21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

قریب آ گیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں

[ اِقْتَرَبَ : قریب ہوا ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ حِسَابُهُمْ : ان کا حساب ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ فِيْ غَفْلَةٍ : غفلت میں ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 2) ذِکْرٍ کی صفت ہونے کی وجہ مُحْدَثٍ حالت جر میں ہے۔ موصوف اور صفت کے درمیان میں متعلق فعل مِنْ رَبِّھِمْ آگیا ہے۔ (آیت۔ 3) ۔ لَاھِیَۃً حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اسم الفاعل ہے جس نے فعل کا کام کیا ہے۔ قُلُوْبُھُمْ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ اَسَرُّوْا جمع کا صیغہ ہے اس لئے اَلَّذِیْنَ کو اس کا فاعل نہیں مان سکتے کیونکہ ایسی صورت میں فعل واحد آنا چاہیے۔ اس لئے اس کی مختلف توجیہات کی گئی ہیں۔ حافظ احمد یار صاحب مرحوم کی ترجیح یہ ہے کہ اَلَّذِیْنَ کو اَسَرُّوْا کی ضمیر فاعلی ھُمْ کا بدل مانا جائے۔
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس جو تازہ نصیحت بھی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے اُس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں

[ مَا يَاْتِيْهِمْ : نہیں پہنچتی ان کے پاس [ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِهِمْ مُّحْدَثٍ : کوئی بھی نئی نصیحت ان کے رب (کی طرف) سے ] [ اِلَّا : مگر ] [ اسْتمعُوْهُ : وہ سنتے ہیں اس کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَلْعَبُوْنَ : کھیلتے ہوتے ہیں ]
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

دِل ان کے (دوسری ہی فکروں میں) منہمک ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ "یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جاؤ گے؟"

[ لَاهِيَةً : غافل ہونے والے ہوتے ہوئے ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَاَسَرُّوا : اور انھوں نے چھپایا ] [ النَّجوي : سرگوشی کو ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ هَلْ ھٰذَآ : (سرگوشی کرتے ہیں کہ) یہ کیا ہیں ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ بَشَرٌ: ایک بشر ] [ مِّثْلُكُمْ : تم لوگوں جیسے ] [ اَفَتَاْتُوْنَ : تو کیا تم لوگ آتے ہو ] [ السِّحْرَ : جادو کے پاس [ وَ : اس حال میں کہ ] [ انتم : تم لوگ ] [ تُبْصِرُوْنَ : دیکھتے ہوتے ہو
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

رسُولؐ نے کہا میرا رب ہر اُس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے، وہ سمیع اور علیم ہے

[ قٰلَ : (آپ ﷺ ) نے کہا ] [ رَبِيْ : میرا رب ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ الْقَوْلَ : ساری باتوں کو ] [ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ : جو زمین و آسمان میں ہیں ] [ وَهُوَ : اور وہ ہی ] [ السَّمِيْعُ : سننے والا ہے ] [ الْعَلِيْمُ : جاننے والا ہے ] نوٹ۔ 1: حساب قریب آنے سے مراد قیامت ہے اور اس کا قریب آجانا دنیا کی پچھلی عمر کے لحاظ سے ہے کیونکہ یہ امت آخری امت ہے۔ حساب قبر بھی اس میں شامل ہے جو ہر انسان کو مرنے کے فوراً بعد دینا ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر انسان کی موت کو اس کی شخصی قیامت کہا گیا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں "بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے"

[ بَلْ : بلکہ ] [ قَالُـوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ: خوابوں کے پراگندہ خیالات ہیں ] [ بَلِ : بلکہ ] [ افْتَرٰىهُ : انھوں ﷺ نے گھڑا اس کو ] [ بَلْ : بلکہ ] [ هُوَ : وہ ] [ شَاعِرٌ: ایک شاعر ہیں ] [ فَلْيَاْتِنَا : پس انھیں ﷺ چاہیے کہ وہ لائیں ہمارے پاس ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی نشانی ] [ كَمَآ : جیسے کہ ] [ اُرْسِلَ : بھیجے گئے ] [ الْاَوَّلُوْنَ : پہلے (رسول)]
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

حالاں کہ اِن سے پہلے کوئی بستی بھی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہ لائی، اب کیا یہ ایمان لائیں گے؟

[ مَآ اٰمَنَتْ : ایمان نہیں لائی ] [ قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے ] [ مِّنْ قَرْيَةٍ : کوئی بھی ایسی بستی ] [ اَهْلَكْنٰهَا : ہم نے ہلاک کیا جس کو ] [ اَفَهُمْ : تو کیا یہ لوگ ] [ يُؤْمِنُوْنَ : ایمان لے آئیں گے (نشانی یعنی معجزہ دیکھ کر)]
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو

[ وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ قَبْلَكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ اِلَّا : مگر ] [ رِجَالًا : کچھ ایسے مردوں کو ] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف ] [ فَسْــَٔـلُوْٓا : تو تم لوگ پوچھ لو ] [ اَهْلَ الذِّكْرِ : یاد دہانی والوں (اہل کتاب) سے ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے ہو ]
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اُن رسُولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے

[ وَمَا جَعَلْنٰهُمْ : اور ہم نے نہیں بنایا ان کو ] [ جسدًا : ایسا جسم ] [ لَّا يَاْكُلُوْنَ : جو نہ کھاتے ہوں ] [ الطَّعَامَ : کھانا ] [ وَمَا كَانوْا : اور وہ نہیں تھے ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ]
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر دیکھ لو کہ آخرکار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پُورے کیے، اور انہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچا لیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر دیا

[ ثُمَّ : پھر ] [ صَدَقْنٰهُمُ : ہم نے سچ کردیا ان (رسولوں) سے ] [ الْوَعْدَ : وعدے کو ] [ فَانجَيْنٰهُمْ : تو ہم نے نجات دی ان (رسولوں) کو ] [ وَمَنْ : اور اس کو جس کو ] [ نَّشَاۗءُ : ہم نے چاہا ] [ وَاَهْلَكْنَا : اور ہم نے ہلاک کیا ] [ الْمُسْرِفِيْنَ : حد سے گزرنے والوں کو ]
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

لوگو، ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟

[ لَقَدْ انزَلْنَآ : بیشک ہم نے اتاری ہے ] [ اِلَيْكُمْ : تو لوگوں کی طرف ] [ كِتٰبًا : ایک ایسی کتاب ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ ذِكْرُكُمْ : تم لوگوں کا ذکر ہے ] [ اَفَلَا تَعقلوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ] نوٹ۔ 1: مشرکین مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو یہ بھی اسی طرح کی کوئی نشانی دکھائیں جس طرح کی نشانیاں پہلے آنے والے رسولوں نے دکھائیں۔ نشانی سے مراد معجزات ہیں جن کا ذکر دوسرے انبیاء کی سرگزشتوں میں آیا ہے۔ ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا کیونکہ قرآن کی دعوت تمام تر آفاق وانفس اور عقل و فطرت کے دلائل پر مبنی ہے۔ وہ معجزات کے بجائے لوگوں کو آنکھیں کھولنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے پر ابھارتا ہے، کیونکہ ایمان کا فطری راستہ یہی ہے۔ جو لوگ عقل و بصیرت سے کام نہیں لیتے وہ معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور عذاب کی نشانی دیکھ کر جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان لانا بےسود ہوتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ پہلی قوموں نے ہر قسم کی نشانیاں دیکھیں لیکن ایمان کی راہ اختیار نہ کی تو آپ ﷺ ان سے کس طرح توقع رکھتے ہیں کہ اگر ان کو کوئی نشانی دکھا دی گئی تو یہ ایمان لانے والے بن جائیں گے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: آیت۔ 4 میں مشرکین کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ” یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے۔ “ یعنی وہ نبی ﷺ کی بشریت کو اس بات کی دلیل قرار دیتے تھے کہ آپ ﷺ نبی نہیں ہوسکتے۔ آیت۔ 7 ۔ 8 ۔ میں ان کی اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ پہلے زمانے کے جن لوگوں کو تم خود مانتے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے، وہ سب بھی بشر ہی تھے اور بشر ہوتے ہوئے ہی خدا کی وحی سے سرفراز ہوئے تھے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دُوسری کسی قوم کو اُٹھایا

[ وَكَمْ قَصَمْنَا : اور پیس کر رکھ دیں ہم نے کتنی ہی ] [ مِنْ قَرْيَةٍ : ایسی بستیاں ] [ كَانتْ : جو تھیں ] [ ظَالِمَةً : ظلم کرنے والی ] [ وَّانشَانا : اور ہم نے اٹھایا ] [ بَعْدَهَا : ان کے بعد ] [ قَوْمًا اٰخَرِيْنَ : ایک دوسری قوم ] [ ق ص م ](ض) قَصْمًا کسی چیز کو توڑ مروڑ کر تباہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11 ۔]
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب اُن کو ہمارا عذاب محسُوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے

[ فَلَمَآ : پھر جب ] [ اَحَسُّوْا : ان لوگوں نے محسوس کیا ] [ بَاْسَنَآ : ہماری سختی کو ] [ اِذَا : تب ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ مِّنْهَا : اس سے ] [ يَرْكُضُوْنَ : بھاگنے لگے ] [ ر ک ض ](ن) رَکْضًا (1) پائوں ہلانا۔ بھاگنا۔ (2) کسی چیز کو پائوں سے رگڑنا۔ ایڑ لگانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔] [ اُرْکُضْ فعل امر ہے۔ تو رگڑ۔ اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ (آپ (علیہ السلام) رگڑیں (زمین کو) اپنے پائوں سے) 38:42]
Ayah 21:13

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

(کہا گیا) "بھاگو نہیں، جاؤ اپنے انہی گھروں میں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کر رہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے"

[ لَا تَرْكُضُوْا : (کہا گیا) تم لوگ مت بھاگو ] [ وَارْجِعُوْٓا : اور واپس ہو ] [ اِلٰى مَآ : اس کی طرف ] [ اُتْرِفْتم : تمہیں خوشحالی دی گئی ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ وَمَسٰكِنِكُمْ : اور اپنے مکانوں کی طرف ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ ] [ تُسْــَٔـلُوْنَ : تم لوگوں سے پوچھا جائے (یعنی کوئی پرسانِ حال ہو)]
Ayah 21:14

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے "ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے"

[ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰوَيْلَنَآ : ہائے ہماری شامت ] [ انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ]
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

اور وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کر دیا، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا

[ فَمَا زَالَتْ تِلْكَ : پھر وہ ہی رہی ] [ دَعْوٰىهُمْ : ان کی پکار ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ جَعَلْنٰهُمْ : ہم نے کردیا ان کو ] [ حَصِيْدًا : تہس نہس کئے ہوئے ] [ خٰمِدِيْنَ : بجھ کر رہ جانے والے ] [ خ م د ](ن۔ س) خَمْدًا آگ کے شعلوں کا تھم جانا جبکہ انگارہ نہ بجھا ہو۔ پژمردہ ہونا۔ بجھ کر رہ جانا۔ [ خَامِدٌ اسم الفاعل ہے۔ بجھ کر رہ جانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔]
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے

[ وَمَا خَلَقْنَا : اور ہم نے نہیں پیدا کیا ] [ السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [ وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [ وَمَا بَيْنَهُمَا : اور اس کو جو ان کے درمیان ہے ] [ لٰعِبِيْنَ : کھیلنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے

[ لَوْ : اگر ] [ اَرَدْنَآ : ہم ارادہ کرتے ] [ ان : کہ ] [ نَّتَّخِذَ : ہم بنائیں ] [ لَهْوًا : کوئی کھلونا ] [ لَّاتَّخَذْنٰهُ : تو ہم ضرور بناتے اس کو ] [ مِنْ لَّدُنَآ : اپنے پاس سے ] [ ان : اگر ] [ كُنَا : ہم ہوتے ] [ فٰعِلِيْنَ : کرنے والے ]
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو

[ بَلْ : بلکہ ] [ نَقْذِفُ : ہم پھینک مارتے ہیں ] [ بِالْحَقِّ : حق کو ] [ عَلَي الْبَاطِلِ : باطل پر ] [ فَيَدْمَغُهٗ : تو وہ بھیجہ پلپلا کردیتا ہے اس کا ] [ فَاِذَا : پھر تب ] [ هُوَ : وہ ] [ زَاهِقٌ: مٹنے والا ہوتا ہے ] [ وَلَكُمُ : اور تم لوگوں کے لئے ] [ الْوَيْلُ : تباہی ہے ] [ مِمَا : اس سے جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ بتاتے ہو ] [ د م غ ] (ف) دَمْغًا دماغ تک زخمی کرنا۔ بھیجہ پلپلا کردینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔
Ayah 21:19

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

زمین اور آسمان میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں

[ وَ لَهٗ : اور اس کا ہی ہے ] [ مَنْ : جو کوئی ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں میں ہے ] [ وَ مَنْ : اور جو کوئی ] [ عِنْدَهٗ : اس کے پاس ہیں ] [ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ : وہ تکبر نہیں کرتے ] [ عَنْ عِبَادَتِهٖ : اس کی عبادت سے ] [ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ : اور نہ ہی وہ کاہلی کرتے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 20) ۔ یُسَبِّحُوْنَ کا مفعول لِلّٰہِ یہاں محذوف ہے۔ اَلَّیْلَ اور اَلنَّھَارَ کی نصب یُسَبِّحُوْنَ کا مفعول ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ظرف ہونے کی وجہ سے ہے۔ (آیت۔ 22) ۔ فِیْھِمَا میں ھُمَا کی ضمیر اور لَفَسَدَتَا کی ضمیر فاعلی ھُمَا، یہ دونوں اَلسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے لئے ہیں۔ (آیت۔ 24) ۔ ھٰذَا ذِکْرَُ مَنْ میں ھٰذَا قرآن کے لئے ہے۔
Ayah 21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، دَم نہیں لیتے

[ يُسَبِحُوْنَ : وہ لوگ تسبیح کرتے ہیں (اللہ کی)] [ الَّيْلَ : رات بھر ] [ وَالنَّهَارَ : اور دن بھر ] [ لَايَفْتُرُوْنَ : (اور کبھی) وہ سست نہیں پڑتے ]
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا اِن لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی خدا ایسے ہیں کہ (بے جان کو جان بخش کر) اُٹھا کھڑا کرتے ہوں؟

[ اَمِ اتَّخَذُوْٓا : کیا ان لوگوں نے بنائے ] [ اٰلِهَةً : کچھ اِلٰہ ] [ مِّنَ الْاَرْضِ : زمین سے ] [ هُمْ : (کیا) وہ ] [ يُنْشِرُوْنَ : دوبارہ زندہ کریں گے ]
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دُوسرے خدا بھی ہوتے تو (زمین اور آسمان) دونوں کا نظام بگڑ جاتا پس پاک ہے اللہ ربّ العرش اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

[ لَوْ كَان : اگر ہوتے ] [ فِيْهِمَآ : ان دونوں (زمین و آسمان) میں ] [ اٰلِهَةٌ: کچھ اِلٰہ ] [ اِلَّا : سوائے ] [ اللّٰهُ : اللہ کے ] [ لَفَسَدَتَا : تو ضرور دونوں کا توازن بگڑ جاتا ] [ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ : پس پاکیزگی اللہ کی ہے ] [ رَبِ الْعَرْشِ : جو عرش کا مالک ہے ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يَصِفُوْنَ : یہ لوگ بتاتے ہیں ]
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں

[ لَا يُسْــَٔـلُ : اس سے نہیں پوچھا جائے گا ] [ عَمَا : اس کے بارے میں جو ] [ يَفْعَلُ : وہ (یعنی اللہ) کرتا ہے ] [ وَ : درآنحالیکہ ] [ هُمْ : ان سب (زمینی الاہوں) سے ] [ يُسْــَٔــلُوْنَ : پوچھا جائے گا ]
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا اُسے چھوڑ کر اِنہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "لاؤ اپنی دلیل، یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دَور کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی" مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں، اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں

[ اَمِ اتَّخَذُوْا : کیا ان لوگوں نے بنائے ] [ مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ ] [ اٰلِهَةً : کچھ اِلٰہ ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ هَاتُوْا : تم لوگ لائو ] [ بُرْهَانكُمْ : اپنی روشن دلیل ] [ ھٰذَا : یہ (قرآن میں)] [ ذِكْرُ مَنْ : ان کا ذکر ہے جو ] [ مَّعِيَ : میرے ساتھ ہیں ] [ وَذِكْرُ مَنْ : اور ان کا ذکر ہے جو ] [ قَبْلِيْ : مجھ سے پہلے تھے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : علم نہیں رکھتے ] [ الْحَقَّ : حق کا ] [ فَهُمْ : پس وہ ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ زمین اور آسمان کے اِلٰہ الگ الگ ہیں۔ وہ ایک رب العرش کو مانتے تھے لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ رب العرش اپنے عرش آسمان پر براجمان ہے اور زمین چونکہ اس کی مملکت کا ایک بہت بعید علاقہ ہے اس وجہ سے وہ اس کا انتظام دوسروں کے حوالہ کر کے اس سے الگ تھلگ ہوگیا ہے۔ اور زمین میں دوسرے خدائوں کی خدائی چل رہی ہے۔ اسی وہم کے تحت وہ آسمان کے خدا سے بےنیاز ہو کر اپنے زمینی دیوتائوں کی پرستش کرتے تھے۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: اس کائنات کا پورا نظام، زمین کی تہوں سے لے کر بعید ترین سیاروں تک، ایک ہمہ گیر قانون پر چل رہا ہے۔ اس کائنات کی بیشمار قوتوں اور بیحد و حساب چیزوں کے درمیان اگر تناسب، توازن، ہم آہنگی اور تعاون نہ ہو تو یہ نظام ایک لمحہ بھی نہیں چل سکتا۔ اور یہ سب کچھ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ کوئی اٹل اور غالب ضابطہ ان تمام اشیاء اور قوتوں کو پوری مناسبت کے ساتھ باہم تعاون کرتے رہنے پر مجبور کر رہا ہو۔ اس کائنات کے نظام میں قانون اور ضابطہ کی ہمہ گیری خود اس بات پر شاہد ہے کہ اختیارات ایک ہی حاکمیت میں مرکوز ہیں اور وہ حاکمیت مختلف حاکموں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو

[ وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی بھی رسول ] [ اِلَّا : مگر یہ کہ ] [ نُوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف (کہ)] [ انهٗ : حقیقت بس اتنی ہے کہ ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی اِلٰہ نہیں ہے ] [ اِلَّآ : سوائے ] [ انا : میرے ] [ فَاعْبُدُوْنِ : پس تم لوگ بندگی کرو میری ]
Ayah 21:26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں "رحمان اولاد رکھتا ہے" سبحان اللہ، وہ تو بندے ہیں جنہیں عزّت دی گئی ہے

[ وَقَالُوا : اور ان لوگوں نے کہا ] [ اتَّخَذَ : بنایا ] [ الرَّحْمٰنُ : رحمن نے ] [ وَلَـدًا : ایک بیٹا ] [ سُبْحٰنَهٗ : اس کی پاکیزگی ہے (اس سے)] [ بَلْ : بلکہ (وہ تو)] [ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ : عزت دیئے ہوئے بندے ہیں ]
Ayah 21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اُس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

[ لَا يَسْبِقُوْنَهٗ : وہ حکم عدولی نہیں کرتے اس کی ] [ بِالْقَوْلِ : بات میں [ وَهُمْ : اور وہ ] [ بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے ] [ يَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے ہیں ]
Ayah 21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ اُن کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں

[ يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان کے آگے ہے ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ خَلْفَهُمْ : ان کے پیچھے ہے ] [ وَلَا يَشْفَعُوْنَ : اور وہ لوگ شفاعت نہیں کریں گے ] [ اِلَّا : مگر ] [ لِمَنِ : اس کی جس کے لئے ] [ ارْتَضٰى: وہ (یعنی اللہ) پسند کرے ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مِّنْ خَشْيَتِهٖ : اس کے رعب و دبدبہ سے ] [ مُشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے ہیں ]
Ayah 21:29

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو اُن میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک خدا ہوں، تو اسے ہم جہنّم کی سزا دیں، ہمارے ہاں ظالموں کا یہی بدلہ ہے

[ وَمَنْ : اور جو ] [ يَّقُلْ : کہے ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ انىٓ: کہ میں ] [ اِلٰهٌ: اِلٰہ ہوں ] [ مِّنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [ فَذٰلِكَ : تو وہ ہے ] [ نَجْزِيْهِ : ہم بدلہ میں دیں گے جس کو ] [ جَهَنَّمَ : جہنم ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ] [ نَجْزِي : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ] نوٹ۔ 1: سابق انبیاء کے جو صحیفے موجود ہیں، ان میں اگرچہ بیشمار تحریفیں ہوچکی ہیں، لیکن توحید کی تعلیم آج بھی ان میں محفوظ ہے۔ ان کے حاملوں نے اگر شرک اختیار کیا ہے تو اپنے فاسد علم کلام کے سہارے پر اختیار کیا ہے، نہ کہ ان صحیفوں کی تعلیم کی بنا پر۔ جس طرح قرآن کی نہایت واضح تعلیم توحید کے باوجود اس امت میں شرک کی بہت سی قسمیں گھس آئی ہیں، اسی طرح ان امتوں نے اپنے صحیفوں کی تعلیم کے بالکل برخلاف شرک کی لعنت اختیار کی۔ انبیاء کی تعلیم و دعوت کا جو ریکارڈ موجود ہے، وہ قرآن کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے کہ اللہ کے ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی ہے، شرک کی تعلیم کسی نے بھی نہیں دی ہے۔ (تدبر قرآن) ۔
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبیؐ کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے اِنہیں جدا کیا، اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی کیا وہ (ہماری اس خلّاقی کو) نہیں مانتے؟

[ اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَرَ : غور نہیں کیا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ ان : کہ ] [ السَّمٰوٰتِ : سارے آسمان ] [ وَالْاَرْضَ : اور یہ زمین ] [ كَانتَا : دونوں تھے ] [ رَتْقًا : جوڑے ہوئے ] [ فَفَتَقْنٰهُمَا : پھر ہم نے بخیہ ادھیڑا دونوں کا ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [ مِنَ الْمَاۗءِ : پانی سے ] [ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ : ہر ایک زندہ چیز کو ] [ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ : تو کیا وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] [ ر ت ق ](ن) رَتْقًا جوڑنا۔ ملانا۔ پھٹے ہوئے کپڑے کی سلائی کر کے ملانا۔] [ رَتْقٌ جوڑی ہوئی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔] [ت ق ](ض) فَتْقًا جوڑی ہوئی چیز کو پھاڑ کر الگ الگ کرنا۔ بخیہ ادھیڑنا۔ کھولنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30]
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں، شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں

[ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنائے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ رَوَاسِيَ : کچھ پہاڑ ] [ ان : کہ (کہیں)] [ تميْدَ : وہ لرزے ] [ بِهِمْ : ان لوگوں کے ساتھ ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنائیں ] [ فِيْهَا : ان (پہاڑوں) میں ] [ فِجَـاجًا : کچھ کشادہ جگہیں ] [ سُبُلًا : راستے ہوتے ہوئے ] [ لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَهْتَدُوْنَ : ہدایت پائیں ] [ج ج ](ن) فَجًّا دو پیروں کے درمیان فاصلہ کرنا۔ پھیلانا ۔ کشادہ کرنا۔] [ فَجٌّ ج فِجَاجٌ۔ صفت ہے۔ کشادہ۔ پھر کشادہ راستے کے لئے بھی آتا ہے۔ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (ہر ایک دور دراز کشادہ راستے سے) 22:27 ۔ اور زیر مطالعہ آیت۔ 31]
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، مگر یہ ہیں کہ اس کی نشانیوں کی طرف توجّہ ہی نہیں کرتے

[ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [ السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا : ایک محفوظ چھت ] [ وَّهُمْ : اور وہ لوگ ] [ عَنْ اٰيٰـتِهَا : اس (آسمان) کی نشانیوں سے ] [ مُعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں

[ وَهُوَ : اور وہ ] [ الَّذِي : وہی ہے جس نے ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ الَّيْلَ : رات کو ] [ وَالنَّهَارَ : اور دن کو ] [ وَالشَّمْسَ : اور سورج کو ] [ وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [ كُلٌّ: ہر ایک ] [ فِيْ فَلَكٍ : کسی مدار میں ] [ يَّسْبَحُوْنَ : تیرتے ہیں ]
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟

[ وَمَا جَعَلْنَا : اور ہم نے نہیں بنائی ] [ لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لئے ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ الْخُلْدَ : ہمیشگی ] [ اَفَا۟ىِٕنْ : پھر کیا اگر ] [ مِّتَّ : آپ ﷺ مرگئے ] [ فَهُمُ : تو یہ لوگ ] [ الْخٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جاندار کو مَوت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں آخرکار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے

[ كُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ : موت کو چکھنے والی ہے ] [ وَنَبْلُوْكُمْ : اور ہم آزماتے ہیں تم لوگوں کو ] [ بِالشَّرِّ : بُرائی سے ] [ وَالْخَيْرِ : اور بھلائی سے ] [ فِتْنَةً : کسوٹی ہوتے ہوئے ] [ وَاِلَيْنَا : اور ہماری طرف ہی ] [ تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جائو گے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 30 ۔ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔ (ابن کثیر (رح) ) ۔ نوٹ۔ 2: آج کل Big Bang Theory کی تصدیق کے طور پر زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔ کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتق کے لفظ میں پھاڑنے کا جو مفہوم ہے اس میں دھماکہ ہونا لازم نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے فتق میں دھماکہ ہوا ہو، ہوسکتا ہے نہ ہوا ہو۔ لیکن Big Bang کے نظریہ پر ہمارا اعتراض دھماکہ کے حوالہ سے نہیں ہے۔ اصل اعتراض یہ ہے کہ یہ کائنات خودبخود وجود میں نہیں آئی ہے بلکہ ایک ہستی ہے جس کی قدرت اسے وجود میں لائی ہے۔ ایک مغربی مفکر نے اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ایک پریس میں دھماکہ ہوا اور ڈکشنری خودبخود وجود میں آگئی۔ اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن اس بحث میں زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔ کا حوالہ آ ہی گیا ہے تو پھر وضاحت ضروری ہے۔ فتق اگر فعل لازم (IntransitiveVerb) ہوتا تو پھر یہ کہنے کی گنجائش ہوتی کہ تخلیق کائنات کا عمل خودبخود ہوا تھا، خواہ دھماکے سے ہوا یا دھماکے کے بغیر ہوا۔ لیکن یہ فعل متعدی (TransitiveVerb) ہے اس لئے ایک ایسی ہستی کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے جو اس کائنات کو وجود میں لائی، خواہ دھماکہ کر کے لائی یا دھماکے کے بغیر۔ اس طرح یہ آیت مذکورہ نظریہ کی تصدیق نہیں بلکہ تردید کر رہی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ Big Bang کے نظریہ کو مغربی سائنس داں اور مفکرین Reject کرچکے ہیں لیکن ہم لوگ اسے قرآن مجید سے درست ثابت کرنے کے لئے الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

یہ منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں "کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے؟" اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمان کے ذکر سے منکر ہیں

[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ رَاٰكَ : دیکھتے ہیں آپ کو ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ ان : تو نہیں ] [ يَّـتَّخِذُوْنَكَ : بناتے آپ ﷺ کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ هُـزُوًا : مذاق کا ذریعہ ] [ اَ : (پھر کہتے ہیں) کیا ] [ ھٰذَا : یہ ہے ] [ الَّذِي : وہ جو ] [ يَذْكُرُ : ذکر کرتا ہے (یعنی باتیں بناتا ہے)] [ اٰلِهَتَكُمْ : تمہارے خدائوں کا ] [ وَ : حالانکہ ] [ هُمْ : وہ خود ] [ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے ذکر کا ] [ هُمْ كٰفِرُوْنَ : ہی انکار کرنے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 40) بَلْ تَاْتِیْھِمْ میں تَاتِیْ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اس کی ضمیر فاعلی ھِیَ ہے جو اَلسَّاعَۃُ کے لئے ہے، اس سے پہلے کہیں اَلسَّاعَۃُ کا لفظ نہیں آیا ہے بلکہ اَلْوَعْدُ کا لفظ آیا ہے لیکن چونکہ اس سے مراد اَلسَّاعَۃُ یعنی قیامت ہے اس لئے یہاں واحد مؤنث کا صیغہ لایا گیا۔ (آیت۔ 41) ۔ فَحَاقَ کا فاعل مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ہے۔
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان جلد باز مخلوق ہے ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاؤ

[ خُلِقَ : پیدا کیا گیا ] [ الْانسَان : انسان کو ] [ مِنْ عَجَلٍ : جلد بازی (کی سرشت) سے ] [ سَاُورِيْكُمْ : میں دکھائوں گا تم لوگوں کو ] [ اٰيٰتِيْ : اپنی نشانیاں ] [ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ : پس تم لوگ جلدی مت مانگو مجھ سے ]
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں "آخر یہ دھمکی پُوری کب ہو گی اگر تم سچے ہو"

[ وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [ مَتٰى: کب ہے ] [ ھٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ]
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش اِن کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جبکہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی

[ لَوْ : کاش ] [ يَعْلَمُ : جانتے ہوتے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ حِيْنَ : (اس وقت کو) جس وقت ] [ لَا يَكُفُّوْنَ : وہ نہ روک سکیں گے ] [ عَنْ وُّجوهِهِمُ : اپنے چہروں سے ] [ النَارَ : آگ کو ] [ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ : اور نہ ہی اپنی پیٹھوں سے ] [ وَلَا هُمْ : اور نہ ان کی ] [ يُنْــصَرُوْنَ : مدد کی جائے گی ]
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

وہ بلا اچانک آئے گی اور اِنہیں اِس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ اِن کو لمحہ بھر مُہلت ہی مل سکے گی

[ بَلْ تَاْتِيْهِمْ : بلکہ وہ (یعنی قیامت) پہنچے گی ان کے پاس ] [ بَغْتَةً : بےسان و گمان ] [ فَتَبْهَتُهُمْ : تو وہ مبہوت کر دے گی ان کو ] [ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : پھر انھیں استطاعت نہیں ہوگی ] [ رَدَّهَا : اس کو لوٹانے کی ] [ وَلَا هُمْ : اور نہ ان کو ] [ يُنْظَرُوْنَ : مہلت دی جائے گی ]