23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:

قَدْ اَفْلَحَ [ مراد پاگئے ہیں ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] فِيْ صَلَاتِهِمْ [ اپنی نماز میں ] خٰشِعُوْنَ [ عاجزی کرنے والے ہیں ]
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

لغویات سے دور رہتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] عَنِ اللَّغْوِ [ بےسود چیز سے ] مُعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والے ہیں ]
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] لِلزَّكٰوةِ [ زکوۃ کے لئے ] فٰعِلُوْنَ [ عمل کرنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: قرآن کریم میں عام طور پر لفظ زکوۃ اصطلاحی معنی میں آتا ہے یعنی مال کا ایک خاص حصہ کچھ شرائط کے ساتھ صدقہ کرنے کو زکوۃ کہتے ہیں ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔ میں اس لفظ کے اصطلاحی معنی لینے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیت مکہ ہے جبکہ زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی ۔ اس کا جواب ابن کثیر اور دیگر مفسرین کی طرف سے یہ ہے کہ زکوۃ کی فرضیت مکہ ہی میں ہوچکی تھی ۔ سورة مزمل بالاتفاق مکی ہے ۔ اس میں بھی آیت ، اقیموا الصلوۃ اتوالزکوۃ کا ذکر موجود ہے مگر سرکاری طور پر اس کے وصول کرنے کا انتظام اور نصابات وغیرہ کی تفصیلات مدینہ جانے کے بعد جاری ہوئیں ، عام طور پر قرآن کریم میں جہاں زکوۃ کا ذکر آیا ہے تو اس کو فعل اتی ، یؤتی کے کسی صیغہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے لیکن یہاں عنوان بدل کر للزلوۃ فاعلون فرمانا اس کا قرینہ ہے کہ یہاں زکوۃ اپنے اصطلاحی معنی میں نہیں ہے ۔ اس بنیاد پر بعض مفسرین نے اس جگہ زکوۃ کا مضمون عام لغوی معنی میں اپنے نفس کو پاک کرنا قرار دیا ہے ۔ (معارف القرآن ) اس جگہ پر زکوۃ کے ساتھ فاعلون کے لفظ سے میرا ذہن اس کے ایک پہلو کی طرف منتقل ہوتا ہے جو آج کل ہم لوگوں کے ذہن سے بڑی حد تک اوجھل ہوچکا ہے ۔ اس کے نتیجے میں کچھ ایسی NGOs اور فلاحی ادارے وجود میں آگئے ہیں جو ناچ گانے کی محفلیں اور کلچرل شو منعقد کرکے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں ، پھر رمضان میں زکوۃ لینے اور بقر عید میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے بھی آجاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ لوگ زکوۃ کے پیسے خرچ کرتے وقت اس کے ان مصارف کا خیال رکھیں گے جن کا فیصلہ اللہ نے کسی نبی یا رسول پر بھی نہیں چھوڑا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کا تعین فرمایا ۔ (دیکھیں سورة توبہ ۔ آیت ۔ 60 کا نوٹ ۔ 1) اس لئے ضروری ہے کہ اس جگہ پر زکوۃ کے ساتھ فاعلون لانے کی اہمیت کے مذکورہ پہلو کو سمجھ کر ہم لوگ ذہن نشین کرلیں ۔ اتی ، یؤتی ، ایتاء کے اصل معنی ہیں کسی چیز کو کسی تک پہنچا نا ۔ پھر دینا یا ادا کرنا اس کے مجازی معنی ہیں ۔ قرآن مجید میں زکوۃ کے ساتھ بالعموم اسی لفظ کا کوئی صیغہ یا فعل امر استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے ہم سے کہا ہے کہ ہم خود زکوۃ کو مستحقین تک پہنچائیں ۔ اب ظاہر ہے ۔ یہ ایک کام ہے اور اس عمل کا تقاضہ کرتا ہے کہ مستحقین کو تلاش کیا جائے ۔ پھر ان سے رابطہ کیا جائے اور زکوۃ ان کو پہنچائی جائے ۔ اس فرض کی ادائیگی کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے غالبا اس جگہ پر زکوۃ کے ساتھ فاعلون کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ (واللہ اعلم) پہلے اسلامی حکومتیں اس عمل کا تقاضہ پورا کرتی تھیں اس لئے ان کے کارندوں کو لوگ زکوۃ ادا کرکے اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے تھے ۔ لیکن آج کل اسلامی جمہوریہ پر اس ضمن میں اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے ہمارے لئے محفوظ ترین راستہ یہ ہے کہ ہم خود زکوۃ ایسے مستحقین کو دین جن کو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں ۔ اگر کسی ادارے کو دینا ہو تو کم از کم اتنا ضرور دیکھ لیں کہ وہ لوگ زکوۃ خرچ کرنے کے مسائل سے واقف ہوں، ان کا پورا لحاظ رکھتے ہوں اور اس ضمن میں روشن خیال نہ ہوں ، اتنا سا تردد کئے بغیر ہی اگر ہم کسی ادارے کو زکوۃ دیتے ہیں تو یہ زکوۃ پھینکنے والی بات ہے ۔ زکوۃ پہنچانے والی بات نہیں ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ دنیا میں ہم سمجھتے رہیں کہ ہم نے زکوۃ ادا کردی ہے اور میدان حشر میں پتہ چلے کہ ادا تو کی تھی لیکن پہنچائی نہیں تھی ۔ اللہ تعالیٰ ایسے پچھتاوے سے ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] لِفُرُوْجِهِمْ [ اپنی شرمگاہوں کی ] حٰفِظُوْنَ [ حفاظت کرنے والے ہیں ]
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں

اِلَّا [ سوائے ] عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ [ اپنی بیویوں پر ] اَوْ [ یا ] مَا [ ان پر جن کے ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُهُمْ [ ان کے داہنے ہاتھ ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک وہ لوگ ] غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ [ بغیر ملامت کئے ہوئے ہیں ]
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں

فَمَنِ [ پھر جس نے ] ابْتَغٰى [ تلاش کیا ] وَرَاۗءَ ذٰلِكَ [ اس کے سوا ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْعٰدُوْنَ [ ہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ]
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لو گ ] هُمْ [ جو ] لِاَمٰنٰتِهِمْ [ اپنی امانتوں کی ] وَعَهْدِهِمْ [ اپنے وعدے کی ] رٰعُوْنَ [ نگرانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ [ اپنی نمازوں کو ] يُحَافِظُوْنَ [ رائیگاں جانے سے بچاتے رہتے ہیں ]
Ayah 23:10

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ وہ وارث ہیں

اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لو گ ] هُمُ الْوٰرِثُوْنَ [ ہی وارث بننے والے ہیں ]
Ayah 23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَرِثُوْنَ [ وارث ہوں گے ] الْفِرْدَوْسَ ۭ [ فردوس کے ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا

وَلَقَدْ خَلَقْنَا [ اور بیشک ہم نے پیدا کیا ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] مِنْ سُلٰـلَـةٍ [ ایک جوہر سے ] مِّنْ طِيْنٍ [ مٹی میں سے ] س ل ل : (ن) سلا ۔ (1) کسی چیز میں سے کوئی چیز آہستہ آہستہ نکالنا ۔ (2) کہیں سے کوئی چیز چپکے سے لے جانا ۔ سلالۃ کسی چیز سے نکالی ہوئی چیز ۔ خلاصہ ، جوہر ۔ ست ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 12 ۔ (تفعل) تسلل ۔ بھیڑ میں سے چپکے سے کھسک جانا ، آیت ۔ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ (جان لیا ہے اللہ نے ان کو جو چپکے سے سٹک جاتے ہیں تم میں سے ) 24:63 ۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ [ پھر ہم نے بنایا اس کو ] نُطْفَةً [ ایک نطفہ ] فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ [ ایک مضبوط ٹھکانے میں ] ترکیب : (آیت ۔ 13) فعل جعل کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس کو بنایا اور کیا بنایا ۔ اس طرح جعلنا کے ساتھ ضمیر مفعولی اس کا مفعول اول ہے اور نطفۃ اس کا مفعول ثانی ہے ۔
Ayah 23:14

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا

ثُمَّ خَلَقْنَا [ پھر ہم نے پیدا کیا ] النُّطْفَةَ [ نطفہ کو ] عَلَقَةً [ ایک جما ہوا خون ہوتے ہوئے ] فَخَـلَقْنَا [ پھر ہم نے پیدا کیا ] الْعَلَقَةَ [ جمے ہوئے خون کو ] مُضْغَةً [ ایک گوشت کی بوتی ہوتے ہوئے ] فَخَـلَقْنَا [ پھر ہم نے پیدا کیا ] الْمُضْغَةَ [ گوشت کی بوٹی کو ] عِظٰمًا [ ہڈیاں ہوتے ہوئے ] فَكَسَوْنَا [ پھر ہم نے پہنایا ] الْعِظٰمَ [ ہڈیوں کو ] لَحْــمًا ۤ [ کچھ گوشت ] ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ [ پھر ہم نے اٹھایا اس کو ] خَلْقًا اٰخَرَ ۭ [ ایک دوسری مخلوق ہوتے ہوئے ] فَتَبٰرَكَ [ تو برکت کا سرچشمہ ہوا ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ [ جو پیدا کرنے والوں کا سب سے احسن ہے ] (آیت ۔ 14) فعل خلق کا ایک ہی مفعول آتا ہے ۔ کسی کو پیدا کیا ۔ اس لئے علقۃ ۔ مضغۃ اور عظما مفعول ثانی نہیں ہوسکتے بلکہ یہ حال ہیں ۔ کسونا کا مفعول اول العظم ہے اور لحما ۔ اس کا مفعول ثانی ہے۔ فعل انشا کا بھی ایک مفعول آتا ہے اس لئے خلقا اخر حال ہے۔
Ayah 23:15

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر

ثُمَّ اِنَّكُمْ [ پھر بیشک تم لوگوں کو ] بَعْدَ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] لَمَيِّتُوْنَ [ یقینا مردہ ہونا ہے ]
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً تم اٹھائے جاؤ گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ [ پھر بیشک تم لوگ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن ] تُبْعَثُوْنَ [ (دوبارہ ) اٹھائے جاؤگے ] نوٹ ۔ 1: حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر ائمہ کرام نے خلقا اخر کی تفسیر نفخ روح سے فرمائی ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ غالبا اس روح سے مراد روح حیوانی ہے کہ وہ بھی مادی اور ایک جسم لطیف ہے جو جسم حیوانی کے ہر ہر جز میں سمایا ہوا ہوتا ہے جس کو طبیب لوگ اور فلسفی لوگ روح کہتے ہیں ۔ اس کی تخلیق تمام اعضاء انسانی کی تخلیق کے بعد ہوتی ہے ۔ اور روح حقیقی جس کا تعلق عالم ارواح سے ہے وہیں سے لا کر اس کا کوئی رابطہ روح حیوانی سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے فرما دیتا ہے جس کی حقیقت کو پہچاننا انسان کے بس کا روگ نہیں ہے ۔ اس روح حقیقی کی تخلیق تو تمام انسانوں کی تخلیق سے بہت پہلے ہوچکی ہے ۔ ان ارواح کو اللہ تعالیٰ نے ازل میں جمع کرکے الست بربکم فرمایا ۔ اس کا تعلق جسم انسانی کے ساتھ تخلیق اعضاء انسانی کے بعد ہوتا ہے ۔ اس جگہ نفخ روح سے اگر یہ مراد لی جائے کہ روح حیوانی کے ساتھ روح حقیقی کا تعلق اس وقت فرمایا گیا تو یہ بھی ممکن ہے ۔ (معارف القرآن ) ۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے

وَلَقَدْ خَلَقْنَا [ اور بیشک ہم نے پیدا کئے ہیں ] فَوْقَكُمْ [ تم لوگوں کے اوپر ] سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ ڰ [ سات راستے ] وَمَا كُنَّا [ اور ہم نہیں ہیں ] عَنِ الْخَلْقِ [ مخلوق سے ] غٰفِلِيْنَ [ غفلت برتنے والے ] نوٹ ۔ 1: سات راستوں سے غالبا مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں اور چونکہ اس زمانے میں انسان سبع سیارہ سے ہی واقف تھا ، اس لئے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا ، اس کے معنی بہر حال یہ نہیں ہیں کہ اس کے علاوہ اور دوسرے راستے نہیں ہیں ۔ اور مخلوق سے غافل نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی مخلوق کی کسی حاجت سے اور کسی کی حالت سے ہم کبھی بیخبر نہیں رہے کسی چیز کو ہم نے اپنے منصوبے کے خلاف بننے اور چلنے نہیں دیا ۔ کسی چیز کی فطری ضروریات فراہم کرنے میں ہم نے کوتاہی نہیں کی ، اور ایک ایک ذرے اور ایک ایک پتے کی حالت سے ہم باخبر رہے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں

وَاَنْزَلْنَا [ اور ہم نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءًۢ [ کچھ پانی ] بِقَدَرٍ [ ایک اندازے سے ] فَاَسْكَنّٰهُ [ پھر ہم نے ٹھہرایا اس کو ] فِي الْاَرْضِ ڰ [ زمین میں ] وَ [ حالانکہ ] اِنَّا [ بیشک ہم ] عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ [ اس کو لے جانے پر ] لَقٰدِرُوْنَ [ یقینا قدرت رکھنے والے ہیں ] نوٹ ۔ 2: آسمان سے پانی اتارنے سے مراد اگرچہ موسمی بارش بھی ہوسکتی ہے لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے ایک دوسرا مطلب بھی سمجھ میں آتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ آغاز آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اتنی مقدار میں پانی زمین پر نازل فرما دیا تھا جو قیامت تک اس کرہ ارض کی ضروریات کے لئے اس کے علم میں کافی تھا ۔ وہ پانی زمین کے نشیبی حصوں میں ٹھہر گیا جس سے سمندر وجود میں آئے اور زیر زمین پانی پیدا ہوا اب یہ اسی پانی کا الٹ پھیر ہے جو گرمی ، سردی اور ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا رہتا ہے ۔ اسی پانی کو بارشیں ، برف پوش پہاڑ ، دریا ، چشمے اور کنویں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلاتے رہتے ہیں ۔ شروع سے آج تک پانی کے اس ذخیرے میں ایک قطرے کی بھی کمی یا اضافہ کرنے ضرورت پیش نہیں آئی ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پانی کی حقیقت آج ہر مدرسہ کے طالب علم کو معلوم ہے کہ وہ ہائیڈروجن اور آکسیجن ، دو گیسوں کے امتزاج سے بنا ہے ۔ ایک دفعہ اتنا بن گیا کہ اس سے سمندر بھر گئے اور اب اس کے ذخیرے میں ایک قطرے کا بھی اضافہ نہیں ہوتا ، وہ کون ہے جس نے ایک وقت میں اتنی ہائیڈروجن اور آکسیجن ملا کر اتنا پانی بنادیا ۔ وہ کون ہے جو اب انہی دو گیسوں کو اس خاص تناسب سے نہیں ملنے دیتا ، جس سے پانی بنتا ہے ۔ حالانکہ دونوں گیسیں اب بھی دنیا میں موجود ہیں ۔ اور جب پانی بھاپ بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے تو اس وقت کون ہے جو ہائیڈروجن اور آکسیجن کو الگ الگ ہونے سے روکے رکھتا ہے ۔ کیا دہریوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے ۔ (تفہیم القرآن) اس وضاحت سے انا علی ذھاب بہ لقدرون کا مطلب بھی پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پانی سے گیسوں کو الگ الگ کردے توگیسیں باقی رہ جائیں گی اور پانی ختم ہوجائے گا۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کر دیے، تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو

فَاَنْشَاْنَا [ پھر ہم نے اگایا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] بِهٖ [ اس سے ] جَنّٰتٍ [ کچھ باغات ] مِّنْ نَّخِيْلٍ [ جیسے کھجوروں کے ] وَّاَعْنَابٍ ۘ [ اور انگوروں کے ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] فِيْهَا [ ان میں ] فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ [ کثرت سے میوے ہیں ] وَّمِنْهَا [ اور ان میں سے ] تَاْكُلُوْنَ [ تم لوگ کھاتے ہو ]
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، تیل بھی لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی

وَشَجَــرَةً [ اور (ہم نے اگایا) ایک ایسا درخت جو ] تَخْــرُجُ [ نکلتا ہے ] مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ [ سینا کے کوہ طور سے ] تَنْۢبُتُ [ وہ اگتا ہے ] بِالدُّهْنِ [ تیل کے ساتھ ] وَصِبْغٍ [ اور سالن کے ساتھ ] لِّلْاٰكِلِيْنَ [ کھانے والوں کے لئے ] ذھ ن : (ن) دھنا ۔ (1) سر میں تیل لگانا ۔ (2) کسی چیز کو تر کرنا ، نرم کرنا ۔ دھن ۔ کسی چیز کا تیل یا چربی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔ دھان ۔ تیل کی تلچھٹ ۔ فکانت وردۃ کالدھان [ تو وہ ہوجائے گا ۔ گلابی جیسے تیل کی تلچھٹ ] 55: 37 ۔ (افعال) ادھان ۔ نرم ہونا۔ ڈھیلا پڑنا ۔ آیت ۔ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ [ وہ لوگ چاہتے ہیں اگر آپ ڈھیلے پڑیں تو وہ لوگ ڈھیلے پڑیں گے ] 68:9 ۔ مدھن ۔ اسم الفاعل ہے۔ نرم ہونے والا ۔ ڈھیلا پڑنے والا ۔ آیت ۔ اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ [ تو کیا اس بات سے تم لوگ ڈھیلے پڑنے والے ہو ] 56:81 ۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ہم تمہیں پلاتے ہیں، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے دُوسرے فائدے بھی ہیں

وَاِنَّ لَكُمْ [ اور بیشک تمہارے لئے ] فِي الْاَنْعَامِ [ مویشیوں میں ] لَعِبْرَةً ۭ [ یقینا ایک عبرت ہے ] نُسْقِيْكُمْ [ ہم پینے کے لئے دیتے ہیں تم کو ] مِّمَّا [ اس میں سے جو ] فِيْ بُطُوْنِهَا [ ان کے پیٹوں میں ہے ] وَلَكُمْ [ اور تمہارے لئے ] فِيْهَا [ ان میں ] مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ[ بہت سے (دوسرے ) فائدے ہیں ] وَّمِنْهَا [ اور ان میں سے ] تَاْكُلُوْنَ [ تم لوگ کھاتے (بھی ) ہو ]
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اُن کو تم کھاتے ہو اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو

وَعَلَيْهَا [ اور ان پر ] وَعَلَي الْفُلْكِ [ اور کشتیوں پر ] تُحْمَلُوْنَ [ تم لوگ سوار کئے جاتے ہو ]
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟"

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] نُوْحًا [ نوح کو ] اِلٰى قَوْمِهٖ [ ان کی قوم کی طرف ] فَقَالَ [ تو انھوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] مَا لَكُمْ [ نہیں ہے تمہارے لئے ] مِّنْ اِلٰهٍ [ کوئی بھی الہ ] غَيْرُهٗ ۭ [ اس کے علاوہ ] اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [ تو کیا تم لوگ (اس کی ناراضگی سے ) نہیں بچوگے ]
Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا اِس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سنی ہی نہیں (کہ بشر رسول بن کر آئے)

فَقَالَ [ تو کہا ] الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ [ ان کے سرداروں نے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] مِنْ قَوْمِهٖ [ ان کی قوم میں سے ] مَا ھٰذَآ [ نہیں ہیں یہ ] اِلَّا [ مگر ] بَشَرٌ [ ایک بشر ] مِّثْلُكُمْ ۙ [ تم لوگ جیسے ] يُرِيْدُ [ وہ ارادہ رکھتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّتَفَضَّلَ [ وہ فضیلت حاصل کریں ] عَلَيْكُمْ ۭ [ تم لوگوں پر ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَاَنْزَلَ [ تو اس نے اتارے ہوتے ] مَلٰۗىِٕكَةً ښ [ کچھ فرشتے ] مَّا سَمِعْنَا [ ہم نے نہیں سنا ] بِھٰذَا [ اس کے بارے میں ] فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ [ اپنے پہلے آباؤاجداد (کے قصوں ) میں ] نوٹ ۔ 1: تورات اور قرآن دونوں میں رسولوں کی تاریخ کا آغاز حضرت نوح (علیہ السلام) ہی سے ہوتا ہے ۔ یہاں جس مقصد سے یہ سرگزشت بیان ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا اس دنیا کو پیدا کرکے اس سے بےتعلق ہو بیٹھا ہے، وہ خدا کو بالکل غلط سمجھے ہیں ۔ خدا نے ہمیشہ اس کی مادی پرورش کا بھی انتظام فرمایا ہے اور اس کی روحانی و اخلاقی اصلاح کے لئے اپنے رسول بھی بھیجے ہیں ۔ جن لوگوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی خدا نے اتمام حجت کے بعد ان کو ہلاک کردیا اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کو نجات و فلاح بخشی ۔ اس دنیا کے ساتھ خدا کا یہ معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے گا جب وہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔ (تدبرالقرآن)
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

کچھ نہیں، بس اس آدمی کو ذرا جنون لاحق ہو گیا ہے کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہو جائے)"

اِنْ [ نہیں ہے ] هُوَ [ وہ ] اِلَّا [ مگر ] رَجُلٌۢ [ ایک آدمی ] بِهٖ [ اس کے ساتھ ] جِنَّةٌ [ کوئی دیوانگی ہے ] فَتَرَبَّصُوْا [ تو تم لوگ انتظار کرو ] بِهٖ [ اس کے بارے میں ] حَتّٰى حِيْنٍ [ کچھ مدت تک ]
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوحؑ نے کہا "پروردگار، ان لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تو ہی میری مدد فرما"

قَالَ [ (نوح نے ) کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] انْــصُرْنِيْ [ تو نصرت کر میری ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَذَّبُوْنِ [ ان لوگوں نے جھٹلایا مجھ کو ]
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

ہم نے اس پر وحی کی کہ "ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہو جا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں

فَاَوْحَيْنَآ [ تو ہم نے وحی کی ] اِلَيْهِ [ ان کی طرف ] اَنِ [ کہ ] اصْنَعِ [ آپ تیار کریں ] الْفُلْكَ [ کشتی ] بِاَعْيُنِنَا [ ہماری آنکھوں (کے سامنے ) سے ] وَوَحْيِنَا [ اور ہماری وحی سے ] فَاِذَا [ پھر جب ] جَاۗءَ [ آجائے ] اَمْرُنَا [ ہمارا حکم ] وَفَارَ [ اور ابل پڑے ] التَّنُّوْرُ ۙ [ تنور ] فَاسْلُكْ [ تو آپ ڈال دیں ] فِيْهَا [ اس میں ] مِنْ كُلٍّ [ ہر چیز میں سے ] زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ [ دو جوڑوں کو ] وَاَهْلَكَ [ اور اپنے گھروالوں کو ] اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے ] سَبَقَ [ پہلے ہوچکا ] عَلَيْهِ [ جس کے خلاف ] الْقَوْلُ [ فیصلہ ] مِنْهُمْ ۚ [ ان میں سے ] وَلَا تُخَاطِبْنِيْ [ اور آپ خطاب نہ کریں مجھ سے ] فِي الَّذِيْنَ [ ان کے بارے میں جنھوں نے ] ظَلَمُوْا ۚ [ ظلم کیا ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] مُّغْرَقُوْنَ (27) [ غرق کئے جانے والے ہیں ] نوٹ ۔ 1: لفظ تنور کے متعدد معانی مراد لئے گئے ہیں لیکن کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ قرآن کے الفاظ کو بغیر کسی قرینے کے مجازی معنوں میں لیا جائے جبکہ ظاہری مفہوم لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے یہ الفاظ پڑھ کر ابتداء جو مفہوم ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ کوئی خاص تنور پہلے سے نامزد کردیا گیا تھا کہ طوفان کا آغاز اس کے نیچے سے پانی ابلنے پر ہوگا ۔ دوسرے معنی سوچنے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جبکہ آدمی یہ ماننے کے لئے تیار نہ ہو کہ اتنا بڑا طوفان ایک تنور کے نیچے سے پانی ابل پڑنے پر شروع ہواہوگا ۔ مگر خدا کے معاملات عجیب ہیں ۔ وہ جب کسی قوم کی شامت لاتا ہے تو ایسے رخ سے لاتا ہے جدھر اس کا وہم و گمان بھی نہیں جاسکتا ۔ (تفہیم القرآن ) ۔
Ayah 23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہو جائے تو کہہ، شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی

فَاِذَا [ پھر جب ] اسْتَوَيْتَ [ آپ متمکن ہوجائیں ] اَنْتَ [ آپ ] وَمَنْ [ اور وہ جو ] مَّعَكَ [ آپ کے ساتھ ہیں ] عَلَي الْفُلْكِ [ کشتی پر ] فَقُلِ [ تو آپ کہیں ] الْـحَمْدُ [ تمام شکروسپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] نَجّٰىنَا [ نجات دی ہم کو ] مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم قوم سے ]
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تُو بہترین جگہ دینے والا ہے"

وَقُلْ [ اور آپ کہیں ] رَّبِّ [ اے میرے رب ] اَنْزِلْنِيْ [ تو اتار مجھ کو ] مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا [ ایک برکت دی ہوئی اتارنے کی جگہ میں ] وَّاَنْتَ [ اور تو ] خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ [ اتارنے والوں کا بہترین ہے ]
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں

اِنَّ [ بیشک ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا کچھ نشانیاں ہیں ] وَّاِنْ [ اور بیشک ] كُنَّا [ ہم ] لَمُبْتَلِيْنَ [ یقینا آزمانے والے ہیں ]
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دَور کی قوم اٹھائی

[ ثُمَّ : پھر ] [ اَنْشَاْنَا : ہم نے پیدا کیے ] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [ قَرْنًا : لوگ ] [ اٰخَرِيْنَ : دوسرے سب ]
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

[ فَاَرْسَلْنَا : پھر ہم نے بھیجا ] [ فِيْهِمْ : ان میں ] [ رَسُوْلًا : ایک رسول ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ اَنِ : یہ کہ ] [ اعْبُدُوا : تم سب عبادت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مَا : نہیں ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود ] [ غَيْرُهٗ : اس کے سوا ] [ اَفَلَا : تو کیا نہیں ] [ تَتَّقُوْنَ : تم سب ڈرتے ]
Ayah 23:33

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگے "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے

[ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ مِّنْ قَوْمِهِ : اس کی قوم میں سے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ كَفَرُوْا : سب نے کفر کیا ] [ وَ : اور ] [ كَذَّبُوْا : ان سب نے جھٹلایا ] [ بِلِقَاۗءِ : ملاقات کو ] [ الْاٰخِرَةِ : آخرت ] [ وَاَتْرَفْنٰهُمْ : اور ہم نے خوشحال رکھا تھا انہیں ] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی میں ] [ مَا : نہیں ] [ ھٰذَآ اِلَّا : یہ مگر ] [ بَشَرٌ : ایک انسان ] [ مِّثْلُكُمْ : تمہاری مثل ] [ يَاْكُلُ : وہ کھاتا ہے ] [ مِمَّا : اس سے جو ] [ تَاْكُلُوْنَ : تم سب کھاتے ہو ] [ مِنْهُ : اس سے ] [ وَيَشْرَبُ : اور وہ پیتا ہے ] [ مِمَّا : اس سے جو ] [ تَشْرَبُوْنَ : تم سب پیتے ہو ]
Ayah 23:34

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے

[ وَلَىِٕنْ : اور البتہ اگر ] [ اَطَعْتُمْ : تم نے کہا مانا ] [ بَشَرًا : ایک انسان ] [ مِّثْلَكُمْ : اپنے جیسا ] [ اِنَّكُمْ : بیشک تم ] [ اِذًا : تب ] [ لَّخٰسِرُوْنَ : یقینا وہ سب خسارہ پانے والے ]
Ayah 23:35

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اُس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟

[ اَيَعِدُكُمْ : کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمہیں ] [ اَنَّكُمْ : کہ بیشک تم ] [ اِذَا : جب ] [ مِتُّمْ : تم مرگئے ] [ وَكُنْتُمْ : حالانکہ تم تھے ] [ تُرَابًا : مٹی ] [ وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ] [ اَنَّكُمْ : کہ بیشک تم ] [ مُّخْــرَجُوْنَ : سب نکالے جانے والے ]
Ayah 23:36

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے

[ هَيْهَاتَ : دور ہے ] [ هَيْهَاتَ : دور ہے ] [ لِمَا : جس کا ] [ تُوْعَدُوْنَ : تم سب وعدہ دیئے جاتے ہو ]
Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

[ اِنْ : اگر ] [ هِىَ : وہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ حَيَاتُنَا : ہماری زندگی ] [ الدُّنْيَا : دنیوی ] [ نَمُوْتُ : ہم مرتے ہیں ] [ وَنَحْيَا : اور ہم جیتے ہیں ] [ وَمَا : اور نہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [ بِمَبْعُوْثِيْنَ : سب " دوبارہ " اٹھائے جانے والے ]
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑ رہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں"

[ اِنْ : اگر ] [ هُوَ : وہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ رَجُلُۨ : ایک آدمی ] [ افْتَرٰى : باندھے ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ تعالیٰ پر ] [ كَذِبًا : جھوٹ ] [ وَمَا : اور نہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [ لَهٗ : اس کی ] [ بِمُؤْمِنِيْنَ : سب ایمان لانے والے ]
Ayah 23:39

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

رسول نے کہا "پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما"

[ قَالَ : فرمایا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ انْصُرْنِيْ : میری مدد فرما ] [ بِمَا : اس وجہ سے جو ] [ كَذَّبُوْنِ : ان سب نے مجھے جھٹلایا ہے ]
Ayah 23:40

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

جواب میں ارشاد ہوا "قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے"

[ قَالَ : فرمایا ] [ عَمَّا : اس سے جو ] [ قَلِيْلٍ : بہت تھوڑی ] [ لَّيُصْبِحُنَّ : ضرور بالضرور وہ ہوجائیں گے ] [ نٰدِمِيْنَ : سب پچھتانے والے ]