12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے فیصلہ ہو گیا اُس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے"

[يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ : اے جیل کے دونوں ساتھیو ] [ اَمَآ : وہ جو ہے ] [ اَحَدُكُمَا : تم دونوں کا یک ] [ فَيَسْقِيْ : تو وہ پلائے گا ] [رَبَّهٗ : اپنے آقا کو ] [خَمْرًا : شراب ] [ وَاَمَا : اور وہ جو ہے ] [ الْاٰخَرُ : دوسرا ] [ فَيُصْلَبُ : تو وہ پھانسی دیا جائے گا ] [فَتَاْكُلُ : پھر کھائیں گے ] [الطَّيْرُ : پرندے ] [ مِنْ رَّاْسِهٖ : اس کے سر میں سے ] [ قُضِيَ : فیصلہ کیا گیا ] [ الْاَمْرُ : کام کا ] [ الَّذِي : وہ ] [ فِيْهِ : جس کے بارے میں ] [تَسْتَفْتِيٰنِ : تم دونوں پوچھتے ہو ]
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ "اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا" مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا

[وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لِلَّذِيْ : اس سے جس کے لئے ] [ ظَنَّ : انھوں (علیہ السلام) نے گمان کیا ] [انهٗ : کہ وہ ] [ نَاجٍ : نجات پانے والا ہے ] [ مِّنْهُمَا : دونوں میں سے ] [ اذْكُرْنِيْ : تم ذکر کرنا میرا [ عِنْدَ رَبِكَ : اپنے آقا کے پاس ] فَانسٰىهُ : تو بھلا دیا اس کو ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ ذِكْرَ رَبِهٖ : اپنے آقا سے ذکر کرنے کو ] [ فَلَبِثَ : تو وہ (علیہ السلام) رہے ] [ فِي السِّجْنِ : جیل میں [ بِضْعَ : چند ] [ سِنِيْنَ : سالوں (تک)] نوٹ۔ 1: خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے یات 37 تا 409 میں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تقریر دی ہے وہ اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے۔ بائبل اور لمود میں کہیں اس کا اشارہ تک نہیں ہے۔ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں، مگر قرآن نہ صرف ان کی سیرت کے ان پہلوئوں کو زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت کا کام انھوں نے قید میں ہی شروع کردیا تھا۔ پھر حصرت یوسف (علیہ السلام) نے جس طرح اپنی تبلیغ کے لئے موقع نکالا اس میں ہم کو حکمت تبلیغ کا ایک اہم سبق ملتا ہے۔ دو آدمی اپنے خواب کی تعبیر پوچھتے ہیں۔ جواب میں آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ تعبیر تو میں تمہیں ضرور بتائوں گا مگر پہلے یہ سن لو کہ یہ علم مجھے کہاں سے ملا ہے۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے دیا ہے۔ اس طرح ان کی بات میں سے اپنی بات کہنے کا موقع نکال کر آپ (علیہ السلام) ان کے سامنے اپنا دین پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی کے دل میں تبلیغ حق کی دھن سمائی ہو اور وہ حکمت بھی رکھتا ہو تو کیسی خوبصورتی کے ساتھ وہ گفتگو کا رخ اپنی دعوت کی طرف پھیر سکتا ہے۔ البتہ بہت فرق ہے حکیم کی مرقع شناسی میں اور ایک ناداں مبلغ کی بھونڈی تبلیغ میں جو موقع محل کا لحاظ کئے بغیر لوگوں کے کانوں میں اپنی دعوت ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر لیچڑ پن اور جھگڑالو پن سے انھیں الٹا متنفر کر کے چھوڑتا ہے۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

ایک روز بادشاہ نے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی اے اہل دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو"

[وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلِكُ : اس بادشاہ نے ] [ انىٓ: کہ میں ] [ اَرٰي : دیھکتا ہوں (خواب میں)] [سَبْعَ : سات ] [ بَقَرٰتٍ سِمَان : موٹی گائیں ] [ يَّاْكُلُهُنَّ : کھاتی ہیں ان کو ] [ سَبْعٌ : سات ] [عِجَافٌ: دبلی (گائیں)] وَّسَبْعَ : اور سات ] [ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ : سبز خوشے ] [ وَّاُخَرَ : اور دوسرے ] [ يٰبِسٰتٍ : سوکھے ] [ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ : اے سردارو ] [ اَفْتُوْنِيْ : تم لوگ بتائو مجھ کو ] [فِيْ رُءْيَايَ : میرے خواب (کے بارے) میں ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ لِلرُّءْيَا : خواب کی ] [ تَعْبُرُوْنَ : تعبیر بتاتے ہو ] س م ن [سِمَنًا : (س) موٹا ہونا فربہ ہونا۔] [سَمِیْنٌ: ج سِمَانٌ۔ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ موٹا۔ فربہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 43] [اِسْمَانًا : (افعال) فربہی لانا۔ موٹا کرنا۔ لَایُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ (وہ نہ موٹا کرے اور نہ ہی بےنیاز کرے بھوک سے) 88:7] ع ج [عَجَفًا : (س) دبلا ہونا۔ پتلا یا باریک ہونا۔] [عَجِفٌ: ج عِجَافٌ۔ صفت ہے۔ دبلا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 43]
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

لوگوں نے کہا "یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے"

[قَالُوْٓا : انھوں نے کہا ] [ اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ : خوابوں کے پراگندہ خیالات ہیں ] وَمَا نَحْنُ : اور ہم نہیں ہیں ] [ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ : ایسے خوابوں کی تعبیر کے ] [ بِعٰلِمِيْنَ : جاننے والے ] غ ی ث [غَیْثًا : (ض) بارش برسانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 39] [غَیْثٌ: اسم ذات بھی ہے۔ بارش۔ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ (اور وہ اتارتا ہے بارش کو) 31:34] ض غ ث [ضَغْثًا : (ف) (1) بات کو خلط ملط کرنا۔ (2) سوکھی اور ہری گھاس کو ملانا۔] [ضِغْثٌ: ج اَضْغَاثٌ (1) پراگندہ خیالات۔ زیر مطالعہ آیت۔ 44 ۔ (2) سوکھی اور ہری گھاس کا مٹھا۔ وَخُدْ بِیَدِکَ ضِغْثًا (اور آپ (علیہ السلام) پکڑیں ایک مٹھی گھاس) 38:44 ۔]
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا "میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسفؑ کے پاس) بھیج دیجیے"

[وَقَالَ : اور کہا ] [ الَّذِي : اس نے جس نے ] [ نَجَا : نجات پائی ] [ مِنْهُمَا : ان دونوں میں سے ] وَادَّكَرَ : اور اس نے یاد کیا ] [بَعْدَ اُمَّةٍ : ایک مدت کی بعد ] [ انا : میں ] [ انبِئُكُمْ : خبر دوں گا تم لوگوں کو ] [ بِتَاْوِيْـلِهٖ : اس کی تعبیر کی ] [ فَاَرْسِلُوْنِ : پس تم لوگ بھیجو مجھ کو ]
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اس نے جا کر کہا "یوسفؑ، اے سراپا راستی، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں"

[يُوْسُفُ : یوسف ] [ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ : اسے سچے ] [اَفْتِنَا : آپ بتائیں ہم کو ] [ فِيْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَان : سات موٹی گائیوں (کے بارے) میں ] [يَّاْكُلُهُنَّ : کھاتی ہیں ان کو ] [ سَبْعٌ عِجَافٌ : سات دبلی (گائیں)] [وَّسَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ : اور سات سبز خوشوں (کے بارے میں)] [ وَّاُخَرَ : اور دوسرے ] [ يٰبِسٰتٍ : سوکھے ] [ لَّعَلِيْٓ: شائد میں ] [ اَرْجِعُ : لوٹوں ] [اِلَى النَاسِ : لوگوں کی طرف ] [لَعَلَهُمْ : شائد وہ لوگ ] [ يَعْلَمُوْنَ : جان لیں ]
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ تَزْرَعُوْنَ : تم لوگ کھیتی اگائو گے ] [ سَبْعَ سِنِيْنَ : سات سال ] [دَاَبًا : لگاتار ] [ فَمَا : پھر جو ] [ حَصَدْتم : تم لوگ کاٹو ] [ فَذَرُوْهُ : تو چھوڑ دو اس کا ] [فِيْ سُنْبۢلِهٖٓ: اس کے خوشے میں ] [ اِلَّا : مگر ] [ قَلِيْلًا : تھوڑا سا ] [ مِّمَا : جن میں سے ] [ تَاْكُلُوْنَ : تم لوگ کھائو گے ]
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو

[ثُمَّ : پھر ] [ يَاْتِيْ : آئیں گے ] [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [سَبْعٌ شِدَادٌ: سات شدید (سال)] [ يَّاْكُلْنَ : وہ کھائیں گے ] [ مَا : اس کو جو ] [ قَدَّمْتم : تم لوگوں نے آگے بھیجا (یعنی بچا رکھا)] [لَهُنَّ : ان (سالوں) کے لئے ] [اِلَّا : مگر ] [ قَلِيْلًا : تھوڑا سا ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ تُحْصِنُوْنَ : تم لوگ محفوظ رکھو گے (ہم کے لئے)]
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے"

[ثُمَّ : پھر ] [ يَاْتِيْ : آئے گا [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ عَامٌ : ایک ایسا سال [فِيْهِ : جس میں ] [يُغَاثُ : بارش برسائی جائے گی ] [النَاسُ : لوگوں پر ] [وَفِيْهِ : اور اس میں ] [ يَعْصِرُوْنَ : وہ لوگ نچوڑیں گے ]
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ مگر جب شاہی فرستادہ یوسفؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا "اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے"

[وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلِكُ : اس بادشاہ نے ] [ائْتُوْنِيْ : تم لوگ لائو میرے پاس ] [ بِهٖ : اس کو ] [ فَلَمَا : پھر جب ] [ جَاۗءَهُ : آیا ان (علیہ السلام) کے پاس ] [ الرَّسُوْلُ : پیغام لانے والا ] [ قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ارْجِعْ : تو واپس جا ] [اِلٰي رَبِكَ : اپنے آقا کی طرف ] [ فَسْـــَٔـلْهُ : پھر پوچھ اس سے ] [مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ : ان عورتوں کی کیا حیثیت ہے جنھوں نے ] [قَطَّعْنَ : کاٹا ] [اَيْدِيَهُنَّ : اپنے ہاتھوں کو ] [ ان : بیشک ] [ رَبِيْ : میرا رب ] [ بِكَيْدِ هِنَّ : ان عورتوں کی چالبازی کو ] [عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے ] ب و ل [یَوْلًا : (ن) اندر کی چیز کو باہر نکالنا۔ جیسے بلغم تھوکنا، ناک صاف کرنا وغیرہ۔] [بَالٌ: (1) دل میں چھپی ہوئی بات۔ حقیقت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 50 ۔ (2) ظاہری حالت۔ حال۔ سیھدیھم و یصلح بالھم (وہ ہدایت دے گا ان کو اور اصلاع کرے گا ان کے ہال کی۔ 57:5 ۔]
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا "تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یوسفؑ کو رجھانے کی کوشش کی تھی؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا "حاشاللہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا" عزیز کی بیوی بول اٹھی "اب حق کھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے"

[قَالَ : (بادشاہ نے) کہا ] [ مَا : کیا ] [ خَطْبُكُنَّ : تم عورتوں کا مدّعا تھا ] [ اِذْ : جب ] [ رَاوَدْتُّنَّ : تم عورتوں نے پھسلایا ] [ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [ عَنْ نَّفْسِهٖ : اس کے نفس نے ] [ۭ قُلْنَ : انھوں نے کہا ] [حَاشَ للّٰهِ : پاکیزگی اللہ کی ہے ] [مَا عَلِمْنَا : ہم نے نہیں جانی ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [ مِنْ سُوْۗءٍ : کوئی بھی برائی ] [ قَالَتِ : کہا ] [ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ : عزیز کی عورت نے [ الْــٰٔنَ : اب ] [ حَصْحَصَ : سامنے آگیا ] [ الْحَقُّ : حق ] [انا : میں نے ] [رَاوَدْتُّهٗ : پھسلایا اس کو ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اس کے نفس سے ] [ وَانهٗ : اور بیشک وہ [ لَمِنَ : یقینا ] [ الصّٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والوں سے ہے ] ح ص ح ض [حَصْحَصَۃً : (رباعی) پوشیدہ بات کا ظاہر ہونا۔ سامنے آنا۔ زیر مطالعہ آیت 51 ۔] ترکیب : (آیت۔ 51) ما مبتدا خَطْبُکُنَّ خبر ہے۔ لیکن اِذَ کی وجہ سے اس جملہ اسمیہ کا ترجمہ ماضی میں ہوگا۔ (آیت۔ 52) ۔ لِیَعْلَمَ کی ضمیر فاعلی عزیز مصر کے لئے ہے۔ اور اَنِّیْ کی ضمیر متکلم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے ہے۔ (آیت۔ 53) اِلَّا مَا رَحِمَ میں مَا ہے، اس کے لئے حافظ احمد یار صاحب مرحوم کی ترجیح یہ ہے کہ اس کو مَا ظرفیہ مانا جائے جیسے مَادَامَ میں ہے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسفؑ نے کہا) "اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز) یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی، اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا

[ذٰلِكَ : یہ (اس لئے) ہے ] [ لِيَعْلَمَ : تاکہ وہ (عزیز مصر) جان لے ] [ انى: کہ میں (یوسف (علیہ السلام) ) نے [ لَمْ اَخُنْهُ : اس کی خیانت نہیں کی ] [ بِالْغَيْبِ : پوشیدگی میں ] [ وَان : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [لَايَهْدِيْ : منزل تک نہیں پہنچاتا ] [ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ : خیانت کرنے والوں کی چالبازی کو ]
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"

[وَمَآ اُبَرِّئُ : اور میں بری نہیں کرتا ] [ نَفْسِيْ : اپنے نفس کو ] [ ان : بیشک ] [النَّفْسَ : نفس ] [لَاَمَارَةٌۢ: یقینا بار بار اکسانے والا سے ] [ بِالسُّوْۗءِ : برائی پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَا : جب ] [ رَحِمَ : رحم کرے ] [رَبِيْ : میرا رب [ان : بیشک [ رَبِيْ : میرا رب ] [غَفُوْرٌ: بخشنے والا ہے [ رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر 50 سے 53 تک جو کچھ قرآن نے بیان کیا ہے اس کا کوئی ذکر بائبل اور تلمود میں نہیں ہے، حالانکہ وہ اس قصّہ کا ایک بڑا ہی اہم باب ہے۔ بائبل کا بیان ہے کہ بادشاہ کی طلبی پر حضرت یوسف (علیہ السلام) فوراً چلنے کو تیار ہوگئے۔ تلمود اس سے بھی زیادہ گھٹیا صورت میں اس واقعے کو پیش کرتی ہے، اس کا بیان ہے کہ بادشاہ نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو میرے حضور پیش کرو۔ چناچہ شاہی کارندوں نے یوسف (علیہ السلام) کو قید سے نکالا حجامت بنوائی، کپڑے بدلوائے اور دربار میں لا کر پیش کردیا، وہاں زر و جواہر کی چمک دمک اور دربار کی شان دیکھ کر یوسف (علیہ السلام) ہکا بکا رہ گیا۔ شاہی تخت کی سات سیڑھیاں تھیں۔ قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی معزز آدمی بادشاہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا تھا تو وہ چھ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتا اور بادشاہ سے ہم کلام ہوتا۔ اور ادنیٰ طبقہ کا کوئی آدمی بلایا جاتا تو وہ نیچے کھڑا رہتا اور بادشاہ تیسری سیڑھی تک اتر کر اس سے بات کرتا۔ یوسف (علیہ السلام) اس قاعدے کے مطابق نیچے کھڑا ہوا اور زمین بوس ہو کر اس نے بادشاہ کو سلامی دی اور بادشاہ نے تیسری سیڑھی تک اتر کر اس سے گفتگو کی۔ اس تصویر میں بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کو جتنا گرا کر پیش کیا ہے اس کو نگاہ میں رکھئے اور پھر دیکھئے کہ قرآن ان کی قید سے نکلنے اور بادشاہ سے ملنے کا واقعہ کس شان کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہر صاحب نظر کا اپنا کام ہے کہ ان دونوں تصویروں میں سے کون سی تصویر پیغمبری کے مرتبے سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا "اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں" جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا "اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے"

[وَقَالَ : اور کہا ] [الْمَلِكُ : اس بادشاہ نے ] [ ائْتُوْنِيْ : لائو میرے پاس ] [ بِهٖٓ: اس کو ] [ اَسْتَخْلِصْهُ : میں چن لوں گا اس کو [لِنَفْسِيْ : اپنے لئے ] [ فَلَمَا : پھر جب ] [كَلَّمَهٗ : اس نے بات کی ان (علیہ السلام) سے ] [قَالَ : تو اس نے کہا ] [انكَ : بیشک تو ] [الْيَوْمَ : آج سے ] [ لَدَيْنَا : ہمارے پاس ] [مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ: ایک امانتدار معزز ہے ]
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسفؑ نے کہا، "ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [اجْعَلْنِيْ : تو بنا دے مجھ کو ] [ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ : زمین کے خزانوں پر (وزیر)] [ انى : بیشک میں ] [حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ: علم رکھنے والا نگران ہوں ]
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسفؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا

[وَكَذٰلِكَ : اس طرح [ مَكَّنَا : ہم نے اختیار دیا ] [ لِيُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو [ فِي الْاَرْضِ : اس سر زمین میں ] [ يَتَبَوَّاُ : (کہ) وہ اقامت اختیار کریں ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [حَيْثُ : جہاں ] [يَشَاۗءُ : وہ چاہیں ] [نُصِيْبُ : ہم پہنچاتے ہیں ] [بِرَحْمَتِنَا : اپنی رحمت کو ] [ مَنْ : اسے جسے ] [ نَّشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں [ وَلَا نُضِيْعُ : اور ہم ضائع نہیں کرتے [ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ : خوب کاروں کے اجر کو ]
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور آخرت کا اجر اُن لوگو ں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے

[وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا اجر ] [ خَيْرٌ: بہتر ہے ] [لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے [ وَكَانوْا يَتَّقُوْنَ : اور تقویٰ کرتے رہے ]
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

یوسفؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے

[وَجَاۗءَ : اور آئے ] [ اِخْوَةُ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ] [ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ : پھر وہ لوگ داخل ہوئے ان (علیہ السلام) پر (یعنی حاضر ہوئے)] [ فَعَرَفَهُمْ : تو انھوں (علیہ السلام) نے پہچانا ان لوگوں کو ] [وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [مُنْكِرُوْنَ : نہ پہچاننے والے تھے ] ج ھـ ز [جَھْزًا : (ف) کسی ادھورے کام کو پورا کرنا جیسے زخمی کو مار کر اس کا کام تمام کردینا۔] [جَھَازٌ: کسی کی ضرورت پوری کرنے والا سامان۔ زیر مطالعہ آیت 59 ۔] [تَجْھِیْزًا : (تفعیل) کسی کے لئے ضرورت کا سامان مہیا کرنا۔ تیار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 59]
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، "اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں

[وَلَمَا : اور جب ] [ جَهَّزَهُمْ : انھوں (علیہ السلام) نے تیار کیا ان کے لئے ] [بِجَهَازِهِمْ : ان کی ضرورت کے سامان کو ] [ قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ ائْتُوْنِيْ : تم لوگ آنا میرے پاس ] [ بِاَخٍ لَكُمْ : اپنے اس بھائی کے ساتھ جو ] [ مِّنْ اَبِيْكُمْ : تمہارے والد سے ہے ] [ اَ : کیا ] [لَا تَرَوْنَ : تم لوگ دیکھتی نہیں ] [ انىٓ: کہ میں ] [اُوْفِي : پورا کرتا ہوں ] [الْكَيْلَ : پیمانہ بھرنے کو ] [وَانا : اور میں ] [خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ : اتارنے والوں (یعنی مہمان نوازوں) کا بہترین ہیں ]
Ayah 12:60

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا"

[فَان : پھر اگر ] [لَمْ تَاْتُوْنِيْ : تم نہ آئے میرے پاس ] [بِهٖ : اس کے ساتھ ] [فَلَا كَيْلَ : تو کوئی پیمانہ بھرنا نہیں ہے ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ عِنْدِيْ : میرے پاس ] [ وَلَا تَقْرَبُوْنِ : اور تم لوگ قریب مت آنا میرے ] نوٹ۔ 1: آیت 59 ۔ 60 کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قحط کے زمانے میں مصر میں غلہ کو ضابطہ بندی تھی اور ہر شخص ایک مقرر مقدار میں غلّہ لے سکتا تھا۔ غلہ لینے کے لئے دس بھائی آئے تھے مگر وہ اپنے والد اور اپنے گیارھویں بھائی کا قصّہ بھی مانگتے ہوں گے۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے نہ آنے کا عذر تو معقول ہوسکتا ہے کہ وہ بہت بوڑھے اور نابینا ہیں مگر بھائی کے نہ آنے کا معقول سبب نہیں ہے۔ اس وقت تو ہم تمہاری زبان کا اعتبار کر کے پورا غلہ دے دیتے ہیں مگر آئندہ اگر تم اس کو ساتھ نہ لائے تو تمہارا اعتبار جاتا رہے گا اور تمہیں یہاں سے کوئی غلّہ نہیں مل سکے گا۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی پونجی ان کے سامان میں رکھوا دی تھی۔ اس کی کیا وجہ تھی۔ ابن کثیر (رح) نے اس کے کئی احتمال بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ ان (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ شاید ان کے بھائیوں کے پاس اس نقد اور زیور کے سوا اور کچھ نہ ہو، تو پھر دوبارہ غلّہ لینے کے لئے نہیں آسکیں گے۔ دوسرے یہ کہ اپنے والد اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینا گواراہ نہ ہو۔ اس لئے شاہی خزانہ میں اپنے پاس سے رقم جمع کر کے ان کی رقم واپس کردی۔ تیسرے یہ کہ وہ جانتے تھے کہ جب ان کی پونجی ان کو واپس ملے گی اور والد کو علم ہوگا تو وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پونجی کو مصری خزانے کی امانت سمجھ کر ضرور واپس بھیجیں گے۔ اس طرح بھائیوں کا واپس آنا یقینی ہوجائے گا۔ بہرحال حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ انتظام اس لئے کیا کہ آئند
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا، "ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر ر اضی ہو جائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ سَنُرَاوِدُ : ہم پھسلائیں گے ] [ عَنْهُ : اس کو (روکنے) سے ] [اَبَاهُ : اس کے والد کو ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَفٰعِلُوْنَ : (یہ) ضرور کرنے والے ہیں ]
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں

[وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِفِتْيٰنِهِ : اپنے نوجوان خادموں سے ] [اجْعَلُوْا : تم لوگ رکھ دو ] [بِضَاعَتَهُمْ : ان کی پونجی کو ] [فِيْ رِحَالِهِمْ : ان کی بوریوں میں ] [ لَعَلَهُمْ؛شائد وہ لوگ ] [يَعْرِفُوْنَهَآ : پہچانیں اس کو ] [اِذَا : جب ] [انقَلَبُوْا : وہ لوگ پلٹیں ] [ اِلٰٓى اَهْلِهِمْ : اپنے گھر والوں کی طرف ] [ لَعَلَهُمْ؛شائد وہ لوگ ] [ يَرْجِعُوْنَ : واپس آئیں ] ر ح ل [رَحْلًا : (ف) (1) اونٹ یا گھوڑے کی پیٹھ پر کجادہ باندھنا۔ (2) سفر کرنا۔] [رَحْلٌ: ج رِحَالٌ۔ سامان رکھنے کا تھیلا یا بوری وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت 62 ۔] [رحلۃ : کوچ۔ سفر۔ رِحْلَۃَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ (جاڑے اور گرمی کا سفر) 106:2 ۔]
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں"

[فَلَمَا : پھر جب ] [رَجَعُوْٓا : وہ لوگ واپس پہنچے ] [ اِلٰٓى اَبِيْهِمْ : اپنے والد کی طرف ] [ قَالُوْا : تو ان لوگوں نے کہا ] [يٰٓاَبَانا : اے ہمارے والد ] [ مُنِعَ : روکا گیا ] [ مِنَا : ہم سے ] [ الْكَيْلُ : پیمانہ بھرنے کو ] [فَاَرْسِلْ : تو آپ (علیہ السلام) بھیجیں ] [مَعَنَآ : ہمارے ساتھ ] [ اَخَانا : ہمارے بھائی کو ] [ نَكْتَلْ : تو ہم اپنے لئے پیمانہ بھریں [ وَانا : اور بیشک ] [ لَهٗ : اس کی ] [لَحٰفِظُوْنَ : یقینا حفاظت کرنے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 63) نَکْتَلْ ۔ باب اطتعال کا مضارع مجزوم ہے جو فعل امر اَرْسِلْ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجروم ہوا ہے۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"

[قَالَ : (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا ] [هَلْ : کیا ] [ اٰمَنُكُمْ : میں اعتبار کروں تم لوگوں کا ] [عَلَيْهِ : اس (بات) پر ] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ كَمَآ : جس طرح ] [اَمِنْتُكُمْ : میں نے اعتبار کیا تمہارا ] [عَلٰٓي اَخِيْهِ : اس کے بھائی کے بارے میں ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ فَاللّٰهُ : پس اللہ ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [حٰفِظًا : بطور حفاظت کرنے والے کے ] [ وَّهُوَ : اور وہ ] [اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا"

[وَلَمَا : اور جب ] [ فَتَحُوْا : انھوں نے کھولا ] [مَتَاعَهُمْ : اپنے سامان کو ] [ وَجَدُوْا : تو انھوں نے پایا [بِضَاعَتَهُمْ : اپنی پونجی کو ] [رُدَّتْ : جو لوٹائی گئی ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰٓاَبَانا : اے ہمارے باپ ] [ مَا نَبْغِيْ : ہم (اور) کیا چاہیں ] [هٰذِهٖ : یہ ] [ بِضَاعَتُنَا : ہماری پونجی سے ] [رُدَّتْ : جو لوٹائی گئی ] [ اِلَيْنَا : ہماری طرف ] [وَنَمِيْرُ : اور ہم خوراک لائیں گے ] [اَهْلَنَا : اپنے گھر والوں کے لئے ] [ وَنَحْفَظُ : اور ہم حفاظت کریں گے ] [ اَخَانا : اپنے بھائی کی ] [ وَنَزْدَادُ : اور ہم زیادہ ہوں گے ] [ كَيْلَ بَعِيْرٍ : ایک اونٹ کے پیمانے (بوجھ) کے لحاظ سے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ: آسان پیمانہ بھرنا ہے ] م ی ر [مَیْرًا : (ض) کسی کے لئے خوراک لانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 65] ب ع ر [بَعِسْرًا : (س) اونٹ کا چار سال یا نو سال کا ہونا۔] [بَعِیْرٌ: اونٹ (مذکر و مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے) زیر مطالعہ آیت۔ 65] ترکیب : (آیت۔ 65) نَزْدَادُ دراصل مادہ ” ز ی د “ ہے باب افتعال کے مضارع کا جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ جو اصل میں نَزْتَا دُعَا تائِ افتعال کو دال سے بدل دیا گیا ہے۔ (آیت۔ 67) بَنِیَّ دراصل بَنِیْنَ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون گرا تو بَنِیْ باقی بچی۔ اسی پر مضاف الیہ پائے متکلم داخل ہوئی تو بَلِیَّ ہوگیا۔ (آیت۔ 68) قَضٰھَا کی ضمیر فاعلی ھُوَ کی ضمیر ہے جو یعقوب (علیہ السلام) کے لئے ہے اور ھَا کی ضمیر مفعولی حَاجَۃً کے لئے ہے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لَنْ اُرْسِلَهٗ : میں ہرگز نہیں بھیجونگا اس کو ] [مَعَكُمْ : تم لوگوں کے ساتھ ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ تُؤْتُوْنِ : تو لوگ دو مجھ کو [ مَوْثِقًا : ایک پختہ وعدہ ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [ لَتَاْتُنَّنِيْ : (کہ) تم لوگ لازماً آئو گے میرے پاس ] [بِهٖٓ: اس کے ساتھ ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [ يُّحَاطَ : گھیر لیا جائے ] [ بِكُمْ : تم لوگوں کو ] [ فَلَمَآ : پھر جب ] [ اٰتَوْهُ : ان لوگوں نے دیا ان (علیہ السلام) کو ] [مَوْثِقَهُمْ : اپنا پختہ وعدہ [ قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ نَقُوْلُ : ہم کہتے ہیں ] [وَكِيْلٌ: نگہبان ہے ]
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

پھر اس نے کہا "میرے بچو، مصر کے دارالسطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے"

[وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰبَنِيَّ : اے میرے بیٹو ] [لَا تَدْخُلُوْا : تم لوگ داخل مت ہونا ] [مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ : ایک دروازے سے ] [ وَّادْخُلُوْا : اور تم لوگ داخل ہونا ] [مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ : الگ الگ دروازوں سے ] [ وَمَآ اُغْنِيْ : اور میں کام نہیں آئوں گا ] [عَنْكُمْ : تمہارے ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز سے ] [ ان : نہیں ہے ] [ الْحُكْمُ : حکم دینا ] [ اِلَّا : مگر [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [عَلَيْهِ : اس پر بھی ] [تَوَكَّلْتُ : میں نے بھروسہ کیا ] [ وَعَلَيْهِ : اور اس پر بھی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : پس چاہیے کہ بھروسہ کریں [ الْمُتَوَكِّلُوْنَ : بھروسہ کرنے والے ]
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی ہاں بس یعقوبؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کر لی بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں

[وَلَمَا : اور جب ] [ دَخَلُوْا : وہ داخل ہوئے [ مِنْ حَيْثُ : جہاں سے ] [ اَمَرَهُمْ : حکم دیا ان کو ] [ اَبُوْهُمْ : ان کے والد نے ] [ مَا كَان : تو وہ نہیں تھا (کہ)] [ يُغْنِيْ : کام آتا ] [ عَنْهُمْ : ان کے ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز سے ] [ اِلَّا : مگر ] [ حَاجَةً : ایک خواہش ] [ فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ : یعقوب (علیہ السلام) کے جی میں ] [ قَضٰىهَا : انھوں نے پورا کیا اس کو ] [ وَانهٗ : اور بیشک وہ [لَذُوْ عِلْمٍ : یقینا صاحب علم تھے ] [ لِمَا : اس کے جو ] [ عَلَّمْنٰهُ : ہم نے علم دیا ان کو ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن [ اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ] ح و ج [حَوْجًا : (ن) ضرورت مند ہوا کسی چیز کی خواہش کرنا۔] [حَاجَۃٌ: ایسی ضرورت جس کی دل میں خواہش ہو۔ (1) ضرورت (2) دلی خواہش زیر مطالعہ آیت۔ 68] نوٹ۔ 1: آیت۔ 68 میں ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) صاحب علم تھے اور یہ علم اللہ نے ان کو دیا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تدبیر اور توکل کے درمیان اتنا ٹھیک اور صحیح تو ازن جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا اقوال میں پایا جاتا ہے۔ وہ دراصل اس علم حقیقت کا فیض ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ طرف وہ عالم اسباب کے قوانین کے مطابق تمام ایسی تدبیریں کرتے ہیں جو عقل و فکر اور تجربہ کی بنیاد پر اختیار کرنی ممکن تھیں۔ بیٹوں کا ان کا پہلا جرم یاد دلا کر تنبیہہ کرتے ہیں، خدا کے نام پر عہد و پیمان لیتے ہیں اور وقت کے سیاسی حالات کے تحت تاکید کرتے ہیں کہ تم سب ایک دروازے سے داخل مت ہونا۔ مگر دوسری طرف بار بار اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کوئی انسانی تدبیر اللہ کی مشیت کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتی۔ اور اصل حفاظت اللہ کی حفاظت ہے اور بھروسہ اپنی تدبیروں پر نہیں بلکہ اللہ ہی کے فضل پر ہونا چاہیے۔ اپنی باتوں اور اپنے کاموں میں یہ صحیح توازن صرف وہی شخص قائم کرسکتا ہے جو حقیقت کا علم رکھتا ہو۔ جو یہ بھی جانتا ہو کہ دنیا کے ظاہری اسباب و عدل کے نظام کے پیچھے اصل کارفرما طاقت کون سی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے اپنی سعی و عمل پر انسان کا بھروسہ کس قدر بےبنیاد ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں"

[وَلَمَا : اور جب ] [ دَخَلُوْا : وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے ] [عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) پر ] [اٰوٰٓى: تو انھوں (علیہ السلام) نے جگہ دی ] [ اِلَيْهِ : اپنے پاس ] [اَخَاهُ : اپنے بھائی کو ] [ قَالَ : (پر) انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ انىٓ انا : کہ میں ہی ] [ اَخُوْكَ : تمہارا بھائی ہوں ] [ فَلَا تَبْتَىِٕسْ : پس تم دل برداشتہ مت ہو ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب یوسفؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا "اے قافلے والو، تم لو گ چور ہو"

[فَلَمَا : پھر جب ] [ جَهَّزَهُمْ : انھوں (علیہ السلام) نے تیار کیا ان کے لئے ] [ بِجَهَازِهِمْ : ان ضرورت کے سامان کو ] [ جَعَلَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے رکھا [السِّقَايَةَ : پینے کے پیالے کو [ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے میں ] [ ثُمَّ : پھر ] [ اَذَّنَ : پکارا ] [مُؤَذِّنٌ: ایک پکارنے والے نے ] [ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ : اے قافلے والو ] [ انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [لَسٰرِقُوْنَ : یقینا چوری کرنے والے ہو ] ع ی ر [عَیْرًا : (ض) ادھر ادھر آنا جانا۔] [عِیْرٌ: قافلہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 70]
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟ "

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ وَاَقْبَلُوْا : اور وہ لوگ سامنے ہوئے ] [ عَلَيْهِمْ : ان کے ] [مَاذَا : وہ کیا ہے جو ] [ تَفْقِدُوْنَ : تم لوگ نہیں پاتے ] ق د [فُقْدَانًا : (ض) (1) کسی چیز کا گم ہوجانا۔ (2) کسی چیز کو نہ پانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 71] [تَفْقُرًا : (تفعل) (1) تلاش کرنا۔ (2) کسی چیز کا جائزہ لینا کہ کچھ کم یا گم تو نہیں ہوئی۔ وَتَفَقَّہَ الطَّیْرَ (اور اس نے جائزہ لیا پرندوں کا) 27:20]
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ نَفْقِدُ : ہم نہیں پاتے ] [ صُوَاعَ الْمَلِكِ : بادشاہ کا پینے کا پیالہ ] [وَلِمَنْ : اور اس کے لئے جو ] [ جَاۗءَ بِهٖ : لائے گا اس کو ] [حِمْلُ بَعِيْرٍ : ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) ہے ] [وَّانا : اور میں ] [ بِهٖ : اس کا ] [ زَعِيْمٌ: ضامن ہوں ] ص و ع [صَوْعًا : (ن) کسی پیمانے سے ناپنا۔] [صُوَاعٌ: پینے کا پیالہ۔ زیر مطالعہ آیت 72 ۔]
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

ان بھائیوں نے کہا "خدا کی قسم، تو لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ عَلِمْتم : بیشک تم لوگ جان چکے ہو ] [مَا جِئْنَا : ہم نہیں آئے [ لِنُفْسِدَ : کہ ہم نظم بگاڑیں [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں [ وَمَا كُنَا : اور ہم نہیں ہیں ] [ سٰرِقِيْنَ : چوری کرنے والے ]
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا "اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا [ فَمَا : تو کیا ] [ جَزَاۗؤُهٗٓ: اس کا بدلہ ہے [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ كٰذِبِيْنَ : جھوٹ کہنے والے ہو ]
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا "اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ جَزَاۗؤُهٗ : اس کا بدلہ ] [ مَنْ : وہ ہے ] [وُّجِدَ : وہ (پیالہ) پایا گیا ] [ فِيْ رَحْلِهٖ : جس کے تھیلے میں ] [ فَهُوَ : تو وہ ہی ] [جَزَاۗؤُهٗ : اس کا بدلہ ہے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [نَجْزِي : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی اِس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے

[فَبَدَاَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے ابتدا کی ] [ بِاَوْعِيَتِهِمْ : ان لوگوں کے تھیلوں (کی تلاشی) سے ] [قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ] [ ثُمَّ : پھر ] [اسْتَخْرَجَهَا : انھوں (علیہ السلام) نے نکالا اس (پیالے) کو ] [ مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے سے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [كِدْنَا : ہم نے (یعنی اللہ نے) خفیہ تدبیر کی ] [ لِيُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کے لئے ] [ مَا كَان : (ممکن) نہیں تھا ] [ لِيَاْخُذَ : کہ وہ (علیہ السلام) پکڑیں ] [اَخَاهُ : اپنے بھائی کو ] [فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ : بادشاہ کے دستور میں ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ (جو)] [ يَّشَاۗءَ : چاہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ نَرْفَعُ : ہم بلند کرتے ہیں ] [دَرَجٰتٍ : درجوں کے لحاظ سے ] [ مَنْ : اس کو جسے ] [ نَّشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں ] [ وَفَوْقَ كُلِ ذِيْ عِلْمٍ : اور ہر علم والے کے اوپر ] [ عَلِيْمٌ : ایک عظیم (ذات) ہے ] و ع ی [وَعْیًا : (ض) جمع کرنا۔ یاد رکھنا۔ لِنَجْعَلَھَالَکُمْ تَذْکِرَۃً وَّ تَعِیَھَا اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ (تاکہ ہم بنائیں اس کو تمہارے لئے ایک یاددہانی اور تاکہ یاد رکھیں اس کو یاد رکھنے والے کان) 69:12 ۔] [وَاعِیَۃٌ: اسم الفاعل واع کا مؤنث سے۔ یاد رکھنے والا۔ اور آیت 69:12 دیکھیں۔] [وِعَائٌ: ج اَوْعِیَۃٌ۔ وہ چیز جس میں کوئی چیز جمع کی جائے۔ تھیلا۔ بوری وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 76 ۔] [اِیْعَائً : (افعال) جمع کی ہوئی چیز کو محفوظ رکھنا۔ وجمع فاوعی (اور اس نے جمع کیا پھر محفوظ رکھا) 70:18] نوٹ۔ 1: اپنے بھائی کو روکنے کے لئے یوسف (علیہ السلام) نے جو تدبیر کی اس سے ذہن میں کچھ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں لیکن صحیح جواب وہی ہے جو قرطبی اور مظہری وغیرہ نے دیا ہے کہ اس واقعہ میں جو کچھ کیا گیا اور کہا گیا وہ سب بامر الٰہی تھے اور اس ہی کو حکمت بالغہ کے مظاہر تھے۔ اس جواب کی طرف خود قرآن کی اس آیت میں اشارہ موجود ہے کہ ” اس طرح ہم نے خفیہ تدبیر کی یوسف (علیہ السلام) کے لئے۔ “ اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے اس تدبیر کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ جب یہ سب کچھ بامر خدا وندی ہوا تو اس کو ناجائز کہنے کے کوئی معنٰی نہیں رہتے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کا کشتی توڑنا، لڑکے قتل کرنا وغیرہ جو بظاہر گناہ تھے۔ اسی لئے حضرت موسٰی (علیہ السلام) نے ان پر اعتراض کیا تھا۔ مگر حضرت خضر (علیہ السلام) یہ سب کام باذن خداوندی خاص مصلحتوں کے تحت کر رہے تھے اس لئے ان کا کوئی گناہ نہ تھا۔ (معارف القرآن)
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

ان بھائیوں نے کہا "یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے" یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ "بڑے ہی برے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے"

[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ ان : اگر ] [ يَّسْرِقْ : اس نے چوری کی ہے ] [ فَقَدْ سَرَقَ : تو چوری کرچکا ہے ] [ اَخٌ: ایک بھائی ] [ لَهٗ : اس کا ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ فَاَسَرَّهَا : تو چھپایا اس (بات)] [ يُوْسُفُ : یوسف (علیہ السلام) نے ] [ فِيْ نَفْسِهٖ : اپنے جی میں ] [ وَلَمْ يُبْدِهَا : اور ظاہر نہیں کیا اس (بات) کو ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے (اپنے جی میں) کہا ] [انتم : تم لوگ ] [ شَرٌّ: سب سے گھٹیا ہو ] [ مَّكَانا : بلحاظ درجہ کے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے [بِمَا : اس کو جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ بتاتے ہو ]
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

انہوں نے کہا "اے سردار ذی اقتدار (عزیز)، اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ : اے عزیز ] [ان لَهٗٓ: کہ اس کے ] [ اَبًا : ایک والد ہیں ] [ شَيْخًا كَبِيْرًا : جو بہت بوڑھے ہیں ] [ فَخُذْ : پس آپ (علیہ السلام) پکڑیں ] [ اَحَدَنَا : ہمارے ایک کو ] [ مَكَانهٗ : اس کی جگہ ] [ انا : بیشک ] [ نَرٰىكَ : ہم دیکھتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو [مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ : احسان کرنے والوں میں سے ]
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسفؑ نے کہا "پناہ بخدا، دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ مَعَاذَ اللّٰهِ : اللہ کی پناہ ] [ان : کہ ] [ نَاخُذَ : ہم پکڑیں ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَنْ : اس کو ] [ وَّجَدْنَا : ہم نے پایا ] [ مَتَاعَنَا : اپنا سامان ] [ عِنْدَهٗٓ : جس کے پاس ] [ انآ : بیشک ہم ] [ اِذًا : پھر تو ] [ لَّظٰلِمُوْنَ : ضرور ظلم کرنے والے ہیں ]
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

[فَلَمَا : پھر جب ] [ اسْتَيْـــَٔـسُوْا : وہ مایوس ہوئے ] [ مِنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [خَلَصُوْا : تو وہ لوگ الگ ہوئے ] [ نَجِيًّا : سرگوشی کرتے ہوئے ] [ قَالَ : کہا ] [ كَبِيْرُهُمْ : ان کے بڑے نے ] [ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا : کیا تم لوگوں نے نہیں جانا ] [ ان : کہ ] [ اَبَاكُمْ : تمہارے والد نے ] [ قَدْ اَخَذَ : لیا ہے ] عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مَّوْثِقًا : ایک پختہ وعدہ ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [وَمِنْ قَبْلُ : اور اس سے پہلے ] [ مَا : جو ] [ فَرَّطْتم : تم نے کوتاہی کی ] [ فِيْ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) (کے معاملہ) میں ] [ فَلَنْ اَبْرَحَ : پس میں ہرگز نہیں ہٹوں گا ] [الْاَرْضَ : اس سرزمین سے ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ يَاْذَنَ : اجازت دیں ] [ لِيْٓ: مجھ کو ] [ اَبِيْٓ: میرے والد ] [اَو : یا ] [ يَحْكُمَ : حکم دے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [ لِيْ : مجھ کو ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ : حکم دینے والوں کا بہترین ہے ] ب ر ح [بَرَحًا : (س) کسی چیز کو چھوڑ دینا۔ کسی جگہ سے ہٹ جانا۔ زیر مطالعہ آیت 80 ۔]