12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے

[اِرْجِعُوْٓا : تم لوگ لوٹو ] [ اِلٰٓى اَبِيْكُمْ : اپنے والد کی طرف ] [ فَقُوْلُوْا : پھر کہو ] [ يٰٓاَبَانآ : اے ہمارے والد ] [ ان : بیشک ] [ابْنَكَ : آپ کے بیٹے نے ] [ سَرَقَ : چوری کی ] [ وَمَا شَهِدْنَآ : اور ہم نے گواہی نہیں دی ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِمَا : اس کی جو ] [ عَلِمْنَا : ہم نے جانا [ وَمَا كُنَا : اور ہم نہیں تھے ] [ لِلْغَيْبِ : غیب کی ] [حٰفِظِيْنَ : حفاظت کرنے والے ]
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں"

[وَسْـــَٔـلِ : اور آپ پوچھ لیں ] [ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ : اس بستی والوں سے ] [ كُنَا : ہم تھے ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ: اور اس قافلہ سے ] [اَقْبَلْنَا : ہم آگے بڑھے (یعنی آئے)] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَصٰدِقُوْنَ : یقینا سچ کہنے والے ہیں ]
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

باپ نے یہ داستان سن کر کہا "دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا اچھا اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملا ئے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں"

[قَالَ : (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا ] [ بَلْ : بلکہ ] [ سَوَّلَتْ : خوشنما بنا کر پیش کیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [انفُسُكُمْ : تمہارے نفسوں نے ] [ اَمْرًا : ایک کام کو ] [ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ: تو (اب) خوبصورت صبر کرنا ہے ] [عَسَى اللّٰهُ ان : امید ہے کہ اللہ ] [يَاْتِيَنِيْ : لے آئے گا میرے پاس ] [بِهِمْ : ان کو ] [جَمِيْعًا : سب کو ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ هُوَ الْعَلِيْمُ : ہی جاننے والا ہے ] [الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں

[وَتَوَلّٰى: اور انھوں نے منہ پھیرا ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [وَقَالَ : اور کہا ] [ يٰٓاَسَفٰى: ہائے میرا افسوس ] [عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) (کی جدائی) پر [ وَابْيَضَّتْ : اور سفید ہوگئیں ] [ عَيْنٰهُ : ان کی دونوں آنکھیں [ مِنَ الْحُزْنِ : غم سے ] [فَهُوَ كَظِيْمٌ: تو وہ مشتقل غمزدہ ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 84) یٰاَسَفٰی میں اَسَفٌ پر یائے متکلم لگی ہوئی ہے۔ منادی پر جب یائے متکلم لگاتے ہیں تو عموماً اسے الف مقصورٰی کی طرح لکھتے ہیں جیسے یَا وَیْلَثٰی۔ یَا حَسْرَتٰی وغیرہ۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ تَفْتَؤُا : آپ کرتے رہیں گے ] [ تَذْكُرُ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ ] [ حَتّٰى : یہاں تک کہ [تَكُوْنَ : آپ ہوجائیں ] [حَرَضًا : لاغر ] [ اَوْ : یا ] [ تَكُوْنَ : آپ ہوجائیں ] [مِنَ الْهٰلِكِيْن : ہلاک ہونے والوں میں سے ] ت ء [فَتْئًا : (ف۔ س) کسی کام کو کرتے رہنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 85]
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو

[قَالَ : (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اَشْكُوْا : میں ظاہر کرتا ہوں ] [ بَثِّيْ : اپنی پراگندی کو [وَحُزْنِيْٓ : اور اپنے غم کو ] [اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ] [وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [مَا : اس کو جو ] [لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] ش ک و [شَکْوًا : (ن) کسی چیز کو ظاہر کرنا۔ بیان کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 86] [مِشْکٰوۃٌ: ظاہر کرنے کا آلہ۔ چراغ رکھنے کا طاق۔ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ (اس کے نور کی مثال ایک طاق جیسی ہے جس میں ایک چراغ ہے) 24:35] [اِشْتِکَائً : (افتعال) اہتمام سے بیان کرنا۔ فریاد کرنا۔ وَ تَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ (اور وہ فریاد کرتی ہے اللہ سے) 85:1 ۔] نوٹ۔ 1: آیت۔ 86 میں یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کی طرف سے جو میں جانتا ہوں وہ تم لوگ نہیں جانتے۔ یہ دراصل اشارہ ہے کہ اللہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو ان سے ملا دے گا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اللہ کے وعدہ کے ظہور کے لئے کوشش ضروری ہے۔ اس لئے اپنے بیٹوں کو ہدایت کی کہ تم لوگ جائو اور یوسف (علیہ السلام) کو تلاش کرو۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں"

[يٰبَنِيَّ : اے میرے بیٹو ] [اذْهَبُوْا : تم لوگ جائو ] [ فَتَحَسَّسُوْا : پھر سراغ لگائو ] [ مِنْ يُّوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کا ] [ وَاَخِيْهِ : اور ان کے بھائی کا ] [ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا : اور مایوس مت ہو ] [ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت سے ] [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا يَايْـــــَٔـسُ : مایوس نہیں ہوتے ] [ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت سے ] [اِلَّا : اِلَّا ] [الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ : الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ (87) ]
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب یہ لوگ مصر جا کر یوسفؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ "اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھر پور غلہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے"

[فَلَمَا : پھر جب ] [ دَخَلُوْا : وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے ] [ عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [قَالُوْا : تو انھوں نے کہا ] [ يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ : اے عزیز ] [ مَسَّنَا : چھوا ہم کو ] [ وَاَهْلَنَا : اور ہمارے گھر والوں کو ] [الضُّرُّ : سختی نے ] [وَجِئْنَا : اور آئے ہم ] [بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ : ایک حقیر سی پونجی کے سات ] [ فَاَوْفِ : پس آپ (علیہ السلام) پورا کریں ] [ لَنَا : ہمارے لئے ] [الْكَيْلَ : پیمانہ بھرنے کو ] [ وَتَصَدَّقْ : اور آپ (علیہ السلام) حق سے زیادہ نچھاور کریں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [ان : بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [ يَجْزِي : جزا دیتا ہے ] [الْمُتَصَدِّقِيْنَ : حق سے زیادہ دینے والوں کو ] ز ج د [زَجْوًا : (ن) کسی کو ہانکنا۔ چلانا۔] [اِزْجَائً : (افعال) یہ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ ہانکنا۔ چلانا۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا (کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ ہانکتا ہے بادل کو) 24:23] [مُزْجَاۃٌ: اسم المفعول ہے۔ ہان کی ہوئی چیز۔ حقیر و ذلیل چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 88 ۔]
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے"

[قَالَ : (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا ] [ هَلْ : کیا ] [ عَلِمْتم : تم لوگوں نے جانا ] [ مَا : اس کو جو ] [ فَعَلْتم : تم لوگوں نے کیا ] [ بِيُوْسُفَ : یوسف کے ساتھ ] [وَاَخِيْهِ : اور اس کے بھائی کے ساتھ ] [اِذْ : جب ] [ انتم : تم لوگ ] [ جٰهِلُوْنَ : غلط سوچ والے تھے ]
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"

[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ ءَ : کیا [ انكَ : بیشک ] [لَانتَ يُوْسُفُ : تو ہی تو یوسف ہے ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ انا : میں ] [ يُوْسُفُ : یوسف ہوں ] [ وَهٰذَآ : اور یہ [ اَخِيْ : میرا بھائی ہے ] [ قَدْ مَنَّ : احسان کیا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [عَلَيْنَا : ہم پر [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ [ مَنْ : جو ] [ يَّتَّقِ : تقوٰی کرتا ہے ] [وَيَصْبِرْ : اور صبر کرتا ہے ] [ فَان : تو بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يُضِيْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : خوب کاروں کے اجر کو ] نوٹ۔ 1: قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرما کر اپنی نعمت سے نوازیں تو اب اس کو گذشتہ مصائب کا ذکر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان کا ذکر کرنا چاہیے جو اب حاصل ہوا ہے۔ مصیبت سے نجات اور انعام الٰہی کے حصول کے بعد بھی پچھلی تکلیف و مصیبت کو روتے رہنا ناشکری ہے اور اپنے ناشکرے کو قرآن مجید میں کَنُوْدٌ کہا گیا ہے۔ (110:6) یعنی ایسا شخص جو احسانات کو یاد نہ رکھے، صرف تکلیفوں اور مصیبتوں کو ہی یاد رکھے۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ اٰثَرَكَ : یقینا ترجیح دی ہے آپ (علیہ السلام) کو [اللّٰهُ : اللہ نے [عَلَيْنَا : ہم پر ] [وَان : اور بیشک ] [ كُنَا : ہم تھے [ لَخٰطِــــِٕيْنَ : یقینا غلطی کرنے والے ]
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا [لَا تَثْرِيْبَ : کوئی بھی عتاب نہیں ہے ] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [الْيَوْمَۭ : آج ] [ يَغْفِرُ : مغفرت کرے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کی ] [وَهُوَ : اور وہ ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں کا سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ] ث ر ب [ثَرَبًا : (ض) کسی کے کام کو برا سمجھنا۔] [تَثْرِیْبًا : (تفعیل) کسی کو اس کے کام پر سرزنش کرنا۔ عتاب کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 92 ۔]
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"

[اِذْهَبُوْا : تم لوگ جائو ] [بِقَمِيْصِيْ هٰذَا : میری اس قمیص کے ساتھ ] [فَاَلْقُوْهُ : پھر ڈالو اس کو ] [عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ : میرے والد کے چہرے پر ] [ يَاْتِ : تو وہ آئیں گے ] [ بَصِيْرًا : دیکھنے والا ہوتے ہوئے ] [ وَاْتُوْنِيْ : اور تم لوگ آئو میرے پاس ] [ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ : اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ ] نوٹ۔ 1: قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرما کر اپنی نعمت سے نوازیں تو اب اس کو گذشتہ مصائب کا ذکر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان کا ذکر کرنا چاہیے جو اب حاصل ہوا ہے۔ مصیبت سے نجات اور انعام الٰہی کے حصول کے بعد بھی پچھلی تکلیف و مصیبت کو روتے رہنا ناشکری ہے اور اپنے ناشکرے کو قرآن مجید میں کَنُوْدٌ کہا گیا ہے۔ (110:6) یعنی ایسا شخص جو احسانات کو یاد نہ رکھے، صرف تکلیفوں اور مصیبتوں کو ہی یاد رکھے۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا "میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں"

[وَلَمَا : اور جب ] [ فَصَلَتِ : روانہ ہوا ] [ الْعِيْرُ : قافلہ ] [ قَالَ : کہا [ اَبُوْهُمْ : ان لوگوں کے والد نے ] [ انى: کہ میں ] [ لَاَجِدُ : پاتا ہوں ] [ رِيْحَ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کی مہک کو [ لَوْلَآ : اگر نہ ہو ] [ ان : کہ ] [ تُفَنِّدُوْنِ : تم لوگ بہکا ہوا سمجھو مجھ کو ] ن د [فَنْدًا : (س) ضعیف العمل ہونا۔ بہکی بہکی باتیں کرنا۔] [تَفْنِیْدًا : (تفعیل) کسی کو بہکا ہوا قرار دینا یا سمجھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 94 ۔]
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

گھر کے لوگ بولے "خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ انكَ : بیشک آپ ] [ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ : اپنی پرانی گمراہی میں ہی ہیں ]
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"

[فَلَمَآ ان : پھر جیسے ہی ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ الْبَشِيْرُ : بشارت دینے ول ] [ اَلْقٰىهُ : تو اس نے ڈالا اس کو ] [عَلٰي وَجْهِهٖ : ان کے چہرے پر ] [ فَارْتَدَّ : تو وہ لوٹے ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والے ہوتے ہوئے ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ اَ : کیا ] [ لَمْ اَقُلْ : میں نے نہیں کہا تھا ] [ لَكُمْ : تم لوگوں سے ] [انىٓ : کہ میں ] [اَعْلَمُ : جانتا ہوں ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [ مَا : اس کو جو ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ]
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ يٰٓاَبَانا : اے ہمارے والد ] [ اسْـتَغْفِرْ : آپ (علیہ السلام) مغفرت مانگیں ] [ لَنَا : ہمارے لئے ] [ ذُنُوْبَنَآ : ہمارے گناہوں کی ] [ انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ خٰطِـــِٕـيْنَ : غلطی کرنے والے ]
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [سَوْفَ : عنقریب ] [ اَسْتَغْفِرُ : میں مغفرت مانگوں گا ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [رَبِيْ : اپنے رب سے ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ هُوَ الْغَفُوْرُ : ہی بخشنے والا ہے ] [ الرَّحِيْمُ : رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اُس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (اپنے سب کنبے والوں سے) کہا "چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے"

[فَلَمَا : پھر جب ] [ دَخَلُوْا : وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے ] [ عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) پر ] [ اٰوٰٓى: تو انھوں (علیہ السلام) نے جگہ دی ] [ اِلَيْهِ : اپنے پاس ] [ اَبَوَيْهِ : اپنے والدین کو ] [وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ادْخُلُوْا : آپ لوگ داخل ہوں ] [مِصْرَ : ملکِ مصر میں ] [ان : اگر ] [ شَاۗءَ : چاہا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے (تو)] [اٰمِنِيْنَ : امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ] ترکیب : (آیت۔ 99) مِصْرَ غیر منصرف آیا ہے اس لئے اس سے مراد ملک مصر ہے۔ دیکھیں آیت نمبر 2:61 مادہ ” م ص ر “۔ (آیت۔ 100) مِنْ قَبْلُ کے آگے رَئَ یْتُھَا محذوف ہے۔ (آیت۔ 101) فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ میں فَاطِرَ کی نصب منادٰی مضاف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس سے پہلے حرف ندٰی ” یَا “ محذوف ہے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

(شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے یوسفؑ نے کہا "ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے

[وَرَفَعَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے بلند کیا ] [ اَبَوَيْهِ : اپنے والدین کو ] [ عَلَي الْعَرْشِ : تخت پر ] [ وَخَرُّوْا : اور وہ لوگ گرپڑے ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [ هٰذَا : یہ ] [ تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ : میرے خواب کی تعبیر ہے ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے (جو میں نے دیکھا)] [ قَدْ جَعَلَهَا : بنادیا ہے اس کو ] [ رَبِيْ : میرے رب نے ] [حَقًّا : سچ ] [وَقَدْ اَحْسَنَ : اور اس نے احسان کیا ہے ] [ بِيْٓ : مجھ پر ] [اِذْ : جب ] [ اَخْرَجَنِيْ : اس نے نکالا مجھ کو ] [ مِنَ السِّجْنِ : قید خانہ سے ] [ وَجَاۗءَ بِكُمْ : اور وہ لایا آپ لوگوں کو ] [ مِّنَ الْبَدْوِ : گائوں سے ] [ مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد ] [ ان : کہ ] [ نَّزَغَ : ناچاقی ڈالی ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ بَيْنِيْ : میرے درمیان ] [ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ : اور میرے بھائیوں کے درمیان ] ان : بیشک ] [ رَبِيْ : میرا رب ] [لَطِيْفٌ: غیر محسوس تدبیر کرنے والا ہے ] [ لِمَا : اس کی جو ] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ هُوَ الْعَلِيْمُ : ہی جاننے والا ہے ] [ الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا"

[رَبِ : اے میرے رب ] [ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ : تو نے دیا ہے مجھ کو ] [ مِنَ الْمُلْكِ : حکومت میں سے ] [وَعَلَّمْتَنِيْ : اور تو نے علم دیا مجھ کو ] [ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : خوابوں کی تعبیر میں سے ] [فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اے زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والے ] [انتَ : تو ] [ وَلِيّٖ : میرا کارساز ہے ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں ] [ تَوَفَّنِيْ : تو وفات دے مجھ کو ] [ مُسْلِمًا : فرمانبردار ہوتے ہوئے ] [وَّاَلْحِقْنِيْ : اور تو ملا دے مجھ کو ] [بِالصّٰلِحِيْنَ : صالح لوگوں کے ساتھ ] نوٹ۔ 1: بائبل کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کے جو افراد مصر گئے وہ 67 تھے۔ اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔ پھر جب تقریباً پانچ سو سال کے بعد وہ لوگ مصر سے نکلے تو لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ بائبل میں ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال صحرائے سینا میں حضرت موسٰی (علیہ السلام) نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد = 551، 13، 6 تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عورت، مرد، بچے سب ملا کر وہ کم از کم بیس لاکھ ہوں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی حساب سے پانچ سو سال میں 68 آدمیوں کی اتنی اولاد ہوسکتی ہے ؟ اس سوال پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ پانچ سو سال میں ایک خاندان تو اتنا نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن بنی اسرائیل پیغمبروں کی اولاد تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خود بھی پیغمبر تھے اور چار۔ پانچ صدی تک اقتدار انہیں لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ اس دوران یقینا انھوں نے مصر میں اسلام کی تبلیغ کی ہوگی۔ اہل مصر میں سے جو لوگ اسلام لائے ہوں گے ان کا مذہب ہی نہیں بلکہ ان کا پورا طرز زندگی غیر مسلم مصریوں سے الگ اور بنی اسرائیل سے ہم رنگ ہوگیا ہوگا۔ مصریوں سے وہ سب ایسے ہی الگ ہوگئے ہوں گے جیسے ہندوستان میں ہندی مسلمان ہندوئوں سے الگ ہیں۔ ان کے اوپر اسرائیلی کا لفظ اسی طرح چسپاں کردیا گیا ہوگا جس طرح غیر عرب مسلمانوں پر محمڈن کا لفظ آج چسپاں کیا جاتا ہے۔ اور وہ خود بھی دینی و تہذیبی روابط اور شادی بیاہ کے تعلقات کی وجہ سے غیر مسلم مصریوں سے کٹ کر بنی اسرائیل سے وابستہ ہو کر رہ گئے ہوں گے۔ پھر جب مصر میں قوم پرستی کا طوفان اٹھا تو مظالم صرف بنی اسرائیل ہی پر نہیں ہوئے بلکہ مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ لپیٹ لئے گئے۔ اور جب بنی اسرائیل نے ملک چھوڑا تو مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ نکلے۔ ہمارے اس قیاس کی تائید بائبل کے متعدد اشارات سے ہوتی ہے۔ مثلاً خروج میں جہاں بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کا حال بیان ہوا ہے بائبل کا مصنف کہتا ہے کہ ” ان کے ساتھ ایک ملی جلی گروہ گئی “ (12:38) ۔ اسی طرح گنتی میں وہ پھر کہتا ہے کہ ” جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی “ (11:4) ۔ پھر بتدریج ان غیر اسرائیلی مسلمانوں کے لئے اجنبی اور پردیسی کی اصطلاحیں استعمال ہونے لگیں۔ چناچہ توراۃ میں حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو جو احکام دئے گئے ان میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے کہ ” تمہارے لئے اور اس پردیسی کے لئے جو تم میں رہتا ہے نسل در نسل سدا ایک ہی آئین رہے گا۔ خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہوں جیسے تم ہو۔ تمہارے لئے اور پردیسیوں کے لئے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو (گنتی۔ 15: 15 ۔ 17) ۔ ” جو شخص بےباک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ یسی ہو یا پردیسی وہ خداوند کی اہانت کرتا ہے۔ وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا (گنتی۔ 15:30) ۔ ” خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا تم ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا “ (استثنائ۔ 1: 16) ۔ اب یہ تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کتاب الٰہی میں غیر اسرائیلیوں کے لئے وہ اصل لفظ کیا استعمال کیا گیا تھا جسے ترجمہ کرنے والوں نے پردیسی بنا کر رکھ دیا (تفہیم القرآن)
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی

[ذٰلِكَ : یہ ] [ مِنْ انۢبَاۗءِ الْغَيْبِ : غیب کی خبروں میں سے ہے ] [ نُوْحِيْهِ : ہم وحی کرتے ہیں اس کو ] [اِلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَمَا كُنْتَ : اور آپ (علیہ السلام) نہیں تھے ] [ لَدَيْهِمْ : ان کے پاس ] [ اِذْ : جب ] [اَجْمَعُوْٓا : ان لوگوں نے اتفاق کیا ] [ اَمْرَهُمْ : اپنے کام پر ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [يَمْكُرُوْنَ : خفیہ تدبیر کر رہے تھے ] ترکیب : (آیت۔ 102) تُوْصِیْہِ کی ضمیر مفعولی ذلک کے لئے ہے اگر اَنْبَائِ کے لئے ہوتی تو ھا کی ضمیر آتی۔ اَجْمَعُوْا میں شامل ھُمْ کی ضمیرفاعلی یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے لئے ہے۔ (آیت۔ 105) ۔ اَیٌّ پر حرف جار ” ک “ داخل ہوا تو یہ کَاَیٍ ہے جسے نون تنوین ظاہر کر کے کَاَیِّنْ لکھا گیا ہے اور یہ کَمْ خبریہ کا ہم معنی ہے۔ فرق یہ ہے کہ کم خبریہ مِنْ کے ساتھ بھی آتا ہے اور مِنْ کے بغیر بھی جبکہ کَاَیٍّ عام طور پر مِنْ کے ساتھ آتا ہے۔ (آیت۔ 108) ۔ ایک امکان یہ ہے کہ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ کو اَدْعُوْا کا حال مانا جائے۔ ایسی صورت میں اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ کو اَدْعُوْا کی وضاحت مانا جائے گا۔ دوسرا امکان یہ ہے اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ کو مبتدا مؤخر اور عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اس کی قائم مقام خبر مقدم مانا جائے۔ دونوں طرح کے ترجمے درست تسلیم کئے جائیں گے۔ ہم پہلے امکان کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو اِن میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں

[وَمَآ اَكْثَرُ النَاسِ : اور نہیں ہے لوگوں کی اکثریت ] [وَلَوْ حَرَصْتَ : اور اگرچہ آپ ﷺ شدید خواہش کریں ] [ بِمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ]
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے ہو یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے

[وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ : اور آپ ﷺ نہیں مانگتے ان سے ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [ مِنْ اَجْرٍ : کوئی بھی معاوضہ ] [ ان : نہیں ہے ] [ هُوَ : یہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ ذِكْرٌ: ایک یاد دہانی ] [ لِلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لئے ]
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے

[وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ : اور کتنی ہی نشانیاں ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین میں ہیں ] [ يَمُرُّوْنَ : یہ لوگ گزرتے ہیں ] [ عَلَيْهَا : جن پر سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ عَنْهَا : ان سے ] [ مُعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہوتے ہیں ]
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شر یک ٹھیراتے ہیں

[وَمَا يُؤْمِنُ : اور ایمان نہیں لاتے ] [اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [اِلَّا : مگر ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ مُّشْرِكُوْنَ : شرک کرنے والے ہوتے ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 106 میں ہے کہ اکثر لوگ اللہ پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں۔ ابن کثیر (رح) نے فرمایا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں۔ ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا (بحوالہ ترمذی) ۔ ریاء کو بھی شرک اصغر فرمایا (بحوالہ مسند احمد) ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے نام کی منت اور نیاز ماننا بھی باتفاق فقہاء اس میں داخل ہے (منقول از معارف القرآن) مذکورہ مسلمانوں کے علاوہ اس آیت میں بہت سے دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں کیونکہ تمام مذاہب میں اس کائنات کی ایک خالق اور مالک ہستی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ قریش مکہ بھی اللہ کو تو مانتے تھے۔ البتہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ (ترجمہ قرآن کیسٹ) ۔ حافظ احمد یار صاحب مرحوم کی اس بات کو مزید سمجھنے کے لئے آیت نمبر 2:62، نوٹ۔ 1 کو دوبارہ دیکھ لیں۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آ جائے گی؟

[اَفَاَمِنُوْٓا : تو کیا وہ لوگ امن میں ہوگئے ] [ ان : (اس سے) کہ ] [تَاْتِيَهُمْ : پہنچے ان کے پاس ] [ غَاشِيَةٌ: کوئی چھا جانے والے (آفت)] [ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ : اللہ کے عذاب میں سے ] [اَوْ : یا ] [تَاْتِيَهُمُ : پہنچے ان کے پاس ] [السَّاعَةُ : وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [ بَغْتَةً : ہے گمان ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : شعور نہ رکھتے ہوں ]
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

تم ان سے صاف کہہ دو کہ "میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں"

[قُلْ : آپ (علیہ السلام) کہہ دیجئے ] [هٰذِهٖ : یہ ] [ سَبِيْلِيْٓ: میرا راستہ ہے [ اَدْعُوْٓا : میں بلاتا ہوں ] [ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ] [ عَلٰي بَصِيْرَةٍ : عام فہم دلیل (کی بنیاد) پر ] [ انا : میں (بھی)] [ وَمَنِ : اور وہ (بھی) جس نے ] [ اتَّبَعَنِيْ : پیروی کی میری ] [ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ : اور پاکی اللہ کی ہے ] [ وَمَآ انا : اور میں نہیں ہوں ] [ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : شرک کرنے والوں میں سے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 108 میں ومن اتبعنی میں صحابۂ کرام ؓ بھی شامل ہیں اور ہر وہ شخص شامل ہے جو قیامت تک رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کی خدمت میں مشغول ہو۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا دعوٰی کرے اس پر لازم ہے کہ وہ آپ ﷺ کی دعوت کو لوگوں میں پھیلائے اور قرآن کی تعلیم کو عم کرے (معارف القرآن) ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ ہر شخص کی ذمہ داری اور جوابدہی اس کے ظروف و احوال اور استعداد کے مطابق ہوگی۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور انہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام انہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر) تقویٰ کی روش اختیار کی کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟

[وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور نہیں بھیجا ہم نے ] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ اِلَّا : مگر ] [ رِجَالًا : کچھ ایسے مرد ] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف [مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى : بستیوں والوں میں سے ] [ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا : تو کیا ان لوگوں نے سیر نہیں کی ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَيَنْظُرُوْا : تاکہ وہ دیکھتے ] [ كَيْفَ : کیسا ] [ كَان : تھا ] [عَاقِبَةُ الَّذِينَ : ان لوگوں کا انجام جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ] [ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا گھر ] [ خَيْرٌ: بہترین ہے ] [ لِـلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقوٰی کیا ] [اَفَلَا تَعقلوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا

[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [اسْتَيْــــَٔـسَ : مایوس ہوئے ] [ الرُّسُلُ : رسول (لوگوں سے)] [ وَظَنُّوْٓا : اور لوگوں نے گمان کیا ] [ انهُمْ : کہ ان سے ] [ قَدْ كُذِبُوْا : جھوٹ کہا گیا ہے ] [ جَاۗءَهُمْ : تو آئی ان کے پاس ] [ نَصْرُنَا : ہماری مدد ] [ فَنُجِّيَ : پھر بچا لیا گیا ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ نَّشَاۗءُ : ہم نے چاہا ] [ وَلَا يُرَدُّ : اور لوٹائی نہیں جاتی ] [ بَاْسُـنَا : ہماری سختی ] [عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے لوگوں سے ] ترکیب : (آیت۔ 110) اَلرَّسُلُ کے بعد عنھم محذوف ہے۔ وَظَنُّوْا میں ھُمْ کی ضمیر فاعلی اَھْلِ الْقُرٰی یعنی رسولوں کے امتیوں کے لئے ہے جبکہ جَائَ ھُمْ میں ھُمْ کی ضمیر رسولوں کے لئے ہے (آیت۔ 111) لَقَدْ کَانَ میں کَانَ کا اسم عِبْرَۃٌ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور فِیْ قَصَصَھِمْ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ مَاکَانَ کا اسم اس میں ھُوَ کی ضمیر ہے اور حَدِیْثًا اس کی خبر ہے۔ تصدیق سے پہلے کَانَ محذوف ہے اور تَصْدِیْقَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ جبکہ تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْ ئٍ ، ھُدًی، رَحْمَۃً ، یہ سب بھی اسی کَانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت

[لَقَدْ كَان : یقینا ہوچکی ہے ] [فِيْ قَصَصِهِمْ : ان لوگوں کا قصہ سنانے میں ] [عِبْرَةٌ: ایک عبرت ] [لِاُولِي الْاَلْبَابِ : خالص (غیر متعصب) عقل والوں کے لئے ] [مَا كَان : یہ نہیں ہے ] [حَدِيْثًا : کوئی ایسی بات جو ] [ يُّفْتَرٰى: گھڑی گئی ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [تَصْدِيْقَ الَّذِي : (یہ ہے) تصدیق کرنا اسی کی جو ] [بَيْنَ يَدَيْهِ : اس سے پہلے ہے ] [وَتَفْصِيْلَ كُلِ شَيْءٍ : اور ہر چیز کی تفصیل بیان کرنا ہے ] [ وَّهُدًى: اور ہدایت ] [ وَّرَحْمَةً : اور رحمت ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 119 سے معلوم ہوا کہ نبوت خواتین میں نہیں رہی۔ س کی وضاہت آیت۔ 5:75، نوٹ۔ 2 میں کی جا چکی ہے۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 111 میں تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْئٍ کا مطلب ہے ہر اس چیز کی تفصیل جو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ضروری ہو۔ بعض لوگ اس سے دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں پھر ان کو یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ قرآن میں دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی (تفہیم القرآن)