20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا

[فَاَكَلَا : پھر کھایا ان دونوں نے ] [مِنْهَا : اس (درخت) سے ] [فَبَدَتْ : تو ظاہر ہوئیں ] [لَهُمَا : ان دونوں کے لئے ] [سَوْاٰتُهُمَا : ان دونوں کی ستریں ] [وَطَفِقَا : اور وہ دونوں لگے ] [يَخْصِفٰنِ : چپکانے ] [عَلَيْهِمَا : اپنے اوپر ] [مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ : باغ کے پتوں میں سے ] [وَعَصٰٓى: اور کہنا نہ مانا ] [اٰدَمُ : آدم (علیہ السلام) نے ] [رَبَّهٗ : اپنے رب کا ] [فَغَوٰى: تو وہ بھٹک گئے ]
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی

[ثُمَّ : پھر ] [اجْتَبٰىهُ : نوازا ان (علیہ السلام) کو ] [رَبُّهٗ : ان (علیہ السلام) کے رب نے ] [فَتَابَ عَلَيْهِ : تو اس نے توجہ کی ان (علیہ السلام) پر ] [وَهَدٰى: اور اس نے ہدایت دی ]
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [اهْبِطَا : تم دونوں اترو ] [مِنْهَا : اس (باغ) سے ] [جَمِيْعًۢا : سب کے سب ] [بَعْضُكُمْ : تم لوگوں کا کوئی ] [لِبَعْضٍ : کسی کے لئے ] [عَدُوٌّ: دشمن ہے ] [فَاِمَا : پھر اگر ] [يَاْتِيَنَّكُمْ : پہنچے تم لوگوں کو ] [مِّنِّيْ : مجھ سے ] [هُدًى: کوئی ہدایت ] [ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ : پھر جس نے پیروی کی ] [هُدَايَ : میری ہدایت کی ] [فَلَا يَضِلُّ : تو وہ گمراہ نہیں ہوگا ] [وَلَا يَشْقٰي : اور نہ وہ نامراد ہوگا۔]
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میرے "ذِکر"(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے"

[وَمَنْ : اور جس نے ] [اَعْرَضَ : اعراض کیا ] [عَنْ ذِكْرِيْ : میری یاد سے ] [فَان : تو بیشک ] [ لَهٗ : اس کے لئے ہے ] [مَعِيْشَةً ضَنْكًا : ایک کمزور معیشت ] [وَّنَحْشُرُهٗ : اور ہم اٹھائیں گے اس کو ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [اَعْمٰى: اندھا ] [ض ن ک ](ک) ضَنَاکَۃً (ا) کمزور رائے یا کمزور عقل والا ہونا۔ (2) تنگ ہونا۔ [ ضََنْکٌ کمزور۔ تنگ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 124 ۔]
Ayah 20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"

[قَالَ : وہ کہے گا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [لِمَ : کیوں ] [حَشَرْتَنِيْٓ: تو نے اٹھایا مجھ کو ] [اَعْمٰي : اندھا ] [وَ : حالانکہ ][قَدْ كُنْتُ : میں (ہمیشہ) رہا ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ]
Ayah 20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے"

[قَالَ : (اللہ تعالیٰ ) کہے گا ] [كَذٰلِكَ : اسی طرح ہے ] [اَتَتْكَ : پہنچیں تیرے پاس ] [اٰيٰتُنَا : ہماری نشانیاں ] [فَنَسِيْتَهَا : پھر تو نے بھلا دیا ان کو ] [وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح ] [الْيَوْمَ : آج ] [تُنْسٰى: تجھ کو بھلایا جائے گا ]
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں) بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے

[وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح ] [نَجْزِيْ : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [مَنْ : اس کو جس نے ] [اَسْرَفَ : حد سے تجاوز کیا ] [وَلَمْ يُؤْمِنْۢ: اور ایمان لایا ہی نہیں ] [بِاٰيٰتِ رَبِهٖ : اپنے رب کی نشانیوں پر ] [وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا عذاب ] [اَشَدُّ : سب سے شدید ہے ] [وَاَبْقٰي : اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ]
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اس سبق سے) کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ در حقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں

[اَفَلَمْ يَهْدِ : تو کیا سمجھایا نہیں ] [لَهُمْ : ان لوگوں کو (اس مشاہدہ نے کہ)] [كَمْ اَهْلَكْنَا : کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ] [قَبْلَهُمْ : ان لوگوں سے پہلے ] [مِّنَ الْقُرُوْنِ : قوموں میں سے ] [يَمْشُوْنَ : یہ لوگ چلتے ہیں ] [فِيْ مَسٰكِنِهِمْ : جن کی رہنے کی جگہوں میں ] [ان : بیشک ] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [لِاُولِي النُّهٰى: ذہانت والوں کے لئے ]
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا

[وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا کہ ] [كَلِمَةٌ: ایک فرمان ] [سَبَقَتْ : طے ہوا ] [مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی طرف سے ] [لَكَان : تو ضرور ہوتا ] [لِزَامًا : چمٹنا (عذاب کا)] [وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى: اور ایک معین مدت (اگر طے نہ ہوتی)]
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس اے محمدؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ

[فَاصْبِرْ : پس آپ ﷺ صبر کریں ] [عَلٰي مَا : اس پر جو ] [يَــقُوْلُوْنَ : یہ لوگ کہتے ہیں ] [وَسَبِحْ : اور آپ ﷺ تسبیح کریں ] [بِحَمْدِ رَبِكَ : اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] [قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ : سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ] [وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا : اور اس کے غروب ہونے سے پہلے ] [وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ : اور رات کے کچھ حصّوں میں سے ] [فَسَبِحْ : پھر آپ ﷺ تسبیح کریں ] [وَاَطْرَافَ النَّهَارِ : اور دن کے کناروں پر (بھی)] [لَعَلَّكَ : شاید کہ آپ ﷺ ] [تَرْضٰى: راضی ہوں ] نوٹ۔ 1: حضرت سعید بن جبیر (رح) نے مَعِیْشَۃً ضَنْکًا (کمزور معیشت یا تنگ معیشت) کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان سے قناعت کا وصف سلب کرلیا جائے گا اور حرص دنیا بڑھا دی جائے گی، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے پاس کتنا ہی مال و دولت جمع ہوجائے، اس کو قلبی سکون نصیب نہیں ہوگا۔ مال بڑھانے کی فکر اور اس میں نقصان کا خطرہ اس کو ہمیشہ بےچین رکھے گا۔ اور یہ بات عام اہل تمول میں مشاہد و معروف ہے کہ ان کے پاس سامان راحت تو بہت جمع ہوجاتا ہے مگر جس کا نام راحت ہے وہ نصیب نہیں ہوتی۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: آیت۔ 130 ۔ میں نماز کے اوقات کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز، سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے اوقات میں عشاء اور تہجد کی نماز۔ رہے دن کے کنارے تو وہ تین ہی ہوسکتے ہیں۔ ایک کنارہ صبح ہے، دوسرا کنارہ زوال آفتاب اور تیسرا کنارہ شام ہے۔ اس لئے دن کے کناروں سے مراد فجر، ظہر اور مغرب کی نماز ہی ہوسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ اس مقام پر اور قرآن کے دوسرے مقامات پر نماز کے اوقات کی طرف جو اشارے ہیں ان کی تشریح کے لئے حضرت جبریل (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے جنھوں نے نماز کے ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم رسول اللہ ﷺ کو دی تھی۔ (دیکھیں آیت۔ 17:78، نوٹ۔ 1)
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے

[وَلَا تمدَّنَّ : اور آپ ﷺ ہرگز دراز مت کریں ] [عَيْنَيْكَ : اپنی دونوں آنکھوں کو ] [اِلٰى مَا : اس کی طرف ] [مَتَّعْنَا : ہم نے برتنے کو دیا ] [بِهٖٓ: جو ] [اَزْوَاجًا : کچھ جوڑوں کو ] [مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی رونق کے طور پر ] [ڏ لِنَفْتِنَهُمْ : تاکہ ہم آزمائیں ان کو ] [فِيْهِ : اس میں ] [وَرِزْقُ رَبِكَ : اور آپ ﷺ کے رب کا (دیا ہوا) رزق ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [وَّاَبْقٰي : اور سدا بہار ہے ] [ز ھـ ر ](س) زَھَرًا حسین ہونا۔ بارونق ہونا۔] [ زَھْرَۃٌ اسم ذات ہے۔ حُسن۔ رونق۔ زیر مطالعہ آیت۔ 131 ۔]
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے

[وَاْمُرْ : اور آپ ﷺ حکم دیں ] [اَهْلَكَ : اپنے لوگوں کو ] [بِالصَّلٰوةِ : نماز کا ] [وَاصْطَبِرْ : اور آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [لَا نَسْــَٔــلُكَ : ہم نہیں مانگتے آپ ﷺ سے ] [رِزْقًا : کوئی روزی ] [نَحْنُ : ہم ہی ] [نَرْزُقُكَ : روزی دیتے ہیں آپ ﷺ کو ] [وَالْعَاقِبَةُ : اور (بھلا) انجام ] [لِلتَّقْوٰى: پرہیزگاری کا ہے ]
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیان واضح نہیں آ گیا؟

[وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا ] [لَوْلَا : کیوں نہیں ] [يَاْتِيْنَا : وہ ﷺ آتے ہمارے پاس ] [بِاٰيَةٍ : کسی نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِهٖ : اپنے رب (کی طرف) سے ] [اَوَ : تو کیا ] [لَمْ تَاْتِهِمْ : پہنچی نہیں ان کے پاس ] [بَيِّنَةُ مَا : اس کی روشن (نشانی) جو ] [فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى: اگلے اوراق میں ہے ] [ص ح] ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔] [ صَحِیْفَۃٌ ج صُحْفٌ۔ پھیلی ہوئی چیز۔ لکھا ہوا کاغذ۔ ورق۔ زیر مطالعہ آیت۔ 133 ۔] [صَحْفَۃٌ ج صِحَافٌ۔ چوڑی پلیٹ۔ یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّ اَکْوَابٍ (گردش دی جائیں گی ان پر سونے کی رکابیاں اور آبخورے) 43:71 ۔]
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے

[وَلَوْ : اور اگر ] [انآ : یہ کہ ] [اَهْلَكْنٰهُمْ : ہم ہلاک کرتے ان کو ] [بِعَذَابٍ : کسی عذاب سے ] [مِّنْ قَبْلِهٖ : اس سے پہلے ] [لَقَالُوْا : تو وہ لوگ ضرور کہتے ] [رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [لَوْلَآ : کیوں نہیں [اَرْسَلْتَ : تو نے بھیجا ] [اِلَيْنَا : ہماری طرف ] [رَسُوْلًا : کوئی رسول ] [فَنَتَّبِعَ : نتیجتاً ہم پیروی کرتے ] [اٰيٰتِكَ : تیری نشانیوں کی ] [مِنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ [ نَّذِلَّ : ہم ذلیل ہوتے ] [وَنَخْزٰى: اور ہم رسوا ہوتے ]
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

اے محمدؐ، ان سے کہو، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے، پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں

[ قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجیے ] [ كُلٌّ: سب ] [ مُّتَرَبِصٌ: انتظار کرنے والے ہیں ] [ فَتَرَبَّصُوْا : پس تم لوگ (بھی) انتظار کرو ] [ فَسَتَعْلَمُوْنَ : پھر تم لوگ جان لو گے ] [ مَنْ : کون ] [ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ : ہموار راستے والے ہیں ] [ وَمَنِ : اور کس نے ] [ اهْتَدٰى: ہدایت پائی ] نوٹ۔ 1: اَھْلُ الرَّجُلِ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب ہوں، یا ہم دین ہوں، یا کسی صنعت اور یا کسی مکان میں شریک ہوں۔ (مفردات القرآن۔ مادہ ” ء ھ ل “ ) آیت۔ 132 ۔ میں لفظ اھل صرف اہل بیت کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے مثلاً اہل کتاب، اہل قریہ، اہل حدیث وغیرہ۔ لسان العرب میں ہے کہ اہل الرجل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس شخص سے خاص تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ نبی کے اہل سے اس کے امتی مراد ہوتے ہیں۔ اس طرح اس آیت میں بھی اہل سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو نبی ﷺ پر ایمان لائے تھے، عام اس سے کہ وہ حضور ﷺ کے خاص متعلقین (یعنی رشتہ دار) ہوں یا دوسرے عام مسلمان، ان سب کو نبی ﷺ کے اہل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (تدبر قرآن) ۔