18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 18:81

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو

[فَاَرَدْنَآ : پھر ہم نے چاہا ] [ان : کہ ] [يُّبْدِلَهُمَا : بدلے میں دے ان دونوں کو ] [رَبُّهُمَا : ان کا رب ] [خَيْرًا : زیادہ اچھا ] [مِّنْهُ (رح) : اس سے ] [زَكٰوةً : بلحاظ پاکیزگی کے ] [وَّاَقْرَبَ : اور زیادہ قریب ] [رُحْمًا : بلحاظ صلہ رحمی کے ]
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے اِن بچّوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچّے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے"

[وَاَمَا : اور وہ جو ] [الْجِدَارُ : دیوار تھی ] [فَكَان : تو وہ تھی ] [لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ : دو یتیم لڑکوں کے لئے ] [فِي الْمَدِيْنَةِ : اس شہر میں ] [وَكَان : اور تھا ] [تَحْتَهٗ : اس کے نیچے ] [كَنْزٌ: ایک خزانہ ] [لَّهُمَا : ان دونوں کے لئے ] [وَكَان : اور تھا ] [اَبُوْهُمَا : ان کا والد ] [صَالِحًا : نیک ] [فَاَرَادَ : تو ارادہ کیا ] [رَبُّكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب نے ] [ان : کہ ] [يَّبْلُغَآ : وہ دونوں پہنچیں ] [اَشُدَّهُمَا : اپنی پختگی کو ] [وَيَسْتَخْرِجَا : اور دونوں نکالیں ] [كَنْزَهُمَا : اپنے خزانے کو ] [رَحْمَةً : رحمت ہوتے ہوئے ] [مِّنْ رَّبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب (کی طرف) سے ] [وَمَا فَعَلْتُهٗ : اور میں نے نہیں کیا یہ (سب کچھ)] [عَنْ اَمْرِيْ : اپنے حکم سے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [تَاْوِيْلُ مَا : اس کی تعبیر ہے ] [لَمْ تَسْطِعْ : آپ (علیہ السلام) نے صلاحیت نہیں رکھی ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [صَبْرًا : صبر کرنے کی ] نوٹ۔ 1: اس آیت ۔ 82 ۔ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں خدا کی مہربانی حاصل کرلیتے ہیں۔ دیکھیے آیت میں ان (لڑکوں) کی صلاحیت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہاں ان کے والد کی نیک بختی اور نیک عملی بیان ہوئی ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ دراصل یہ تینوں باتیں جنھیں تم نے خطرناک سمجھا، سراسر رحمت تھیں۔ کشتی والوں کو گو قدرے نقصان ہوا لیکن اس سے پوری کشتی بچ گئی۔ بچے کے مرنے کی وجہ سے گو ماں باپ کو رنج ہوا لیکن ہمیشہ کے رنج اور عذاب سے بچ گئے اور پھر نیک بدلہ مل گیا۔ اور یہاں اس نیک شخص کی اولاد کا بھلا ہوا۔ (ابن کثیر (رح) ) یہ مثال اس امر کی ہے کہ دنیا میں مسکینوں اور نیکوں کو اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس نقصان کے اندر ان ہی کا کوئی فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس لئے انھیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہیں اور اس امر پر یقین رکھیں کہ خدا کا کوئی فیصلہ بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لیکن کوئی شخص ان حکمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سناتا ہوں

[وَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ : یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ : ذوالقرنین کے بارے میں ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [سَاَتْلُوْا : میں پڑھ کر سنائوں گا ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں کو ] [مِّنْهُ : اس میں سے ] [ذِكْرًا : بطور نصیحت کے ] نوٹ۔ 1: ذوالقرنین کا نام ذوالقرنین کیوں ہوا۔ اس کی وجہ میں بیشمار اقوال اور سخت اختلافات ہیں۔ مگر اتنی بات متعین ہے کہ قرآن نے خود ان کا نام ذوالقرنین نہیں رکھا، بلکہ یہ نام یہود نے بتلایا۔ ان کے یہاں اس نام سے ان کی شہرت ہوگئی۔ واقعۂ ذوالقرنین کا جتنا حصّہ قرآن کریم نے بتلایا ہے اس سے سوال کرنے والے یہود مطمئن ہوگئے۔ انھوں نے مزید یہ سوال نہیں کئے کہ ان کا نام ذوالقرنین کیوں تھا، یہ کس ملک اور کس زمانے میں تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سوالات کو خود یہود نے بھی غیر ضروری اور فضول سمجھا۔ اور یہ ظاہر ہے جس سے کوئی فائدہ دین یا دنیا کا متعلق ہو یا جس پر کسی چیز کا سمجھنا موقوف ہو۔ اس لئے نہ قرآن کریم نے ان چیزوں کو بتلایا اور نہ کسی حدیث میں اس کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 18:84

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے

[انا : بیشک ہم نے ] [مَكَّنَا : اقتدار دیا ] [لَهٗ : اس کو ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیا اس کو ] [مِنْ كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز میں سے ] [سَبَبًا : ایک سامان ]
Ayah 18:85

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سر و سامان کیا

[فَاَتْبَعَ : پھر وہ پیچھے لگا ] [سَبَبًا : ایک (سفر کے) سامان کے ]
Ayah 18:86

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

حتیٰ کہ جب وہ غروب آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی ہم نے کہا "اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے"

[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [بَلَغَ : وہ پہنچا ] [مَغْرِبَ الشَّمْسِ : سورج غروب ہونے کی جگہ پر ] [وَجَدَهَا : تو اس نے پایا اس کو ] [تَغْرُبُ : کہ وہ غروب ہوتا ہے ] [فِيْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ : ایک دلدل والے چشمہ میں ] [وَّوَجَدَ : اور اس نے پایا ] [عِنْدَهَا : اس کے پاس ] [قَوْمًا : ایک قوم کو ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [يٰذَا الْقَرْنَيْنِ : اے ذوالقرنین ] [اِمَآ : یا تو یہ ] [ان : کہ ] [تُعَذِّبَ : آپ سزا دیں ] [وَاِمَآ : اور یا یہ ] [ان : کہ ] [تَتَّخِذَ : آپ بنائیں ] [فِيْهِمْ : ان میں ] [حُسْنًا : کوئی بھلائی ]
Ayah 18:87

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

اس نے کہا، "جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [اَمَا : وہ جو ہے ] [مَنْ : جس نے ] [ظَلَمَ : ظلم کیا ] [فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [نُعَذِّبُهٗ : ہم سزا دیں گے اس کو ] [ثُمَّ : پھر ] [يُرَدُّ : وہ لوٹایا جائے گا ] [اِلٰى رَبِهٖ : اپنے رب کی طرف ] [فَيُعَذِّبُهٗ : پھر وہ عذاب دے گا اس کو ] [عَذَابًا نُّكْرًا : ایک برا عذاب ]
Ayah 18:88

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے"

[وَاَمَا : اور وہ جو ہے ] [مَنْ : جو ] [اٰمَنَ : ایمان لایا ] [وَعَمِلَ : اور اس نے عمل کیا ] [صَالِحًا : نیک ] [فَلَهٗ : تو اس کے لئے ] [جَزَاۗءَۨ: بطور بدلے کے ] [الْحُسْنٰى: بھلائی ہے ] [وَسَنَقُوْلُ : اور ہم کہیں گے ] [لَهٗ : اس سے ] [مِنْ اَمْرِنَا : اپنے کام میں ] [يُسْرًا : آسانی (کی بات)] ترکیب : (آیت۔ 88) جَزَائَ نِ الْحُسْنٰی مرکب اضافی نہیں ہوسکتا کیونکہ جَزَائً پر تنوین ہے۔ یہ مرکب توصیفی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ جَزَائً نکرہ اور اَلْحُسْنٰی معرفہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں الگ الگ مفرد الفاظ ہیں۔ سادہ جملہ اس طرح ہے۔ فَلَہُ الْحُسْنٰی جَزَائً ۔ ہماری ترجیح ہے کہ جَزَائً کو تمیز مانا جائے۔ یُسْرًا صفت ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے جو کہ قَوْلًا ہوسکتا ہے۔
Ayah 18:89

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اُس نے (ایک دُوسری مہم کی) تیاری کی

[ثُمَّ : پھر ] [اَتْـبَـعَ : وہ پیچھے لگا ] [سَبَبًا : ایک (سفر کے) سامان کے ]
Ayah 18:90

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ طلوعِ آفتاب کی حد تک جا پہنچا وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے

[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [بَلَغَ : وہ پہنچا ] [مَطْلِعَ الشَّمْسِ : سورج کے نکلنے کی جگہ ] [وَجَدَهَا : تو اس نے پایا اس (سورج) کو ] [تَـطْلُعُ : (کہ) وہ طلوع ہوتا ہے ] [عَلٰي قَوْمٍ : ایک ایسی قوم پر ] [لَمْ نَجْعَلْ : ہم نے نہیں بنایا ] [لَهُمْ : جن کے لئے ] [مِّنْ دُوْنِهَا : اس (سورج) کے پیچھے ] [سِتْرًا : کوئی اوٹ ]
Ayah 18:91

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے

[كَذٰلِكَ : اس طرح ہے ] [وَقَدْ اَحَطْنَا : اور ہم احاطہ کرچکے ہیں ] [بِمَا : اس کا جو ] [لَدَيْهِ : ان (ذوالقرنین) کے پاس ہے ] [خُبْرًا : بلحاظ علم کے ]
Ayah 18:92

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا

[ثُمَّ : پھر ] [اَتْبَعَ : وہ پیچھے لگا ] [سَبَبًا : ایک (سفر کے) سامان کے ]
Ayah 18:93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی

[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [بَلَغَ : وہ پہنچا ] [بَيْنَ السَّدَّيْنِ : دو دیواروں (یعنی پہاڑوں) کے درمیان ] [وَجَدَ : تو اس نے پایا ] [مِنْ دُوْنِهِمَا : ان دونوں کے ] [قَوْمًا : ایک ایسی قوم کو جو ] [لَّا يَكَادُوْنَ : لگتا نہیں تھا کہ ] [يَفْقَهُوْنَ : وہ لوگ سمجھیں گے ] [قَوْلًا : کوئی بات ]
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

اُن لوگوں نے کہا کہ "اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے؟"

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰذَا الْقَرْنَيْنِ : اے ذوالقرنین ] [ان : بیشک ] [يَاْجوجَ : یاجوج ] [وَمَاجوجَ : اور ماجوج ] [مُفْسِدُوْنَ : فساد پھیلانے والے ہیں ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [فَهَلْ : تو کیا ] [نَجْعَلُ : ہم مقرر کریں ] [لَكَ : آپ کے لئے ] [خَرْجًا : کوئی ٹیکس ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [تَجْعَلَ : آپ بنادیں ] [بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [وَبَيْنَهُمْ : اور ان کے درمیان ] [سَدًّا : ایک دیوار ] نوٹ۔ 1: ذوالقرنین نے مشرق کی جانب جو قوم آباد پائی اس کا یہ حال تو قرآن کریم نے ذکر فرمایا کہ وہ دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی سامان، مکان، خیمہ، لباس وغیرہ کے ذریعہ نہ کرتے تھے، لیکن ان کے مذہب و امال کا کوئی ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی یہ کہ ذوالقرنین نے ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ لوگ بھی کافر ہی تھے اور ذوالقرنین نے ان لوگوں کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو مغربی قوم کے ساتھ اوپر مذکور ہوچکا ہے۔ مگر اس کے بیان کرنے کی یہاں اس لئے ضرورت نہیں سمجھی کہ پچھلے واقہ پر قیاس کر کے اس کا بھی علم ہوسکتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

اس نے کہا " جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [مَا : وہ ] [مَكَّــنِّيْ : اختیار دیا مجھ کو ] [فِيْهِ : جس میں ] [رَبِيْ : میرے رب نے ] [خَيْرٌ: بہتر ہے ] [فَاَعِيْنُوْنِيْ : تو تم لوگ اعانت کرو میری ] [بِقُــوَّةٍ : قوت کے ساتھ ] [اَجْعَلْ : تو میں بنائوں ] [بَيْنَكُمْ : تمہارے درمیان ] [وَبَيْنَهُمْ : اور ان کے درمیان ] [رَدْمًا : ایک رکاوٹ ] ر د م [رَدْمًا : (ض) ] کسی رخنہ یا دروازہ کو بند کرنا۔ رَدْمٌ رکاوٹ۔ بندش۔ زیر مطالعہ آیت۔ 95 نوٹ۔ 1: ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد دیوار چین ہے۔ حالانکہ دراصل یہ دیوار قفقاز کے علاقہ داغستان میں دربند اور داریال کے درمیان بنائی گئی۔ قفقاز اس ملک کو کہتے ہیں جو بحیرئہ اسود اور بحیرئہ خزر (Caspian Sea) کے درمیان واقع ہے۔ دربند اور داریال کے درمیان جو علاقہ ہے اس میں پہاڑ زیادہ بلند نہیں ہیں اور ان میں کوہستانی راستے بھی خاصے وسیع ہیں۔ قدیم زمانے میں شمال کی وحشی قومیں اسی راستے سے حملے کرتی تھیں۔ ان ہی حملوں کو روکنے کے لئے ایک دیوار بنائی گئی تھی جو۔ 50 ۔ میل لمبی، 29 ۔ فٹ بلند اور دس فٹ چوڑی تھی۔ ابھی تک یہ تحقیق نہیں ہوسکی کہ یہ دیوار کب اور کس نے بنائی تھی۔ مگر مسلمان مؤرخین اسی کو سدِّ ذوالقرنین قرار دیتے ہیں اور اس کی تعمیر کی جو کیفیت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے اس کے آثار اب بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن۔ ج 3، ص 771)
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو" آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سُرخ ہو گئی تو اس نے کہا "لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا"

[اٰتُوْنِيْ : تم لوگ دو مجھ کو ] [زُبَرَ الْحَدِيْدِ : لوہے کی سلیس ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [سَاوٰى: انھوں نے برابر کیا ] [بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ : (پہاڑ کے) دونوں کناروں کے درمیان کو ] [قَالَ : تو کیا ] [انفُخُوْا : تم لوگ پھونک مارو ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [جَعَلَهٗ : انھوں نے بنایا اس کو ] [نَارًا : ایک آگ ] [قَالَ : تو کہا ] [اٰتُوْنِيْٓ: تم لوگ دو مجھ کو ] [اُفْرِغْ : تو میں انڈیلوں ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [قِطْرًا : پگھلے ہوئے تانبے کو ]
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

(یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا

[فَمَا اسْطَاعُوْٓا : پھر وہ لوگ (یعنی یاجوج ماجوج کی قوم) استطاعت نہیں رکھیں گے ] [ان : کہ ] [يَّظْهَرُوْهُ : وہ چڑھ سکیں اس پر ] [وَمَا اسْتَطَاعُوْا : اور نہ وہ استطاعت رکھینگے ] [لَهٗ : اس میں ] [نَقْبًا : نقب لگانے کی ]
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا " یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئیگا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے"

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [ھٰذَا : یہ ] [رَحْمَةٌ: ایک رحمت ہے ] [مِّنْ رَّبِيْ : میرے رب (کی طرف) سے ] [فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آئے گا ] [وَعْدُ رَبِيْ : میرے رب کا وعدہ ] [جَعَلَهٗ : تو وہ بنا دے گا اس کو ] [دَكَّاۗءَ : ایک نرم مٹی کا ٹلہ ] [وَكَان : اور ہے ] [وَعْدُ رَبِيْ : میرے رب کا وعدہ ] [حَقًّا : سچا ]
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور اُس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے

[وَتَرَكْنَا : اور ہم چھوڑ دیں گے ] [بَعْضَهُمْ : ان کے بعض کو ] [يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [يَّمُوْجُ : وہ ریلا ماریں گے ] [فِيْ بَعْضٍ : بعض میں ] [وَّنُفِخَ : اور پھونک ماری جائے گی ] [فِي الصُّوْرِ : صور میں ] [فَـجَـمَعْنٰهُمْ : پھر ہم جمع کریں گے ] [جَمْعًا : جیسا جمع کرنے کا حق ہے ]
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

[وَّعَرَضْنَا : اور ہم سامنے لائیں گے ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [عَرْضَۨا : جیسا سامنے لانے کا حق ہے ]
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے

[الَّذِينَ : وہ لوگ ] [كَانتْ : نہیں ] [اَعْيُنُهُمْ : جن کی آنکھیں ] [فِيْ غِطَاۗءٍ : ایک پردے میں ] [عَنْ ذِكْرِيْ : میری یاد سے ] [وَكَانوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : اور وہ لوگ استطاعت نہیں رکھتے تھے ] [سَمْعًا : سننے کی ] غ ط و [غَطْوًا : (ن) ] کسی چیز کو چھپانا۔ ڈھانکنا۔ غِطَائً پردہ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 101 ۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے

[اَفَحَسِبَ : تو کیا گمان کیا ] [الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ان : کہ ] [يَّتَّخِذُوْا : وہ بنالیں گے ] [عِبَادِيْ : میرے بندوں کو ] [مِنْ دُوْنِيْٓ: میرے علاوہ ] [اَوْلِيَاۗءَ : (اپنا) کارساز ] [انآ : بیشک ] [اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [نُزُلًا : بطور ابتدائی ضیافت ]
Ayah 18:103

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

اے محمدؐ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [هَلْ : کیا ] [نُنَبِئُكُمْ : ہم خبر دیں تم لوگوں کو ] [بِالْاَخْسَرِيْنَ : سب سے زیادہ گھاٹا پانے والوں کی ] [اَعْمَالًا : بلحاظ اعمال کے ]
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں

[الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ضَلَّ : گم ہوئی ] [سَعْيُهُمْ : جن کی بھاگ دوڑ ] [فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی میں ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [يَحْسَبُوْنَ : گمان کرتے رہے ] [انهُمْ : کہ وہ ] [يُحْسِنُوْنَ : خوبصورت بناتے ہیں ] [صُنْعًا : صنعت گری کو ]
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے

[اُولٰۗىِٕكَ الَّذِينَ : یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [بِاٰيٰتِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی نشانیوں کا ] [وَلِقَاۗىِٕهٖ : اور اس سے ملاقات کرنے کا ] [فَحَبِطَتْ : تو اکارت گئے ] [اَعْمَالُهُمْ : ان کے اعمال ] [فَلَا نُقِيْمُ : پس ہم قائم نہیں کریں گے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [وَزْنًا : تول کو ] نوٹ۔ 1: اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارہ پانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں خواہ کتنے ہی بڑے کارنامے کئے ہوں، بہرحال وہ دنیا کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گے۔ اپنے محلات، اپنی یونیورسٹیاں اور لائبریریاں، اپنے کارخانے اور ملیں، اپنی سڑکیں اور ریلیں، اپنی ایجادیں اور صنعتیں، اپنے علوم و فنون، اپنی آرٹ گیلریاں اور وہ چیزیں جن پر وہ فخر کرتے ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے ساتھ لئے ہوئے وہ خدا کے یہاں نہ پہنچیں گے کہ خدا کی میزان میں اس کو رکھ سکیں۔ وہاں جو چیز باقی رہنے والی ہے وہ صرف مقاصدِ عمل اور نتائجِ عمل ہیں۔ اب اگر کسی کے سارے مقاصد دنیا تک محدود تھے اور نتائج بھی اس کو دنیا ہی میں مطلوب تھے اور دنیا میں وہ اپنے نتائج دیکھ بھی چکا تو اس کا سبب کیا کرایا دنیائے فانی کے ساتھ فنا ہوگیا۔ آخرت میں جو کچھ پیش کر کے وہ کوئی وزن پاسکتا ہے وہ تو لازماً کوئی ایسا ہی کارنامہ ہونا چاہیے جو اس نے خدا کی رضا کے لئے کیا ہو، اس کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے کیا ہو اور ان نتائج کو مقصود بنا کر کیا ہو جو آخرت میں نکلنے والے ہیں۔ ایسا کوئی کارنامہ اگر اس کے حساب میں نہیں ہے تو وہ ساری دوڑ دھوپ بلا شبہ اکارت گئی جو اس نے دنیا میں کی تھی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

ان کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے

[ذٰلِكَ : یہ ] [جَزَاۗؤُهُمْ : ان کا بدلہ ہے ] [جَهَنَّمُ : جو کہ جہنم ہے ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَفَرُوْا : انھوں نے انکار کیا ] [وَاتَّخَذُوْٓا : اور بنایا ] [اٰيٰتِيْ : میری نشانیوں کو ] [وَرُسُلِيْ : اور میرے رسولوں کو ] [هُزُوًا : مذاق کا ذریعہ ]
Ayah 18:107

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

البتّہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے

[ان : بیشک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [كَانتْ : (تو) ہیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ : فردوس کے باغات ] [نُزُلًا : بطور مہمان نوازی کے ]
Ayah 18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا

[خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان میں ] [لَا يَبْغُوْنَ : وہ نہیں چاہیں گے ] [عَنْهَا : ان سے ] [حِوَلًا : کوئی تبدیلی ]
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

اے محمدؐ، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَوْ : اگر ] [كَان : ہوتے ] [الْبَحْرُ : سارے سمندر ] [مِدَادًا : روشنائی ] [لِكَلِمٰتِ رَبِيْ : میرے رب کی فرمان (لکھنے) کے لئے ] [لَنَفِدَ : تو ضرور ختم ہوجاتے ] [الْبَحْرُ : سارے سمندر ] [قَبْلَ ان : اس سے پہلے کہ ] [تَنْفَدَ : ختم ہوتے ] [كَلِمٰتُ رَبِيْ : میرے رب کے فرمان ] [وَلَوْ : اور اگرچہ ] [جِئْنَا : ہم لے آتے ] [بِمِثْلِهٖ : اس جیسے (اور سمندر)] [مَدَدًا : بطور مدد کے ]
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

اے محمدؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [انا : میں ] [بَشَرٌ: ایک بشر ہوں ] [مِّثْلُكُمْ : تم لوگوں جیسا ] [يُوْحٰٓى: وحی کی جاتی ہے ] [اِلَيَّ : میری طرف ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اِلٰـــهُكُمْ : تم لوگوں کا الیٰ ] [اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: واحد لٰہ ہے ] [فَمَنْ : پس وہ جو ] [كَان : ہے (کہ)] [يَرْجوا : امید رکھتا ہے ] [لِقَاۗءَ رَبِهٖ : اپنے رب سے ملاقات کرنے کی ] [فَلْيَعْمَلْ : تو اسے چاہیے کہ وہ عمل کرے ] [عَمَلًا صَالِحًا : نیک عمل کے ] [وَّلَا يُشْرِكْ : اور وہ شریک مت کرے ] [بِعِبَادَةِ رَبِهٖٓ: اپنے رب کی بندگی میں ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] نوٹ۔ 1: حضرت شداد بن اوس ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرک اور پوشیدہ شہوت کا ہے۔ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ( ﷺ) کیا آپ ﷺ کی امت آپ ﷺ کے بعد شرک کرے گی۔ فرمایا ہاں۔ سنو ! وہ سورج، چاند، پتھر، بت کو نہ پوجے گی بلکہ اپنے اعمال میں ریاکاری کرے گی۔ پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ صبح روزے سے ہے اور کوئی خواہش سامنے آئی تو روزہ چھوڑ دیا (ابن کثیر (رح) ) نوٹ۔ 2: رسول اللہ ﷺ نے فمرایا کہ میں تمہیں ایک ایسا کام بتاتا ہوں کہ جب تم وہ کام کرلو تو شرک اکبر اور شرک اصغر، سب سے محفوظ ہو جائو۔ تم تین مرتبہ روزانہ یہ دعا کیا کرو۔ اللھم انی اعوذبک ان اشرک بک و انا اعلم واستغفرک لمالا اعلم۔ (معارف القرآن)