18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 18:41

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے"

[اَوْ : یا ] [يُصْبِحَ : ہوجائے ] [مَاۗؤُهَا : اس کا پانی ] [غَوْرًا : جذب (زمین مین) [فَلَنْ تَسْتَطِيْعَ : پھر تجھے ہرگز استطاعت نہ ہوگی ] [لَهٗ : اس کو ] [طَلَبًا : (واپس) بلانے کی ]
Ayah 18:42

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ "کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا"

[وَاُحِيْطَ : اور گھیر (یعنی سمیٹ) لیا گیا ] [بِثَمَرِهٖ : اس کے پھل کو ] [فَاَصْبَحَ : نتیجۃً وہ ہوگیا ] [يُقَلِبُ : الٹتا پلٹتا ہوا ] [كَفَّيْهِ : اپنی دونوں ہتھیلیوں کو (یعنی ہاتھ ملتا رہ گیا)] [عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [انفَقَ : اس نے خرچ کیا ] [فِيْهَا : اس (باغ) میں ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ھِيَ : وہ (باغ)] [خَاوِيَةٌ: اوندھا تھا ] [عَلٰي عُرُوْشِهَا : اپنی چھتوں پر ] [وَيَـقُوْلُ : اور وہ کہتا تھا ] [يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں ] [لَمْ اُشْرِكْ : میں شریک نہ کرتا ] [بِرَبِيْٓ: اپنے رب کے ساتھ ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیات 32 سے 44 تک میں جو مثال دی گئی ہے اور اس میں جو دو اشخاص کے حالات اور مکالمہ دیا گیا ہے، اس میں ایک توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہاں کہیں بھی کسی دیوی یا دیوتا کا ذکر نہیں ہے، پھر وہ کیا بات ہے جس کو آیت۔ 37 میں باغ والے کا کفر قرار دیا گیا اور آیت۔ 38 میں جس سے اعلان برأت کرتے ہو باغ والے کے ساتھی نے کہا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کوئی شرک نہیں کرتا۔ اور پھر آیت 42 میں خود باغ والے نے جس کے لئے اپنا کفِ افسوس ملتے ہوئے کہا کہ کاش میں اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کرتا۔ اب نوٹ کرلیں کہ وہ بات آیت۔ 35 ۔ 36 میں دی ہوئی ہے۔ یہ مادہ پرستانہ نکتۂ نظر ہے جس کو یہاں کفر اور شرک قرار دیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم مادہ پرستی کے فلسفہ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ عام خیال یہ ہے کہ مادہ پرستی کا مرض نیوٹن کی فزکس کی پیداوار ہے۔ لیکن ان آیات کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرض بہت پرانا ہے۔ نیوٹن نے پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کیا ہے۔ مادہ پرستانہ فلسفہ یہ ہے کہ مادہ (Matter) کا وجود قدیم ہے یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور مادہ کی خصوصیات (Properties of Matter) اس کی ذاتی ہیں اور لافانی ہیں۔ یہ سوچ قیامت کے نظریہ سے براہ راست متصادم ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اس سوچ کا حامل شخص اگر اللہ کے وجود کو تسلیم کرتا ہے تب بھی قیامت پر اس کا ایمان متزلزل ہوجاتا ہے۔ یہ کفر ہے، اس کا دوسرا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ایسے شخص کا تکیہ اور بھروسہ یعنی توکل مادے اور اس کی خصوصیات پر ہوجاتا ہے اور ذات باری تعالیٰ اس کے ذہن سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ یہ بھی کفر ہے۔ اسی مادہ پرستی کے فلسفہ کو یہاں شرک بھی کہا گیا ہے۔ قرآن کا نظریہ یہ ہے کہ اس کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کا وجود قدیم ہے۔ اللہ کی صفات اس کی ذاتی ہیں، کسی کی عطا کردہ نہیں ہیں۔ اس کی صفات لامعدود (Infinite) ہیں اور لافانی ہیں۔ اللہ کے سوا اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے، جہاں بھی ہے اور جس شکل میں بھی ہے۔ اس کا وجود حادث ہے یعنی وہ چیز پہلے نہیں تھی، اللہ نے اسے وجود بخشا تو وہ وجود میں آئی۔ ہر چیز کا وجود الٰہی اجل مسمی ہے یعنی فانی ہے۔ ہر چیز کی صفات اس کی ذاتی نہیں ہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ ہیں، لامحدود نہیں ہیں بلکہ ایک اندازے اور تناسب سے عطا کی گئی ہیں اور ہر چیز کے وجود کی طرح اس کی صفات بھی فانی ہیں۔ اب غور کریں کہ جب نیم مادہ کو قدیم اور اس کی صفات کو اس کی ذاتی اور لافانی مانتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے مادہ کو اللہ کا ” کفو “ یعنی ہم پلّہ قرار دیا۔ یہ بدترین شرک ہے۔ اور بدقسمتی سے آج کے دور میں شرک کی یہی شکل سب سے زیادہ رائج ہے لیکن ہم میں سے اکثر کو اس کا احساس نہیں ہے۔
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ

[وَلَمْ تَكُنْ : اور تھی ہی نہیں ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [فِئَةٌ: کوئی ایسی جماعت جو ] [يَّنْصُرُوْنَهٗ : مدد کرتی اس کی ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [وَمَا كَان : اور وہ نہیں تھا ] [مُنْتَصِرًا : بدلہ لینے والا ]
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

اُس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے

[هُنَالِكَ : یہاں (پتہ لگ گیا کہ)] [الْوَلَايَةُ : کل کی کل کارسازی ] [للّٰهِ الْحَقِّ : برحق اللہ کے لئے ہے ] [هُوَ : وہ ] [خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ثَوَابًا : بطور بدلے کے ] [وَّخَيْرٌ: اور بہتر ہے ] [عُقْبًا : بطور انجام کے ]
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور اے نبیؐ! اِنہیں حیات دنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

[وَاضْرِبْ : اور آپ ﷺ بیان کریں ] [لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی مثال ] [كَمَاۗءٍ : کچھ پانی کی مانند ] [انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا جن کو ] [مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [فَاخْتَلَطَ : پھر ملا ] [بِهٖ : اس (پانی) سے ] [نَبَاتُ الْاَرْضِ : زمین کا سبزہ ] [فَاَصْبَحَ : پھر وہ (سبزہ) ہوگیا ] [هَشِيْمًا : چورا ] [تَذْرُوْهُ : بکھیرتی ہیں اس کو ] [الرِّيٰحُ : ہوائیں ] [وَكَان : اور ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [مُّقْتَدِرًا : پوری طرح قابو یافتہ ] ھـ ش م [ھشما : (ض) ] کسی چیز کو توڑنا۔ ھشیم فعیل کے وزن پر صفت ہے اسم المفعول کے معنی میں۔ توڑی ہوئی چیز۔ توڑی ہوئی خشک گھاس۔ چورا۔ زیرِ مطالعہ آیت۔ 45 ۔ ذ ر و [ذٰروا : (ن) ] خاک اڑانا۔ بکھیرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ذار مؤنث۔ ذاریۃ ٹ ذاریات۔ اسم الفاعل ہے۔ اڑانے والا۔ بکھیرنے والا۔ والذریت ذروا (قسم ہے بکھیرنے والیوں کی جیسا کہ بکھیرنے کا حق ہے) 51:1 ترکیب : (آیت۔ 45) اختلط کا فاعل نبات الارض ہے اور بہ کی ضمیر ماء کے لئے ہے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں

[اَلْمَالُ : مال ] [وَالْبَنُوْنَ : اور بیٹے ] [زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی زینت ہیں ] [وَالْبٰقِيٰتُ : اور باقی رہنے والی ] [الصّٰلِحٰتُ : نیکیاں ] [خَيْرٌ: بہتر ہیں ] [عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے پاس ] [ثَوَابًا : بلحاظ بدلے کے ] [وَّخَيْرٌ: اور بہتر ہیں ] [اَمَلًا : بلحاظ توقع کے ] نوٹ۔ 1: تیسرے کلمہ میں ہم لوگ جو پانچ کلمات پڑھتے ہیں، انکو رسول اللہ ﷺ نے الباقیات الصالحات فرمایا۔ یہ بات متعدد روایات میں آئی ہے۔ بعض روایات میں پانچ کلمات ہیں جبکہ بعض روایات میں چار ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں باقیات صالحات سے مراد مطلق اعمال صالحہ ہیں جن میں یہ کلمات بھی داخل ہیں۔ (ابن کثیر (رح) اور معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

فکر اُس دن کی ہونی چاہیے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاؤ گے، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چھوٹے گا

[وَيَوْمَ : اور جس دن ] [نُسَيِّرُ : ہم چلائیں گے ] [الْجبالَ : پہاڑوں کو ] [وَتَرَى: اور آپ ﷺ دیکھیں گے ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [بَارِزَةً : صاف کھلی ہونے والی حالت میں ] [وَّحَشَرْنٰهُمْ : اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو ] [فَلَمْ نُغَادِرْ : پھر ہم نہیں چھوڑیں گے ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] غ د ر [غدرا : (ن) ] بدعہدی کرنا۔ بےوفائی کرنا۔ (مفاعلہ) غدار کسی چیز کو چھوڑ دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کیے جائیں گے لو دیکھ لو، آ گئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے

[وَعُرِضُوْا : اور وہ لوگ پیش کئے جائیں گے ] [عَلٰي رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب پر (یعنی اس کے حضور)] [صَفًّا : صف بناتے ہوئے ] [لَقَدْ جِئْتموْنَا : بیشک تم لوگ آ چکے ہو ہمارے پاس ] [كَمَا : جیسے کہ ] [خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے پیدا کیا تم کو ] [اَوَّلَ مَرَّةٍۢ: پہلی مرتبہ ] [بَلْ : بلکہ ] [زَعَمْتم : تم لوگوں نے سمجھ لیا ] [اَلَنْ نَّجْعَلَ : کہ ہم ہرگز نہیں بنائیں گے ] [لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [مَّوْعِدًا : کوئی وعدہ کا وقت ] صف [صفا : (ن) ] قطار بنانا۔ صف بنانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 48 صف اسم ذات بھی ہے۔ قطار۔ صف۔ وجاء ربک والملک صفا صفا (اور آئے گا آپ ﷺ کا رب اور تمام فرشتے (آئیں گے) قطار در قطار) 89:22 صاف ج صافون اور صواف اسم الفاعل ہے۔ قطار بنانے والا۔ صف باندھنے والا۔ وانا لنحن الصافون (اور بیشک ہم یقینا صف باندھنے والے ہیں) 37:165 ۔ فاذکروا اسم اللہ علیھا صواف (پس تم لوگ یاد کرو اللہ کا نام ان پر (ان کی) قطار بنانے والے ہوتے ہوئے) 22:36 (آیت۔ 48) ۔ الن دراصل ان لن ہے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا

[وَوُضِـعَ : اور رکھا جائے گا ] [الْكِتٰبُ : لکھا ہوا (اعمال نامہ)] [فَتَرَى: پھر آپ ﷺ دیکھیں گے ] [الْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کو ] [مُشْفِقِيْنَ : ڈرنے والے ہوتے ہوئے ] [مِمَا : اس سے جو ] [فِيْهِ : اس میں ہے ] [وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہیں گے ] [يٰوَيْلَتَنَا : ہائے ہماری تباہی ] [مَا : کیا ہے ] لِ هٰذَا الْكِتٰبِ : اس ریکارڈ کو ] [لَا يُغَادِرُ : وہ نہیں چھوڑتا ] [صَغِيْرَةً : کسی چھوٹے (عمل) کو ] [وَّلَا كَبِيْرَةً : اور نہ ہی کسی بڑے (عمل) کو ] [اِلَّآ : سوائے اس کے کہ ] [اَحْصٰىهَا : اس نے گھیر لیا اس کو ] [وَوَجَدُوْا : اور وہلوگ پائیں گے ] [مَا : اس کو جو ] [عَمِلُوْا : انھوں نے عمل کئے ] [حَاضِرًا : حاضر ] [وَلَا يَظْلِمُ : اور ظلم نہیں کرے گا ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [اَحَدًا : کسی ایک پر ] شق (س) شفقا رحم کرنا۔ مہربان ہونا۔ شفق اسم ذات بھی ہے۔ مہربانی۔ غروب آفتاب کے بعد افق پر سرخی۔ شفق۔ فلا اقسم بالشفق (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہں شام کی سرخی کی) 84:16 (افعال) اشفاقا کسی کی رحمت و مہربانی کی محرومی سے ڈرنا۔ پھر مجرد ڈانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ء اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواگکم صدقت (کیا تم لوگ ڈر گئے کہ تم لوگ پیش کرو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ) 58:13 مشفق اسم الفاعل ہے۔ ڈرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49 ۔ (آیت۔ 49) تری کا مفعول المجرمین ہے جبکہ مشفقین حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ مال میں ما استفہامیہ ہے اور ل دراصل حرف جارہ ہے جسے ھذا سے الگ کر کے لکھا گیا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ عربی میں اس طرح نہیں لکھا جاتا۔ عربی مں اسے مالھذا ہی لکھا جائے گا۔ صغیرۃ اور کثیرۃ صفت ہیں۔ ان کا موصوف محذوف ہے جو کہ اعمالا ہوسکتا ہے۔ شیئا کو محذوف نہیں مان سکتے کیونکہ صفت مؤنث آئی ہے۔ جبکہ شیء مذک رہے۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اُس کو اور اس کی ذرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ بڑا ہی برا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں

[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو ان سب نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [كَان : وہ تھا ] [مِنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے ] [فَفَسَقَ : تو وہ نکل گیا ] [عَنْ اَمْرِ رَبِهٖ : اپنے رب کے حکم (کی اطاعت) سے ] [اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ : تو کیا تم لوگ بناتے ہو اس کو ] [وَذُرِّيَّتَهٗٓ: اور اس کی اولاد کو ] [اَوْلِيَاۗءَ : کارساز ] [مِنْ دُوْنِيْ : میرے علاوہ ] [وَ : حالانکہ ] [هُمْ : وہ سب ] [لَكُمْ : تم لوگوں کے ] [عَدُوٌّ: دسمن ہیں ] [بِئْسَ : کتنا برا ہے یہ ] [لِلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کے لئے ] [بَدَلًا : بلحاظ بدل کے (یعنی بدلے میں لی ہوئی چیز کے)] نوٹ۔ 1: اس سلسلۂ کلام میں قصّہ آدم و ابلیس کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود گمراہ انسانوں کو ان کی اس حماقت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبروں کو چھوڑ کر اپنے اس ازلی دشمن کے پھندے میں پھنس رہے ہیں جو ازل سے ان کے خلاف حسد رکھتا ہے (تفہیم القرآن) ۔ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بدلا۔ یہ جملہ اظہار تعجب اور اظہار افسوس کا ہے کہ ان ظالموں نے خدا کا بدل بھی ڈھونڈا تو اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے ابدی دشمن کو۔ یہ شامت زدگی کی آخری حد ہے۔ (تدبر قرآن) ۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں

[مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ : میں نے گواہ نہیں بنایا تھا ان کو ] [خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمان کی تخلیق کا ] [وَلَا خَلْقَ انفُسِهِمْ : اور نہ ہی ان کی اپنی تخلیق کا ] [وَمَا كُنْتُ : اور میں نہیں تھا ] [مُتَّخِذَ الْمُضِلِيْنَ : گمراہ کرنے والوں کو بنانے والا ] [عَضُدًا : (اپنا) مددگار ]
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا رب اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے

[وَيَوْمَ : اور جس دن ] [يَقُوْلُ : وہ (یعنی اللہ) کہے گا ] [نَادُوْا : تم لوگ پکارو ] [شُرَكَاۗءِيَ الَّذِينَ : میرے ان شریکوں کو جن پر ] [زَعَمْتم : تمہیں زعم تھا ] [فَدَعَوْهُمْ : تو وہ لوگ بلائیں گے ان کو ] [فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا : پھر وہ جواب نہیں دیں گے ] [لَهُمْ : ان کو ] [وَجَعَلْنَا : اور ہم بنادیں گے ] [بَيْنَهُمْ : ان مابین ] [مَّوْبِقًا : ایک ہلاک ہونے کی جگہ ]
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے

[وَرَاَ : اور دیکھیں گے ] [الْمُجْرِمُوْنَ : مجرم لوگ ] [النَارَ : آگ کو ] [فَظَنُّوْٓا : تو وہ سمجھ لیں گے ] [انهُمْ : کہ وہ لوگ ] [مُّوَاقِعُوْهَا : گرنے والے ہیں اس میں ] [وَلَمْ يَجِدُوْا : اور وہ نہیں پائیں گے ] [عَنْهَا : اس سے ] [مَصْرِفًا : (خود کو) پھیرنے کی کوئی جگہ ]
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے

[وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا : اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے ] [فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [مِنْ كُلِ مَثَلٍ : ہر ایک مثال میں سے ] [وَكَان الْانسَان : اور انسان ہے ] [اَكْثَرَ شَيْءٍ : ہر چیز سے زیادہ ] [جَدَلًا : بحث کرنے میں ]
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کوکس چیز نے روک دیا؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں!

[وَمَا مَنَعَ : اور نہیں روکا ] [النَاسَ : لوگوں کو ] [ان : کہ ] [يُّؤْمِنُوْٓا : وہ لوگ ایمان لائیں ] [اِذْ : جب ] [جَاۗءَهُمُ : آئی ان کے پاس ] [الْهُدٰى: ہدایت ] [وَ : اور (یہ کہ)] [يَسْتَغْفِرُوْا : مغفرت مانگیں ] [رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [اِلَّآ ان : سوائے (اس انتظار سے) کہ ] [تَاْتِيَهُمْ : پہنچے ان کے پاس ] [سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کا طریقہ ] [اَوْ : یا ] [يَاْتِيَهُمُ : پہنچے ان کے پاس ] [الْعَذَابُ : عذاب ] [قُبُلًا : سامنے سے ]
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

رسولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں مگر کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے

[وَمَا نُرْسِلُ : اور ہم نہیں بھیجتے ] [الْمُرْسَلِيْنَ : بھیجے ہوئوں (یعنی رسولوں) کو ] [اِلَّا : مگر ] [مُبَشِّرِيْنَ : بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ] [وَمُنْذِرِيْنَ : اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ] [وَيُجَادِلُ : اور بحث کرتے ہیں ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : کفر کیا ] [بِالْبَاطِلِ : باطل (دلیلوں) کے ساتھ ] [لِيُدْحِضُوْا : تاکہ وہ لوگ رد کردیں ] [بِهِ : اس (باطل) سے ] [الْحَقَّ : حق کو ] [وَاتَّخَذُوْٓا : اور وہ لوگ بناتے ہیں ] [اٰيٰتِيْ : میری نشانیوں کو ] [وَمَآ : اور اس کو جس سے ] [انذِرُوْا : انھیں ڈرایا گیا ] [هُزُوًا : مذاق کا ذریعہ ] د ح ض [دَحْضًا : (ف) ] کسی چیز کا اپنی جگہ سے پھسل جانا۔ دلیل کا باطل ہونا۔ رد ہونا داحض اسم الفاعل ہے۔ پھسلنے والا۔ رد ہونے والا، حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ (ان کی حجت رد ہونے والی ہے ان کے رب کے پاس) 42:16 (افعال) اِدْحَاضًا پھسلانا۔ رد کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 56 مُدْحَضٌ اسم المفعول ہے۔ پھسلایا جانے والا۔ ادا کیا جانے والا۔ فَسَاھَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْ حَضِیْنَ (پھر قرعہ ڈالا تو وہ تھا پھسلائے جانے والوں میں سے) 37:141 ۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منہ پھیرے اور اُس برے انجام کو بھول جائے جس کا سر و سامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلاؤ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے

[وَمَنْ : اور کون ] [اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے ] [مِمَنْ : اس سے جس کو ] [ذُكِّرَ : یاد دہانی کرائی گئی ] [بِاٰيٰتِ رَبِهٖ : اس کے رب کی نشانیوں سے ] [فَاَعْرَضَ : تو اس نے اعراض کیا ] [عَنْهَا : ان سے ] [وَنَسِيَ : اور وہ بھول گیا ] [مَا : اس کو جو ] [قَدَّمَتْ : آگے کیا ] [يَدٰهُ : اس کے دونوں ہاتھوں نے ] [انا : بیـشک ہم نے ] [جَعَلْنَا : بنائے ] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [اَكِنَّةً : کچھ پردے ] [ان : کہ (کہیں)] [يَّفْقَهُوْهُ : وہ سمجھ لیں اس کو ] [وَفِيْٓ اٰذَانهِمْ : اور (بنایا) ان کے کانوں میں ] [وَقْرًا : ایک بوجھ ] [وَان : اور اگر ] [تَدْعُهُمْ : آپ ﷺ بلائیں گے ان کو ] [اِلَى الْهُدٰى: ہدایت کی طرف ] [فَلَنْ يَّهْتَدُوْٓا : تو وہ ہرگز ہدایت نہیں پائیں گے ] [اِذًا : تب تو ] [اَبَدًا : کبھی بھی ]
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے

[وَرَبُّكَ : اور آپ ﷺ کا رب ] [الْغَفُوْرُ : ہی بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ذُو الرَّحْمَةِ : رحمت والا ہے ] [لَوْ : اگر ] [يُؤَاخِذُهُمْ : وہ پکڑتا ان کو ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَسَبُوْا : انھوں نے کمایا ] [لَعَجَّلَ : تو وہ ضرور جلدی لے آتا ] [لَهُمُ : ان کے لئے ] [الْعَذَابَ : عذاب کو ] [بَلْ : بلکہ (یعنی لیکن)] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [مَّوْعِدٌ: وعدے کا ایک وقت ہے ] [لَّنْ يَّجِدُوْا : (اس وقت) وہ لوگ ہرگز نہیں پائیں گے ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [مَوْىِٕلًا : کوئی پناہ لینے کی جگہ ] و ء ل [وَأْلًا : (ض) ] پناہ لینا۔ مَوْگلٌ اسم الظرف ہے۔ پناہ لینے کی جگہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 58 ۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا

[وَتِلْكَ الْقُرٰٓى: اور یہ بستیاں ] [اَهْلَكْنٰهُمْ : ہم نے ہلاک کیا (اس کے ( لوگوں کو ] [لَمَا : جب ] [ظَلَمُوْا : انھوں نے ظلم کیا ] [وَجَعَلْنَا : اور ہم نے مقرر کیا ] [لِمَهْلِكِهِمْ : ان کے ہلاک ہونے کے لئے ] [مَّوْعِدًا : وعدے کا ایک وقت ] نوٹ۔ 1: انسان کو بحث کرنے کا اتنا زیردست چسکہ ہے کہ وہ قیامت میں اللہ تعالیٰ سے بھی بحث کرے گا۔ اس کا ثبوت ایک حدیث سے ملتا ہے جو ہم معارف القرآن سے نقل کر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا۔ اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا۔ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا، آپ کے رسول پر بھی، اور عمل میں ان کی اطاعت کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا نامۂ اعمال سامنے رکھا ہے۔ اس میں تو یہ کچھ بھی نہیں۔ یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے جو تمہاری نگرانی کرنے والے تھے وہ تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں۔ یہ کہے گا کہ میں ان کی شہادت کو بھی نہیں مانتا، نہ ان کو پہچانتا ہوں اور نہ میں نے ان کو اپنے عمل کے وقت دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو یہ لوح محفوظ سامنے ہے۔ اس میں بھی تیرا یہی حال لکھا ہے۔ وہ کہے گا کہ میرے پروردگار ! آپ نے مجھے ظلم سے پناہ دی ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بیشک ظلم سے تو ہماری پناہ میں ہے۔ اب وہ کہے گا کہ میرے پروردگار میں ایسی غیبی شہادتوں کو کیسے مانوں جو میری دیکھی بھالی نہیں ہیں۔ میں تو ایسی شہادت کو مان سکتا ہوں جو میرے نفس کی طرف سے ہو۔ اس وقت اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ہاتھ پائوں اس کے کفر و شرک پر گواہی دیں گے۔ اس کے بعد اس کو آزاد کردیا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ مرزا غالب نے یہ حدیث پڑھ کے ہی کہا تھا کہ : پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

(ذرا اِن کو وہ قصہ سناؤ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ "میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں ایک زمانہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا"

[وَاِذْ : اور جب ] [قَالَ : کہا ] [مُوْسٰي : موسٰی (علیہ السلام) نے ] [لِفَتٰىهُ : اپنے نوجوان سے ] [لَآ اَبْرَحُ : میں نہیں چھوڑوں گا (یہ سفر)] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [اَبْلُغَ : میں پہنچوں ] [مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ : دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ] [اَوْ : یا ] [اَمْضِيَ : یہاں تک کہ میں گزرتا ہوں ] [حُقُبًا : مدتوں ] ح ق ب [حَقَبًا : (س) ] سال کا بغیر بارش والا ہونا۔ حُقْبٌ ج حُقُبٌ۔ جمع الجمع اَحْقَابٌ۔ اسّی سال یا اس سے زائد کا زمانہ۔ عرصہ دراز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 60 ۔ لٰبِثِیْنَ فِیْھَا اَحْقَابًا (ٹھہرنے والے ہیں اس میں مدتوں) 78:23 ۔ ترکیب : (آیت۔ 60 ۔ حَتّٰی پر عطف ہونے کی وجہ سے فعل مضارع اَمْضِیْ حالت نصب میں اَمْضِیَ آیا ہے۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہو گئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ لگی ہو

[فَلَمَا : پھر جب ] [بَلَغَا : وہ دونوں پہنچے ] [مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا : ان دونوں (سمندروں) کے درمیان ملنے کی جگہ ] [نَسِيَا : تو وہ دونوں بھول گئے ] [حُوْتَهُمَا : اپنی مچھلی کو ] [فَاتَّخَذَ : تو اس نے بنایا ] [سَبِيْلَهٗ : اپنا راستہ ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [سَرَبًا : نشیب میں گھستے ہوئے ] (آیت۔ 61) ۔ مَجْمَعَ مضاف ہے بَیْنِھِمَا کا اور ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ سَرَبًا حال ہے۔
Ayah 18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا " لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں"

[فَلَمَا : پھر جب ] [جَاوَزَا : وہ دونوں آگے بڑھے ] [قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِفَتٰىهُ : اپنے نوجوان سے ] [اٰتِنَا : تو دے ہم کو ] [غَدَاۗءَنَا : ہمارے ناشتہ ] [لَقَدْ لَقِيْنَا : بیشک ہم ملے ہیں ] [مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا : اپنے اس سفر میں ] [نَصَبًا : مشقت سے ] (آیت۔ 62) ۔ فَتًی مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ یعنی رفع، نصب، جر، تینوں حالتوں میں یہ فَتًی ہی رہتا ہے۔ جب اس پر لام تعریف داخل ہو یا مضاف ہو تو تینوں حالتوں میں یہ اَلْفَتٰی یا فَتٰی آتا ہے۔ اس لئے یہاں لِفَتٰہُ میں حرف جز لِ کا عمل ظاہر نہیں ہوا۔ نَصَبًا مفعول ہے یَقِیْنَا کا۔
Ayah 18:63

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے کہا "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی"

[قَالَ : اس (نوجوان) نے کہا ] [اَ : کیا ] [رَءَيْتَ : آپ (علیہ السلام) نے دیکھا ] [اِذْ : جب ] [اَوَيْنَآ : ہم ٹھہرے ] [اِلَى الصَّخْرَةِ : اس چٹان پر ] [فَانى: تو بیشک میں ] [نَسِيْتُ : بھول گیا ] [الْحُوْتَ : مچھلی کو ] [وَمَآ انسٰنِيْهُ : اور نہیں بھلایا مجھ کو ] [اِلَّا : مگر ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ان : کہ ] [اَذْكُرَهٗ : میں ذکر کروں اس کا ] [وَاتَّخَذَ : اور اس (مچھلی) نے بنایا ] [سَبِيْلَهٗ : اپنا راستہ ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [عَجبا : عجیب ہوتے ہوئے ] ص خ ر ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔ صَخْرَۃٌ ج صَخْرٌ۔ چٹان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63 ۔ اَلَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ (جنہوں نے تراشیں چٹانیں وادی میں) 89:29 ۔
Ayah 18:64

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "اسی کی تو ہمیں تلاش تھی" چنانچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر پھر واپس ہوئے

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ذٰلِكَ مَا : یہ وہ ہے جس کو ] [كُنَا نَبْغِ : ہم تلاش کر رہے تھے ] [فَارْتَدَّا : پھر وہ دونوں لوٹے ] [عَلٰٓي اٰثَارِهِمَا : اپنے نقوش قدم پر ] [قَصَصًا : پیچھا کرتے ہوئے ] (آیت۔ 64) ۔ نَبْغِ مجزوم نہیں ہے کیونکہ یہاں مضارع کو مجزوم کرنے والا کوئی عامل نہیں ہے۔ اس لئے یہ دراصل مضارع نَبْغِیْ ہی ہے۔ اس جگہ اس کو نَبْعِ لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ نوٹ۔ 1: یہ قصّہ سنانے سے مقصود کفار اور مؤمنین دونوں کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ دیکھتی ہے، اس سے غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں نہیں ہوتیں جن کو ملحوظ رکھ کر وہ کام کرتا ہے۔ ظالموں کا پھلتا پھولنا اور بےگناہوں کا تکلیف میں مبتلا ہونا وغیرہ وہ مناظر ہیں جن سے عام طور پر ذہنوں میں الجھنیں اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کافر ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہاں جس کا جو جی چاہے کرتا رہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ مومن اس طرح کے واقعات کو دیکھ کر دل شکستہ ہوتے ہیں اور بسا اوقات ایمان تک متزلزل ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو اپنے کارخانۂ مشیت کا پردہ اٹھا کر اس کی ایک جھلک دکھائی تھی تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے کیسے کن مصلحتوں سے ہو رہا ہے اور کس طرح واقعات کا ظاہر ان کے باطن سے مختلف ہوتا ہے۔ حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا، اس کی کوئی تصریح قرآن نے نہیں کی۔ البتہ جب ہم خود اس قصے کی تفصیلات پر غور کرتے ہیں تو دو باتیں صاف سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مشاہدات حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ان کی نبوت کے ابتدائی دور میں کرائے گئے ہوں گے۔ کیونکہ آغاز نبوت میں ہی انبیاء (علیہم السلام) کو اس طرح کی تعلیم و تربیت درکار ہوا کرتی ہے۔ دوسرے یہ کہ حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ان مشاہدات کی ضرورت اس زمانے میں پیش آئی ہوگی جبکہ بنی اسرائیل کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آ رہا ہوگا جن سے مسلمان مکۂ معظمہ میں دوچار تھے۔ جس بندے سے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کی ملاقات ہوئی تھی، ان کا نام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لئے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس (علیہ السلام) کی طرف اس قصّہ کو منصوب کرتے ہیں۔ ان کا قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت موسٰی (علیہ السلام) کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسٰی (علیہ السلام) کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسٰی (علیہ السلام) کے خلیفہ ہوئے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 18:65

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا

[فَوَجَدَا : تو ان دونوں نے پایا ] [عَبْدًا : ایک ایسا بندہ ] [مِّنْ عِبَادِنَآ : ہمارے بندوں میں سے ] [اٰتَيْنٰهُ : ہم نے دی تھی جس کو ] [رَحْمَةً : ایک رحمت ] [مِّنْ عِنْدِنَا : اپنے پاس سے ] [وَعَلَّمْنٰهُ : اور ہم نے تعلیم دی تھی جس کو ] [مِنْ لَّدُنَا : اپنے خزانے سے ] [عِلْمًا : ایک علم کی ]
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰؑ نے اس سے کہا "کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کوسکھائی گئی ہے؟"

[قَالَ : کہا ] [لَهٗ : ان سے ] [مُوْسٰي : موسٰی (علیہ السلام) نے ] [هَلْ : کیا ] [اَتَّبِعُكَ : میں ساتھ ساتھ چلوں آپ کے ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [تُعَلِمَنِ : آپ تعلیم دیں مجھ کو ] [مِمَا : اس سے جو ] [عُلِمْتَ : تعلیم دی گئی آپ کو ] [رُشْدًا : معاملہ فہمی کی ]
Ayah 18:67

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس نے جواب دیا "آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [انكَ : کہ آپ (علیہ السلام) ] [لَنْ تَسْتَطِيْعَ : ہرگز صلاحیت نہیں رکھیں گے ] [مَعِيَ : میرے ساتھ ] [صَبْرًا : صبر کرنے کی ]
Ayah 18:68

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں"

[وَكَيْفَ : اور کیسے ] [تَصْبِرُ : آپ (علیہ السلام) صبر کریں گے ] [عَلٰي مَا : اس پر ] [لَمْ تُحِطْ : آپ (علیہ السلام) نے احاطہ نہیں کیا ] [بِهٖ : جس کا ] [خُبْرًا : بلہاظ علم کے ]
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "انشاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [سَتَجِدُنِيْٓ: آپ پائیں گے مجھ کو ] [ان : اگر ] [شَاۗءَ : چاہا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [صَابِرًا : صبر کرنے والا ] [وَّلَآ اَعْصِيْ : اور میں نافرمانی نہیں کروں گا ] [لَكَ : آپ کی ] [اَمْرًا : کسی کام میں ]
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس نے کہا "اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں"

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [فَان : پھر اگر ] [اتَّبَعْتَنِيْ : آپ (علیہ السلام) ساتھ ساتھ چلتے ہیں میرے ] [فَلَا تَسْــــَٔـلْنِيْ : تو آپ (علیہ السلام) مت پوچھیں مجھ سے ] [عَنْ شَيْءٍ : کسی چیز کے بارے میں ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [اُحْدِثَ : میں وجود دوں ] [لَكَ : آپ (علیہ السلام) کے لئے ] [مِنْهُ : اس میں سے ] [ذِكْرًا : کسی بات کو ]
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی"

[فَانطَلَقَا : پھر وہ دونوں چلے ] [ ۪حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [رَكِبَا : وہ دونوں سوار ہوئے ] [فِي السَّفِيْنَةِ : کشتی میں ] [خَرَقَهَا : تو انھوں نے پھاڑ دیا اس (کشتی) کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [اَ : کیا ] [خَرَقْتَهَا : آپ نے پھاڑا اس کو ] [لِتُغْرِقَ : کہ آپ ڈبو دیں ] [اَهْلَهَا : اس کے لوگوں کو ] [لَقَدْ جِئْتَ : بیشک آپ آئے ہیں ] [شَيْــــًٔـا اِمْرًا : ایک ناپسندیدہ چیز کے پاس ]
Ayah 18:72

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [لَمْ اَقُلْ : میں نے نہیں کہا تھا ] [انكَ : کہ آپ (علیہ السلام) ] [لَنْ تَسْتَطِيْعَ : ہرگز صلاحیت نہیں رکھیں گے ] [مَعِيَ : میرے ساتھ ] [صَبْرًا : صبر کرنے و کی ]
Ayah 18:73

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَا تُؤَاخِذْنِيْ : آپ مت پکڑیں مجھ کو ] [بِمَا : اس کے سبب سے جو ] [نَسِيْتُ : میں بھول گیا ] [وَلَا تُرْهِقْنِيْ : اور آپ نہ ڈالیں مجھ پر ] [مِنْ اَمْرِيْ : میرے کام (کی وجہ) سے ] [عُسْرًا : مشکل کو ]
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا"

[فَانطَلَقَا : پھر وہ دونوں چلے ] [حَتّىٰٓ: یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [لَقِيَا : وہ دونوں ملے ] [غُلٰمًا : ایک لڑکے سے ] [فَقَتَلَهٗ : تو انھوں نے قتل کیا اس کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [اَ : کیا ] [قَتَلْتَ : آپ نے قتل کیا ] [نَفْسًا زَكِيَّةًۢ: ایک پاکیزہ (معصوم) جان کو ] [بِغَيْرِ نَفْسٍ : کسی جان (کے بدلے) کے بغیر ] [لَقَدْ جِئْتَ : بیشک آپ آئے ہیں ] [شَـيْــــًٔـا نُّكْرًا : ایک ناگوار چیز کے پاس ] غ ل م [غَلَمًا : (س) ] شراب کا جوش مارنا۔ موجوں کا زور سے اٹھنا۔ غُلَامٌ ج غِلْمَانٌ۔ (1) نوجوان لڑکا۔ پھر ہر عمر کے لڑکے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 74 ۔ اور اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَ قَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ (کہاں سے ہوں گے میرے لئے کوئی لڑکا اس حال میں کہ پہنچ چکا ہے مجھ کو بڑھاپا) ۔ 3:40 (2) خادم ۔ نوکر۔ وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ (اور طواف کریں گے ان کے گرد ان کے خدمت گزار) 52:24 ۔
Ayah 18:75

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

اُس نے کہا " میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [ لَمْ اَقُلْ : میں نے نہیں کہا تھا ] [لَّكَ : آپ (علیہ السلام) سے ] [انكَ : کہ آپ (علیہ السلام) ] [لَنْ تَسْتَطِيْعَ : ہرگز صلاحیت نہیں رکھیں گے ] [مَعِيَ : میرے ساتھ ] [صَبْرًا : صبر کرنے کی ]
Ayah 18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا " اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ان : اگر ] [سَاَلْتُكَ : میں پوچھوں آپ سے ] [عَنْ شَيْءٍۢ: کسی چیز کے بارے میں ] [بَعْدَهَا : اس کے بعد ] [فَلَا تُصٰحِبْنِيْ : تو آپ ساتھی نہ بنائیں مجھ کو ] [قَدْ بَلَغْتَ : آپ پہنچ چکے ہیں ] [مِنْ لَّدُنِّىْ : میرے پاس سے ] [عُذْرًا : عذر کو ]
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جوگرا چاہتی تھی اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کر دیا موسیٰؑ نے کہا " اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اُجرت لے سکتے تھے"

[فَانطَلَقَا ۪: پھر وہ دونوں چلے ] [حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَآ : جب ] [اَتَيَآ : وہ دونوں پہنچے ] [اَهْلَ قَرْيَـةِۨ: ایک بستی والوں کے پاس ] [اسْـتَطْعَمَآ : تو دونوں نے کھانا مانگا ] [اَهْلَهَا : اس (بستی) کے لوگوں سے ] [فَاَبَوْا : تو انھوں نے انکار کیا ] [ان : کہ ] [يُّضَيِّفُوْهُمَا : وہ مہمان بنائیں دونوں کو ] [فَوَجَدَا : پھر دونوں نے پایا ] [فِـيْهَا : اس (بستی) میں ] [جِدَارًا : ایک ایسی دیوار کو جو ] [يُّرِيْدُ : ارادہ کرتی تھی ] [ان : کہ ] [يَّنْقَضَّ : وہ گرپڑے ] [فَاَقَامَهٗ : تو انھوں نے کھڑا کردیا اس کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَوْ : اگر ] [شِئْتَ : آپ چاہتے ] [لَتَّخَذْتَ : تو آپ پکڑتے ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [اَجْرًا : کوئی اجرت ] ق ض ض [قَضَّا : (ن) ] میخ اکھاڑنا۔ دیوار کو ڈھانا۔ گرانا (انفعال) اِنْقِضَاضًا دیوار کا پھٹ جانا۔ گرپڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 77
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

اُس نے کہا "بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [ھٰذَا : یہ ] [فِرَاقُ بَيْنِيْ وَبَيْنِكَ : آپ (علیہ السلام) کے درمیان اور میرے درمیان کی جدائی ہے ] [سَانبِئُكَ : میں بتادوں گا آپ (علیہ السلام) کو ] [بِتَاْوِيْلِ مَا : اس کی تعبیر ] [لَمْ تَسْتَطِعْ : آپ (علیہ السلام) نے صلاحیت نہیں رکھی ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [صَبْرًا : صبر کرنے کی ]
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا

[اَمَا : وہ جو ] [السَّفِيْنَةُ : کشتی تھی ] [فَكَانتْ : تو وہ تھی ] [لِمَسٰكِيْنَ : کچھ ایسے مسکینوں کے لئے جو ] [يَعْمَلُوْنَ : عمل (یعنی مزدوری) کرتے تھے ] [فِي الْبَحْرِ : دریا میں ] [فَاَرَدْتُّ : پس میں نے ارادہ کیا ] [ان : کہ ] [اَعِيْبَهَا : میں عیب دار کر دوں اس کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [كَان : تھا ] [وَرَاۗءَهُمْ : ان کے پیچھے ] [مَّلِكٌ: ایک ایسا بادشاہ جو ] [يَّاْخُذُ : پکڑتا تھا ] [كُلَّ سَفِيْنَةٍ : ہر ایک کشتی کو ] [غَصْبًا : غضب کرتے ہوئے ] ع ی ب [عَیْبًا : (ض) ] عیب دار ہونا۔ عیب دار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 79 غ ص ب [غَضْبًا : (ض) ] زبردستی چھین لینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 79
Ayah 18:80

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا

[وَاَمَا : اور وہ جو ] [الْغُلٰمُ : لڑکا تھا ] [فَكَان : تو تھے ] [اَبَوٰهُ : اس کے والدین ] [مُؤْمِنَيْنِ : مومن ] [فَخَشِيْنَآ : پھر ہمیں اندیشہ ہوا ] [ان : کہ ] [يُّرْهِقَهُمَا : وہ ڈال دے ان دونوں پر ] [طُغْيَانا : سرکشی ] [وَّكُفْرًا : اور ناشکری ]