21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخّر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے

[ وَلِسُلَيْمٰنَ : اور (ہم نے تابع کیا) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ] [ الرِّيْحَ : ہوا کو ] [ عَاصِفَةً : تیزو تند ہوتے ہوئے ] [ تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی ] [ بِاَمْرِهٖٓ: ان (علیہ السلام) کے حکم سے ] [ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ : اس زمین کی طرف ] [ بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَكُنَا : اور ہم ہیں ] [ بِكُلِ شَيْءٍ : سب چیز کا ] [ عٰلِمِيْنَ : علم رکھنے والے ]
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دُوسرے کام کرتے تھے ان سب کے نگران ہم ہی تھے

[ وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ : اور (ہم نے تابع کئے) شیطانوں میں سے ] [ مَنْ : وہ جو ] [ يَّغُوْصُوْنَ : غوطے لگاتے تھے ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [ وَيَعْمَلُوْنَ : اور وہ کرتے تھے ] [ عَمَلًا : کچھ (دوسرے) کام ] [ دُوْنَ ذٰلِكَ : اس کے علاوہ ] [ وَكُنَا : اور ہم تھے ] [ لَهُمْ : ان کی ] [ حٰفِظِيْنَ : نگرانی کرنے والے ] [ غ و ص ] غَوْصًا پانی میں غوطہ لگانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 82 ۔] [ غَوَّاصٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بار بار غوطہ لگانے والا۔ وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّائٍ وَّ غَوَّاصٍ (اور شیاطین کو بھی سب کے سب عمارت تعمیر کرنے والے اور غوطے لگانے والے) ۔ 38:37] نوٹ۔ 1: آیات۔ 78 سے 82 تک ہر آیت میں بات مکمل ہونے کے بعد ایک ایک جملے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ دراصل انسان کی دائمی رہنمائی کے لئے ہے۔ قیامت تک جو بھی دل کی آنکھیں کھول کر قرآن کا مطالعہ کرے گا اس کے لئے ان اضافی جملوں میں ایک ہدایت ہے اور جو بھی اس ہدایت پر عمل کرے گا وہ اپنے آپ کو شرک کی ایک قسم سے بچا لے جائے گا۔ اب یہ بات سمجھ لیں کہ ہدایت کیا ہے اور اس پر عمل نہ کرنا شرک کیسے ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ کسی نوع کا کوئی اختیار مل جائے، ذہن کسی بات کی تہہ تک پہنچ جائے، کسی مسئلہ کا حیرت انگیز حل سمجھ میں آجائے، ریسرچ کر کے کوئی ایجاد کرنے میں کامیاب ہوجائے، عوامل قدرت میں سے کسی پر کنٹرول حاصل ہوجائے جیسے بجلی پر قابو پانا، کوئی حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دے لے، غرضیکہ کوئی بھی کامیابی ہو یا کوئی بھی نعمت ملے، انسان کو چاہیے کہ اسے اپنی محنت، ذہانت اور صلاحیت کا نتیجہ نہ سمجھے، بلکہ ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ یہ اللہ نے دی ہے تو اسے ملی ہے۔ ثانیاً یہ کہ اسے دے کر اللہ تعالیٰ اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا بلکہ ہر چیز ، ہر آن اور ہر لمحہ اس کی نظر میں ہے اور اس کے کنٹرول میں ہے۔ ثالثاً یہ کہ جب بھی اس کامیابی یا نعمت کا خیال آئے یا اس سے استفادہ کرے تو اللہ کا شکر ادا کرے۔ اب ایمانداری سے سوچیں کہ ایسے موقعوں پر ہم کیا کرتے ہیں۔ زیادہ تر تو اسے ہم اپنا ہی کارنامہ قرار دیتے ہیں۔ میں نے اتنی محنت کی، یہ عقلمندی دکھائی، اتنی مشکلات پر قابو پایا تب کہیں یہ کام ہوا ہے، اگر کبھی ہم اپنی ذات کے خول سے باہر نکلتے بھی ہیں تو اس کا کریڈٹ اپنے کسی کرم فرما کو دیتے ہیں۔ میرے وکیل نے تو کمال ہی کردیا۔ یہ میرے ڈاکٹر کی تشخیص کا کرشمہ ہے۔ بس میرا دوست کام آگیا۔ ایسے موقعوں پر اللہ تعالیٰ کی ذات عموماً ہمارے ذہن سے اوجھل ہوتی ہے۔ جو کام بنانے والی یا نعمت دینے والی اصل ہستی ہے اس جگہ ہم انسانی قابلیت اور صلاحیت کو لا کر بٹھا دیتے ہیں اور اس کے گن گاتے رہتے ہیں۔ یہ شرک کی ایک قسم ہے۔ اسی سے بچنے کے لئے مذکورہ آیات میں اصل حقیقت کی نشاندہی کرنے والے جملوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کی رہنمائی میں اگر ہم اس طرح سوچیں کہ مجھے یا فلاں کو اللہ نے توفیق دی اور مدد کی تو یہ کام ہوگیا، تو اس قسم کے شرک سے ہم خود کو بچا لے جائیں گے۔ سوچنے کے جس انداز کو اوپر شرک کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے وہ کسی کی ذہنی اختراع نہیں ہے بلکہ قرآن مجید میں اس کا متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہم صرف تین آیات کا ترجمہ دے رہے ہیں جو ہم نے مولانا احمد رضا خانصاحب بریلوی کے ترجمہ سے نقل کیا ہے۔ (1) اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو۔ پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے (النحل۔ 53 ۔ 54) (2) پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لا کر پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے۔ جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (العنکبوت۔ 65) ۔ (3) اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ (الروم۔ 33) سورة الکھف کی آیات۔ 32 تا 44 میں ہم مادہ پرستی کا شرک پڑھ چکے اور اس کی آیت۔ 110 میں ریاکاری کا شرک بھی پڑھ لیا۔ ان کے ساتھ قابلیت و صلاحیت کے شرک اور اس کی دیگر اقسام کو ذہن میں رکھ کر سوچیں اور اندازہ کریں کہ شرک سے مکمل اجتناب کتنا مشکل کام ہے۔ ہم کسی ایک قسم کے شرک سے خود کو بچا لیتے ہیں تو کسی دوسری قسم کے شرک میں جا کر پھنس جاتے ہیں۔ ہم میں بہت کم ایسے نصیبے والے ہوں گے جو ہر نوع کے شرک سے پاک ہوں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اور لوگوں کے اکثر اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر اس حال میں کہ وہ شرک کرنے والے ہوتے ہیں۔ “ (یوسف۔ 106) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید میں تقریباً پانچ چھ جگہ اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اب اندازہ کریں کہ یہ کتنا بڑا سر ٹیفکیٹ ہے، کتنا عظیم Testimonial ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیا ہے۔ ہم لوگ تو ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے لیکن ان کی گرد کے جتنا قریب ہو سکیں ہمارے حق میں اتنا ہی بہتر ہے۔ اس کے لئے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہم خود کو شرک سے محفوظ نہ سمجھیں۔ پھر ہر نوع کے شرک سے بچنے کے لئے مسلسل شعوری کوشش کرتے رہیں اور ساتھ میں وہ دعا بھی مانگتے رہیں سورة الکھف کی آیت۔ 110 ۔ کے نوٹ۔ 2 میں دی ہوئی ہے۔
Ayah 21:83

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوبؑ کو دی تھی یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ "مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے"

[ وَاَيُّوْبَ : اور (یاد کرو) ایوب (علیہ السلام) کو ] [ اِذْ : جب ] [ نَادٰي : انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] [ رَبَّهٗٓ: اپنے رب کو ] [ انى: کہ ] [ مَسَّنِيَ : چھوا مجھ کو ] [ الضُّرُّ : تکلیف نے ] [ وَانتَ : اور تو ہی ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں کا سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے

[ فَاسْتَجبنَا : تو ہم نے جواب دیا ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [ فَكَشَفْنَا : پھر ہم نے ہٹا دیا ] [ مَا : اس کو جو ] [ بِهٖ : ان (علیہ السلام) پر تھی ] [ مِنْ ضُرٍّ : کسی تکلیف میں سے ] [ وَّاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیئے ان (علیہ السلام) کو ] [ اَهْلَهٗ : ان کے گھر والے ] [ وَمِثْلَهُمْ : اور ان کے جیسے (اور بھی)] [ مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ ] [ رَحْمَةً : بطور رحمت کے ] [ مِّنْ عِنْدِنَا : اپنے پاس سے ] [ وَذِكْرٰي : اور بطور نصیحت کے ] [ لِلْعٰبِدِيْنَ : بندگی کرنے والوں کے لئے ]
Ayah 21:85

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے

[ وَاِسْمٰعِيْلَ : اور (یاد کرو) اسماعیل (علیہ السلام) کو ] [ وَاِدْرِيْسَ : اور ادریس (علیہ السلام) کو ] [ وَذَا الْكِفْلِ : اور ذوالکفل کو ] [ كُلٌّ: (یہ لوگ) سب ] [ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ : صبر کرنے والوں میں سے تھے ]
Ayah 21:86

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے

[ وَاَدْخَلْنٰهُمْ : اور ہم نے داخل کیا ان کو ] [ فِيْ رَحْمَتِنَا : اپنی رحمت میں ] [ انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : صالح لوگوں میں سے تھے ]
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا "نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا"

[ وَذَا النُّوْنِ : اور مچھلی والے کو ] [ اِذْ : جب ] [ ذَّهَبَ : وہ گئے ] [ مُغَاضِبًا : غصّہ کرتے ہوئے (اپنی قوم سے)] [ فَظَنَّ : پھر انھوں (علیہ السلام) نے سمجھا ] [ ان : کہ ] [ لَّنْ نَّقْدِرَ : ہم ہرگز گرفت نہیں کریں گے ] [ عَلَيْهِ : ان پر ] [ فَنَادٰي : پھر انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] [ فِي الظُّلُمٰتِ : اندھیروں میں ] [ ان : کہ ] [ لَّآ اِلٰهَ : کوئی بھی الٰہ نہیں ] [ اِلَّآ : سوائے ] [ انتَ : تیرے ] [ سُبْحٰــنَكَ : پاکیزگی تیری ہے ] [ انى: بیشک میں ہی ] [ كُنْتُ : ہوں ] [ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں میں سے ]
Ayah 21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تب ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور غم سے اس کو نجات بخشی، اور اِسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں

[ فَاسْتَجبنَا : پھر ہم نے جواب دیا ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [ وَنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] [ مِنَ الْغَمِّ : اس غم سے ] [ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نُـــــْۨـجِي : ہم نجات دیتے ہیں ] [ الْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کو ] نوٹ۔ 1: حضرت ادریس (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کی سرگشتِ حیات بالکل پر دئہ خفا میں ہیں۔ قدیم صحیفوں میں ان ناموں سے ان کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اب یا تو یہ ہوا کہ عربی لب و لہجہ میں یہ نام بالکل بدل گئے ہیں یا قدیم صحیفوں سے ان کے نام غائب ہوگئے۔ جو بھی شکل ہوئی ہو بہرحال ان دو نبیوں کے نام قرآن ہی کے ذریعہ سے متعارف ہوئے ہیں اور صبر ان کی نمایاں خصوصیت بتائی گئی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ تورات یا قرآن، کسی میں بھی تمام انبیاء کرام کے نام اور حالات مذکور نہیں ہیں۔ تمام انبیاء کرام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریّاؑ کو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ "اے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے"

[ وَزَكَرِيَّآ : اور (یاد کرو) زکریا (علیہ السلام) کو ] [ اِذْ : جب ] [ نَادٰي : انھوں (علیہ السلام) نے پکارا ] [ رَبَّهٗ : اپنے رب کو ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ لَا تَذَرْنِيْ : تو مت چھوڑ مجھ کو ] [ فَرْدًا : تنہا ] [ وَّانتَ : اور تو ہی ] [ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ : وارثوں کا بہترین ہے ]
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

پس ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے

[ فَاسْتَجبنَا : تو ہم نے جواب دیا ] [ لَهٗ : ان کو ] [ وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا ] [ لَهٗ : ان کو ] [ يَحْــيٰى: یحییٰ (علیہ السلام) ] [ وَاَصْلَحْنَا : اور ہم نے صحت ٹھیک کی ] [ لَهٗ : ان کے لئے ] [ زَوْجَهٗ : ان کی بیوی کی ] [ انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [ كَانوْا يُسٰرِعُوْنَ : سبقت کرتے تھے ] [ فِي الْخَــيْرٰتِ : بھلائیوں میں ] [ وَيَدْعُوْنَنَا : اور وہ پکارتے تھے ہم کو ] [ رَغَبًا : التجا کرتے ہوئے ] [ وَّرَهَبًا : اور ڈرتے ہوئے ] [ وَكَانوْا : اور وہ تھے ] [ لَنَا : ہمارے لئے ] [ خٰشِعِيْنَ : فروتنی کرنے والے ]
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی ہم نے اُس کے اندر اپنی روح سے پھونکا اور اُسے اور اُس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنا دیا

[ وَالَّتِيْٓ: اور (یاد کرو) اس خاتون کو جس نے ] [ اَحْصَنَتْ : حفاظت کی ] [ فَرْجَهَا : اپنی عصمت کی ] [ فَنَفَخْنَا : تو ہم نے پھونکا ] [ فِيْهَا : ان (خاتون) میں ] [ مِنْ رُّوْحِنَا : اپنی روح میں سے ] [ وَجَعَلْنٰهَا : اور ہم نے بنایا ان کو ] [ وَابْنَهَآ : اور ان کے بیٹے کو ] [ اٰيَةً : ایک نشانی ] [ لِـلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لئے ] ر ج [ فَرْجًا : کسی چیز میں شگاف ڈالنا۔ دراڑ پیدا کرنا۔ وَاِذَا لسَّمَائُ فُرِجَتْ (جب آسمان میں شگاف ڈالا جائے گا) 77:9] [ فَرْجٌ ج فُرُوْجٌ۔ اسم ذات بھی ہے۔ شگاف۔ دراڑ۔ پھر کنایہ کے طور پر انسان کی شرمگاہ کے لئے بھی آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 91 ۔ وَمَالَھَا مِنْ فُرُوْجٍ (اور نہیں ہے اس میں یعنی آسمان میں کوئی بھی دراڑیں) 50:6] ترکیب : (آیت۔ 91) ۔ فیھا کی ضمیر اَلَّتِیْ کے لئے ہے۔ یہ فَرْجَھَا کے لئے نہیں ہوسکتی کیونکہ عربی میں فَرْجٌ مذکر لفظ ہے۔ (آیت۔ 92) اِنَّ کا اسم ھٰذِہٖ ہے اور محلاًّ حالت نصب میں ہے۔ اُمَّتُکُمْ اس کی خبر ہے، جبکہ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً حال ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو

[ ان : بیشک ] [ هٰذِهٖٓ: یہ ] [ اُمَّتُكُمْ : تم لوگوں کا دین ہے ] [ اُمَّةً وَّاحِدَةً : ایک ہی دین ہوتے ہوئے ] [ وَّانا : اور میں ] [ رَبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ہوں ] [ فَاعْبُدُوْنِ : پس تم لوگ بندگی کرو میری ]
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ) انہوں نے آپس میں دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے

[ وَتَقَطَّعُوْٓا : اور لوگوں نے ٹکڑے ٹکڑے کیا ] [ اَمْرَهُمْ : اپنے کام کو ] [ بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [ كُلٌّ: (وہ) سب ہیں ] [ اِلَيْنَا : ہماری طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ] (آیت۔ 93) تَقَطَّعُوْا باب تفعل ہے جس سے زیادہ تر افعال لازم آتے ہیں لیکن تَقَطَّعُوْا لازم اور متعدی، دونوں طرح آتا ہے اور قرآن مجید میں بھی یہ دونوں طرح آیا ہے۔ یہاں اَمْرَھُمْ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ متعدی ہے۔ نوٹ۔ 2: وَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ میں اَمْرَھُمْ کا لفظ جامع ہے۔ اس میں یہ صورتحال بھی شامل ہے کہ کچھ لوگ نَبِیِّ وقت پر ایمان نہیں لائے جس کی وجہ سے مذاہب الگ ہوگئے۔ اور اس میں ہماری موجودہ صورتحال بھی شامل ہے۔ ہم لوگ اللہ کی وحدانیت، آخرت، رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ ﷺ کے تاقیامت نَبِیِّ وقت ہونے پر ایمان رکھتے ہوئے فروعی معاملات میں اختلاف کر کے فرقوں میں بٹے ہیں۔ اس لئے ہمارا ہر فرقہ آیت۔ 94 ۔ میں مذکور وَھُوَ مُؤْمِنٌ کی شرط پوری کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی فرقے کے اہل علم دوسرے فرقے کو کافر قرار نہیں دیتے اہل علم کی بات کے مقابلہ میں نیم خواندہ واعظین کی بات میں کوئی وزن نہیں ہے۔ اس لحاظ سے آیت۔ 94 ۔ میں بشارت ہے کہ ہمارے کسی فرقے کا کوئی شخص جو بھی نیکیاں کرے گا تو ان شاء اللہ اس کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ آیت کے اس مفہوم کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا۔ آپ ﷺ فرماتے کہ میں نے اپنے رب سے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں پوچھا جو میرے بعد ہوگا، تو اللہ نے میری طرف وحی کی کہ اے محمد ( ﷺ) تیرے صحابہ میرے نزدیک آسمان میں ستاروں کے مرتبہ میں ہیں۔ ان کے بعض زیادہ قوی ہیں بعض سے اور ہر ایک کے لئے نور ہے۔ پس وہ شخص جس نے کوئی چیز لی اس میں سے جس پر وہ (یعنی صحابہ ؓ ) ہیں، جو ان کے اختلاف میں سے ہے، تو وہ شخص میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا (کہ اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ ان میں سے جس کی بھی تم لوگ پیروی کرو گے تو تم لوگ ہدایت پائو گے۔ (مشکٰوۃ۔ باب مناقب الصحابہ ؓ )
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پھر جو نیک عمل کرے گا، اِس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو اس کے کام کی نا قدری نہ ہو گی، اور اُسے ہم لکھ رہے ہیں

[ فَمَنْ : پھر جو ] [ يَّعْمَلْ : عمل کرے گا ] [ مِنَ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں میں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُوَ : وہ ] [ مُؤْمِنٌ: ایمان لانے والا ہو ] [ فَلَا كُفْرَان : تو کسی قسم کی کوئی ناقدری نہیں ہوگی ] [ لِسَعْيِهٖ : اس کی سعی کی ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَهٗ : اس کو ] [ كٰتِبُوْنَ : لکھنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت ایسے ہیں جیسے ایک باپ کے فرزند کہ دین سب کا ایک ہے یعنی اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی عبادت، گو احکامِ شرع گوناگوں ہیں۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا۔ بعض اپنے نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ (ابن کثیر (رح) )
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پھر پلٹ سکے

[ وَحَرٰمٌ: اور (لوٹنا) حرام ہے ] [ عَلٰي قَرْيَةٍ : کسی ایسی بستی پر ] [ اَهْلَكْنٰهَآ : ہم نے ہلاک کیا جس کو ] [ انهُمْ : کہ وہ لوگ ] [ لَا يَرْجِعُوْنَ : نہیں لوٹیں گے ] نوٹ۔ 1: آیات۔ 95 ۔ 96 کے سرسری مطالعہ سے یہ مفہوم ذہن میں آتا ہے کہ جس بستی کو اللہ نے ہلاک کیا اس کے لوگ نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں یعنی اس کے بعد وہ لوٹ سکیں گے۔ لیکن ان آیات کا یہ مفہوم نہیں ہے۔ اگر ایک حدیث ذہن میں ہو تو آدمی کا ذہن ان آیات کے صحیح مفہوم تک پہنچ جاتا ہے۔ ” ایک حدیث میں یاجوج و ماجوج کی یورش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ کہ نہیں کہہ سکتے کب وہ بچہ جن دے، رات کو یا دن کو۔ “ (منقول از تفہیم القرآن) اب ان آیات کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے کہ ہلاک شدہ بستیوں کے لوگ واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کھول دیئے جائیں یعنی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ اردو محاورہ ہم اسے اس طرح کہیں گے کہ وہ لوگ قیامت تک نہیں لوٹیں گے۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجُوج و ماجُوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے

[ حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [ اِذَا : جب ] [ فُتِحَتْ : کھولے جائیں گے ] [ يَاْجوجُ وَمَاجوجُ : یاجوج اور ماجوج ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مِّنْ كُلِ حَدَبٍ : ہر بلندی سے ] [ يَّنْسِلُوْنَ : تیزی سے پھسلتے ہوں گے ] ح دب [ حَدَبًا : (س) آدمی کا کبڑا ہونا۔ حَدَبٌ کبڑا پن۔ پھر کسی زمین کی اونچی جگہ کو بھی مجازاً حَدَبٌ کہتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ 96 ۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور وعدہ برحق کے پورا ہونے کا وقت قریب آ لگے گا تو یکا یک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تھا کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطا کار تھے"

[ وَاقْتَرَبَ : اور (جب) قریب آ لگے ] [ الْوَعْدُ الْحَقُّ : سچا وعدہ ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ هِىَ : وہ ] [ شَاخِصَةٌ: کھلی کی کھلی رہ جانے والی ہیں ] [ اَبْصَارُ الَّذِينَ : ان لوگوں کی آنکھیں جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ يٰوَيْلَنَا : (وہ کہیں گے) ہائے ہماری شامت ] [ قَدْ كُنَا : ہم رہے ] [ فِيْ غَفْلَةٍ : غفلت میں ] [ مِّنْ ھٰذَا : اس سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ كُنَا : ہم ہی تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ]
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں، وہیں تم کو جانا ہے

[ انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [ وَمَا : اور وہ جس کی ] [ تَعْبُدُوْنَ : تم لوگ بندگی کرتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ حَصَبُ جَهَنَّمَ : جہنم کا ایندھن ہیں ] [ انتم : تم لوگ ] [ لَهَا : اس کے لئے ] [ وٰرِدُوْنَ : پہنچنے والے ہو ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 98 ۔ میں مَاتَعْبُدُوْنَ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں اس سے مراد وہ بت اور پتھر ہیں جن کی مشرکین پرستش کرتے ہیں۔ ان کو جہنم کا ایندھن بنانے سے مقصود ان پتھروں کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ ان کے پجاریوں کو یہ دکھانا ہے کہ جن کو الٰہ سمجھ کے تم ان کی پرستش کرتے رہے ان کی یہاں کیا گت بن رہی ہے۔ بعض مشرک قومیں جو انبیاء اور صالحین کی پرستش کرتی ہیں ان کا انجام یہاں زیر بحث نہیں ہے۔ ان کے معاملات کی تفصیل قرآن کے دوسرے مقامات پر آئی ہے کہ قیامت کے دن وہ لوگ اپنے پجاریوں سے اعلان براءت کردیں گے (تدبر قرآن)
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے"

[ لَوْ : اگر ] [ كَان : ہوتے ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ سب ] [ اٰلِهَةً : کوئی الٰہ ] [ مَا وَرَدُوْهَا : تو وہ نہ پہنچتے اس تک ] [ وَكُلٌّ: اور سب ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہو گا کہ اس میں کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی

[ لَهُمْ : ان کے لئے ہوگی ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ زَفِيْرٌ: چیخ و پکار ] [ وَّهُمْ : اور وہ لوگ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ لَا يَسْمَعُوْنَ : (کچھ) نہیں سنیں گے ]
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بھَلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہوگا، تو وہ یقیناً اُس سے دُور رکھے جائیں گے

[ ان : بیشک ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ سَبَقَتْ : آگے بڑھی ] [ لَهُمْ : جن کے لئے ] [ مِّنَا : ہمارے پاس سے ] [ الْحُسْنٰٓى: بھلائی ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ عَنْهَا : اس (جہنم) سے ] [ مُبْعَدُوْنَ : دور رکھے جانے والے ہیں ]
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

اس کی سرسراہٹ تک نہ سُنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزوں کے درمیان رہیں گے

[ لَا يَسْمَعُوْنَ : وہ لوگ نہیں سنیں گے ] [ حَسِيْسَهَا : اس کی سرسراہٹ ] [ وَهُمْ : اور وہ ] [ فِيْ مَا : اس میں ہوں گے جو ] [ اشْتَهَتْ : چاہیں گے ] [ انفُسُهُمْ : ان کے جی ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا، اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ "یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا"

[ لَا يَحْزُنُهُمُ : غمگین نہیں کرے گی ان کو ] [ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ : وہ بڑی دہشت ] [ وَتَتَلَقّٰىهُمُ : اور استقبال کریں گے ان کا ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتے ] [ ھٰذَا : (اور کہیں گے) یہ ] [ يَوْمُكُمُ الَّذِي : تم لوگوں کا وہ دن ہے جس کا ] [ كُنْتم تُوْعَدُوْنَ : تم لوگوں کو وعدہ دیا گیا تھا ز ع [ فَزَعًا : (س) دہشت زدہ ہونا۔ گھبرانا۔ وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ (اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو دہشت زدہ ہوجائیں گے وہ جو آسمانوں میں ہیں اور وہ جو زمین میں ہیں۔ ) 27:87 فَزَعٌ اسم ذات بھی ہے۔ دہشت۔ گھبراہٹ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 103 ۔ (تفعیل) تَفْزِیْعًا کسی سے دہشت دور کرنا۔ حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ (یہاں تک کہ جب دہشت دور کردی جائے گی ان کے دلوں سے) 34:23
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے

[ يَوْمَ : جس دن ] [ نَطْوِي : ہم لپیٹیں گے ] [ السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [ كَـطَيِّ السِّجِلِ : جیسے عدالتی کاروائی کا لپیٹنا ] [ لِلْكُتُبِ : لکھی ہوئی ہونے کے لئے ] [ كَمَا : جیسے کہ ] [ بَدَانآ : ہم نے ابتدا کی ] [ اَوَّلَ خَلْقٍ : پہلی تخلیق کی ] [ نُّعِيْدُهٗ : (ویسے ہی) ہم واپس لائیں گے اس کو ] [ وَعْدًا عَلَيْنَا : وعدہ ہوتے ہوئے ہم پر ] [ انا : بیشک ] [ كُنَا : ہم ہیں ] [ فٰعِلِيْنَ : (وعدہ پورا) کرنے والے ]
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور زَبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے

[ وَلَقَدْ كَتَبْنَا : اور بیشک ہم لکھ چکے ہیں ] [ فِي الزَّبُوْرِ : زبور میں ] [ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ : نصیحت کے بعد ] [ ان : کہ ] [ الْاَرْضَ : یہ زمین ] [ يَرِثُهَا : وارث ہوں گے اس کے ] [ عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ : میرے نیک بندے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 105 میں جس زمین کا ذکر ہے اس سے مراد جنت کی زمین ہے کیونکہ آیت۔ 104 ۔ میں بتایا ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ اس آسمان یعنی موجودہ نظام شمسی کی بساط لپیٹ دے گا۔ یہی بات سورة ابراہیم کی آیت۔ 48 ۔ میں اس طرح آئی ہے کہ جس دن یہ زمین دوسری زمین سے اور آسمان دوسرے آسمان سے بدل دیئے جائیں گے۔ اس لئے آیت زیر مطالعہ میں دوبارہ تخلیق کی جانے والی زمین کا ذکر ہے اور اس کے وارث صالحین ہوں گے، یہ بات سورة زمر میں مزید واضح ہوجاتی ہے۔ جس میں آیت۔ 67 سے 73 تک قیامت قائم ہونے، حساب کتاب اور فیصلے ہونے، پھر دوزخیوں کے دوزخ میں اور جنتیوں کے جنت میں داخلے کا ذکر کرنے کے بعد آیت۔ 74 ۔ میں جنت میں داخل ہوتے وقت ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ وہ کہیں گے تمام شکرو سپاس اس اللہ کے لئے ہے جس نے سچ کیا ہم سے اپنا وعدہ اور ہم کو وارث بنایا اس زمین کا کہ ہم ٹھکانہ بنائیں اس جنت میں سے جہاں ہم چاہیں۔ آیت زیر مطالعہ میں زبور کا حوالہ ہے۔ ویسے تو زبور میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہی ہوں گے لیکن باب۔ 37 ۔ تو پورے کا پورا اسی حقیقت کی وضاحت کے لئے مخصوص ہے۔ اس کی نوعیت قطعہ بند نظم کی مانند ہے جس میں پہلے وعظ و نصیحت کی باتیں آتی ہیں پھر ٹیپ کے بند کی طرح یہ بات آتی ہے کہ زمین اور ملک کے وارث خدا کے نیک بندے ہوں گے۔ اور تکرار کے ساتھ ہی یہ بشارت بھی ہے کہ یہ وراثت دائمی اور ابدی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ ابدی وراثت کی بشارت موجودہ زمین سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی نہ تو کوئی چیز ابدی ہے اور نہ اس کی وراثت صالحین کے لئے مخصوص ہے۔ بلکہ یہ زمین اور اس کی ہر چیز فانی ہے اور اس میں نیک و بد دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک مدت تک کے لئے مہلت بخشی ہے۔ موجودہ زمین میں عارضی وراثت جس قاعدے پر تقسیم ہوتی ہے اسے سورة اعراف کی آیت۔ 128 ۔ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ” زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے۔ “ مشیت الٰہی کے تحت یہ وراثت مومن و کافر سب کو ملتی ہے مگر جزائے اعمال کے طور پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت۔ 129 ۔ میں فرمایا ” اور وہ تم کو زمین میں خلیفہ بنائے گا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ “ اس وراثت میں ہمیشگی نہیں ہے۔ یہ محض ایک امتحان کا موقعہ ہے جو خدا کے ایک ضابطے کے مطابق مختلف قوموں کو باری باری دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس آخرت میں زمین کا دوامی بندوبست ہوگا اور اللہ تعالیٰ صرف مومنین صالحین کو اس کا وارث بنائے گا، امتحان کے طور پر نہیں بلکہ جزائے اعمال کے طور پر۔ یہ وراثت دائمی اور ابدی ہوگی۔ (تدبر قرآن اور تفہیم القرآن سے ماخوذ) ۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے

[ ان : بیشک ] [ فِيْ ھٰذَا : اس میں ] [ لَبَلٰغًا : ایک پیغام ہے ] [ لِقَوْمٍ عٰبِدِيْنَ : بندگی کرنے والے لوگوں کے لئے ]
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے

[ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ رَحْمَةً : رحمت ہوتے ہوئے ] [ لِلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لئے ]
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

اِن سے کہو "میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا خدا صرف ایک خدا ہے، پھر کیا تم سرِ اطاعت جھکاتے ہو؟"

[ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يُوْحٰٓى: وحی کی جاتی ہے ] [ اِلَيَّ : میری طرف ] [ انمَآ : کہ بس ] [ اِلٰــهُكُمْ : تم لوگوں کا الٰہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: واحد الٰہ ہے ] [ فَهَلْ : تو کیا ] [ انتم : تم لوگ ] [ مُّسْلِمُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہو ]
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ "میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کر دیا ہے اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے قریب ہے یا دُور

[ فَان : پھر اگر ] [ تَوَلَوْا : وہ لوگ منھ موڑیں ] [ فَقُلْ : تو آپ ﷺ کہہ دیں ] [ اٰذَنْتُكُمْ : میں نے آگاہ کیا تمہیں ] [ عَلٰي سَوَاۗءٍ : برابر پر (یعنی پوری طرح)] [ وَان اَدْرِيْٓ: اور میں نہیں جانتا ] [ اَ : آیا ] [ قَرِيْبٌ: قریب ہے ] [ اَمْ : یا ] [ بَعِيْدٌ: دور ہے ] [ مَا : وہ جس کا ] [ تُوْعَدُوْنَ : تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے ]
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو

[ انهٗ : بیشک وہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ الْجَـــهْرَ : نمایاں کئے جانے کو ] [ مِنَ الْقَوْلِ : بات میں سے ] [ وَيَعْلَمُ : اور وہ جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَكْتموْنَ : تم لوگ چھپاتے ہو ]
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ (دیر) تمہارے لیے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے"

[ وَان اَدْرِيْ : اور میں نہیں جانتا ] [ لَعَلَهٗ : شاید وہ (وعدہ کی تاخیر)] [ فِتْنَةٌ: آزمائش ہو ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ وَمَتَاعٌ: اور برتنے کا سامان ہو ] [ اِلٰى حِيْنٍ : ایک وقت تک ]
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(آخرکار) رسولؐ نے کہا کہ "اے میرے رب، حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہو اُن کے مقابلے میں ہمارا ربِّ رحمان ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے"

[ قٰلَ : (حضور ﷺ نے) کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ احْكُمْ : تو فیصلہ کر دے ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَرَبُّنَا : اور ہمارا رب ] [ الرَّحْمٰنُ : وہ رحمن ہے ] [ الْمُسْتَعَان : جس سے مدد مانگی جاتی ہے ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ باتیں بناتے ہو ]