11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ "اے لوطؑ، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جا اور دیکھو، تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے مگر تیر ی بیوی (ساتھ نہیں جائے گی) کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے!"

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰلُوْطُ : اے لوط (علیہ السلام) ] [انا : بیشک ہم ] [رُسُلُ رَبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ] [ لَنْ يَّصِلُوْٓا : یہ لوگ ہرگز نہیں پہنچیں گے ] [ اِلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) تک ] [فَاَسْرِ : پس آپ (علیہ السلام) لے کر نکلیں ] [بِاَهْلِكَ : اپنے گھر والوں کو ] [ بِقِطْعٍ : ایک حصے میں ] [ مِّنَ الَّيْلِ : رات میں سے ] [وَلَا يَلْتَفِتْ : اور چاہیے کہ مڑکر نہ دیکھے ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ] [اِلَّا : سوائے ] [امْرَاَتَكَ : آپ (علیہ السلام) کی عورت (یعنی بیوی) کے ] [انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [مُصِيْبُهَا : آ لگنے والا ہے اس کو ] [مَآ : وہ جو ] [اَصَابَهُمْ : آ لگے گا ان کو ] [ان : بیشک ] [مَوْعِدَهُمُ : ان کے وعدے کا وقت ] [الصُّبْحُۭ: صبح کا ہے ] [ اَلَيْسَ الصُّبْحُ : کیا صبح ] [بِقَرِيْبٍ : قریب نہیں ہے ] س ر ی [سَرْیَۃً : (ض) رات میں چلنا۔ پھر مجرد چلنے کے لئے بھی آتا ہے۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ (قسم ہے رات کی جب وہ چلتی ہے) 89:4] [سَرِیٌّ: فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ اور ہر حال میں چلنے والا۔ پھر نہر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قَدْجَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا (بنا دیا ہے آپ کے رب نے آپ کے نیچے ایک نہر) 19:24] [اِسْرَائً : (افعال) یہ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ بَا کے صلہ سے متعدی ہوتا ہے۔ کسی کو لے کر نکلنا۔ کسی کو لے جانا۔ سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا (پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے وقت) 17:1 ۔] [اَسْرِ : فعل امر ہے۔ تو لے کر نکل۔ تو لے جا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 81 ۔]
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے

[فَلَمَا : پھر جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [جَعَلْنَا : تو ہم نے بنادیا ] [عَالِيَهَا : اس (بستی) کے بلند کو ] [سَافِلَهَا : اس کا پست ] [ وَاَمْطَرْنَا : اور ہم نے برسائے ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [حِجَارَةً : کچھ پتھر ] [ مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَنْضُوْدٍ : تہہ بہ تہہ کئے ہوئے مٹی کے پتھر میں سے ] س ج ل [سَجْلًا : (ن) (1) اوپر سے پانی گرانا۔ (2) کتاب کو لگاتار پڑھنا۔] [سِجِلٌ: دعوئوں اور فیصلوں کو لکھنے کے اوراق جو قاضی اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ جو ڈیشنل ریکارڈ۔ یَوْمَ نَطْوِی السَّمَائَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ (جس دن ہم لپیٹیں گے آسمان کو جیسے عدالتی کاروائی کی دستاویز کا لپیٹنا لکھی ہوئی ہونے کے لئے) 21:104] [سِجِّیْلٌ: گیلی مٹی کی گولیاں بنا کر آگ میں پکا کر سخت کرلیتے ہیں۔ مٹی کے پتھر۔ کنکر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 82 ۔] ن ض د [نَضْدًا : (ض) سامان کو ایک دوسرے پر چننا۔ تہہ در تہہ رکھنا۔] [مَنْضُوْدٌ: اسم المفعول ہے۔ تہہ در تہہ کیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 82 ۔] [نَضِیْدٌ: فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ تہہ بہ تہہ۔ لَھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ (اس کے لئے خوشہ ہے تہہ بہ تہہ۔ ) 50:10]
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے

[مُّسَوَّمَةً : نشان لگے ہوئے ] [ عِنْدَ رَبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب کے پاس سے ] [ وَمَا : اور نہیں ہے ] [ھِيَ : یہ (بستی) ] [مِنَ الظّٰلِمِيْنَ : ان ظالموں سے (یعنی مکہ والوں سے)] [ بِبَعِيْدٍ : کچھ دور ]
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا

[وَاِلٰي مَدْيَنَ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) مدین کی طرف ] [اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [شُعَيْبًا : شعیب (علیہ السلام) کو ] [ قَالَ : انھوں نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کی ] [مَا لَكُمْ : نہیں ہے تمہارے لئے ] [مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی الٰہ ] [غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] [وَلَا تَنْقُصُوا : اور تم لوگ کمی مت کرو ] [الْمِكْيَالَ : پیمانے میں ] [وَالْمِيْزَان : اور ترازو میں ] [انىٓ : بیشک میں ] [اَرٰىكُمْ : دیکھتا ہوں تم لوگوں کو ] [بِخَيْرٍ : (معاشی) بھلائی میں ] [ وَّانىٓ : اور بیشک میں ] [اَخَافُ : ڈرتا ہوں ] [عَلَيْكُمْ : تم پر ] [عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ : ایک گھیرنے والے دن کے عذاب سے ]
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو

[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [ اَوْفُوا : تم لوگ پورا بھرو ] [الْمِكْيَالَ : پیمانے کو ] [وَالْمِيْزَان : اور ترازو کو ] [بِالْقِسْطِ : انصاف سے ] [وَلَا تَبْخَسُوا : اور حق سے کم مت دو ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [اَشْيَاۗءَهُمْ : ان کی چیزیں ] [وَلَا تَعْثَوْا : اور انتشار مت پھیلائو ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہر حال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں"

[بَقِيَّتُ اللّٰهِ : اللہ کی چھوڑی ہوئی چیزیں (جو حرام نہیں ہوئیں)] [خَيْرٌ: بہتر ہیں ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ] [وَمَآ : اور میں نہیں ہوں ] [انا عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [بِحَفِيْظٍ : نگہبان ] ترکیب : (آیت۔ 86) یَقِیَّتُ دراصل بَقِیَّۃُ ہے۔ اس آیت میں اس کو لمبی تا سے لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ یہاں کے علاوہ یہ لفظ قرآن مجید میں دو جگہ (2:248 ۔ 11:117) آیا ہے اور وہاں دونوں جگہ اسے گول تا سے بَقِیَّۃٌ لکھا جاتا ہے۔ (آیت۔ 87) اَنْ نَّفْعَلُ سے پہلے اَنْ نَتْرُکَ محذوف ہے اس آیت میں نُشْؤُا بھی قرآن حکیم کی مخصوص املا ہے۔ (آیت۔ 91) نَفْتَہُ کے آخر میں ما دو (فقہ) کی ھا سے اس لئے اس پر سیدھا پیش آیا ہے۔ یہ اگر ضمیر ہوتی تو اس پر الٹا پیش آتا۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پر ستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے!"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [يٰشُعَيْبُ : اے شعیب (علیہ السلام) ] [اَ : کیا ] [صَلٰوتُكَ : آپ کی نماز ] [ تَاْمُرُكَ : حکم دیتی ہے آپ کو ] [ ان : کہ ] [نَّتْرُكَ : ہم چھوڑ دیں ] [مَا : ان کو جن کی ] [يَعْبُدُ : بندگی کرتے ہیں ] [ اٰبَاۗؤُنَآ : ہمارے آبا و اجداد ] [ اَوْ : یا (ہم چھوڑ دیں)] [ان : کہ ] [نَّفْعَلَ : ہم کریں ] [فِيْٓ اَمْوَالِنَا : اپنے مالوں میں ] [ مَا : وہ جو ] [ نَشٰۗؤُا : ہم چاہیں ] [انكَ لَانتَ : بیشک آپ ہی یقینا ] [الْحَلِيْمُ : بڑے بردباد ہیں ] [الرَّشِيْدُ : بڑے نیک چلن ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 87 میں اسلام کے مقابلہ میں جاہلیت کے نظریہ کی پوری ترجمانی ہے۔ اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کے سوا جو طریقہ بھی ہے وہ غلط ہے۔ کیونکہ دوسرے طریقے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی بندگی صرف محدود مذہبی دائرے ہی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہونی چاہیے۔ اس لئے کہ دنیا میں انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے، اللہ ہی کا ہے اور انسان کسی چیز پر بھی اللہ کی مرضی سے آزاد ہو کر تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کے مقابہ میں جاہلیت کا نظریہ یہ ہے کہ باپ دادا سے جو طریقہ چلا آ رہا ہے اس کی پیروی کے لئے اس دلیل کے سوا کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ باپ دادا کا طریقہ ہے۔ نیز یہ کہ دین و مذہب کا تعلق صرف پوجا پاٹ سے ہے، رہے دنیوی معاملات، تو ان میں ہم کو پوری آزادی ہونی چاہیے کہ ہم جس طرح چاہیں کام کریں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ زندگی کو مذہبی اور دنیوی دائروں میں تقسیم کرنے کا تخیل (یعنی (Secularism) آج کا کوئی نیا تخیل نہیں ہے بلکہ آج سے تین، ساڑھے تین ہزار سال پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو بھی اس تقسیم پر ویسا ہی اصرار تھا جیسا آج اہل مغرب اور ان کے مشرقی شاگردوں کو ہے۔ یہ فی الحقیقت کوئی نئی روشنی نہیں ہے جو انسان کو آج ذہنی ارتقاء کی بدولت نصیب ہوگئی ہے بلکہ یہ وہی پرانی تاریک خیالی ہے جو ہزارہا برس پہلے کی جاہلیت میں پائی جاتی تھی اور اس کے خلاف اسلام کی کشمکش بھی آج کی نہیں ہے بلکہ بہت قدیم ہے (تفہیم القرآن)
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیبؑ نے کہا "بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟) اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ اَ : کیا ] [رَءَيْتم : تم نے غور کیا ] [ ان : اگر ] [ كُنْتُ : میں ہوں ] [عَلٰي بَيِّنَةٍ : ایک واضح (دلیل) پر ] [مِّنْ رَّبِيْ : اپنے رب (کی طرف) سے ] [وَرَزَقَنِيْ : اور اس نے عطا کیا مجھ کو ] [مِنْهُ : اپنے پاس سے ] [رِزْقًا حَسَـنًا : ایک رزق حسن ] [ وَمَآ اُرِيْدُ : اور میں ارادہ نہیں رکھتا ] [ان : کہ ] [اُخَالِفَكُمْ : تمہاری مخالفت کروں ] [ اِلٰي مَآ : اس کی طرف ] [انهٰىكُمْ : میں منع کرتا ہوں تم کو ] [عَنْهُ : جس سے ] [ان اُرِيْدُ : میں ارادہ نہیں رکھتا ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْاِصْلَاحَ : اصلاح کا ] [ مَا : اتنی جتنی ] [اسْتَطَعْتُ : میری استطاعت سے ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [ تَوْفِيْقِيْٓ: میری توفیق ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ عَلَيْهِ : اس پر ہی ] [تَوَكَّلْتُ : میں نے بھروسہ کیا ] [وَاِلَيْهِ : اور اس کی طرف ہی ] [انيْبُ : میں رخ کرتا ہوں ] نوٹ۔ 2: آیت نمبر۔ 88 میں رزق حسن سے مراد علم وحی ہے۔ جس طرح مادی رزق انسان کی مادی زندگی کے باقی رہنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح وحی الٰہی کا رزق حسن انسان کی روحانی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 3: ممکن ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی معاش کے لئے خود بھی تجارت کرتے ہوں اس چیز سے شریروں نے فائدہ اٹھا کر یہ شوشہ چھوڑا ہو کہ یہ ناپ تول میں ایمانداری کا وعظ اس لئے کرتے ہیں کہ ہم تو ایمانداری کے ہو کر رہ جائیں اور یہ اپنی من مانی کر کے پورے بازار پر قبضہ کرلیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کی یہ بدگمانی دور کرنے کے لئے فرمایا ما اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ اِلٰی مَا اَنْھٰکُمْ عَنْہُ یعنی بعد میں خود میں وہ کام کروں جس سے تم کو منع کرتا ہوں۔ اصلاح کرنے کے علاوہ میرا اور کوئی ارادہ نہیں ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے برادران قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخر کار تم پر بھی وہی عذاب آ کر رہے جو نوحؑ یا ہودؑ یا صالحؑ کی قوم پر آیا تھا اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے

[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ : ہرگز امادہ نہ کرے تم کو ] [ شِقَاقِيْٓ: میری مخالفت کرنا ] [ ان : کہ ] [يُّصِيْبَكُمْ : آ لگے تم کو ] [ مِّثْلُ مَآ : اس کے جیسا جو ] [ اَصَابَ : آ لگا ] [قَوْمَ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ] [ اَوْ : یا ] [ قَوْمَ هُوْدٍ : ھود (علیہ السلام) کی قوم کو ] [ اَوْ : یا ] [ قَوْمَ صٰلِحٍ : صالح (علیہ السلام) کی قوم کو ] [ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ : اور نہیں ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم ] [مِّنْكُمْ : تم سے ] [ بِبَعِيْدٍ : کچھ دور ]
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

دیکھو! اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، بے شک میرا رب رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے"

[وَاسْتَغْفِرُوْا : اور تم لوگ مغفرت مانگو ] [رَبَّكُمْ : اپنے رب سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ تُوْبُوْٓا : تم لوگ پلٹو ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [رَحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ] [ وَّدُوْدٌ: بےانتہا محبت کرنے والا ہے ]
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ يٰشُعَيْبُ : اے شعیب ] [ مَا نَفْقَهُ : ہم پوری طرح نہیں سمجھ پاتے ] [ كَثِيْرًا : اکثر کو ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [تَقُوْلُ : آپ (علیہ السلام) کہتے ہیں ] [ وَانا : اور بیشک ] [لَنَرٰىكَ : ہم یقینا دیکھتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] [فِيْنَا : ہم میں ] [ضَعِيْفًاۚ: کمزور ] [ وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا ] [رَهْطُكَ : آپ (علیہ السلام) کا قبیلہ ] [ لَرَجَمْنٰكَ : تو ہم ضرور رجم کرتے آپ (علیہ السلام) کو ] [ وَمَآ انتَ : اور آپ (علیہ السلام) نہیں ہیں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [ بِعَزِيْزٍ : کوئی بالادست ]
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیبؑ نے کہا "بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] اَ : کیا ] [رَهْطِيْٓ : میرا قبیلہ ] [ اَعَزُّ : زیادہ سخت ہے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [وَاتَّخَذْتموْهُ : اور تم نے بنایا اس کو (یعنی اللہ کوٌ] [وَرَاۗءَكُمْ : اپنے پیچھے ] [ظِهْرِيًّا : پیٹھ پیچھے ڈالا ہوا (یعنی بھلایا ہوا)] [ ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [بِمَا : اس کا جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ مُحِيْطٌ: احاطہ کرنے والا ہے ] رھـ ط [رَھْطًا : (ف) بڑا لقمہ لینا۔ بہت کھانا۔] [اِرْتِھَاطًا : (افتعال) قوم کا جمع ہونا۔ اکٹھا ہونا۔] [رَھْطٌ: افراد کا گروہ۔ جتھ۔ برادری۔ زیر مطالعہ آیت 91]
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں"

[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [ اعْمَلُوْا : تم لوگ عمل کرو ] [ عَلٰي مَكَانتِكُمْ : اپنی جگہ پر ] [ انى: بیشک میں (بھی)] [ عَامِلٌ : عمل کرنے والا ہوں ] [سَوْفَ : عنقریب ] [تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جان لو گے ] [مَنْ : کون ہے ] [ يَاْتِيْهِ : پہنچے گا جس کو ] [عَذَابٌ: ایک ایسا عذاب جو ] [ يُّخْزِيْهِ : رسوا کرے گا اس کو ] [ وَمَنْ هُوَ : اور کون ہے وہ جو ] [ كَاذِبٌ : جھوٹ کہنے والا ہے ] [وَارْتَقِبُوْٓا : اور تم لوگ انتظار کرو ] [ انى: بیشک میں (بھی)] [ مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ] [رَقِيْبٌ: انتظار کرنے والا ہوں ]
Ayah 11:94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے

[وَلَمَا : اور جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [ نَجَّيْنَا : تو ہم نے نجات دی ] [ شُعَيْبًا : شعیب (علیہ السلام) کو ] [ وَّالَّذِينَ : اور ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ مَعَهٗ : ان کے ساتھ ] [بِرَحْمَةٍ : رحمت سے ] [مِّنَا : ہماری (طرف سے)] [ وَاَخَذَتِ : اور پکڑا ] [ الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [ ظَلَمُوا : ظلم کیا ] [ الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [فَاَصْبَحُوْا : تو وہ لوگ ہوگئے ] [ فِيْ دِيَارِهِمْ : اپنے گھروں میں ] [جٰثِمِيْنَ : اوندھے گرنے والے ]
Ayah 11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے

[كَان : جیسے کہ ] [ لَمْ يَغْنَوْا : وہ رہتے ہی نہ تھے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ اَلَا : سن لو ] [ بُعْدًا : دوری ہے ] [ لِمَدْيَنَ : مدین (والوں) کے لئے ] [كَمَا : جیسے ] [ بَعِدَتْ : دور ہوئے ] [ثَمُوْدُ : ثمود ]
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور موسیٰؑ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا

[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ بِاٰيٰتِنَا : اپنی نشانیوں کے ساتھ ] [ وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : اور قطعی دلیل کے ساتھ ]
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا

[اِلٰي فِرْعَوْنَ : فرعون کی طرف ] [ وَمَلَا۟ىِٕهٖ : اور اس کے سرداروں کی طرف ] [ فَاتَّبَعُوْٓا : پھر (بھی) ان لوگوں نے پیروی کی ] [ اَمْرَ فِرْعَوْنَ : فرعون کے حکم کی ] [وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ : اور نہیں تھا فرعون کا حکم ] [ بِرَشِيْدٍ : کوئی سوجھ بوجھ والا ]
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا کیسی بدتر جائے وُرُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے!

[يَـقْدُمُ : وہ آگے ہوگا ] [قَوْمَهٗ : اپنی قوم کے ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ فَاَوْرَدَهُمُ : پھر وہ پہنچائے گا ان کو ] [ النَارَ : آگ تک ] [وَبِئْسَ : اور کتنا برا ہے ] [ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ : پہنچے جانے والا گھاٹ ] ورد [وُرُوْدًا : (ض) پانی تک پہنچنا یا آنا۔ پھر کسی بھی جگہ تک پہنچنے کے لئے آتا ہے۔ (جَائَ اور اَتٰی کی طرح اس کا بھی مفعول آتا ہے۔ دیکھیں آیت۔ 2:23، نوٹ۔ 2) وَلَمَّا وَ رَدَمَائَ مَدْیَنَ (اور جب وہ (علیہ السلام) پہنچے مدین کے پانی یعنی کنویں تک) 28:23 ۔] [وَارِدٌ: اسم الفاعل ہے۔ (1) پہنچنے والا۔ (2) سقّہ۔ بہشتی ۔ وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا (اور نہیں ہے کوئی تم میں سے مگر یہ کہ پہنچنے والا ہے اس تک یعنی دور تک) 19:71 ۔ وَجَائَ تْ سَیَّارَۃٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَھُمْ (اور آیا ایک قافلہ تو انھوں نے بھیجا اپنے سقّہ کو) 12:19 ۔] [مُوْرُوْدٌ: اسم المفعول ہے۔ جس تک پہنچا جائے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 98 ۔] [وَرِیْدٌ: خون پہنچنے کا راستہ۔ گردن کی ایک رگ جس سے سارے بدن کو خون پہنچتا ہے، اسے حَبْلُ الْوَرِیْد کہتے ہیں۔ جانور کو ذبح کرتے وقتء یہی رگ کاٹ دیتے ہیں تو سارے بدن کا خون نکل جاتا ہے۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (اور ہم اس کے یعنی انسان کے زیادہ قریب ہیں بنسبت گردن کی رگ کے) 50:16 ۔] [وِرْدٌ: (1) پانی تک پہنچنے کی جگہ۔ گھاٹ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 98 ۔ (2) پیاسا (پیاسے انسان اور جانور ہی گھاٹ پر آتے ہیں) وَنُسُوْق الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا (اور ہم ہانکیں گے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہوتے ہوئے) 19:86 ۔] [وُرُوْدَۃً : (ک) کسی چیز کا زردی مائل سرخ ہونا۔ گلابی ہونا۔] [وَرْدٌ: گلاب کا پھول۔ یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔] [وَرْدَۃٌ: گلابی رنگت۔ فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَائُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالرِّھَانِ (پھر جب پھٹے گا آسمان تو وہ ہوجائے گا گلابی جیسے تیل کی چکناہٹ) 55:37 ۔] [اِیْرَادًا : (افعال) کسی کو کسی جگہ پہنچانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 98 ۔]
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور ان لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی کیسا برا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!

[وَاُتْبِعُوْا : اور یچھے لگائی گئی (ان کے)] [ فِيْ هٰذِهٖ : اس (دنیا ) میں ] [ لَعْنَةً : ایک لعنت ] [وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : اور قیامت کے دن (بھی)] [ بِئْسَ : کتنی بری ہے ] [ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ : بخشش دیئے جانے والی جگہ ] رف د [رَفْدًا : (ض) بخش دینا۔ عطیہ دینا۔] [رِفْدٌ: وہ چیز جس میں رکھ کر بخشش دی جائے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 99 ۔] [مَرْفُوْدٌ: اسم المفعول ہے۔ بخشش میں دی ہوئی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 99]
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے

[ذٰلِكَ : یہ ] [مِنْ انۢبَاۗءِ الْقُرٰي : بستیوں کی خبروں میں سے (ایک خبر) ہے ] [نَقُصُّهٗ : ہم بیان کرتے ہیں جس کو ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [مِنْهَا : ان (بستیوں) میں سے ] [ قَاۗىِٕمٌ : کچھ قائم ہیں ] [وَّحَصِيْدٌ: اور کچھ تہس نہس کی ہوئی ہیں ]
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا

[وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ : اور ہم نے ظلم نہیں کیا ان پر ] [وَلٰكِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ)] [ ظَلَمُوْٓا : انھوں نے ظلم کیا ] [ انفُسَهُمْ : اپنی جانوں پر ] [ فَمَآ اَغْنَتْ : تو کام نہ آئے ] [عَنْهُمْ : ان کے ] [اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ : ان لوگوں کے وہ الٰہ جن کو ] [يَدْعُوْنَ : وہ لوگ پکارتے تھے ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [مِنْ شَيْءٍ : کچھ بھی ] [ لَمَا : جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ اَمْرُ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کا حکم ] [ وَمَا زَادُوْهُمْ : اور ان (خدائوں) نے نہیں زیادہ کیا ان کو ] [غَيْرَ تَتْبِيْبٍ : انتہائی ہلاکت میں ڈالنے کے سوا ] ت ب ب [تَبًّا : (ن) تباہ برباد ہونا۔ ہلاکت میں پڑنا (فعل لازم) تباہ برباد کرنا۔ ہلاکت میں ڈالنا (فعل متعدی) ۔ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ (تباہ ہوں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ (خود بھی) تباہ ہو) 111:1 ۔] [تَبَابٌ: تباہی۔ ہلاکت۔ وَمَا کَیْدُ فِرْعُوْنَ اِلَّا فِیْ تَّبَابٍ (اور نہیں تھی فرعون کی تدبیر مگر ہلاکت میں) 40:37 ۔] [تَشْبِیْبًا : (تفعیل) انتہائی تباہی اور ہلاکت میں ڈالنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 101]
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ اَخْذُ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی پکڑ سے ] [اِذَآ : جب بھی ] [ اَخَذَ : وہ پکڑتا ہے ] [ الْقُرٰي : بستیوں کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هِىَ : وہ ] [ظَالِمَةٌ: ظم کرنے والی ہوں ] [ان : بیشک ] [ اَخْذَهٗٓ : اس کی پکڑ ] [اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ: شدید دردناک ہے ]
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا

[ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [لِمَنْ : اس کے لئے جس نے ] [خَافَ : خوف کیا ] [ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کے عذاب کا ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ : جمع کئے جانے والا ایک دن ہے ] [لَّهُ : اس کے (یعنی اللہ کے) لئے ] [النَاسُ : لوگوں کو ] [وَذٰلِكَ : اور یہ ] [ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ: معائنہ کئے جانے والا ایک دن ہے ]
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے

[وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ: اور ہم مؤخر نہیں کرتے اس کو ] [ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ : مگر ایک گنی ہوئی موت کے لئے ]
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت

[يَوْمَ : جس دن ] [يَاْتِ : وہ (دن) آئے گا ] [لَا تَكَلَّمُ : تو بات نہیں کرے گی ] [نَفْسٌ: کوئی جان ] [اِلَّا : مگر ] [بِاِذْنِهٖ : اس کی اجازت سے ] [فَمِنْهُمْ : تو ان میں سے ] [شَقِيٌّ: کوئی بدبخت ہوگا ] [ وَّسَعِيْدٌ: اور کوئی نیک سخت ہوگا ] ش ق و [شَقَا : (س) (1) کسی مشقت یا سختی میں پڑنا۔ (2) نامراد یا بدبخت ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 106 ۔] [شَقِیٌّ: فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نامراد۔ بدبخت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 105 ۔] [اَشْقٰی : اَفْعَلُ التَّفْضِیْل۔ زیادہ یا سب سے زیادہ بدبخت۔ وَیَتَجَنَّبُھَا الْاَشْقَی الَّذِیْ یَصْلَی النَّارَ الْکُبْرٰی (اور اس سے یعنی نصیحت سے اجتناب کرے گا وہ بڑا بدبخت جو داخل ہوگا بڑی آگ میں) 87:11 ۔ 12 ۔] [شِقْوَۃٌ: اسم ذات ہے۔ نامرادی۔ بدبختی۔ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا (انھوں نے کہا اے ہمارے رب غالب ہوئی ہم پر ہماری بدبختی) 23:106 ۔] س ع د [سَعَادَۃً : (س) سعد اور شعہ دونوں کے معنی ہیں ” نیک بخت ہونا، زیر مطالعہ آیت۔ 108 ۔] [سَعِیْدٌ: نیک بخت۔ زیر مطالعہ آیت 105] ترکیب : (آیت۔ 105) یَاتِ دراصل یَاْتِیْ ہے کیونکہ یہاں پر جو ازم مضارع میں سے کوئی عامل نہیں آیا ہے۔ یہاں پر اس کو یا گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ تَکَلَّمُ واحد مؤنث کا صیغہ تَتَکَلَّمُ ہے۔ (آیت 111) لَمَّا کے بعد ایک فعل محذوف ہے جو بُعِثُوْا یا حُشِرُوْا ہوسکتا ہے۔ کبھی لَمَّا بمعنی اِلَّا (مگر) بھی ہوتا ہے۔ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظ (نہیں ہے ہر ایک جان مگر ہے اس پر نگران) (الطارق)
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے

[فَاَمَا : پھر جہاں تک ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ ہیں جو ] [شَقُوْا : بدبخت ہوئے ] [ فَفِي النَارِ : تو (وہ) آگ میں ہیں ] [لَهُمْ : وہ لوگ ] [ فِيْهَا زَفِيْرٌ: اس میں آہیں بھرنے والے ہیں ] [ وَّشَهِيْقٌ : اور سسکیاں لینے والے ہیں ] زر [زَفْرًا : (ض) روتے وقت سانس باہر نکالنا۔ آہ بھرنا۔ چیخنا۔] [زَفِیْرٌ: آہیں بھرنے والا۔ چیخنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 106 ۔] ش ھـ ق [تَشْھَاقًا : (ف۔ س) روتے وقت سانس اندر کھینچنا۔ سس کی لینا۔ رینکنا۔] [شَھِیْقٌ: سس کی لینے والا۔ رینکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 106 ۔]
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے

[خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ مَا دَامَتِ : جب تک رہیں ] [السَّمٰوٰتُ : آسمان ] [وَالْاَرْضُ : اور زمین ] [اِلَّا : سوائے اس کے ] [مَا : جو ] [ شَاۗءَ : چاہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ان : بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ فَعَّالٌ: کر گزرنے والا ہے ] [ لِمَا : اس کو جو ] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 107 میں جو الفاظ آئے ہیں ان سے یا تو عالم آخرت کے زمین و آسمان مراد ہیں یا محض محاورہ کے طور پر ان کو دوام اور ہمیشگی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ بہرحال موجودہ زمین و آسمان مراد نہیں ہوسکتے کیونکہ قرآن کی رو سے یہ قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور یہاں جن واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ قیامت کے بعد پیش آنے والے ہیں۔ اس مں استثناء کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اور طاقت ایسی نہیں ہے جو ان لوگوں کو اس دائمی عذاب سے بچا سکے۔ البتہ اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے انجام کو بدلنا چاہے یا کسی کو ہمیشگی کا عذاب دینے کے بجائے ایک مدت تک عذاب دے کر معاف کردینے کا فیصلہ فرماے تو ایسا کرنے کا اسے پورا اختیار حاصل ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا

[وَاَمَا : اور جہاں تک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ ہیں جو ] [سُعِدُوْا : نیک بخت ہوئے ] [فَفِي الْجَنَّةِ : تو (وہ) جنت میں ہیں ] [خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [ مَا دَامَتِ : جب تک رہیں ] [ السَّمٰوٰتُ : آسمان ] [وَالْاَرْضُ : اور زمین ] [اِلَّا : سوائے اس کے ] [ مَا : جو ] [شَاۗءَ : چاہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ عَطَاۗءً : بخشش ہوتے ہوئے ] [غَيْرَ مَجْذُوْذٍ : بغیر توڑی ہوئی ] ج ذذ [جَذًّا : (ن) کسی چیز کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ کاٹنا۔] [جُذَاذٌ: ٹکڑے۔ فَجَعَلَھُمْ جُذَاذًا (پھر انھوں (علیہ السلام) نے کردیا ان کو ٹکڑے ٹکڑے) 21:58] [مَجْذُوْذٌ: توڑا ہوا۔ کاٹا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 108 ۔] نوٹ۔ 2: آیت 108 میں جو استثناء ہے اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جنتی لوگوں کے احوال و مراتب میں تبدیلیاں ہوں گی لیکن یہ تبدیلیاں خیر سے شر کے طرف کی نوعیت کی نہیں، بلکہ خوب سے خوب تر کی طرف ہوں گی کیونکہ ان کو جنت کبھی منقطع نہ ہونے والے عطیہ (عَطَائً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ) کی حیثیت سے ملے گی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے، اور ہم اِن کا حصہ اِنہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو

[فَلَا تَكُ : پس آپ ﷺ مت ہوں ] [ فِيْ مِرْيَةٍ : کسی شہہ میں ] [ مِّمَا : اس سے جس کی ] [ يَعْبُدُ : بندگی کرتے ہیں ] [هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ لوگ ] [مَا يَعْبُدُوْنَ : یہ لوگ بندگی نہیں کرتے ] [اِلَّا كَمَا : مگر اس طرح جیسے ] [يَعْبُدُ : بندگی کرتے تھے ] [اٰبَاۗؤُهُمْ : ان کے آبا و اجداد ] [مِّنْ قَبْلُ : پہلے سے ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَمُوَفُّوْهُمْ : ضرور پورا پورا دینے والے ہیں ان کو ] [ نَصِيْبَهُمْ : ان کا حصّہ ] [غَيْرَ مَنْقُوْصٍ : بغیر کسی کمی کے ]
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

ہم اس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں

[وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور بیشک ہم دے چکے ہیں ] [ مُوْسَى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ فَاخْتُلِفَ : پھر اختلاف کیا گیا ] [ فِيْهِ : اس میں ] وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا ] [ كَلِمَةٌ: ایک فرمان جو ] [ سَبَقَتْ : پہلے ہوا ] [مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] [لَقُضِيَ : تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] [بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ وَانهُمْ : اور یقینا وہ ] [لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ : ایک شہد ڈالنے والے شک میں ضرور ہیں اس سے ]
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے

[وَان : اور یقینا ] [ كُلًّا : سب کے سب ] [لَمَا : جب (جمع کئے جائیں گے)] [لَيُوَفِّيَنَّهُمْ : تو لازماً پورا پورا دے گا ان کو ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال (کا بدلہ)] [انهٗ : یقینا وہ ] [بِمَا : اس سے جو ] [يَعْمَلُوْنَ : وہ لگ کرتے ہیں ] [ خَبِيْرٌ: باخبر ہے ]
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے

[فَاسْتَقِمْ : پس آپ ﷺ سیدھے رہیں (یعنی ڈٹے رہیں)] [ كَمَآ : جیسے کہ ] [اُمِرْتَ : آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ] [وَمَنْ : اور وہ (بھی) جنھوں نے ] [ تَابَ : توبہ کی ] [مَعَكَ : آپ ﷺ کے ساتھ ] [وَلَا تَطْغَوْا : اور تم لوگ سرکشی مت کرو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [بِمَا : اس کو جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی

[وَلَا تَرْكَنُوْٓا : اور تم لوگ مت مائل ہو ] [ اِلَى الَّذِينَ : ان کی طرف جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [فَتمسَّكُمُ : ورنہ چھولے گی تم کو ] [ النَارُ : آگ ] [ وَمَا لَكُمْ : اور نہیں ہے تمہارے لئے ] [مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [مِنْ اَوْلِيَاۗءَ : کوئی بھی کارساز ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لَا تُنْصَرُوْنَ : تم کو مدد نہیں دی جائے گی ]
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں

[وَاَقِمِ : اور آپ ﷺ قائم رکھیں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ طَرَفَيِ النَّهَارِ : دن کے دونوں کناروں پر ] [وَزُلَفًا : اور کچھ حصّوں میں ] [ مِّنَ الَّيْلِ : رات میں سے ] [ ان : یقینا ] [الْحَسَنٰتِ : نیکیاں ] [يُذْهِبْنَ : لے جاتی ہیں ] [ السَيِّاٰتِ : برائیوں کو ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ ذِكْرٰي : ایک بڑی نصیحت ہے ] [ لِلذّٰكِرِيْنَ : یاد رکھنے والوں کے لئے ] ز ل [زَلْفًا : (ن) نزدیک ہونا۔ قریب ہونا۔] [زُلْفَۃٌ: ج زُلْفٌ (1) نزدیکی۔ قربت۔ فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَۃً (پھر جب انھوں نے دیکھا اس کو پاس میں) 67:27، (2) کسی چیز کا وہ حصّہ جو کسی چیز کے نزدیک ہو جیسے رات کا وہ حصّہ جو دن کے نزدیک ہو یعنی سورج غروب ہونے کے بعد اور طلوع ہونے سے پہلے کا حصّہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 114 ۔] [زُلْفٰی : فُعْلٰی کے وزن افعل تفضیل ہے۔ زیادہ یا سب سے نزدیک۔ قریب وَمَا اَمْوَالُکُمْ وَلَا اَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَ نَا زُلْفٰی (اور نہیں ہیں تمہارے مال اور نہ ہی تمہاری اولاد وہ جو قریب کرتے ہیں تم کو ہمارے پاس زیادہ قریب) 34:37 ۔] [اِزْلَافًا : (افعال) نزدیک کرنا۔ قریب کرنا، وارلفنا ثم الاخرین (اور ہم نے نزدیک کیا پھر دوسروں کو) 26:64] ترکیب : (آیت۔ 114) طَرَفِیْ دراصل طَرَفٌ کا تثنیہ طَرَفَانِ تھا۔ پھر ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں طَرَفَیْنِ ہوا اور مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو طَرَفِیْ استعمال ہوا۔ زُلَفًا بھی ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 114 کی ہدایت اس زمانے کی ہے جب نماز کے لئے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پانچ وقت کی نماز فرض ہوئی (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ان تمام گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں جو ان کے درمیان صادر ہوں جبکہ یہ شخص کبائر یعنی بڑے گناہوں سے بچا رہا ہو۔ روایات حدیث میں جتنے واقعات کفارہ ہوجانے کے مفعول ہیں ان سب میں یہ بھی ہے کہ ان کا کرنے والا جب اپنے فعل پر نادم ہو اور آئندہ کے لئے توبہ کرے۔ (معارف القرآن)
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا

[وَاصْبِرْ : اور آپ ؐ ثابت قدم رہیں ] [ فَان اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ] [لَا يُضِيْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : خوبصورتی سے کام کرنے والوں کے اجر کو ]
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے

[فَلَوْلَا : تو کیوں نہ ہوا کہ ] [كَان : ہوتے ] [ مِنَ الْقُرُوْنِ : امتوں میں سے ] [مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے ] [اُولُوْا بَقِيَّةٍ : ایسے باقی رہنے والے (یعنی اہل خرد) جو ] [ يَّنْهَوْنَ : منع کرتے ] [عَنِ الْفَسَادِ : نظم بگاڑنے سے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [اِلَّا قَلِيْلًا : سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ] [ مِّمَنْ : ان میں سے جن کو ] [انجَيْنَا : ہم نے نجات دی ] [ مِنْهُمْ : ان (قوموں) میں سے ] [وَاتَّبَعَ : اور پیچھے لگے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ مَآ : اس کے ] [ اُتْرِفُوْا : ان کو خوشحالی دی گئی ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ وَكَانوْا : اور وہ تھے ] [ مُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے ] ت ر [تَرَفًا : (س) خوش حال ہونا۔ عیش و آرام میں ہونا۔] [اِتْرَافًا : (افعال) خوشحالی دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 116 ۔] [مُتْرَفٌ: اسم المفعول ہے۔ جس کو خوشحالی دی گئی۔ خوشحال۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُسْرَفِیْنَ (بیشک وہ لوگ تھے اس سے پہلے خوشحال) 56:45 ۔] نوٹ۔ 3: آیت 116 میں کسی قوم کے اہل فرد اور سمجھدار لوگوں کو لفظ اُولُوْا بَقِیَّۃِ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انسان اپنی عزیزو محبوب چیز کو ہر حال میں محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتا ہے اور انسان کو اپنی عقل و بصیرت سب سے زیادہ عزیز ہے اس لئے اس کو بَقِیَّۃٌ کہا جات ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں

[وَمَا كَان : اور نہیں ہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لِـيُهْلِكَ : کہ وہ ہلاک کرے ] [الْقُرٰي : بستیوں کو ] [بِظُلْمٍ : کسی ظلم سے ] [ وَّ : حالانکہ ] [اَهْلُهَا : اس کے لوگ ] [ مُصْلِحُوْنَ : اصلاح کرنے والے ہوں ] نوٹ۔ 4: آیات 116 ۔ 117 میں ان قوموں کی تباہی کے اصل سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی تاریخ گذشتہ چھ رکوعوں میں بیان ہوئی ہے۔ اس تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ صرف انھیں قوموں کو نہیں، بلکہ انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں، ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کی اجتماعیت اس درجہ بگڑ گئی کہ یا تو ان کے اندر ایسے لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے، یا وہ اتنے کم تھے کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رک سکا۔ یہی چیز ہے جس کی بدولت یہ قومیں اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہوئیں ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے دشمنی نہیں ہے کہ وہ بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ ان کو عذاب میں مبتلا کر دے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے

[وَلَوْ : اور اگر ] [ شَاۗءَ : چاہتا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَجَعَلَ : تو ضرور بناتا ] [النَاسَ : لوگوں کو ] [اُمَّةً وَّاحِدَةً : ایک (ہی) امت ] [ وَّلَا يَزَالُوْنَ : اور ہمیشہ رہیں گے ] [ مُخْتَلِفِيْنَ : اختلاف کرنے والے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 118 ۔ 119 کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اگر چاہتا تو سب کو ایک امت بنا سکتا تھا۔ لیکن اس نے ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اس چیز کو پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے نیکی اور بدی دونوں کو ان کے انجام کی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور انھیں اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہیں اختیار کرلیں۔ وَلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ یعنی جب اللہ نے لوگوں کو اختیار دے دیا تو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہر شخص نیکی ہی کی راہ اختیار کرے گا بلکہ ایسے بھی نکلتے رہیں گے جو تعلیم و تذکیر کے باوجود اپنے نفس کی پیروی میں بدی کی راہ اختیار کریں گے۔ اور بدی کی راہ اختیار کرنے سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہو۔ یہ بات واضح ہے کہ رحمت خداوندی کے سزاوار وہی ہوسکتے ہیں جو عقل و فہم کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور ان صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے ٹھوکریں نہ کھائیں۔ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ یعنی اللہ نے لوگوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے اختیار اور انتخاب سے خود کو اللہ کے فضل اور رحمت کا سزاوار بنائیں۔ یہ امتحان انسان کی خلقت کا ایک لازمی جز ہے۔ پھر جو لوگ اس امتحان میں فیل ہوجائیں گے ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یہ بات پوری ہو کر رہے گی کہ وہ جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دے گا۔ (تدبر قرآن) مورخہ 7: ذیقعد، 1425؁ھ بمطابق 20: دسمبر، 2004؁ ئ۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے اِسی (آزادی انتخاب و اختیار) کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہو گئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جن اور انسان، سب سے بھر دوں گا

[اِلَّا مَنْ : سوائے اس کے جس پر ] [ رَّحِمَ : رحم کیا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [وَلِذٰلِكَ : اور اس کے لئے ہی ] [خَلَقَهُمْ : اس نے پیدا کیا ان کو ] [وَتمتْ : اور تمام ہوا ] [كَلِمَةُ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کا فرمان (کہ)] [لَاَمْلَــــَٔنَّ : میں لازماً بھر دوں گا ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [ مِنَ الْجِنَّةِ : جنوں سے ] [وَالنَاسِ : اور انسانوں سے ] [ اَجْمَعِيْنَ : سب سے ]
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی

[وَكُلًّا : سب کچھ ] [ نَّقُصُّ : ہم بیان کرتے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ مِنْ انۢبَاۗءِ الرُّسُلِ : رسولوں کی خبروں میں سے ] [مَا : وہ ] [نُثَبِتُ : ہم جماتے ہیں ] [ بِهٖ : جس سے ] [ فُؤَادَكَ : آپ ﷺ کے دل کو ] [وَجَاۗءَكَ : اور آچکا آپ ﷺ کے پاس ] [ فِيْ هٰذِهِ : اس (سورہ) میں ] [ الْحَقُّ : حق ] [ وَمَوْعِظَةٌ: اور نصیحت ] [ وَّذِكْرٰي : اور بڑی یاددہانی ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ]