Ayah 3:149[یٰٓــاَیـُّــھا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اِنْ تُطِیْعُوا : اگر تم لوگ اطاعت کرو گے ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [یَرُدُّوْکُمْ : تو وہ لوگ لوٹا دیں گے تم کو ] [عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ : تمہاری ایڑیوں پر ] [فَتَنْقَلِبُوْا : نتیجتاً تم لوگ پلٹو گے ] [خٰسِرِیْنَ : خسارہ اٹھانے والے ہوتے ہوئے ]
ر ع ب
رَعَبَ (ف) رَعْبًا : خوف زدہ ہونا ‘ ڈرنا۔
رُعْبٌ (اسم ذات) : خوف ‘ ہیبت ‘ دہشت۔ (آیت زیر مطالعہ)
س ل ط
سَلِطَ (س) و سَلُطَ (ک) سَلَاطَۃً : کسی پر غلبہ حاصل کرنا ‘ مسلط ہونا۔
سُلْطَانٌ (فُعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ) : متعدد معانی میں آتا ہے : (1) زبردست قوت (2) اختیار ‘ غلبہ۔ (3) قطعی دلیل ‘ سند۔{ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْاط لَا تَنْفُذُوْنَ اِلاَّ بِسُلْطٰنٍ ۔ } (الرحمٰن) ” اگر تم لوگوں میں استطاعت ہے کہ تم لوگ نکلو آسمانوں اور زمین کی قطاروں سے تو نکلو۔ تم لوگ نہیں نکلو گے مگر کسی قوت سے۔ “ { وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلاَّ اَنْ دَعَوْتُـکُمْ } (ابرٰھیم :22) ” اور نہیں تھا میرے لیے تم لوگوں پر کسی قسم کا کوئی اختیار سوائے اس کے کہ میں نے دعوت دی تم لوگوں کو۔ “
سَلَّطَ (تفعیل) تَسْلِیْطًا : کسی کو کسی پر اختیار دینا ‘ غلبہ دینا۔ { وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ ط } (الحشر :6) ” اور لیکن اللہ غلبہ دیتا ہے اپنے رسولوں کو اس پر جس پر وہ چاہتا ہے۔ “
ء و ی
اَوٰی (ض) اِوَائً : کسی کے ساتھ ُ جڑ جانا ‘ ضم ہوجانا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے۔ کسی جگہ اترنا ‘ پناہ لینا وغیرہ۔ { سَاٰوِیْ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَـآئِط } (ھود :43) ” میں ٹھہروں گا کسی پہاڑ پر وہ بچالے گا مجھ کو پانی سے۔ “
مَاْوًی (اسم الظرف) : اُترنے یا ٹھہرنے کی جگہ ‘ منزل ‘ پناہ گاہ۔ (آیت زیر مطالعہ)
اٰوٰی (افعال) اِیْوَائً : ٹھہرانا ‘ جگہ دینا۔ { وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَـیْہِ اَخَاہُ } (یوسف :69) ” اور جب وہ لوگ داخل ہوئے یوسف (علیہ السلام) کے پاس تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو۔ “
ث و ی
ثَـوٰی (ض) ثَوَائً : کسی جگہ مستقل قیام کرنا ‘ ٹھکانہ بنانا۔
ثَاوٍ (اسم الفاعل) : قیام کرنے والا۔ { وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْ اَھْلِ مَدْیَنَ } (القصص :45) ” اور آپ ﷺ قیام کرنے والے نہیں تھے اہل مدین میں۔ “
مَثْوًی (اسم الظرف) : مستقل قیام کرنے کی جگہ ‘ ٹھکانہ۔ (آیت زیر مطالعہ)
ترکیب :” اِنْ “ کا جواب شرط ” یَرُدُّوْکُمْ “ ہے۔ ” فَتَنْقَلِبُوْا “ کا ” فا “ سببیہ ہے۔ ” خٰسِرِیْنَ “ حال ہے۔ ” مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَنًا “ یہ پورا جملہ ” اَشْرَکُوْا “ کا مفعول ہے۔ ” یُنَزِّلْ “ کی ضمیر فاعلی اللہ کے لیے ہے۔
Ayah 3:150[بَلِ : بلکہ ] [اللّٰہُ : اللہ ] [مَوْلٰٹکُمْ : تمہارا کارساز ہے ] [وَہُوَ : اور وہ ] [خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ : بہترین مددگار ہے ]
Ayah 3:151[سَنُلْقِیْ : ہم ڈالیں گے ] [فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ : ان کے دلوں میں جنہوں نے ] [کَفَرُوا : کفر کیا ] [الرُّعْبَ : دہشت ] [بِمَآ : بسبب اس کے جو ] [اَشْرَکُوْا : انہوں نے شریک کیا ] [بِاللّٰہِ : اللہ کے ساتھ ] [مَا : اس کو ] [لَمْ یُنَزِّلْ : اس نے اتاری ہی نہیں ] [بِہٖ : جس کے لیے ] [سُلْطٰنًا : کوئی سند ] [وَمَاْوٰٹہُمُ : اور ان کی منزل ] [ النَّارُ : آگ ہے ] [وَبِئْسَ : اور کتنی بری ہے ] [ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ : ظالموں کی قیام گاہ ]
Ayah 3:152[وَلَقَدْ صَدَقَـکُمُ : اور یقینا سچ کردیا ہے تم سے ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَعْدَہٗ : اپنے وعدے کو ] [اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ : جب تم لوگ قتل کرتے تھے ان کو ] [بِاِذْنِہٖ : اس کی اجازت سے ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [اِذَا فَشِلْتُمْ : جب تم لوگوں نے بزدلی کی ] [وَتَنَازَعْتُمْ : اور باہم اختلاف کیا ] [فِی الْاَمْرِ : اس فیصلے میں ] [وَعَصَیْتُم : اور تم نے حکم عدولی کی ] [مِّنْم بَعْدِ مَآ : اس کے بعد کہ جو (یعنی جب) ] [اَرٰٹکُمْ : اس نے دکھایا تم کو ] [مَّا : وہ ‘ جو ] [تُحِبُّونَ : تم لوگ پسند کرتے ہو ] [مِنْکُمْ مَّنْ : تم میں وہ بھی ہیں جو ] [یُّرِیْدُ : ارادہ کرتے ہیں ] [الدُّنْیَا : دنیا کا ] [وَمِنْکُمْ مَّنْ : اور تم میں وہ بھی ہیں جو ] [یُّرِیْدُ : ارادہ کرتے ہیں ] [الْاٰخِرَۃَ : آخرت کا ] [ثُمَّ : پھر ] [صَرَفَکُمْ : اس نے پھیرا تم کو ] [عَنْہُمْ : ان سے ] [لِیَبْتَلِیَکُمْ : تاکہ وہ آزمائش میں ڈالے تم کو ] [وَلَقَدْ عَفَا : اور یقینا اس نے درگزر کیا ہے ] [عَنْکُمْ : تم لوگوں سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ذُوْ فَضْلٍ : فضل (کرنے) والا ہے ] [عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں پر ]
ص ع د
صَعِدَ (س) صَعْدًا : سیڑھی یا بلندی پر چڑھنا۔{ اِلَـیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ } (فاطر :10) ” اس کی طرف ہی چڑھتا ہے پاکیزہ کلام۔ “
صَعَدٌ (صفت) : چڑھائی والا ‘ مشکل۔ { وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا ۔ } (الجِنّ ) ” اور جو اعراض کرتا ہے اپنے رب کی یاد سے تو وہ ڈالے گا اس کو ایک مشکل عذاب میں۔ “
صَعُوْدٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : دشوار چڑھائی۔ { سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا ۔ } (المدثّر) ” میں مبتلا کروں گا اس کو ایک دشوار گزار چڑھائی میں۔ “
صَعِیْدٌ (فَعِیْلٌکا وزن) : زمین کی سخت سطح (1) میدان۔ (2) مٹی۔ { وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْھَا صَعِیْدًا جُرُزًا ۔ } (الکہف) ” اور بیشک میں بنانے والا ہوں اس کو جو اس (زمین) پر ہے ایک بنجر میدان۔ “ { فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا } (النسائ :43) ” تو تم لوگ تیمم کرو کسی پاک مٹی سے۔ “
اَصْعَدَ (افعال) اِصْعَادًا : اونچی زمین میں سفر کرنا ‘ تیز دوڑنا۔ (آیت زیر مطالعہ)
تَصَعَّدَ (تفعّل) تَصَعُّدًا : بتکلف چڑھنا ‘ ہانپتے کانپتے چڑھنا۔ { کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِط } (الانعام :125) ” گویا کہ وہ ہانپتے کانپتے چڑھتا ہے آسمان میں۔ “
و ت
فَاتَ (ن) فَوْتًا : کسی چیز کا کسی چیز کی دسترس یا پہنچ سے دور ہوجانا ‘ ہاتھ سے نکل جانا۔ (آیت زیر مطالعہ)
تَفَاوَتَ (تفاعل) تَفَاوُتًا : ایک دوسرے کی پہنچ سے دور ہونا ‘ باہم مختلف ہونا۔ { مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍط } (الملک :3) ” تو نہیں دیکھے گا رحمن کی خلقت میں کسی طرح سے مختلف ہونا۔ “
ترکیب :” صَدَقَ “ کا مفعول اوّل ” کُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” وَعْدَہٗ “ مفعول ثانی ہے۔ ” حَتّٰی اِذَا “ میں ” اِذَا “ پیچھے کے ” اِذْ “ پر عطف ہے ‘ اس لیے یہ ماضی کے معنی دے گا۔ ” فِی الْاَمْرِ “ پر لام تعریف ہے۔ ” تَلْوٗنَ “ کا مفعول محذوف ہے جو ” اَعْنَاقَـکُمْ “ ہوسکتا ہے۔ ” اُخْرٰٹکُمْ “ میں ” اُخْرٰی ‘ ‘ فُعْلٰیکے وزن پر صفت ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے جو ” طَائِفَۃٍ “ ہوسکتا ہے۔
Ayah 3:153[اِذْ تُصْعِدُوْنَ : جب تم دوڑتے جاتے تھے ] [وَلاَ تَلْوٗنَ : اور نہیں گھماتے تھے (اپنی گردنوں کو) ] [عَلٰٓی اَحَدٍ : کسی ایک پر ] [وَّالرَّسُوْلُ : حالانکہ یہ رسول ﷺ ] [یَدْعُوْکُمْ : بلاتے تھے تم کو ] [فِیْ اُخْرٰٹکُمْ : تمہارے دوسرے (گروہ) میں ] [فَاَثَابَکُمْ : تو اس نے بدلے میں دیا تم کو ] [غَمًّام بِغَمٍّ : غم پر غم ] [لِّـکَیْلاَ تَحْزَنُوْا : تاکہ تم لوگ مت پچھتائو ] [عَلٰی مَا : اس پر جو ] [فَاتَـکُمْ : نکل گیا تم سے ] [وَلاَ مَآ : اور نہ اس پر جو ] [اَصَابَکُمْ : آ لگا تم کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [خَبِیْرٌ : باخبر ہے ] [بِمَا : اس سے جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 3:154[ثُمَّ : پھر ] [اَنْزَلَ : اس نے اتارا ] [عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ : اس بےچینی کے بعد ] [اَ مَنَۃً : ایک اطمینان ] [نُّـعَاسًا : جو ایک ایسی اونگھ تھی ] [یَّغْشٰی : جو چھاتی تھی ] [طَـآئِفَۃً : ایک گروہ پر ] [مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [وَطَائِفَۃٌ : اور ایک دوسرا گروہ تھا ] [قَدْ اَھمَّتْہُمْ : بےچین کیا تھا ان کو ] [اَنْـفُسُہُمْ : ان کی جانوں نے ] [یَظُنُّوْنَ : وہ لوگ گمان کرتے تھے ] [بِاللّٰہِ : اللہ سے ] [غَیْرَ الْحَقِّ : حق کے بغیر ] [ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِ : غلط سوچ کا گمان ] [یَـقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے تھے ] [ہَلْ : کیا ] [لَّـــنَا : ہمارے لیے ہے ] [مِنَ الْاَمْرِ : اس فیصلے میں سے ] [مِنْ شَیْئٍ : کوئی بھی چیز ] [قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [اِنَّ الْاَمْرَ : بیشک فیصلہ ] [کُلَّہٗ : اس کا ُ کل ] [لِلَّہِ : اللہ کے لیے ہے ] [یُخْفُوْنَ : وہ لوگ چھپاتے ہیں ] [فِیْ اَنْفُسِہِمْ : اپنے جی میں ] [مَّا : اس کو جو ] [لاَ یُـبْدُوْنَ : وہ لوگ ظاہر نہیں کرتے ] [لَـکَ : آپ ﷺ کے لیے ] [یَـقُوْلُــوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ] [لَــوْ کَانَ : اگر ہوتا ] [لَـنَا : ہمارے لیے ] [مِنَ الْاَمْرِ : اس فیصلے میں سے ] [شَیْئٌ : کچھ ] [مَّا قُتِلْنَا : تو ہم قتل نہ کیے جاتے
ہٰہُنَا : یہاں ] [قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [لَّــوْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہوتے ] [فِیْ بُیُوْتِکُمْ : اپنے گھروں میں ] [لَــبَـرَزَ : تو ضرور نکلتے ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ ] [کُتِبَ : لکھا گیا ] [عَلَیْہِمُ : جن پر ] [الْـقَتْلُ : قتل کیا جانا ] [اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ : اپنی قتل گاہ کی طرف ] [وَلِیَبْتَلِیَ : اور تاکہ آزمائش میں ڈالے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [مَا : اس کو جو ] [فِیْ صُدُوْرِکُمْ : تمہارے سینوں میں ہے ] [وَلِیُمَحِّصَ : اور تاکہ وہ نکھار دے ] [مَا : اس کو جو ] [فِیْ قُلُوْبِکُمْ : تمہارے دلوں میں ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو ]
ن ع س
نَـعَسَ (ف) نَعْسًا : اُونگھنا ‘ حواس کا سست ہونا۔
نُعَاسٌ (اسم ذات) : اُونگھ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ض ج ع
ضَجَعَ (ف) ضَجْعًا : پہلو کے بل لیٹنا۔
مَضْجَعٌ‘ ج مَضَاجِعُ (اسم الظرف) : (1) لیٹنے کی جگہ (2) قتل گاہ۔ { وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ } (النسائ :34) ” اور تم لوگ قطع تعلق کرو ان سے لیٹنے کی جگہوں میں۔ “
غ ش و
غَشِیَ (س) غَشَاوَۃً : کسی کا کسی پر چھا جانا ‘ ڈھانپ لینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
غِشَاوَۃٌ (اسم ذات) : پردہ ۔ { وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ} (البقرۃ :7) ” اور ان کی بصارت پر ایک پردہ ہے۔ “
غَاشِیَۃٌ (اسم الفاعل) : ڈھانپنے والی ‘ چھا جانے والی۔ { ھَلْ اَتٰـٹکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ ۔ } (الغاشیۃ) ” کیا پہنچی تجھ کو چھا جانے والی کی خبر۔ “
غَاشٍ ج غَوَاشٍ (اسم الفاعل) : چھا جانے والا ‘ لیکن اسم ذات کے طور پر بھی آتا ہے۔ اوڑھنے کی چیز ‘ اوڑھنا۔ { لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَّمِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍط } (الاعراف :41) ” ان کے لیے جہنم میں سے ایک بچھونا ہے اور ان کے اوپر سے کچھ اوڑھنے ہیں۔ “
اَغْشٰی (افعال) اِغْشَائً : کسی پر کسی چیز کو چھا دینا ‘ ڈھانپ دینا۔ { یُغْشِی الَّــیْلَ النَّھَارَ } (الاعراف :54) ” وہ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن سے۔ “
غَشّٰی (تفعیل) تَغْشِیَۃً : بتدریج کسی چیز پر کسی چیز کو چھا دینا ‘ ڈھانپ دینا۔ { فَغَشّٰٹھَا مَا غَشّٰی ۔ } (النجم) ” تو اس نے چھایا اس پر اس کو جو اس نے چھایا۔ “
تَغَشّٰی (تفعّل) تَغَشٍّ : بتکلف کسی پر چھا جانا ‘ ڈھانپ لینا۔ { فَلَمَّا تَغَشّٰٹھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا } (الاعراف :189) ” پھر جب اس نے ڈھانپ لیا اس کو تو اس نے اٹھایا ایک ہلکا حمل۔ “
اِسْتَغْشٰی (استفعال) اِسْتِغْشَائً : کسی چیز سے خود کو ڈھانپنا۔ { حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَھُمْ } (ھود :5) ” جس وقت وہ لوگ خود کو ڈھانپتے ہیں اپنے کپڑوں سے۔ “
ترکیب : ” اَنْزَلَ “ کا مفعول ” اَمَنَۃً “ ہے۔ ” نُعَاسًا “ اس کا بدل ہے اور نکرہ مخصوصہ ہے۔ ” یَغْشٰی “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” نُعَاسًا “ کے لیے ہے اور ” طَائِفَۃً “ اس کا مفعول ہے۔ ” طَائِفَۃٌ“ مبتدأ نکرہ ہے اور آگے جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے جبکہ ” اَھَمَّتْ “ کا فاعل ” اَنْفُسُھُمْ “ ہے۔ ” اِنَّ الْاَمْرَ “ پر لام جنس ہے اور ” کُلَّہٗ “ اس کا بدل ہے۔ ” شَیْئٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور یہ ” کَانَ “ کا اسم ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ ” لَنَا مِنَ الْاَمْرِ “ قائم مقام خبر ہے۔ یہ جملہ اسمیہ ” لَــوْ “ کی شرط ہے اور ” مَا قُتِلْـنَا ھٰھُنَا “ جوابِ شرط ہے۔ ” لَــوْ کُنْتُمْ “ کا ” لَــوْ “ بھی شرطیہ ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ “ صلہ موصول مل کر ” لَــبَرَزَ “ کا فاعل ہے اور ” اِلٰی مَضَاجِعِھِمْ “ متعلق فعل ہے ” لَــبَرَزَ “ کا۔
نوٹ : البقرۃ :72 کی لغت میں مادہ ” ق ت ل “ کے مصدر قَتْلٌکے معنی ” قتل کرنا “ بتایا گیا ہے جبکہ اس آیت میں اس کے معنی ” قتل کیا جانا “ کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سمجھ لیں۔ اس کے فعل معروف قَـتَلَ ۔ یَـقْتُلُکا مصدر قَتْلٌہے اور فعل مجہول قُتِلَ ۔ یُقْتَلُ کا مصدر بھی ” قَتْلٌ“ ہے۔ اس لیے ” قَتْلٌ“ معروف اور مجہول دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی صورت حال تمام متعدی افعال میں ہے۔ ان کے افعال معروف اور مجہول میں تواوزان کے مطابق تبدیلی ہوتی ہے لیکن مصدر میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس لیے متعدی افعال کے مصادر معروف اور مجہول دونوں معانی میں آتے ہیں۔
Ayah 3:155[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جن لوگوں نے ] [تَوَلَّــوْا : منہ موڑا ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [یَوْمَ : جس دن ] [الْـتَقَی : آمنے سامنے ہوئیں ] [الْجَمْعٰنِ : دو جماعتیں ] [اِنَّمَا : (تو) کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اسْتَزَلَّـہُمُ : پھسلانے کی کوشش کی ان کو ] [الشَّیْطٰنُ : شیطان نے ] [بِبَعْضِ مَا : بعض اس کے سبب سے جو ] [کَسَبُوْا : انہوں نے کمایا ] [وَلَـقَدْ عَفَا : اور یقینا درگزر کرچکا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [عَنْہُمْ : ان سے ] [اِنَّ : یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ ] [غَفُوْرٌ : بخشنے والا ہے ] [حَلِیْمٌ : بردبار ہے ]
غ ز و
غَزَا (ن) غَزْوًا : جنگ کے لیے نکلنا ‘ حملہ کرنا۔
غَازٍی ‘ ج غُزًّی (اسم الفاعل) : جنگ کرنے والا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
غَزْوَۃٌ ‘ ج غَزَوَاتٌ (اسم ذات) : جنگ ‘ حملہ۔ اسلامی اصطلاح میں یہ لفظ اب صرف ایسی مہم کے لیے مخصوص ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بنفس نفیس شرکت کی ہو۔ یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
ترکیب : ” یَوْمَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” اِلْــتَقٰی “ کا فاعل ” اَلْجَمْعٰنِ “ ہے ‘ اس لیے رفعی حالت میں ہے۔ ” اِذَا “ شرطیہ نہیں ہے اس لیے یہ ” اِذْ “ کے معنی میں ہے۔ ” ضَرَبُوْا “ کی ضمیر فاعلی ” ھُمْ “ اور ” کَانُوْا “ کے اسم کی ضمیر ” ھُمْ “ یہ دونوں ” لِاِخْوَانِھِمْ “ کے لیے ہیں۔ ” لِیَجْعَلَ “ کا مفعولِ اوّل ” ذٰلِکَ “ ہے اور مفعول ثانی ” حَسْرَۃً “ ہے۔
نوٹ :” تَوَلَّــوْا مِنْکُمْ “ میں اشارہ ایسے صحابہ کرام ؓ کی طرف ہے جو میدان احد میں رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ سن کر پسپا ہو رہے تھے لیکن اس کی تردید سن کر واپس آگئے اور جنگ میں شرکت کی۔ اسی لیے یہاں فعل ” زَلَّ “ (بلا ارادہ پھسل جانا) باب استفعال سے آیا ہے۔
Ayah 3:156[یٰٓـــاَیـُّــھا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تَـکُوْنُوْا : تم لوگ مت ہوجانا ] [کَالَّذِیْنَ : ان کی مانند جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [وَقَالُــوْا : اور کہا ] [لِاِخْوَانِہِمْ : اپنے بھائیوں کے لیے ] [اِذَا : جب ] [ضَرَبُوْا : وہ لوگ نکلے ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [اَوْ : یا ] [کَانُوْا : وہ لوگ تھے ] [غُزًّی : جنگ کرنے والے ] [لَّــوْ : (کہ) اگر ] [کَانُوْا : وہ لوگ ہوتے ] [عِنْدَنَا : ہمارے پاس ] [مَا مَاتُوْا : تو وہ نہ مرتے ] [وَمَا قُـتِلُوْا : اور نہ ہی وہ قتل کیے جاتے ] [لِـیَجْعَلَ : (یہ اس لیے) کہ بنائے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [ذٰلِکَ : اس کو ] [حَسْرَۃً : ایک حسرت ] [فِیْ قُـلُوبِہِمْ : ان کے دلوں میں ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُحْیٖ : زندگی دیتا ہے ] [وَیُمِیْتُ : اور وہ (ہی) موت دیتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِمَا : اس کو جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ بَصِیْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
Ayah 3:157[وَلَئِنْ : اور اگر ] [قُتِلْتُمْ : تم لوگ قتل کیے جاتے ہو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [اَوْ مُــتُّمْ : یا مرتے ہو ] [لَـمَغْفِرَۃٌ : تویقینا مغفرت ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَرَحْمَۃٌ : اور رحمت ] [خَیْـرٌ : بہتر ہے ] [مِّمَّا : اس سے جو ] [یَجْمَعُوْنَ : یہ لوگ جمع کرتے ہیں ]
ل ی ن
لَانَ (ض) لَـیْنًا : نرم ہونا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
لَــیِّنٌ (صفت) : نرم ‘ ملائم۔ { فَقُوْلَا لَــہٗ قَوْلًا لَّــیِّــنًا } (طٰہٰ :44) ” تو تم دونوں کہنا اس سے نرم بات۔ “
لِیْنَـۃٌ (اسم ذات) : کھجور کا درخت (عجوہ کھجور کے علاوہ) ۔ { مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَـآئِمَۃً } (الحشر :5) ” جو تم لوگوں نے کاٹا کسی کھجور کے درخت میں سے یا چھوڑا اس کو کھڑا ہوا۔ “
اَلاَنَ (افعال) اِلَانَۃً : نرم کرنا۔ { وَاَلَـنَّا لَــہُ الْحَدِیْدَ } (سبا :10) ” اور ہم نے نرم کیا اس کے لیے لوہے کو۔ “
ظ ظ
فَظَّ (س) فِظَاظًا : بدمزاج ہونا۔
فَظٌّ : بدمزاج ‘ آیت زیر مطالعہ۔
غ ل ظ
غَلَظَ (ن) وَ غَلُظَ (ک) غِلْظَۃً : موٹا ہونا ‘ گاڑھا ہونا ‘ سخت ہونا۔
غِلْظَۃٌ (اسم ذات بھی ہے) : موٹا پن ‘ سختی ۔ { وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً } (التوبۃ :123) ” اور چاہیے کہ وہ لوگ پائیں تم لوگوں میں سختی۔ “
اُغْلُظْ : تو سخت ہو۔ { یٰٓـــاَیـُّـھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْـکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ } (التوبۃ :73) ” اے نبی ﷺ ‘ آپ ﷺ جہاد کریں کافروں اور منافقوں سے اور آپ ﷺ سخت ہوں ان پر۔ “
غَلِیْظٌ ج غِلَاظٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : گاڑھا ‘ سخت۔ { عَلَیْھَا مَلٰٓـئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ} (التحریم :6) ” اس پر فرشتے ہیں انتہائی سخت۔ “
اِسْتَغْلَظَ (استفعال) اِسْتِغْلَاظًا : موٹا پن یا سختی چاہنا ‘ یعنی موٹا ہونا ‘ سخت ہونا۔ { فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ } (الفتح :29) ” پھر وہ یعنی کھیتی موٹی ہوئی پھر وہ جمی اپنی پنڈلی پر۔ “
ترکیب :” لَمَغْفِرَۃٌ“ اور ” رَحْمَۃٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہیں۔ ” خَیْرٌ“ ان کی خبر ہے۔ اور یہ جملہ ” لَئِنْ “ کا جوابِ شرط ہے۔ ” لاَِالٰی “ میں ایک الف زیادہ لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ ” کُنْتَ “ کی خبر اوّل ” فَظًّا “ ہے اور ” غَلِیْظَ الْقَلْبِ “ خبر ثانی ہے ‘ اس لیے ” غَلِیْظَ “ منصوب ہے۔ ” لَانْفَضُّوْا “ جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
نوٹ : رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ اہم معاملات میں آپ ﷺ صحابہ کرام ؓ کی رائے لیتے تھے۔ یہاں آیت 159 میں آپ ﷺ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیصلہ کرتے وقت ان لوگوں کی رائے بھی معلوم کرلیا کریں جو بظاہر مسلمان لیکن حقیقتاً منافق تھے۔ اس کے علاوہ سورة الشوریٰ کی آیت 38 میں اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ ان کے فیصلے باہمی مشورے سے ہوتے ہیں۔ ان دومقامات سے اسلامی نظام میں مشاورت کے متعلق جو راہنمائی حاصل ہوتی ہے ‘ اس پر معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع (رح) نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے :
(1) قرآن و حدیث کے واضح احکام میں مشورہ کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلاً زکوٰۃ دے یا نہیں ‘ حج کرنے جائے یا نہیں ‘ وغیرہ۔ البتہ اس میں مشورہ کیا جاسکتا ہے کہ زکوٰۃ کو کہاں اور کن لوگوں پر خرچ کیا جائے ‘ یا حج کے لیے بحری جہاز سے جائے یا ہوائی جہاز سے ‘ کیونکہ یہ شرعاً اختیاری امور ہیں۔
(2) اختیاری امور میں مشورہ کرنا سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اور باہم مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو مفید صورت کی طرف ہدایت مل جاتی ہے۔
(3) ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے۔ اسے چاہیے کہ وہی رائے دے جو اس کام میں وہ خود اپنے لیے تجویز کرتا ہے۔ اس کے خلاف کرنا خیانت ہے۔
(4) اسلامی حکومت ایک شورائی حکومت ہے جس میں امیر کا انتخاب مشورہ سے ہوتا ہے ‘ خاندانی وراثت سے نہیں۔ اسلام نے حکومت میں وراثت کا اصول ختم کر کے امیر مملکت مقرر یا معزول کرنا جمہور کے اختیار میں دے دیا۔
(5) منتخب امیر مطلق العنان نہیں ہے بلکہ مشورہ لینے کا پابند ہے۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ شورائیت کے بغیر خلافت نہیں ہے۔
(6) قرآن کریم کے بعض اشارات اور حدیث اور تعامل صحابہ ؓ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کی صورت میں امیر کسی ایک صورت کو اختیار کرسکتا ہے ‘ خواہ اکثریت کے مطابق ہو یا اقلیت کے ۔ { فَاِذَا عَزَمْتَ } میں واحد کا صیغہ استعمال ہوا ہے ‘ عَزَمْتُمْ جمع کا صیغہ نہیں آیا۔ اس اشارہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مشورہ لینے کے بعد عزم اور نفاذ صرف امیر کا معتبر ہے۔
(7) سب تدبیریں کرنے کے بعد نتیجے کے لیے بھروسہ اور تکیہ صرف اللہ پر کرو۔
Ayah 3:158[وَلَئِنْ : اور اگر ] [مُّـتُّمْ : تم لوگ مرتے ہو ] [اَوْ قُتِلْتُمْ : یا قتل کیے جاتے ہو ] [لَاِالَی اللّٰہِ : تو اللہ کی طرف ہی ] [تُحْشَرُوْنَ : اکٹھا کیے جائو گے ]
Ayah 3:159[فَبِمَا رَحْمَۃٍ : تو اس رحمت کے سبب سے جو ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ہے ] [لِنْتَ : آپ ﷺ نرم ہوئے ] [لَـہُمْ : ان کے لیے ] [وَلَـوْ کُنْتَ : اور اگر آپ ﷺ ہوتے ] [فَظًّا : بدمزاج ] [غَلِیْظَ الْقَلْبِ : دل کے سخت
لاَنْـفَضُّوْا : تو یقینا یہ لوگ منتشر ہوجاتے ] [مِنْ حَوْلِکَ : آپ ﷺ کے ارد گرد سے ] [فَاعْفُ : پس آپ ﷺ درگزر کریں ] [عَنْہُمْ : ان سے ] [وَاسْتَغْفِرْ : اور آپ ﷺ مغفرت مانگیں ] [لَـہُمْ : ان کے لیے ] [وَشَاوِرْ : اور آپ ﷺ رائے لیں ] [ہُمْ : ان سے ] [فِی الْاَمْرِ : فیصلے میں ] [فَاِذَا : پھر جب ] [عَزَمْتَ : آپ ﷺ پختہ ارادہ کرلیں ] [فَتَوَکَّلْ : تو آپ ﷺ توکل کریں ] [عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الْمُتَوَکِّلِیْنَ : توکل کرنے والوں کو ]
Ayah 3:160[ اِنْ : اگر ] [یَّـنْصُرْکُمُ : مدد کرے تمہاری ] [اللّٰہُ : اللہ ] [فَلاَ غَالِبَ : تو کوئی بھی غلبہ پانے والا نہیں ہے ] [لَــکُمْ : تم لوگوں پر ] [وَاِنْ : اور اگر ] [یَّخْذُلْــکُمْ : وہ ساتھ چھوڑ دے تمہارا ] [فَـمَنْ ذَا الَّذِیْ : تو کون ہے وہ جو ] [یَّـنْصُرُکُمْ : مدد کرے گا تمہاری ] [مِّنْم بَعْدِہٖ : اس کے بعد ] [وَعَلَی اللّٰہِ : اور اللہ پر ہی ] [فَلْیَتَوَکَّلِ : چاہیے کہ توکل کریں ّ ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن لوگ ]
خ ذ ل
خَذَلَ (ن) خَذْلًا : ساتھ چھوڑ دینا ‘ حمایت ترک کرنا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
مَخْذُوْلٌ (اسم المفعول) : حمایت چھوڑا ہوا ‘ بےبس۔ { فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا ۔ } (بنی ‘ اسراء یل) ” نتیجتاً تو بیٹھے گا مذمت کیا ہوا ‘ بےبس کیا ہوا۔ “
خَذُوْلٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : انتہائی نازک وقت پر ساتھ چھوڑنے والا ‘ عین وقت پر دغا دینے والا ۔ { وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا ۔ } (الفرقان) ” اور شیطان ہے انسان کے لیے انتہائی دغاباز۔ “
غ ل ل
غَلَّ (ن) غَلًّا : (1) چھپانا ‘ (2) طوق پہنانا ‘ (3) باندھنا۔ { غُلَّتْ اَ ‘ یْدِیْھِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُــوْا ‘7} (المائدۃ :64) ” باندھے گئے ان کے ہاتھ اس کے سبب سے جو انہوں نے کہا۔ “
مَغْلُوْلَـۃٌ (اسم المفعول) : بندھا ہوا۔ { وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَــۃٌط } (المائدۃ :64) ” اور کہا یہودیوں نے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ “
غُلُّ (فعل امر) : تو طوق پہنا ‘ تو باندھ۔ { خُذُوْہُ فَغُـلُّوْہُ ۔ } (الحاقۃ) ” تم لوگ پکڑو اس کو پھر طوق پہنائو اس کو۔ “
غَلٌّ ج اَغْلَالٌ (اسم ذات) : طوق۔ { اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلًا } (یٰسٓ:8) ” بیشک ہم نے بنائے ان کی گردنوں میں کچھ طوق۔ “
غَلَّ (ض) غِلًّا : دل میں کینہ یا کدورت ہونا۔
غِلٌّ (اسم ذات) : کینہ ‘ کدورت۔ { وَلَا تَجْعَلْ فِیْٓ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } (الحشر :10) ” اور تو مت بنا ہمارے دلوں میں کوئی کدورت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے۔ “
س خ ط
سَخِطَ (س) سَخْطًا : غصہ کرنا ‘ ناراض ہونا۔ { لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ } (المائدۃ :80) ” کتنا برا ہے وہ جو آگے بھیجا اپنے لیے خود انہوں نے کہ غصہ کرے اللہ ان پر۔ “
سَخَطٌ (اسم ذات) : غصہ ‘ ناراضگی۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَسْخَطَ (افعال) اِسْخَاطًا : کسی کو غصہ دلانا ‘ ناراض کرنا۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ اتَّـبَعُوْا مَـآ اَسْخَطَ اللّٰہَ } (محمد :28) ” یہ اس سبب سے کہ انہوں نے پیروی کی اس کی جو غصہ دلائے اللہ کو۔ “
ترکیب :” فَــلَا غَالِبَ “ پر لائے نفی جنس ہے۔ ” اَنْ یَّغُلَّ “ کا مفعول محذوف ہے جو کہ ” شَیْئًا “ ہوسکتا ہے۔ ” تُوَفّٰی “ واحد مؤنث غائب کا مجہولی صیغہ ہے اور ” کُلُّ نَفْسٍ “ اس کا نائب الفاعل ہے اس لیے ” کُلُّ “ مرفوع ہے ۔” مَاْوٰٹہُ “ مبتدأ اور ” جَھَنَّمُ “ اس کی خبر ہے۔
نوٹ :{ وَمَا کَانَ لِنَبِیِّ اَنْ یَّـغُلَّ } کے شان نزول کے ضمن میں کچھ مفسرین نے اس روایت کا ذکر کیا ہے جس میں جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک چادر کے گم ہوجانے کا ذکر ہے۔ لیکن یہاں جنگ احد کے واقعات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ اس لیے اس بات کو ذہن قبول نہیں کرتا۔ البتہ اس کے شان نزول میں تفہیم القرآن میں جس روایت کا ذکر ہے وہ زیادہ قرین قیاس ہے۔
جنگ ختم ہونے کے بعد نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے تیر اندازوں کو بلا کر ان سے حکم عدولی کی وجہ دریافت فرمائی۔ ان لوگوں نے جواب میں کچھ عذر پیش کیے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنَّا نَغُلُّ وَلَانَقْسِمُ لَــکُمْ ) بلکہ تم لوگوں نے گمان کیا کہ میں چھپائوں گا اور تقسیم نہیں کروں گا تم لوگوں میں یعنی مال غنیمت “ ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:161[وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے ] [لِنَبِیٍّ : کسی نبی کے لیے ] [اَنْ یَّغُلَّ : کہ وہ چھپائے (کچھ بھی) ] [وَمَنْ : اور جو کوئی ] [یَّـغْلُلْ : چھپائے گا ] [یَاْتِ : تو وہ لائے گا ] [بِمَا : اس کو جو ] [غَلَّ : اس نے چھپایا ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ثُمَّ : پھر ] [تُوَفّٰی : پور اپورا دیا جائے گا ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر نفس کو ] [مَّا : جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَہُمْ : اور وہ ] [لاَ یُظْلَمُوْنَ : ظلم نہ کیے جائیں گے ]
Ayah 3:162[اَفَمَنِ : تو کیا وہ جس نے ] [اتَّــبَعَ : پیروی کی ] [رِضْوَانَ اللّٰہِ : اللہ کی رضا کی ] [کَمَنْ : اس کی مانند ہے جو ] [بَــآئَ : لوٹا ] [بِسَخَطٍ : ایک ایسے غصے کے ساتھ جو ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ہے ] [وَمَاْوٰٹہُ : اور اس کی منزل ] [جَہَنَّمُ : جہنم ہے ] [وَبِئْسَ : اور کتنی بری ہے ] [الْمَصِیْرُ : لوٹنے کی جگہ (وہ)
Ayah 3:163[ہُمْ : ان کے (لیے) ] [دَرَجٰتٌ: درجات ہیں ] [ عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے پاس ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [یَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ]
Ayah 3:164[لَـقَدْ مَنَّ : احسان کیا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں پر ] [اِذْ : جب ] [بَعَثَ : اس نے بھیجا ] [فِیْہِمْ : ان میں ] [رَسُوْلاً : ایک رسول ] [مِّنْ اَنْفُسِہِمْ : ان کے اپنوں میں سے ] [یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ : وہ پڑھ کر سناتا ہے ان کو ] [اٰیٰـتِہٖ : اس کی آیات ] [وَیُزَکِّیْہِمْ : اور وہ تزکیہ کرتا ہے ان کا ] [وَیُـعَلِّمُہُمُ : اور وہ تعلیم دیتا ہے ان کو ] [الْـکِتٰبَ : کتاب کی ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی ] [وَاِنْ کَانُوْا : اور بیشک وہ تھے ] [مِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ : لازماً ایک کھلی گمراہی میں ]
ترکیب :” یَتْلُوْا ‘ یُزَکِّیْ “ اور ” یُعَلِّمُ “ کی ضمیر فاعلی ” رَسُوْلًا “ کے لیے ہیں ‘ جبکہ ” اٰیٰـتِہٖ “ میں ضمیر ” اللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” اِنْ کَانُوْا “ کا ” اِنْ “ مخففہ ّہے۔ ” اَصَبْتُمْ “ کا مفعول ” مِثْلَیْھَا “ ہے۔ یہ دراصل ” مِثْلَیْنِ “ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے اور ” ھَا “ کی ضمیر ” مُصِیْـبَۃٌ“ کے لیے ہے۔
Ayah 3:165[اَوَلَمَّـآ : تو کیا جب ] [اَصَابَتْـکُمْ : آپہنچی تم کو ] [مُّصِیْـبَـۃٌ : کوئی مصیبت ‘] [قَدْ اَصَبْتُمْ : (حالانکہ) تم لوگ پہنچا چکے ہو ] [مِّثْـلَیْہَا : اس (مصیبت) سے دوگنا ] [قُـلْتُمْ : (تو) تم لوگوں نے کہا ] [اَنّٰی ہٰذَا : یہ کہاں سے ہے
قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ہُوَ : یہ ] [مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ : تمہارے اپنے پاس سے ہے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْـرٌ : قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 3:166[وَمَـآ : اور جو ] [اَصَابَکُمْ : آپہنچی تم لوگوں کو ] [یَوْمَ : اس دن (جب) ] [الْـتَقَی : آمنے سامنے ہوئیں
الْجَمْعٰنِ : دو جماعتیں ] [فَبِاِذْنِ اللّٰہِ : تو (وہ) اللہ کی اجازت سے ہے ] [وَلِیَعْلَمَ : اور تاکہ وہ جان لے ] [الْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں کو ]
ترکیب :” فِبِاِذْنِ اللّٰہِ “ میں ” ھُوَ “ محذوف ہے یعنی یہ ” فَھُوَ بِاِذْنِ اللّٰہِ “ ہے اور ” ھُوَ “ کی ضمیر ” مَا “ کے لیے ہے۔ ” لَّا اتَّــبَـعْنٰـکُمْ “ میں ” لَا “ نافیہ نہیں ہے بلکہ یہ جوابِ شرط کا لام تاکید ہے۔ اس کے ساتھ الف زائدہ لکھنا قرآن مجید کی مخصوص املا ہے۔” ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ “۔ یہ جملہ ایک خاص ادبی ترکیب کا ہے۔ مولوی عبدالستار صاحب نے اپنی کتاب ” عربی کا معلم “ میں یہ ترکیب پڑھائی ہے ۔ لیکن ” آسان عربی گرامر “ میں ہم نے اس کو چھوڑ دیا ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں اس کا استعمال کم ہے۔ اس لیے یہاں بھی اس کی ترکیب چھوڑ رہے ہیں۔ ” لَــیْسَ “ کا اسم ” مَا “ ہے اور اس کی خبر ” مَوْجُوْدًا “ محذوف ہے۔
نوٹ : ” لَـوْ نَـعْلَمُ قِتَالاً لاَّ تَّــبَعْنٰــکُمْ “ یہ منافقین کا قول تھا اور انہوں نے یہ ذومعانی بات کی تھی جس کے کئی معانی ہوسکتے ہیں مثلاً : (1) لڑائی ہوتی نظر نہیں آتی۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ لڑائی ہونے والی ہے تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ (2) یہ کوئی مقابلہ ہے کہ ایک طرف تین ہزار کا لشکر اور دوسری طرف صرف ایک ہزار بےسروسامان آدمی۔ یہ لڑائی تو نہیں ہے محض اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ (3) مدینہ میں رہ کر جنگ کرنے کا ہمارا مشورہ نہیں مانا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کے فنون اور قواعد سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اگر واقف ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
Ayah 3:167[وَلِیَعْلَمَ : اور تاکہ وہ جان لے ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جنہوں نے ] [نَافَقُوْا : نفاق کیا ] [وَقِیْلَ : اور کہا گیا ] [لَہُمْ : ان سے ] [تَـعَالَــوْا : تم لوگ آئو ] [قَاتِلُوْا : قتال کرو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [اَوِ ادْفَعُوْا : یا دفاع کرو ] [قَالُـوْا : انہوں نے کہا ] [لَـوْ نَعْلَمُ : اگر ہم جانتے ] [قِتَالاً : قتال کو ] [لاَّتَّــبَعْنٰــکُمْ : توہم ضرور پیروی کرتے تمہاری ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [لِلْکُفْرِ : کفر کے ] [یَوْمَئِذٍ : اس دن ] [اَقْرَبُ : زیادہ قریب تھے ] [مِنْہُمْ لِلْاِیْمَانِ : اپنے لیے ایمان کی بنسبت ] [یَـقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ] [بِاَفْوَاہِہِمْ : اپنے مونہوں سے ] [مَّا : وہ ‘ جو ] [لَــیْسَ : نہیں ہے ] [فِیْ قُلُوْبِہِمْ : ان کے دلوں میں ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [اَعْلَمُ : زیادہ جانتا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [یَکْتُمُوْنَ : وہ لوگ چھپاتے ہیں ]
Ayah 3:168[اَلَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [قَالُوْا : کہا ] [لِاِخْوَانِہِمْ : اپنے بھائیوں کے لیے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [قَـعَدُوْا : وہ (خود) بیٹھ رہے ] [لَــوْ : اگر ] [اَطَاعُوْنَا : وہ لوگ اطاعت کرتے ہماری ] [مَا قُتِلُوْا : تو وہ قتل نہ کیے جاتے ] [قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [فَادْرَئُ وْا : تو تم لوگ ہٹا لو ] [عَنْ اَنْفُسِکُمُ : اپنی جانوں سے ] [الْمَوْتَ : موت کو ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [صٰدِقِیْنَ : سچ کہنے والے ]
ل ح ق
لَحِقَ (س) لَحْقًا : کسی سے جڑ جانا ‘ مل جانا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَلْحَقَ (افعال) اِلْحَاقًا : کسی کو کسی سے ملا دینا۔ { اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ } (سبا :27) ” تم لوگ دکھائو مجھے ان لوگوں کو جن کو تم لوگوں نے ملایا اس کے ساتھ۔ “
اَلْحِقْ (فعل امر) : تو جوڑ دے ‘ تو ملا دے ۔ { فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِقف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔ } (یوسف) ” اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے ‘ تو میرا کارساز ہے دنیا میں اور آخرت میں ‘ تو وفات دے مجھ کو مسلمان ہوتے ہوئے اور تو ملا دے مجھ کو صالحین کے ساتھ۔ “
ترکیب : ” وَقَعَدُوْا “ کا ” وَاوْ “ حالیہ ہے اور یہ ” قَـالَـوْا “ کی ضمیر فاعلی ” ھُمْ “ کا حال ہے ‘ ” اِخْوَانِھِمْ “ کا حال نہیں ہے۔ ” اَطَاعُوْا “ کی ضمیر فاعلی ” اِخْوَانِھِمْ “ کے لیے ہے۔ ” لَا تَحْسَبَنَّ “ کا مفعول اوّل ” اَلَّـذِیْنَ قُتِلُوْا “ ہے اور ” اَمْوَاتًا “ مفعول ثانی ہے۔ ” اَحْیَائٌ“ خبر ہے اور اس کا مبتدأ” ھُمْ “ محذوف ہے۔ ” اَمْوَاتًا “ اور ” اَحْیَائٌ“ جمع ہیں ‘ لیکن اردو محاورے کی وجہ سے ان کا ترجمہ واحد میں ہوگا۔ ” فَرِحِیْنَ “ حال ہونے کی وجہ سے حالت ِ نصب میں ہے۔ ” اَلَّا “ عطف ہے ” بِالَّذِیْنَ “ کے حرفِ جار ” بِ “ پر۔ یعنی یہ دراصل ” بِاَنْ لَا “ ہے۔ ” خَوْفٌ“ مبتدأ نکرہ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔
Ayah 3:169[وَلاَ تَحْسَبَنَّ : اور تو ہرگز گمان مت کر ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [قُتِلُوْا : قتل کیے گئے ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [اَمْوَاتًا : مردہ ] [بَلْ : بلکہ ] [اَحْیَــآئٌ : (وہ) زندہ ہیں ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : اپنے رب کے پاس
یُرْزَقُوْنَ : ان لوگوں کو رزق دیا جاتا ہے ]
نوٹ : آیت 169 میں شہداء کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔ جبکہ بظاہر ان کا مرنا اور قبر میں دفن ہونا مشاہد اور محسوس ہے۔ پھر قرآن مجید میں ان کو مردہ نہ کہنے اور نہ سمجھنے کی جو ہدایات آئی ہیں ان کا کیا مطلب ہے۔ اگر کہا جائے کہ حیات برزخی مراد ہے ‘ تو وہ ہر مومن و کافر کو حاصل ہے۔ پھر شہداء کی کیا خصوصیت ہوئی ؟ اس آیت میں اس کا یہ جواب دیا گیا کہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے اور رزق زندہ آدمی کو ملا کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا سے منتقل ہوتے ہی شہداء کے لیے جنت کا رزق جاری ہوجاتا ہے اور ایک خاص قسم کی زندگی ان کو مل جاتی ہے جو عام مردوں ُ سے ممتاز حیثیت کی ہے۔ وہ زندگی کیسی ہے ؟ اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی جان سکتا ہے اور نہ ہی جاننے کی ضرورت ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 3:170[فَرِحِیْنَ : اس حال میں کہ بہت ہی خوش ہیں ] [بِمَآ : اس سے جو ] [اٰتٰـٹہُمُ : دیا ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [وَیَسْتَـبْشِرُوْنَ : اور وہ لوگ خوشی مناتے ہیں ] [بِالَّذِیْنَ : ان لوگوں کی جو ] [لَمْ یَلْحَقُوْا : (ابھی) نہیں جڑے ] [بِہِمْ : ان سے ] [مِّنْ خَلْفِہِمْ : ان کے پیچھے (رہ جانے والوں میں) سے ] [اَلاَّ خَوْفٌ : (اور یہ کہ) کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَـیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ]
Ayah 3:171[یَسْتَـبْشِرُوْنَ : وہ لوگ خوشی مناتے ہیں ] [بِنِعْمَۃٍ : ایک ایسی نعمت کی جو ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ہے ] [وَفَضْلٍ : اور فضل کی ] [وَّاَنَّ : اور یہ کہ ] [اللّٰہَ : اللہ ] [لاَ یُضِیْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں کے اجر کو ]
Ayah 3:172[ اَلَّـذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [اسْتَجَابُوْا : کہا مانا ] [لِلّٰہِ : اللہ کا ] [وَالرَّسُوْلِ : اور رسول ﷺ کا ] [مِنْم بَعْدِ مَــآ : اس کے بعد کہ جو ] [اَصَابَہُمُ : آپہنچا ان کو ] [الْقَرْحُ : چرکہ ] [لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے جنہوں نے ] [اَحْسَنُوْا : درجہ ٔ‘ احسان پر کام کیا ] [مِنْہُمْ : ان میں سے ] [وَاتَّـقَوْا : اور تقویٰ اختیار کیا ] [اَجْرٌ عَظِیْمٌ : ایک شاندار بدلہ ہے
ترکیب : ” اَلْقَرْحُ “ پر لام تعریف ہے۔ ” اَجْرٌ عَظِیْمٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لِلَّذِیْنَ “ سے ” وَاتَّـقَوْا “ تک قائم مقام خبر مقدم ّہے۔ ” فَزَادَ “ کی ضمیر فاعلی ” ھُوَ “ ” قَالَ “ کے مقولہ محذوف ” قَوْلًا “ کے لیے ہے ‘ ” ھُمْ “ اس کا مفعول ہے اور ” اِیْمَانًا “ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ “ مرکب اشاری اور مبتدأ ہے ‘ ” یُخَوِّفُ اَوْلِیَائَ ‘ ہٗ “ اس کی خبر ہے۔ ” یُخَوِّفُ “ کا مفعول اوّل ” کُمْ “ محذوف ہے اور ” اَوْلِـیَائَ ہٗ “ اس کا مفعول ثانی ہے۔
Ayah 3:173[اَلَّذِیْنَ : وہ لوگ ] [قَالَ : کہا ] [لَہُمُ : جن سے ] [النَّاسُ : لوگوں نے ] [اِنَّ : کہ ] [النَّاسَ : لوگوں نے ] [قَدْ جَمَعُوْا : جمع کی ہے (قوت) ] [لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [فَاخْشَوْہُمْ : پس تم لوگ ڈرو ان سے ] [فَزَادَہُمْ : تو اس (بات) نے زیادہ کیا ان کو ] [اِیْمَانًا : ایمان کے لحاظ سے ] [وَّقَالُــوْا : اور انہوں نے کہا ] [حَسْبُـنَا : ہم کو کافی ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَنِعْمَ : اور کتنا اچھا ہے (وہ) ] [الْوَکِیْلُ : وکیل ]
نوٹ : مسلمانوں نے میدان احد سے واپس آ کر رات ہنگامی حالت میں گزاری۔ جنگ نے انہیں چور چور کر رکھا تھا ‘ اس کے باوجود وہ رات بھر مدینے کی گزرگاہوں پر پہرہ دیتے رہے اور رسول اللہ ﷺ کی خصوصی حفاظت پر تعینات رہے ‘ کیونکہ انہیں ہر طرف سے خدشات لاحق تھے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ بھی پوری رات جنگ سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کرتے رہے۔ انہیں خیال ہوا کہ اگر مشرکین نے اس صورت حال پر غور کیا تو یقینا وہ راستے سے پلٹ کر مدینہ پر دوبارہ حملہ کریں گے۔ چناچہ آپ ﷺ نے علی الصبح اعلان فرمایا کہ مکی لشکر کے تعاقب میں چلنا ہے۔ حالانکہ مسلمان زخموں سے چور اور غم سے نڈھال تھے پھر بھی سب نے بلاتردّد سر اطاعت خم کردیا اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ مدینے سے آٹھ میل دور ’ حمراء الاسد ‘ کے مقام پر خیمہ زن ہوئے۔ یہاں پر معبد بن ابی معبد خزاعی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ مشرکوں کو ابھی اس کی خبر نہیں تھی اس لیے آپ ﷺ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ ابوسفیان کے پاس جائیں اور مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنے کی حوصلہ شکنی کریں۔
دوسری طرف مشرکین نے مدینہ سے 36 میل دور ’ روحاء ‘ کے مقام پر جب جنگ کی صورت حال پر غور کیا تو انہیں ندامت ہوئی کہ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ مسلمانوں کو کیوں چھوڑ آئے۔ چناچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ مدینہ واپس چل کر مسلمانوں کا جڑ سے صفایا کردیا جائے۔ یہ لوگ روانہ ہونے والے تھے کہ معبد بن ابی معبد خزاعی پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمان تمہارے تعاقب میں آ رہے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر مکی لشکرکے حوصلے پست ہوگئے اور انہوں نے مکہ کی طرف واپسی کا سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسی وقت ان کے پاس سے قبیلہ عبدالقیس کا ایک قافلہ گزرا۔ ابوسفیان نے انعام و اکرام کے وعدہ پر قافلے کے لوگوں سے کہا کہ وہ مسلمانوں کو یہ خبر پہنچا دیں کہ انہوں نے دوبارہ پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمان ان کا تعاقب نہ کریں۔ چناچہ یہ قافلہ جب حمراء الاسد پہنچا تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ لوگ ‘ تمہارے خلاف جمع ہیں ان سے ڈرو۔ یہ بات سن کر مسلمانوں کے ایمان میں اضافہ ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ چند روز مکی لشکر کا انتظار کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ ‘ مدینہ واپس آگئے۔
Ayah 3:174[فَانْقَلَـبُوْا : پھر وہ لوگ پلٹے ] [بِنِعْمَۃٍ : ایک ایسی نعمت کے ساتھ جو ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے تھی ] [وَفَضْلٍ : اور کچھ فضل کے ساتھ ] [لَّـمْ یَمْسَسْہُمْ : چھوا ہی نہیں ان کو ] [سُوْٓئٌ : کسی برائی نے ] [وَّاتَّـبَعُوْا : اور انہوں نے پیروی کی ] [رِضْوَانَ اللّٰہِ : اللہ کی خوشنودی کی ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ : عظیم فضل والا ہے ]
Ayah 3:175[اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ : یہ شیطان ] [یُخَوِّفُ : خوفزدہ کرتا ہے (تم لوگوں کو) ] [اَوْلِیَـآئَ ‘ ہٗ : اپنے چیلوں سے ] [فَلاَ تَخَافُوْہُمْ : پس تم لوگ مت ڈرو ان سے ] [وَخَافُوْنِ : اور ڈرو مجھ سے
اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [مُّـؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والے ]
Ayah 3:176[وَلاَ یَحْزُنْکَ : اور غمگین نہ کریں آپ کو ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یُسَارِعُوْنَ : باہم سبقت کرتے ہیں ] [فِی الْْکُفْرِ : کفر میں ] [اِنَّـہُمْ : یقینا وہ لوگ ] [لَنْ یَّضُرُّوا : ہرگز نقصان نہیں کریں گے ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [شَیْئًا : ذرہ برابر ] [یُرِیْدُ : ارادہ کرتا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [اَلاَّ یَجْعَلَ : کہ وہ نہ بنائے ] [لَہُمْ : ان کے لیے ] [حَظًّا : کوئی حصہ ] [فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں ] [وَلَہُمْ : اور ان کے لیے ] [عَذَابٌ عَظِیْمٌ : ایک عظیم عذاب ہے ]
ح ظ ظ
حَظَّ (س) حَظًّا : کسی چیز میں حصہ دار ہونا ‘ نصیب والا ہونا۔
حَظٌّ (اسم ذات) : کسی چیز میں مقررہ حصہ ‘ نصیب۔ آیت زیر مطالعہ۔
م ل و
مَلَا (ن) مَلْوًا : (1) تیز چلنا ‘ دوڑنا۔ (2) زمانہ یا مدت کا دراز ہونا۔
مَلِیٌّ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : زندگی کی مدت ‘ ہمیشہ کے لیے۔ { وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا ۔ } (مریم) ” اور تو چھوڑ مجھ کو ہمیشہ کے لیے۔ “
اَمْلٰی (افعال) اِمْلَائً : پائوں کے بندھن کو ڈھیلا کر کے چھوڑ دینا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے : (1) ڈھیل دینا ‘ مہلت دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔ (2) درازی ٔ عمر کی امید دلانا۔ { اَلشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْط وَاَمْلٰی لَھُمْ ۔ } (محمد) ” شیطان نے فریب دیا ان کو اور درازی ٔ عمر کی امید دلائی انہیں “۔ (3) عبارت پڑھ کر سنانا یا لکھوانا۔ { وَقَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَـبَھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا } (الفرقان) ” انہوں نے کہا پہلوں کے قصے ہیں ‘ اس نے تالیف کیا ہے انہیں ‘ پس وہ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اس پر صبح و شام۔ “
ترکیب :” لَا یَحْزُنْ “ کا فاعل ” اَلَّذِیْنُ یُسَارِعُوْنَ “ ہے ۔ ” اَنَّمَا “ دراصل ” اَنَّ مَا “ ہے ‘ جبکہ ” اِنَّمَا “ میں ” مَا “ کافہ ّہے (دیکھیں البقرۃ :12‘ نوٹ 2) ۔ ” لِیَزْدَادُوْا “ دراصل مادہ ” ز ی د “ سے باب افتعال کا مضارع منصوب ہے اور قاعدے کے مطابق اس کی تا کو دال میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ” اِثْمًا “ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 3:177[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جنہوں نے ] [اشْتَرَوُا : خریدا ] [الْکُفْرَ : کفر کو ] [بِالْاِیْمَانِ : ایمان کے بدلے ] [لَنْ یَّضُرُّوا : وہ لوگ ہرگز نقصان نہ کریں ‘ گے ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [شَیْئًا : کچھ بھی ] [وَلَہُمْ : اور ان کے لیے
عَذَابٌ اَلِیْمٌ : ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 3:178[وَلاَ یَحْسَبَنَّ : اور ہرگز گمان نہ کریں ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [کَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [اَنَّـمَا : کہ جو ] [نُمْلِیْ : ہم ڈھیل دیتے ہیں ] [لَہُمْ : ان کو ] [خَیْرٌ: (وہ) بہتر ہے ] [لّاَِنْفُسِہِمْ : ان کی جانوں کے لیے ] [اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [نُمْلِیْ : ہم ڈھیل دیتے ہیں ] [لَـہُمْ : ان کو ] [لِیَزْدَادُوْٓا : تاکہ وہ زیادہ ہوں ] [اِثْمًا : بلحاظ گناہ کے ] [وَلَـہُمْ : اور ان کے لیے ] [عَذَابٌ مُّہِیْنٌ: ایک رسوا کن عذاب ہے ]