Ayah 17:41[وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا : اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے (مضامین کو)] فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں ] [لِيَذَّكَّرُوْا : تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں ] [وَمَا يَزِيْدُهُمْ : اور وہ (یعنی قرآن) زیادہ نہیں کرتا ان کو ] [اِلَّا : مگر ] [نُفُوْرًا : بیزاریوں میں ]
Ayah 17:42[قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [لَوْ : اگر ] [كَان : ہوتے ] [مَعَهٗٓ: اس کے ساتھ ] [اٰلِـهَةٌ: کچھ (دوسرے) الٰہ ] [كَمَا : جیسے کہ ] [يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ] [اِذًا : تب تو ] [لَّابْتَغَوْا : وہ (دوسرے الٰہ) ضرور تلاش کرتے ] [اِلٰى ذِي الْعَرْشِ : عرش والے کی طرف ] [سَبِيْلًا : کوئی راستہ ]
Ayah 17:43[سُبْحٰنَهٗ : پاکیزگی اس کی ہے ] [وَتَعٰلٰى: اور وہ بلند ہوا ] [عَمَا : اس سے جو ] [يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ] [عُلُوًّا كَبِيْرًا : جیسا بڑے بلند ہونے کا حق ہے ]
Ayah 17:44[تُـسَبِحُ : تسبیح کرتے ہیں ] [لَهُ : اس کی ] [السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ : سات آسمان ] [وَالْاَرْضُ : اور زمین ] [وَمَنْ : اور وہ جو ] [فِيْ هِنَّ : ان میں ہیں ] [وَان (رح) : اور نہیں ہے ] [مِّنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [يُسَبِحُ : وہ تسبیح کرتی ہے ] [بِحَمْدِهٖ : اس کی حمد کے ساتھ ] [وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [لَّا تَفْقَهُوْنَ : تم لوگ سمجھتے نہیں ہو ] [تَسْبِيْحَهُمْ : ان کی تسبیح کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [حَلِــيْمًا : بردبار ] [غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]
نوٹ۔ 1: فرشتوں، انسانوں اور جنوں کے علاوہ جو باقی چیزیں ہیں ان کی تسبیح کا کیا مطلب ہے ؟ بعض علماء نے فرمایا کہ ان کی تسبیح سے مراد تسبیح حال ہے۔ یعنی ہر چیز کا مجموعی حال بتارہا ہے کہ وہ اپنے وجود میں مستقل اور دائمی نہیں ہے بلکہ وہ کسی بڑی قدرت کے تابع چل رہا ہے۔ یہی شہادت حال اس کی تسبیح ہے۔ (اس میں اب یہ اضافہ بھی پڑھنے اور سننے میں آتا ہے کہ ہر چیز اپنے وجود سے گواہی دے رہی ہے کہ ان کا خالق ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ یہ ان کی تسبیح ہے۔ مرتب) مگر دوسرے اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ تسبیح اختیاری تو صرف فرشتوں اور مومن جن و انس کے لئے مخصوص ہے۔ جبکہ تکوینی طور پر کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ کا تسبیح خواں ہے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، اس پر دلالت کرتا ہے کہ ذرّہ ذرّہ کی تسبیح کوئی ایسی چیز ہے جس کو عام انسان سمجھ نہیں سکتے۔ جبکہ تسبیح حالی کو تو اہل عقل و فہم سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ تسبیح صرف حالی نہیں بلکہ حقیقی بھی ہے مگر ہمارے فہم و ادراک سے بالا تر ہے۔ امام قرطبی نے اسی کو راجح قرار دیا ہے اور اس پر قرآن و سنت کے بہت سے دلائل پیش کئے ہیں۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 17:45[وَاِذَا : اور جب بھی ] [قَرَاْتَ : آپ ﷺ پڑھتے ہیں ] [الْقُرْاٰنَ : قرآن ] [جَعَلْنَا : تو ہم بنا دیتے ہیں ] [بَيْنَكَ : آپ ﷺ کے ] [وَبَيْنَ الَّذِينَ : اور ان کے درمیان جو ] [لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] [بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [حِجَابًا مَّسْتُوْرًا : ایک چھپایا ہوا پردہ ]
س ت ر
[سَتْرًا : (ن۔ ض) ] کسی چیز کو ڈھانکنا۔ چھپانا۔
سِتْرٌ اسم ذات ہے۔ ہر وہ چیز جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ اُوٹ۔ آڑ۔ لَمْ نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا (ہم نے نہیں بنایا ان کے لئے اس سے کوئی آڑ) 18:90 ۔
مَسْتُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ ڈھانکا ہوا۔ چھپایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔
(استفعال) اِسْتِتَارًا ڈھکنا۔ چھپنا۔ پردہ کرنا۔ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ (اور تم لوگ پردہ نہیں کرتے تھے) 41:22 ۔
Ayah 17:46[وَّجَعَلْنَا : اور ہم ڈال دیتے ہیں ] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [اَكِنَّةً : کچھ غلاف ] [ان : کہ (کہیں)] [يَّفْقَهُوْهُ : وہ لوگ سمجھ لیں اس کو ] [وَفِيْٓ اٰذَانهِمْ : اور ان کے کانوں میں ] [وَقْرًا : ایک بوجھ ] [وَاِذَا : اور جب بھی ] [ذَكَرْتَ : آپ ﷺ ذکر کرتے ہیں ] [رَبَّكَ : اپنے رب کا ] [فِي الْقُرْاٰنِ : قرآن میں ] [وَحْدَهٗ : اس کے واحد ہونے کا ] [وَلَوْا : تو وہ پھیر دیتے ہیں (خود کو)] [عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ : اپنی پیٹھوں پر ] [نُفُوْرًا : بیزاریاں کرتے ہوئے ]
Ayah 17:47[نَحْنُ : ہم ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جانتے ہیں ] [بِمَا : اس کو ] [يَسْتمعُوْنَ : یہ لوگ غور سے سنتے ہیں ] [بِهٖٓ: جس کے سبب سے ] [اِذْ : جب ] [يَسْتمعُوْنَ : یہ لوگ کان دھرتے ہیں ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [وَاِذْ : اور جب ] [هُمْ : یہ لوگ ] [نَجوٰٓى: سرگوشی کرتے ہیں ] [اِذْ يَقُوْلُ : جب کہتے ہیں ] [الظّٰلِمُوْنَ : یہ ظالم لوگ ] [ان : نہیں ] [تَتَّبِعُوْنَ : پیروی کرتے تم لوگ ] [اِلَّا : مگر ] [رَجُلًا مَّسْحُوْرًا : ایک جادو کئے ہوئے شخص کی ]
Ayah 17:48[انظُرْ : آپ ﷺ دیکھیں ] [كَيْفَ : کیسے ] [ضَرَبُوْا : انھوں نے بیان کیں ] [لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [الْاَمْثَالَ : مثالیں ] [فَضَلُّوْا : نتیجتاً وہ گمراہ ہوئے ] [فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : پس وہ استطاعت نہیں رکھتے ] [سَبِيْلًا : کسی راستے کی ]
Ayah 17:49[وَقَالُوْٓا : اور انھوں نے کہا ] [ءَ : کیا ] [اِذَا : جب ] [كُنَا : ہم ہوں گے ] [عِظَامًا : ہڈیاں ] [وَّرُفَاتًا : اور چورہ ] [ءَ : کیا ] [انا : ہم ] [لَمَبْعُوْثُوْنَ : ضرور اٹھائے جانے والے ہیں ] [خَلْقًا جَدِيْدًا : ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے ]
رف ت
[رَفْتًا : (ن) ] کسی چیز کو توڑنا۔ کوٹنا۔
رُفَاتٌ چورہ۔ ریزہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49 ۔
ج د د
[جَدَّنً : (ض) ] کسی چیز کا نیا ہونا۔
جَدًّا کسی چیز کو کاٹنا۔ راستہ طے کرنا۔
جَرِیْدٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نیا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49 ۔
جُدَّۃٌ ج جُدَدٌ۔ طریقہ۔ راستہ۔ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْض (اور پہاڑوں میں سے سفید راستے ہیں) 35:27 ۔
[جَدًّا : (س) ] بزرگی اور عظمت والا ہونا۔
جَدٌّ اسم ذات بھی ہے۔ عظمت۔ بزرگی۔ وَ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا (اور یہ کہ بلند ہوئی ہمارے رب کی عظمت) 72:3 ۔
Ayah 17:50[قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [كُوْنُوْا : تم لوگ ہو جائو ] [حِجَارَةً : کوئی پتھر ] [اَوْ : یا ] [حَدِيْدًا : کوئی لوہا ]
Ayah 17:51[اَوْ : یا ] [خَلْقًا : کوئی مخلوق ] [مِّمَا : اس میں سے جو ] [يَكْبُرُ : دشوار ہوتی ہے ] [فِيْ صُدُوْرِكُمْ : تمہارے سینوں میں (یعنی تمہاری سوچ میں، پھر بھی اٹھائے جائو گے)] [فَسَيَقُوْلُوْنَ : پھر وہ کہیں گے ] [مَنْ : کون ] [يُّعِيْدُنَا : لوٹائے گا ہم کو ] [قُلِ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [الَّذِي : وہ جس نے ] [فَطَرَكُمْ : وجود بخشا تم کو ] [اَوَّلَ مَرَّةٍ : پہلی مرتبہ ] [فَسَيُنْغِضُوْنَ : پھر وہ لوگ لٹکائیں گے ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [رُءُوْسَهُمْ : اپنے سروں کو ] [وَيَقُوْلُوْنَ : اور کہیں گے ] [مَتٰى: کب ] [هُوَ : وہ ہے (یعنی ہوگا)] [قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [عَسٰٓي : ہوسکتا ہے ] [ان : کہ ] [يَكُوْنَ : وہ ہو ] [قَرِيْبًا : قریب ]
ن غ ض
[نَغْضًا : (ن۔ ض) ] کانپنا۔ ہلنا۔
(افعال) اِنْغَاضًا تعجب یا مسخری میں کوئی عضو ہلانا۔ جیسے ہاتھ نچانا۔ سر مٹکانا۔ وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 51
Ayah 17:52[يَوْمَ : جس دن ] [يَدْعُوْكُمْ : وہ پکارے گا تم لوگوں کو ] [فَتَسْتَجِيْبُوْنَ : پھر تم لوگ جواب دو گے ] [بِحَمْدِهٖ : اس کی حمد کے ساتھ ] [وَتَظُنُّوْنَ : اور گمان کرو گے (کہ)] [ان : نہیں ] [لَّبِثْتم : ٹھہرے تم ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ)]
Ayah 17:53[وَقُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [لِعِبَادِيْ : میرے بندوں سے (کہ)] [يَـقُوْلُوا : وہ لوگ کہیں ] [الَّتِيْ : وہ جو کہ ] [ھِيَ : وہ ہی ] [اَحْسَنُ : سب سے اچھا ہے ] [ان : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [يَنْزَغُ : ناچاقی ڈالتا ہے ] [بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ان : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [كَان : ہے ] [لِلْانسَان : انسان کے لئے ] [عَدُوًّا مُّبِيْنًا : ایک کھلا دشمن ]
Ayah 17:54[رَبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِكُمْ : تم لوگوں کو ] [ان : اگر ] [يَّشَاْ : وہ چاہے گا ] [يَرْحَمْكُمْ : تو وہ رحم کرے گا تم لوگوں پر ] [اَوْ : یا ] [ان : اگر ] [يَّشَاْ : وہ چاہے گا ] [يُعَذِّبْكُمْ : تو وہ عذاب دے گا تم لوگوں کو ] [وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [وَكِيْلًا : کوئی نگہبان (بنا کر)]
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 54 میں دعوت کے معاملے میں مومنین اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد واضح فرما دی۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ کون رحمت کا مستحق ہے اور وہ ہدایت پا کر رحمت کا مستحق ہوگا اور کون عذاب کا مستحق ہے اور وہ گمراہی پر جمے رہ کر عذاب کا مستحق ٹھہرے گا۔ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ سب کو مومن بنادیں۔ ان پر ذمہ داری صرف حق پہنچا دینے کی ہے۔ ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے۔ (تدبر قرآن)
اس میں یہ بھی ہدایت ہے کہ اہل ایمان کی زبان پر کبھی اپنے دعوے نہیں آنے چائیں کہ ہم جنتی ہیں اور فلاں شخص یا گروہ دوزخی ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی سب انسانوں کے ظاہر و باطن اور ان کے حال و مستقبل سے واقف ہے۔ اسی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس پر رحمت فرمائے اور کسے عذاب دے۔ انسان اصولی طور پر تو یہ کہنے کا مجاز ہے کہ کتاب اللہ کی رو سے کس قسم کے انسان رحمت کے مستحق ہیں اور کس قسم کے انسان عذاب کے مستحق ہیں مگر یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ فلاں شخص کو عذاب دیا جائے گا اور فلاں شخص کو بخشا جائے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 17:55[وَرَبُّكَ : اور آپ ﷺ کا رب ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِمَنْ : اس کو جو ] [فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین میں ہے ] [وَلَقَدْ فَضَّلْنَا : اور بیشک ہم نے فضیلت دی ہے ] [بَعْضَ النَّبِيّٖنَ : نبیوں کے بعض کو ] [عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [وَّاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی ] [دَاوٗدَ : دائود (علیہ السلام) کو ] [زَبُوْرًا : زبور ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 55 کا مطلب ہے کہ زمین و آسمان کے تمام انسان، جنات اور فرشتوں کا اسے علم ہے۔ ان کے مراتب کا بھی اسے علم ہے۔ ایک کو ایک پر فضیلت ہے۔ نبیوں میں بھی درجے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبیوں میں فضیلتیں نہ قائم کیا کرو۔ اس سے مطلب تعصب اور نفس پر کی ہے اپنے طور پر فضیلت قائم کرتا ہے، نہ یہ کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ فضیلت سے بھی انکار۔ جو فضیلت جس نبی کی از روئے دلیل ثابت ہو اس کا ماننا واجب ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 17:56[قُلِ : آپ ﷺ کہئے ] [ادْعُوا : تم لوگ پکارو ] [الَّذِينَ : ان کو جن کا ] [زَعَمْتم : تمہیں زعم ہے ] [مِّنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [فَلَا يَمْلِكُوْنَ : تو وہ لوگ اختیار نہیں رکھتے ] [كَشْفَ الضُّرِّ : تکلیف کو کھولنے کا ] [عَنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [وَلَا تَحْوِيْلًا : اور نہ ہی بدلنے کا ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 56 سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیار حاصل نہیں ہے۔ نہ کوئی دوسرا کسی مصیبت کو ٹال سکتا ہے، نہ کسی بری حالت کو اچھی حالت سے بدل سکتا ہے۔ اس طرح کا اعتقاد خدا کے سوا جس ہستی کے بارے میں رکھا جائے، وہ ایک مشرکانہ عقیدہ ہے۔ آیت۔ 57 کے الفاظ خود گواہی دے رہے ہیں کہ مشرکین کے جن معبودوں اور فریاد رسوں کا یہاں ذکر ہے ان سے مراد پتھر کے بت نہیں ہیں، بلکہ یا تو فرشتے ہیں یا گزرے ہوئے زمانے کے برگزیدہ انسان ہیں۔ مطلب صاف صاف یہ ہے کہ انبیاء ہوں یا اولیاء یا فرشتے، کسی کو بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ تمہاری دعائیں سنے اور تمہاری مدد کو پہنچے۔ تم حاجت روائی کے لئے ان کو وسیلہ بنا رہے ہو، اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور قرب حاصل کرنے کے وسائل ڈھونڈ رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 17:57[اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [الَّذِينَ : جن کو ] [يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں ] [يَبْتَغُوْنَ : وہ لوگ (تو خود) تلاش کرتے ہیں ] [اِلٰى رَبِهِمُ : اپنے رب کی طرف ] [الْوَسِـيْلَةَ : قربت کو ] [اَيُّهُمْ : (کہ) ان کا کون ] [اَقْرَبُ : زیادہ قریب (ہوتا) ہے ] [وَيَرْجونَ : اور وہ لوگ امید رکھتے ہیں ] [رَحْمَتَهٗ : اس کی رحمت کی ] [وَيَخَافُوْنَ : اور وہ خوف کرتے ہیں ] [عَذَابَهٗ : اس کے عذاب کا ] [ان : بیشک ] [عَذَابَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کا عذاب ] [كَان : ہے ] [مَحْذُوْرًا : کہ جس سے بچا جائے ]
Ayah 17:58[وَان : اور نہیں ہے ] [مِّنْ قَرْيَةٍ : کوئی بھی بستی ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [نَحْنُ : ہم ] [مُهْلِكُوْهَا : ہلاک کرنے والے ہیں اس کو ] [قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن سے پہلے ] [اَوْ : یا ] [مُعَذِّبُوْهَا : عذاب دینے والے ہیں اس کو ] [عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک سخت عذاب ] [كَان : ہے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [فِي الْكِتٰبِ : کتاب میں ] [مَسْطُوْرًا : لکھا ہوا ]
Ayah 17:59[وَمَا مَنَعَنَآ : اور نہیں روکا ہم کو ] [ان : کہ ] [نُّرْسِلَ : ہم بھیجیں (ان رسول ﷺ کو)] [بِالْاٰيٰتِ : نشانیوں (یعنی معجزوں) کے ساتھ ] [اِلَّآ : مگر (اس لئے)] [ان : کہ ] [كَذَّبَ : جھٹلایا ] [بِهَا : ان کو ] [الْاَوَّلُوْنَ : پہلوں نے ] [وَاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی ] [ثَمُوْدَ : ثمود کو ] [النَاقَةَ : اونٹنی ] [مُبْصِرَةً : ایک بینا کرنے والی (نشانی) ہوتے ہوئے ] [فَظَلَمُوْا : پھر انھوں نے ظلم کیا (اپنے آپ پر)] [بِهَا : اس (اونٹنی) کے سبب سے ] [وَمَا نُرْسِلُ : اور ہم نہیں بھیجتے (رسولوں کو)] [بِالْاٰيٰتِ : نشانیوں کے ساتھ ] [اِلَّا : مگر ] [تَخْوِيْفًا : ڈرانے کو ]
ترکیب : (آیت۔ 59) ارسل کا مفعول بنفسہ آتا ہے۔ اَلْاٰیٰتِ پر باکا صلہ بتارہا ہے کہ نُرْسِلَ کا مفعول محذوف ہے جو کہ الرَّسُوْلَ ہوسکتا ہے۔ مُبْصِرَۃً صفت ہے، اس کا موصوف اٰیَۃً محذوف ہے۔ ظَلَمَ کا مفعول بھی بنفسہ آتا ہے۔ ھَا کی ضمیر پر با کا صلہ بتارہا ہے کہ فَظَلَمُوْا کا مفعول محذوف ہے جو کہ اَنْفُسَھُمْ ہوسکتا ہے۔
نوٹ۔ 1: ہر بستی کے ہلاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بقائے دوام کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہر بستی کو یا تو طبعی موت مرنا ہے یا خدا کے عذاب سے ہلاک ہونا ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 2: مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ ﷺ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لائیں تو اس صفا کے پہاڑ کو سونے کا کردیں۔ ہم آپ ﷺ کی سچائی کے قائل ہوجائیں گے۔ آپ ﷺ پر وحی آئی کہ اگر آپ ﷺ کی بھی یہی خواہش ہو تو میں اس پہاڑ کو ابھی سونے کا بنا دیتا ہوں۔ لیکن اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو اب انہیں مہلت نہیں ملے گی۔ فی الفور عذاب آجائے گا اور یہ تباہ کردیئے جائیں گے اور اگر آپ ﷺ کو انھیں سونپنے کا موقع دینا منظور ہے تو میں ایسا نہ کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا خدایا میں انھیں باقی رکھنے میں ہی خوش ہوں۔ آیت۔ 59 ۔ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن کثیر (رح) )
Ayah 17:60[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لَكَ : آپ ﷺ سے ] [ان : (کہ) بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [اَحَاطَ : گھیرے میں لیا ] [بِالنَاسِ : لوگوں کو ] [وَمَا جَعَلْنَا : اور ہم نے نہیں بنایا ] [الرُّءْيَا الَّتِيْٓ: اس خواب کو جو ] [اَرَيْنٰكَ : ہم نے دکھایا آپ ﷺ کو ] [اِلَّا : مگر ] [فِتْنَةً : ایک آزمائش ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ : اور لعنت کئے ہوئے درخت کو (بھی)] [فِي الْقُرْاٰنِ : جو قرآن میں ہے ] [وَنُخَوِّفُهُمْ : اور ہم خوف دلاتے ہیں ان کو ] [فَمَا يَزِيْدُهُمْ : پھر وہ زیادہ نہیں کرتا ان کو ] [اِلَّا : مگر ] [طُغْيَانا كَبِيْرًا : ایک بڑی سرکشی ]
Ayah 17:61[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو انھوں نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [قَالَ : اس نے کہا ] [ءَ : کیا ] [اَسْجُدُ : میں سجدہ کروں ] [لِمَنْ : اس کو جسے ] [خَلَقْتَ : تو نے پیدا کیا ] [طِيْنًا : مٹی سے ]
(آیت۔ 61) ۔ جَعَلْنَا کا مفعول اوّل اَلرُّئْ یَا ہے جبکہ اَلشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ اس کا مفعول ثانی ہے۔ سادہ جملہ اس طرح ہوتا۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰکَ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ ۔
نوٹ۔ 3: لفظ فتنہ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بی بی عائشہ ؓ ، حضرت معاویہ ؓ ، حسن (رح) اور مجاہد (رح) وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جگہ (آیت۔ 61) فتنہ سے مراد فتنۂ ارتداد لیا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر جانے اور صبح سے پہلے واپس آنے کا ذکر کیا تو کچھ نو مسلم لوگ، جن میں ایمان راسخ نہیں ہوا تھا، اس بات کی تکذیب کر کے مرتد ہوگئے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ لفظ رؤیا عربی زبان میں اگرچہ خواب کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن اس جگہ اس سے مراد خواب نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کے مرتد ہوجانے کی کوئی وجہ نہیں تھی کیونکہ خواب کو ہر شخص ایسے دیکھ سکتا ہے۔ بلکہ اس جگہ رؤیا سے مراد ایک واقعہ کو بحالت بیداری دکھانا ہے۔ (معارف القرآن)
لغت کٹے ہوئے درخت سے مراد زقوم ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ دوزخیوں کو زقوم کا درخت کھلایا جائے گا اور آپ ﷺ نے اسے دیکھا ہے (شب معراج میں) تو کافروں نے اسے سچ نہ مانا اور مذاق اڑایا (کہ دوزخ میں اتنی آگ ہوگی تو وہاں درخت کیسے اگے کا) ۔ (ابن کثیر (رح) )
Ayah 17:62[قَالَ : اس نے کہا ] [اَرَءَيْتَكَ : بھلا تو دیکھ تو سہی ] [هٰذَا الَّذِي : یہ وہ ہے جس کو ] [كَرَّمْتَ : تو نے معزز کیا ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [اَخَّرْتَنِ : تو نے مہلت دی مجھ کو ] [اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن تک ] [لَاَحْتَنِكَنَّ : تو میں لازماً قابو پالوں گا ] [ذُرِّيَّتَهٗٓ: اس کی اولاد پر ] [اِلَّا : سوائے ] [قَلِيْلًا : تھوڑے سے (ان میں سے)]
ح ن ک
[حَنْکًا : (ن۔ ض) ] (1) کسی چیز کو چبا کر نرم کرنا۔ (2) گھوڑے کے منھ میں لگام دے کر اسے قابو میں کرنا۔
(افتعال) اِحْتِنَاکًا (1) اہتمام سے چبا کر چٹ کر جانا جیسے ٹڈی دل کاشت کو کھا کر صاف کردیتا ہے۔ (2) کسی پر غالب ہونا۔ پوری طرح قابو پانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 62 ۔
ترکیب : (آیت۔ 62) اَرَئَ یْتَکَ میں ضمیر فدک، ضمیر مفعولی نہیں ہے بلکہ ضمیر زائدہ ہے اور اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ یہ پورا افقرہ عربی محاورہ ہے جس کے معنی ہیں ” بھلا دیکھ تو سہی۔ “ قَلِیْلًا کے آگے مِنْھُمْ محذوف ہے۔ (آیت۔ 63) ۔ اِذْھَبْ کے آگے انت مؤخر محذوف ہے۔
Ayah 17:63[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [اذْهَبْ : دفع ہوجا (تو مہلت دیا ہوا ہے)] [فَمَنْ : پس جو ] [تَبِعَكَ : پیروی کرے گا تیری ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [فَان : تو یقینا ] [جَهَنَّمَ : جہنم ] [جَزَاۗؤُكُمْ : تم لوگوں کا بدلہ ہے ] [جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا : مکمل بدلہ ہوتے ہوئے ]
ور
[وَفْرًا : (ض) ] زیادہ کرنا۔ پورا کرنا۔
مَوْفُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ پورا کیا ہوا۔ مکمل کیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63
Ayah 17:64[وَاسْتَفْزِزْ : اور تو ڈگمگا لے ] [مَنِ : اس کو جس پر ] [اسْـتَـطَعْتَ : تیرا بس چلے ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [بِصَوْتِكَ : اپنی آواز سے ] [وَاَجْلِبْ : اور تو چڑھا لا ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [بِخَيْلِكَ : اپنے سواروں کو ] [وَرَجِلِكَ : اور اپنے پیادوں کو ] [وَشَارِكْهُمْ : اور تو ساجھی بن ان کا ] [فِي الْاَمْوَالِ : مالوں میں ] [وَالْاَوْلَادِ : اور اولاد میں ] [وَ : اور ] [عِدْ : تو وعدہ دے ] [هُمْ : ان کو ] [وَمَا يَعِدُ : اور وعدہ نہیں دیتا ] [هُمُ : ان کو ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [اِلَّا : سوائے ] [غُرُوْرًا : فریبوں کے ]
ز ز
[فَزًّا : (ن) ہوش اڑا دینا۔ کسی کو گھبرا کر اس کی جگہ سے ہٹا دینا۔
(استفعال) اِسْتِفْزَازًا مضطرب کردینا۔ جگہ سے ہٹا دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 64
ص و ت
[صَوْتًا : (ن) ] آواز نکالنا
صَوْتٌ ج اَصْوَاتٌ۔ آواز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 64 ۔
ج ل ب
[جَلْبًا : (ن۔ ض) ] (1) ہانک کرلے آنا۔ (2) زخم اچھا ہوتے وقت اس پر جھلی کا پردہ آنا۔
جِلْبَابٌ ج جَلَابِیْبُ ۔ چادر۔ اوڑھنی۔ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ (وہ خواتین نزدیک کرلیں اپنے اوپر اپنی اوڑھنیوں میں سے) 33:59 ۔
(افعال) اِجْلَابًا ہانک کرلے آنا۔ چڑھا لانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 64 ۔
Ayah 17:65[ان : بیشک ] [عِبَادِيْ : میرے بندے (جو ہیں)] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [لَكَ : تیرے لئے ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [سُلْطٰنٌ: کوئی اختیار ] [وَكَفٰى: اور کافی ہے ] [بِرَبِكَ : آپ ﷺ کا رب ] [وَكِيْلًا : بطور کارساز کے ]
Ayah 17:66[رَبُّكُمُ : تمہارا رب ] [الَّذِي : وہ ہے جو ] [يُزْجِيْ : چلاتا ہے ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْفُلْكَ : کشتی کو ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [لِتَبْتَغُوْا : تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] [مِنْ فَضْلِهٖ : اس کے فضل میں سے ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [بِكُمْ : تم لوگوں پر ] [رَحِـيْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
Ayah 17:67[وَاِذَا : اور جب بھی ] [مَسَّكُمُ : چھوتی ہے تم لوگوں کو ] [الضُّرُّ : تکلیف (یعنی آفت)] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [ضَلَّ : تو گم ہوجاتے ہیں ] [مَنْ : وہ جن کو ] [تَدْعُوْنَ : تم لوگ پکارتے ہو ] [اِلَّآ : مگر ] [اِيَّاهُ : اس (اللہ) کو ہی (پکارتے ہو)] [فَلَمَا : پھر جب ] [نَجّٰىكُمْ : وہ نجات دیتا ہے تم کو ] [اِلَى الْبَرِّ : خشکی کی طرف ] [اَعْرَضْتم : تو تم لوگ بےرخی برتے ہو ] [وَكَان : اور ہے ] [الْانسَان : انسان ] [كَفُوْرًا : ہے انتہا ناشکری کرنے والا ]
Ayah 17:68[اَفَاَمِنْتم : تو کیا تم لوگ امن میں ہو ] [ان : (اس سے) کہ ] [يَّخْسِفَ : وہ دھنسا دے ] [بِكُمْ : تمہارے ساتھ ] [جانب الْبَرِّ : خشکی کے کنارے کو ] [اَوْ : یا ] [يُرْسِلَ : وہ بھیج دے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [حَاصِبًا : کنکریاں مارنے والی تند ہوا کو ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُوْا : تم لوگ نہیں پائو گے ] [لَكُمْ : اپنے لئے ] [وَكِيْلًا : کوئی کارساز ]
ح ص ب
[حَصْبًا : (ن۔ ض) ] کنکری سے مارنا۔ فرش بنانے کے لئے چھوٹے پتھر بچھانا۔
حَصَبٌ اسم ذات ہے۔ چھوٹے پتھر۔ ایندھن۔ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ (بیشک تم لوگ اور وہ جس کی تم لوگ پرستش کرتے ہو، اللہ کے علاوہ، (وہ سب) جہنم کا ایندھن ہیں) 21:98
حَاصِبٌ اسم الفاعل ہے۔ کنکری مارنے والا۔ پھر زیادہ تر کنکریاں اڑانے والی تند ہوا کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 68 ۔
Ayah 17:69[اَمْ : یا ] [اَمِنْتم : تم لوگ امن میں ہو ] [ان : (اس سے) کہ ] [يُّعِيْدَ : واپس لے جائے ] [كُمْ : تم کو ] [فِيْهِ : اسی (سمندر) میں ] [تَارَةً اُخْرٰى: دوسری مرتبہ ] [فَيُرْسِلَ : پھر وہ بھیجے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [قَاصِفًا : توڑنے والی شدید ہوا ] [مِّنَ الرِّيْحِ : ہوا میں سے ] [فَيُغْرِقَكُمْ : نتیجۃً وہ غرق کر دے تم کو ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَفَرْتم : تم نے ناشکری کی ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُوْا : تم لوگ نہیں پائو گے ] [لَكُمْ : اپنے لئے ] [عَلَيْنَا : ہمارے خلاف ] [بِهٖ : اس کے سبب سے ] [تَبِيْعًا : کوئی پیچھے لگنے والا ]
ت ء ر
تَارًا جھڑکنا۔ دھمکانا۔
تَارَۃٌ ایک مرتبہ۔ ایک دفعہ (کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا ہمزہ الف میں تبدیل ہوگیا ہے) زیر مطالعہ آیت۔ 69 ۔
ق ص
[قَصْفًا : (ض) ] کسی چیز کو توڑنا۔
قَاصِفٌ اسم الفاعل سے۔ توڑنے والا۔ پھر زیادہ تر درختوں اور عمارتوں کو توڑ دینے والی شدید ہوا کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 69 ۔
Ayah 17:70[وَلَقَدْ كَرَّمْنَا : اور بیشک ہم نے معزز کیا ہے ] [بَنِيْٓ اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کو ] [وَحَمَلْنٰهُمْ : اور ہم نے سواری دی ان کو ] [فِي الْبَرِّ : خشکی میں ] [وَالْبَحْرِ : اور سمندر میں ] [وَرَزَقْنٰهُمْ : اور ہم نے رزق دیا ان کو ] [مِّنَ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ (چیزوں) میں سے ] [وَفَضَّلْنٰهُمْ : اور ہم نے فضیلت دی ان کو ] [عَلٰي كَثِيْرٍ : اکثر پر ] [مِّمَنْ : ان میں سے جن کو ] [خَلَقْنَا : ہم نے پیدا کیا ] [تَفْضِيْلًا : جیسے فضیلت دیتے ہیں ]
Ayah 17:71[يَوْمَ : جس دن ] [نَدْعُوْا : ہم بلائیں گے ] [كُلَّ اناسٍۢ: ہر گروہ کو ] [بِاِمَامِهِمْ : ان کے ریکارڈ کے ساتھ ] [فَمَنْ : پس وہ جس کو ] [اُوْتِيَ : دی گئی ] [كِتٰبَهٗ : اس کی کتاب ] [بِيَمِيْنِهٖ : اس کے داہنے ہاتھ میں ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [يَقْرَءُوْنَ : پڑھیں گے ] [كِتٰبَهُمْ : اپنی کی کتاب ] [وَلَا يُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [فَتِيْلًا : کسی دھاگے برابر بھی ]
نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 2:78 کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ قرآن مجید میں لفظ ” امام “ تین معانی میں استعمال ہوا ہے۔ (1) راستہ، (2) ریکارڈ اور (3) پیشوا۔ ہم نے جو بھی دوچار تفاسیر دیکھی ہیں ان سب نے زیر مطالعہ آیت۔ 71 میں بِاِمَامِھِمْ کا ترجمہ کیا ہے۔ ” ان کے امام : سرداروں : پیشوائوں کے ساتھ۔ “ ابن کثیر کے مترجم نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ابن کثیر (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ امام سے مراد یہاں نبی ہیں۔ ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائے گی۔ ابن زید کہتے ہیں یہاں امام سے مراد کتاب خدا ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد ان کی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب خدا ہو یا نامۂ اعمال ہو۔ چناچہ ابن عباس ؓ اس سے اعمال نامہ مراد لیتے ہیں۔ ابو العالیہ، حسن اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ تر ترجیح والا قول ہے۔ ابن کثیر (رح) کی اس تفسیر کی بنیاد پر ہم نے بِاِمَامِھِمْ کا ترجمہ کیا ہے ” ان کے ریکارڈ کے ساتھ۔ “
نوٹ۔ 2: مخالفین نے رسول اللہ ﷺ کے آگے یہ تجویز پیش کی کہ اگر فلاں فلاں احکام میں ترمیم کردیں تو ہم یہ دعوت قبول کرلیتے ہیں پھر ہم اور آپ ﷺ گہرے دوست بن کر رہیں گے۔ آپ ﷺ کے لئے یہ بڑا ہی سخت مرحلہ تھا۔ ایک طرف اللہ کے احکام تھے جن میں ایک نطقہ کے برابر بھی آپ ﷺ ترمیم کرنے کے مجاز نہ تھے۔ دوسری طرف آپ ﷺ اپنی قوم کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے تھے اور کسی ایسے موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تھے جس سے قوم کے ایمان کی راہ پر پڑنے کی امید بندھتی ہو۔ اس صورتحال نے آپ ﷺ کو تذبذب میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس نازک مرحلے میں اپنے پیغمبر کی دستگیری فرمائی اور آپ ﷺ کو تذبذب سے نکال کر صحیح شاہراہ پر کھڑا کردیا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی کے معصوم ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس کو کوئی تذبذب کی حالت پیش نہیں آتی یا کوئی غلط میلان اس کے دل میں فطور نہیں کرتا بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اوّل تو اس کا میلان کبھی جانبِ نفس نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ خیر کی جانب ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ جانبِ خیر میں بھی اگر وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتا نظر آتا ہے جو صحیح نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو بچا لیتا ہے اور صحیح سمت میں اس کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 17:72[وَمَنْ : اور وہ جو ] [كَان : تھا ] [فِيْ هٰذِهٖٓ: اس (دنیا) میں ] [اَعْمٰى: اندھا ] [فَهُوَ : تو وہ ] [فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں (بھی)] [اَعْمٰى: اندھا ہوگا ] [وَاَضَلُّ : اور (وہ) زیادہ گمراہ ہوگا ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستہ کے ]
Ayah 17:73[وَان : اور بیشک ] [كَادُوْا : وہ لوگ قریب تھے کہ ] [لَيَفْتِنُوْنَكَ : وہ ضرور پھسلا دیں آپ ﷺ کو ] [عَنِ الَّذِيٓ: اس سے جو ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [لِتَفْتَرِيَ : تاکہ آپ ﷺ گھڑیں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [غَيْرَهٗ : اس (وحی) کے علاوہ ] [وَاِذًا : اور تب تو ] [لَّاتَّخَذُوْكَ : وہ ضرور بنالیں گے آپ ﷺ کو ] [خَلِيْلًا : ایک قریبی دوست ]
Ayah 17:74[وَلَوْلَآ : اگر نہ ہوتا ] [ان : کہ ] [ثَبَّتْنٰكَ : ہم جما دیں آپ ﷺ کو ] [لَقَدْ كِدْتَّ : تو بیشک آپ ﷺ قریب ہوچکے تھے کہ ] [تَرْكَنُ : آپ ﷺ مائل ہوجائیں ] [اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًا : تھوڑا سا ]
Ayah 17:75[اِذًا : تب تو ] [لَّاَذَقْنٰكَ : ہم ضرور چکھاتے آپ ﷺ کو ] [ضِعْفَ الْحَيٰوةِ : زندگی (کے عذاب) کا دوگنا ] [وَضِعْفَ الْمَمَاتِ : اور موت (کے عذاب) کا دوگنا ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُ : آپ ﷺ نہ پاتے ] [لَكَ : اپنے لئے ] [عَلَيْنَا : ہمارے خلاف ] [نَصِيْرًا : کوئی مدد کرنے والا ]
Ayah 17:76[وَان : اور بیشک ] [كَادُوْا : وہ لوگ قریب تھے کہ ] [لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ : وہ ضرور اکھاڑ دیں آپ ﷺ کو ] [مِنَ الْاَرْضِ : اس زمین پر سے (یعنی مکہ سے)] [لِيُخْرِجوكَ : تاکہ وہ لوگ نکال دیں آپ ﷺ کو ] [مِنْهَا : اس (زمین) سے ] [وَاِذًا : اور تب تو ] [لَّا يَلْبَثُوْنَ : وہ لوگ نہ ٹھہرتے ] [خِلٰفَكَ : آپ ﷺ کے پیچھے ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلًا : تھوڑا سا ]
Ayah 17:77[سُنَّةَ مَنْ : (آپ ﷺ مستخضر رکھیں) ان کی سنت کو جن کو ] [قَدْ اَرْسَلْنَا : ہم بھیج چکے ہیں ] [قَبْلَكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [مِنْ رُّسُلِنَا : اپنے پیغمبروں میں سے ] [وَلَا تَجِدُ : اور آپ ﷺ نہیں پائیں گے ] [لِسُنَّتِنَا : ہمارے سنت کے لئے ] [تَحْوِيْلًا : کوئی تبدیلی کرنا ]
Ayah 17:78[اَقِمِ : آپ ﷺ قائم کریں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ : سورج کے ڈھلنے سے ] [اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ : رات کے تاریک ہونے تک ] [وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ : اور فجر کے قرآن کو (قائم کریں)] [ان : بیشک ] [قُرْاٰنَ الْفَجْرِ : فجر کا قرآن ] [كَان : ہے ] [مَشْهُوْدًا : موجود کیا ہوا ]
د ل ک
دَلْکًا ملنا۔ رگڑنا
دُلُوْکًا جھکنا۔ ڈھلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔
غ س ق
[غَسَقًا : (ض) ] تاریک ہونا۔ اندھیرا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔
غَاسِقٌ اسم الفاعل ہے۔ تاریک ہونے والا۔ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَ قَبَ (اور تاریک ہونے والے کے شر سے جب وہ گہرا ہو) 113:3
[غَسَقَانًا : (س) ] آنکھ میں آنسو ڈبڈبانا۔ زخم میں پیپ بھرنا۔
غَسَّاقٌ بار بار بھرنے والی یعنی بہنے والی پیپ۔ وَلَا شَرَابًا اِلَّا صَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا (اور نہ ہی پینے کی کوئی چیز سوائے گرم پانی کے اور پیپ کے) 78:24 ۔ 25
ترکیب : (آیت۔ 78) قرآن کی نصب بتارہی ہے کہ یہ اقِمْ پر عطف ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 78 میں مجملا یہ بتادیا گیا کہ پنج وقتہ نماز، جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی، اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔ حکم ہوا کہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے، اور باقی چار نمازیں زوال آفتاب کے بعد سے ظلمت شب تک پڑھی جائیں۔ پھر اس حکم کی تشریح کے لئے جبریل (علیہ السلام) بھیجے گئے جنھوں نے نماز کے ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبی ﷺ کو دی۔ چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے دو مرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی۔ پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ دراز نہ تھا۔ پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا۔ پھر مغرب کی نماز ٹھیک اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھا دی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ دوسرے دن انھوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا۔ اور عصر کی نماز اس وقت جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا اور مغرب کی نماز اس وقت جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزر جانے پر اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر۔ پھر جبریل (علیہ السلام) نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمد ( ﷺ) یہ ہی اوقات انبیاء کے نماز پڑھنے کے ہیں اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 17:79[وَمِنَ الَّيْلِ : اور رات میں سے ] [فَتَهَجَّدْ : پھر آپ ﷺ بیدار ہیں ] [بِهٖ : اس (قرآن) کے ساتھ ] [نَافِلَةً : اضافی ہوتے ہوئے ] [لَّكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [عَسٰٓي : ہوسکتا ہے ] [ان : کہ ] [يَّبْعَثَكَ : پہنچائے آپ ﷺ کو ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [مَقَامًا مَّحْمُوْدًا : مقام محمود تک ]
ھـ ج د
[ھُجُوْرًا : (ن) ] (1) نیند میں سونا۔ (2) نیند سے جاگنا۔
(تفعل) تَھَجُّدًا (1) بتکلف سونا۔ (2) بتکلف جاگنا۔ بیدار رہنا۔ زیر مطالعہ۔ آیت 79 ۔
(آیت۔ 79) فَتَھَجَّدْبِہٖ میں ہٖ کی ضمیر قرآن کے لئے ہے۔ مَقَامًا مَحْمُوْدًا ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
نوٹ۔ 2: مقام محمود تک پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو ایسے مرتبے پر پہنچا دے جہاں تم محمود خلائق ہو کر رہو۔ ہر طرف سے تم پر مدح و ستائش کی بارش ہو۔ آج تمہارے مخالفین نے تم کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹے الزامات کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے، مگر وہ وقت دور نہیں ہے جب دنیا تمہاری تعریفوں سے گونج اٹھے گی اور آخرت میں بھی تم ساری خلق کے ممدوح ہو گے۔ قیامت کے دن نبی ﷺ کا مقام شفاعت پر کھڑا ہونا بھی اسی مرتبۂ محمودیں کا ایک حصّہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 17:80[وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیے ] [رَّبِ : اے میرے رب ] [اَدْخِلْنِيْ : تو داخل کر مجھ کو ] [مُدْخَلَ صِدْقٍ : سچائی کا داخل کرنا ] [وَّاَخْرِجْنِيْ : اور تو نکال مجھ کو ] [مُخْــرَجَ صِدْقٍ : سچائی کا نکالنا ] [وَّاجْعَلْ : اور تو بنا ] [لِيْ : میرے لئے ] [مِنْ لَّدُنْكَ : اپنے پاس سے ] [سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا : ایک مددگار قوت ]
(آیت۔ 80) ۔ مادہ ” د خ ل “ سے باب افعال میں اِدْخَالًا کے علاوہ ایک مصدر مُدْخَلًا بھی آتا ہے۔ جبکہ باب افعال میں اس کا اسم المفعول بھی مُدْخَلٌ ہے جو کہ ظرف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے مُدْخَلَ صِدْقٍ کے دونوں طرح کے ترجمے درست ہوں گے۔ ہم مصدر کے لحاظ سے ترجمہ کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح مُخَرَجَ صِدْقٍ کا ترجمہ بھی مصدر کے لحاظ سے کریں گے۔