15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 15:41

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا "یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [ ھٰذَا : یہ ] [ صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ: مجھ پر (یعنی مجھ تک) ایک سیدھا راستہ ہے ]
Ayah 15:42

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں

[ان : بیشک ] [عِبَادِيْ : (یہ) میرے بندے ہیں ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [ لَكَ : تیرے لئے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ سُلْطٰنٌ: کوئی اختیار ] [ اِلَّا : سوائے ] [ مَنِ : اس کے جس نے ] [ اتَّبَعَكَ : پیروی کی تیری ] [مِنَ الْغٰوِيْنَ : گمراہ ہونے والوں میں سے ]
Ayah 15:43

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے"

[وَان : اور بیشک ] [جَهَنَّمَ : جہنم ] [لَمَوْعِدُهُمْ : یقینا ان کے وعدے کی جگہ ہے ] [اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کی ]
Ayah 15:44

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے

[لَهَا : اس کے لئے ] [ سَبْعَةُ اَبْوَابٍ : سات دروازے ہیں ] [ لِكُلِ بَابٍ : ہر دروازے کے لئے ] [ مِّنْهُمْ : ان (گمراہوں) میں سے ] [ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ: ایک تقسیم کیا ہوا حصہ ہے ]
Ayah 15:45

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بخلاف اِس کے متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

[ان : یقینا ] [ الْمُتَّقِيْنَ : تقوٰی کرنے والے ] [ فِيْ جَنّٰتٍ : باغوں میں ] [ وَّ عُيُوْنٍ : اور چشموں میں ہونگے ] ترکیب : ان آیات میں قیامت کے واقعات کا ذکر ہے اس لئے جملہ اسمیہ یعنی حال اور فعل ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
Ayah 15:46

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر

[اُدْخُلُوْهَا : (کہا جائے گا) تم لوگ داخل ہو جائو ان میں ] [ بِسَلٰمٍ : سلامتی کے ساتھ ] [ اٰمِنِيْنَ : امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 46) اٰمِنِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 15:47

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے

[وَنَزَعْنَا : اور ہم کھینچ نکالیں گے ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِيْ صُدُوْرِهِمْ : ان کے سینوں میں ہے ] [ مِّنْ غِلٍّ : کوئی بھی کدورت ] [ اِخْوَانا : (وہ بیٹھیں گے) بھائی ہوتے ہوئے ] [ عَلٰي سُرُرٍ : تختوں پر ] [ مُّتَقٰبِلِيْنَ : آمنے سامنے ] (آیت۔ 47) اِخْوَانًا سے پہلے کوئی فعل محذوف مانا جائے گا۔ اِخْوَانًا اس کا حال ہے۔ مُتَقٰبِلِیْنَ بھی حال ہے۔
Ayah 15:48

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

اُنہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

[لَا يَمَسُّهُمْ : نہیں چھوئے گی ان کو ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ نَصَبٌ: کوئی مشقت ] [ وَّمَا هُمْ : اور وہ نہیں ہونگے ] [ مِّنْهَا : اس سے ] [ بِمُخْرَجِيْنَ : نکالے جانے والے ]
Ayah 15:49

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں

[نَبِئْ : آپ ﷺ خبر دیں ] [ عِبَادِيْٓ: میرے بندوں کو ] [ انىٓ: کہ میں ] [ انا الْغَفُوْرُ : ہی بےانتہا بخشنے والا ہوں ] [ الرَّحِيْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہوں ] (آیت۔ 49) اَنَا الْغَفُوْرُ میں اَنَا ضمیر فاصل ہے۔
Ayah 15:50

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے

[وَان : اور یہ کہ ] [ عَذَابِيْ : میرا عذاب ] [ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ : ہی دردناک عذاب ہے ] (آیت۔ 50) ھُوَ الْعَذَابُ میں بھی ھُوَ ضمیر فاصل ہے۔
Ayah 15:51

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انہیں ذرا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا قصہ سناؤ

[وَنَبِئْهُمْ : اور آپ ﷺ خبر دیں ان کو ] [ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں ]
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ آئے اُس کے ہاں اور کہا "سلام ہو تم پر،" تو اُس نے کہا "ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے"

[اِذْ : جب ] [ دَخَلُوْا : وہ داخل ہوئے ] [ عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [ فَقَالُوْا : پھر انھوں نے کہا ] [ سَلٰمًا ۭ: سلام ] [ قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ انا : کہ ہم ] [ مِنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ وَجِلُوْنَ : خوف زدہ ہیں ]
Ayah 15:53

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

اُنہوں نے جواب دیا "ڈرو نہیں، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ لَا تَوْجَلْ : آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] [ انا : بیشک ہم ] [ نُبَشِّرُكَ : خوشخبری دیتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] [ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ : ایک صاحب علم لڑکے کی ]
Ayah 15:54

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا "کیا تم اِس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟"

[قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ اَ : کیا ] [ بَشَّرْتموْنِيْ : تم لوگوں نے خوشخبری دی مجھ کو ] [ عَلٰٓي ان : اس کے باوجود کہ ] [ مَّسَّنِيَ : چھوا مجھ کو ] [ الْكِبَرُ : بڑھاپے نے ] [ فَبِمَ : تو کس چیز کی ] [ تُبَشِّرُوْنَ : تم لوگ خوشخبری دیتے ہو ]
Ayah 15:55

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

اُنہوں نے جواب دیا "ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو"

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ بَشَّرْنٰكَ : ہم نے خوشخبری دی آپ (علیہ السلام) کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ فَلَا تَكُنْ : تو آپ (علیہ السلام) مت ہوں ] [ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ : مایوس ہونے والوں میں سے ] [ قَنُوْطٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بےانتہا مایوس ہونے والا۔ انتہائی مایوس۔ وَاِنْ مَّسُّہُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ (اور اگر چُھوئے اس کو برائی تو انتہائی ناامید انتہائی مایوس ہے) 41:49]
Ayah 15:56

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا "اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں"

[قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ وَمَنْ : اور کون ] [ يَّقْنَطُ : مایوس ہوتا ہے ] [ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِهٖٓ: اپنے رب کی رحمت سے ] [ اِلَّا : سوائے ] [ الضَّاۗلُّوْنَ : گمراہ ہونے والوں کے ] ق ن ط [قَنَطًا : (ض۔ ک) مایوس ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 56]
Ayah 15:57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر ابراہیمؑ نے پوچھا "اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟"

[قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ فَمَا : تو کیا ] [ خَطْبُكُمْ : تم لوگوں کا مدعا ہے ] [ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ : اسے بھیجے ہوئے لوگو (یعنی فرشتوں)]
Ayah 15:58

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

وہ بولے، "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

[قَالُوْٓا : انھوں نے کہا ] [ انآ : کہ ہم کو ] [ اُرْسِلْنَآ : بھیجا گیا ہے ] [ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَ : ایک مجرم قوم کی طرف ]
Ayah 15:59

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

صرف لوطؑ کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، ان سب کو ہم بچا لیں گے

[اِلَّآ : سوائے ] [ اٰلَ لُوْطٍ ۭ : لوط (علیہ السلام) کے پیروکاروں کے ] [انا : بیشک ہم ] [ لَمُنَجوهُمْ : ضرور نجات دینے والے ہیں ان کو ] [ اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ]
Ayah 15:60

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی"

[اِلَّا : سوائے ] [ امْرَاَتَهٗ : ان (علیہ السلام) کی عورت کے ] [ قَدَّرْنَآ ۙ: ہم نے مقرر کیا ] [انهَا : بیشک وہ ] [ لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ : لازماً پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے ]
Ayah 15:61

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب یہ فرستادے لوطؑ کے ہاں پہنچے

[فَلَمَا : پھر جب ] [ جَاۗءَ : آئے ] [ اٰلَ لُوْطِۨ: آلِ لوظ (علیہ السلام) کے پاس ] [ الْمُرْسَلُوْنَ : بھیجے ہوئے (فرشتے)] نوٹ۔ 1: فرشتوں کا یہ کہنا کہ ہم اس چیز کے ساتھ آئے ہیں جس میں یہ شک کرتے تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کو ڈراتے رہے ہیں لیکن وہ برابر شک میں ہی پڑے رہے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنے گھر والوں کے پیچھے چلنے کی ہدایت اس غرض سے کی گئی تھی کہ ان میں سے کوئی ٹھہرنے نہ پائے۔ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کی ہدایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پلٹ کر دیکھتے ہی تم پتھر کے ہو جائو گے، جیسا کہ بائبل میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیچھے کی آوازیں اور شوروغل سن کر تماشا دیکھنے کے لئے نہ ٹھہر جانا۔ یہ نہ تماشا دیکھنے کا وقت ہے اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا۔ ایک لمحہ بھی اگر تم نے معذب قوم کے علاقے میں دم لے لیا تو بعید نہیں کہ تمہیں بھی اس ہلاکت کی بارش سے کوئی گزند پہنچ جائے (تفہیم القرآن) روایات میں آتا ہے کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کو معذب قوموں کی بستیوں پر سے گزرنے کا اتفاق پیش آتا تو آپ ﷺ وہاں سے تیزی سے گزر جاتے اور دوسروں کو بھی اسی کی ہدایت فرماتے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 15:62

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو اُس نے کہا "آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں"

[قَالَ : تو (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] [ انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ : ایک اجنبی قوم ہو ]
Ayah 15:63

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

اُنہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ بَلْ؛بلکہ ] [ جِئْنٰكَ : ہم آئے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [ بِمَا؛اس کے ساتھ ] [ كَانوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ : جس میں یہ شک کرتے تھے ]
Ayah 15:64

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں

[وَاَتَيْنٰكَ : اور ہم پہنچے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَصٰدِقُوْنَ : یقینا سچ کہنے والے ہیں ]
Ayah 15:65

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے"

[فَاَسْرِ : تو آپ (علیہ السلام) لے کر نکلیں ] [ بِاَهْلِكَ : اپنے گھر والوں کو ] [ بِقِطْعٍ : ایک حصہ میں ] [ مِّنَ الَّيْلِ : رات میں سے ] [ وَاتَّبِعْ : اور آپ (علیہ السلام) پیچھے چلیں ] [ اَدْبَارَهُمْ : ان کی پیٹھوں کے ] [ وَلَا يَلْتَفِتْ : اور چاہیے کہ مڑ کر نہ دیکھے ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ] [ وَّامْضُوْا : اور تم لوگ گزر جائو ] [ حَيْثُ : جہاں سے ] [ تُؤْمَرُوْنَ : تمہیں حکم دیا جاتا ہے ]
Ayah 15:66

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے اِن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی

[وَقَضَيْنَآ : اور ہم نے فیصلہ کیا ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [ ذٰلِكَ : الْاَمْرَاس بات کا ] [ ان : کہ ] [ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ : ان لوگوں کی جڑ ] [ مَقْطُوْعٌ: کاٹی جانے والی ہے ] [ مُّصْبِحِيْنَ : صبح کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 15:67

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے

[وَجَاۗءَ : اور آئے ] [ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ : شہر کے لوگ ] [ يَسْـتَبْشِرُوْنَ : خوشی مناتے ہوئے ]
Ayah 15:68

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوطؑ نے کہا "بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو

[قَالَ : (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] [ ان : بیشک ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ لوگ ] [ ضَيْفِيْ : میرے مہمان ہیں ] [ فَلَا تَفْضَحُوْنِ : تو تم لوگ خوارمت کرو مجھ کو ] ض ح [فَضْحًا : (ف) کسی کو ذلیل و خوار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 68]
Ayah 15:69

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو، مجھے رسوا نہ کرو"

[وَاتَّقُوا : اور ڈرو ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَلَا تُخْــزُوْنِ : اور رسوا مت کرو مجھ کو ]
Ayah 15:70

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے "کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کر چکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکے دار نہ بنو؟"

[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَوَ : تو کیا ] [لَمْ نَــنْهَكَ : ہم نے منع نہیں کیا تھا آپ (علیہ السلام) کو ] [ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہان والوں (کی حمایت) سے ]
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

لوطؑ نے عاجز ہو کر کہا "اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں!"

[قَالَ : (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [ بَنٰتِيْٓ: میری بیٹیاں ہیں ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ فٰعِلِيْنَ : کام کرنے والے ]
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

تیری جان کی قسم اے نبیؐ، اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے

[لَعَمْرُكَ : آپ ﷺ کی عمر کی قسم ] [ انهُمْ : بیشک یہ لوگ ] [ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ : یقینا اپنی مدہوشی میں ] [ يَعْمَهُوْنَ : بھٹکتے ہیں ]
Ayah 15:73

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

آخرکار پو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا

[فَاَخَذَتْهُمُ : پھر پکڑا ان کو ] [ الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [ مُشْرِقِيْنَ : اشراق ہوتے ہوئے ]
Ayah 15:74

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

اور ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی

[فَجَعَلْنَا : پھر کردیا ہم نے ] [ عَالِيَهَا : اس کے بلند ہونے والے کو ] [ سَافِلَهَا : اس کا نیچے ہونے والا ] [ وَاَمْطَرْنَا : اور برسائے ہم نے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ حِجَارَةً : کچھ پتھر ] [ مِّنْ سِجِّيْلٍ : سخت مٹی میں سے ]
Ayah 15:75

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں

[ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِلْمُتَوَسِّمِيْنَ : صاحب فراست لوگوں کے لئے ] و س م [وَسْمًا : (ض) کسی چیز پر نشان لگانا۔ داغ دینا۔ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ (ہم داغ دیں گے اس کو ناک پر) 68:16] [تَوَسُّمًا : (تفعل) نشان اور علامات دیکھ کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ صاحب فراست ہونا۔ مُتَوَسِّمٌ اسم الفاعل ہے۔ صاحب فراست۔ زیر مطالعہ آیت۔ 75 ۔ ]
Ayah 15:76

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے

[وَانهَا : اور بیشک وہ (بستی)] [ لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ : یقینا ایک سیدھے راستے کے ساتھ ہے ]
Ayah 15:77

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

اُس میں سامان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں

[ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ]
Ayah 15:78

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور ایکہ والے ظالم تھے

[وَان : اور بیشک ] [ كَان : تھے ] [ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ : گھنے درخت والے ] [ لَظٰلِمِيْنَ : یقینا ظلم کرنے والے ] ع ی ک [اَیْکًا : (ک) درختوں کا گھنا اور گنجان ہونا۔] [ اَیْکَۃٌ صفت ہے۔ گھنا درخت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔ ]
Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں

[فَانتَقَمْنَا : پھر انتقام لیا ہم نے ] [ مِنْهُمْ ۘ: ان سے ] [ وَانهُمَا : اور بیشک وہ دونوں (بستیاں)] [ لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ : ایک واضح راستہ کے ساتھ ہیں ]
Ayah 15:80

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

حجر کے لوگ بھی رسولوں کی تکذیب کر چکے ہیں

[وَلَقَدْ كَذَّبَ : اور یقینا جھٹلا چکے ہیں ] [ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ : حجر والے ] [ الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کو ] نوٹ۔ 2: حجر قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہ راہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انھوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش ونگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں ۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی ہوئی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)