20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے

[وَاصْطَنَعْتُكَ : اور میں نے اہتمام سے پروان چڑھایا آپ (علیہ السلام) کو ] [لِنَفْسِيْ : اپنے آپ کے لئے ]
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا

[اِذْهَبْ : آپ (علیہ السلام) جائیں ] [انتَ : آپ (علیہ السلام) ] [وَاَخُوْكَ : اور آپ (علیہ السلام) کے بھائی ] [بِاٰيٰتِيْ : میری نشانیوں کے ساتھ ] [وَلَا تَنِيَا : اور آپ (علیہ السلام) دونوں سستی نہ کریں ] [فِيْ ذِكْرِيْ : میری یاد میں ] و ن ی [وَنْیًا : (ض) ] سست ہونا۔ تھکنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 42
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے

[اِذْهَبَآ : آپ (علیہ السلام) دونوں جائیں ] [اِلٰى فِرْعَوْنَ : فرعون کی طرف ] [انهٗ : بیشک اس نے ] [طَغٰى: سرکشی کی ہے ]
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے"

[فَقُوْلَا : پھر تم دونوں کہنا ] [لَهٗ : اس سے ] [قَوْلًا لَّيِّنًا : نرم بات ] [لَّعَلَهٗ : شاید کہ وہ ] [يَتَذَكَّرُ : نصیحت حاصل کرے ] [اَوْ يَخْشٰى: یا وہ ڈرے ]
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے عرض کیا " پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا"

[قَالَا : دونوں نے کہا ] [رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [اننَا نَخَافُ : بیشک ہم ڈرتے ہیں ] [ان : کہ ] [يَّفْرُطَ : وہ زیادتی کرے ] [عَلَيْنَآ : ہم پر ] [اَوْ ان : یا یہ کہ ] [يَّــطْغٰي : وہ سرکشی کرے (پیغام سے)]
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا " ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [لَا تَخَافَآ : تم دونوں مت ڈرو ] [اننِيْ : بیشک میں ] [مَعَكُمَآ : تم دونوں کے ساتھ ہوں ] [اَسْمَعُ : میں سنتا ہوں ] [وَاَرٰى: اور میں دیکھتا ہوں ]
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے

[فَاْتِيٰهُ : پس تم دونوں پہنچو اس کے پاس ] [فَقُوْلَآ : پھر تم دونوں کہو ] [انا : کہ ہم دونوں ] [رَسُوْلَا رَبِكَ : تیرے رب کے رسول ہیں ] [فَاَرْسِلْ : پس تو بھیج ] [مَعَنَا : ہمارے ساتھ ] [بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ : بنی اسرائیل کو ] [وَلَا تُعَذِّبْهُمْ : اور تو عذاب مت دے ان کو ] [قَدْ جِئْنٰكَ : ہم آئے ہیں تیرے پاس ] [بِاٰيَةٍ : ایک نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِكَ : تیرے رب (کی طرف) سے ] [وَالسَّلٰمُ : اور سلامتی ہے ] [عَلٰي مَنِ : اس پر جس نے ] [اتَّبَعَ : پیروی کی ] [الْهُدٰى: ہدایت کی ] نوٹ۔ 1: آیات 47 ۔ 48 ۔ میں فرعون کو اللہ کا جو پیغام دیا گیا، اس پر سنجیدہ طریقے سے غور کرنے کے بجائے فرعون نے سوال کیا کہ اچھا اگر رب کے پاس سے آئے ہو تو ذرا پچھلی قوموں کا حال سنائو کہ ان کا کیا بنا اور وہ کس حال میں ہیں۔ اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ اہل دربار میں ایک تعصب بھڑکا دیا جائے اور بات اصل موضوع یعنی اللہ کی تذکیر سے ہٹ جائے۔ جواب میں اگر حضرت موسٰی (علیہ السلام) یہ کہتے کہ پہلی امتوں کے لوگ گمراہ اور جہنمی تھے تو چاہے یہ حق گوئی کا بڑا زبردست نمونہ ہوتا، مگر یہ جواب حضرت موسٰی (علیہ السلام) کے بجائے فرعون کے مقصد کی زیادہ خدمت انجام دیتا۔ اس لیے حضرت موسٰی (علیہ السلام) نے دانائی سے ایسا جواب دیا جو بجائے خود حق بھی تھا اور ساتھ ساتھ اس نے فرعون کے زہریلے دانت بھی توڑ دیئے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ لوگ اپنا کام کر کے خدا کی ہاں جا چکے ہیں۔ ان کا پورا ریکارڈ اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ ان سے جو بھی معاملہ خدا کو کرنا ہے اس کو وہی جانتا ہے۔ مجھے اور تمہیں یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ ہمیں تو اس کی فکر ہونی چاہیے کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔ اس طرح موسٰی (علیہ السلام) نے بات کا رخ پھر اصل موضوع کی طرف موڑ دیا۔ (تدبر قرآن اور تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جھُٹلائے اور منہ موڑے"

[انا : بیشک ] [قَدْ اُوْحِيَ : وحی کی گئی ہے ] [اِلَيْنَآ : ہماری طرف ] [ان : کہ ] [الْعَذَابَ : عذاب ] [عَلٰي مَنْ : اس پر ہے جس نے ] [كَذَّبَ : جھٹلایا ] [وَتَوَلّٰى: اور منہ موڑا ]
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا " اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ؟"

[قَالَ : (فرعون نے) کہا ] [فَمَنْ : تو کون ] [رَّبُّكُمَا : تم دونوں کا رب ہے ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا "ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبُّنَا : ہمارا رب ] [الَّذِيٓ: وہ ہے جس نے ] [اَعْطٰي : عطا کی ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز کو ] [خَلْقَهٗ : اس کی پیدائش ] [ثُمَّ : پھر ] [هَدٰى: اس نے ہدایت دی ]
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون بولا "اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟"

[قَالَ : (فرعون نے) کہا ] [فَمَا : تو کیا ہے ] [بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى: پہلی امتوں کی حالت ]
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "اُس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے میرا رب نہ چُوکتا ہے نہ بھُولتا ہے"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [عِلْمُهَا : اس کا علم ] [عِنْدَ رَبِيْ : میرے رب کے پاس ] [فِيْ كِتٰبٍ : ایک کتاب میں ہے ] [لَا يَضِلُّ : نہیں بھٹکتا ] [رَبِيْ : میرا رب ] [وَلَا يَنْسَى: اور نہ وہ بھولتا ہے ]
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی

[الَّذِي : وہ، وہ ہے جس نے ] [جَعَلَ : بنایا ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [مَهْدًا : ایک بچھونا ] [وَّسَلَكَ : اور اس نے ڈالے ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [سُبُلًا : کچھ راستے ] [وَّ انزَلَ : اور اس نے اتارا ] [مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَاَخْرَجْنَا (رح) : پھر ہم نے نکالے ] [بِهٖٓ: اس سے ] [اَزْوَاجًا : کچھ جوڑے ] [مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى: متفرق سبزوں میں سے ] ش ت ت [شَتًّا : (ض) ] پراگندہ ہونا۔ متفرق ہونا۔ شَتٌّ ج اَشْتَاتٌ۔ پراگندہ۔ الگ الگ۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا (تم لوگوں پر کوئی گرفت نہیں ہے کہ تم لوگ کھائو اکٹھا ہوتے ہوئے یا الگ الگ ہوتے ہوئے) 24:61 شَتِیْتٌ ج شَتّٰی۔ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ متفرق۔ الگ الگ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چَراؤ یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے

[كُلُوْا : تم لوگ کھائو ] [وَارْعَوْا : اور چرائو ] [انعامکُمْ : اپنے مویشیوں کو ] [ان : بیشک ] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [لِاُولِي النُّهٰى: عقل والوں کے لئے ]
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے، اِسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے

[مِنْهَا : اس سے ] [خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے پیدا کیا تم لوگوں کو ] [وَفِيْهَا : اور اس میں ] [نُعِيْدُكُمْ : ہم لوٹائیں گے تم لوگوں کو ] [وَمِنْهَا : اس سے ] [نُخْرِجُكُمْ : ہم نکالیں گے تم لوگوں کو ] [تَارَةً اُخْرٰى: دوسری مرتبہ ]
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا

[وَلَقَدْ اَرَيْنٰهُ : اور بیشک ہم دکھا چکے تھے اس (فرعون) کو ] [اٰيٰتِنَا : اپنی نشانیاں ] [كُلَّهَا : ان کی سب ] [فَكَذَّبَ : تو اس نے جھٹلایا ] [وَاَبٰى: اور انکار کیا ]
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا "اے موسیٰؑ، کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟

[قَالَ : اس نے کہا ] [اَ : کیا ] [جِئْتَنَا : آپ (علیہ السلام) آئے ہمارے پاس ] [لِتُخْرِجَنَا : کہ آپ (علیہ السلام) نکالیں ہم کو ] [مِنْ اَرْضِنَا : ہماری زمین سے ] [بِسِحْرِكَ : اپنے جادو سے ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویساہی جادو لاتے ہیں طے کر لے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تو پھریو کھُلے میدان میں سامنے آ جا"

[فَلَنَاتِيَنَّكَ : تو ہم لازماً لائیں گے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [بِسِحْرٍ : ایک جادو ] [مِّثْلِهٖ : اس کے جیسا ] [فَاجْعَلْ : پس آپ (علیہ السلام) بنائیں ] [بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [وَبَيْنَكَ : اور آپ (علیہ السلام) کے درمیان ] [مَوْعِدًا : وعدے کا ایک وقت ] [لَّا نُخْلِفُهٗ : ہم خلاف نہ کریں جس کے ] [نَحْنُ : ہم ] [وَلَآ انتَ : اور نہ ہی آپ (علیہ السلام) ] [مَكَانا سُوًى: ایک برابر جگہ (یعنی کھلے میدان) میں ] نوٹ۔ 1: موسٰی (علیہ السلام) کو مقابلہ کی دعوت دینے سے فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک مرتبہ جادوگروں سے لاٹھیوں کو سانپ بنوا کر دکھا دیا جائے تو موسٰی (علیہ السلام) کے معجزے کا جو اثر لوگوں کے دلوں پر ہوا ہے وہ دور ہوجائے گا۔ موسٰی (علیہ السلام) نے ان کے جشن کے دن کا انتخاب کیا تاکہ فرعون کے درباریوں کے ساتھ عوام بھی یہ مقابلہ دیکھ لیں۔ پھر مقابلہ شروع کرنے سے پہلے موسٰی (علیہ السلام) نے جو خطاب کیا اس سے لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ تفہیم القرآن میں ہے کہ یہ اختلاف فرعون کے درباریوں میں ہوا تھا۔ جبکہ معارف القرآن میں ہے کہ اختلاف ساحروں میں ہوا کہ یہ کلمات کوئی جادوگر نہیں کہہ سکتا، یہ تو اللہ ہی کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں گروہوں میں آپس میں اختلاف ہوا، پھر درباریوں میں جوشیلے عنصر نے جہاندیدہ لوگوں کی بات نہ چلنے دی ہو اور فرعون سے مقابلہ کرانے کا فیصلہ کرا کے ساحروں کو سمجھایا ہو کہ یہ دونوں بس جادوگر ہیں اور تمہاری حکومت اور تمہاری بےمثال تہذیب کو غارت کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے اپنے اختلاف ختم کر کے پوری تیاری کے ساتھ متحد ہو کر مقابلے کے لئے آئو۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "جشن کا دن طے ہوا، ا ور دن چڑھے لوگ جمع ہوں"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [مَوْعِدُكُمْ؛تم لوگوں کے وعدے کا وقت ] [يَوْمُ الزِّيْنَةِ : زینت (یعنی جشن) کا دن ہے ] [وَان : اور یہ کہ ] [يُّحْشَرَ : اکٹھا کئے جائیں ] [النَاسُ : لوگ ] [ضُـحًي : چاشت کے وقت ]
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آ گیا

[فَتَوَلّٰى: تو پلٹا (یعنی واپس ہوا)] [فِرْعَوْنُ : فرعون ] [فَـجَمَعَ : پھر اس نے جمع کی ] [كَيْدَهٗ : اپنی خفیہ تدبیر (یعنی مکمل تیاری کی)] [ثُمَّ اَتٰى: پھر وہ پہنچا (وعدے کی جگہ پر)]
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰؑ نے (عین موقع پر گروہ مقابل کو مخاطب کر کے) کہا "شامت کے مارو، نہ جھُوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا"

[قَالَ : کہا ] [لَهُمْ : ان لوگوں سے ] [مُّوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) نے ] [وَيْلَكُمْ : تم لوگوں کی ہلاکت ہے ] [لَا تَفْتَرُوْا : تم لوگ مت گھڑو ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [كَذِبًا : کوئی جھوٹ ] [فَيُسْحِتَكُمْ : ورنہ وہ اکھاڑ پھینکے گا تم کو ] [بِعَذَابٍ : کسی عذاب سے ] [وَ : اور ] [قَدْ خَابَ : نامراد ہوگیا ] [مَنِ : وہ جس نے ] [افْتَرٰى: (جھوٹ) گھڑا ]
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

یہ سُن کر اُن کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے

[فَتَنَازَعُوْٓا : تو (یہ سن کر) انھوں نے اختلاف کیا ] [اَمْرَهُمْ : اپنے معاملہ میں ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [وَاَسَرُّوا : اور انھوں نے پوشیدہ کیا ] [النَّجوٰى: سرگوشی ]
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

آخر کار کچھ لوگو ں نے کہا کہ "یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کر دیں

[قَالُوْٓا : (پھر) انھوں نے کہا ] [ان : بیشک ] [ھٰذٰىنِ : یہ دونوں ] [لَسٰحِرٰنِ : یقینا جادوگر ہیں ] [يُرِيْدٰنِ : چاہتے ہیں ] [ان : کہ ] [يُّخْرِجٰكُمْ : وہ دونوں نکال دیں تم لوگوں کو ] [مِّنْ اَرْضِكُمْ : تمہاری زمین سے ] [بِسِحْرِهِمَا : اپنے جادو سے ] [وَيَذْهَبَا : اور وہ دونوں لے جائیں ] [بِطَرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى: تمہارے افضل طریقے (یعنی تہذیب) کو ] ترکیب : (آیت۔ 63) اس آیت میں اِنْ کو نافیہ ماننے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اِنْ نافیہ کے بعد عموماً اِلَّا آتا ہے جو کہ یہاں نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لَسٰحِرٰنِ پر لام تاکید لگا ہوا ہے جو کہ عموماً اِنَّ کی خبر پر آتا ہے۔ اس لئے اسے اِنْ مخففہ ماننے کو ترجیح دی گئی ہے۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور اَیکا کر کے میدان میں آؤبس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا"

[فَاَجْمِعُوْا : پس تم لوگ جمع کرو ] [كَيْدَكُمْ : اپنے دائوں پیچ ] [ثُمَّ : پھر ] [ائْتُوْا : تم سب آئو ] [صَفًّا : صف بنائے ہوئے ] [وَقَدْ اَفْلَحَ : اور مراد پا لی ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [مَنِ : اس نے جو ] [اسْتَعْلٰى: غالب ہوا ]
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگر بولے "موسیٰؑ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟"

[قَالُوْا : (جادو گروں نے) کہا ] [يٰمُوْسٰٓى: اے موسٰی (علیہ السلام) ] [اِمَآ : یا یہ ] [ان : کہ ] [تُلْقِيَ : آپ (علیہ السلام) ڈالیں ] [وَاِمَآ : اور یا یہ ] [ان : کہ ] [نَّكُوْنَ : ہم ہوں ] [اَوَّلَ مَنْ : اس کے پہلے جو ] [اَلْقٰي : ڈالے ]
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "نہیں، تم ہی پھینکو" یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادو کے زور سے موسیٰؑ کو دَوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [بَلْ : بلکہ ] [اَلْقُوْا : تم لوگ ڈالو ] [فَاِذَا : پھر تب ہی ] [حِبَالُهُمْ : ان کی رسیاں ] [وَعِصِيُّهُمْ : اور ان کی لاٹھیاں ] [يُخَيَّلُ : تصور میں دی گئیں ] [اِلَيْهِ : ان (علیہ السلام) کی طرف ] [مِنْ سِحْرِهِمْ : ان کے جادو سے ] [انهَا : کہ وہ ] [تَسْعٰي : دوڑتی ہیں ]
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

اور موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گیا

[فَاَوْجس : تو محسوس کیا ] [فِيْ نَفْسِهٖ : اپنے جی میں ] [خِيْفَةً : ایک خوف ] [مُّوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) نے ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 67 ۔ میں قرآن اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ عام انسانوں کی طرح پیغمبر بھی جادو سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اگرچہ جادوگر اس کی نبوت سلب کرلینے، یا اس کے اوپر نازل ہونے والی وحی میں خلل ڈال دینے یا اس کو گمراہ کردینے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن کچھ دیر کے لئے اس کے قوٰی پر یک گونہ اثر ضرور ڈال سکتا ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی کھل جاتی ہے جو احادیث میں نبی ﷺ پر جادو کا اثر ہونے کی روایات پڑھ کر نہ صرف ان روایات کی تکذیب کرتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر تمام حدیثوں کو ناقابلِ اعتبار قرار دینے لگتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا

[قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لَا تَخَفْ : آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] [انكَ : بیشک آپ (علیہ السلام) ] [انتَ الْاَعْلٰى: ہی غالب ہیں ]
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے"

[وَاَلْقِ : اور آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] [مَا : اس کو جو ] [فِيْ يَمِيْنِكَ : آپ (علیہ السلام) کے داہنے ہاتھ میں ہے ] [تَلْقَفْ : تو وہ نگل لے گا ] [مَا : اس کو جو ] [صَنَعُوْا : ان لوگوں نے کاریگری کی ] [انمَا : بیشک وہ جو ] [صَنَعُوْا : انھوں نے کاریگری کی ] [كَيْدُ سٰحِرٍ : جادو کرنے والے کی چالبازی ہے ] [وَلَا يُفْلِحُ : اور مراد نہیں پاتا ] [السَّاحِرُ : جادو کرنے والا ] [حَيْثُ : جہاں کہیں سے ] [اَتٰى: وہ آئے ] ترکیب : (آیت۔ 69) اِنَّمَا یہاں پر کلمۂ حصر نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر فعل صَنَعُوْا کا مفعول کَیْدَ سٰحِرٍ نصب میں آنا چاہیے تھا لیکن یہاں کَیْدُ سٰحِرٍحالت رفع میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں اِنَّمَا دراصل اِنَّ مَا ہے۔ اس طرح اِنَّ کا اسم مَا صَنَعُوْا ہے اور کَیْدُ سٰحِرٍ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

آخر کو یہی ہُوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے اور پکار اٹھے "مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے رب کو"

[فَاُلْقِيَ : تو ڈال دیئے گئے ] [السَّحَرَةُ : جادوگر لوگ ] [سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [اٰمَنَا : ہم ایمان لائے ] [بِرَبِ هٰرُوْنَ وَمُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ]
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا " تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہو گیا کہ یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے" (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)

[قَالَ : (فرعون نے) کہا ] [اٰمَنْتم لَهٗ : تم لوگوں نے بات مان لی اس کی ] [قَبْلَ ان : اس سے پہلے کہ ] [اٰذَنَ : میں اجازت دیتا ] [لَكُمْ : تم لوگوں کو ] [انهٗ : بیشک یہ ] [لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِي : یقینا تم لوگوں کا وہ بڑا ہے جس نے ] [عَلَّمَكُمُ : سکھایا تم لوگوں کو ] [السِّحْرَ : جادو ] [فَلَاُقَطِّعَنَّ : تو میں لازماً کاٹوں گا ] [اَيْدِيَكُمْ : تمہارے ہاتھ ] [وَاَرْجُلَكُمْ : اور تمہارے پائوں ] [مِّنْ خِلَافٍ : مخالف (طرف) سے ] [وَّلَاُوصَلِبَنَّكُمْ : اور میں لازماً پھانسی دوں گا تم لوگوں کو ] [فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ : کھجور کے تنوں میں ] [وَلَتَعْلَمُنَّ : اور تم لوگ لازماً جان لو گے ] [اَيُّنَآ : ہم میں کا کون ] [اَشَدُّ : زیادہ سخت ہے ] [عَذَابًا : بلحاظ عذاب کے ] [وَّاَبْقٰي : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے ] (آیت۔ 71) لَاُ وصَلِّبَنَّکُمْ میں وائو زائدہ ہے جو لکھی جاتی ہے، پڑھی نہیں جاتی۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

جادوگروں نے جواب دیا "قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آ جانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں، تُو جو کچھ کرنا چاہے کر لے تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے

[قَالُوْا : (جادوگروں نے) کہا ] [لَنْ نُّؤْثِرَكَ : ہم ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تجھ کو ] [عَلٰي مَا : ان پر جو ] [جَاۗءَنَا : آئیں ہمارے پاس ] [مِنَ الْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) میں سے ] [وَالَّذِي : اور اس پر جس نے ] [فَطَرَنَا : وجود بخشا ہم کو ] [فَاقْضِ : پس تو فیصلہ کر ] [مَآ : وہ جو ] [انتَ : تو ] [قَاضٍ : فیصلہ کرنے والا ہے ] [انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [تَقْضِيْ : تو فیصلہ کرتا ہے ] [هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : اس دنیوی زندگی میں ] ترکیب : (آیت۔ 72) ۔ وَالَّذِیْ کے دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو عَلٰی مَا پر عطف مانا جائے۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا ” اور اس پر جس نے “ دوسرے یہ کہ وَالَّذِیْ کے واو کو قسمیہ مانا جائے۔ پھر ترجمہ ہوگا ” قسم ہے اس کی جس نے “ ہم پہلے امکان کو ترجیح دیں گے۔ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُنْیَا یہ پورا فقرہ ظرف ہے اس لئے اَلْحَیٰوۃَ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے"

[انآ : بیشک ] [اٰمَنَا : ہم ایمان لائے ] [بِرَبِنَا : اپنے رب پر ] [لِيَغْفِرَ : تاکہ وہ بخش دے ] [لَنَا : ہمارے لئے ] [خَطٰيٰنَا : ہماری خطائوں کو ] [وَمَآ : اور اس کو ] [اَكْرَهْتَنَا : تو نے مجبور کیا ہم کو ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [مِنَ السِّحْرِ : (جیسے) جادو کرنا ] [وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [وَّاَبْقٰي : اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ]
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اُس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا

[انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [مَنْ : جو ] [يَاْتِ : آئے گا ] [رَبَّهٗ : اپنے رب کے پاس ] [مُجْرِمًا : جرم کرنے والا ہوتے ہوئے ] [فَان : تو بیشک ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [جَهَنَّمَ : جہنم ہے ] [لَا يَمُوْتُ : نہ وہ مرے گا ] [فِيْهَا : اس میں ] [وَلَا يَحْيٰي : اور نہ جیئے گا ]
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں

[وَمَنْ : اور جو ] [يَاْتِهٖ : آئے گا اس کے پاس ] [مُؤْمِنًا : ایمان لانے والا ہوتے ہوئے ] [قَدْ عَمِلَ : اس نے عمل کئے ہیں ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو یہ لوگ ہیں ] [لَهُمُ : جن کے لئے ] [الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي : بلند درجے ہیں ]
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے

[جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ] [تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [الْانهٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان میں ] [وَذٰلِكَ : اور یہ ] [جَزٰۗؤُا مَنْ : اس کی جزا ہے جس نے ] [تَزَكّٰى: پاکیزگی حاصل کی ] نوٹ۔ 1: ایک رائے یہ ہے کہ جادوگروں نے فرعون کو جو جواب دیا تھا وہ آیت۔ 73 پر ختم ہوگیا۔ اس کے آگے آیات 74 تا 76 ۔ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے جادوگروں کی بات کی تکمیل کے لئے ارشاد فرمائی ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ آیات بھی جادوگروں کی بات ہیں اور فرعون کو ان کا جواب آیت۔ 76 ۔ پر ختم ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جادوگروں کو آخرت کی جزا و سزا کی کیفیات کا علم کیسے ہوا جسے ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں مختلف تاویلات کی گئی ہیں۔ لیکن اگر جادوگروں کے حضرت موسٰی (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے (دیکھیں آیت۔ 7:120 ۔ نوٹ۔ 1) تو کسی تاویل کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور بات واضح ہوجاتی ہے کہ توحید، آخرت اور رسالت کے متعلق بنو اسرائیل کے نظریات اور تعلیمات جادوگروں کے علم میں تھیں۔ پہلے وہ ان پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ معجزہ دیکھنے کے بعد ایمان لے آئے اور تمام باتوں کی تصدیق کی۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنا لے، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے

[وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآ : اور بیشک ہم نے وحی کی تھی ] [اِلٰى مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) کی طرف ] [ان : کہ ] [اَسْرِ : آپ (علیہ السلام) لے کر نکلیں ] [بِعِبَادِيْ : میرے بندوں کو ] [فَاضْرِبْ : پھر آپ (علیہ السلام) بنائیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [طَرِيْقًا : ایک راستہ ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [يَبَسًا : سوکھا ہوتے ہوئے ] [لَّا تَخٰفُ : آپ (علیہ السلام) کو خوف نہیں ہوگا ] [دَرَكًا : پکڑے جانے کا ] [وَّلَا تَخْشٰى: اور نہ آپ (علیہ السلام) کو ڈر ہوگا (ڈوبنے کا)]
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا اور پھر سمندر اُن پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا

[فَاَتْبَعَهُمْ : تو پیچھے لگا ان کے ] [فِرْعَوْنُ : فرعون ] [بِجُنُوْدِهٖ : اپنے لشکروں کے ساتھ ] [فَغَشِيَهُمْ : پھر ڈھانپ لیا ان کو ] [مِّنَ الْيَمِّ : پانی سے ] [مَا : اس چیز نے جس نے ] [غَشِيَهُمْ : ڈھانپا ان کو ]
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی

[وَاَضَلَّ : اور گمراہ کیا ] [فِرْعَوْنُ : فرعون نے ] [قَوْمَهٗ : اپنی قوم کو ] [وَمَا هَدٰى: اور ہدایت نہیں دی ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 79 ۔ میں جو جملہ ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی، یہ دراصل کفار مکہ کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تمہارے سردار اور لیڈر بھی تم کو اسی راستے پر لیے جا رہے ہیں جس پر فرعون اپنی قوم کو لے جا رہا تھا۔ اب تم خود دیکھ لو کہ یہ کوئی صحیح رہنمائی نہیں تھی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا

[يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے بنی اسرائیل ] [قَدْ انجَيْنٰكُمْ : ہم نے نجات دی ہے تم لوگوں کو ] [مِّنْ عَدُوِّكُمْ : تمہارے دشمن سے ] [وَوٰعَدْنٰكُمْ : اور معاہدہ کیا تم سے ] [جانب الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ : کوہ طور کی دا ہنی جانب ] [وَنَزَّلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى: من و سلوٰی ]