقِرٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت) : کاٹنے والا۔ بانجھ (یہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” واو “ حالیہ ہے اور یہ ” ھُوَ “ کا حال ہے۔ جبکہ ” قَائِمٌ“ کا حال ” یُصَلِّیْ “ ہے۔ ” مُصَدِّقًا ‘ سَیِّدًا ‘ حُصُوْرًا ‘ نَبِیًّا “ یہ سب ” یَحْیٰی “ کے حال ہیں۔ ” یَـکُوْنُ “ کَانَ تامّہ ہے۔
نوٹ : ” بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ “ سے مراد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔
Ayah 3:40[قَالَ : انہوں نے کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [یَکُوْنُ : ہوگا ] [ لِیْ : میرے لیے ] [غُلٰـمٌ : کوئی لڑکا ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [قَدْ بَلَغَنِیَ : پہنچ چکا ہے مجھ کو ] [الْکِبَرُ : بڑھاپا ] [وَامْرَاَتِیْ : اور میری عورت ] [عَاقِرٌ : بانجھ ہے ] [قَالَ : (فرشتے نے) کہا ] [کَذٰلِکَ : اس طرح (ہی ہے) ] [اللّٰہُ : اللہ ] [یَفْعَلُ : کرتا ہے ] [مَا : وہ جو ] [یَشَآئُ : وہ چاہتا ہے ]
Ayah 3:41[قَالَ : (زکریا (علیہ السلام) نے) کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اجْعَلْ : تو بنا ] [لِّیْ : میرے لیے ] [اٰیَۃً : ایک نشانی ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اٰیَتُکَ : تیری نشانی ہے ] [اَلاَّ تُکَلِّمَ : کہ تو کلام نہیں کرے گا ] [النَّاسَ : لوگوں سے ] [ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ : تین دن ] [اِلاَّ : مگر ] [رَمْزًا : اشارے سے ] [وَاذْکُرْ : اور تو یاد کر ] [رَّبَّکَ : اپنے رب کو ] [کَثِیْرًا : کثرت سے ] [وَّسَبِّحْ : اور تو تسبیح کر ] [بِالْعَشِیِّ : شاموں کو ] [وَالْاِبْکَارِ : اور صبح سویرے ]
ر م ز
رَمَزَ (ن۔ ض) رَمْزًا : اشاروں میں بات سمجھانا ‘ اشارہ کرنا۔
رَمْزٌ (اسم ذات بھی ہے) : اشارہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ع ش و
عَشَا (ن) عَشْوًا : (1) آنکھ میں موتیا اترنے کی وجہ سے دھندلا نظر آنا۔ (2) کسی طرف سے آنکھ بند کرنا ‘ جی چرانا۔{ وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ } (الزخرف :36) ” اور جو آنکھ چراتا ہے رحمن کی یاد سے۔ “
عِشَائٌ : رات کی ابتدائی تاریکی ۔ { وَجَائُ وْ اَبَاھُمْ عِشَائً یَّـبْـکُوْنَ ۔ } (یوسف) ” اور وہ آئے اپنے والد کے پاس مغرب کے بعد روتے ہوئے۔ “
عَشِیَّۃٌ ج عَشِیٌّ : شام۔ { لَمْ یَلْبَثُوْا اِلاَّ عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰٹھَا ۔ } (النٰزعٰت) ” وہ لوگ نہیں ٹھہرے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے (وقت کا ایک حصہ) ۔ “
ترکیب :” اٰیَتُکَ “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” اَلاَّ تُکَلِّمَ “ ‘ ” اٰیَۃُ “ کا بدل ہے۔ ” اَلاَّ “ دراصل ” اَنْ لَا “ ہے اور ” اَنْ “ نے ” تُکَلِّمَ “ کو منصوب کیا ہے۔ اس کا مفعول ” النَّاسَ “ ہے۔ ” ثَلٰثَۃَ “ ظرف اور ” رَمْزًا “ مستثنیٰ منقطع یا متصل ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” وَاذْکُرْ “ کا مفعول مطلق ” ذِکْرًا “ محذوف ہے اور ” کَثِیْرًا “ اس کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
نوٹ : لفظ ” رَمْزٌ“ میں بنیادی مفہوم ہے ہونٹ کی حرکت سے اشارہ کر کے بات سمجھانا۔ جبکہ ابرو اور آنکھ سے اشارہ کر کے بات سمجھانے کو ” غَمْزٌ“ کہتے ہیں ‘ اور یہ لفظ باب تفاعل سے سورة المُطفّفین کی آیت 30 میں آیا ہے
Ayah 3:42[وَاِذْ : اور جب ] [قَالَتِ : کہا ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتوں نے ] [یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ نے ] [اصْطَفٰٹکِ : چن لیا آپ کو ] [وَطَہَّرَکِ : اور اس نے پاک کیا آپ کو ] [وَاصْطَفٰٹکِ : اور اس نے چنا آپ کو ] [عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کی عورتوں پر ]
Ayah 3:43[یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اقْنُتِیْ : آپ فرماں برداری کریں ] [لِرَبِّکِ : اپنے رب کی ] [وَاسْجُدِیْ : اور آپ سجدہ کریں ] [وَارْکَعِیْ : اور آپ رکوع کریں ] [مَعَ الرّٰکِعِیْنَ : رکوع کرنے والوں کے ساتھ ]
Ayah 3:44[ذٰلِکَ : یہ ] [مِنْ اَنْبَـآئِ الْغَیْبِ : غیب کی خبروں میں سے ہے ] [نُوْحِیْـہِ : ہم وحی کرتے ہیں اس کو ] [اِلَـیْکَ : آپ ﷺ ‘ کی طرف ] [وَمَا کُنْتَ : اور آپ ﷺ ‘ نہیں تھے ] [لَدَیْہِمْ : ان کے پاس ] [اِذْ : جب ] [یُلْقُوْنَ : وہ ڈالتے تھے ] [اَقْلاَمَہُمْ : اپنے قلم ] [اَیُّہُمْ : (کہ) ان میں سے کون ] [یَکْفُلُ : کفالت کرے گا ] [مَرْیَمَ : مریم کی ] [وَمَا کُنْتَ : اور آپ ﷺ ‘ نہیں تھے ] [لَدَیْہِمْ : ان کے پاس ] [اِذْ : جب ] [یَخْتَصِمُوْنَ : وہ لوگ ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے ]
و ح ی
وَحَی (ض) وَحْیًا : پوشیدہ پیغام بھیجنا ‘ الہام کرنا۔
وَحْیٌ (اسم ذات) : پوشیدہ پیغام ‘ الہام ‘ وحی۔ { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّـکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلاَّ وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا } (الشوریٰ :51) ” اور نہیں ہے کسی بشر کے لیے کہ کلام کرے اس سے اللہ مگر الہام سے یا پردے کے پیچھے سے ‘ یا وہ بھیجے ایک پیغامبر (یعنی فرشتہ) ۔ “
اَوْحٰی (افعال) اِیْحَائً : پوشیدہ پیغام بھیجنا ‘ الہام کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ (یہ ثلاثی مجرد کے ہم معنی ہے لیکن قرآن مجید میں افعال ثلاثی مجرد سے نہیں بلکہ باب افعال سے آئے ہیں) ۔
ک ھـ ل
کَھَلَ (ف) کُھُوْلًا : ادھیڑ عمر کا ہونا۔
کَھْلٌ : ادھیڑ عمری کا زمانہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” ذٰلِکَ “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر ” اَنْبَائٌ“ محذوف ہے۔ ” مِنْ اَنْبَائِ الْغَیْبِ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” نُوْحِیْہِ “ جملہ فعلیہ ہے اور ” ذٰلِکَ “ کی خبر ثانی ہے۔ ” اِلَیْکَ “ متعلق خبر ہے۔ ” اِسْمُہٗ “ مبتدأ ہے اور ” اَلْمَسِیْحُ “ اس کی خبر ہے ‘ جبکہ ” عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ “ بدل ہے ” اَلْمَسِیْحُ “ کا۔ ” وَجِیْھًا “ اور ” کَھْلًا “ حال ہیں۔
Ayah 3:45[اِذْ قَالَتِ : جب کہا ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتوں نے ] [یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [یُبَشِّرُکَ : بشارت دیتا ہے آپ کو ] [بِکَلِمَۃٍ : ایک فرمان کی ] [مِّنْہُ : اپنی طرف سے ] [اسْمُہُ : اس کا نام ] [الْمَسِیْحُ : مسیح (علیہ السلام) ہے ] [عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ ابن مریم ہیں ] [وَجِیْہًا : بلند رتبہ ہوں گے ] [فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ : اور (وہ ہوں گے) مقربین میں سے ]
Ayah 3:46[وَیُکَلِّمُ : اور وہ کلام کریں گے ] [النَّاسَ : لوگوں سے ] [فِی الْمَهْدِ : گہوارے میں ] [وَکَہْلاً : اور ادھیڑ عمر ہوتے ہوئے ] [وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ : اور (وہ ہوں گے) صالحین میں سے ]
نوٹ : یہاں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو معجزوں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ وہ گہوارے میں لوگوں سے کلام کریں گے۔ دوسرا یہ کہ ادھیڑ عمری کی حالت میں کلام کریں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ دودھ پیتے بچے کا کلام کرنا تو معجزہ ہے ‘ لیکن ادھیڑ عمری میں تو ہر شخص کلام کرتا ہے۔ اس کو معجزے کے طور پر بیان کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
یہ بات سب مانتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کے مطابق پھانسی دیے جانے کے وقت اور اسلامی عقیدے کے مطابق آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر 30 اور 35 سال کے درمیان تھی۔ اس طرح وہ ادھیڑ عمر کو پہنچے ہی نہیں۔ اب یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں اور ادھیڑ عمر کو پہنچیں۔ اس لیے جس طرح ان کا بچپن کا کلام معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمری کا کلام بھی معجزہ ہوگا۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 3:47[قَالَتْ : (بی بی مریم نے) کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [یَکُوْنُ : ہوگا ] [لِیْ : میرے لیے ] [وَلَدٌ : کوئی لڑکا ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [لَمْ یَمْسَسْنِیْ : چھوا ہی نہیں مجھ کو ] [بَشَرٌ : کسی بشر نے ] [قَالَ : (فرشتے نے) کہا ] [کَذٰلِکِ : اسی طرح ہی ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [یَخْلُقُ : پیدا کرتا ہے ] [مَا : اس کو جس کو ] [یَشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [اِذَا : جب کبھی ] [قَضٰٓی : وہ فیصلہ کرتا ہے ] [اَمْرًا : کسی کام کا ] [فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [یَـقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [لَـہٗ : اس سے ] [کُنْ : تو ہوجا ] [فَـیَکُوْنُ : پس وہ ہوجاتا ہے ]
نوٹ : ” کُنْ فَـیَکُوْنُ “ کا ہم لوگوں کے ذہن میں تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی حکم دیتا ہے تو وہ پلک جھپکتے ہی فوراً ہوجاتا ہے ‘ جبکہ ” فَـیَکُوْنُ “ کا یہ مطلب نہیں ہے۔ اس کا مطلب بس اتنا ہے کہ وہ ہوجاتا ہے ‘ خواہ فوری طور پر ہو یا کچھ وقت لگے۔ اب نوٹ کرلیں کہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ عالم امر میں اس کے احکام کی تعمیل فوری ہوتی ہے ‘ جبکہ عالم خلق میں تدریج کا اصول کارفرما ہے اور یہاں وقت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر کسان جب زمین میں بیج ڈالتا ہے تو کچھ بیج نہیں پھوٹتے ‘ کیونکہ انہیں حکم نہیں ملا۔ یہ وہ بیج ہیں جو ضائع ہوگئے۔ لیکن جن بیجوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوجاتا ہے کہ ” کُنْ “ یعنی تو درخت ہوجا ‘ تو ان کے اندر اس کیمیائی تبدیلی کا عمل فوری طور پر شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں بیج پھوٹتا ہے۔ یہ عالم امر ہے اور یہاں حکم کی تعمیل فوری ہے۔ لیکن کیمیائی تبدیلی کے نتیجے میں بیج کا پھوٹنا ‘ اکھوے کا نکلنا ‘ پودا بننا ‘ پھر درخت بننا اور پھل آنا ‘ یہ سب عالم خلق ہے۔ اس میں وقت لگتا ہے اور یہاں تدریج کا اصول کارفرما ہے۔
Ayah 3:48[وَیُعَلِّمُہُ : اور وہ علم دے گا ان (علیہ السلام) کو ] [الْکِتٰبَ : کتاب کا ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کا ] [وَالتَّوْرٰٹۃَ : اور تورات کا ] [وَالاِْنْجِیْلَ : اور انجیل کا ]
ترکیب : ” یُعَلِّمُہٗ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ‘ جبکہ ضمیر مفعولی ” ہٗ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہے اور یہ ” یُعَلِّمُ “ کا مفعول اوّل ہے۔ ” اَلْکِتٰبَ “ سے ” وَالْاِنْجِیْلَ “ تک مفعول ثانی ہیں۔
نوٹ (2) : حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تورات اور انجیل کی تعلیم دینے کا مطلب تو واضح ہے۔ لیکن یہاں ” الکتٰب “ اور ” الحِکمۃ “ کی تعلیم دینے سے کیا مراد ہے ‘ اس ضمن میں آراء مختلف ہیں۔ میرا ذہن شیخ الہند (رح) کی رائے کو ترجیح دیتا ہے کہ کتاب و حکمت سے مراد قرآن و سنت ہے ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ اس دنیا میں رسول اللہ ﷺ کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور قرآن و سنت کے مطابق احکام دیں گے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ انہیں قرآن و سنت کی تعلیم بھی دی جائے۔
Ayah 3:49[وَرَسُوْلاً : اور (وہ ہوں گے) ایک رسول ] [اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ : بنو اسرائیل کی طرف ] [اَنِّیْ : (وہ کہیں گے) کہ میں ] [قَدْ جِئْتُکُمْ : آیا ہوں تمہارے پاس ] [بِاٰ یَۃٍ : ایک نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ] [
اَ نِّیْ : کہ میں ] [اَخْلُقُ : بناتا ہوں ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [مِّنَ الطِّیْنِ : گارے سے ] [کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ : پرندوں کی شکل جیسا ] [فَاَنْفُخُ : پھر میں پھونکتا ہوں ] [فِیْہِ : اس میں ] [فَـیَکُوْنُ : تو وہ ہوجاتا ہے ] [طَیْرًا : اڑنے والا ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کی اجازت سے ] [وَاُبْرِیُٔ : اور میں شفا دیتا ہوں ] [الْاَکْمَہَ : پیدائشی اندھے کو ] [وَالْاَبْرَصَ : اور کوڑھی کو ] [وَاُحْیِ : اور میں زندہ کرتا ہوں ] [الْمَوْتٰی : مردہ کو ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کی اجازت سے ] [وَاُنَــبِّئُکُمْ : اور میں بتادیتا ہوں تم لوگوں کو ] [بِمَا : وہ ‘ جو ] [تَاْکُلُوْنَ : تم لوگ کھاتے ہو ] [وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [تَدَّخِرُوْنَ : تم لوگ ذخیرہ کرتے ہو ] [فِیْ بُیُوْتِکُمْ : اپنے گھروں میں ] [اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ : بیشک اس میں ] [لَاٰیَۃً : ایک نشانی ہے ] [لَّـکُمْ : تمہارے لیے ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [مُّؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والے ]
ط ی ن
طَانَ (ض) طَیْنًا : گارے سے دیوار لیپنا۔
طِیْنٌ (اسم ذات) : گارا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ھـ ی ء
ھَائَ (ض) ھَیْئَۃً : خوش شکل ہونا۔
ھَیْئَۃٌ (اسم ذات بھی ہے) : شکل ‘ حلیہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ھَیَّئَ (تفعیل) تَھْیِئَۃً : کسی کو شکل دینا ‘ یعنی کسی کام کا سامان مہیا کرنا ‘ اسباب پیدا کرنا۔ { وَیُھَیِِیْٔ
لَـکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَقًا ۔ } (الکہف) ” اور وہ اسباب پیدا کرے گا تمہارے لیے تمہارے کام میں آسانی کے۔ “
ھَیِّیْٔ (فعل امر) : تو سامان فراہم کر ‘ تو اسباب پیدا کر۔ { رَبَّنَا اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا ۔ } (الکہف) ” اے ہمارے ربّ ! تو عطا کر ہم کو اپنے خزانے سے کچھ رحمت اور تو اسباب پیدا کر ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کی راہ کے۔ “
نخ
نَفَخَ (ن) نَفْخًا : پھونک مارنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
نَفْخَۃٌ (اسم ذات) : پھونک ۔ { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ۔ } (الحاقّۃ) ” پھر جب پھونکی جائے گی صور میں پہلی پھونک۔ “
ک م ھـ
کَمِہَ (س) کَمْھًا : اندھا ہونا۔
اَکْمَہُ (افعل التفضیل) : زیادہ اندھا ‘ یعنی پیدائشی اندھا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ب ر ص
بَرِصَ (س) بَرَصًا : برص کا مریض ہونا۔
اَبْرَصُ (افعل التفضیل) : برص کا پرانا مریض ‘ کوڑھی۔ آیت زیر مطالعہ۔
ذ خ ر
ذَخَرَ (ف) ذَخْرًا : وقت ضرورت کے لیے جمع کرنا۔
اَذْخَرَ (افتعال) اِذِّخَارًا : مستقبل کے لیے اہتمام سے جمع کرنا ‘ ذخیرہ کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” رَسُوْلًا “ سے پہلے اگر ” یُبْعَثُ “ کو محذوف مانیں تو ” رَسُوْلًا “ اس کا مفعول ثانی ہے ‘ اور اگر ” یَـکُوْنُ “ کو محذوف مانیں تو ” رَسُوْلًا “ اس کی خبر ہے۔ دوسری صورت زیادہ قرین قیاس ہے۔ اسی طرح ” اَنِّیْ “ سے پہلے ” وَیَقُوْلُ “ محذوف ہے۔ ” تَدَّخِرُوْنَ “ مادہ ” ذ خ ر “ سے باب افتعال میں جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے۔ یہ اصلاً ” تَذْتَخِرُوْنَ “ تھا۔ پھر قاعدے کے مطابق افتعال کی ” تا “ کو ” ذ “ میں تبدیل کر کے ادغام کیا تو ” تَذَّخِرُوْنَ “ ہوا ‘ اور یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ پھر ’ ذ‘ کو ’ د ‘ میں تبدیل کرنا قرآن مجید کی خصوصیت ہے۔
Ayah 3:50[وَمُصَدِّقًا : اور تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [لِّمَا : اس کی جو ] [بَیْنَ یَدَیَّ : میرے سامنے ہے ] [مِنَ التَّوْرٰٹۃِ : تورات میں سے ] [وَلِاُحِلَّ : اور تاکہ میں حلال کروں ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [بَعْضَ الَّذِیْ : اس کے کچھ کو جو ] [حُرِّمَ : حرام کیا گیا ] [عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [وَجِئْتُکُمْ : اور میں آیا ہوں تمہارے پاس ] [بِاٰیَۃٍ : ایک نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ] [فَاتَّقُوا : پس تم لوگ تقویٰ کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [وَاَطِیْعُوْنِ : اور اطاعت کرو میری ]
ترکیب :” مُصَدِّقًا “ حال ہے۔ ” بَیْنَ یَدَیْنَ “ میں ” یَدَیْنَ “ مضاف بنا تو نون اعرابی گرگیا اور اس کی مضاف الیہ ” یائے متکلم “ آئی تو یہ ” یَدَیْ یَ “ ہوا۔ پھر دونوں ” یا “ کا ادغام کر کے ” یَدَیَّ “ بنا۔ ” اَطِیْعُوْا “ فعل امر ہے اور ” نِ “ ضمیر مفعولی ” نِیْ “ کا نون وقایہ ہے۔ دیکھئے البقرۃ کی آیت 40 کی ترکیب۔
نوٹ : آیات 49 اور 50 سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بعثت صرف بنواسرائیل کے لیے تھی ‘ تمام عالم کے لیے نہیں تھی۔ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے ‘ بلکہ شریعت موسوی کی تجدید کے لیے آئے تھے ۔ اور یہ کام انہوں نے اس تورات سے کیا جو اس زمانے میں یہودیوں کے پاس تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر صورت حال یہ تھی تو پھر ان (علیہ السلام) کا بعض حرام چیزوں کو حلال کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس ضمن میں دو آراء ہیں : ایک یہ کہ شریعت موسوی کے بعض سخت احکام میں نرمی کی ‘ جیسے ایام سبت کے احکام بہت سخت تھے ‘ جنہیں نرم کیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ علمائِ یہود کے اختلاف ‘ رہبانیت پسند لوگوں کے تشدد اور جہلاء کے توہم کی وجہ سے شریعت موسوی میں بعض ایسی چیزیں حرام قرار پا گئی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں کیا تھا ۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اس وقت کی موجود تورات کی سند پر ایسی چیزوں کو دوبارہ حلال کیا۔ آیت 50 میں ماضی مجہول کا لفظ ” حُرِّمَ “ آیا ہے جس سے دوسری رائے کو تقویت ملتی ہے ‘ لیکن پہلی رائے کو بھی غلط قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ میرے خیال کے مطابق اس امکان کو بھی رد نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مذکورہ دونوں کام کیے ہوں۔
Ayah 3:51[اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [رَبِّیْ : میرا رب ہے ] [وَرَبُّکُمْ : اور تمہارا رب ہے ] [فَاعْبُدُوْہُ : پس تم لوگ بندگی کرو اس کی ] [ہٰذَا : یہ ] [صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ : ایک سیدھا راستہ ہے ]
Ayah 3:52[فَلَمَّآ : پھر جب ] [اَحَسَّ : احساس کیا ] [عِیْسٰی : عیسیٰ (علیہ السلام) نے ] [مِنْہُمُ : ان لوگوں سے ] [الْکُفْرَ : انکار کا ] [قَالَ : (تو ) انہوں نے کہا ] [مَنْ : کون ] [اَنْصَارِیْ : میرا مددگار ہے ] [اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ] [قَالَ : کہا ] [الْحَوَارِیُّوْنَ : حواریوں نے ] [نَحْنُ : ہم ] [اَنْصَارُ اللّٰہِ : اللہ کے مددگار ہیں ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَاشْہَدْ : اور آپ (علیہ السلام) گواہی دیں ] [بِاَنَّا : کہ ہم ] [مُسْلِمُوْنَ : فرماں برداری قبول کرنے والے ہیں ]
ح س س
حَسَّ (ن) حَسًّا : جڑ سے اکھاڑنا ‘ قتل کرنا۔ { اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِہٖج } (آل عمران :152) ” جب تم لوگ قتل کرتے تھے ان کو اس کی اجازت سے۔ “
حَسَّ (ض) حِسًّا : حواسِ خمسہ کے ذریعہ کسی بات کا پتا چلنا ‘ محسوس ہونا۔
حَسِیْسٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہلکی اور پست آواز ‘ سرسراہٹ۔ { لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَاج } (الانبیائ :102) ” وہ لوگ نہیں سنیں گے اس کی سرسراہٹ۔ “
اَحَسَّ (افعال) اِحْسَاسًا : حواسِ خمسہ کے ذریعے پتاچلانا ‘ احساس کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
تَحَسَّسَ (تفعّل) تَحَسُّسًا : کوشش کر کے پتا چلانا ‘ سراغ لگانا۔
تَحَسَّسْ (فعل امر) : تو سراغ لگا۔ { یٰـبَـنِیَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْہِ } (یوسف :87) ” اے میرے بیٹو تم لوگ جائو پھر سراغ لگائو یوسف کا اور اس کے بھائی کا۔ “
Ayah 3:53[رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [بِمَآ : اس پر جو ] [اَنْزَلْتَ : تو نے اتارا ] [وَاتَّـبَعْنَا : اور ہم نے پیروی کی ] [الرَّسُوْلَ : ان رسول (علیہ السلام) کی ] [فَاکْتُبْنَا : پس تو لکھ دے ہم کو ] [مَعَ الشّٰہِدِیْنَ : گواہی دینے والوں کے ساتھ ]
Ayah 3:54[وَمَکَرُوْا : اور ان لوگوں نے چال چلی ] [وَمَکَرَ : اور تدبیر کی ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ : بہترین تدبیر کرنے والا ہے ]
م ک ر
مَکَرَ (ن) مَکْرًا : خفیہ تدبیر کرنا ‘ چال چلنا (اچھے اور برے ‘ دونوں مقصد کے لیے آتا ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔
مَکْرٌ (اسم ذات بھی ہے) : تدبیر ‘ چال۔ { وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیُٔ اِلاَّ بِاَھْلِہٖط } (فاطر :43) ” اور نہیں پڑتی بری چال مگر اپنے اہل پر (یعنی چال چلنے والے پر) ۔ “
مَاکِرٌ (اسم الفاعل) : تدبیر کرنے والا ‘ چال چلنے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 3:55[اِذْ قَالَ : جب کہا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [یٰـعِیْسٰٓی : اے عیسیٰ (علیہ السلام) ] [اِنِّیْ : بیشک میں ] [مُتَوَفِّیْکَ : پورا پورا لینے والا ] [ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [وَرَافِعُکَ : اور میں اٹھانے والا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [اِلَیَّ : اپنی طرف ] [وَمُطَہِّرُکَ : اور میں نجات دلانے والا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : انکار کیا ] [وَجَاعِلُ : اور میں بنانے والا ہوں ] [الَّذِیْنَ : ان کو جنہوں نے ] [اتَّـبَعُوْکَ : پیروی کی آپ (علیہ السلام) کی ] [فَوْقَ الَّذِیْنَ : ان سے اوپر جنہوں نے ] [کَفَرُوْآ : انکار کیا ] [اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن تک ] [ثُمَّ : پھر ] [اِلَیَّ : میری طرف ہی ] [مَرْجِعُکُمْ : تم لوگوں کا لوٹنا ہے ] [فَاَحْکُمُ : تب میں فیصلہ کروں گا ] [بَیْنَـکُمْ : تمہارے مابین ] [فِیْمَا : اس میں ] [کُنْتُمْ : تم لوگ ] [فِیْہِ : جس میں ] [تَخْتَلِفُوْنَ : اختلاف کرتے تھے ]
ترکیب : ” مَرْجِعُکُمْ “ مبتدأ مؤخر ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور قائم مقام خبر مقدم ہے۔ اس میں ” مَرْجِعٌ“ مصدر بھی ہوسکتا ہے اور اسم الظرف بھی۔ ہم مصدر ہونے کو ترجیح دیں گے۔ ” اُعَذِّبُ “ کا مفعول ” ھُمْ “ ہے اور ” عَذَابًا شَدِیْدًا “ مفعول مطلق ہے۔ ” مِنْ نّٰصِرِیْنَ “ کا ” مِنْ “ تبعیضیہ ہے۔
نوٹ : البقرۃ کی آیت 40 کی لغت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ باب تفعّل میں ” تَوَفّٰی ‘ یَتَوَفّٰی “ کے اصلی معنی ہیں ” پورا پورا لے لینا “۔ پھر اس سے موت دینا مراد لیا جاتا ہے جو کہ اس کے مجازی معنیٰ ہیں۔ اس آیت میں لفظ ” مُتَوَفِّیْ “ آیا ہے ‘ جو اس کا اسم الفاعل ہے۔ اس کے اصلی معنی ہیں پورا پورا لے لینے والا ‘ اور اس کے مجازی معنی ہیں موت دینے والا۔
اس قسم کے الفاظ کے متعلق اصول یہ ہے کہ عبارت یا جملہ میں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو کہ ایسے لفظ کے اصلی معنی لینا ممکن نہ ہو ‘ تب مجازی معنی لیے جاتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی ایسا قرینہ موجود ہو کہ مجازی معنی لینا ضروری ہو۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت نہ ہو تو پھر عام طور پر لفظ کے اصلی معنی ہی لیے جاتے ہیں۔
آیت زیر مطالعہ میں مذکورہ دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت موجود نہیں ہے۔ اس لیے اصولاً ” مُتَوَفِّیْکَ “ کا اصلی معنی ہی لیاجانا چاہیے۔ اب یہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ یہاں ایک ایسا قرینہ موجود ہے جس کی وجہ سے مجازی معنی لینا ممکن نہیں رہتا۔ اور وہ یہ ہے کہ ” اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ “ کے بعد ” وَرَافِعُکَ “ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ لفظ ” مُتَوَفِّیْ “ کا معنی ٔمراد ‘ یعنی صاحب کلام کا مطلب اگر ” موت دینے والا “ ہوتا تو پھر ” رَافِعُکَ “ کا اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس اضافے نے ” مُتَوَفِّیْ “ کے مجازی معنی کے امکان کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔
فعل ” رَفَعَ “ بھی دو معانی میں آتا ہے : (1) جسمانی طور پر اٹھا نا۔ (2) درجات یا رتبہ کے لحاظ سے بلند کرنا۔ قرآن مجید میں اس کے مختلف صیغے اور مشتقات 29 مقامات پر آئے ہیں ‘ کہیں پہلے اور کہیں دوسرے معنی میں۔ اس ضمن میں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں اس کے ساتھ ” اِلٰی “ کا صلہ صرف دو مقامات پر آیا ہے ‘ ایک آیت زیر مطالعہ میں اور دوسرا اسورۃ لنساء کی آیت 158 میں۔ دونوں جگہ پر یہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے لیے آیا ہے اور دونوں جگہ ” اِلٰی “ کی نسبت اللہ کی طرف ہے۔ اس کی وجہ سے یہ امکان ختم ہوجاتا ہے کہ مذکورہ دونوں مقامات پر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے رتبہ کی بلندی کا معنی لیاجائے۔ اس لیے اس آیت کا معنی ٔ مراد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو ان کے جسم کے ساتھ اللہ نے آسمان میں اٹھایا۔
جو لوگ اس آیت میں لفظ ” مُتَوَفِّیْ “ کا مطلب ” موت دینے والا “ لیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ امت کے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی اس کے یہی معنی لیے ہیں۔ یہ بات درست ہے ‘ لیکن انہوں ؓ نے آیت کے معنی ٔ مراد کو بھی قائم رکھا ہے۔ انہوں ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” میں آپ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لوں گا ‘ پھر آخر زمانہ میں آپ (علیہ السلام) کو طبعی طور پر وفات دوں گا “۔ (در منثور ‘ ج 2‘ ص 36‘ منقول از معارف القرآن) ۔ یعنی آیت کے الفاظ میں تقدیم و تأخیر ہے۔ پہلے ” رَافِعُکَ “ کا وقوع ہوگا اور اس کے بعد ” مُتَوَفِّیْکَ “ کا وقوع ہوگا۔
امام رازی (رح) نے نشاندہی کی ہے کہ بعض مصلحتوں کے تحت قرآن کریم میں اس طرح کی تقدیم و تأخیر بکثرت آئی ہے کہ جو واقعہ بعد میں ہونے والا تھا اس کو پہلے اور پہلے ہونے والے واقعہ کو بعد میں بیان فرمایا (تفسیر کبیر ‘ ج 2‘ ص 481 ‘ منقول از معارف القرآن) ۔ آیت زیر مطالعہ میں تقدیم و تأخیر کس مصلحت سے کی گئی ہے ‘ اس کی وضاحت معارف القرآن میں دی ہوئی ہے۔ خواہش مند حضرات وہاں سے مطالعہ کرلیں۔
اس طرح آیت زیر مطالعہ اور سورة النساء کی آیت 158 نص صریح ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو جسمانی طور پر آسمان میں اٹھایا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں واپس آنے کی سند بھی آیت زیر مطالعہ میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک سو سے زائد احادیث میں مختلف پیرائے میں جو خبریں دی گئی ہیں ان کی وجہ سے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا رفع جسمانی اور ان کی واپسی ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا تر ہوجاتی ہے۔
Ayah 3:56[فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : انکار کیا ] [فَاُعَذِّبُہُمْ : ان کو تو میں عذاب دوں گا ] [عَذَابًا شَدِیْدًا : ایک ] [شدید عذاب ] [فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [وَمَا لَہُمْ : اور ان کے لیے نہیں ہے ] [مِّنْ نّٰصِرِیْنَ : کسی قسم کا کوئی مدد کرنے والا ]
Ayah 3:57[وَاَمَّا الَّذِیْنَ : اور وہ جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [فَیُوَفِّیْہِمْ : ان کو تو وہ پورا پورا دے گا ] [اُجُوْرَہُمْ : ان کے اجر ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [الظّٰلِمِیْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
Ayah 3:58[ ذٰلِکَ : یہ ] [نَتْلُوْہُ : ہم پڑھ کر سناتے ہیں اسے ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ ‘ کو ] [مِنَ الْاٰیٰتِ : آیتوں میں سے ] [وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ : اور پُر حکمت نصیحت میں سے ]
ترکیب
ترکیب : ” مِنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” اَلذِّکْرِ الْحَکِیْمِ “ مجرور ہے۔
Ayah 3:59[اِنَّ : یقینا ] [مَثَلَ عِیْسٰی : عیسیٰ کی مثال ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے نزدیک ] [کَمَثَلِ اٰدَمَ : آدم کی مثال جیسی ہے ] [خَلَقَہٗ : اس نے پیدا کیا ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ تُرَابٍ : ایک مٹی سے ] [ثُمَّ : پھر ] [قَالَ : اس نے کہا ] [لَـہٗ : ان (علیہ السلام) سے ] [کُنْ : تو ہوجا ] [فَـیَکُوْنُ : پس وہ ہوگئے ]
ترکیب
” اِنَّ “ کا اسم ” مَثَلَ عِیْسٰی “ ہے اس لیے اس کا مضاف ” مَثَلَ “ منصوب ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ ” کَمَثَلِ اٰدَمَ “ قائم مقام خبر ہے اور ” عِنْدَ اللّٰہِ “ متعلق خبر ہے۔
Ayah 3:60[اَلْحَقُّ : حق ہے ] [مِنْ رَّبِّکَ : تیرے رب (کی طرف) سے ] [فَلاَ تَـکُنْ : تو آپ ﷺ ‘ نہ ہوں ] [مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ : شک کرنے والوں میں سے ]
Ayah 3:61[فَمَنْ : پھر جو ] [حَآجَّکَ : حجت کرے آپ ﷺ سے ] [فِیْہِ : اس میں ] [مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [جَآئَ کَ : آیا آپ ﷺ کے پاس ] [مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [فَقُلْ : تو آپ ﷺ ‘ کہیں ] [تَعَالَوْا : تم لوگ آئو ] [نَدْعُ : تو ہم پکاریں ] [اَبْنَآئَ نَا : اپنے بیٹوں کو ] [وَاَبْنَآئَ کُمْ : اور (تم) تمہارے بیٹوں کو ] [وَنِسَآئَ نَا : اور (ہم) اپنی عورتوں کو ] [وَنِسَآئَ کُمْ : اور (تم) تمہاری عورتوں کو ] [وَاَنْفُسَنَا : اور (ہم) اپنی جانوں کو ] [وَاَنْفُسَکُمْ : اور (تم) تمہاری جانوں کو ] [ثُمَّ نَـبْتَہِلْ : پھر ہم گڑگڑائیں ] [فَنَجْعَلْ : پھر ہم بنائیں (یعنی بھیجیں) ] [لَّـعْنَتَ اللّٰہِ : اللہ کی لعنت ] [عَلَی الْکٰذِبِیْنَ : جھوٹ کہنے والوں پر ]
ب ھـ ل
بَھَلَ (ف) بَھْلاً : کسی کو آزاد چھوڑنا۔
اِبْتَھَلَ (افتعال) اِبْتِھَالًا : اہتمام سے آزاد ہونا ‘ آزادی سے کھل کر التجا کرنا ‘ گڑگڑانا ‘ آیت زیرمطالعہ۔
ترکیب : فعل امر ” تَعَالَوْا “ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے ” نَدْعُ ۔ نَـبْتَھِلْاور نَجْعَلْ “ مجزوم ہوئے ہیں۔” اِنَّ “ کا اسم ” ھٰذَا “ ہے۔ ” اِنَّ “ کی خبر پر تاکید مزید کے لیے اکثر لام تاکید لگا دیتے ہیں۔ وہی لام تاکید یہاں ضمیر فاصل ” ھُوَ “ پر آیا ہے اور ” اَلْقَصَصُ الْحَقُّ “ خبر معرفہ ہے۔ ” مِنْ اِلٰـہٍ “ کا ” مِنْ “ مزید عموم کے لیے ہے۔
Ayah 3:62[اِنَّ ہٰذَا : بیشک یہ ] [لَہُوَ : لازماً یہی ] [الْقَصَصُ الْحَقُّ : سچا قصہ ہے ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [مِنْ اِلٰہٍ : کسی قسم کا کوئی الٰہ ] [اِلاَّ اللّٰہُ : سوائے اللہ کے ] [وَاِنَّ اللّٰہَ : اور یقینا اللہ ] [لَہُوَ : لازماً وہی ] [الْعَزِیْزُ : بالادست ہے ] [الْحَکِیْمُ ] [حکمت والا ہے ]
Ayah 3:63[فَاِنْ : پھر اگر ] [تَوَلَّوْا : وہ لوگ روگردانی کریں ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ (تو) ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [بِالْمُفْسِدِیْنَ : فساد پھیلانے والوں کو ]
Ayah 3:64[قُلْ : آپ ‘ؐ کہیے ] [یٰٓـــاَہْلَ الْـکِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [تَـعَالَوْا : تم لوگ آئو ] [اِلٰی کَلِمَۃٍ : ایک ایسے کلمے کی طرف جو ] [سَوَآئٍ : یکساں ہے ] [بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ : ہمارے اور تمہارے درمیان ] [اَلاَّ نَعْبُدَ : کہ ہم بندگی نہ کریں ] [اِلاَّ اللّٰہَ : مگر اللہ کی ] [وَلاَ نُشْرِکَ : اور (یہ) کہ ہم شرک نہ کریں ] [بِہٖ : اس کے ساتھ ] [شَیْئًا : ذرا سا بھی ] [وَّلاَ یَتَّخِذَ : اور (یہ) کہ نہ بنائے ] [بَعْضُنَا : ہم میں کا کوئی ] [بَعْضًا : کسی کو ] [اَرْبَابًا : پرورش کرنے والا ] [مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے سوا ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [تَوَلَّوْا : وہ لوگ روگردانی کریں ] [فَقُوْلُوا : تو تم لوگ کہو ] [اشْہَدُوْا : گواہ رہو ] [بِاَنَّا : کہ ہم تو ] [مُسْلِمُوْنَ : اطاعت شعاری کرنے والے ہیں ]
ترکیب :” کَلِمَۃٍ “ نکرہ مخصوصہ ہے اور ” سَوَائٍ “ اس کی خصوصیت ہے۔ ” اَلاَّ “ دراصل ” اَنْ “ اور ” لاَ “ ہے اور اس میں لائے نفی ہے ‘ اس لیے ” اَنْ “ نے ” نَعْبُدَ “ کو منصوب کیا ہے۔ ” نُشْرِکَ “ اور ” یَتَّخِذَ “ ” اَنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” یَتَّخِذَ “ کا فاعل ” بَعْضُنَا “ ہے۔ ” بَعْضًا “ اس کا مفعول اوّل اور ” اَرْبَابًا “ مفعول ثانی ہے۔” ھَا “ کلمۂ تنبیہہ ہے۔ ” اَنْتُمْ “ مبتدأ ہے اور ” ھٰؤُلَائِ “ اس کی خبر ہے۔ ” حَاجَجْتُمْ “ خبر کا بدل ہے اس لیے ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” لَـیْسَ “ کا اسم ” عِلْمٌ“ ہے ‘ اس کی خبر ” مَوْجُوْدًا “ محذوف ہے اور ” لَـکُمْ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔
نوٹ (1) : کسی اور کو رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت کی جائے۔ (ابن کثیر)
Ayah 3:65[یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [لِمَ : کیوں ] [تُحَآجُّوْنَ : تم لوگ حجت کرتے ہو ] [فِیْ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) (کے بارے) میں ] [وَمَآ : حالانکہ نہیں ] [اُنْزِلَتِ : اتاری گئی ] [التَّوْرٰٹۃُ : تورات ] [وَالْاِنْجِیْلُ : اور انجیل ] [اِلاَّ مِنْم بَعْدِہٖ : مگر ان (علیہ السلام) کے بعد ] [اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے ]
Ayah 3:66[ھٰٓانتم : سن لو ! تم لوگ ] [ھٰٓؤُلَاۗءِ : وہ ہو ] [حَاجَجْتُمْ : جو حجت کرتے ہو ] [فِیْمَا : اس میں ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [بِہٖ : جس میں ] [عِلْمٌ : ایک علم ہے ] [فَلِمَ : پھر کیوں ] [تُحَآجُّوْنَ : تم لوگ حجت کرتے ہو ] [فِیْمَا : اس میں ] [لَـیْسَ : نہیں ہے ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [بِہٖ : جس میں ] [عِلْمٌ : کوئی علم ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ ] [لاَ تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے ہو ]
Ayah 3:67[مَا کَانَ : نہیں تھے ] [اِبْرٰہِیْمُ : ابراہیم (علیہ السلام) ] [یَہُوْدِیًّا : یہودی ] [وَّلاَ نَصْرَانِیًّا : اور نہ ہی نصرانی ] [وَّلٰـکِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [کَانَ : وہ تھے ] [حَنِیْفًا : یکسو ] [مُّسْلِمًا : فرماں بردار ] [وَمَا کَانَ : اور وہ نہیں تھے ] [مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ : شرک کرنے والوں میں سے ]
ترکیب : ” یَھُوْدِیًّا۔ نَصْرَانِیًّا۔ حَنِیْفًا اور مُسْلِمًا “ یہ سب ” کَانَ “ کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ “ میں ” اَوْلٰی “ تفضیل کل ہے اور یہ پورا فقرہ ” اِنَّ “ کا اسم ہے۔ ” لَـلَّذِیْنَ “ کا ” ل “ لامِ تاکید ہے۔ ” اِنَّ “ کی خبر اوّل ” لِلَّذِیْنَ اتَّـبَعُوْہُ “ ہے۔ ” وَھٰذَا النَّبِیُّ “ خبر ثانی ہے اور ” وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ خبر ثالث ہے۔
Ayah 3:68[اِنَّ : بیشک ] [اَوْلَی النَّاسِ : لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ] [بِاِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) سے ] [لَلَّذِیْنَ : لازماً وہ لوگ ] [ہیں جنہوں نے ] [اتَّـبَعُوْہُ : پیروی کی ان (علیہ السلام) کی ] [وَہٰذَا النَّبِیُّ : اور یہ نبی ﷺ ہیں ] [وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ ہیں جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے (ان نبی ﷺ پر) ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کا کارساز ہے ]
Ayah 3:69[وَدَّتْ : آرزو کی ] [طَّـآئِفَۃٌ : ایک جماعت نے ] [مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [لَوْ : کاش ] [یُضِلُّوْنَـکُمْ : وہ لوگ ] [گمراہ کردیں تم لوگوں کو ] [وَمَا یُضِلُّوْنَ : اور وہ گمراہ نہیں کرتے ] [اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ : مگر اپنے آپ کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [مَا یَشْعُرُوْنَ : وہ لوگ شعور نہیں رکھتے ]
Ayah 3:70[يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [لِمَ : کیوں ] [تَکْفُرُوْنَ : تم لوگ انکار کرتے ہو ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کا ] [وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ : تم لوگ گواہی دیتے ہو ]
ترکیب :” اٰمِنُوْا “ کا مفعول ” بِالَّذِیْ اُنْزِلَ “ ہے۔ ” وَجْہَ النَّھَارِ “ میں ” وَجْہَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اسی طرح ” اٰخِرَ “ بھی ظرف ہے اور اس کے ساتھ ” ھٗ “ کی ضمیر ” اَلنَّھَارِ “ کے لیے ہے۔ ” لَـعَلَّھُمْ “ کی ضمیر ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ کے لیے ہے۔
Ayah 3:71[يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل لکتاب ] [لِمَ : کیوں ] [تَلْبِسُوْنَ : تم لوگ گڈمڈ کرتے ہو ] [الْحَقَّ : حق کو ] [بِالْبَاطِلِ : باطل کے ساتھ ] [وَتَکْتُمُوْنَ : اور چھپاتے ہو ] [الْحَقَّ : حق کو ] [وَ : حالانکہ ] [اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جانتے ہو ]
Ayah 3:72[وَقَالَتْ : اور کہا ] [طَّــآئِفَۃٌ : ایک جماعت نے ] [مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لائو ] [بِالَّذِیْ : اس پر جو ] [اُنْزِلَ : اُتارا گیا ] [عَلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں پر جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَجْہَ النَّہَارِ : دن کے شروع میں ] [وَاکْفُرُوْآ : اور انکار کرو ] [اٰخِرَہٗ : اس کے آخر میں ] [لَـعَلَّہُمْ : شاید وہ لوگ ] [یَرْجِعُوْنَ : لوٹ آئیں ]
Ayah 3:73[وَلاَ تُؤْمِنُوْآ : اور (جماعت نے کہا) تم لوگ بات مت مانو ] [اِلاَّ : مگر ] [لِمَنْ : اس کی جو ] [تَبِعَ : چلا
دِیْنَـکُمْ : تمہارے دین پر ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اِنَّ : یقینا ] [الْہُدٰی : اصل ہدایت ] [ہُدَی اللّٰہِ : اللہ کی ہدایت ہے ] [اَنْ : (اور نہ مانو) کہ ] [یُّؤْتٰٓی : دیا جائے گا ] [اَحَدٌ : کسی ایک کو ] [مِّثْلَ مَآ : اس کے جیسا جو ] [اُوْتِیْتُمْ : دیا گیا تم کو ] [اَوْ : یا ] [یُحَآجُّوْکُمْ : (یہ کہ) وہ لوگ حجت کریں گے تم سے ] [عِنْدَ رَبِّکُمْ : تمہارے رب کے پاس ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اِنَّ : یقینا ] [الْفَضْلَ : فضل ] [بِیَدِ اللّٰہِ : اللہ کے ہاتھ میں ہے ] [یُؤْتِیْہِ : وہ دیتا ہے اسے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَاسِعٌ : وسعت والا ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
ترکیب : ” وَلَا تُؤْمِنُوْا “ کا وائو گزشتہ آیت میں ” وَقَالَتْ طَّائِفَۃٌ“ پر عطف ہے اور ” تُؤْمِنُوْا “ کے بعد ” لِ “ کا صلہ آیا ہے۔ ترجمہ اس کے لحاظ سے ہوگا۔ (دیکھیں البقرۃ :55‘ نوٹ 1) ۔ ” اِنَّ “ کا اسم ” اَلْھُدٰی “ ہے اور اس پر لام جنس ہے ‘ جبکہ ” ھُدَی اللّٰہِ “ خبر ہے اور یہ درمیان میں جملۂ معترضہ ہے۔ ” اَنْ یَّؤْتٰی “ میں ” اَنْ “ پیچھے ” وَلَا تُؤْمِنُوْا “ پر عطف ہے اور ” اَنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے آگے ” یُحَاجُّوْا “ منصوب ہوا ہے۔
Ayah 3:74[یَّخْتَصُّ : وہ مخصوص کرتا ہے ] [بِرَحْمَتِہٖ : اپنی رحمت سے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ : بڑے فضل والا ہے ]
Ayah 3:75[وَمِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اور اہل کتاب میں سے ] [مَنْ : وہ بھی ہے جو ] [اِنْ : (کہ) اگر ] [تَاْمَنْہُ : تو بھروسہ کرے اس پر ] [بِقِنْطَارٍ : ڈھیروں (مال) کا ] [یُّؤَدِّہٖٓ : تو وہ واپس کرے گا اسے ] [اِلَـیْکَ : تیری طرف ] [وَمِنْ ہُمْ : اور ان میں سے ] [مَّنْ : وہ بھی ہے جو ] [اِنْ : (کہ) اگر ] [تَاْمَنْہُ : تو بھروسہ کرے اس پر ] [بِدِیْنَارٍ : ایک دینار کا ] [لاَّ یُؤَدِّہٖٓ : تو وہ واپس نہیں کرے گا اسے ] [اِلَـیْکَ : تیری طرف ] [اِلاَّ : مگر ] [مَا دُمْتَ : جب تک تو رہے ] [عَلَیْہِ : اس پر ] [قَـآئِمًا : کھڑا ] [ذٰلِکَ : یہ ] [بِاَنَّہُمْ : اس سبب سے کہ انہوں نے ] [قَالُوْا : کہا ] [لَـیْسَ : نہیں ہے ] [عَلَیْنَا : ہم پر ] [فِی الْاُمِّیّٖنَ : اُمّی لوگوں (کے بارے) میں ] [سَبِیْلٌ : کوئی الزام ] [وَیَـقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [الْکَذِبَ : جھوٹ ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُمْ یَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ جانتے ہیں ]
ترکیب :” مَا دُمْتُ “ افعالِ ناقصہ میں سے ہے (دیکھیں البقرۃ :57‘ نوٹ 2) ۔ اس کا اسم اس میں شامل ” اَنْتَ “ کی ضمیر ہے اور ” قَائِمًا “ اس کی خبر ہے۔ ” لَـیْسَ “ کا اسم ” سَبِیْلٌ“ ہے ‘ خبر محذوف ہے اور ” عَلَیْنَا “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔
Ayah 3:76[بَلٰی : کیوں نہیں ] [مَنْ : جس نے ] [اَوْفٰی : پورا کیا ] [بِعَہْدِہٖ : اپنے عہد کو ] [وَاتَّقٰی : اور تقویٰ اختیار کیا ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں کو ]