20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا

[كُلُوْا : تم لوگ کھائو ] [مِنْ طَيِّبٰتِ مَا : ان چیزوں کے پاکیزہ سے جو ] [رَزَقْنٰكُمْ : ہم نے عطا کیں تم کو ] [وَلَا تَطْغَوْا : اور تم لوگ زیادتی مت کرنا ] [فِيْهِ : اس میں ] [فَيَحِلَّ : ورنہ اتر جائے گا ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [غَضَبِيْ : میرا غضب ] [وَمَنْ : اور وہ ] [يَّحْلِلْ : اترا ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [غَضَبِيْ : میرا غضب ] [فَقَدْ هَوٰى : تو وہ پستی میں گرپڑا ]
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

البتہ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں

[وَانى: اور بیشک میں ] [لَغَفَّارٌ: یقینا بہت بخشنے والا ہوں ] [لِمَنْ : اس کے لئے جو ] [تَابَ : توبہ کرے ] [وَاٰمَنَ : اور ایمان لائے ] [وَعَمِلَ : اور عمل کرے ] [صَالِحًا : نیک ] [ثُمَّ : پھر ] [اهْتَدٰى: ہدایت (بھی) حاصل کرے ]
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ؟

[وَمَآ : اور کس چیز نے ] [اَعْجَلَكَ : جلدی میں ڈالا آپ (علیہ السلام) کو ] [عَنْ قَوْمِكَ : آپ (علیہ السلام) کی قوم سے ] [يٰمُــوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

اُس نے عرض کیا " وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے"

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [هُمْ : وہ لوگ ] [اُولَاۗءِ : یہ ہیں ] [عَلٰٓي اَثَرِيْ : میرے نقش قدم پر (میرے پیچھے پیچھے)] [وَعَجِلْتُ : اور میں نے جلدی کی ] [اِلَيْكَ : تیری طرف ] [رَبِ : اے میرے رب ] [لِتَرْضٰى : تاکہ تو راضی ہو ]
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا "اچھا، تو سنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا"

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [فَانا : تو بیشک ] [قَدْ فَتَنَا : ہم نے آزمائش میں ڈالا ہے ] [قَوْمَكَ : آپ (علیہ السلام) کی قوم کو ] [مِنْۢ بَعْدِكَ : آپ (علیہ السلام) کے بعد سے ] [وَاَضَلَّـهُمُ : اور گمراہ کیا ان کو ] [السَّامِرِيُّ : سامری نے ]
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

موسیٰؑ سخت غصّے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا جا کر اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟"

[فَرَجَعَ : تو لوٹے ] [مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) ] [اِلٰى قَوْمِهٖ : اپنی قوم کی طرف ] [غَضْبَان : غضبناک ہوتے ہوئے ] [اَسِفًا : غمگین ہوتے ہوئے ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اَلَمْ يَعِدْكُمْ : کیا وعدہ نہیں کیا تھا تم سے ] [رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [وَعْدًا حَسَـنًا : جیسے خوبصورت وعدے کا حق ہے ] [اَفَطَالَ : تو کیا طویل ہوا ] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [الْعَهْدُ : معاہدہ ] [اَمْ : یا ] [اَرَدْتم : تم لوگوں نے ارادہ کیا ] [ان : کہ ] [يَّحِلَّ : اتر جائے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [غَضَبٌ: کوئی غضب ] [مِّنْ رَّبِكُمْ : تمہارے رب سے ] [فَاَخْلَفْتم : تو تم لوگوں نے خلاف کیا ] [مَّوْعِدِيْ : میرے وعدے کے ]
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہُوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا" پھر اس طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [مَآ اَخْلَفْنَا : ہم نے خلاف نہیں کیا ] [مَوْعِدَكَ : آپ (علیہ السلام) کے وعدے کے ] [بِمَلْكِنَا : اپنے اختیار سے ] [وَلٰكِنَا : اور لیکن ] [حُمِّلْنَآ : اٹھوائے گئے ہم سے ] [اَوْزَارًا : کچھ بوجھ ] [مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ : قوم کی زینت (زیورات) میں سے ] [فَقَذَفْنٰهَا : تو ہم نے پھینک دیا ان کو ] [فَكَذٰلِكَ : پھر اسی طرح ] [اَلْقَي : ڈالا ] [السَّامِرِيُّ : سامری نے ] نوٹ۔ 1: آیت 87 ۔ میں قوم کی زینت یعنی زیورات کے بوجھ کا ذکر ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ زیورات بنی اسرائیل ہی کے لوگوں کے تھے یا مصر کے قبطیوں کے تھے۔ اس سلسلہ میں تورات کی روایات متضاد ہیں۔ کتاب خروج کے باب۔ 35 ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے تھے۔ لیکن اسی کتاب کی دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ملک چھوڑتے وقت یہ زیورات مصریوں سے مستعار لئے تھے۔ لیکن یہ دوسری روایت بالکل خلاف قیاس ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں یہ حیثیت حاصل نہیں تھی کہ وہ مصریوں سے زیورات مستعار لے سکیں، بالخصوص ایسی حالت میں کہ برسوں سے ان کے درمیان ایک شدید کشمکش جاری تھی۔ اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے زیورات تھے۔ آیت۔ 7:148 ۔ میں مِنْ حُلِیِّھِمْ کے الفاظ سے بھی اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"

[فَاَخْرَجَ : پھر اس نے نکالا ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [عِجْــلًا : ایک بچھڑا ] [جسدًا : جو ایک ڈھانچا تھا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [خُوَارٌ: گائے کی ایک آواز تھی ] [فَقَالُوْا : تو وہ لوگ بولے ] [ھٰذَآ : یہ ] [اِلٰـــهُكُمْ : تم لوگوں کا خدا ہے ] [وَاِلٰهُ مُوْسٰى ۥ: اور موسٰی (علیہ السلام) کا خدا ہے ] [فَنَسِيَ : پھر وہ (یعنی موسٰی (علیہ السلام) ) بھول گئے ]
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا وہ نہ دیکھتے تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟

[اَفَلَا يَرَوْنَ : تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ] [اَلَّا يَرْجِعُ : کہ وہ نہیں لوٹاتا (یعنی جواب نہیں دیتا)] [اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [قَوْلًا : کوئی بات ] [وَّلَا يَمْلِكُ : اور وہ اختیار نہیں رکھتا ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ضَرًّا : کسی نقصان کا ] [وَّلَا نَفْعًا : اور نہ کسی نفع کا ] ترکیب : (آیت۔ 89) اَلَّا یَرْجِعُ میں اَلَّا کو اَنْ لَا ماننا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مضارع حالت نصب میں یَرْجِعَ آتا۔ لیکن یہ حالت رفع میں یَرْجِعُ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اَنْ مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے یعنی یہ دراصل اَنَّہٗ لَا یَرْجِعُ ہے۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

ہارونؑ (موسیٰؑ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ "لوگو، تم اِس کی وجہ سے فتنے میں پڑ گئے ہو، تمہارا رب تو رحمٰن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو"

[وَلَقَدْ قَالَ : اور بیشک کہہ چکے تھے ] [لَهُمْ : ان لوگوں سے ] [هٰرُوْنُ : ہارون ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [فُتِنْتم : تم لوگ بہکا دیئے گئے ] [بِهٖ : اس (بچھڑے) سے ] [وَان : اور یقینا ] [ رَبَّكُمُ : تم لوگوں کا رب ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن ہے ] [فَاتَّبِعُوْنِيْ : پس تم لوگ پیروی کرو میری ] [وَاَطِيْعُوْٓا : اور اطاعت کرو ] [اَمْرِيْ : میرے حکم کی ]
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

مگر اُنہوں نے اس سے کہہ دیا کہ "ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آ جائے"

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [لَنْ نَّبْرَحَ : ہم ہرگز نہیں ہٹیں گے ] [عَلَيْهِ : اس پر سے ] [عٰكِفِيْنَ : اعتکاف کرنے والے ہونے سے ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [يَرْجِعَ : لوٹیں ] [اِلَيْنَا : ہماری طرف ] [مُوْسٰى: موسٰی ]
Ayah 20:92

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارونؑ کی طرف پلٹا اور) بولا "ہارونؑ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں

[قَالَ : (موسٰی (علیہ السلام) نے) کہا ] [يٰهٰرُوْنُ : اے ہارون ] [مَا : کس چیز نے ] [مَنَعَكَ : منع کیا تم کو ] [اِذْ : جب ] [رَاَيْتَهُمْ : تم نے دیکھا ان کو ] [ضَلُّوْٓا : گمراہ ہوتے ]
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟"

[اَلَّا تَتَّبِعَنِ : کہ تم میرے پیچھے نہ آئے ] [اَفَعَصَيْتَ : تو کیا تم نے نافرمانی کی ] [اَمْرِيْ : میرے حکم کی ]
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارونؑ نے جواب دیا "اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا"

[قَالَ : (ہارون نے) کہا ] [يَبْنَـؤُمَّ : اے میری ماں کے بیٹے ] [لَا تَاْخُذْ : آپ نہ پکڑیں (مجھ کو)] [بِلِحْيَتِيْ : میری داڑھی سے ] [وَلَا بِرَاْسِيْ : اور نہ میرے سر سے ] [انى: بیشک ] [خَشِيْتُ : مجھے ڈر ہوا ] [ان : کہ ] [ تَقُوْلَ : آپ کہیں گے ] [فَرَّقْتَ : تم نے تفرقہ ڈالا ] [بَيْنَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کے درمیان ] [وَلَمْ تَرْقُبْ : اور تم نے لحاظ نہیں کیا ] [قَوْلِيْ : میری بات کا ] ل ح ی [لَحْیًا : (ض) درخت چھیلنا۔] [اِلْتِحَائً : (افتعال) داڑھی نکلنا۔ داڑھی چھوڑنا۔]
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "اور سامری، تیرا کیا معاملہ ہے؟"

[قَالَ : (موسٰی (علیہ السلام) نے) کہا ] [فَمَا خَطْبُكَ : تو تیرا کیا مدعا ہے ] [يٰسَامِرِيُّ : اے سامری ]
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے جواب دیا "میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سجھایا"

[قَالَ : اس نے کہا ] [بَصُرْتُ : میں نے دیکھا ] [بِمَا : اس کو ] [لَمْ يَبْصُرُوْا : ان لوگوں نے نہیں دیکھا ] [بِهٖ : جس کو ] [فَقَبَضْتُ : تو میں نے پکڑا ] [قَبْضَةً : ایک مٹھی بھر ] [مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ : فرشتے کے نقش قدم سے ] [فَنَبَذْتُهَا : پھر میں نے پھینک دیا اس کو ] [وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [سَوَّلَتْ : خوشنما بنا کر پیش کیا ] [لِيْ : میرے لئے ] [نَفْسِيْ : میرے جی نے ]
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا " اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے بازپُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تو ریجھا ہُوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے

[قَالَ : (موسٰی (علیہ السلام) نے) کہا ] [فَاذْهَبْ : پس تو جا (یعنی دفع ہو)] [فَان : تو بیشک ] [لَكَ : تیرے لئے ہے ] [فِي الْحَيٰوةِ : زندگی میں ] [ان : کہ ] [تَقُوْلَ : تو کہے ] [لَا مِسَاسَ : مت چھؤو ] [وَان : اور بیشک ] [ لَكَ : تیرے لئے ] [مَوْعِدًا : ایک وعدے کا وقت ہے ] [لَّنْ تُخْلَفَهٗ : تجھ سے ہرگز خلاف نہیں کیا جائے گا اس کے ] [وَانظُرْ : اور تو دیکھ ] [اِلٰٓى اِلٰهِكَ الَّذِي : اپنے اس اِلٰہ کی طرف ] [ظَلْتَ : تو ہوا ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [عَاكِفًا : اعتکاف کرنے والا ] [لَنُحَرِّقَنَّهٗ : ہم لازماً جلا کر بھسم کریں گے اس کو ] [ثُمَّ : پھر ] [لَنَنْسِفَنَّهٗ : ہم لازماً بکھیر دیں گے اس کو ] [فِي الْيَمِّ : پانی میں ] [نَسْفًا : جیسے بکھیر دینے کا حق ہے ]
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اُس کا علم حاوی ہے"

[انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اِلٰــهُكُمُ : تم لوگوں کا اِلٰہ ] [اللّٰهُ الَّذِي : وہ اللہ ہے جس کے سوا ] [لَآ اِلٰهَ : کوئی اِلٰہ نہیں ] [اِلَّا : مگر ] [هُوَ : وہی ] [وَسِعَ : وہ کشادہ ہوا ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [عِلْمًا : بلحاظ علم کے ] نوٹ۔ 1 حُبِّ جاہ و ریاست میں سامری نے بچھڑے کا ڈھونگ رچایا تھا تاکہ لوگ اس کے ساتھ ہوں اور سردار مانیں۔ اس کے مناسب سزا ملی کہ کوئی پاس نہ پھٹکے۔ جو قریب جائے وہ خود دور رہنے کی ہدایت کرے۔ اور دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔ (ترجمۂ شیخ الہند)
Ayah 20:99

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اے محمدؐ، ا س طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک "ذکر"(درسِ نصیحت) عطا کیا ہے

[كَذٰلِكَ : اس طرح ] [نَقُصُّ : ہم سناتے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ کو ] [مِنْ انۢبَاۗءِ مَا : اس کی خبروں میں سے جو ] [قَدْ سَبَقَ : پہلے گزرا ہے ] [وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ : اور ہم نے دی ہے آپ ﷺ کو ] [مِنْ لَّدُنَا : اپنے خزانے میں سے ] [ذِكْرًا : ایک نصیحت ]
Ayah 20:100

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے دن سخت بار گناہ اٹھائے گا

[مَنْ اَعْرَضَ : جو اعراض کرے گا ] [عَنْهُ : اس سے ] [فَانهٗ : تو یقینا وہ ] [يَحْمِلُ : اٹھائے گا ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [وِزْرًا : ایک بوجھ ]
Ayah 20:101

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن اُن کے لیے (اِس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا

[خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهِ : اس (بوجھ) میں ] [وَسَاۗءَ : اور برا ہے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [حِمْلًا : (وہ) بوجھ ]
Ayah 20:102

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) پتھرائی ہوئی ہوں گی

[يَّوْمَ : جس دن ] [يُنْفَخُ : پھونکا جائے گا ] [فِي الصُّوْرِ : صور میں ] [وَنَحْشُرُ : اور ہم اکٹھا کریں گے ] [الْمُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والوں کو ] [يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [زُرْقًا : نیلی آنکھوں والا ہوتے ہوئے ] [زَرَقًا : آنکھوں کا نیلا اور بےنور ہونا۔ اندھا ہونا۔ ) (اَزْرَقُ ، زُرْقٌ۔ افعل الوان عیوب کے وزن پر صفت ہے۔ نیلی آنکھوں والا۔ اندھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 102 ۔]
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے

[يَّتَخَافَتُوْنَ : وہ لوگ سرگوشی کریں گے ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [ان لَّبِثْتم : تم لوگ نہیں ٹھہرے ] [اِلَّا : مگر ] [عَشْرًا : دس (ساعتیں)]
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی تھی

[نَحْنُ : ہم ] [اَعْلَمُ : زیادہ جاننے والے ہیں ] [بِمَا : اس کو جو ] [يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہیں گے ] [اِذْ يَقُوْلُ : جب کہے گا ] [اَمْثَلُهُمْ : ان کا زیادہ افضل ] [طَرِيْقَةً : بلحاظ طریقے کے ] [ان لَّبِثْتم : تم لوگ نہیں ٹھہرے ] [اِلَّا : مگر ] [يَوْمًا : ایک دن ]
Ayah 20:105

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا

[وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ : اور یہ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [عَنِ الْجبالِ : پہاڑوں کے بارے میں ] [فَقُلْ : تو آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [يَنْسِفُهَا : اکھاڑ پھینکے گا ان کو ] [رَبِيْ : میرا رب ] [نَسْفًا : جیسا اکھاڑنے کا حق ہے ]
Ayah 20:106

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا

[فَيَذَرُهَا : پھر وہ چھوڑ دے گا ان کو ] [قَاعًا : ریتیلا میدان ] [صَفْصَفًا : ہموار ] [ق و ع ](ن) قَوْعًا پچھلے پائوں لوٹنا۔ قَاعٌ ج قِیْعَۃٌ۔ نرم اور ریتیلا میدان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 106 ۔ اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ (ان کے اعمال ایک سراب کی مانند ہیں کسی ریتیلے میدان میں) 24:39 ۔]
Ayah 20:107

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے

[لَّا تَرٰى: آپ ﷺ نہیں دیکھیں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [عِوَجًا : کوئی ٹیڑھا پن ] [وَّلَآ اَمْتًا : اور نہ کوئی اونچی جگہ ] [ء م ت ](ض) اَمْتًا اندازہ لگانا۔ قصد کرنا۔ اَمْتٌ اونچا مقام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 107 ۔]
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے

[يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [يَّتَّبِعُوْنَ : وہ لوگ پیچھا کریں گے ] [الدَّاعِيَ : پکارنے والے (فرشتے) کا ] [لَا عِوَجَ : کوئی ٹیڑھا پن نہ ہوگا ] [لَهٗ : جس کے لئے ] [وَخَشَعَتِ : اور جھک جائیں گی ] [الْاَصْوَاتُ : آوازیں ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمان کے لئے ] [فَلَا تَسْمَعُ : پھر آپ ﷺ نہیں سنیں گے ] [اِلَّا : مگر ] [هَمْسًا : کھسر پھسر ] [ھـ م س ](ض) ھَمْسًا آہستہ آہستہ باتیں کرنا۔ ھَمْسٌ ہلکی آواز۔ آہٹ۔ کھسر پھسر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 108 ۔] نوٹ۔ 1: اردو محاروں میں آنکھوں کا سرخ ہوجانا غصّہ کی علامت ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ غصّے سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ اسی طرح عربی میں آنکھوں کا نیلا ہوجانا خوف اور دہشت کی علامت ہے اور آیت۔ 102 ۔ زُرْقًا اسی مفہوم میں آیا ہے کہ قیامت کی ہولناکی دیکھ کر اس کی دہشت سے ان کی آنکھیں نیلی ہوجائیں گی۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم)
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اُس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے

[يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [لَّا تَنْفَعُ : نفع نہیں دے گی ] [الشَّفَاعَةُ : شفاعت ] [اِلَّا : مگر ] [مَنْ : وہ ] [اَذِنَ : اجازت دی ] [لَهُ : جس کو ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن نے ] [وَرَضِيَ : اور وہ راضی ہوا ] [لَهٗ : جس کی ] [قَوْلًا : بات سے ]
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا عِلم نہیں ہے

[يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [مَا : اس کو جو ] [بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان لوگوں کے آگے ہے ] [وَمَا : اور اس کو جو ] [خَلْفَهُمْ : ان کے پیچھے ہے ] [وَلَا يُحِيْطُوْنَ : اور وہ لوگ احاطہ نہیں کرتے ] [بِهٖ : اس کا ] [عِلْمًا : بلحاظ علم کے ]
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو

[وَعَنَتِ : اور جھک جائیں گے ] [الْوُجوهُ : تمام چہرے ] [لِلْحَيِّ : حقیقی زندہ کے لئے ] [الْقَيُّوْمِ : حقیقی نگراں و کفیل کے لئے ] [وَقَدْ خَابَ : اور نامراد ہوچکا ] [مَنْ : وہ جس نے ] [حَمَلَ : اٹھایا ] [ظُلْمًا : ظلم کو ] [ع ن و ](ن) عُنُوًّا ذلیل ہونا۔ جھک جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 111 ۔]
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو

[وَمَنْ : اور وہ جس نے ] [يَّعْمَلْ : عمل کئے ] [مِنَ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں میں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [مُؤْمِنٌ: مومن ہے ] [فَلَا يَخٰفُ : تو اسے خوف نہیں ہوگا ] [ظُلْمًا : کسی زیادتی کا ] [وَّلَا هَضْمًا : اور نہ کسی حق تلفی کا ] [ھـ ض م ](ض) ھَضْمًا کسی نرم چیز کو کچل کر توڑنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) کسی کے حق کو کم کرنا۔ (2) نرم و ملائم ہونا۔] [ ھَضْمٌ اسم ذات بھی ہے۔ حق تلفی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 112 ۔] [ ھَضِیْمٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نرم۔ ملائم۔ وَ نَخْلٍ طَلْعُھَا ھَضِیْمٌ (اور کھجوریں جن کے خوشے ملائم ہوں گے) 26:148 ۔]
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس کو ] [قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : عربی قرآن ہوتے ہوئے ] [وَّصَرَّفْنَا : اور ہم نے بار بار بیان کیا ] [ فِيْهِ : اس میں ] [مِنَ الْوَعِيْدِ : وارننگ میں سے ] [ لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [يَتَّقُوْنَ : تقوٰی اختیار کریں ] [اَوْ : یا ] [ يُحْدِثُ : وہ وجود دے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ذِكْرًا : کسی یاد کو ]
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہ حقیقی اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر

[فَتَعٰلَى: تو بلند ہوا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [الْمَلِكُ : جو حقیقی بادشاہ ہے ] [الْحَقُّ : جو کل حق ہے ] [وَلَا تَعْجَلْ : اور آپ ﷺ جلدی نہ کریں ] [بِالْقُرْاٰنِ : قرآن کے بارے میں ] [مِنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ] [ يُّقْضٰٓى: پورا کیا جائے ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [وَحْيُهٗ : اس کا وحی کرنا ] [وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیے ] [رَّبِ : اے میرے رب ] [زِدْنِيْ : تو زیادہ کر مجھ کو ] [عِلْمًا : بلحاظ علم کے ]
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا

[وَلَقَدْ عَهِدْنَآ : اور بیشک ہم نے عہد لیا تھا ] [اِلٰٓى اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) سے ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [فَنَسِيَ : تو وہ بھول گئے ] [وَلَمْ نَجِدْ : اور ہم نے نہیں پائی ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) میں ] [عَزْمًا : کوئی ثابت قدمی۔] نوٹ۔ 1: قیامت کے دن سفارش وہی کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور اسی کے حق میں کرسکے گا جس کے لئے بارگاہ الٰہی سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے۔ یہ دونوں باتیں قرآن مجید کے اور دوسرے مقامات پر کھول کر بتادی گئی ہیں۔ پھر آیت۔ 110 ۔ میں وجہ بتائی گئی ہے کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے۔ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے کہ کس کا ریکارڈ کیسا ہے اور اللہ کی عدالت میں کس سیرت و کردار اور کیسی کیسی ذمہ داریوں کے بوجھ لے کر آیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کو ہر ایک کے پچھلے کارناموں کا بھی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب اس کا موقف کیا ہے۔ نیک ہے تو کیسا نیک ہے اور مجرم ہے تو کس درجے کا مجرم ہے۔ قابلِ معافی ہے یا نہیں۔ پوری سزا کا مستحق ہے یا اس کے ساتھ رعایت بھی کی جاسکتی ہے، ایسی حالت میں یہ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ ملائکہ، انبیاء اور صلحاء کو سفارش کی کھلی چھٹی دے دی جائے اور ہر ایک جس کے حق میں سفارش چاہے کر دے۔ ایک معمولی افسر اپنے چھوٹے سے محکمہ میں اگر اپنے ہر دوست یا عزیز کی سفارش سننے لگے تو چار دن میں سارے محکمہ کا ستیا ناس کر کے رکھ دے گا۔ پھر بھلا زمین و آسمان کے فرمانروا سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کے ہاں غیر مشروط سفارشوں کا بازار گرم ہو۔ اللہ کے ہاں شفاعت کا دروازہ بند نہ ہوگا لیکن وہ مشروط ہوگی جس کا ذکر آیت۔ 109 میں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا

[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو سب نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [اَبٰى: اس نے انکار کیا ] [ب ل ی ](س) بِلًی کسی چیزکا پرانا اور بوسیدہ ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 120]
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

اس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ

[فَقُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [يٰٓاٰدَمُ : اے آدم (علیہ السلام) ] [ان : بیشک ] [ھٰذَا : یہ ] [عَدُوٌّ: دشمن ہے ] [لَّكَ : آپ (علیہ السلام) کا ] [وَلِزَوْجِكَ : اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ کا ] [فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا : پس وہ ہرگز نہ نکالے آپ (علیہ السلام) دونوں کو ] [مِنَ الْجَنَّةِ : اس باغ سے ] [فَتَشْقٰي : پھر آپ (علیہ السلام) تکلیف میں پڑیں گے ]
Ayah 20:118

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو

[ان : بیشک ] [لَكَ : آپ (علیہ السلام) کے لئے ہے ] [اَلَّا تَجوعَ : کہ آپ (علیہ السلام) بھوکے نہ ہوں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [وَلَا تَعْرٰى: اور نہ آپ (علیہ السلام) ننگے ہوں گے ] [ع ر ی ](س) عُرْیَۃً ننگا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 118] [عَرَائٌ کھلا میدان۔ فَنَبَذْنٰہُ بِالْعَرَائِ وَھُوَ سَقِیْمٌ (تو ہم نے ڈال دیا ان (علیہ السلام) کو کھلے میدان میں اس حال میں کہ وہ بیمار تھے) 37:145 ۔]
Ayah 20:119

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے"

[وَانكَ : اور یہ کہ آپ (علیہ السلام) ] [لَا تَظْمَؤُا : پیاسے نہ ہوں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [وَلَا تَضْحٰي : اور نہ آپ (علیہ السلام) کو دھوپ لگے گی ]
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا کہنے لگا "آدم، بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟"

[فَوَسْوَسَ : پھر برا خیال ڈالا ] [اِلَيْهِ : ان (علیہ السلام) کی طرف ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [قَالَ : اس نے کہا ] [يٰٓاٰدَمُ : اے آدم (علیہ السلام) ] [هَلْ : کیا ] [اَدُلُّكَ : میں رہنمائی کروں آپ (علیہ السلام) کی ] [عَلٰي شَجَرَةِ الْخُلْدِ : ہمیشگی کے درخت تک ] [وَمُلْكٍ : اور ایسی بادشاہت تک جو ] [لَّا يَبْلٰى: بوسیدہ نہ ہوگی ]