17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور اعلان کر دو کہ "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے"

[وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیے ] [جَاۗءَ : آیا ] [الْحَقُّ : حق ] [وَزَهَقَ : اور نابود ہوا ] [الْبَاطِلُ : باطل ] [ان : بیشک ] [الْبَاطِلَ : باطل ] [كَان : ہے ] [زَهُوْقًا : بالکل نابود ہونے والا ]
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

[وَنُنَزِّلُ : اور ہم اتارتے ہیں ] [مِنَ الْقُرْاٰنِ : قرآن میں سے ] [مَا : اس کو ] [هُوَ : جو ] [شِفَاۗءٌ: شفا ہے ] [وَّرَحْمَةٌ: اور رحمت ہے ] [لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ] [وَلَا يَزِيْدُ : اور وہ (یعنی قرآن) زیادہ نہیں کرتا ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کو ] [اِلَّا : مگر ] [خَسَارًا : بلحاظ خسارے کے ] (آیت۔ 82) ۔ وَلَا یَزِیْدُ میں شامل ھُوَ کی ضمیر فاعلی القرآن کے لئے ہے۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے

[وَاِذَآ : اور جب بھی ] [انعَمْنَا : ہم نعمت نچھاور کرتے ہیں ] [عَلَي الْانسَان : انسان پر ] [اَعْرَضَ : تو وہ منہ پھیر لیتا ہے ] [وَنَاٰ : اور موڑ لیتا ہے ] [بِجانبهٖ : اپنے پہلو کو ] [وَاِذَا : اور جب بھی ] [مَسَّهُ : چھوتی ہے اس کو ] [الشَّرُّ : تکلیف ] [كَان : تو وہ ہوتا ہے ] [يَـــــُٔوْسًا : انتہائی مایوس ]
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ "ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے"

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [كُلٌّ: سب (لوگ)] [يَّعْمَلُ : عمل کرتے ہیں ] [عَلٰي شَاكِلَتِهٖ : اپنی طبیعت پر ] [فَرَبُّكُمْ : تو تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے ] [بِمَنْ : اس کو ] [هُوَ : جو ] [اَهْدٰى: زیادہ ہدایت پر ہے ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستے کے ] ش ک ل (ن) شَکْلًا شکل و صورت میں مشابہت ہونا۔ ملتا جلتا ہونا۔ وَاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ (اور دوسرے اس کے ملتے جلتے سے کچھ جوڑے) 38:58 شَاکِلَۃٌ اسم الفاعل شاکل کا مؤنث ہے۔ مشابہہ ہونے والی۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں آدمی کی طبیعت و مزاج کیونکہ اس کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 84
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو "یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے"

[وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [عَنِ الرُّوْحِ : روح کے بارے میں ] [قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [الرُّوْحُ : روح ] [مِنْ اَمْرِ رَبِيْ : میرے رب کے حکم سے ہے ] [وَمَآ اُوْتِيْتم : اور تم لوگوں کو نہیں دیا گیا ] [مِّنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلًا : تھوڑا سا ] نوٹ۔ 1: روح کے متعلق جتنی بات کا بتانا ضروری تھا، اور جو لوگوں کی سمجھ میں آنے کے قابل ہے صرف وہ بتادی گئی اور روا کی مکمل حقیقت جس کا سوال تھا اس کو اس لئے نہیں بتایا کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اور ان کی کوئی ضرورت اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں تھی۔ اس علم کے ساتھ ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اٹکا ہوا نہیں ہے۔ اس لئے سوال کا یہ حصّہ فضول اور لایعنی قرار دے کر اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ پھر اگلی آیت میں یہ بھی بتادیا گیا کہ انسان کو جس قدر بھی علم ملا ہے وہ اس کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ اللہ چاہے تو اس کو بھی سلب کرسکتا ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ موجودہ علم پر اللہ کا شکر ادا کرے اور فضول و لایعنی تحقیقات میں وقت ضائع نہ کرے۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 17:86

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطا کیا ہے، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پاؤ گے جو اسے واپس دلا سکے

[وَلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [شِـئْنَا : ہم چاہتے ] [لَنَذْهَبَنَّ : تو ہم لازماً لے جاتے ] [بِالَّذِيٓ: اس کو جو ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُ : آپ ﷺ نہ پاتے ] [لَكَ : اپنے لئے ] [بِهٖ : اس کے سبب سے ] [عَلَيْنَا : ہمارے خلاف ] [وَكِيْلًا : کوئی کارساز ]
Ayah 17:87

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے

[اِلَّا : سوائے ] [رَحْمَةً : اس رحمت کے جو ] [مِّنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ہو ] [ان : بیشک ] [فَضْلَهٗ : اس کا فضل ] [كَان : ہے ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [كَبِيْرًا : بڑا ]
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَّىِٕنِ : بیشک اگر ] [اجْتمعَتِ : اکٹھا ہوجائیں ] [الْانسُ : تمام انسان ] [وَالْجِنُّ : اور تجن ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [يَّاْتُوْا : وہ لوگ لائیں ] [بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن کے مانند ] [لَا يَاْتُوْنَ : تو وہ نہ لاسکیں گے ] [بِمِثْلِهٖ : اس کے جیسا ] [وَلَوْ : اور اگر ] [كَان : ہوں ] [بَعْضُهُمْ : ان کے بعض ] [لِبَعْضٍ : بعض کے لئے ] [ظَهِيْرًا : مددگار ]
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر انکار ہی پر جمے رہے

[وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا : اور بیشک پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ہم نے ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں ] [مِنْ كُلِ مَثَلٍ : ہر ایک مثال سے ] [فَاَبٰٓى: تو انکار کیا ] [اَكْثَرُ النَاسِ : لوگوں کے اکثر نے (سب کا)] [اِلَّا : سوائے ] [كُفُوْرًا : ناشکری کرنے کے ]
Ayah 17:90

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا "ہم تیر ی بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے

[وَقَالُوْا : اور انھوں نے کہا ] [لَنْ نُّؤْمِنَ : ہم ہرگز نہیں مانیں گے ] [لَكَ : آپ ﷺ کی بات ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [تَفْجُرَ : آپ ﷺ پھاڑ کر بہا دیں ] [لَنَا : ہمارے لئے ] [مِنَ الْاَرْضِ : زمین سے ] [يَنْۢبُوْعًا : ایک چشمہ ] ن ب ع [نَبْعًا : (ن۔ س) ] پانی کا تھوڑا تھوڑا نکلنا۔ چشم جاری ہونا۔ بَنْبُوْعٌ ج یَنَابِیْعُ ۔ اسم ذات ہے۔ چشمہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 90 ۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَلَکَہٗ یَنَا بِیْعَ فِی الْاَرْضِ (کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے اتارا آسمان سے کچھ پانی پھر اس نے چلایا اس کو چشمے ہوتے ہوئے زمین میں) 39:21 ۔
Ayah 17:91

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے

[اَوْ : یا ] [تَكُوْنَ : (یہاں تک کہ) ہو ] [لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [جَنَّةٌ: ایک باغ ] [مِّنْ نَّخِيْلٍ : کھجوروں میں سے ] [وَّعِنَبٍ : اور انگور میں سے ] [فَتُفَجِّرَ : پھر (یہاں تک کہ) آپ ﷺ جاری کریں ] [الْانهٰرَ : نہریں ] [خِلٰلَهَا : ان کے درمیان سے ] [تَفْجِيْرًا : جیسے جاری کرتے ہیں ]
Ayah 17:92

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا تو آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے

[اَوْ : یا ] [تُسْقِطَ : (یہاں تک کہ) آپ ﷺ گرائیں ] [السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [كَمَا : جیسا کہ ] [زَعَمْتَ : آپ ﷺ نے جتایا ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [كِسَفًا : ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے ] [اَوْ : یا ] [تَاْتِيَ : (یہاں تک کہ) آپ ﷺ لائیں ] [بِاللّٰهِ : اللہ کو ] [وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ : اور فرشتوں کو ] [قَبِيْلًا : ایک جماعت ہوتے ہوئے ] ک س [کَسْفًا : (ض) ] (1) کپڑے کاٹنا۔ (2) اللہ تعالیٰ کا چاند یا سورج کو گرہن لگانا۔ کِسْفٌ ج کِسَفٌ کسی چیز کا ٹکڑا۔ وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَائِ سَاقِطًا (اور اگر وہ لوگ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا ) 52:44 ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 92
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں" اے محمدؐ، اِن سے کہو "پاک ہے میرا پروردگار! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟"

[اَوْ : یا ] [يَكُوْنَ : (یہاں تک کہ) ہو ] [لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [بَيْتٌ: ایک گھر ] [مِّنْ زُخْرُفٍ : سونے میں سے ] [اَوْ : یا ] [تَرْقٰى: (یہاں تک کہ) آپ ﷺ چڑھیں ] [فِي السَّمَاۗءِ : آسمان میں ] [وَلَنْ نُّؤْمِنَ : اور ہم ہرگز نہیں مانیں گے ] [لِرُقِيِّكَ : آپ ﷺ کے چڑھنے کو ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [تُنَزِّلَ : آپ ﷺ اتاریں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [كِتٰبًا : ایک ایسی کتاب ] [نَّقْرَؤُهٗ : ہم پڑھیں جس کو ] [قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [سُبْحَان : پاکیزگی ] [رَبِيْ : میرے رب کی ہے ] [هَلْ كُنْتُ : میں کیا ہوں ] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [بَشَرًا رَّسُوْلًا : ایک رسول بشر ] ر ق ی رُقِیَّمًا کسی چیز پر چڑھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 93 ۔ تَرْقُوَۃٌ ج تَرَاقِیُ ۔ ہنسلی کی ہڈی (کیونکہ سانس پھول کر ہنسلی تک چڑھتی ہے) کَلَّا اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ (ہرگز نہیں ! جب وہ یعنی جان پہنچے گی ہنسلیوں تک) 75:26 ۔ [رَقْیًا : (ض) ] نفع یا نقصان چڑھانے یعنی پہنچانے کے لئے جھاڑ پھونک کرنا۔ رَاقٍ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ (اور کہا جائے گا کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا) 75:27 (افتعال) اِرْتِقَائً اہتمام سے چڑھنا۔ فَلْیَرْ تَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ (تو انھیں چاہیے کہ وہ چڑھیں رسیوں میں) 38:10 ۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ "کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟"

[وَمَا مَنَعَ : اور نہیں روکا ] [النَاسَ : لوگوں کو ] [ان : کہ ] [يُّؤْمِنُوْٓا : وہ ایمان لائیں ] [اِذْ : جب ] [جَاۗءَ : آئی ] [هُمُ : ان کے پاس ] [الْهُدٰٓى: ہدایت ] [اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [قَالُوْٓا : انھوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [بَعَثَ : بھیجا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [بَشَرًا : ایک بشر کو ] [رَّسُوْلًا : بطور رسول کے ]
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَوْ : اگر ] [كَان : ہوتے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَلٰۗىِٕكَةٌ: فرشتے ] [يَّمْشُوْنَ : چلتے ہوئے ] [مُطْمَىِٕنِّيْنَ : مطمئن ہونے والے ] [لَنَزَّلْنَا : تو ہم ضرور اتارتے ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [مَلَكًا : ایک فرشتہ ] [رَّسُوْلًا : بطور رسول کے ] نوٹ۔ 1: مخالفین کے مطالبات کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تلقین فرمایا وہ قابل نظر اور مصلحین امت کے لئے ہمیشہ یاد رکھنے اور لائحہ عمل بنانے کی چیز ہے۔ ان کے مطالبات کے جواب میں نہ تو ان کی بےوقوفی اور مخالفانہ شرارت کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی فقرہ کسا گیا بلکہ نہایت سادہ الفاظ میں اصل حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ تم لوگ شاید یہ سمجھتے ہو کہ جو شخص اللہ کا رسول ہو کر آئے وہ سارے خدائی اختیارات کا مالک ہو۔ یہ خیال غلط ہے۔ رسول کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی رسالت کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے معجزات بھی بھیجتا ہے مگر وہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار سے ہوتا ہے۔ رسول کو خدائی اختیارات نہیں ملتے۔ وہ ایک انسان ہوتا ہے اور انسانی قوت و قدرت سے باہر نہیں ہوتا۔ بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کی امداد کے لئے اپنی قوت قاہرہ کو ظاہر فرما دے۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: ہر زمانے میں لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ بشر پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ اس لئے جب کوئی رسول آیا تو انھوں نے یہ دیکھ کر کہ کھاتا پیتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے، گوشت پوست کا بنا ہوا ہے، فیصلہ کردیا کہ یہ پیغمبر نہیں ہوسکتا کیونکہ بشر ہے۔ اور جب وہ گزر گیا تو کچھ مدت کے بعد اس کے عقیدت مندوں میں ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہوگئے جو کہنے لگے کہ وہ بشر نہیں تھا کیونکہ وہ پیغمبر تھا۔ چناچہ کسی نے اس کو خدا بنایا کسی نے اسے خدا کا بیٹا کہا اور کسی نے کہا کہ خدا اس میں حلول کر گیا تھا۔ غرض یہ کہ بشریت اور پیغمبری کا ایک ذات میں جمع ہونا ہمیشہ ایک معمہ ہی بنا رہا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [كَفٰى: کافی ہے ] [بِاللّٰهِ : اللہ ] [شَهِيْدًۢا : بطور گواہ کے ] [بَيْنِيْ : میرے درمیان ] [وَبَيْنَكُمْ : اور تمہارے درمیان ] [انهٗ : یقینا وہ ] [كَان : ہے ] [بِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے ] [خَبِيْرًۢا : باخبر رہنے والا ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ]
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اسکے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گونگے اور بہرے اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے

[وَمَنْ : اور جس کو ] [يَّهْدِ : ہدایت دیتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [فَهُوَ : تو وہ ہی ] [الْمُهْتَدِ : ہدایت پانے والا ہے ] [وَمَنْ : اور جس کو ] [يُّضْلِلْ : وہ گمراہ کرتا ہے ] [فَلَنْ تَجِدَ : تو آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [اَوْلِيَاۗءَ : کوئی کارساز ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [وَنَحْشُرُهُمْ : اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [عَلٰي وُجوهِهِمْ : ان کے چہروں پر (یعنی منہ کے بل)] [عُمْيًا : اندھے ہوتے ہوئے ] [وَّبُكْمًا : اور گونگے ہوتے ہوئے ] [وَّصُمًّا : اور بہرے ہوتے ہوئے ] [مَاوٰىهُمْ : ان کا ٹھکانہ ] [جَهَنَّمُ : جہنم ہے ] [كُلَمَا : جب کبھی ] [خَبَتْ : وہ ٹھنڈی ہوگی ] [زِدْنٰهُمْ : ہم زیادہ کریں گے ان کو ] [سَعِيْرًا : بھڑکتی آگ کے لحاظ سے ] ترکیب : (آیت۔ 97) وَ عَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ میں مَنْ شرطیہ ہے۔ اس لئے مضارع یَھْدِیْ مجزوم ہوا تو اس کی یا گرگئی اور یہ قاعدہ کے مطابق یھد استعمال ہوا۔ لیکن فَھُوَ الْمُھْتَدِ میں لفظ اَلْمُھْتَدِیْ اسم الفاعل ہے اور یہاں یا گرانے کا کوئی عامل نہیں ہے بلکہ یہ ھُوَ کی خبر ہے۔ اس لئے یہ اَلْمُھْتَدِیْ ہی ہے۔ اس جگہ پر اس کی یا کو گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا "کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟"

[ذٰلِكَ : یہ ] [جَزَاۗؤُهُمْ : بدلہ ہے ان کا ] [بِانهُمْ : اس سبب سے کہ انھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کا ] [وَقَالُوْٓا : اور کہا ] [ءَ : کیا ] [اِذَا : جب ] [كُنَا : ہم ہوجائیں گے ] [عِظَامًا : ہڈیاں ] وَّرُفَاتًا : اور چورا ] [ءَ : تو کیا ] [انا : ہم لوگ ] [لَمَبْعُوْثُوْنَ : ضرور ہی اٹھائے جانے والے ہوں گے ] [خَلْقًا جَدِيْدًا : ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے ]
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانو ں کو پیدا کیا ہے وہ اِن جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے

[اَوَ : اور کیا ] [لَمْ يَرَوْا : انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] [ان : کہ ] [اللّٰهَ : اللہ ] [الَّذِي : جس نے ] [خَلَقَ : پیدا کیا ] [السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [قَادِرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [يَّخْلُقَ : وہ پیدا کرے ] [مِثْلَهُمْ : ان کے جیسے ] [وَجَعَلَ : اور بنائے (یعنی مقرر کرے)] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [اَجَلًا : ایک مدت ] [لَّا رَيْبَ : کوئی بھی شک نہ ہو ] [فِيْهِ : جس میں ] [فَاَبَى: تو (کچھ) نہ مانا ] [الظّٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والوں نے ] [اِلَّا : سوائے ] [كُفُوْرًا : ناشکر گزاریوں کے ]
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَوْ : اگر ] [انتم : تم لوگ ] [تملِكُوْنَ : مالک ہوتے ] [خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِيْٓ: میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے ] [اِذًا : تب تو ] [لَّاَمْسَكْتم : تم لوگ ضرور روک کر رکھتے ] [خَشْيَةَ الْانفَاقِ : خرچ کرنے کے خوف سے ] [وَكَان : اور ہے ] [الْانسَان : انسان ] [قَتُوْرًا : بہت کنجوسی کرنے والا ]
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو تو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نا کہ "اے موسیٰؑ، میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے"

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور بیشک ہم نے دی تھیں ] [مُوْسٰي : موسٰی (علیہ السلام) کو ] [تِسْعَ : نو ] [اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح نشانیاں ] [فَسْــــَٔـلْ : تو آپ ﷺ پوچھیں ] [بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل سے ] [اِذْ : جب ] [جَاۗءَ : وہ (علیہ السلام) آئے ] [هُمْ : ان کے پاس ] [فَقَالَ : تو کہا ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) سے ] [فِرْعَوْنُ : فرعون نے ] [انى: بیشک میں ] [لَاَظُنُّكَ : یقینی گمان کرتا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [يٰمُوْسٰي : اے موسٰی (علیہ السلام) ] [مَسْحُوْرًا : جادو کیا ہوا ] نوٹ۔ 1: منکرین حدیث نے احادیث پر جو اعتراضات کئے ہیں ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ حدیث کی رو سے ایک مرتبہ نبی ﷺ پر جادو کا اثر ہوگیا تھا، حالانکہ قرآن کی رو سے آپ ﷺ پر یہ جھوٹا الزام تھا کہ آپ ﷺ ایک سحر زدہ آدمی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح راویانِ حدیث نے قرآن کی تکذیب اور کفار مکہ کی تصدیق کی ہے۔ لیکن دیکھئے کہ یہاں قرآن کی رو سے حضرت موسٰی (علیہ السلام) پر بھی فرعون کا یہ جھوٹا الزام تھا کہ آپ (علیہ السلام) ایک سحر زدہ آدمی ہیں۔ اور پھر قرآن خود ہی سورة طٰہٰ کی آیت۔ 66 ۔ 67 میں کہتا ہے کہ جادو کی وجہ سے موسٰی (علیہ السلام) کو ایسے لگا کہ رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں اور انھوں (علیہ السلام) نے اپنے جی میں خوف محسوس کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسٰی (علیہ السلام) اس وقت جادو سے متاثر ہوگئے تھے۔ کیا اس کے متعلق بھی منکرین حدیث یہ کہنے کے لئے تیار ہیں کہ یہاں (یعنی زیر مطالعہ آیت۔ 101 میں) قرآن نے خود اپنی تکذیب اور فرعون کے جھوٹے الزام کی تصدیق کی ہے۔ دراصل اس طرح کے اعتراضات کرنے والوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کفار مکہ اور فرعون کس معنی میں نبی ﷺ اور حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو مسحور کہتے تھے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ کسی دشمن نے جادو کر کے ان کو دیوانہ بنادیا ہے جس کے زیر اثر یہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ایک نرالا پیغام سناتے ہیں۔ قرآن ان کے اسی الزام کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ رہا وقتی طور پر کسی شخص کا جادو سے متاثر ہوجانا، تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو پتھر مارنے سے چوٹ لگ جائے۔ اس چیز کا نہ قرآن نے الزام لگایا نہ قرآن نے اس کی تردید کی اور نہ اس طرح کے کسی وقتی تاثر سے نبی کے منصب پر کوئی حرف آتا ہے۔ نبی پر اگر زہر کا اثر ہوسکتا ہے، نبی اگر زخمی ہوسکتا ہے، تو اس پر جادو کا اثر بھی ہوسکتا تھا۔ اس سے منصب نبوت پر حرف آنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ منصب نبوت میں اگر قادح ہوسکتی ہے تو یہ بات کہ نبی کے قوائے عقلی و ذہنی جادو سے مغلوب ہوجائیں، یہاں تک کہ اس کا کام اور کلام سب جادو کے زیر اثر ہونے لگے۔ مخالفین حق حضرت موسٰی (علیہ السلام) پر اور نبی ﷺ پر یہی الزام لگاتے تھے اور اس کی تردید قرآن نے کی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا "تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب السماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون، تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَقَدْ عَلِمْتَ : بیشک تو جان چکا ہے ] [مَآ انزَلَ : نہیں اتارا ] [هٰٓؤُلَاۗءِ : ان سب کو ] [اِلَّا : مگر ] [رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کے رب نے ] [بَصَاۗىِٕرَ : نشان عبرت ہوتے ہوئے ] وَانى: اور بیشک میں ] [لَاَظُنُّكَ : یقینی گمان کرتا ہوں تجھ کو ] [يٰفِرْعَوْنُ : اے فرعون ] [مَثْبُوْرًا : غارت کیا ہوا ] ث ب ر [ثُبُوْرًا : (ن) ] غارت ہونا۔ ہلاک ہونا (لازم) ۔ لَاتَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا (تم لوگ مت مانگو آج کے دن ایک مرتبہ ہلاک ہونے کو اور تم لوگ مانگو کئی مرتبہ ہلاک ہونے کو) 25:14 ۔ ثَبْرًا غارت کرنا۔ ہلاک کرنا۔ (متعدی) مَثْبُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ غارت کیا ہوا۔ ہلاک کیا ہوا۔ زیرِ مطالعہ آیت۔ 102 ۔
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

آخرکار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اوراس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کر دیا

[فَاَرَادَ : پھر اس (فرعون) نے ارادہ کیا ] [ان : کہ ] [يَّسْتَفِزَّ : وہ اکھاڑ دے ] [هُمْ : ان لوگوں کو ] [مِّنَ الْاَرْضِ : زمین (ملک) سے ] [فَاَغْرَقْنٰهُ : تو ہم نے غرق کیا اس کو ] [وَمَنْ : اور ان کو جو ] [مَّعَهٗ : اس کے ساتھ تھے ] [جَمِيْعًا : سب کے سب کو ]
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے

[وَّقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [مِنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد ] [لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل سے ] [اسْكُنُوا : تم لوگ سکونت اختیار کرو ] [الْاَرْضَ : اس سرزمین میں ] [فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آئے گا ] [وَعْدُ الْاٰخِرَةِ : آخرت کا وعدہ ] [جِئْنَا بِكُمْ : تو ہم لے آئیں گے تم لوگوں کو ] [لَفِيْفًا : سمیٹنے والا ہوتے ہوئے ] لف [لَفًّا : (ن) ] ایک چیز کو دوسری چیز سے ملا دینا۔ جمع کرنا۔ اکٹھا کرنا۔ لِفٌّ ج اَلْفَافٌ۔ جمع کی ہوئی چیز۔ لِنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًا (تاکہ ہم نکالیں اس سے اناج اور سبزہ اور اکٹھا کئے ہوئے یعنی گھنے باغات) 78:15 ۔ 16 ۔ لَفِیْفٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے۔ اکٹھا کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 104 ۔ (افتعال) اِلْتِفَافًا جمع ہونا۔ اکٹھا ہونا۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (اور جب لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے) 75:29 ۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کر دو

وَبِالْحَـقِّ : اور حق کے ساتھ ] [انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس (قرآن) کو ] [وَبِالْحَقِّ : اور حق کے ساتھ ] [نَزَلَ : وہ اترا ] [وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] [اِلَّا مُبَشِّرًا : مگر بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ] [وَّنَذِيْرًا : اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ]
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے

[وَقُرْاٰنًا : اور (ہم نے اتارا) قرآن کو ] [فَرَقْنٰهُ : (پھر) ہم نے جدا جدا کیا اس کو ] [لِتَقْرَاَهٗ : تاکہ آپ ﷺ پڑھیں اس کو ] [عَلَي النَاسِ : لوگوں پر ] [عَلٰي مُكْثٍ : ٹھہر ٹھہر کر ] [وَّنَزَّلْنٰهُ : اور ہم نے بتدریج اتارا اس کو ] [تَنْزِيْلًا : جیسا بتدریج اتارنے کا حق ہے ] ترکیب : (آیت۔ 106) قُرْاٰنًا سے پہلے اَنْزَلْنَا محذوف ہے جس کا مفعول ہونے کی وجہ سے یہ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لائو ] [بِهٖٓ: اس پر ] [اَوْ : یا ] [لَا تُؤْمِنُوْا : تم لوگ ایمان مت لائو (کوئی پرواہ نہیں ہے)] [ان : بیشک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جن کو ] [اُوْتُوا : دیا گیا ] [الْعِلْمَ : علم ] [مِنْ قَبْلِهٖٓ: اس سے پہلے ] [اِذَا : جب ] [يُتْلٰى: پڑھا جاتا ہے ] [عَلَيْهِمْ : ان پر (یہ قرآن)] [يَخِرُّوْنَ : تو وہ لوگ گرپڑتے ہیں ] [لِلْاَذْقَان : ٹھوڑیوں پر ] [سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] ذ ق ن [ذَقْنًا : (ن) ] ٹھوڑی پر مارنا۔ ذَقَنٌ ج اَذْقَانٌ۔ ٹھوڑی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 107 ۔
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور پکار اٹھتے ہیں "پاک ہے ہمارا رب، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا"

[وَّيَـقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [سُبْحٰنَ رَبِنَآ : پاکیزگی ہمارے رب کی ہے ] [ان : بیشک ] [كَان : ہے ] [ وَعْدُ رَبِنَا : ہمارے رب کا وعدہ ] [لَمَفْعُوْلًا : لازماً پورا کیا جانے والا ]
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے

[وَيَخِرُّوْنَ : اور وہ گرپڑتے ہیں ] [لِلْاَذْقَان : ٹھوڑیوں پر ] [يَبْكُوْنَ : روتے ہوئے ] [وَيَزِيْدُهُمْ : اور وہ زیادہ کرتا ہے ان کو ] [خُشُوْعًا : بلحاظ فروتنی کے ]
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو

[قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [ادْعُوا : تم لوگ پکارو ] [اللّٰهَ : اللہ کو ] [اَوِ : یا ] [ادْعُوا : تم لوگ پکارو ] [الرَّحْمٰنَ : رحمن کو ] [اَيًّا مَا : کوئی سا بھی (نام)] [تَدْعُوْا : تم لوگ پکارو ] [فَلَهُ : تو اس کے لئے ہی ہیں ] [الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: سارے خوبصورت نام ] [وَلَا تَجْـهَرْ : اور آواز نمایاں مت کرو ] [بِصَلَاتِكَ : اپنی نماز میں ] [وَلَا تُخَافِتْ : اور آواز پوشیدہ مت رکھو ] [بِهَا : اس میں ] [وَابْتَغِ : اور تلاش کرو ] [بَيْنَ ذٰلِكَ : اس کے درمیان ] [سَبِيْلًا : ایک راستہ ] خت [خُفُوْتًا : (ن) ] آواز کا پست ہونا۔ (مفاعلہ) مَخَافَتَۃً آواز کو پوشیدہ رکھنا۔ پست کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 110 ۔ (تفاعل) تَخَافُتًا ایک دوسرے سے پست آواز میں بات کرنا۔ سرگوشی کرنا۔ یَتَخَافَتُوْنَ بَیْنَھُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا (وہ لوگ سرگوشی کریں گے آپس میں کہ تم لوگ نہیں ٹھہرے مگر دس دن) 20:103 ۔ (آیت۔ 110) ۔ اسماء استفہام میں سے اَیٌّ یہاں تَدْعُوْا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں اَیًّا آیا ہے اس کے آگے مَا اسے مزید غیر معین کرنے کے لئے آیا ہے۔ (دیکھیں 2:26، نوٹ۔ 1) نوٹ۔ 1: آیت۔ 110 میں نماز کے اندر تلاوت کرنے کا یہ ادب بتایا گیا ہے کہ نہ بہت بلند آواز سے ہو نہ بہت آہستہ جس کو مقتدی نہ سن سکیں۔ یہ حکم ظاہر ہے کہ جہری نمازوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ ظہر اور عصر کی نمازوں میں تو بالکل اخفاء ہونا سنت متواترہ سے ثابت ہے۔ جہری نماز میں مغرب، عشاء اور فجر کے فرض داخل ہیں اور نماز تہجد بھی۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو "تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو" اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی

[وَقُلِ : اور آپ ﷺ کہیے ] [الْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [للّٰهِ الَّذِي : اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] [لَمْ يَتَّخِذْ : بنائی ہی نہیں ] [وَلَدًا : کوئی اولاد ] [وَّلَمْ يَكُنْ : اور ہے ہی نہیں ] [لَهٗ : جس کے لئے ] [شَرِيْكٌ: کوئی شریک ] [فِي الْمُلْكِ : بادشاہت میں ] [وَلَمْ يَكُنْ : اور ہے ہی نہیں ] [لَهٗ : جس کے لئے ] [وَلِيٌّ: کوئی کارساز ] [مِّنَ الذُّلِ : کمزوری (کے سبب) سے ] [وَكَبِرْهُ : اور بڑائی تسلیم کرائو اس کی ] [تَكْبِيْرًا : جیسا بڑائی تسلیم کرانے کا حق ہے ]