20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة طٰہٰ کا تعارف ربط سورة : سورة مریم کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر قرآن مجید کو آسان کردیا گیا ہے جس کا مرکزی پیغام ” اللہ “ کی توحید ہے، سورة طٰہٰ کا آغاز اس بات سے کیا ہے کہ آپ قرآن کو مشکل نہ سمجھیں اور اپنے رب کی توحید بیان کرتے جائیں۔ یہ سورة اپنے نام یعنی طٰہٰ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے، 8 رکوع اور 135 آیات پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سورة طٰہٰ مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب عمر بن خطاب مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن عمر بن خطاب یہ عزم لے کر گھر سے نکلے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تمام کردیا جائے۔ راستہ میں ان کی برادری کا ایک آدمی ملا اور اس نے عمر کے تیور دیکھ کر پوچھا کہ کدھر کا ارادہ ہے ؟ عمر بن خطاب کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ بزرگ نے فرمایا انہیں قتل کرنے کے لیے چڑھ دوڑے ہو پہلے اپنے گھر کو تو سنبھالو۔ تیرا بہنوئی سعید اور تیری بہن فاطمہ مسلمان ہوچکے ہیں یہ سنتے ہی عمر اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے دروازے پر سنا کہ ان کی بہن سورة طٰہٰ کی تلاوت کر رہی ہے۔ اندر گئے بہنوئی اور بہن کو مارا وہ بہن جس نے بھائی کے سامنے کبھی آنکھ نہیں اٹھائی تھی زخمی ہونے کے باوجود کہنے لگی جس قدر چاہو مار لو ہم دین نہیں چھوڑ سکتے۔ بہن کی ایمانی جُرأت پر حیران ہو کر کہتے ہیں کہ جو پڑھ رہی تھی مجھے بھی سناؤ۔ بہن نے سورة طٰہٰ کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں۔ زخمی بہن کی دکھ بھری آواز اور قرآن کی جلالت کی تاب نہ لا کر بالآخر حضرت عمر (رض) مسلمان ہوئے۔ تفصیل کے لیے سیرت عمر (رض) کا مطالعہ فرمائیں۔ اس سورة مبارکہ کی ابتداء ان الفاظ سے ہوئی ہے کہ اے پیغمبر ! ہم نے یہ قرآن آپ کی مشکلات کو بڑھانے کے لیے نازل نہیں کیا۔ اس کے نزول کا مقصد تو یہ ہے کہ آپ اس شخص کو نصیحت فرمائیں جو اپنے رب سے ڈرنے والا ہے۔ قرآن کو اس ذات کبیریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین کو پیدا فرمایا ور آسمان کو بلند وبالا کیا وہ ذات بڑی الرّحمان ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیز ہے وہ اسی کی ملکیت ہے۔ انسان اپنی بات کو خفیہ رکھے یا اس کا الفاظ میں اظہار کرے، وہ ذات سب کچھ جانتی ہے۔ اس کا نام اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور اس کے بہترین نام ہیں وہ آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والے طویل اور شدید کشمکش سے آگاہ کرتا ہے جس کا آپ کو پہلے سے کچھ علم نہیں۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا جس میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رہنما اصول اور آپ کی امت کے لیے بہترین نصائح بیان کرنے کے ساتھ بتلایا گیا ہے کہ بیشک باطل جس قدر چاہے طاقتور ہو بالآخر وہ ناکام رہتا ہے۔ بشرطیکہ حق والے حق پر قائم رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ اس سورة کے آخر میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں شیطان کی سازش اور شرارت کا ذکر فرما کر اولاد آدم کو نصیحت کی گئی ہے کہ جو شخص اپنے رب کی نصیحت سے اعراض کرے گا اور شیطان کے پیچھے لگے گا اس کی دنیا تنگ کردی جائے گی اور آخرت میں اس حالت میں پیش ہوگا کہ اپنے رب کے حضور کوئی حجّت پیش نہیں کرسکے گا۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں عذاب سے دوچار کیا جائے تو کہتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس رسول آتا۔ ہم اس کی پیروی کر کے ذلّت سے بچ جاتے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو ان میں موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں فرما دیں کہ تم اپنی جگہ اپنے انجام کا انتظار کرو میں اپنے مقام پر اپنے کام کے انجام کا منتظر ہوں۔ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلّی دی گئی ہے کہ تمہارا دشمن فرعون سے زیادہ باوسائل اور طاقتور نہیں اور تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں سے بڑھ کر کمزور اور مظلوم نہیں ہو۔ لہٰذا پورے حوصلے سے اپنا کام جاری رکھو۔ فتح تمہاری ہوگی کیونکہ انجام کار متقی حضرات کے لیے ہے۔

Ayahs 20:1–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ آپ مصیبت میں پڑجائیں۔ (2)

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

یہ نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرنے والا ہے۔ “ (3)

فہم القرآن سورۃ طٰہٰ مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کا جور و استبداد اپنے عروج پر تھا۔ مسلمانوں کے حوصلے پست ہونے کے قریب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا قدرے تفصیل سے تذکرہ فرمایا ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کن مشکلات میں دین کا کام کرتے رہے۔ لفظ طٰہٰ بھی حروف مقطعات ہیں۔ حسب عادت کچھ اہل علم نے اس کے بھی مفہوم نقل کیے ہیں۔ جو علمی موشگافیوں کے سوا کچھ نہیں کیونکہ بالآخر وہ بھی ثقہ اہل علم کی طرح یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس کا حقیقی مفہوم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ مشکل اور سخت ترین حالات میں پوری جان سوزی اور اخلاص کے ساتھ تبلیغ دین کا فریضہ ادا فرما رہے تھے۔ آپ رات کی تاریکیوں میں تہجد کی نماز میں لوگوں کی ہدایت کے لیے رو رو کر دعائیں کرتے۔ دن کے وقت تندہی کے ساتھ اصلاح احوال کی کوشش میں مصروف رہتے۔ لیکن مشرکین ناصرف دن بدن کفر و شرک میں آگے ہی بڑھے جا رہے تھے بلکہ آپ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ جس پر آپ کا دل پسیج جاتا اور آپ غمگین رہتے۔ اس صورت حال میں یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی۔ جس کی ابتدا میں آپ کو تسلّی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اے پیارے نبی ﷺ آپ کے رب نے قرآن مجید اس لیے تو نہیں اتارا کہ آپ اپنی استعداد سے بڑھ کر مشقت میں پڑجائیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ اپنی جان کو ہلاک کرلیں گے۔ الشعراء آیت : 3 بیشک قرآن مجید سراپا نصیحت ہے۔ یقین رکھو قرآن مسائل بڑھانے نہیں کم کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ لیکن اس سے نعمت سے وہی شخص مستفید ہوتا ہے جو اپنے رب کا خوف اور برے انجام سے ڈر نے والا ہے۔ یہی بات قرآن مجید کی پہلی آیت میں کہی گئی ہے۔ یہ کتاب ہدایت ہے۔ مگر ان لوگوں کے لیے جو گناہوں سے بچنے اور اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔
Ayahs 20:4–7

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

” نازل کی گئی ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین اور بلند آسمانوں کو۔ (4)

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمان عرش پر مستویٰ ہے۔ (5)

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو زمین کے نیچے ہیں۔ (6)

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

تم بلند آواز سے بات کرو یا چپکے سے۔ وہ خفیہ سے خفیہ کی ہوئی بات کو یقینا جانتا ہے۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات کبریا نے یہ قرآن نازل کیا ہے اس کا تعارف۔ قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الرحمن عرش پر مستوی ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملکیت ہے۔ لہٰذا آپ اونچی آواز سے بات کریں یا آہستہ انداز میں دل ہی دل میں کہیں وہ خفیہ اور آہستہ سے آہستہ آواز کو سنتا ہی نہیں بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات کو جانتا ہے۔ یہاں پہلے یہ بات سمجھائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کفار کے ظلم اور تسلّط کے بارے میں یہ نہ سوچیں کہ یہ ہمیشہ رہے گا۔ ہرگز نہیں کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یہاں تک کہ جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملک اور اس کے تابع فرمان ہیں اسی نے یہ قرآن نازل کیا ہے۔ لہٰذا نہ آپ کے مخالفین کی کوئی بات اور ظلم اس سے پوشیدہ ہے اور نہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کی آہ زاریاں تمہارے رب سے اوجھل ہیں۔ عنقریب وقت آنے والا ہے۔ جب کفار کی گردنیں نیچی ہونگی اور ظلم کی چکی میں پسنے والے مظلوم سربلند ہوں گے۔ یہاں ذات کبریا نے اپنا نام الرحمن لاکر آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ اپنا کام کرتے جائیں آپ کا رب الرحمن ہے۔ وہ ضرور آپ پر رحم و کرم فرمائے گا۔ آپ کی دعائیں مستجاب اور آپ کی محنتیں ثمر آور ہوں گی۔ وہ عرش پر جلوہ گر ہے۔ جس طرح اس کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر جلوہ نما ہونے کے بارے میں بحث کرنا کہ رب ذوالجلال کس حالت اور کس انداز میں جلوہ نما ہے ہمارا کام نہیں۔ ایسی سوچ پیدا ہونے پر لاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃً اِلَّا باللّٰہِ پڑھنا چاہیے۔ آسمانوں کی بلندی کا ذکر فرما کر اشارہ دیا کہ عنقریب سرفرازی اور بلندی آپ اور آپ کے ساتھیوں کو نصیب ہوگی اور کفار کے لیے پستی ہوگی۔ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ہُرَیْرَۃَ قَالَ اِنِّیْ کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِذْجَاءَ ہٗ قَوْمٌ مِّنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ فَقَالَ اقْبَلُوْاالْبُشْرٰی یَا بَنِیْ تَمِیْمٍ قَالُوْا بَشَّرْتَنَا فَاَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مِّنْ اَھْلِ الْیََمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوْا الْبُشْرٰی یَا اَھْلَ الْیَمَنِ اِذْ لَمْ یَقْبَلْھَا بَنُوْ تَمِیْمٍ قَالُوْا قَبِلْنَاجِءْنَاکَ لِنَتَفَقَّہَ فِیْ الدِّیْنِ وَلِنَسْاَلَکَ عَنْ اَوَّلِ ھٰذَا الْاَمْرِ مَا کَانَ قَالَ کَان اللّٰہُ وَلَمْ یَکُنْ شَیْءٌ قَبْلَہٗ وَکَانْ عَرْشُہٗ عَلْی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَکَتَبَ فِیْ الذِّکْرِ کُلَّ شَیْءٍ ثُمَّ اَتَانِیْ رَجُلٌ فَقَالَ یَاعِمْرَانُ اَدْرِکْ نَاقَََتَکََ فَقَدْ ذَھَبَتْ فَانْطَلَقْتُ اَطْلُبُھَا وَاَیْمُ اللّٰہِ لَوَدِدْتُّ اَنَّھَا قَدْ ذَھَبَتْ وَلَمْ اَقُمْ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ )] ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا جب آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا ‘ اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو انہوں نے کہا آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی ‘ ہمیں کچھ عطا بھی کریں۔ ان کے بعد اہل یمن کے کچھ لوگ آئے آپ نے فرمایا کہ اے اہل یمن ! خوشخبری قبول کرو ‘ آپ سے پہلے بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہم قبول کرتے ہیں آپ کی خدمت میں ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ ہم دین کی سمجھ حاصل کریں اور ہم آپ سے کائنات کی ابتداء کے بارے میں پوچھنا چاہیں گے کہ سب سے پہلے کیا چیز تھی ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تھا ‘ اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اس کا عرش پانی پر تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔ پھر لوح محفوظ میں تمام امور لکھے۔ عمران ؓ کہتے ہیں اتنے میں ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا، اے عمران ! اپنی اونٹنی کا پتا کرو وہ بھاگ گئی ہے میں اسے ڈھونڈنے لگا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے یہ پسند تھا کہ اونٹنی بیشک چلی جاتی ‘ لیکن میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ عرش پر جلوہ نما ہے جس طرح اس کی شان ہے۔ 2۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت ہے۔ 3۔ انسان کوئی بات دل میں کہے یا اس کا اظہار کرے اللہ تعالیٰ ہر بات سے باخبر رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ ہر بات اور چیز کو جانتا ہے : 1۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 77) 2۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ظاہر اور پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام : 3) 3۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ سرگوشیوں کو بھی جانتا ہے۔ (التوبۃ : 78) 4۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : 19) 5۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور آہستہ کہی ہوئی بات جانتا ہے۔ (طٰہٰ : 7)
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

” وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے بہترین نام ہیں۔ “ (8)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مزید صفات اور اسمائے گرامی۔ ہر چیز کا خالق، پوشیدہ اور ظاہر باتوں کو جاننے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا وہی ایک عبادت کے لائق ہے۔ اس کے تمام نام بہترین اور بابرکت ہیں۔ اسے ” اللہ “ کے نام سے پکارا جائے یا الرحمن کے نام سے۔ اس کے تو سارے نام ہی بہترین اور بابرکت ہیں۔ یاد رہے کہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک الرحمن سے چڑتے اور کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کون ہے اس وجہ سے نبی معظم ﷺ کو طعنہ دیتے کہ آپ ہمیں تو کسی دوسرے کو ” اللہ “ کا شریک بنانے سے منع کرتے ہیں۔ خود الرحمن کو اس کا شریک بناتے ہیں۔ اس چڑ کی وجہ سے وہ آپ کی اور مخالفت کرتے تھے سورة الفرقان، آیت : 60۔ میں عرض کیا گیا ہے کہ ” الٰہ “ اللہ تعالیٰ کا متبادل نام بھی ہے اور یہ اس کی ایسی صفت ہے جس میں اس کی بڑی بڑی تمام صفات شامل ہیں۔ الٰہ کا پہلا معنی یہ ہے وہ ذات جس سے سب سے زیادہ محبت کی جائے ضرورت اور عاجزی کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے بہترین نام ہیں۔ 2۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ 3۔ ” اللہ “ ہی حاجت روا، مشکل کشا ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کی صفت الٰہ کی ایک جھلک : 1۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ برحق نہیں۔ (النساء : 87) 2۔ الٰہ حقیقی صرف اللہ ہے۔ (النساء : 171) 3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62) 4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63) 5۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 6۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88) 7۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے وہ الرّحمن اور الرّحیم ہے۔ (البقرۃ : 163)
Ayahs 20:9–12

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

” کیا آپ کو موسیٰ کے بارے میں کوئی بات معلوم ہے

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

کہ جب اس نے آگ دیکھی اور اپنے گھروالوں سے کہا کہ ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید تمہارے لیے آگکا انگارہ لے آؤں۔ یا اس روشنی سے مجھے کوئی رہنمائی مل جائے۔ (10)

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

موسیٰ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی اے موسیٰ ۔ (11)

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں ہی تیرا رب ہوں اپنے جوتے اتار دے تو مقدس وادی طوی میں پہنچ چکا ہے۔ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ جس ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں یہی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ رسول محترم ﷺ کو پوری طرح متوجہ فرمانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نہیں پہنچی ؟ لو اب سماعت فرمائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے فرمایا ٹھہریں میں آپ کے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اس روشنی سے راستے کا پتہ معلوم کرتا ہوں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب آئے تو انھیں آواز دی گئی۔ اے موسیٰ میں آپ کا رب ہوں آپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے اپنے جوتے اتار دیں، یہ بات پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ بےمثال جدوجہد اور لوگوں کی مخالفت کے لحاظ سے نبی اکرم ﷺ سب سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں اس لیے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جدوجہد اور فرعون کی مخالفت کا تفصیلی بیان ہوا ہے۔ یہاں اس بات کا جوں آغاز فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر آپ کو نہیں پہنچی ؟ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ تو مکہ میں محترم اور قابل اعتماد ہیں تبھی تو لوگ آپ کو صادق اور امین کہتے ہیں تھوڑے ہی سہی لیکن آپ کے جانثار ساتھی بھی موجود ہیں۔ لہٰذا آپ کو تو دل چھوٹا اور آپ کے ساتھیوں کو حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات جانیں کہ کن حالات میں پیدا ہوئے۔ اس کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کس دل گردے کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کی لہروں کے سپرد کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کے جانی دشمن فرعون کے گھر پالا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہوئے تو ان کے ہاتھوں غیرارادی طور پر ایک شخص قتل ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) خوف کے مارے مدین کی طرف بھاگ گئے۔ وہاں آٹھ، دس سال رہنے کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے وطن مصر واپس آرہے تھے کہ انھوں نے آگ جلتی ہوئی دیکھی۔ راستہ معلوم کرنے اور سردی کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی طرف گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آوازدی کہ آپ مقدس زمین پر پہنچ گئے ہیں۔ لہٰذا جوتے اتار دیں اور جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا جاتا ہے اسے توجہ سے سنیں۔ اس خوف اور کسمپرسی کے عالم میں موسیٰ (علیہ السلام) مصرواپس پہنچ کر اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے حالات پر غور فرمائیں کہ وہ کتنے آسان اور سازگار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بحکم خداوندی جوتا اتار کر وادئ مقدس میں آگے بڑھے تو آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں نے تجھے اپنی ذات اور کام کے لیے پسند کرلیا ہے۔ جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو۔ یقین کرو کہ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بس میری ہی عبادت کرنا اور مجھے یاد رکھنے کے لے نماز ادا کرتے رہنا۔ بیسویں پارہ میں اس واقعہ کی یوں تفصیل بیان ہوئی ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس معاہدہ کے تحت اپنی مدت پوری کرچکے تو وہ اپنی اہلیہ کو لے کر اپنے وطن مصر کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پہاڑ کے دائیں جانب ایک روشنی دیکھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ کو فرمایا آپ یہاں ٹھہریں میں اس روشنی کے پاس جا کر آپ کے تانپنے کے لیے آگ لاتا ہوں یا راستہ کے بارے میں معلومات لاؤں گا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) طور پہاڑ کے قریب اس کے دائیں جانب پہنچے تو ایک درخت تجلیات اور اللہ کی برکات کا مرکز بنا ہوا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آواز سنی جس میں یہ پیغام تھا کہ میں ہی رب العالمین ہوں۔ (فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَھْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِنْھَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ فَلَمَّآ اَتٰھَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ یّٰمُوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن) [ القصص : 29، 30] ” پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مقرر مدت پوری کردی اور وہاں سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر چلے تو طور کے ایک جانب آگ دیکھی موسیٰ نے اپنے اہل خانہ سے کہا تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں جاتا ہوں شاید میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبریا آگ کی کوئی چنگاری لاؤں تاکہ تم اسے تاپ سکو۔ جب موسیٰ وہاں گئے تو وادی کے دائیں کنارہ سے اس بابرکت مقام میں ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ رب العالمین ہوں۔ “ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ ارشاد ہوا کہ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ” اِلٰہ “ کے بارے میں کئی مرتبہ بیان ہوچکا ہے۔ اس موقعہ پر مختصر مفہوم جاننے کے لیے درج ذیل تفسیر بالقرآن ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ عقیدۂ توحید کے بعد انسان پر جو سب سے پہلا فرض عائد ہوتا ہے وہ پانچ وقت کی نماز ہے۔ یہ ایسی عبادت اور ذکر ہے جس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو کوئی عبادت اور ذکر محبوب نہیں۔ (عن عَبْدِ اللّٰہِ ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلاَۃُ عَلَی وَقْتِہَاقَالَ ثُمَّ أَیُّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیُّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوٰۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ہُرَیْرَۃَفرماتے ہیں میں نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز وقت پر ادا کرنا۔ پھر پوچھا تو فرمایا : والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔ اس کے بعد پوچھنے پر آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ تفسیر بالقرآن اِلٰہ کے چیدہ چیدہ مرکزی معانی : 1۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ رحمن ورحیم ہے (البقرۃ۔ 163) 2۔ یقیناً اللہ ایک ہی الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ 171) 3۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73) 4۔ فرما دیجیے کہ اللہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19) 5۔ اللہ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ یقیناً الٰہ ایک ہی ہے۔ (النحل : 51)
Ayahs 20:13–16

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

” اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے جو کچھ وحی کی جاتی ہے توجہ سے سنو۔ (13)

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ “ (14)

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت کا وقت ہر صورت آنے والا ہے میں اس وقت کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کوئی اپنی کوشش کے مطابق بدلہ پائے۔ (15)

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پس جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا اور وہ اپنی خواہش کا بندہ بن گیا ہے وہ آپ کو قیامت کی سوچ سے نہ روک دے۔ ورنہ آپ ہلاکت میں پڑجائیں گے۔ “ (16)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں دین کے تیسرے بنیادی عقیدہ کا یوں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے لیکن اس کے وقت کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ قیامت کا برپا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ ہر شخص کو اس کی اچھی بری کوشش کا بدلہ چکایا جائے۔ اے موسیٰ ! وہ شخص یعنی فرعون جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تجھے نبوت کے کام سے نہ روک دے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کا بندہ بنا لیا ہے۔ اگر آپ توحید کی دعوت دینے اور نبوت کے کام سے رک گئے تو آپ ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے اعتقادات میں توحید، رسالت اور آخرت کا عقیدہ بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ باقی امور انہی کے متعلقات اور ان کا عملی تقاضا ہیں۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کرتے ہوئے عقیدہ توحید کا پہلا تقاضا یہ بتلایا ہے کہ اللہ کی بندگی کی جائے۔ اس کے بعد قیامت برپا کرنے کا مقصد بیان کیا ہے تاکہ ہر انسان اپنے اچھے برے اعمال کی جزا اور سزا پائے۔ یاد رہے کہ جو شخص عقیدۂ توحید کا دعویٰ کرتا ہے اسے نبی آخر الزمان ﷺ کی رسالت اور قیامت کے قیام اور اس کی جزا، سزا پر بھی ایمان لانا ہوگا۔ ان میں کسی ایک بات کا انکار کرنا پوری کی پوری دعوت کا انکار کرنا ہے۔ اس فرمان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کسی ظالم کے خوف کی وجہ سے اللہ کی توحید کو نہ ماننا اور اس کا پرچار نہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
Ayahs 20:17–21

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

” اے موسیٰ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ (17)

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا تا ہوں اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں۔ اس سے اور بھی کام لیتا ہوں۔ “ (18)

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

” فرمایا اے موسیٰ اسے پھینک دے۔ (19)

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

اس نے پھینک دیا اور یکایک عصا ایک سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ (20)

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا اسے پکڑ لے اور ڈرنا نہیں ہم اسے پہلے کی طرح عصا بنا دیں گے۔ “ (21)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر آخرت کا سبق دے کر یہ بات سمجھائی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کے پیچھے لگنے اور اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرعون پرلے درجے کا نافرمان، باغی اور ظالم انسان تھا جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی کے وقت بتلا یا اور سمجھایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک فرعون حد سے بڑھا ہوا ظالم اور نافرمان ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے خوف کی وجہ سے آپ کو اس کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔ اگر آپ خوف یا کسی وجہ سے حق بات کہنے سے رک گئے یا خوف کی وجہ سے اس کے سامنے جھک گئے تو یاد رکھیں آپ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو از راہ محبت اور ان کی تربیت کی خاطر یہ سوال کیا کہ اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے رب میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے میں اس کے ساتھ بھیڑ بکریوں کے لیے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں جب تھک جاؤں تو اس کا سہارا لیتا ہوں میرے لیے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صرف اتنا ہی استفسار فرمایا تھا کہ اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی قربت اور محبت کی وجہ سے ایک سوال کے جواب میں تین جوابات عرض کیے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بندے کو دعا اور اللہ کی عبادت کرتے ہوئے جب اس کی رحمت اور قرب کی لذت محسوس ہوتی ہے تو پھر اس پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اگر قیام میں ہو تو اللہ تعالیٰ کو اس قدر یاد کرتا ہے کہ اسے اپنے قیام کی طوالت کا احساس نہیں رہتا۔ اگر رکوع اور سجود میں اللہ تعالیٰ کی قربت کا احساس ہوجائے تو دیر تک رکوع میں جھکا اور سجدے میں پڑا رہتا ہے۔ اسی قرب اور لذت کی وجہ سے نبی ﷺ اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر سو جن پڑجاتی تھی۔ اسی سبب ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک استفسار کے بدلے تین جواب عرض کیے تاکہ میں اپنے رب کے ساتھ دیر تک محو گفتگو رہ سکوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی محبت کے سرور میں آکر پے درپے کئی جواب عرض کیے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی بات پوری ہوئی اور ان کی کامل توجہ اپنی لاٹھی کی طرف مرکوز ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ! اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکیں جو نہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے لاٹھی پھینکی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر لہرانے لگا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اس اژدھا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیں یہ پہلے کی طرح پھر لاٹھی بن جائے گا۔ یاد رہے کہ سیرت کا معنی ہے حالت اور کیفیت سیرت طیبہ سے مراد پاکیزہ زندگی اور عمدہ کردار۔ اس کے اوّلین اور کامل ترین مصداق سرور دو عالم ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت کو پوری امت کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ مسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی محبت اور قربت محسوس کرتے ہوئے ایک سوال کے کئی جواب عرض کیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چوکنا کرنے کے لیے ان کے عصا کے بارے میں سوال کیا۔ تفسیر بالقرآن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا تذکرہ : حضرت موسیٰ کے عصا کا تذکرہ قرآن میں 10 بار آیا ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہے۔ البقرۃ، 60، الاعراف : 108، 118، 160، الشعراء : 23، 45، 63 النمل : 10، القصص : 31، طٰہٰ : 18 1۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے جب پانی طلب کیا تو موسیٰ کو اپنا عصا پتھر پر مارنے کا حکم دیا گیا۔ (البقرۃ : 60) 2۔ جب فرعون لاؤ لشکر سمیت بنی اسرائیل کے خلاف چڑھ دوڑا تو موسیٰ کو اپنا عصا دریا پر مارنے کا حکم ہوا۔ (الشعراء : 63) 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ میرا عصا ہے۔ (طٰہٰ : 17، 18) 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا کو جب زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ (النمل : 10) 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) عصا کو سانپ بنتا ہوا دیکھ کر ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ( القصص : 31)
Ayahs 20:22–24

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

” اور اب اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دباکر نکال وہ کسی بغیر تکلیف چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے۔ (22)

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

ہم آپ کو اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ (23)

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

اب سرکش فرعون کے پاس جا۔ “ (24)

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو اژدھا کا معجزہ دکھلانے کے بعد دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب پوری طرح اطمینان ہوا کہ یہ وہی لاٹھی ہے جو میرے ہاتھ میں تھی جس سے میں مذکورہ بالا کام لیا کرتا ہوں تو اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھیں جب اسے بغل سے نکالیں گے تو وہ کسی تکلیف اور نقص کے بغیر تیرے سامنے چمک رہا ہوگا۔ اس طرح موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے جن کے بعد موسیٰ کو حکم ہوا کہ اب فرعون کی طرف جائیں کیونکہ وہ بڑا ہی باغی اور نافرمان شخص ہے۔ اسی سورة کی چند آیات کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون کو یہ اطمینان بھی دلایا گیا کہ دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہارا رب ہوں تمہارے ساتھ ہوں گا اور تم میری نگاہوں کے سامنے ہو گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے بارے میں مفسرین نے لکھا کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا کر باہر نکالتے تو سورج کی روشنی بھی اس کے سامنے چند ھیائی ہوئی نظر آتی تھی۔ مسائل 1۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے سامنے دعوت توحید پیش کرنے کے لیے دو عظیم معجزات دئیے گئے۔ 2۔ لاٹھی کا اژدھا بننا اور ہاتھ سورج کی مانند چمکنا۔ 3۔ فرعون بڑا ہی ظالم اور خدا کا نافرمان تھا۔ تفسیر بالقرآن فرعون کے مظالم اور اس کی بغاوت : 1۔ فرعون نے اپنی قوم میں طبقاتی کشمکش پیدا کر رکھی تھی۔ (القصص : 4) 2۔ فرعون نے لوگوں پر ظلم کرنے کے لیے میخیں تیار کی ہوئی تھیں۔ (الفجر : 10) 3۔ بنی اسرائیل قتل و غارت کے عذاب میں دو مرتبہ مبتلا کئے گئے۔ (الاعراف : 127 تا 129)
Ayahs 20:25–28

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

” موسیٰ نے پروردگار سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے۔ (25)

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے کام کو میرے لیے آسان فرمادے۔ (26)

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (27)

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون کے پاس جانے سے پہلے اپنے رب کے حضور دو التجائیں۔ دعوت توحید کا کام ہر دور میں مشکل رہا ہے لیکن کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو یہ کام بالکل ہی غیر معمولی اور انتہائی مشکل حالات میں کرنا پڑا۔ جن میں چار انبیائے کرام (علیہ السلام) سرفہرست ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخرالزمان ﷺ نے جن حالات میں دعوت توحید کا کام کیا وہ تاریخ عالم میں مشکل ترین ادوار سمجھے جاتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال محنت فرمائی بالآخر دعا کی کہ الٰہی اب تو کفار کا ایک گھر بھی باقی نہیں رہنا چاہیے۔ (نوح : 26) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبوت ملنے کے باوجود انشراح صدر اور اطمینان قلب کے لیے ایک مشاہدہ کی درخواست کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے منظور کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں چار پرندے ذبح کروانے کے بعد ان کے سامنے زندہ کیا۔ تفصیل کے لیے سورة البقرۃ کی آیت 260 ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جانے سے پہلے دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے لیکن اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے حضور مزید التجائیں کرتے ہیں۔ جہاں تک سرور دو عالم نبی آخر الزمان ﷺ کا تعلق ہے آپ کو جونہی توحید کی دعوت دینے کا حکم ہوا آپ نے حالات کی پرواہ کیے بغیر اپنے کام کا آغاز کردیا حالانکہ اقتدار کے سوا فرعون اور ابو جہل کے درمیان خاص فرق نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے بدر کے موقعہ پر ابو جہل کی لاش کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ میری امت کا فرعون تھا۔ (سیرت ابن ہشا م) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور یہ درخواست کی کہ میرے رب میرا سینہ کھول دے میرے لیے میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میرے مخاطب میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ یاد رہے کہ جب تک انسان کو اپنے کام کے بارے میں انشراح صدر نہ ہو وہ کام انسان اطمینان اور پوری یکسوئی سے نہیں کر پاتا۔ توحید کی دعوت ایسا کام ہے جس کے لیے انتہا درجے کا انشراح ضروری ہے بصورت دیگر انسان میں وہ ہمّت یا داعیہ پیدا نہیں ہوتا، جو اس اہم اور مشکل ترین کام کے لیے ضروری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس عظیم دعوت کے مقابلہ میں اپنی کم مائیگی اور بےبضاعتی کا اور فرعون کے جور و استبداد کا اچھی طرح علم تھا اس لیے انھوں نے یہ بھی دعا کی کہ اے رب ! اس مشکل کام کو میرے لیے آسان بنا دے اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی قوت گویائی کے بارے میں دعا کی کہ بارے الٰہا ! میری زبان پوری طرح واضح نہیں ہے اس کی گرہ بھی کھول دیجیے تاکہ میں مؤثر اور واضح انداز میں گفتگو کرسکوں زبان کی گرہ کے بارے میں مفسرین نے دو آراء کا اظہار کیا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زبان کی گرہ سے مراد یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک مدین میں ٹھہرے رہے تھے جس وجہ سے انھیں اپنی زبان بالخصوص اعلیٰ طبقہ کے انداز کے مطابق بات کرنے میں وہ روانی حاصل نہیں تھی جو دعوت توحید کا تقاضا تھا۔ دوسرے اہل علم کا خیال ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب چھوٹی عمر میں فرعون کے ہاں پرورش پار ہے تھے تو ایک دن انھوں نے معصومانہ ہاتھوں کے ساتھ فرعون کی داڑھی نوچ لی جس سے فرعون کو شک گزرا کہ یہ وہی بچہ ہے جو بڑا ہو کر میرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا تو اس کی بیوی نے کہا کہ یہ معصوم ہے اسے کیا خبر کہ کس چیز کو پکڑنا ہے اور کس کو ہاتھ نہیں لگانا۔ جس پر آزمانے کے لیے موسیٰ کے سامنے ایک طرف چمکتے ہوئے ہیرے اور دوسری طرف آگ کے انگارے رکھ دیے گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کے انگارے پکڑ کر منہ میں ڈال لیے جس وجہ سے ان کی زبان میں کچھ لکنت پیدا ہوگئی تھی اس کے لیے انھوں نے یہ دعا کی تھی۔ واللہ اعلم۔ مسائل 1۔ عقیدۂ توحید اور نیکی کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے انشراح صدر کی دعا کرنی چاہیے۔ 2۔ ہر مشکل کے لیے اللہ تعالیٰ سے آسانی طلب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن حق ماننے اور اس کی اتّباع کے لیے انشراح صدر ضروری ہے : 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انشراح صدر کی دعا کی۔ (طٰہٰ : 25) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حق سمجھنے اور سمجھانے کے لیے نبی آخر الزمان ﷺ کا سینہ کھول دیا۔ (الم نشرح : 1) 3۔ اللہ تعالیٰ حق بات کے لیے جس کا سینا کھول دے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور بصیرت ہوجاتا ہے۔ (الزمر : 22) 4۔ حق جاننے اور اسے کما حقہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے۔ ( رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا) پڑھنا چاہیے۔ (طٰہٰ : 114)
Ayahs 20:29–35

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

” اور میرے لیے میرے اپنے گھرو الوں سے ایک وزیر بنا دے۔ (29)

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔ (30)

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس کے ساتھ میری کمر مضبوط کردے۔ (31)

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میرے کام میں شریک فرمادے۔ (32)

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں۔ (33)

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور خوب تیرا ذکر کریں۔ (34)

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

بیشک تو ہمیں دیکھنے والا ہے۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور دوسری التجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کے حضور یہ التجا بھی کی کہ میرے رب میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دیجیے میرے بھائی کے ساتھ میری کمر کو مضبوط کیجئے اور اسے میرے کام میں شریک بنا دیں تاکہ ہم کثرت کے ساتھ تیری حمد اور ذکر کریں بلاشبہ تو ہمیں اچھی طرح دیکھنے والا ہے۔ حضرت ہارون موسیٰ (علیہ السلام) سے تقریباً تین سال بڑے تھے فرعون کے مظالم اور حالات کی سنگینی کے باعث حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پشتی بانی اور کام میں وسعت پیدا کرنے کے لیے اپنے رب کے حضور یہ دعا کی کہ میرے رب میرے بھائی کو میرے کام میں شریک بنا دے تاکہ ہم تیری حمد، اور ذکر زیادہ سے زیادہ کرسکیں تو ہر حال میں ہمیں دیکھنے والا ہے۔ حمد سے مراد زبانی اور جسمانی طور پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر ادا کرنا ہے ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، نصیحت حاصل کرنا اور اللہ کی توحید بیان کرنا ہے ذکر کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا : رمی اور طواف بھی اللہ کے ذکر کے لیے : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِ ﷺ قَالَ إِنَّمَاجُعِلَ رَمْیُ الْجِمَارِ وَالسَّعْیُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لإِقَامَۃِ ذِکْرِ اللَّہِ قَالَ أَبُو عیسَی وَہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ)[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ کَیْفَ تُرْمَی الْجِمَارُ ] ” حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں آپ نے فرمایا رمی جمار اور صفامروہ کی سعی کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مقرر کیا گیا۔ “ (عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الَّذِیْ ےَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِیْ لَا ےَذْکُرُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَےِّتِ ) [ رواہ البخاری : باب فَضْلِ ذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اپنے رب کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ شخص کی سی ہے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) [ رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ “ (اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِ کَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ ] ” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “ مسائل 1۔ نیکی کے کام میں ایک دوسرے کی پشتی بانی کرنا چاہیے۔ 2۔ دین کا داعی اپنے ساتھیوں کے ساتھ تقویّت محسوس کرتا ہے۔ 3۔ توحید کا پرچار کرنا سب سے بڑا ذکر ہے۔ 4۔ آدمی کو ہر حال اللہ کی حمد و ثنا اور اس کا ذکر کرنا چاہیے۔ 5۔ آدمی کسی حالت میں بھی ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ذکر کے معانی، اس کا حکم اور فضیلت : 1۔ اللہ کا ذکر صبح اور شام کثرت سے کرو۔ (آل عمران : 41) 2۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد زمین میں نکل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الجمعۃ : 10) 3۔ ایام تشریق میں اللہ کو زیادہ یاد کرو۔ (البقرۃ : 203) 4۔ جب حج کے مناسک ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو۔ (البقرۃ : 200) 5۔ جنگ کے دوران۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الانفال : 45) 6۔ اے ایمان والو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الاحزاب : 41) 7۔ جب نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو۔ (النساء : 103) 8۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : 35) 9۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے کامیاب ہونگے۔ ( الجمعہ : 10)