21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

مذاق تم سے پہلے بھی رسُولوں کا اڑایا جا چکا ہے، مگر اُن کا مذاق اڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آ کر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

[ وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ : اور بیشک مذاق کیا جا چکا ہے ] [ بِرُسُلٍ : رسولوں کے ساتھ ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فَحَـاقَ : تو چھا گیا ] [ بِالَّذِينَ : ان پر جنھوں نے ] [ سَخِــرُوْا : تمسخر کیا ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ مَا : (وہ) جو ] [ كَانوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : وہ لوگ مذاق کیا کرتے تھے ]
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

اے محمدؐ، اِن سے کہو، "کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمان سے بچا سکتا ہو؟" مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں

[ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ مَنْ : کون ] [ يَّـكْلَـؤُ : بچاتا ہے ] [ كُمْ : تم لوگوں کو ] [ بِالَّيْلِ : رات میں ] [ وَالنَّهَارِ : اور دن میں ] [ مِنَ الرَّحْمٰنِ : رحمن (کے عذاب) سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ عَنْ ذِكْرِ رَبِهِمْ : اپنے رب کے ذکر سے ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ] [ ک ل ء ](ف) کَلْأً بچانا۔ حفاظت کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 42]
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں؟ وہ نہ تو خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے

[ اَمْ : یا ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ اٰلِـهَةٌ: کچھ ایسے الٰہ ہیں جو ] [ تمــنَعُهُمْ : بچاتے ہیں ان کو ] [ مِّنْ دُوْنِنَا : ہمارے علاوہ ] [ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : وہ (یعنی دوسرے الٰہ) استطاعت نہیں رکھتے ] [ نَـصْرَ انـفُسِهِمْ : اپنے آپ کی مدد کرنے کی ] [ وَلَا هُمْ : اور نہ ان کی ] [ مِّنَا : ہماری طرف سے ] [ يُصْحَبُوْنَ : حمایت کی جائے گی ]
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اور اِن کے آباء و اجداد کو ہم زندگی کا سر و سامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ اِن کو دن لگ گئے مگر کیا اِنہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں؟ پھر کیا یہ غالب آ جائیں گے؟

[ بَلْ : بلکہ ] [ مَتَّعْنَا : ہم نے فائدہ اٹھانے کو سامان دیا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : ان لوگوں کو ] [ وَاٰبَاۗءَهُمْ : اور ان کے آباء اجداد کو ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ طَالَ : طویل ہوئی ] [ عَلَيْهِمُ : ان لوگوں پر ] [ الْعُمُرُ : عمر ] [ اَفَلَا يَرَوْنَ : تو کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے ] [ انا : کہ ] [ نَاتِي : ہم آتے ہیں ] [ الْاَرْضَ : زمین کی طرف ] [ نَنْقُصُهَا : گھٹاتے ہوئے اس کو ] [ مِنْ اَطْرَافِهَا : اس کے کناروں سے ] [ اَفَـهُمُ : تو کیا یہ لوگ ] [ الْغٰلِبُوْنَ : غالب آنے والے ہیں ]
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

اِن سے کہہ دو کہ "میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں" مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ اُنہیں خبردار کیا جائے

[ قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [ انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ انذِرُكُمْ : میں خبردار کرتا ہوں تم لوگوں کو ] [ بِالْوَحْيِ : وحی کے ذریعہ سے ] [ وَلَا يَسْمَعُ : اور نہیں سنتے ] [ الصُّمُّ : بہرے لوگ ] [ الدُّعَاۗءَ : اس دعوت کو ] [ اِذَا مَا " جب کبھی بھی ] [ يُنْذَرُوْنَ : انھیں خبردار کیا جاتا ہے۔] نوٹ۔ 1: آیت۔ 44 کا یہ جملہ کہ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا عربی محاورہ ہے۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص پر زمین تنگ ہوگئی۔ فلاں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اس عربی محاورہ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ یہ قریش کے لئے وارننگ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گرد اپنا گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے پھر بھی یہ ہوش میں نہیں آتے اور سمجھ رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں پر غالب آجائیں گے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ آج کے دور میں یہ آج کی طاغوتی طاقتوں کے لئے وارننگ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دن بدن ان کے گرد اللہ کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے پھر بھی آج کے ابولہب اور ابوجہل اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اسلام کو مغلوب کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر تیرے رب کا عذاب ذرا سا انہیں چھو جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے

[ وَلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [ مَّسَّتْهُمْ : چھو جائے ان کو ] [ نَفْحَةٌ: کوئی ہلکا سا جھونکا ] [ مِّنْ عَذَابِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے عذاب میں سے ] [ لَيَقُوْلُنَّ : تو وہ لازماً کہیں گے ] [ يٰوَيْلَنَآ : ہائے ہماری بدبختی ] [ انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ] [ نح ](ف) نَفْحًا ہوا کا چلنا۔ خوشبو مہکنا۔ [ نَفْحَۃٌ ہوا کا ہلکا جھونکا۔ مہک۔ زیر مطالعہ آیت۔ 46] ترکیب : (آیت۔ 47) اَلْمَوَازِیْنَ جمع ہے اور اس کی صفت اَلْقِسْطَ واحد آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اَلْقِسْطَ مصدر ہے اور مصدر کی جمع نہیں آتی۔ اِنْ کَانَ میں کَانَ کا اسم ھُوَ کی ضمیر ہے جو عَمَلٌ کے لئے ہے، اور یہاں ایک ایک عمل کی بات ہے، جیسا کہ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ سے ظاہر ہے، اس لئے واحد مذکر کا صیغہ کَانَ آیا ہے۔ اَتَیْنَا بِھَا میں واحد مؤنث کی ضمیر عَمَلٌ کی جمع مکسر اَعْمَالٌ کے لئے آئی ہے۔ اس طرح تمام اعمال کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا جس کا رائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں

[ وَنَضَعُ : اور ہم رکھیں گے ] [ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ : انصاف والی ترازوئیں ] [ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیات کے دن ] [ فَلَا تُظْلَمُ : تو ظلم نہیں کیا جائے گا ] [ نَفْسٌ: کسی جان پر ] [ شَـيْــــــًٔا : کچھ بھی ] [ وَان : اور اگر ] [ كَان : وہ (عمل) ہوگا ] [ مِثْقَالَ حَبَّةٍ : ایک دانے کے ہم وزن ] [ مِّنْ خَرْدَلٍ : رائی میں سے ] [ اَتَيْنَا بِهَا : ہم لے آئیں گے ان سب (اعمال) کو ] [ وَكَفٰى: اور کافی ہیں ] [ بِنَا : ہم ] [ حٰسِـبِيْنَ : بطور حساب کرنے والے کے ]
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور "ذکر" عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھَلائی کے لیے

[ وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور بیشک ہم نے دی تھی ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) ] [ وَهٰرُوْنَ : اور ہارون (علیہ السلام) کو ] [ الْـفُرْقَان : فرقان ] [ وَضِيَاۗءً : اور روشنی ] [ وَّذِكْرًا : اور ایک نصیحت ] [ لِـلْمُتَّـقِيْنَ : تقوٰی اختیار کرنے والوں کے لئے ]
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو (حساب کی) اُس گھڑی کا کھٹکا لگا ہُوا ہے

[ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ يَخْشَوْنَ : ڈرتے ہیں ] [ رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [ بِالْغَيْبِ : غیب میں (یعنی بن دیکھے)] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مِّنَ السَّاعَةِ : اس گھڑی (یعنی قیامت) سے ] [ مُشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے ہیں ]
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور اب یہ بابرکت "ذکر" ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟

[ وَھٰذَا : اور یہ (قرآن)] [ ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ: ایک ایسی برکت دی ہوئی نصیحت ہے ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا جس کو ] [ اَفَانتم : تو کیا تم لوگ[ [ لَهٗ : اس کو ] [ مُنْكِرُوْنَ : (پہچاننے سے) انکار کرنے والے ہو ] نوٹ۔ 1: حضرت صدیقہ عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا قیامت کے روز بھی آپ اپنے اہل و اولاد کو یاد رکھیں گے۔ تو فرمایا کہ قیامت میں تین مقام ایسے ہوں گے کہ ان میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ ایک وہ وقت جب میزانِ عدل کے سامنے وزن اعمال کے لئے لوگ حاضر ہوں گے، جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ اس کا نیکیوں کا پلّہ بھاری ہوا یا ہلکا رہا۔ دوسرا مقام وہ ہے جب نامہائے اعمال اُڑائے جائیں گے، جب تک یہ متعین نہ ہوجائے کہ مامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں، یا بائیں ہاتھ میں یا پشت کی طرف سے آیا۔ تیسرا مقام پلصراط سے گزرنے کا وقت ہے جب تک پار نہ ہوجائیں۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: آیت۔ 48 میں اَلْفُرْقَانَ ۔ ضِیَائً ۔ ذَکْرًا۔ یہ تینوں الفاظ تورات کی صفت کے طور پر آئے ہیں۔ یعنی وہ حق و باطل کا فرق دکھانے والی کسوٹی تھی، اس میں انسان کو سیدھا راستہ دکھانے والی روشنی تھی اور اولاد آدم کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے والی نصیحت تھی۔ (تفہیم القرآن) ۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے

[ وَلَقَدْ اٰتَيْنَآ : اور بیشک ہم نے دی تھی ] [ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو ] [ رُشْدَهٗ : ان کی معاملہ فہمی ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَكُنَا : اور ہم تھے ] [ بِهٖ : اس کا ] [ عٰلِمِيْنَ : علم رکھنے والے ]
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

یاد کرو وہ موقع جبکہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟"

[ اِذْ : جب ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لِاَبِيْهِ : اپنے والد سے ] [ وَقَوْمِهٖ : اور اپنی قوم سے ] [ مَا هٰذِهِ التماثِيْلُ : یہ مجسمے کیا ہیں ] [ الَّتِيْٓ: وہ ] [ انتم : تم لوگ ] [ لَهَا : جن کے لئے ] [ عٰكِفُوْنَ : اعتکاف کرنے والے ہو ]
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے"

[ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ وَجَدْنَآ : ہم نے پایا ] [ اٰبَاۗءَنَا : اپنے آباء اجداد کو ] [ لَهَا : ان کے لئے ] [ عٰبِدِيْنَ : عبادت کرنے والے ]
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

اس نے کہا "تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے؟"

[ قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ لَقَدْ كُنْتم : یقینا تم لوگ ] [ انتم : تم بھی ] [ وَاٰبَاۗؤُكُمْ : اور تمہارے آبائو اجداد بھی ] [ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ہیں ]
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا "کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟"

[ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَ : کیا ] [ جِئْـتَنَا : آپ (علیہ السلام) آئے ہمارے پاس ] [ بِالْحَــقِّ : حق کے ساتھ ] [ اَمْ : یا ] [ انتَ : آپ (علیہ السلام) ] [ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ : کھیل کرنے والوں میں سے ہیں ]
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

اُس نے جواب دیا "نہیں، بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے اِس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں

[ قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ بَلْ : بلکہ ] [ رَّبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [ الَّذِي : وہ جس نے ] [ فَطَرَهُنَّ : وجود بخشا ان سب کو ] [ وَانا : اور میں ] [ عَلٰي ذٰلِكُمْ : اس پر ] [ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ : گواہی دینے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبر لوں گا"

[ وَتَاللّٰهِ : اور اللہ کی قسم ] [ لَاَكِيْدَنَّ : میں لازماً دائو کروں گا ] [ اَصْنَامَكُمْ : تمہارے بتوں سے ] [ بَعْدَ ان : اس کے بعد کہ (جب)] [ تُوَلُّوْا : تم لوگ منھ موڑو گے ] [ مُدْبِرِيْنَ : پیٹھ پھیرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چنانچہ اس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں

[ فَجَعَلَهُمْ : پھر انھوں (علیہ السلام) نے کردیا ان کو ] [ جُذٰذًا : ٹکڑے ٹکڑے ] [ اِلَّا : سوائے ] [ كَبِيْرًا : بڑے کے ] [ لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [ لَعَلَهُمْ : کہ شاید وہ لوگ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [ يَرْجِعُوْنَ : رجوع کریں (یعنی اس سے پوچھیں) نوٹ۔ 1: آیت۔ 51 ۔ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو معاملہ فہمی حاصل تھی وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ یہ عطا اللہ تعالیٰ کے علم کی بنیاد پر تھی۔ اس کی عطا اور بخشش ایسے نہیں ہے کہ جس کو جو چاہا دے دیا بلکہ وہ کسی کی استعداد اور ظرف کے متعلق اپنے علم کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

(اُنہوں نے آ کر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے "ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ"

[ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ مَنْ : جس نے ] [ فَعَلَ : کیا ] [ ھٰذَا : یہ ] [ بِاٰلِـهَتِنَآ : ہمارے الہٰوں کے ساتھ ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ لَمِنَ الظّٰلِمِيْنَ : یقینا ظالموں میں سے ہے ]
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

(بعض لوگ) بولے "ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیمؑ ہے"

[ قَالُوْا : کچھ لوگوں نے کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ فَـتًى: ایک ایسے نوجوان کو جو ] [ يَّذْكُرُ : ذکر کرتا ہے (یعنی باتیں بناتا ہے)] [ هُمْ : ان (خدائوں) کی ] [ يُقَالُ : کہا جاتا ہے ] [ لَهٗٓ: اس کو ] [ اِبْرٰهِيْمُ : ابراہیم ]
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا "تو پکڑ لاؤ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)"

[ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ فَاْتُوْا بِهٖ : پھر تم لوگ لائو اس کو ] [ عَلٰٓي اَعْيُنِ النَاسِ : لوگوں کی آنکھوں پر (یعنی سامنے)] [ لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَشْهَدُوْنَ : گواہی دیں ]
Ayah 21:62

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(ابراہیمؑ کے آنے پر) اُنہوں نے پوچھا "کیوں ابراہیمؑ، تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟"

[ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ ءَانتَ : کیا تو نے ہی ] [ فَعَلْتَ : کیا ] [ ھٰذَا : یہ ] [ بِاٰلِهَتِنَا : ہمارے الہٰوں کے ساتھ ] [ يٰٓـاِبْرٰهِيْمُ : اے ابراہیم ]
Ayah 21:63

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

اُس نے جواب دیا "بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے، اِن ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں"

[ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ بَلْ : بلکہ ] [ فَعَلَه : کیا یہ ] [ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا : ان کے اس بڑے نے ] [ فَسْـَٔــلُوْهُمْ : تو تم لوگ پوچھو ان (خدائوں) سے ] [ ان : اگر ] [ كَانوْا : یہ سب ] [ يَنْطِقُوْنَ : بولتے ہیں ] [ ن ط ق ](ض) مَنْطِقًا واضح کر کے بیان کرنا۔ بولنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63 ۔ [ مَنْطِقٌ اسم ذات بھی ہے۔ کلام۔ بولی۔ یٰـاَ یُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ (اے لوگو ہمیں علم دیا گیا پرندوں کی بولی کا) 27:16] [ (افعال) اِنْطَاقًا بولنے کی صلاحیت دینا۔ قوت گویائی دینا۔ اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ (ہمیں گویائی دی اس اللہ نے جس نے گویائی دی ہر چیز کو) 41:21]
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

یہ سُن کر وہ لوگ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دلوں میں) کہنے لگے "واقعی تم خود ہی ظالم ہو"

[ فَرَجَعُوْٓا : تو وہ لوگ لوٹے ] [ اِلٰٓى انفُسِهِمْ : اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچ میں پڑگئے)] [ فَقَالُوْٓا : پھر ان لوگوں نے کہا ] [ انكُمْ : کہ ] [ انتم : تم لوگ ہی ] [ الظّٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے ہو ]
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

مگر پھر اُن کی مت پلٹ گئی اور بولے "تُو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں"

[ ثُمَّ : پھر ] [ نُكِسُوْا : اوندھے ڈالے گئے ] [ عَلٰي رُءُوْسِهِمْ : اپنے سروں پر (پھر کہنے لگے)] [ لَقَدْ عَلِمْتَ : یقینا آپ (علیہ السلام) جان چکے ہیں ] [ مَا هٰٓؤُلَاۗءِ يَنْطِقُوْنَ : یہ لوگ نہیں بولتے ] [ ن ک س ](ن) نَکْسًا الٹا پھیرنا۔ اوندھا کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 65 ۔] [ نَاکِسً اسم الفاعل ہے۔ اوندھا کرنے والا۔ اِذِالْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُئُ وْسِھِمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ (جب مجرم لوگ اپنے سروں کو اوندھا کرنے والے ہیں اپنے رب کے پاس) 32:12] [ (تفعیل) تَنْکِیْسًا بتدریج الٹا پھیرنا۔ وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ (اور وہ ہم عمر دیتے ہیں جس کو (پھر) ہم الٹا پھیرتے ہیں جس کو پیدائش میں) 36:68]
Ayah 21:66

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا "پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان

قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ اَفَتَعْبُدُوْنَ : تو کیا تم لوگ بندگی کرتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ مَا : اس چیز کی جو ] [ لَا يَنْفَعُكُمْ : نفع نہیں دیتی تم کو ] [ شَـيْــــًٔا : کچھ بھی ] [ وَّلَا يَضُرُّكُمْ : اور نہ نقصان دیتی ہے تم کو ]
Ayah 21:67

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبُودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟"

[ اُفٍّ : تُف ہے ] [ لَكُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَلِمَا : اور ان چیزوں پر جن کی ] [ تَعْبُدُوْنَ : تم بندگی کرتے ہو ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ اَفَلَا تَعقلوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لو گے ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 63 ۔ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے یہ کہا کہ یہ کام ان بتوں کے اس بڑے نے کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یقین نہیں آتا تو ان سے پوچھ لو۔ یہ دوسرا فقرہ خود ظاہر کر رہا ہے کہ پہلے فقرہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بت شکنی کے فعل کو بڑے بت کی طرف جو منسوب کیا ہے، اس سے ان کا مقصد جھوٹ بولنا نہ تھا، بلکہ وہ اپنے مخالفین پر حجت قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ بات انھوں نے اس لئے کہی تھی کہ وہ لوگ جواب میں خود اس کا اقرار کریں کہ ان کے یہ معبود بالکل بےبس ہیں اور ان سے کسی فعل کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ایسے مواقع پر ایک شخص استدلال کی خاطر جو خلاف واقعہ بات کہتا ہے اس کو جھوٹ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ نہ تو وہ خود جھوٹ کی نیت سے ایسی بات کہتا ہے اور نہ ہی اس کے مخاطب اسے جھوٹ سمجھتے ہیں۔ کہنے والا اسے حجت قائم کرنے کے لئے کہتا ہے اور سننے والا بھی اسے اسی معنی میں لیتا ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ آگے آیت۔ 64 ۔ 65 ۔ بتارہی ہیں کہ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم سے یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو بلکہ ان کی بات کو ان کی حجت ہی سمجھا اور سوچ میں پڑگئے۔ نوٹ۔ 2: نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سنتے ہی پہلے تو انھوں نے اپنے دلوں میں سوچا کہ واقعی ظالم تو تم خود ہو، کیسے بےبس معبودوں کو خدا بنائے بیٹھے ہو جو اپنی زبان سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان پر کیا بیتی۔ آخر یہ ہماری کیا مدد کریں گے جو خود اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے۔ لیکن پھر ان پر ضد اور جہالت سوار ہوگئی جس نے ان کی عقل کو اوندھا کردیا۔ دماغ سیدھا سوچتے سوچتے پھر الٹا سوچنے لگا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 21:68

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا "جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے"

[ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ حَرِّقُـوْهُ : تم لوگ جلا کر بھسم کر دو اس کو ] [ وَانصُرُوْٓا : اور تم لوگ مدد کرو ] [ اٰلِهَتَكُمْ : اپنے الہٰوں کی ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ فٰعِلِيْنَ : (کچھ) کرنے والے ]
Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے کہا "اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر"

[ قُلْنَا : ہم نے کہا ] [ يٰنَارُ : اے آگ ] [ كُـوْنِيْ : تو ہوجا ] [ بَرْدًا : ٹھنڈک ] [ وَّسَلٰمًا : اور سلامتی ] عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم پر ] [ ب ر د ](ن) بَرْدًا ٹھنڈا کرنا۔] [ بَرْدٌ اسم ذات بھی ہے۔ ٹھنڈک۔ سردی زیر مطالعہ آیت۔ 69 ۔] [ بَرَدٌ ٹھنڈی چیز۔ اولے۔ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ جِبَالٍ فِیْھَا مِنْ بَرَدٍ (اور وہ اتارتا ہے آسمان سے پہاڑوں میں سے جس میں کچھ اولے ہیں) 24:43] [ بَارِدٌ فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ٹھنڈا کرنے والا یعنی ٹھنڈا۔ ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ (یہ نہانے کی جگہ ہے ٹھنڈا کرنے والی اور پینے کو) 38:42]
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

وہ چاہتے تھے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ بُرائی کریں مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کر دیا

[ وَاَرَادُوْا : اور انھوں نے ارادہ کیا ] [ بِهٖ : ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] [ كَيْدًا : چالبازی کا ] [ فَجَعَلْنٰهُمُ : تو ہم نے بنادیا ان لوگوں کو ] [ الْاَخْسَرِيْنَ : انتہائی خسارہ پانے والے ]
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے اُسے اور لوطؑ کو بچا کر اُس سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں

[ وَنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] [ وَلُوْطًا : اور لوط (علیہ السلام) کو ] [ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ : اس زمین کی طرف ] [ بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ لِلْعٰلَمِيْنَ : جہانوں کے لئے ]
Ayah 21:72

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاقؑ عطا کیا اور یعقوبؑ اس پر مزید، اور ہر ایک کو صالح بنایا

[ وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا ] [ لَهٗٓ: ان (علیہ السلام) کو ] [ اِسْحٰقَ : اسحاق ] [ وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) (بھی)] [ نَافِلَةً : اضافی ہوتے ہوئے ] [ وَكُلًّا : اور سب کو ] [ جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [ صٰلِحِيْنَ : نیک ]
Ayah 21:73

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے اُن کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے

[ وَجَعَلْنٰهُمْ : اور ہم نے بنایا ان سب کو ] [ اَىِٕمَّةً : ایسے امام جو ] [ يَّهْدُوْنَ : ہدایت دیتے تھے ] [ بِاَمْرِنَا : ہمارے حکم سے ] [ وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کی ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ : بھلائیوں کے عمل کرنے کی ] [ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ : اور نماز کے قائم کرنے کی ] [ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوةِ : اور زکٰوۃ کے پہنچانے کی ] [ وَكَانوْا : اور وہ سب تھے ] [ لَنَا : ہماری ہی ] [ عٰبِدِيْنَ : بندگی کرنے والے ]
Ayah 21:74

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اُسے اُس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی درحقیقت وہ بڑی ہی بُری، فاسق قوم تھی

[ وَلُوْطًا : اور لوط (علیہ السلام) کو ] [ اٰتَيْنٰهُ : ہم نے دی ان کو ] [ حُكْمًا : حکمت ] [ وَّعِلْمًا : اور علم ] [ وَّنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] [ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ : اس بستی سے جو ] [ كَانتْ تَّعْمَلُ : عمل کرتی تھی ] [ الْخَـبٰۗىِٕثَ ": خباثتوں کے ] [ انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [ كَانوْا : تھے ] [ قَوْمَ سَوْءٍ : برائی کی قوم ] [ فٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والے ]
Ayah 21:75

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور لوطؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، وہ صالح لوگوں میں سے تھا

[ وَاَدْخَلْنٰهُ : اور ہم نے داخل کیا ان (علیہ السلام) ] [ فِيْ رَحْمَتِنَا : اپنی رحمت میں ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ : نیک لوگوں میں سے تھے ] نوٹ۔ 1: عقل پرستوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آگ ٹھنڈک اور سلامتی کیسے ہوسکتی ہے۔ جبکہ خدا پرستوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب اللہ نے آگ کو حکم دیا تھا تو وہ ٹھنڈک اور سلامتی کیسے نہ ہوتی۔ ہمارا ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے اور اس کائنات میں اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے، کسی بھی چیز کا وجود اس کا ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور دائمی نہیں بلکہ اِلٰی اَجَلٍ مُسَمًّی ہے یعنی فانی ہے۔ اسی طرح سے ہر چیز کی خصوصیت اللہ کی عطا کردہ ہے اور اس کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے کسی چیز کی خاصیت معطل کرسکتا ہے یا سلب کرسکتا ہے۔ دو مریض ہیں۔ دونوں کی تشخیص یکساں ہے اور دونوں کو یکساں دوا دی جا رہی ہے۔ ایک صحت یاب ہوجاتا ہے۔ دوسرے کا انتقال ہوجاتا ہے۔ کیوں ؟ جواب میں عقل پرست ہوسکتا یہ ہوا ہو، ہوسکتا ہے وہ ہوا ہو، کرتے ہیں لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی معقول اور ٹھوس جواب نہیں ہے۔ سوائے رَجْمًا بِالْغَیْبِ کے۔ جبکہ ہمارے پاس اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ مرنے والے مریض کے لئے دوا کی تاثیر کو اللہ نے سلب کرلیا تھا۔ یہ ایمان اور عقیدہ رکھنے والوں کو قرآن میں مذکور معجزوں کو سمجھنے میں اور ماننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ عقل پرستوں کے ایمان کا یہ حصّہ (Part) ، Out of order ہوگیا ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ کسی ایکسپرٹ سے اس کی Repair کرا لیں۔
Ayah 21:76

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا تھا ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی

[ وَنُوْحًا : (اور یاد کرو) نوح (علیہ السلام) کو ] [ اِذْ : جب ] [ نَادٰي : انھوں (علیہ السلام) نے پکارا (ہم کو)] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ فَاسْتَجبنَا : تو ہم نے جواب دیا (یعنی قبول کیا)] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [ فَنَجَّيْنٰهُ : پھر ہم نے نجات دی ان کو ] [ وَاَهْلَهٗ : اور ان کے گھر والوں کو ] [ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : اس عظیم دکھ سے ]
Ayah 21:77

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور اُس قوم کے مقابلے میں اُس کی مدد کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تھا وہ بڑے بُرے لوگ تھے، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا

[ وَنَــصَرْنٰهُ : اور ہم نے نصرت دی ان (علیہ السلام) کو ] [ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ : اس قوم پر جس نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [ كَانوْا : تھے ] [ قَوْمَ سَوْءٍ : بُرائی کی قوم ] [ فَاَغْرَقْنٰهُمْ : تو ہم نے غرق کیا ان کو ] [ اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ]
Ayah 21:78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور اِسی نعمت سے ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو سرفراز کیا یاد کرو وہ موقع جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دُوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں، اور ہم اُن کی عدالت خود دیکھ رہے تھے

[ وَدَاوٗدَ : اور (یاد کرو) دائود (علیہ السلام) کو ] [ وَسُلَيْمٰنَ : اور سلیمان (علیہ السلام) کو ] [ اِذْ : جب ] [ يَحْكُمٰنِ : وہ دونوں فیصلہ کرتے تھے ] [ فِي الْحَرْثِ : اس کھیتی (کے بارے) میں ] [ اِذْ : جب ] [ نَفَشَتْ : رات کو چر گئیں ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ غَنَمُ الْقَوْمِ : قوم کی بکریاں ] [ وَكُنَا : اور ہم تھے ] [ لِحُـكْمِهِمْ : ان کے فیصلے کے ] [ شٰهِدِيْنَ : موقعہ پر موجود رہنے والے ] نش [ نَفْشًا : (ن) (1) روئی یا اون دھننا۔ کسی چیز کو روندنا۔ (2) مویشی کا رات کو چرواہے کے بغیر چرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78] [ مَنْفُوْشٌ اسم المفعول ہے۔ دھنا ہوا۔ روندا ہوا۔ وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ (اور ہوجائیں گے پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند) 101:5]
Ayah 21:79

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا، حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا داؤدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخّر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے

[ فَفَهَّمْنٰهَا : پھر ہم نے سمجھا دیا وہ ] [ سُلَيْمٰنَ : سلیمان (علیہ السلام) کو ] [ وَكُلًّا : اور سب کو ] [ اٰتَيْنَا : ہم نے دی ] [ حُكْمًا : حکمت ] [ وَّعِلْمًا : اور علم ] [ وَّسَخَّرْنَا : اور ہم نے تابع کیا ] [ مَعَ دَاوٗدَ : دائود (علیہ السلام) کے ساتھ ] [ الْجبالَ : پہاڑوں کو ] [ يُسَبِحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے ] [ وَالطَّيْرَ : اور پرندوں کو (بھی)] [ وَكُنَا : اور ہم ہیں ] [ فٰعِلِيْنَ : کر گزرنے والے ] ھـ م [ فَھَمًا : (س) کسی کام یا بات کی حقیقت کو سمجھنا۔] [ تَفْھِیْمًا : (تفعیل) سمجھانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 79]
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے اُس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی، تاکہ تم کو ایک دُوسرے کی مار سے بچائے، پھر کیا تم شکر گزار ہو؟

[ وَعَلَّمْنٰهُ : اور ہم نے سکھائی ان (علیہ السلام) کو ] [ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ : زرہ (بنانے) کی صنعت ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ لِتُحْصِنَكُمْ : تاکہ وہ تمہیں بچائے ] [ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ : تمہاری جنگ میں ] [ فَهَلْ : تو کیا ] [ انتم : تم لوگ ] [ شٰكِرُوْنَ : شکر کرنے والے ہو ]