22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو، اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے

[ يٰٓاَيُّهَا النَاسُ : اے لوگو ] [ اتَّقُوْا : تم لوگ بچو ] [ رَبَّكُمْ : اپنے رب (کی نافرمانی) سے ] [ ان : یقینا ] [ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ : اس گھڑی کا زلزلہ ] [ شَيْءٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم چیز ہے ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ پہلی آیت میں جس زلزلہ کا ذکر ہے یہ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے۔ نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ لفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ پہلے نفخ فَزَع ہوگا جو عام سراسیمگی پیدا کرے گا۔ دوسرا نفخ صَعْق ہوگا جب سب مر کر گرجائیں گے اور تیسرے نفخ پر سب لوگ زندہ ہو کر خدا کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ پہلے نفخ کی تفصیلی کیفیت بیان کرتے ہوئے نبی ﷺ نے بتایا کہ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہوگی جو موجوں کے تھپیڑے کھا کر ڈگمگا رہی ہو۔ یا اس معلق قندیل کی سی ہوگی جس کو ہوا کے جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔ (تفہیم القرآن) ۔
Ayah 22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچّے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا

[ يَوْمَ : جس دن ] [ تَرَوْنَهَا : تم لوگ دیکھو گے اس کو (کہ)] [ تَذْهَلُ : غافل ہوجائے گی ] [ كُلُّ مُرْضِعَةٍ : ہر دودھ پلانے والی ] [ عَمَآ : اس سے جس کو ] [ اَرْضَعَتْ : اس نے دودھ پلایا ] [ وَتَضَعُ : اور ڈال دے گی ] [ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ : ہر حمل والی ] [ حَمْلَهَا : اپنے حمل کو ] [ وَتَرَى: اور تو دیکھے گا ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ سُكٰرٰي : بہت نشہ میں ] [ وَ : حالانکہ ] [ مَا هُمْ : وہ نہیں ہوں گے ] [ بِسُكٰرٰي : نشہ میں ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن (بلکہ)] [ عَذَابَ اللّٰهِ : اللہ کا عذاب ] [ شَدِيْدٌ: شدید ہے ] ذ ھـ ل [ ذَھْلًا : (ف) بھول جانا۔ غافل ہوجانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں

[ وَمِنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی ہے) جو ] [ يُّجَادِلُ : بحث کرتا ہے ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں ] [ بِغَيْرِ عِلْمٍ : کسی علم کے بغیر ] [ وَّيَتَّبِـعُ : اور وہ پیروی کرتا ہے ] [ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍ : ہر ایک سرکش شیطان کی ]
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنّم کا راستہ دکھائے گا

[ كُتِبَ : لکھا گیا ] [ عَلَيْهِ : اس (شخص) پر ] [ انهٗ : (کہ) حقیقت یہ ہے کہ ] [ مَنْ : جو ] [ تَوَلَّاهُ : دوست بناتا ہے اس (شیطان) کو ] [ فَانهٗ : تو پھر تو وہ ] [ يُضِلُّهٗ : گمراہ کرے گا اس کو ] [ وَيَهْدِيْهِ : اور وہ راہنمائی کرے گا اس کی ] [ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ : شعلوں والی آگ کے عذاب کی طرف ]
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی

[ يٰٓاَيُّهَا النَاسُ : اے لوگو ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ فِيْ رَيْبٍ : کسی شک میں ] [ مِّنَ الْبَعْثِ : (دوبارہ) اٹھائے جانے سے ] [ فَانا : تو بیشک ہم نے ] [ خَلَقْنٰكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ مِّنْ تُرَابٍ : ایک مٹی سے ] [ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ : پھر ایک نطفہ سے ] [ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ : پھر ایک جمے ہوئے خون سے ] [ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ : پھر ایک چکنی کی ہوئی گوشت کی بوٹی سے ] [ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ : اور بغیر چکنی کی ہوئی (بوٹی) سے ] [ لِنُبَيِّنَ : تاکہ ہم واضح کریں ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے (حقائق کو)] [ وَنُقِرُّ : اور ہم ٹھہراتے ہیں ] [ فِي الْاَرْحَامِ : رحموں میں ] [ مَا : اس چیز کو جس کو ] [ نَشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں ] [ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک معین مدت تک ] [ ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ : پھر ہم نکالتے ہیں تم لوگوں کو ] [ طِفْلًا : ایک بچہ ہوتے ہوئے ] [ ثُمَّ : پھر (ہم بڑھاتے ہیں)] [ لِتَبْلُغُوْٓا : تاکہ تم لوگ پہنچو ] [ اَشُدَّكُمْ : اپنی پختگی کو ] [ وَمِنْكُمْ مَنْ : اور تم میں وہ بھی ہے جس کو ] [ يُّتَوَفّٰى: موت دی جاتی ہے ] [ وَمِنْكُمْ مَنْ : اور تم میں وہ بھی ہے جو ] [ يُّرَدُّ : لوٹا دیا جاتا ہے ] [ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ : عمر کے سب سے گھٹیا (حصّہ) کی طرف ] [ لِكَيْلَا يَعْلَمَ : تاکہ وہ نہ جانے ] [ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ : جاننے کے بعد سے ] [ شَيْــــًٔا : کچھ بھی ] [ وَتَرَى: اور تو دیکھتا ہے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ هَامِدَةً : بنجر حالت میں ] [ فَاِذَآ : پھر جب ] [ انزَلْنَا : ہم اتارتے ہیں ] [ عَلَيْهَا : اس پر ] [ الْمَاۗءَ : پانی ] [ اهْتَزَّتْ : تو وہ لہلہاتی ہے ] [ وَرَبَتْ : اور ابھرتی ہے ] [ وَانۢبَتَتْ : اور وہ اگاتی ہے ] [ مِنْ كُلِ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ : ہر ایک شاداب جوڑے میں سے ] م ض غ [ مَضْغًا : (ف) چبانا ] مُضْغَۃٌ گوشت کا چھوٹا ٹکڑا جو چبانے کے لئے منہ میں ڈالا جاسکے۔ گوشت کی بوٹی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5 طل [ طُفُوْلَۃً : (خ) نرم و نازک ہونا۔] ظِفْلٌ ج اَطْفَالٌ۔ بچہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5 ھـ م د [ ھَمْدًا آگ کا بجھنا۔ ٹھنڈا ہونا۔ زمین کا روئیدگی کے بغیر ہونا۔] [ ھَامِدَۃٌ فَاعِلَۃٌ کے وزن پر صفت ہے۔ بجھنے والی یعنی ٹھنڈی۔ بغیر روئیدگی کے ہونے والی یعنی بنجر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5] ب ھـ ج [ بَھَاجَۃً خوشنما ہونا۔ سرسبز و شاداب ہونا۔] [ بَھْجَۃٌ اسم ذات ہے۔ خوشنمائی۔ شادابی۔ فَاَنْبَتْنَا بِہٖ حَدَاگقَ ذَاتَ بَھْجَۃٍ (پھر ہم نے اگائے اس سے باغات شادابی والے (27:60)] [ بَھِیْجٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ خوشنما۔ شاداب۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5] نوٹ۔ 1: خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تَرَابٍ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ہر انسان ان مادوں سے پیدا کیا جاتا ہے جو سب کے سب زمین سے حاصل ہوتے ہیں اور اس تخلیق کی ابتدا نطفے سے ہوتی ہے۔ یا یہ کہ نوع انسانی کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے کیا گیا جو براہ راست مٹی سے بنائے گئے تھے اور پھر آگے نسل انسانی کا سلسلہ نطفہ سے چلا۔ اس کے آگے اشارہ ہے ان مختلف اطوار کی طرف جن سے ماں کے پیٹ میں بچہ گزرتا ہے۔ ان کی وہ تفصیلات بیان نہیں کی گئیں جو آج کل صرف طاقتور دور بینوں ہی سے نظر آسکتی ہیں، بلکہ ان بڑے بڑے نمایاں تغیرات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اس زمانے کے عام بدّو بھی واقف تھے۔ اسقاط کی مختلف حالتوں میں چونکہ تخلیق انسانی کے یہ سب مراحل لوگوں کے مشاہدے میں آتے تھے اس لئے انہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے علم الجنین کی تفصیلی تحقیقات کی نہ اس وقت ضرورت تھی نہ آج ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: اَرْذَلِ الْعُمُرِ کا مطلب ہے وہ عمر جس میں انسان کے عقل و شعور اور حواس میں خلل آنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسی عمر سے پناہ مانگی ہے اور آپ ﷺ یہ دعا بکثرت مانگتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ (یعنی بزدلی سے) وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَ عَذَابِ الْقَبْرِ (معارف القرآن)
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،

[ ذٰلِكَ : یہ ] [ بِان : اس سبب سے ہے کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ هُوَ الْحَقُّ : ہی حق ہے ] [ وَانهٗ : اور یہ کہ وہ ہی ] [ يُـحْيِ : زندگی دیتا ہے ] [ الْمَوْتٰى: مردوں کو ] [ وَانهٗ : اور یہ کہ وہ ] [ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 22:7

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ (اِس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت کی گھڑی آ کر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جا چکے ہیں

[ وَّان : اور یہ کہ ] [ السَّاعَةَ : وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [ اٰتِيَةٌ: آنے والی ہے ] [ لَّا رَيْبَ : کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ وَان : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَبْعَثُ : (دوبارہ) اٹھائے گا ] [ مَنْ : ان کو جو ] [ فِي الْقُبُوْرِ : قبروں میں ہیں ]
Ayah 22:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر، گردن اکڑائے ہوئے

[ وَمِنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی ہے) جو ] [ يُّجَادِلُ : بحث کرتا ہے ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں ] [ بِغَيْرِ عِلْمٍ : کسی علم کے بغیر ] [ وَّلَا هُدًى: اور نہ کسی ہدایت سے ] [ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ : اور نہ کسی روشن کتاب سے ]
Ayah 22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں ایسے شخص کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے

[ ثَانيَ عِطْفِهٖ : اپنے پہلو کو موڑنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِيُضِلَّ : تاکہ وہ گمراہ کرے (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کے راستہ سے ] [ لَهٗ : اس کے لئے ہے ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ خِزْيٌ: ایک رسوائی ] [ وَّنُذِيْقُهٗ : اور ہم چکھائیں گے اس کو ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ عَذَابَ الْحَرِيْقِ : شعلے کا عذاب ] ع ط [ عَطْفًا : (س) مائل ہونا۔ لگام موڑنا۔] [ عِطْفٌ ہر چیز کا کنارہ۔ پہلو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9] نوٹ۔ 1: کہتے ہیں مَرَّ ثَانِیَ عِطْفِہٖ وہ تکبر کے ساتھ چلا (المنجد) ۔ اس طرح یہ دراصل تکبر کے اظہار کے لئے عربی محاورہ ہے۔ ” اس میں تین کیفیتیں شامل ہیں۔ جاہلانہ ضد اور ہٹ دھرمی۔ تکبر اور غرور نفس۔ اور کسی سمجھانے والے کی بات کی طرف التفات نہ کرنا۔ “ (تفہیم القرآن) ۔ آدمی کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دستبردار ہونے کے لئے بھی تیار نہ ہو تو اس کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی ہے۔ اس کا انتقام وہ اپنے غرور کا مظاہرہ کر کے لینے کی کوشش کرتا ہے۔ (تدبر القرآن)
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے

[ ذٰلِكَ : (اور ہم کہیں گے) یہ ] [ بِمَا : اس سبب سے ہے جو ] [ قَدَّمَتْ : آگے بھیجا ] [ يَدٰكَ : تیرے دونوں ہاتھوں نے ] [ وَان : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَيْسَ بِظَلَّامٍ : ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے ] [ لِـلْعَبِيْدِ : بندوں پر ]
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی یہ ہے صریح خسارہ

[ وَمِنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی ہے) جو ] [ يَّعْبُدُ : بندگی کرتا ہے ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ عَلٰي حَرْفٍ : ایک کنارے پر ] [ فَان : پھر اگر ] [ اَصَابَهٗ : آ لگے اس کو ] [ خَيْرُۨ: کوئی بھلائی ] [ اطْـمَان : تو وہ مطمئن ہوتا ہے ] [ بِهٖ : اس سے ] [ وَان : اور اگر ] [ اَصَابَتْهُ : آ لگے اس کو ] [ فِتْنَةُۨ: کوئی آزمائش ] [ انقَلَبَ : تو وہ الٹا پھرجاتا ہے ] [ عَلٰي وَجْهِهٖ : اپنے منہ کے بل ] [ خَسِرَ : اس نے نقصان اٹھایا ] [ الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ وَالْاٰخِرَةَ : اور آخرت میں ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ هُوَ الْخُسْرَان الْمُبِيْنُ : ہی صریح خسارہ ہے ] نوٹ۔ 2: کنارے کنارے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والے نزول قرآن کے وقت بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ آج کے دور میں ایسے مسلمانوں کے لئے اسلام ان کے گلے کا چھچھوندر ہے جو نہ اگلے بنے نہ نگلے بنے۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوگئے ہیں۔ اب اگر اسلام چھوڑتے ہیں تو خاندان برادری کے رشتے ناطے کٹ جاتے ہیں۔ باپ کی وراثت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جو یہ لوگ Afford نہیں کرسکتے۔ اور اگر اسلام پر پوری طرح عمل کرتے ہیں تو اپنے مغربی آقائوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔ اس پریشانی میں کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچتے ہیں اور مولوی کو برا بھلا کہتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کی صحیح تعبیر نہیں کرتے۔ پھر خود قرآن و حدیث کی من مانی تاویلیں کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر بھی کسی کروٹ چین نصیب نہیں ہوتا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر وہ محاورہ ذہن میں آتا ہے کہ دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا یعنی خَسِرَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ۔
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارتا ہے جو نہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ یہ ہے گمراہی کی انتہا

[ يَدْعُوْا : وہ پکارتا ہے ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ مَا : اس چیز کو جو ] [ لَا يَضُرُّهٗ : نقصان نہیں پہنچاتی اس کو ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ لَا يَنْفَعُهٗ : نفع نہیں دیتی اس کو ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ : ہی دور والی گمراہی ہے ]
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ اُن کو پکارتا ہے جن کا نقصان اُن کے نفع سے قریب تر ہے بدترین ہے اُس کا مولیٰ اور بدترین ہے اُس کا رفیق

[ يَدْعُوْا : وہ پکارتا ہے ] [ لَمَنْ : ضرور ہی اس کو ] [ ضَرُّهٗٓ: جس کا نقصان ] [ اَقْرَبُ : زیادہ قریب ہے ] [ مِنْ نَّفْعِهٖ : اس کے نفع سے ] [ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى: یقینا بہت ہی برا کارساز ہے ] [ وَلَبِئْسَ الْعَشِيْرُ : اور یقینا بہت ہی برا ساتھی ہے ]
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

(اِس کے برعکس) اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

[ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يُدْخِلُ : داخل کرے گا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يَفْعَلُ : کر گزرتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ]
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دُنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہیے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے، پھر دیکھ لے کہ آیا اُس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کر سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے

[ مَنْ : جو ] [ كَان : ہے (کہ)] [ يَظُنُّ : گمان کرتا ہے ] [ ان : کہ ] [ لَّنْ يَّنْصُرَهُ : ہرگز مدد نہیں کرے گا ان ( نبی ﷺ ) کی ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : دنیا اور آخرت میں ] [ فَلْيَمْدُدْ : تو اسے چاہیے کہ وہ تان لے ] [ بِسَبَبٍ : ایک رسی کو ] [ اِلَى السَّمَاۗءِ : آسمان تک ] [ ثُمَّ لْيَقْطَعْ : پھر اسے چاہیے کہ وہ کاٹ دے (اللہ کی مدد کو)] [ فَلْيَنْظُرْ : پھر وہ دیکھے ] [ هَلْ يُذْهِبَنَّ : کیا لے جاتی ہے ] [ كَيْدُهٗ : اس کی تدبیر ] [ مَا : اس چیز کو جو ] [ يَغِيْظُ : خون کھولاتی ہے (اس کا)] نوٹ۔ 1: آیت۔ 15 کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کا راستہ روکنے والے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے، تو یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ جب معاذ اللہ آنحضرت ﷺ سے منصب نبوت سلب ہوجائے اور آپ ﷺ پر وحی آنا منقطع ہوجائے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے وحی کو منقطع کرنے کا کام کرنا چاہتا ہے تو وہ کسی طرح آسمان پر پہنچے اور وہاں جا کر اس سلسلہ وحی کو ختم کر دے۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ تو پھر اسلام کے خلاف غیظ و غضب کا کیا نتیجہ۔ یہ تفسیر دُرِّ منثور میں ابن زید سے روایت کی ہے اور میرے نزدیک یہ سب سے بہتر اور صاف تفسیر ہے۔ قرطبی نے اسی تفسیر کو ابونحاس سے نقل کر کے فرمایا کہ یہ سب سے احسن تفسیر ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اس تفسیر کو نقل کیا گیا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

ایسی ہی کھُلی کھُلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے

[ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس (قرآن) کو ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح نشانیاں ہوتے ہوئے ] [ وَّان اللّٰهَ : اور یہ کہ اللہ ] [ يَهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جسے ] [ يُّرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ]
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے

[ ان الَّذِينَ : بیشک وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَالَّذِينَ : اور وہ جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ وَالصّٰبِــِٕــيْنَ : اور صابئین ] [ وَالنَّصٰرٰي : اور نصارٰی ] [ وَالْمَجوسَ : اور مجوسی ] [ وَالَّذِينَ : اور وہ جنھوں نے ] [ اَشْرَكُـوْٓا : شرک کیا ] [ ان اللّٰهَ : (تو) بیشک اللہ ] [ يَفْصِلُ : فیصلہ کرے گا ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے مابیں ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ شَهِيْدٌ: عینی شاہد ہے ]
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

[ اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ] [ ان اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتے ہیں ] [ لَهٗ : اس کو ] [ مَنْ : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہیں ] [ وَمَنْ : اور وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہیں ] [ وَالشَّمْسُ : اور سورج ] [ وَالْقَمَرُ : اور چاند ] [ وَالنُّجومُ : اور ستارے ] [ وَالْجبالُ : اور پہاڑ ] [ وَالشَّجَرُ : اور درخت ] [ وَالدَّوَاۗبُّ : اور جانور ] [ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے اکثر ] [ وَكَثِيْرٌ: اور اکثر (وہ ہیں)] [ حَقَّ : ثابت ہوا ] [ عَلَيْهِ : جن پر ] [ الْعَذَابُ : عذاب ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ يُّهِنِ اللّٰهُ : ذلیل کرتا ہے اللہ ] [ فَمَا لَهٗ : تو نہیں ہے اس کے لئے ] [ مِنْ مُّكْرِمٍ : کوئی بھی عزت دینے والا ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يَفْعَلُ : کر گزرتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ]
Ayah 22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے کا جھگڑا ہے اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

[ ھٰذٰنِ : یہ ] [ خَصْمٰنِ : دو حجت بحث کرنے والے (گروہ) ہیں ] [ اخْتَصَمُوْا : جنھوں نے حجت تکرار کی ] [ فِيْ رَبِهِمْ : اپنے رب (کے بارے) میں ] [ فَالَّذِينَ : پس وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ قُطِّعَتْ : کاٹے جائیں گے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ ثِيَابٌ: کپڑے ] [ مِّنْ نَارٍ : کسی آگ میں سے ] [ يُصَبُّ : انڈیلا جائے گا ] [ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ : ان کے سروں کے اوپر سے [ الْحَمِيْمُ : کھولتا پانی ] س ب ب [ صَبًّا : (ن) اوپر سے پانی گرانا۔ برسانا۔ انڈیلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19] ترکیب : (آیت۔ 19 ) خَصْمٌ مصدر ہے اور مصدر کی تثنیہ اور جمع نہیں آتی۔ لیکن بعض مصادر اسم الفاعل کے معنی میں بھی آتے ہیں۔ ان معانی میں پھر ان کی تثنیہ اور جمع آتی ہیں۔ جیسے رَبٌّ (پالنا) مصدر ہے لیکن اسم الفاعل (پالنے والا) کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس معنی میں اس کی جمع ارباب آتی ہے۔ اسی طرح خَصْمٌ (زبانی جھگڑا کرنا) مصدر ہے لیکن یہاں یہ اسم الفاعل (زبانی جھگڑا کرنے والا) کے معنی میں آیا ہے اس لئے اس کا تثنیہ خَضْمٰنِ استعمال ہوا ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 19 ۔ میں اللہ کے بارے میں جھگڑا کرنے والے تمام گروہوں کو ان کی کثرت کے باوجود دو فریقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک فریق وہ جو انبیاء کی بات مان کر اللہ کی صحیح بندگی اختیار کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو ان کی بات نہیں مانتا اور کفر کی راہ اختیار کرتا ہے۔ خواہ اس کے اندر آپس میں کتنے ہی اختلافات ہوں اور اس کے کفر نے کتنی ہی مختلف صورتیں اختیار کرلی ہوں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 22:20

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے

[ يُصْهَرُ : گلایا جائے گا ] [ بِهٖ : اس سے ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِيْ بُطُوْنِهِمْ : ان کے پیٹوں میں ہے ] [ وَالْجُلُوْدُ : اور کھالوں کو (بھی)] ص ھـ ر [ صَھْرًا : (ف) ] (1) پگھلانا۔ گلانا (2) قریب و نزدیک کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 20 (مغاعلہ) مُصَاھَرَۃً ایک دوسرے کے قریب ہونا۔ شادی سے رشتہ دار بننا۔ صِھْرٌ سسرالی رشتے داری۔ فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِھْرًا (پھر اس نے بنایا اس کو رشتہ دار باپ دادا سے اور ناطے دار سسرال سے) 25:54
Ayah 22:21

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور اُن کی خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرز ہوں گے

[ وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [ مَّقَامِعُ : ہتھوڑے ہیں ] [ مِنْ حَدِيْدٍ : لوہے میں سے ] ق م ع [ قَمْعًا : (ف) کسی چیز کو کوٹنا۔ ذلیل کرنا۔ مِقْمَعٌ ج مَقَامِعُ ۔ کوٹنے کا آلہ۔ ہتھوڑا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 21
Ayah 22:22

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا

[ كُلَمَآ : جب کبھی ] [ اَرَادُوْٓا : وہ ارادہ کرتے ہیں ] [ ان : کہ ] [ يَّخْرُجوا : وہ نکلیں ] [ مِنْهَا : اس سے ] [ مِنْ غَمٍّ : (اس کی) بےچینی سے ] [ اُعِيْدُوْا : تو وہ لوٹا دیئے جائیں گے ] [ فِيْهَا : اس میں ]ۤ [ وَذُوْقُوْا : اور (کہا جائے گا) چکھو ] [ عَذَابَ الْحَرِيْقِ : شعلے کا عذاب ]
Ayah 22:23

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اُن کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے

[ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يُدْخِلُ : داخل کرے گا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ يُحَلَوْنَ : ان کو آراستہ کیا جائے گا ] [ فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [ مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ : مثلاً سونے کے کنگنوں سے ] [ وَّلُؤْلُؤًا : اور موتی سے ] [ وَلِبَاسُهُمْ : اور ان کا لباس ] [ فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [ حَرِيْرٌ: باریک ریشم ہے ] ل ء ل ء [ لاَ ْٔلَأَۃً : (رباعی) ستارے یا بجلی کا چمکنا۔ لُؤْ لُؤٌ موتی زیر مطالعہ آیت۔ 23 (آیت۔ 23) ۔ یُحَلَّوْنَ کا نائب فاعل اس میں شامل ھُمْ کی ضمیر ہے جبکہ اس کا مفعول ثانی مِنْ اَسَاوِرَ بھی ہے اور لُؤْلُؤًا بھی ہے۔ اس لئے یہ حالت نصب میں ہے۔ مِنْ اَسَاوِرَ کا مِنْ بیانیہ ہے۔ اردو میں اس کا مفہوم ” جیسے “ یا ” مثلاً “ کے الفاظ سے ادا ہوتا ہے جبکہ مِنْ ذَھَبٍ کا مِنْ تبعیضیہ ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 23 ۔ سے یہ شبہہ ہوتا ہے کہ کنگن پہننا عورتوں کا زیور ہے اور مردوں کے لئے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے سر پر تاج پہننا عام مردوں کا رواج نہیں ہے بلکہ شاہی اعزاز ہے اسی طرح کنگن پہننا بھی شاہی اعزاز ہے۔ اس لئے اہل جنت کو کنگن پہنائے جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص ریشمی کپڑا دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں نہ پہنے گا اور جو دنیا میں شراب پئے گا وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا اور جو دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پیئے گا وہ آخرت میں سونے چاندی کے برتنوں میں نہ پیئے گا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ تینوں چیزیں اہل جنت کے لئے مخصوص ہیں۔ آپ ﷺ کے ایک دوسرے ارشاد میں ہے کہ جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا اگرچہ جنت میں داخل بھی ہوجائے۔ دوسرے اہل جنت ریشم پہنیں گے یہ نہیں پہن سکے گا۔ قرطبی نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ جنت میں اہل جنت کے درجات مختلف اور اعلیٰ و ادنیٰ ہوں گے۔ اس لئے یہ بھی اسی کی ایک صورت ہوگی۔ (معارف القرآن)
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی اور انہیں خدائے ستودہ صفات کا راستہ دکھایا گیا

[ وَهُدُوْٓا : اور ان کی رہنمائی کی جائے گی ] [ اِلَى الطَّيِّبِ : پاکیزہ کی طرف ] [ مِنَ الْقَوْلِ : بات میں سے ] [ وَهُدُوْٓا : اور ان کی رہنمائی کی جائے گی ] [ اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ : الحمید (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے راستے کی طرف (آیت۔ 24) ۔ یہاں پر اَلْحَمِیْدِ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر نہیں آیا ہے بلکہ اس کے نام کے طور پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے جو دوسرا لفظ قرآن میں اس کے نام کے طور پر آیا ہے وہ اَلرَّحْمٰن ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ جیسے اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی (الرحمن یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہوا) 20:5 ۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور جو (آج) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجدِ حرام کی زیارت میں مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں (اُن کی روش یقیناً سزا کی مستحق ہے) اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے

[ ان الَّذِينَ : بیشک وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ وَيَصُدُّوْنَ : اور روکتے ہیں (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کے راستے سے ] [ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : اور مسجد حرام سے ] [ الَّذِي : وہ (مسجد) ] [ جَعَلْنٰهُ : ہم نے بنایا جس کو ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ سَوَاۗءَۨ: برابر (کا حق) ہے ] [ الْعَاكِفُ : ٹھہرنے والے (یعنی مکہ کے شہری) کا ] [ فِيْهِ : اس (مسجد) میں ] [ وَالْبَادِ : اور صحرا نشین (یعنی آفاقی) کا ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّرِدْ : ارادہ کرے گا ] [ فِيْهِ : اس (مسجد) میں ] [ بِاِلْحَادٍۢ: کسی کج روی کا ] [ بِظُلْمٍ : کسی ظلم کے ساتھ ] [ نُّذِقْهُ : تو ہم چکھائیں گے اس کو ] [ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : ایک درد ناک عذاب میں سے ] (آیت۔ 25) سَوَائً کو اگر پچھلے جملے سے متعلق مانیں تو آگے اَلْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ کے کوئی معنی نہیں بنتے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ پچھلا جملہ لِلنَّاسِ پر ختم ہوگیا اور سَوَائً سے نیا جملہ شروع ہو رہا ہے۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اَلْعَاکِفُ اور اَلْبَادِ کا حال ہے۔ نوٹ کرلیں کہ بَادٍ یہاں حالت رفع میں ہے۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 25 ۔ میں ہے کہ مسجد حرام پر مکہ کے شہریوں اور باہر سے آنے والے یعنی آفاقی، دونوں کا حق برابر ہے۔ اس ضمن میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ مسجد حرام اور حرم شریف مکہ کے وہ تمام حصّے جن سے افعال حج کا تعلق ہے، جیسے صفا مروہ کے درمیان کا میدان اور منٰی، عرفات اور مزدلفہ کا پورا میدان، یہ سب زمینیں دنیا کے مسلمانوں کے لئے وقف عام ہیں۔ نیز جس ظالمانہ الحاد کے نتیجے میں عذاب الیم کی وعید سنائی گئی ہے وہ بھی صرف مسجد حرام سے متعلق نہیں بلکہ مناسک حج سے متعلق سب ہی مقامات کے لئے ہے۔ (حافظ ابن قیم (رح) ) کسی شخص کی ذاتی ملکیت ان پر نہ کبھی ہوئی ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ مکہ مکرمہ کے مکانات اور باقی حرم کی زمینوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ بھی وقفِ عام ہیں۔ ان کا فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا حرام ہے۔ دوسری رائے یہ ہے مکہ کے مکانات کسی کی ملکیت ہوسکتے ہیں۔ ان کی خریدو فروخت اور ان کو کرایہ پر دینا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) سے دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک پہلے قول کے مطابق، دوسری دوسرے قول کے مطابق اور فتوٰی دوسرے قول پر ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ "میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو

[ وَاِذْ بَوَّانا : اور جب ہم نے نشاندہی کی ] [ لِاِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ] [ مَكَان الْبَيْتِ : اس گھر (یعنی خانۂ کعبہ) کی جگہ کی ] [ ان لَّا تُشْرِكْ : (اور حکم دیا) کہ شریک مت کرنا ] [ بِيْ : میرے ساتھ ] [ شَيْـــــًٔا : کسی کو بھی ] [ وَّطَهِرْ : اور پاک رکھنا ] [ بَيْتِيَ : میرے گھرکو ] [ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ : طواف کرنے والوں کے لئے ] [ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ : اور قیام کرنے والوں کے لئے ] [ وَالرُّكَّعِ : اور رکوع کرنے والوں کے لئے ] [ السُّجودِ : سجدہ کرنے والوں کے لئے ]
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں

[ وَاَذِّنْ : اور آپ (علیہ السلام) اعلان کریں ] [ فِي النَاسِ : لوگوں میں ] [ بِالْحَجِّ : حج کے لئے ] [ يَاْتُوْكَ : تو وہ لوگ آئیں گے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [ رِجَالًا : پیدل چلنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَّعَلٰي كُلِ ضَامِرٍ : اور ہر ایک دبلی پتلی (سواری) پر ] [ يَاْتِيْنَ : وہ سب (سواریاں) آئیں گی ] [ مِنْ كُلِ فَجٍّ عَمِيْقٍ : ہر ایک کشادہ دور دراز راستوں سے ] ض م ر [ ضُمُوْرً : (ن) دبلا پتلا ہونا۔ نحیف و لاغر ہونا۔ ضَامِرٌ فَاعِلٌ کے وزن پر صفت۔ دبلا۔ لاغر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27 ع م ق [ عُمْقًا : (س۔ ک) (1) دور دراز ہونا۔ لمبا یا طویل ہونا۔ (2) گہرا ہونا۔ عَمِیْقٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ لمبا۔ گہرا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں

[ لِيَشْهَدُوْا : تاکہ وہ دیکھیں ] [ مَنَافِعَ : فائدہ اٹھانے کی چیزوں کو ] [ لَهُمْ : اپنے لئے ] [ وَيَذْكُرُوا : اور یاد کریں ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کا نام ] [ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ : معلوم دنوں میں ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ رَزَقَهُمْ : اس نے عطا کیا ان کو ] [ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْانعام : بےزبان مویشیوں میں سے ] [ فَكُلُوْا : پھر تم لوگ کھائو ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [ وَاَطْعِمُوا : اور کھلائو ] [ الْبَاۗىِٕسَ : بدحال کو ] [ الْفَقِيْرَ : محتاج کو ]
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں، اور اس قدیم گھر کا طواف کریں

[ ثُمَّ لْيَقْضُوْا : پھر چاہیے کہ وہ فارغ ہوں ] [ تَفَثَهُمْ : اپنے میل کچیل سے ] [ وَلْيُوْفُوْا : اور چاہیے کہ وہ پوری کریں ] [ نُذُوْرَهُمْ : اپنی منتیں ] [ وَلْيَطَّوَّفُوْا : اور چاہیے کہ وہ طواف کریں ] [ بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : اس قدیم گھر کا ] تث [ تَفَثًا : (س) کسی چیز پر میل کچیل چڑھ جانا۔ تَفَثٌ اسم ذات بھی ہے۔ میل کچیل۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ع ت ق [ عَتْقًا : (ص۔ ن) (1) آزاد ہونا۔ (2) پرانا ہونا۔ عَتِیْقٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ آزاد۔ پرانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ۔ نوٹ۔ 1: حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو حج کے اعلان کا حکم ہوا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ (یہاں تو میدان ہے کوئی سننے والا نہیں) جہاں آبادی ہے وہاں میری آواز کیسے پہنچے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کی ذمہ داری صرف اعلان کرنے کی ہے ’ اس کو ساری دنیا میں پہنچانے کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا۔ بعض روایات میں ہے کہ انھوں نے جبل ابی قبیس پر چڑھ کر یہ اعلان کیا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ آواز اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں پہنچا دی۔ صرف اس وقت کے زندہ انسانوں تک ہی نہیں بلکہ جو انسان آئندہ تاقیامت پیدا ہونے والے تھے ان سب تک یہ آواز پہنچا دی گئی۔ جس جس نے اس آواز کے جواب میں لبیک اللھم لبیک کہا اسے حج نصیب ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حج کے تلبیہ کی اصل بنیاد یہی نداء ابراہیمی کا جواب ہے (معارف القرآن)
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ما سوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو

[ ذٰلِكَ : یہ ہے [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّعَظِّمْ : تعظیم کرتا ہے ] [ حُرُمٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی حرمتوں کی ] [ فَهُوَ : تو وہ ] [ خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ لَهٗ : اس کے لئے ] [ عِنْدَ رَبِهٖ : اس کے رب کے پاس ] [ وَاُحِلَّتْ : اور حلال کئے گئے ] [ لَكُمُ : تم لوگوں کے لئے ] [ الْانعام : چوپائے ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو ] [ يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سنایا جاتا ہے تم کو ] [ فَاجْتَنِبُوا : پس تم لوگ بچو ] [ الرِّجس : گندگی سے ] [ مِنَ الْاَوْثَان : مثلاً بتوں سے ] [ وَاجْتَنِبُوْا : اور تم لوگ بچو ] [ قَوْلَ الزُّوْرِ : جھوٹ کی بات سے ] و ث ن [ وُثُوْنًا : (ض) عہد پر جمے رہنا۔ ثابت رہنا۔ وَ ثَنٌ ج اَوْثَانٌ۔ بت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے

[ حُنَفَاۗءَ : یکسو ہوتے ہوئے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ : اس کے ساتھ (کسی کو) شریک کرنے والے نہ ہوتے ہوئے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّشْرِكْ : شرک کرتا ہے ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [ فَكَانمَا : تو وہ اس کی مانند ہے کہ جو ] [ خَرَّ : گرا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ فَتَخْطَفُهُ : پھر اچک لیتے ہیں اس کو ] [ الطَّيْرُ : پرندے ] [ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ : یا گراتی ہے اس کو ] [ الرِّيْحُ : ہوا ] [ فِيْ مَكَان سَحِيْقٍ : کسی دور والی جگہ میں ] س ح ق [ سُحْقًا : (س) ] دور ہونا۔ سُحْقٌ اسم ذات بھی ہے۔ دوری۔ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (پس دوری سے دوزخ والوں کے لئے) 67:11 ۔ سَحِیْقٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ دور۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے

[ ذٰلِكَ : یہ ہے ]ۤ [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّعَظِّمْ : تعظیم کرتا ہے ] [ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ : اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں کی ] [ فَانهَا : تو یقینا یہ ] [ مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ : دلوں کے تقوٰی میں سے ہے ]
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تمہیں ایک وقت مقرر تک اُن (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر اُن (کے قربان کرنے) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے

[ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ فِيْهَا : ان (چوپایوں) میں ] [ مَنَافِعُ : کچھ فائدہ اٹھانے کی چیزیں ہیں ] [ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک ] [ ثُمَّ مَحِلُّهَآ : پھر ان (چوپایوں) کی منزل ] [ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : اس قدیم گھر کی طرف ہے ] نوٹ۔ 1: اہل عرب ہدی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف جب لے جاتے تھے تو ان سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا، جیسے سواری کرنا، سامان لادنا، دودھ پینا وغیرہ، ان کے نزدیک گناہ تھا۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے آیت۔ 33 ۔ میں فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک تم ان جانوروں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ ایسا کرنا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف نہیں ہے۔ مقررہ مدت کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ مقررہ مدت سے مراد یہ ہے کہ جب تک جانور کو قربانی کے لئے نامزد کر کے اسے ہدی سے موسوم نہ کردیا جائے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مقررہ مدت سے مراد قربانی کا وقت ہے۔ پہلی رائے اس لحاظ سے کمزور ہے کہ ہدی کے سوا دوسرے جانوروں سے استفادہ کرنے کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا نہ ہے۔ اس لئے مذکورہ آیت میں استفادہ کی اجازت ہدی کے جانوروں سے متعلق ہے۔ شوافع نے دوسری رائے کو اختیار کیا ہے جبکہ حنفی پہلی رائے کے قائل ہیں لیکن اتنی گنجائش دیتے ہیں کہ بشرط ضرورت استفادہ جائز ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

ہر امّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اُس امّت کے لوگ) اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے اُن کو بخشے ہیں (اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے) پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اُسی کے تم مطیع فرمان بنو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے عاجزانہ رَوش اختیار کرنے والوں کو

[ وَلِكُلِ اُمَّةٍ : اور ہر امت کے لئے ] [ جَعَلْنَا : ہم نے مقرر کیا ] [ مَنْسَكًا : قربانی کا ایک طریقہ ] [ لِيَذْكُرُوا : تاکہ وہ یاد کریں ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کے نام کو ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ رَزَقَهُمْ : اس نے عطا کیا ان کو ] [ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْانعام : بےزبان مویشیوں میں سے ] [ فَاِلٰـهُكُمْ : پس تم لوگوں کا اِلٰہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: واحد اِلٰہ ہے ] [ فَلَهٗٓ: تو اس کی ہی ] [ اَسْلِمُوْا : تم لوگ فرمانبرداری کرو ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیں ] [ الْمُخْبِتِيْنَ : عاجزی کرنے والوں کو ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 34 ۔ میں بتایا گیا ہے کہ شرائع الٰہی میں قربانی ایک قدیم ترین عبادت ہے۔ اس حقیقت کی شہادت کے لئے یہ کافی ہے کہ تورات اور قرآن دونوں میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہابیل کی قربانی کا ذکر موجود ہے (تدبر قرآن) ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ قربانی کا حکم جو اس امت کے لوگوں کو دیا گیا ہے کوئی نیا حکم نہیں ہے۔ پچھلی سب امتوں کے بھی ذمہ قربانی کی عبادت لگائی گئی تھی۔ (معارف القرآن)
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سُنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں

[ الَّذِينَ : وہ لوگ (کہ)] [ اِذَا : جب بھی ] [ ذُكِرَ : ذکر کیا جاتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ کا ] [ وَجِلَتْ : تو کانپ اٹھتے ہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَالصّٰبِرِيْنَ : اور صبر کرنے والوں کو ] [ عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [ اَصَابَهُمْ : آپڑے ان پر ] [ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ : اور نماز کے قائم رکھنے والوں کو ] [ وَمِمَا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ يُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ] ترکیب : آیت۔ 35 ۔ میں اَلْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ آیا ہے۔ اس میں اَلْمُقِیْمِیْنَ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے اور اَلصَّلٰوۃِ حالت جر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرکب اضافی ہے لیکن یہاں مضاف پر لام تعریف لگا ہوا ہے۔ حافظ احمد یار صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں یہ واحد مقام ہے جہاں ایسا ہے۔ اس کی مختلف تاویلیں کی گئی ہیں لیکن ان کے خیال میں اس کی کوئی معقول تاویل نہیں ہے۔ اس لئے اس کو ایک استثنائی صورت قرار دینا بہتر ہے۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے اُن میں بھَلائی ہے، پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور اُن کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لیے مسخّر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو

[ وَالْبُدْنَ : اور مکہ میں قربانی کے جانوروں کو !] [ جَعَلْنٰهَا : ہم نے بنایا ان کو ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ : اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں میں سے ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ خَيْرٌ: بھلائی ہے ] [ فَاذْكُرُوا : پس تم لوگ یاد کرو ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کا نام ] [ عَلَيْهَا : ان پر ] [ صَوَاۗفَّ : (ان کی) قطار بنانے والے ہوتے ہوئے ] [ فَاِذَا : پھر جب ] وَجبتْ : گرجائیں ] [ جُنُوْبُهَا : ان کے پہلو ] [ فَكُلُوْا : تو تم لوگ کھائو ] [ مِنْهَا : ان میں سے ] [ وَاَطْعِمُوا : اور کھلائو ] [ الْقَانعَ : قناعت کرنے والے کو ] [ وَالْمُعْتَرَّ : اور صورت سوال بننے والے کو ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ سَخَّرْنٰهَا : ہم نے مسخر کیا ان کو ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : شکر کرو ] و ج ب [ وَجُوْبًا : (ض) ثابت و لازم ہونا۔ واجب ہونا۔ اس معنی میں قرآن میں استعمال نہیں ہوا۔ وَجْبًا کسی چیز کا زمین پر گرنا۔ سورج کا ڈوبنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 36 ۔ ع ر ر [ عَرًّا (1): (ن۔ ض) خارش زدہ ہونا۔ (2) سائل بن کر آنا۔ مَعَرَّۃٌ اسم ذات ہے۔ تکلیف۔ برائی۔ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعَرَّۃٌ بِغَیْرِ عِلْمٍ (نتیجۃً آ لگے تم لوگوں کو ان سے کوئی برائی کسی علم کے بغیر) 48:25 (افتعال) اِعْتِرَارًا بغیر سوال کے بخشش کے لئے آنا (المنجد) مانگنے کے لئے سامنے آنا لیکن منہ سے کچھ نہ کہنا۔ صورت سوال بننا (حافظ احمد یار صاحب) مُعْتَرٌّ اسم الفاعل ہے۔ صورت سوال بننے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 36 نوٹ۔ 1: یہاں قربانی کا جو حکم دیا گیا ہے۔ وہ صرف حاجیوں کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ ہر ذی استطاعت مسلمانوں کے لئے عام ہے، جہاں بھی وہ ہوں۔ یہ بات متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہے اور بکثرت روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ خود مدینہ کے زمانۂ قیام میں ہر سال بقر عید کے موقع پر قربانی کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں میں آپ ﷺ کی سنت سے یہ طریقہ جاری ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے ذبح کرلیا اسے دوبارہ قربانی کرنی چاہیے اور جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پا لیا۔ پس یہ بات شک و شبہہ سے بالا تر ہے کہ بقر عید کے روز جو قربانی عام مسلمان دنیا بھر میں کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی جاری کی ہوئی سنت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا سنت۔ ابراہیم نخعی، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام محمد اور امام ابویوسف اس کو واجب مانتے ہیں۔ جبکہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک یہ سنت ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: پاکستان میں کچھ NGOs اور فلاحی ادارے ایسے بھی ہیں جو زکٰوۃ اور قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں اور لوگوں کو پٹّی بھی پڑھاتے ہیں کہ قربانی کرنے کے بجائے وہی پیسے اگر ان کو دے دیئے جائیں جو وہ غرباء پر خرچ کریں تو ثواب زیادہ ملے گا۔ پھر جب ان کا رمضان اور بقر عید کا سیزن گزر جاتا ہے تو وہ لوگ ناچ گانے کی محفلیں سجا کر پیسے اکٹھا کرتے ہیں۔ پیٹ ان کا پھر بھی نہیں بھرتا اور وہاں سے ھل من مزید کی ہی صدا آتی رہتی ہے۔ قربانی نہ کرنے کے لئے ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو قربانی کا حکم ہے وہ حاجیوں کے لئے ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان بقر عید پر جو قربانی کرتے ہیں اس کا قرآن مجید میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ یہ مولویوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں، ان کی دلیل میں خامی یہ ہے کہ یہ لوگ آیت نمبر۔ 36 ۔ کو اس کے سیاق یعنی آیت نمبر۔ 34 سے الگ کر کے بیان کرتے ہیں۔ اگر دونوں آیتوں کو ملا کر غور کیا جائے تب پوری بات سمجھ میں آتی ہے۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو

[ لَنْ يَّنَالَ : ہرگز نہیں پہنچے گا ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ لُحُوْمُهَا : ان کا گوشت ] [ وَلَا دِمَاۗؤُهَا : اور نہ ہی ان کا خون ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يَّنَالُهُ : پہنچتا ہے اس کو ] [ التَّقْوٰي : تقوٰی ] [ مِنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ سَخَّرَهَا : اس نے مسخر کیا ان کو ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ لِتُكَبِرُوا : تاکہ تم بڑائی بیان کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ عَلٰي مَا : اس پر جس کی ] [ هَدٰىكُمْ : اس نے ہدایت کی تم کو ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیجیے ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

یقیناً اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں یقیناً اللہ کسی خائن کافر نعمت کو پسند نہیں کرتا

[ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يُدٰفِعُ : ہٹاتا ہے (برائی کو)] [ عَنِ الَّذِينَ : ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ كُلَّ خَوَّان : کسی بھی بار بار وعدہ خلافی کرنے والے کو ] [ كَفُوْرٍ : انتہائی ناشکری کرنے والے کو ] آیت نمبر۔ 34 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کی عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا تھا۔ پھر یہ کہ تم لوگوں کا اِلٰہ بھی وہی اِلٰہ ہے جو ان امتوں کا ہے۔ اس کے آگے اس کا منطقی نتیجہ محذوف (understood) چھوڑ دیا ہے یعنی اس لئے تم لوگوں کا بھی قربانی کا ایک طریقۂ عبادت ہے۔ پھر فرمایا فَلَہٗ اَسْلِمُوْا (پس اس کی ہی تم لوگ فرمانبرداری کرو) ۔ یعنی اس اِلٰہ کی فرمانبرداری کرو جس نے ہر امت کے لئے قربانی کی عبادت مقرر کی ہے اور اپنی قربانی کی عبادت میں عقلی گھوڑے مت دوڑائو۔ اس کے بعد آیت۔ 36 ۔ میں اَلْبُدْنُ یعنی مکہ میں قربان کئے جانے والے جانوروں کے لئے بتایا کہ یہ شعائر اللہ ہیں۔ پھر آیت۔ 37 ۔ میں بتایا کہ قربانی کہیں بھی ہو، ان سب کی روح ایک ہی ہے اور وہ ہے تقوٰی، یعنی اس وقت سے ڈرنا جب اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا۔ آیت۔ 34 ۔ میں ہم نے جو بات محذوف مانی ہے اس کی سند رسول اللہ ﷺ کا وہ عمل ہے جو تواتر سے ثابت ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ آپ ﷺ نے حج تو ایک کیا ہے۔ اگر قربانی کا حکم صرف حاجیوں کے لئے ہوتا تو آپ ﷺ حج میں قربانی کرتے اور باقی سالوں میں نہ کرتے یا کبھی کرلیتے، کبھی نہ کرتے۔ لیکن آپ ﷺ نے مدینہ میں بلاناغہ ہر سال نہ صرف خود قربانی کی بلکہ لوگوں کو بھی اس کا حکم دیا اور اس کے لئے اتنی تاکید کی کہ کسی صاحب استطاعت نے اگر قربانی نہیں کرنی ہے تو وہ عیدگاہ میں نہ آئے۔ آپ ﷺ نے یہ وضاحت بھی کردی کہ بقر عید کی نماز کے بعد سے تین دن تک جو قربانی ہوگی وہ اللہ کی مقرر کردہ عبادتِ قربانی میں شمار ہوگی بشرط نیت۔ اس کے بعد سے اگلے سال بقر عید کی نماز سے پہلے تک جتنی قربانیاں ہوں گی وہ بقر عید کی عبادت میں شمار نہیں ہوں گی۔ یہ مذکورہ آیت کی عملی تفسیر ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ بقر عید کی قربانی واجب ہے یا سنت۔ اگر سنت بھی مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہ سنت غیر مؤکدہ یعنی مستحب نہیں ہے کہ کرلے تو ثواب ہے اور نہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے جو واجب کے ہی درجہ میں ہوتی ہے۔ اس کے نہ کرنے میں سب سے بڑا حرج یہ ہے کہ یہ عبادت نہ کرنے والے کا عیدگاہ میں آنا اللہ کے حبیب ﷺ کو پسند نہیں ہے۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے

[ اُذِنَ : اجازت دی گئی ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جن سے ] [ يُقٰتَلُوْنَ : جنگ کی جاتی ہے ] [ بِانهُمْ : اس وجہ سے کہ ان پر ] [ ظُلِمُوْا : ظلم کیا گیا ] [ وَان اللّٰهَ : اور بیشک اللہ ] [ عَلٰي نَصْرِهِمْ : انکی مدد کرنے پر ] [ لَقَدِيْرُۨ: یقینا قدرت رکھنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 39 ۔ پہلی آیت ہے جو قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس میں صرف اجازت دی گئی ہے۔ بعد میں سورة بقرہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا حکم دیا گیا ہے۔ اجازت اور حکم میں صرف چند مہینوں کا فصل ہے۔ اجازت کی یہ آیت ذی الحجہ 1 ھ میں نازل ہوئی اور حکم جنگ بدر سے کچھ پہلے رجب یا شعبان 2 ھ میں نازل ہوا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اِس قصور پر کہ وہ کہتے تھے "ہمارا رب اللہ ہے" اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے

[ الَّذِينَ : وہ لوگ جن کو ] [ اُخْرِجوا : نکالا گیا ] [ مِنْ دِيَارِهِمْ : ان کے گھر سے ] [ بِغَيْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [ اِلَّآ ان : مگر (اس لئے) کہ ] [ يَّقُوْلُوْا : وہ لوگ کہتے ہیں (کہ)] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ] [ اللّٰهُ : اللہ ہے ] [ وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا ] [ دَفْعُ اللّٰهِ : اللہ کا دفع کرنا ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ بَعْضَهُمْ : ان کے بعض کو ] [ بِبَعْضٍ : بعض سے ] [ لَّهُدِّمَتْ : تو ضرور ڈھائی جاتیں ] [ صَوَامِعُ : خانقاہیں ] [ وَبِيَعٌ: اور (نصارٰی کی) عبادت گاہیں ] [ وَّصَلَوٰتٌ: اور (یہودیوں کے) عبادت خانے ] [ وَّمَسٰجِدُ : اور مسجدیں ] [ يُذْكَرُ : یاد کیا جاتا ہے ] [ فِيْهَا : جن میں ] [ اسْمُ اللّٰهِ : اللہ کا نام ] [ كَثِيْرًا : کثرت سے ] [ وَلَيَنْصُرَنَّ : اور لازماً مدد کرے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مَنْ : اس کی جو ] [ يَّنْصُرُهٗ : مدد کرتا ہے اس کی ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَقَوِيٌّ: یقینا قوی ہے ] [ عَزِيْزٌ: بالادست ہے ] ھـ دم [ ھَدْمًا : (ض) ] کسی چیز کو زمین پر گرا دینا۔ عمارت ڈھانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 40 ۔ ص م ع [ صَمَعًا : (س) ] کانوں کا چھوٹا ہونے کے سبب سر سے چمٹا ہوا ہونا۔ صَوْمَعَۃٌ ج صَوَامِعُ ۔ ایسی عمارت جس کا سر لمبا اور نوکدار ہو جیسے گرجا گھر، راہب کی کوٹھری، خانقاہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 40 نوٹ۔ 2: آیت۔ 40 ۔ میں سب سے پہلے نصارٰی کی خانقاہوں اور ان کے گرجوں کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے جذبۂ جہاد پر سب سے زیادہ معترض نصارٰی ہی تھے۔ اگرچہ ان کی مخالفت کے محرکات بعض اور بھی تھے لیکن اس میں ان کے رہبانی تصور کو بڑا دخل تھا۔ قرآن نے ان کے اسی تصور پر یہاں ضرب لگائی ہے کہ جو لوگ جہاد کو دینداری کے خلاف قرار دے رہے ہیں وہ اس حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ اگر دینداری کا یہی تصور پہلے بھی ہوتا تو آج زمین پر خدا کی عبادت کا کوئی ایک گوشہ بھی محفوظ نہ ہوتا۔ یہاں نصارٰی اور یہود کی جن عبادتگاہوں کا حوالہ ہے، اصلاً ان کی حیثیت وہی تھی جو ہمارے ہاں مساجد کی ہے۔ ان میں خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب اہل کتاب شرک اور بدعت میں مبتلا ہوئے (تدبر قرآن) نوٹ۔ 3: معروف کتاب ” اظہار الحق “ کے مصنف مولانا رحمت اللہ کیرانوی (رح) کا کہنا ہے کہ جہاد کا حکم شریعت محمدی ﷺ کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ گذشتہ پیغمبروں کو بھی اس کا حکم تھا اور انھوں نے جہاد کیا ہے۔ بائبل میں اس کی مثالیں اور شواہد بکثرت ہیں۔ مولانا نے ان میں سے صرف اکیس مثالیں نقل کی ہیں۔ ان کی کتاب کے اردو ترجمہ ” بائبل سے قرآن تک “ کی جلد۔ 3 ۔ کے صفحات 455 سے 469 پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں کتاب استثناء کے باب۔ 20 کی آیات۔ 10 تا 17 ۔ کا حوالہ دے کر مولانا (رح) فرماتے ہیں کہ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے چھ قبائل کے حق میں یہ حکم دیا تھا کہ ان میں سے ہر جاندار کو تلوار کی دھار سے قتل کیا جائے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں یا بچے، ان کے علاوہ دوسری قوموں کے لئے یہ حکم دیا گیا کہ پہلے ان کو صلح کی دعوت دی جائے، پھر اگر وہ قبول کرلیں اور اطاعت قبول کریں اور جزیہ ادا کرنا منظور کریں تو بہتر ہے اور اگر وہ تیار نہ ہوں اور لڑائی کریں تو ان پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے مردوں کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا ائے، عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا جائے اور ان کے جانوروں اور اموال کو لوٹ لیا جائے اور مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے۔