22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے

[ الَّذِينَ : وہ لوگ (کہ)] [ ان : اگر ] [ مَّكَّنّٰهُمْ : ہم اختیار دیں ان کو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اَقَامُوا : تو وہ قائم کریں گے ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَاٰتَوُا : اور پہنچائیں گے ] [ الزَّكٰوةَ : زکٰوۃ کو ] [ وَاَمَرُوْا : اور حکم دیں گے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی کا ] [ وَنَهَوْا : اور منع کریں گے ] [ عَنِ الْمُنْكَرِ : بُرائی سے ] [ وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ] [ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ : تمام معاملات کا انجام ]
Ayah 22:42

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اے نبیؐ، اگر وہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو اُن سے پہلے قوم نوحؑ اور عاد اور ثمود

[ وَان : اور اگر ] [ يُّكَذِّبُوْكَ : یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ ﷺ کو ] [ فَقَدْ كَذَّبَتْ : تو جھٹلا چکی ہے ] [ قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے ] [ قَوْمُ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کی قوم ] [ وَّعَادٌ: اور عاد ] [ وَّثَمُوْدُ : اور ثمود ]
Ayah 22:43

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیمؑ اور قوم لوطؑ

[ وَقَوْمُ اِبْرٰهِيْمَ : اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ] [ وَقَوْمُ لُوْطٍ : اور لوط (علیہ السلام) کی قوم ]
Ayah 22:44

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اہل مدین بھی جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰؑ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں ان سب منکرینِ حق کو میں نے پہلے مُہلت دی، پھر پکڑ لیا اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی

[ وَّاَصْحٰبُ مَدْيَنَ : اور مدین والے ] [ وَكُذِّبَ : اور جھٹلایا گیا ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ فَاَمْلَيْتُ : تو میں نے ڈھیل دی ] [ لِلْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں کو ] [ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ : پھر میں نے پکڑا ان کو ] [ فَكَيْفَ : تو کیا ] [ كَان : تھا ] [ نَكِيْرِ : میرا عدم عرفان ] ترکیب : (آیت۔ 44) نَکِیْرِ کی جر بتارہی ہے کہ یہاں یائے متکلم محذوف ہے یعنی یہ نَکِیْرِیْ ہے۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں

[ فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ : تو بستیوں میں سے کتنی ہی ہیں ] [ اَهْلَكْنٰهَا : ہم نے ہلاک کیا جن کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هِىَ : وہ ] [ ظَالِمَةٌ: ظلم کرنے والی تھیں ] [ فَهِيَ : نتیجۃً وہ ] [ خَاوِيَةٌ: اوندھی پڑی ہیں ] [ عَلٰي عُرُوْشِهَا : اپنی چھتوں پر ] [ وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ : اور کتنے ہی بیکار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں ] [ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ : اور کتنے ہی مزیّن کئے ہوئے محل (خالی پڑے) ہیں ] ب ء ر [ بَأَرًا : (ف) ] گڑھا کھودنا۔ بِئْرٌ کنواں۔ (مؤنث سماعی ہے) زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔ ع ط ل [ عَطَالَۃً : (ن) ] مزدور کا بیکار ہونا۔ (تفعیل) تَعْطِیْلًا کسی چیز کا بیکار چھوڑ دینا۔ مویشیوں کو چرواہے کے بغیر چھوڑ دینا۔ وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (اور جب اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی) 81:4 مُعَطَّلَۃٌ اسم المفعول ہے۔ بیکار چھوڑی ہوئی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔ (آیت۔ 45) بِئْرٍ اور قَصْرٍ کی جر بتارہی ہے کہ یہ دونوں کَاَیِّنْ مِّنْ پر عطف ہیں۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا : تو کیا انھوں نے سیر نہیں کی ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَتَكُوْنَ : تاکہ ہوتے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ قُلُوْبٌ: کچھ ایسے دل ] [ يَّعقلوْنَ : وہ لوگ عقل کرتے ] [ بِهَآ : جن سے ] [ اَوْ اٰذَان : یا کچھ ایسے کان ] [ يَّسْمَعُوْنَ : وہ لوگ سنتے ] [ بِهَا : جن سے ] [ فَانهَا : تو حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا تَعْمَى: اندھی نہیں ہوتیں ] [ الْاَبْصَارُ : آنکھیں ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ تَعْمَى: اندھے ہوتے ہیں ] [ الْقُلُوْبُ : دل ] [ الَّتِيْ : وہ جو ] [ فِي الصُّدُوْرِ : سینوں میں ہیں ] (آیت۔ 46) ۔ فَاِنَّھَا میں اِنَّھَا ضمیر الشان ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 46 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ تباہ شدہ تہذیبوں اور قوموں کے آثار اور کھنڈرات اللہ نے زمین پر چھوڑے ہی اس لئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر اور ان کی داستانیں سن کر لوگ عبرت حاصل کریں اور اپنا طرز عمل درست کریں لیکن لوگ ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ عرب کے شعراء ان آثار پر تو خون کے آنسو روتے تھے اور لوگوں کو رلاتے تھے لیکن اس سے آگے بڑھ کر انھوں نے تاریخ کے ان آثار اور کھنڈرات سے کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہی حال آج کے ماہرین آثار قدیمہ کا ہے۔ انھوں نے کھدائیاں کر کے بیشمار آثار سے عجائب خانے تو بھر دیئے لیکن ان کی ساری تحقیق صرف اس پر مرتکز ہے کہ یہ آثار پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے ہیں یا سات ہزار برس پہلے کی تہذیب کے ہیں لیکن وہ اصل حقیقت جس کی طرف یہ آثار اشارہ کر رہے ہیں، کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ) نوٹ۔ 2: یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے ترجمہ سے قرآن نہیں پڑھا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ قرآن میں کیا ہے۔ میں ایک بینک منیجر کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کی میز پر ایک گلوب رکھا تھا جس کا آدھا حصّہ روشن تھا اور آدھا حصّہ اندھیرے میں تھا۔ پہلی نظر میں ایسا لگا کہ گلوب ساکت ہے لیکن غور سے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ آہستہ آہستہ گردش کر رہا ہے اور اس کے علاقے بار بار اندھیرے سے نکل کر روشنی میں اور روشنی سے نکل کر اندھیرے میں جا رہے ہیں۔ پھر میں نے گھڑی سے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ اس گلوب کی ایک گردش ڈھائی منٹ میں پوری ہوتی ہے۔ اس وقت مجھے خیال آیا تھا کہ اس گلوب پر اگر کوئی مخلوق آباد ہوتی تو ان کا ایک دن ہمارے ڈھائی منٹ کے برابر ہوتا۔ پھر جب قرآن میں زیر مطالعہ آیت۔ 47 ۔ پڑھی تو مجھے وہ گلوب یاد آیا اور بات سمجھ میں آگئی کہ اس کائنات میں کہیں وئی ایسا سیارہ موجود ہے جس کے گلوب کی ایک گردش ہمارے ایک ہزار سال میں پوری ہوتی ہے۔ پھر جب سورة معارج ی آیت۔ 4 ۔ پڑھی تو معلوم ہوا کہ کوئی ایسا سیارہ بھی ہے جس کے گلوب کی ایک گردش ہمارے پچاس ہزار سال میں پوری ہوتی ہے۔ میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ آئن سٹائن کی Time and space تھیوری کیا ہے۔ لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی مسلمان سائنسداں اس تھیوری کا جائزہ لے اور بتائے کہ یہ تھیوری قرآن کے حقائق کے مطابق ہے یا اس میں کسی ترمیم کی ضرورت ہے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہُوا کرتا ہے

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ : اور یہ لوگ جلدی طلب کرتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ بِالْعَذَابِ : عذاب کو ] [ وَلَنْ يُّخْلِفَ : اور ہرگز خلاف نہیں کرے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ وَعْدَهٗ : اپنے وعدے کے ] [ وَان : اور بیشک ] [ يَوْمًا : ایک دن ] [ عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے پاس ] [ كَاَلْفِ سَنَةٍ : ہزار سال کی مانند ہے ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ تَعُدُّوْنَ : تم لوگ گنتے ہو ]
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، میں نے ان کو پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا اور سب کو واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے

[ وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ : اور بستیوں میں سے کتنی ہی ہیں ] [ اَمْلَيْتُ : میں لے ڈھیل دی ] [ لَهَا : جن کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هِىَ : وہ ] [ ظَالِمَةٌ: ظلم کرنے والی تھیں ] [ ثُمَّ اَخَذْتُهَا : پھر میں نے پکڑا ان کو ] [ وَاِلَيَّ : اور میری طرف ہی ] [ الْمَصِيْرُ : لوٹنا ہے ]
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

اے محمدؐ، کہہ دو کہ "لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (برا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں

قُلْ [ آپ کہیے ] يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا [ میں ] لَكُمْ [ تم لوگوں کے لئے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت ہے اور عزّت کی روزی

فَالَّذِيْنَ [ پس وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] مَّغْفِرَةٌ [ مغفرت ہے ] وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ [ اور باعزت روزی ہے ]
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور جن لوگوں نے ] سَعَوْا [ بھاگ دوڑ کی ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں میں ] مُعٰجِزِيْنَ [ (ان کو ) عاجز کرنے والے ہوتے ہوئے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ [ دوزخ والے ہیں ]
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اُس نے تمنّا کی، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہو گیا اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، اللہ علیم ہے اور حکیم

وَمَآ اَرْسَلْنَا [ اور ہم نے نہیں بھیجا ] مِنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْ رَّسُوْلٍ [ کوئی بھی رسول ] وَّلَا نَبِيٍّ [ اور نہ ہی کوئی نبی ] اِلَّآ [ مگر یہ کہ ] اِذَا [ جب ] تَـمَنّىٰٓ [ وہ تمنا کرتے ] اَلْقَى [ تو ڈالتا ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ ۚ[ ان کی خواہش میں ] فَيَنْسَخُ [ پھر منسوخ کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَا [ اس کو جو ] يُلْقِي [ ڈالتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] ثُمَّ يُحْكِمُ [ پھر محکم کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اٰيٰتِهٖ ۭ [ اپنی نشانیوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت نمبر ۔ 52 کے دو معانی کئے گئے ہیں ۔ ایک وہ جس کو ہم نے ترجیح دی ہے ۔ اس میں یہ محذوف ہے کہ نبی کس بات کی تمنا کرتا ہے اور شیطان ان کی تمنا میں کیا ڈالتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ نبی کی تمنا تو شب وروز یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کی ہدایت اترے ۔ اس کے لئے وہ طرح طرح کے جتن کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن شیاطین ہر وقت ان کی گھات میں رہتے ہیں اور جہاں ان کو نبی کی کوئی بات بنتی نظر آتی ہے ، فورا اسکے خلاف طرح طرح کے پروپیگنڈے شروع کردیتے ہیں ۔ یہاں الشیطن پر لام جنس ہے اور اس سے مراد شیاطین جن وانس دونوں ہیں ۔ یعنی دونوں گٹھ جوڑ کر نبی کو شکست دینے کے لئے ایک متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں ۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ) اس آیت کے دوسرے معنی کی بنیاد یہ ہے کی عربی میں تمنی کا لفظ تلاوت کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور امنیۃ تلاوت کی ہوئی بات کو بھی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ جب کوئی نبی کوئی بات بیان کرتا یا اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے تو شیطان اس بیان کی ہوئی بات یا آیت کے بارے میں سننے والوں کے ذھن میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کردیتا ہے ۔ مثلا نبی ﷺ نے آیت حرم علیکم المیتۃ (2: 173 ۔ ) پڑھ کر سنائی تو شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کہتے ہیں ۔ (ترجمہ شیخ الہند سے ماخوذ)
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

(وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہُوئی خرابی کو فتنہ بنا دے اُن لوگوں کے لیے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہُوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں

لِّيَجْعَلَ [ تاکہ وہ بنائے ] مَا [ اس کو جو ] يُلْقِي [ ڈالتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] فِتْنَةً [ ایک آزمائش ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لئے ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [ کوئی بیماری ہے ] وَّالْقَاسِيَةِ [ اور سخت ہونے والے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ ۭ [ جن کے دل ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے ] لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ [ یقینا ایک دور والی مخالفت میں ہیں ]
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں، یقیناً اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے

وَّلِيَعْلَمَ [ اور تاکہ جان لیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کو ] اُوْتُوا [ دیا گیا ] الْعِلْمَ [ علم ] اَنَّهُ [ کہ یہ ہی ] الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ [ حق ہے آپ کے رب (کی طرف) سے ] فَيُؤْمِنُوْا [ نتیجتا وہ لوگ ایمان لائیں ] بِهٖ [ اس پر ] فَتُخْبِتَ [ نتیجتا عاجزی اختیار کریں ] لَهٗ [ اس کے لئے ] قُلُوْبُهُمْ ۭ [ ان کے دل ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَهَادِ الَّذِيْنَ [ یقینا ان کو ہدایت دینے والا ہے جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ سیدھے راستے کی طرف ]
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آ جائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہو جائے

وَلَا يَزَالُ [ اور ہمیشہ رہیں گے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] فِيْ مِرْيَةٍ [ کسی (نہ کسی ) شک میں ] مِّنْهُ [ اس سے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] تَاْتِيَهُمُ [ پہنچے ان کے پاس ] السَّاعَةُ [ وہ گھڑی (یعنی قیامت ) ] بَغْتَةً [ اچانک ] اَوْ يَاْتِيَهُمْ [ یا پہنچے ان کے پاس ] عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ [ ایک بےبرکت دن کا عذاب ] ع ق م : (س) عقما۔ کسی چیز کا ایسا خشک ہونا کہ اس میں کوئی چیز جذب نہ ہوسکے ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے ۔ بےبرکت ہونا ۔ بانجھ ہونا۔ سخت ہونا ۔ خشک ہونا ۔ عقیم ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ بےبرکت ۔ بانجھ ، سخت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 55 ۔
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اُس روز بادشاہی اللہ کی ہو گی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جو ایمان رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے

اَلْمُلْكُ [ کل بادشاہت ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] لِّلّٰهِ ۭ [ اللہ کے لئے ہوگئی ] يَحْكُمُ [ وہ فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے درمیان ] فَالَّذِيْنَ [ پھر وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [ سدابہار باغات میں ہوں گے ]
Ayah 22:57

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] وَكَذَّبُوْا [ اور جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [ ایک ذلیل کرنے والاعذاب ہوگا ]
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، پھر قتل کر دیے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھّا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے

وَالَّذِيْنَ [ اور جنھوں نے ] هَاجَرُوْا [ ہجرت کی ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] ثُمَّ [ پھر ] قُتِلُوْٓا [ وہ قتل کئے گئے ] اَوْ [ یا ] مَاتُوْا [ مرگئے ] لَيَرْزُقَنَّهُمُ [ تو لازما روزی دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] رِزْقًا [ جیسا خوبصورت روزی کا حق ہے ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ [ روزی دینے والوں کا بہترین ہے ]
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گاجس سے وہ خوش ہو جائیں گے بے شک اللہ علیم اور حلیم ہے

لَيُدْخِلَنَّهُمْ [ وہ لازما داخل کرے گا ان کو ] مُّدْخَلًا [ داخل کرنے کی ایسی جگہ میں ] يَّرْضَوْنَهٗ ۭ [ وہ لوگ پسند کریں گے جس کو ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَعَلِيْمٌ [ یقینا جاننے والا ہے ] حَلِيْمٌ [ بردبار ہے ]
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ تو ہے اُن کا حال، اور جو کوئی بدلہ لے، ویسا ہی جیسا اس کے ساتھ کیا گیا، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے

ذٰلِكَ ۚ [ یہ ہے ] وَمَنْ [ اور جو ] عَاقَبَ [ بدلہ لے ] بِمِثْلِ مَا [ اس کے جیسا ] عُوْقِبَ [ اس پر زیادتی کی گئی ] بِهٖ [ جیسی ] ثُمَّ [ پھر ] بُغِيَ [ چڑھائی کی گئی ] عَلَيْهِ [ اس پر ] لَيَنْصُرَنَّهُ [ تو لازما مدد کرے گا اس کی ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَعَفُوٌّ [ یقینا بےانتہا درگزر کرنے والا ہے ] غَفُوْرٌ[ بخشنے والا ہے ] نوٹ ۔ 1: ایک شخص نے اپنے دشمن سے برابر برابر بدلہ لے لیا جس کا تقاضہ یہ تھا کہ اب دونوں برابر ہوگئے آگے یہ سلسلہ ختم ہو۔ مگر دشمن نے مشتعل ہوکر مزید ظلم کیا تو یہ شخص پھر مظلوم ہی رہ گیا ۔ اس آیت میں ایسے مظلوم کی امداد کا وعدہ ہے ۔ مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ آدمی پہلے یہ ظلم پر صبر کرے ۔ معاف کردے اور بدلہ نہ لے ۔ قرآن کریم کی متعدد ہدایات کے مطابق اس طرز عمل کا افضل ہونا ثابت ہے۔ شخص مذکور نے برابر کا بدلہ لیا تو اس نے افضل قرآنی ہدایات پر عمل ترک کردیا ۔ اس سے شبہ ہوسکتا تھا کہ اب یہ شاید اللہ کی نصرت سے محروم ہوجائے ۔ اس لئے آخر آیت میں ارشاد فرما دیا ان اللہ لعفو غفور [ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے افضل پر عمل نہ کرنے کی کوتاہی پر کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا بلکہ اب بھی اگر مخالف نے اس پر دوبارہ ظلم کیا تو اس کی امداد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگئی ۔ ( معارف القرآن)
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے اور وہ سمیع و بصیر ہے

ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] يُوْلِجُ [ داخل کرتا ہے ] الَّيْلَ [ رات کو ] فِي النَّهَارِ [ دن میں ] وَيُوْلِجُ [ اور داخل کرتا ہے ] النَّهَارَ [ دن کو ] فِي الَّيْلِ [ رات میں ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] سَمِيْعٌۢ [ سننے والا ہے [ بَصِيْرٌ[ دیکھنے والا ہے ]
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے

ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] هُوَ الْحَقُّ [ ہی حق ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] مَا [ وہ جس کو ] يَدْعُوْنَ [ یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهٖ [ اس کے علاوہ [ هُوَ الْبَاطِلُ [ وہ ہی باطل ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] هُوَ الْعَلِيُّ [ ہی بالا تر ہے ] الْكَبِيْرُ [ بڑا ہے ]
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے

اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً ۡ [ کچھ پانی ] فَتُصْبِحُ [ تو ہوجاتی ہے ] الْاَرْضُ [ زمین ] مُخْضَرَّةً ۭ [ سرسبز ہوجانے والی ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَطِيْفٌ [ باریک بین ہے ] خَبِيْرٌ [ باخبر ہے ]
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بے شک وہی غنی و حمید ہے

لَهٗ [ اس کا ہی ہے ] مَا [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَا [ اور وہ جو ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ہے ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَهُوَ [ یقینا وہ ہی ہے ] الْغَنِيُّ [ بےنیاز ] الْحَمِيْدُ [ حمد کیا ہوا ]
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے

اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ نے ] سَخَّرَ [ مسخر کیا ] لَكُمْ [ تم لوگوں کے لئے ] مَّا [ اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] وَالْفُلْكَ [ اور کشتی کو ] تَجْرِيْ [ وہ چلتی ہے ] فِي الْبَحْرِ [ سمندر میں ] بِاَمْرِهٖ ۭ [ اس کے حکم سے ] وَيُمْسِكُ [ اور وہ تھامتا ہے ] السَّمَاۗءَ [ آسمان کو ] اَنْ [ کہ (کہیں ) ] تَقَعَ [ وہ گرپڑے ] عَلَي الْاَرْضِ [ زمین پر ] اِلَّا [ مگر ] بِاِذْنِهٖ ۭ [ اس کی اجازت سے [ اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] بِالنَّاسِ [ لوگوں پر ] لَرَءُوْفٌ [ یقینا بےانتہا نرمی کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَحْيَاكُمْ ۡ [ زندگی دی تم لوگوں کو ] ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ [ پھر وہ موت دے گا تم کو ] ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ [ پھر وہ زندگی دے گا تم کو ] اِنَّ الْاِنْسَانَ [ بیشک انسان ] لَكَفُوْرٌ [ یقینا انتہائی ناشکرا ہے ]
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ، وہ اِس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں تم اپنے رب کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو

لِكُلِّ اُمَّةٍ [ ہر ایک امت کے لئے ] جَعَلْنَا [ ہم نے مقرر کیا ] مَنْسَكًا [ بندگی کا ایک طریقہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] نَاسِكُوْهُ [ بندگی کرنے والے ہیں اس (طریقے ) سے ] فَلَا يُنَازِعُنَّكَ [ پس وہ لوگ ہرگز جھگڑا نہ کریں آپ سے ] فِي الْاَمْرِ [ اس معاملہ میں ] وَادْعُ [ اور آپ دعوت دیں ] اِلٰى رَبِّكَ ۭ [ اپنے رب کی طرف ] اِنَّكَ [ بیشک آپ ] لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِيْمٍ [ یقینا سیدھی رہنمائی پر ہیں ] نوٹ ۔ 1 ۔ آیت ۔ 67 ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ مخالفین اسلام جو شریعت محمدیہ کے احکام میں بحث کرتے ہیں اور بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ان کے مذہب میں وہ احکام نہ تھے تو وہ سن لیں کہ پچھلی کسی شریعت وکتاب سے نئی شریعت وکتاب کا معارضہ کرنا باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کو اس کے وقت میں ایک خاص شریعت وکتاب دی ۔ جس کا اتباع اس امت پر اس وقت تک درست تھا جب تک کوئی دوسری امت اور دوسری شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ آگئی اور جب دوسری شریعت آگئی تو اتباع اس جدید شریعت کا کرنا ہے ۔ اگر اس کا کوئی حکم پہلی شریعت کے مخالف ہے تو پہلے حکم کو منسوخ سمجھا جائے گا ۔ (معارف القرآن )
Ayah 22:68

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ "جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو خوب معلوم ہے

وَاِنْ [ اور اگر ] جٰدَلُوْكَ [ وہ لوگ بحث کریں آپ سے ] فَقُلِ [ تو آپ کہئے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جانتا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو"

اَللّٰهُ [ اللہ ] يَحْكُمُ [ فیصلہ کرے گا ] بَيْنَكُمْ [ تم لوگوں کے درمیان ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن ] فِيْمَا [ اس چیز (کے بارے ) میں ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] فِيْهِ [ جس میں ] تَخْتَلِفُوْنَ [ اختلاف کرتے ہو ]
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ [ کیا تو نے جانا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ہے ] اِنَّ ذٰلِكَ [ بیشک یہ ] فِيْ كِتٰبٍ ۭ[ ایک کتاب میں ہے ] اِنَّ ذٰلِكَ [ بیشک یہ ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] يَسِيْرٌ [ آسان ہے ]
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہیں جن کے لیے نہ تو اس نے کوئی سند نازل کی ہے اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے

وَيَعْبُدُوْنَ [ اور وہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی ] لَمْ يُنَزِّلْ [ اس نے اتاری ہی نہیں ] بِهٖ [ جس کی ] سُلْطٰنًا [ کوئی سند ] وَّمَا [ اور اس کی ] لَيْسَ لَهُمْ [ نہیں ہے ان کے لئے ] بِهٖ [ جس کا ] عِلْمٌ ۭ [ کوئی علم ] وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ [ اور نہیں ہے ظالموں کے لئے ] مِنْ نَّصِيْرٍ [ کوئی بھی مدد گار ]
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان سے کہو "میں بتاؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے؟ آگ، اللہ نے اُسی کا وعدہ اُن لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے"

وَاِذَا [ اور جب بھی ] تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ ہماری آیتیں ] بَيِّنٰتٍ [ واضح ہوتے ہوئے ] تَعْرِفُ [ تو آپ پہنچانیں گے ] فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ [ ان کے چہروں میں جنھوں نے ] كَفَرُوا [ انکار کیا ] الْمُنْكَرَ ۭ [ ناگواری کو ] يَكَادُوْنَ [ وہ ایسے لگتے ہیں کہ ] يَسْطُوْنَ [ حملہ کرکے مغلوب کریں ] بِالَّذِيْنَ [ ان کو جو ] يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ [ پڑھ کر سناتے ہیں ان کو ] اٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری آیتیں ] قُلْ [ آپ کہئے ] اَفَاُنَبِّئُكُمْ [ تو کیا میں خبردوں تم لوگوں کو ] بِشَرٍّ [ ایک ایسی برائی کی جو ] مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ [ اس سے ( زیادہ بری ) ہے ] اَلنَّارُ ۭ [ (وہ ) آگ ہے ] وَعَدَهَا [ وعدہ کیا جس کا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۭ [ انکار کیا ] وَبِئْسَ [ اور کتنی بری ہے وہ ] الْمَصِيْرُ [ لوٹنے کی جگہ ] س ط و : (ن) سطوا ۔ کسی پر حملہ کر کے مغلوب کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 72 ۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] ضُرِبَ [ بیان کی گئی ] مَثَلٌ [ ایک مثال ] فَاسْتَمِعُوْا [ تو تم لوگ غور سے سنو ] لَهٗ ۭ [ اس کو ] اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک وہ جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] لَنْ يَّخْلُقُوْا [ ہرگز پیدا نہیں کریں گے ] ذُبَابًا [ ایک مکھی ] وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا [ اور اگرچہ وہ سب اکٹھا ہوں ] لَهٗ ۭ [ اس کے لئے ] وَاِنْ يَّسْلُبْهُمُ [ اور اگر چھین لے ان سے ] الذُّبَابُ [ مکھی ] شَيْـــــًٔـا [ کوئی چیز ] لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ [ تو وہ چھڑا نہ سکیں گے اس (چیز) کو ] مِنْهُ ۭ [ اس (مکھی ) سے ] ضَعُفَ [ لاچار ہوا ] الطَّالِبُ [ طلب کرنے والا ] وَالْمَطْلُوْبُ [ اور جس سے طلب کیا گیا ] ذب ب : (ن) ذبا ۔ کسی سے کوئی چیز دفع کرنا ۔ مکھی اڑانا ۔ ذباب ۔ مکھی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 73 ۔ س ل ب : (ن) سلبا ۔ کوئی چیز زبردستی لے لینا ۔ چھیننا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 73 ۔ نوٹ۔ 1: کسی کلام کی بلاغت کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرے یعنی ایسی بات کہے جو پہلے نہیں کی گئی ۔ بلاغت کی اس صفت کے لئے اختراع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور زیر مطالعہ آیت ۔ 73 اس کی ایک اعلی مثال ہے ۔ جن لوگوں کی عربی ادب اور شاعری پر نظر ہے وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ضعف الطالب والمطلوب کی حقیقت کی وضاحت اور اس کے لئے ایسی مثال پہلے کبھی نہیں دی گئی (حافظ احمد یار صاحب مرحوم ) نوٹ ۔ 2: ضعف الطالب والمطلوب میں نہایت بلیغ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کسی کو معبود مانتا ہے تو اس وجہ سے مانتا ہے کہ اس سے اس کے ضعف وناتوانی کا مداوا ہوتا ہے لیکن ان نادانوں نے اپنا معبود ان کو بنایا ہے جو ان سے بھی بڑھ کر عاجز و بےبس ہیں ۔ یہ لوگ اس پر تو قادر ہیں کہ اپنے چہرے سے مکھی ہانک سکتے ہیں ۔ لیکن انکے معبود بےچارے اپنے چہرے سے مکھی بھی ہانک سکنے پر قادر نہیں ہیں۔ پھر آگے بتایا کہ ان نادانوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر جوان کی پوجا شروع کررکھی ہے ، یہ محض انکی حماقت اور خدا کی شان سے بیخبر ی کا نتیجہ ہے ۔ فرشتے خدا کی بیٹیاں اور اس کے شریک نہیں ہیں بلکہ اس کے بندے ہیں ۔ اگر ان کو کوئی مرتبہ حاصل ہے تو یہ ہے کہ جس طرح وہ انسانوں میں سے خاص خاص بندوں کو وہ اپنا پیغمبر بناتا ہے اسی طرح فرشتوں میں سے اپنے خاص خاص بندوں یعنی فرشتوں کو اپنے پیغمبروں کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ۔ (تدبر القرآن )
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے

مَا قَدَرُوا [ ان لوگوں نے قدر نہیں کی ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖ ۭ [ جیسا اس کی قدر کرنے کا حق ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَقَوِيٌّ [ یقینا قوت والا ہے ] عَزِيْزٌ [ بالادست ہے ]
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی وہ سمیع اور بصیر ہے

اَللّٰهُ [ اللہ ] يَصْطَفِيْ [ چن لیتا ہے ] مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ [ فرشتوں میں سے ] رُسُلًا [ کچھ پیغام پہنچانے والوں کو ] وَّمِنَ النَّاسِ ۭ [ اور انسانوں میں سے (بھی ) ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] سَمِيْعٌۢ [ سننے والا ہے ] بَصِيْرٌ [ دیکھنے والا ہے ]
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو کچھ اُن کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے، اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

يَعْلَمُ [ وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے آگے ہے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] خَلْفَهُمْ ۭ [ ان کے پیچھے ہے ] وَاِلَى اللّٰهِ [ اور اللہ کی طرف ہی ] تُرْجَعُ [ لوٹائے جائیں گے ] الْاُمُوْرُ [ تمام معاملات ]
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے وہ لوگو جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] ارْكَعُوْا [ تم لوگ رکوع کرو ] وَاسْجُدُوْا [ اور سجدہ کرو ] وَاعْبُدُوْا [ اور بندگی کرو ] رَبَّكُمْ [ اپنے ربک کی ] وَافْعَلُوا [ اور عمل کرو ] الْخَــيْرَ [ بھلائی کے ] لَعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ السجدہ عند الشافعی [ فلاح پاؤ]
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار

وَجَاهِدُوْا [ اور تم لوگ جدوجہد کرو ] فِي اللّٰهِ [ اللہ (کی راہ ) میں ] حَقَّ جِهَادِهٖ ۭ [ جیسا اس کی جدوجہد کا حق ہے ] هُوَ [ اس نے ] اجْتَبٰىكُمْ [ پسند کیا تم کو ] وَمَا جَعَلَ [ اور اس نے نہیں بنائی ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] فِي الدِّيْنِ [ دین میں ] مِنْ حَرَجٍ ۭ [ کوئی بھی تنگی ] مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ ۭ [ (پیروی کرو) اپنے باپ ابراہیم کے دین کی ] هُوَ [ اس نے ] سَمّٰىكُمُ [ نام رکھا تم لوگوں کا ] الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ [ مسلمین (یعنی فرمانبرداری کرنے والے ) ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَفِيْ ھٰذَا [ اور اس (قرآن ) میں ] لِيَكُوْنَ [ تاکہ ہوجائیں ] الرَّسُوْلُ [ یہ رسول ] شَهِيْدًا [ گواہ ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَتَكُوْنُوْا [ اور تم لوگ ہوجائو ] شُهَدَاۗءَ [ گواہ ] عَلَي النَّاسِ ښ [ لوگوں پر ] فَاَقِيْمُوا [ پس تم لوگ قائم کرو ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتُوا [ اور پہنچاؤ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] وَاعْتَصِمُوْا [ اور تم لوگ مضبوطی سے تھام لو ] بِاللّٰهِ ۭ [ اللہ کو ] هُوَ [ وہ ] مَوْلٰىكُمْ ۚ [ تمہارا کارساز ہے ] فَنِعْمَ [ تو کتنا ہی اچھا ہے ] الْمَوْلٰى [ کارساز ] وَنِعْمَ [ اور کتنا ہی اچھا ہے ] النَّصِيْرُ [ مدد گار ] نوٹ ۔ 1: سورة بقرہ کی آیت ۔ 143 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تم کو ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگ گواہ ہوجاؤ لوگوں پر اور یہ رسول گواہ ہوجائیں تم لوگوں پر ۔ یہی بات یہاں ایک مختلف پیرائے میں کہی گئی ہے اور ساتھ ہی اس ذمہ داری سے عہدہ براء ہونے کی لئے ہدایات بھی دی گئیں ہیں ۔ سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم ہوا ۔ یہ نماز کی تعبیر ہے ۔ ان الفاظ سے جب نماز کی تعبیر کی جاتی ہے تو اس وقت پر نماز کی ادائیگی کے ساتھ نمازوں میں شغف اور انہماک کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ جس کا اہتمام ذمہ داریوں کا اہل بننے کے لئے ضروری ہے ۔ پھر فرمایا واعبدوا ربکم یعنی زندگی کے سارے گوشوں میں خدا کی ہی بندگی اور اسی کی اطاعت کرو۔ اس کے آگے ہے وافعلوالخیر ۔ یعنی مزید نیکیاں اور بھلائیاں بھی کرو ۔ یہ ان نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف اشارہ ہے جو اگرچہ فرض نہیں ہیں لیکن وہ فضائل میں داخل ہیں اور زندگی کو سنوارنے میں انکو بڑا دخل ہے ۔ پھر فرمایا وجاھدوا فی اللہ ۔ اوپر کی اخلاقی و روحانی تیاری کے ساتھ ساتھ یہ عملی جدوجہد کی ہدایت ہے ۔ یہاں جہاد سے مراد قتال نہیں ہے ۔ یہاں جہاد سے مراد ہر وہ جدوجہد ہے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے بندے کے بس میں ہو۔ اس کے آگے حق جہادہ کا اضافہ کیا ۔ یعنی یہ جدوجہد نیم دلی اور کمزوری کے ساتھ مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے جی جان کی بازی لگا دی جائے (تدبر قرآن سے ماخوذ ) میرے خیال میں جی جان کی بازی لگا دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کی دیگر ذمہ داریوں کو چھوڑ چھاڑ کے انسان صرف دعوت و تبلیغ کی جدوجہد میں لگ جائے ۔ میری رائے یہ ہے کہ اپنے ظروف و احوال میں رہتے ہوئے اس کام کے لئے کچھ نہ کچھ وقت وہ ضرور نکالے اگر روزانہ ممکن نہیں ہے تو کم از کم Weekends پر وقت ضرور نکالے ۔ پھر اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق وہ جو بھی کام کرسکتا ہے اس پر مداومت اختیار کرے اور ثابت قدم رہے تو ان شاء اللہ حق جہادہ کا تقاضہ پورا ہوجائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہتر عمل وہ ہے جو مستقل ہو خواہ تھوڑا ہو۔ نیز اس سے پہلی آیت میں جن نیک اعمال کا ذکر ہوا ہے وہ بھی جہاد فی سبیل اللہ کے زمرے میں آتے ہیں ۔ انہیں اپنے وقت پر سرانجام دینا اور ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنا بھی جان کی بازی لگانیکے مترادف ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کاموں سے بھی جان بچاتے پھرتے ہیں ۔ 16 محرم الحرام 1428 ھ بمطابق 5 فروری 2007 ء ۔