11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

نوحؑ نے کہا "سوار ہو جاؤ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"

[وَقَالَ : اور (اللہ نے) کہا ] [ارْكَبُوْا : تم لوگ سوار ہو ] [ فِيْهَا : اس (کشتی ) میں ] [بِسْمِ اللّٰهِ : (اور کہو) اللہ کے نام سے ہے ] [مَجْــرٖ۩ىهَا : اس کے بہنے کا وقت ] [وَمُرْسٰىهَا : اور اس کو ٹھہرانے کا وقت ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [رَّحِيْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"

[وَهِىَ : اور وہ ] [تَجْرِيْ : بہتی تھی ] [بِهِمْ : ان کے ساتھ ] [فِيْ مَوْجٍ : ایسی لہروں میں جو ] [ كَالْجبالِ : پہاڑوں جیسی تھیں ] [وَنَادٰي : اور پکارا ] [نُوْحُۨ : نوح (علیہ السلام) نے ] [ابْنَهٗ : اپنے بیٹے کو ] [ و : اس حال میں کہ ] [َكَان : وہ تھا ] [فِيْ مَعْزِلٍ : ایک کنارے میں ] [ يّٰبُنَيَّ : اے میرے بیٹے ] [ارْكَبْ : تو سوار ہو ] [مَّعَنَا : ہمارے ساتھ ] [وَلَا تَكُنْ : اور تو مت ہو ] [مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے ساتھ ]
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اُس نے پلٹ کر جواب دیا "میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا" نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے" اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا

[قَالَ : اس نے کہا ] [سَاٰوِيْٓ: میں جا لگوں گا ] [اِلٰي جبلٍ : کسی پہاڑ کی طرف ] [يَّعْصِمُنِيْ : وہ بچا لے گا مجھ کو ] [مِنَ الْمَاۗءِۭ: پانی سے ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَا عَاصِمَ : کوئی بھی بچانے والا نہیں ہے ] [الْيَوْمَ : اس دن ] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے فیصلے سے ] [اِلَّا : مگر ] [مَنْ : اس کو جس پر ] [رَّحِمَ : اس نے رحم کیا ] [وَحَالَ : اور حائل ہوئی ] [بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ] [الْمَوْجُ : لہر ] [فَكَان : تو وہ ہوگیا ] [ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : غرق کئے جانے والوں میں سے ] نوٹ۔ 1: مذکورہ واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے ظاہر سے کس قدر دھوکا کھاتا ہے۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) دریا سے بہت دور خشکی پر اپنا جہاز بنا رہے ہوں گے تو لوگوں کو یہ ایک مضحکہ خیز فعل محسوس ہوتا ہوگا۔ وہ اسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی خرابی دماغ کا ایک ثبوت قرار دیتے ہوں گے۔ اور ایک ایک سے کہتے ہوں گے کہ اگر پہلے تمہیں اس شخص کے پاگل پن میں کچھ شبہ تھا تو لو اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ یہ کیا حرکت کر رہا ہے (اور خشکی پر بیٹھا جہاز بنا رہے ہے۔ ) لیکن جو شخص حقیقت کا علم رکھتا تھا اسے ان لوگوں کی جہالت پر ہنسی آتی ہوگی کہ کتنے نادان ہیں یہ لوگ میں انھیں خبردار کرچکا ہوں کہ ان کی شامت ان کے سر پر کھڑی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے اس سے بچنے کی تیاری کر رہا ہوں، مگر یہ مطمئن ہیں اور الٹا مجھے دیوانہ سمجھ رہے ہیں۔ اس معاملہ کو اگر پھیلا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا دنیا کے ظاہر و محسوس پہلو کے لحاظ سے عقلمندی اور بےو قوفی کا جو معیار قائم کیا جاتا ہے وہ اس معیار سے کس قدر مختلف ہوتا ہے جو علم حقیقت کے لحاظ سے قرار پاتا ہے۔ ظاہر بین آدمی جس کو دانش مندی سمجھتا ہے وہ حقیقت شناس آدمی کی نگاہ میں بےوقوفی ہوتی ہے اور ظاہر بین کے نزدیک جو چیز دیوانگی ہوتی ہے، حقیقت شناس کے لئے وہی عین عقلمندی ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

حکم ہوا "اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان، رک جا" چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا، کشتی جودی پر ٹک گئی، اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قو م!

[وَقِيْلَ : اور کہا گیا ] [يٰٓاَرْضُ : اے زمین ] [ابْلَعِيْ : تو نگل جا ] [مَاۗءَكِ : اپنا پانی ] [وَيٰسَمَاۗءُ : اور اے آسمان ] [اَقْلِعِيْ : تو تھم جا ] [وَغِيْضَ : اور کم (یعنی خشک) کیا گیا ] [الْمَاۗءُ : پانی کو ] [وَقُضِيَ : اور پورا کیا گیا ] [الْاَمْرُ : حکم کو ] [وَاسْـتَوَتْ : اور وہ (یعنی کشتی) متمکن ہوئی ] [عَلَي الْجودِيِّ : جودی پر ] وَقِيْلَ : اور کہا گیا ] [بُعْدًا : دوری ہو ] [لِلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والی قوم کے لئے ] [ ب ل ع ] [بَلَعًا : (ف) کسی کو نگلنا۔ ، اِبْلَعْ : فعل امر ہے تو نگل۔ زیر مطالعہ آیت۔ 24] [ ق ل ع ] [قَلْعًا : (ف) کسی کو معزول کرنا۔ کسی سے کچھ چھین لینا، اِقْـلَاعًا (افعال) کسی چیز یا کام کو چھوڑنا۔ رک جانا، اَقْلِعْ : فعل امر ہے۔ تو چھوڑ۔ تو رک جا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 44] [ غ ی ض ] [غَیْضًا : (ض) کم ہونا۔ سکڑنا (لازم) ۔ کم کرنا۔ سکیڑنا (متعدی) ۔ اَللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی وَمَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ (اللہ جانتا ہے اس کو جو اٹھاتی ہے ہر مادہ اور اس کو جو سکیڑتی ہیں بچہ دانیاں) 13:8 ۔ اور زیر مطالعہ آیت۔ 44] [ ج و د ] [جُوْدَۃً : (ن) عمدہ ہونا۔ بہترین ہونا۔ ، جَوَادٌ: صفت ہے۔ عمدہ۔ بہترین۔ (مذکر و مؤنث دونوں کے لئے) اس کی جمع انسان کے لئے اَجْوَادٌ اور گھوڑے کے لئے جِیَادٌ ہے۔ اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ (جب پیش کئے گئے ان (علیہ السلام) پر شام کو بہترین گھوڑے) 38:31، جُوْدِیٌّ: اسم نسبت ہے۔ عمدگی والا۔ ، اَلْجُوْدِیُّ : اسم علم ہے۔ ایک پہاڑی کا نام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 44] ترکیب : (آیت۔ 44) ۔ بُعْدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اس لئے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا "اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے"

[وَنَادٰي : اور پکارا ] [نُوْحٌ: نوح (علیہ السلام) نے ] [رَّبَّهٗ : اپنے رب کو ] [فَقَالَ : تو کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [ان : بیشک ] [ابْنِيْ : میرا بیٹا ] [مِنْ اَهْلِيْ : میرے گھر والوں میں سے ہے ] [وَان : اور بیشک ] [وَعْدَكَ : تیرا وعدہ ] [الْحَقُّ : حق ہے ] [وَانتَ : اور تو ] [اَحْكَمُ الْحٰكِمِيْنَ : سب سے بڑا حاکم ہے ]
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے"

[قَالَ : اس نے کہا ] [يٰنُوْحُ : اے نوح (علیہ السلام) ] [انهٗ : یقینا وہ ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [مِنْ اَهْلِكَ : تیرے گھر والوں میں سے ] [انهٗ : بیشک یہ (پکارنا)] [عَمَلٌ: ایک ایسا عمل ہے جو ] [غَيْرُ صَالِحٍ : صالح کے علاوہ ہے ] [فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ : پس تو سوال نہ کر مجھ سے ] [مَا : اس کا ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [لَكَ : تیرے لئے ] [بِهٖ : جس کا ] [عِلْمٌ: کوئی علم ] [انىٓ: بیشک میں ] [اَعِظُكَ : نصیحت کرتا ہوں تجھ کو ] [ان : کہ (کہیں)] [تَكُوْنَ : تو ہوجائے ] [مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے ] ترکیب : (آیت۔ 46) ۔ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ میں اِنَّ کا اسم چہٗ کی ضمیر ہے۔ لَیْسَ کا اسم اس میں شامل ضمیر ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ مِنْ اَھْلِکَ قائم مقام خبر ہے۔ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍمیں اِنَّ کا اسم چہٗ کی ضمیر ہے اور عَمَلٌ اس کی خبر ہے جبکہ غَیْرُ صَالِحٍ اس کا بدل ہے۔ یہاں چہٗ کی ضمیر کے لئے دو رائے ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں بھی چہٗ کی ضمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کے لئے ہے۔ ایسی صورت میں کہتے ہیں کہ عَمَلٌ یہاں پر دراصل ذُوْعَمَلٍ کے معنی میں آیا ہے دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ضمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کے لئے ہے۔ اس رائے کی تائید آیت کے اگلے جملے سے ہوتی ہے۔ اس لئے ترجمہ میں ہم دوسری رائے کو ترجیح دیں گے۔ (آیت۔ 47) ۔ اِلَّا دراصل اِنْ لَا ہے اس لئے تَغْفِرْ اور تَرْحَمْ مجزوم ہیں اور اَکُنْ جواب شرط ہونے ی وجہ سے مجزوم ہے۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوحؑ نے فوراً عرض کیا "اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھ معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [انىٓ: بیشک میں ] [اَعُوْذُ بِكَ : میں تیری پناہ آتا ہوں ] [ان : (اس سے) کہ ] [اَسْـــَٔـلَكَ : میں سوال کروں تجھ سے ] [مَا : اس کا ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [لِيْ : میرے لئے ] [بِهٖ : جس کا ] [عِلْمٌ : کوئی علم ] [وَاِلَّا تَغْفِرْ لِيْ : اور اگر تو نے نہ بخشا مجھ کو ] [وَتَرْحَمْنِيْٓ: اور رحم نہ کیا مجھ پر ] [اَكُنْ : تو میں ہو جائوں گا ] [مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ]
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا "اے نوحؑ اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا"

[قِيْلَ : کہا گیا ] [يٰنُوْحُ : اے نوح (علیہ السلام) ] [اهْبِطْ : آپ (علیہ السلام) اتریں ] [بِسَلٰمٍ : سلامتی کے ساتھ ] [مِّنَا : ہماری طرف سے ] [وَبَرَكٰتٍ : اور ایسی برکتوں کے ساتھ جو ] [عَلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) پر ہیں ] [وَعَلٰٓي اُمَمٍ : اور ان امتوں پر ہیں جو ] [مِّمَنْ : ان میں سے ہیں جو ] [مَّعَكَ : آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہیں ] [وَاُمَمٌ: اور کچھ امتیں ہیں ] [سَنُمَتِّعُهُمْ : ہم فائدہ دیں گے ان کو ] [ثُمَّ : پھر ] [يَمَسُّهُمْ : چھوئے گا ان کو ] [مِّنَا : ہماری طرف سے ] [عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک درد ناک عذاب ]
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

اے محمدؐ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم، پس صبر کرو، ا نجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے

[تِلْكَ : یہ ] [مِنْ انۢبَاۗءِ الْغَيْبِ : غیب کی خبروں میں سے ہے ] [نُوْحِيْهَآ : ہم وحی کرتے ہیں ان کو ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ : آپ ﷺ نہیں جانتے تھے ان کو ] [انتَ : آپ ﷺ ] [وَلَا قَوْمُكَ : اور نہ آپ ﷺ کی قوم ] [مِنْ قَبْلِ ھٰذَا : اس سے پہلے سے ] [فَاصْبِرْ : پس آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] [ان : یقینا ] [الْعَاقِبَةَ : (بھلا) انجام ] [لِلْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کے لئے ہے ] نوٹ۔ 1: حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا قصہ بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کا انصاف کس قدر بےلاگ ہے۔ مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کیسے ہی کام کریں، ہم پر خدا کا عذاب نہیں ہوگا کیونکہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے بھی ایسے ہی کچھ گمان ہیں۔ اور بہت سے غلط کار مسلمان بھی اس قسم کے جھوٹے بھروسوں پر تکیہ کئے ہوئے ہیں کہ ہم فلاں کی اولاد ہیں۔ ان کی سفارش ہم کو خدا کے انصاف سے بچا لے گی۔ لیکن یہاں یہ منظر دکھایا گیا ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لخت جگر کو ڈوبتے ہوئے دیکھتا ہے اور تڑپ کر بیٹے کی معافی کے لئے درخواست کرتا ہے۔ لیکن یہ دعا کام نہ آئی اور باپ کی پیغمبری بھی ایک بدعمل بیٹے کو عذاب سے نہیں بچا سکی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں

[وَاِلٰي عَادٍ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) عاد کی طرف ] [اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [هُوْدًا : ہود (علیہ السلام) کو ] [قَالَ : انھوں نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کی ] [مَا لَكُمْ : تمہارے لئے نہیں ہے ] [مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی اِلٰہ ] [غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] ان : نہیں ہو ] [انتم : تم لوگ ] [اِلَّا : مگر ] [مُفْتَرُوْنَ : گھڑنے والے ]
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے برادران قوم، اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا اجر تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے؟

[يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ : میں نہیں مانگتا تم سے ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [اَجْرًا : کوئی معاوضہ ] [ان : نہیں ہے ] [اَجْرِيَ : میرا اجر ] [اِلَّا : مگر ] [عَلَي الَّذِي : اس پر جس نے ] [فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھ کو ] [اَفَلَا تَعقلوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے ]
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو"

[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [اسْتَغْفِرُوْا : تم لوگ مغفرت مانگو ] [رَبَّكُمْ : اپنے رب سے ] [ثُمَّ تُوْبُوْٓا : پھر تم لوگ پلٹو ] [اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [يُرْسِلِ : تو وہ بھیجے گا ] [السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [عَلَيْكُمْ : تم پر ] [مِّدْرَارًا : موسلادھار ہوتے ہوئے ] [وَّيَزِدْكُمْ : اور وہ زیادہ کرے گا تم کو ] [قُوَّةً : بلحاظ قوت کے ] [اِلٰي قُوَّتِكُمْ : تمہاری (موجودہ) قوت کی طرف (یعنی پر)] [وَلَا تَتَوَلَوْا : اور روگردانی مت کرو ] [مُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "اے ہودؑ، تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے، اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے، اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں

[قَالُوْا : لوگوں نے کہا ] [ يٰهُوْدُ : اے ہود (علیہ السلام) ] [مَا جِئْتَنَا : آپ (علیہ السلام) نہیں آئے ہمارے پاس ] [بِبَيِّنَةٍ : کسی واضح (دلیل) کے ساتھ ] [وَّمَا نَحْنُ : اور ہم نہیں ہیں ] [بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا : اپنے خدائوں کو چھوڑنے والے ] [عَنْ قَوْلِكَ : آپ (علیہ السلام) کی بات سے ] [وَمَا نَحْنُ : اور ہم نہیں ہیں ] [لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ : آپ (علیہ السلام) کی بات ماننے والے ]
Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے" ہودؑ نے کہا "میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں

[ان نَّقُوْلُ : ہم نہیں کہتے ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [اعْتَرٰىكَ : لاحق ہو آپ (علیہ السلام) کو ] [بَعْضُ اٰلِهَتِنَا : ہمارے خدائوں کا کوئی ] [ بِسُوْۗءٍ : بری طرح سے ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [انىٓ: بیشک میں ] [اُشْهِدُ : گواہ بناتا ہوں ] [اللّٰهَ : اللہ کو ] [وَاشْهَدُوْٓا : اور تم لوگ گواہ رہو ] [ انى: کہ میں ] [ بَرِيْۗءٌ: بری ہوں ] [مِّمَا : اس سے جو ] [تُشْرِكُوْنَ : تم لوگ شریک کرتے ہو ]
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھا رکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو

[مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ سے ] [فَكِيْدُوْنِيْ : پس تم لوگ چالبازی کرو مجھ سے ] [جَمِيْعًا : سب کے سب ] [ثُمَّ : پھر ] [ لَا تُنْظِرُوْنِ : تم لوگ مہلت مت دو مجھ کو ]
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے

[انى : بیشک میں نے ] [تَوَكَّلْتُ : بھروسہ کیا ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [رَبِيْ : جو میرا رب ہے ] [وَرَبِكُمْ : اور تمہارا رب ہے ] [مَا : نہیں ہے ] [مِنْ دَاۗبَّةٍ : کوئی بھی چلنے والا ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [هُوَ : وہ ] [اٰخِذٌۢ: پکڑنے والا ہے ] [بِنَاصِيَتِهَا : اس کی پیشانی کو ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھی راہ پر ہے ]
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں اب میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھائے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگراں ہے"

[فَان : پھر اگر ] [تَوَلَوْا : تم لوگ منھ موڑو گے ] [فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : تو میں پہنچا چکا ہوں تم کو ] [مَآ : وہ ] [اُرْسِلْتُ : میں بھیجا گیا ] [بِهٖٓ : جس کے ساتھ ] [ اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف ] [وَيَسْتَخْلِفُ : اور جانشین کرے گا ] [رَبِيْ : میرا رب ] [قَوْمًا : ایک قوم کو ] [غَيْرَكُمْۚ: تمہارے علاوہ ] [وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ : اور تم لوگ نقصان نہیں پہنچائو گے اس کو ] [شَـيْـــًٔـا : کچھ بھی ] [ ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [حَفِيْظٌ: نگہبان ہے ]
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے بچا لیا

[وَلَمَا : اور جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [نَجَّيْنَا : ہم نے نجات دی ] [هُوْدًا : ہود (علیہ السلام) کو ] [وَّالَّذِينَ : اور ان کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [مَعَهٗ : ان کے ساتھ ] [بِرَحْمَةٍ : ایک رحمت سے ] [مِّنَا ۚ : ہماری طرف سے ] [وَنَجَّيْنٰهُمْ : اور ہم نے نجات دی ان کو ] [مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ : ایک سخت عذاب سے ]
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ ہیں عاد، اپنے رب کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اس کے رسولوں کی بات نہ مانی، اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی کرتے رہے

[وَتِلْكَ : اور یہ ] [عَادٌ: عاد ہیں ] [جَحَدُوْا : جنھوں نے جانتے بوجھتے انکار کیا ] [بِاٰيٰتِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی نشانیوں کا ] [وَعَصَوْا : اور نافرمانی کی ] [رُسُلَهٗ : اس کے رسولوں کی ] [وَاتَّبَعُوْٓا : اور پیروی کی ] [اَمْرَ كُلِ جبارٍ عَنِيْدٍ : ہر ایک زبردستی کرنے والے مخالف کے حکم کی ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 59 میں رُسُلَہٗ کے الفاظ آئے ہیں جس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ عاد نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی۔ جبکہ ان کے پاس ایک ہی رسول، ھود (علیہ السلام) آئے تھے۔ مگر جس چیز کی طرف انھوں نے دعوت دی تھی وہ وہی ایک دعوت تھی جو ہمیشہ ہر زمانے اور ہر قوم میں اللہ کے رسول پیش کرتے رہے ہیں اس لئے ایک رسول کی بات نہ ماننے کو سارے رسولوں کی نافرمانی قرار دیا گیا۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ

[وَاُتْبِعُوْا : اور ان کے پیچھے لگا دیا گیا ] [فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا : اس دنیا میں ] [لَعْنَةً : ایک لعنت کو ] [وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : اور قیامت کے دن (بھی)] [اَلَآ : سن لو ] [ ان : بیشک ] [عَادًا : عاد نے ] [ كَفَرُوْا : ناشکری کی ] [رَبَّهُمْ : اپنے رب کی ] [اَلَا : سن لو ] [بُعْدًا : دوری ہے ] [لِعَادٍ : عاد کے لئے ] [ قَوْمِ هُوْدٍ : ھود کی قوم کے لئے ]
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُ س کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناً میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے"

[وَاِلٰي ثَمُوْدَ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) ثمود کی طرف ] [اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [ صٰلِحًا : صالح (علیہ السلام) کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کی ] [مَا لَكُمْ : تمہارے لئے نہیں ہے ] [مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی الٰہ ] [غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] [هُوَ : اس نے ] [انشَاَكُمْ : اٹھایا تم کو ] [مِّنَ الْاَرْضِ : زمین میں سے ] [وَاسْتَعْمَرَكُمْ : اور بسایا تم کو ] [فِيْهَا : اس میں ] [فَاسْتَغْفِرُوْهُ : پس تم لوگ مغفرت مانگو اس سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [تُوْبُوْٓا : تم لوگ پلٹو ] [اِلَيْهِۭ: اس کی طرف ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [قَرِيْبٌ: قریب ہے ] [مُّجِيْبٌ: قبول کرنے والا ہے ]
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا "اے صالحؑ، اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [يٰصٰلِحُ : اے صالح ] [قَدْ كُنْتَ : تو رہا ہے ] [فِيْنَا : ہم میں ] [مَرْجوا : امیدیں وابستہ کیا ہوا ] [قَبْلَ ھٰذَآ : اس سے پہلے ] [اَتَنْهٰىنَآ : کیا تو منع کرتا ہے ہم کو (اس سے)] [ان : کہ ] [نَّعْبُدَ : ہم بندگی کریں ] [مَا : اس کی جس کی ] [يَعْبُدُ : بندگی کرتے رہے ] [اٰبَاۗؤُنَا : ہمارے آباء و اجداد ] [وَاننَا : اور بیشک ہم ] [لَفِيْ شَكٍّ : یقینا ایک شک میں ہیں ] [مِّمَا : اس سے ] [تَدْعُوْنَآ : تو بلاتا ہے ہم کو ] [اِلَيْهِ : جس کی طرف ] [مُرِيْبٍ : جو الجھا دینے والا ہے ]
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالحؑ نے کہا "اے برادران قوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اِس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اُس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آ سکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اَ : کیا ] [رَءَيْتم : تم نے غور کیا (کہ)] [ان : اگر ] [ كُنْتُ : میں ہوں ] [عَلٰي بَيِّنَةٍ : ایک واضح (دلیل) پر ] [مِّنْ رَّبِيْ : اپنے رب (کی طرف) سے ] [وَاٰتٰىنِيْ : اور اس نے دی ہو مجھ کو ] [مِنْهُ : اپنے (پاس) سے ] [رَحْمَةً : ایک رحمت ] [فَمَنْ : تو کون ] [يَّنْصُرُنِيْ : مدد کرے گا میری ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے (بچنے میں)] [ان : اگر ] [عَصَيْتُهٗ : میں نافرمانی کروں اس کی ] [فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ : پس تم لوگ نہیں بڑھاتے ہو مجھ کو ] [غَيْرَ تَخْسِيْرٍ : (مگر) خسارہ دینے کے علاوہ ]
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا"

[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [هٰذِهٖ : یہ ] [نَاقَــةُ اللّٰهِ : اللہ کی اوٹنی ہے ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [اٰيَةً : ایک نشانی ہوتے ہوئے ] [فَذَرُوْهَا : تو تم لوگ چھوڑو اس کو ] [تَاْكُلْ : (کہ) وہ کھائے ] [فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ : اللہ کی زمین میں ] [وَلَا تمسُّوْهَا : اور تم لوگ مت چھونا اس کو ] [بِسُوۗءٍ : کسی برائی سے ] [فَيَاْخُذَكُمْ : ورنہ پکڑے گا تم کو ] [عَذَابٌ قَرِيْبٌ: ایک قریبی عذاب ]
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی"

[فَعَقَرُوْهَا : پھر (بھی) ان لوگوں نے ٹانگیں کاٹیں اس کی ] [فَقَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [تمتَّعُوْا : تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] [فِيْ دَارِكُمْ : اپنے اپنے گھر میں ] [ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ : تین دن ] [ذٰلِكَ : یہ ] [وَعْدٌ: ایک ایسا وعدہ ہے جو ] [غَيْرُ مَكْذُوْبٍ : جھوٹ کہے ہوئے کے علاوہ ہے ]
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالحؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا بے شک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالا دست ہے

[فَلَمَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [نَجَّيْنَا : تو ہم نے نجات دی ] [صٰلِحًا : صالح (علیہ السلام) کو ] [وَّالَّذِينَ : اور ان کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [مَعَهٗ : ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] [بِرَحْمَةٍ : رحمت سے ] [مِّنَا : اپنی (طرف) سے ] [ وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍۭ: اور اس دن کی رسوائی سے ] [ان : بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [هُوَ الْقَوِيُّ : ہی قوت والا ہے ] [ الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ]
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے

[وَاَخَذَ : اور پکڑا ] [الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [ظَلَمُوا : ظلم کیا ] [الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [فَاَصْبَحُوْا : پھر وہ ہوگئے ] [فِيْ دِيَارِهِمْ : اپنے گھروں میں ] [ جٰثِمِيْنَ : اوندھے منھ گرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے سنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود!

[كَان لَمْ يَغْنَوْا : جیسے کہ وہ رہتے ہی نہ تھے ] [فِيْهَا : اس میں ] [اَلَآ : سن لو ] [ان : بیشک ] [ ثَمُــوْدَا۟: ثمود نے ] [ كَفَرُوْا : ناشکری کی ] [رَبَّهُمْ : اپنے رب کی ] [اَلَا : سن لو ] [بُعْدًا : دوری ہے ] [لِثَمُوْدَ : ثمود کے لئے ]
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور دیکھو، ابراہیمؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے کہا تم پر سلام ہو ابراہیمؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیمؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا

[وَلَقَدْ جَاۗءَتْ : اور بیشک آ چکے ہیں ] [ رُسُلُنَآ : ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ] [بِالْبُشْرٰي : خوشخبری کے ساتھ ] [قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [سَلٰمًا : سلام ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ سَلٰمٌ: سلام ] [فَمَا لَبِثَ : پھر وہ (علیہ السلام) نہیں رکے ] [ان : تاکہ ] [ جَاۗءَ : وہ آئیں ] [ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ : ایک بھنے ہوئے بچھڑے کے ساتھ ] ح ن ذ [حَنْذًا : (ض) گوشت بھوننا۔ ، حَنِیْذٌ: فعیل کے وزن پر صفت مفعولی ہے۔ بھنا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 69] ترکیب : (آیت۔ 69) قَالُوْا کا مفعول ہونے کی وجہ سے سَلٰمًا حالت نصب میں ہے۔ جبکہ قَالَ کا مقولہ Direct Tense میں ہونے کی وجہ سے سَلٰمٌ حالت رفع میں آیا ہے۔ (آیت۔ 70) ۔ رَاٰ کا مفعول ہونے کی وجہ سے اَیْدِیَھُمْ حالت نصب میں آیا ہے۔ جبکہ لَا تَصِلُ کا فاعل اس میں شاملھی کی ضمیر ہے جو اَیْدِیَھُمْ کے لئے ہے۔ (آیت۔ 75) ۔ اِنَّ کا اسم اِبْرَاھِیْمَ ہے، جبکہ حَلِیْمٌ۔ اَوَّاہٌ اور منِیْبٌ۔ یہ تینوں ان کی خبریں ہیں۔ (آیت۔ 76) ۔ اِنَّہٗ ضمیر الشان ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 69 سے معلوم ہوا کہ آنے والوں کی مہمانی کرنا آداب اسلام اور مکارمِ اخلاق میں سے ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ مہمانی کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ جمہور علماء اس پر ہیں کہ واجب نہیں ہے، بلکہ سنت اور مستحسن ہے۔ بعض نے فرمایا کہ گائوں والوں پر واجب ہے کہ جو شخص ان کے گائوں میں ٹھہرے اس کی مہمانی کریں کیونکہ وہاں کھانے کا کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوسکتا۔ اور شہر میں ہوٹل وغیرہ سے اس کا انتظام ہوسکتا ہے، اس لئے شہر والوں پر واجب نہیں ہے۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا اُنہوں نے کہا "ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں"

[فَلَمَا : پھر جب ] [رَآٰ: انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا ] [اَيْدِيَهُمْ : ان کے ہاتھوں کو ] [لَا تَصِلُ : (کہ) وہ نہیں پہنچے ] [اِلَيْهِ : اس (بچھڑے) تک ] [ نَكِرَ : تو انھوں (علیہ السلام) اجنبی جانا ] [َهُمْ : ان لوگوں کو ] [وَاَوْجس : اور دل میں محسوس کیا ] [مِنْهُمْ : ان سے ] [خِيْفَةً : ایک خوف ] [ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [لَا تَخَفْ : آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] [انآ : بیشک ہم ] [اُرْسِلْنَآ : بھیجے گئے ہیں ] [اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ : لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف ] و ج س [وَجْسًا : (ض) پوشیدہ ہونا۔ ، اِیْجَاسًا : (افعال) دل کا کسی چیز کو محسوس کرنا جیسے گھبراہٹ، خوف وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 70 ۔]
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی

[وَامْرَاَتُهٗ : اور ان (علیہ السلام) کی عورت (یعنی بیوی)] [ قَاۗىِٕمَةٌ: کھڑی تھیں ] [فَضَحِكَتْ : پھر وہ ہنسیں ] [فَبَشَّرْنٰهَا : تو ہم نے خوشخبری دی ان کو ] [بِاِسْحٰقَۙ: اسحاق (علیہ السلام) کی ] [وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کے پیچھے سے ] [ يَعْقُوْبَ : یعقوب (علیہ السلام) کی ] ض ح ک [ضَحْکًا : (س) (1) خوشی سے ہنسنا۔ (2) تعجب سے ہنسنا (3) حقارت سے ہنسنا یعنی مذاق اڑانا۔ (1) فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلًا (پاس انھیں چاہیے کہ وہ ہنسیں کم) 9:82 ۔ (2) اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ وَ تَضْحَکُوْنَ (تو کیا اس بات سے تم لوگ تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو) 53:59 ۔ 60 (3) وَکُنْتُمْ مِنْھُمْ تَضْحَکُوْنَ (اور تم لوگ ان سے ٹھٹھا کرتے تھے) 23:110،] [ضَاحِکٌ: اسم الفاعل ہے۔ ہنسنے والا۔ فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِھَا (تو انھوں (علیہ السلام) نے تبسم فرمایا ہنسنے والا ہوتے ہوئے ان کی بات سے) 27:19] [اِضْحَاکًا : (افعال) ہنسانا۔ وَاَنَّہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَ اَبْکٰی (اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے) 53:43]
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ بولی "ہائے میری کم بختی! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہو چکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"

[قَالَتْ : وہ کہنے لگی ] [ يٰوَيْلَتٰٓى: ہائے ہائے میں ؟] [ءَ : کیا ] [اَلِدُ : میں جنوں گی ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [انا : میں ] [عَجوزٌ: بہت بوڑھی ہوں ] [وَّھٰذَا : اور یہ ] [ بَعْلِيْ : میرے شوہر ہیں ] [شَيْخًا : بوڑھے ] [ان : یقینا ] [ھٰذَا : یہ ] [لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ: تو بیشک ایک عجیب چیز ہے ] ش ی خ [شَیْخًا : (ض) (1) بوڑھا ہونا۔ (2) علم، فضیلت یا رتبہ میں بڑا ہونا (اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا) ۔] [شَیْخٌ: اسم صفت بھی ہے۔ (1) بوڑھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 72 ۔ (2) عالم استاد۔ سردار۔]
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا "اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیمؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے"

[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [تَعْجبيْنَ : آپ تعجب کرتی ہیں ] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے ] [رَحْمَتُ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت ] [وَبَرَكٰتُهٗ : اور اس کی برکتیں ہیں ] [عَلَيْكُمْ : آپ لوگوں پر ] [اَهْلَ الْبَيْتِ : اے گھر والو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [حَمِيْدٌ: حمد کیا ہوا ہے ] [ مَّجِيْدٌ: بڑی شان والا ہے ]
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیمؑ کی گھبراہٹ دور ہو گئی اور (اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہو گیا تو اس نے قوم لوط کے معاملے میں ہم سے جھگڑا شروع کیا

[فَلَمَا : پھر جب ] [ذَهَبَ : گئی ] [عَنْ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) سے ] [ الرَّوْعُ : گھبراہٹ ] [وَجَاۗءَتْهُ : اور آئی ان کے پاس ] [الْبُشْرٰي : خوشخبری ] [يُجَادِلُنَا : تو وہ بحث کرنے لگے ہم سے ] [ فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ : لوط (علیہ السلام) کی قوم (کے بارے) میں ] ر و ع [رَوْعًا : (ن) ڈرا دینا۔ گھبرا دینا۔] [ رَوْعٌ: ڈر۔ گھبراہٹ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 74] [
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

حقیقت میں ابراہیمؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا

اِنَّ : بیشک ] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) ] [ لَحَلِيْمٌ: بردبار تھے ] [ اَوَّاهٌ: بہت دردمند تھے ] [ مُّنِيْبٌ: متوجہ رہنے والے تھے ] ن و ب [نَوْبًا : (ن) (1) واپس ہونا۔ لوٹنا۔ اس کے لئے عموماً الیٰ کا صلہ آتا ہے۔ (2) قائم مقام ہونا۔ نائب ہونا۔ اس کے لئے عموماً عن کا صلہ آتا ہے۔] [ اِنَابَۃً : (افعال) (1) کسی طرف رخ کرنا۔ متوجہ ہونا۔ اس کے لئے عموماً الیٰ کا صلہ آتا ہے۔ (2) کسی کو قائم مقام مقرر کرنا۔ نائب بنانا۔ اس کے لئے عموماً عن کا صلہ آتا ہے، (اِس معنی میں قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا) ۔ وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ (اور تم پیروی کرو اس کے راستے کی جس نے رخ کیا میری طرف) 31:15] [ مُنِیْبٌ: اسم الفاعل ہے۔ رخ کرنے والا۔ متوجہ ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 75 ۔]
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(آخر کار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا) "اے ابراہیمؑ، اس سے باز آ جاؤ، تمہارے رب کا حکم ہو چکا ہے اور اب ان لوگوں پر وہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھر سکتا"

[يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ : اے ابراہیم (علیہ السلام) ] [اَعْرِضْ : آپ (علیہ السلام) اعراض کریں ] [عَنْ ھٰذَا : اس سے ] [انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [قَدْ جَاۗءَ : آچکا ہے ] [اَمْرُ رَبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب کا حکم ] [وَانهُمْ : اور وہ لوگ !] [اٰتِيْهِمْ : آنے والا ہے ان کے پاس ] [عَذَابٌ: ایک ایسا عذاب جو ] [غَيْرُ مَرْدُوْدٍ : لوٹائے جانے والے کے علاوہ ہے ]
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن ہے

[وَلَمَا : اور جب ] [جَاۗءَتْ : آئے ] [رُسُلُنَا : ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)] [لُوْطًا : لوط (علیہ السلام) کے پاس ] [سِيْۗءَ : تو ان (علیہ السلام) کو برا لگایا گیا ] [بِهِمْ : ان (کے آنے) سے ] [وَضَاقَ : اور وہ (علیہ السلام) تنگ ہوئے ] [بِهِمْ : ان (کے آنے) سے ] [ذَرْعًا : بلحاظ کمزوری کے ] [وَّقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ھٰذَا : یہ ] [يَوْمٌ عَصِيْبٌ: ایک سخت دن ہے ] ذ رع [ذَرْعًا : (ف) (1) کسی چیز کو ذِراع (ایک پیمانہ کا نام) سے ناپنا۔ (2) پیچھے سے آکر بازو سے کسی کا گلا گھونٹنا۔ کمزور کرنا۔] [ذَرْعٌ: اسم ذات ہے۔ (1) پیمائش۔ لمبائی۔ (2) کمزوری۔ زیر مطالعہ آیت۔ 77] [ذِرَاعٌ: (1) ایک پیمانہ۔ (کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے سرے تک کا فاصلہ) ۔ (2) بازو۔ ہاتھ۔ (1) فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا (ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر بازو ہیں) 69:32 ۔ (2) وَکَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ (اور ان کا کتا پھیلانے والا ہے اپنے دونوں بازئوں کو) 18:18 ۔] ع ص ب [عَصْبًا : (ن) رسی کو بٹ کر مضبوط کرنا۔ سخت کرنا۔] [عُصْبَۃٌ: ایسی جماعت جس کے افراد باہم گتھے ہوئے ہوں یعنی ایک دوسرے کے حامی و م مددگار ہوں۔ مضبوط جماعت۔ طاقتور جماعت۔ وَ نَحْنُ عُصْبَۃٌ (حالانکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں) 12:8 ۔] [عَصِیْبٌ: فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ سخت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 77 ۔] نوٹ۔ 1: آیت۔ 77 میں لفظ سِیْئَ آیا ہے جو کہ ماضی مجہول ہے۔ اور اگلی آیت میں پھر مضارع مجہول یُھْرَعُوْنَ آیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کو مہمانوں کی آمد کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس بات نے لوط (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچائی اور ان کی قوم کو سرپٹ دوڑایا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اطلاع لوط (علیہ السلام) کے گھر کا کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے۔ جبکہ ان کے گھر کے تمام افراد مومن تھے اور پوری بستی میں یہی ایک گھر مومن تھا (51:35 ۔ 36) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 81 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیوی مومنین میں شامل نہیں تھی۔ ان کی ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں اور وہ پہلے بھی اپنی قوم کو خبریں پہنچاتی رہتی تھی، جس کو قرآن مجید میں خیانت کہا گیا ہے (66:11) ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ مہمانوں کی آمد کی اطلاع لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے پہنچائی تھی۔ حالانکہ وہ لوط (علیہ السلام) کے گھر کی ایک فرد تھی لیکن اپنے عمل کی وجہ سے وہ عذاب کی مستحق قرار پائی۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے پہلے سے وہ ایسی ہی بد کاریوں کے خوگر تھے لوطؑ نے ان سے کہا "بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے ذلیل نہ کرو کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟"

[وَجَاۗءَهٗ : اور آئی ان (علیہ السلام) کے پاس ] [قَوْمُهٗ : ان کی قوم ] [يُهْرَعُوْنَ : بےتحاشہ دوڑائی ہوئی ] [اِلَيْهِ : ان کی طرف ] [وَمِنْ قَبْلُ : اور پہلے سے (ہی)] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ عمل کرتے تھے ] [السَيِّاٰتِ : برائیوں کا ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [ بَنَاتِيْ : میری بیٹیاں ہیں ] [هُنَّ : یہ ] [اَطْهَرُ : زیادہ پاکیزہ ہیں ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [فَاتَّقُوا : تو تقوٰی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کا ] [وَلَا تُخْزُوْنِ : اور تم لوگ رسوا مت کرو مجھ کو ] [ فِيْ ضَيْفِيْ : میرے مہمانوں (کے بارے) میں ] [اَ : کیا ] [ لَيْسَ : نہیں ہے ] [ مِنْكُمْ : تم لوگوں میں ] [رَجُلٌ رَّشِيْدٌ: کوئی نیک چلن مرد ] ھ ر ع [ھَرْعًا : (ف) اضطراب اور عجلت سے کسی طرف بھاگنا۔ بےسدھ ہو کر دوڑنا۔] [اِھْرَاعًا : (افعال) کسی کو مضطرب کر کے کسی طرف بھگانا۔ بےتحاشا دوڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔] ض ی [ ضَیْفًا : (ض) (1) کسی طرف مائل ہونا۔ جھکنا۔ (2) کسی کا مہمان ہونا۔] [ضَیْفٌ: اسم ذات بھی ہے۔ مہمان۔ (یہ مذکر، مؤنث، واحد، جمع، سب کے لئے آتا ہے اور اس کی جمع ضُیُوْفٌ بھی آتی ہے) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔] [تَضْیِیْفًا : (تفعیل) کسی کو مہمان بنانا۔ ضیافت کرنا۔ فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمَا (تو ان لوگوں نے انکار کیا کہ وہ مہمان بنائیں ان دونوں کو) 18:77 ۔] نوٹ۔ 2: آیت۔ 78 میں حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ اس کے متعلق بعض مفسرین کی رائے ہے اپنی لڑکیوں سے مراد پوری قوم کی لڑکیاں ہیں کیونکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کے لئے مثل باپ کے ہوتا ہے اور پوری امت اس کی روحانی اولاد ہوتی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق حضرت لوط (علیہ السلام) کے قول کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی خبیث عادت سے باز آئو، شرافت کے ساتھ قوم کی لڑکیوں سے نکاح کرو اور ان کو بیویاں بنائو (معارف القرآن)
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [لَقَدْ عَلِمْتَ : یقینا آپ (علیہ السلام) جان چکے ہیں ] [مَا لَنَا : ہمارے لئے نہیں ہے ] [فِيْ بَنٰتِكَ : آپ (علیہ السلام) کی بیٹیوں میں ] [مِنْ حَقٍّ : کوئی بھی حق ] [وَانكَ : اور بیشک آپ (علیہ السلام) ] [ لَتَعْلَمُ : یقینا جانتے ہیں ] [مَا : اس کو جو ] [ نُرِيْدُ : ہم چاہتے ہیں ]
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوطؑ نے کہا "کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کر دیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لَوْ ان : کاش کہ ] [ لِيْ : میرے لئے ] [ بِكُمْ : تم لوگوں پر ] [ قُوَّةً : کوئی طاقت ہوتی ] [اَوْ : یا ] [اٰوِيْٓ : میں پناہ نہ لیتا ] [اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ : کسی مضبوط سہارے کی طرف ] ر ک ن [رَکَانَۃً : (ک) باوقار ہونا۔ قابل اعتماد ہونا۔] [رُکُوْنًا : (س) کسی طرف مائل ہونا۔ وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور تم لوگ مت مائل ہو ان کی طرف جنھوں نے ظلم کیا) 11:113 ۔] [رُکْنٌ: ہر وہ چیز جس پر بھروسہ یا تکیہ کر کے تقویت حاصل کی جائے۔ سہارا۔ یہ واحد کے علاوہ اسم جمع کے طور پر بھی آتا ہے جیسے رُکْنُ الرَّجُلِ ۔ آدمی کے سہارے یعنی قوم۔ اور اس کی جمع اَرْکَانٌ بھی آتی ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 80 اور فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ (پھر اس نے منھ موڑا اپنے بھروسوں کے ساتھ یعنی لشکر کے ساتھ) 51:39]