Ayahs 20:36–41فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا خطرہ محسوس ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کر دے تاکہ اسے میرا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن پکڑ لے دشمن سے مراد فرعون ہے جو سرکشی اور بغاوت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ سمجھا اور لوگوں سے کہلوایا اور اس نے محض نجومیوں کے کہنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کو قتل کروا دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہاتھوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کروائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناصرف فرعون کے گھر پر ورش پاتے ہیں بلکہ ان کی والدہ ہی ان کی داعیہ اور مربیہ ٹھہرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صندوق دریا کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے اُمِّ موسیٰ فکر نہ کرنا ہم اسے تیرے پاس لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم جان کر اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کردیا۔ لیکن جب ماں کی مامتا تڑپ اٹھی تو ماں نے اپنی بیٹی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو بھیجا کہ بیٹی دریا کے کنارے کنارے جاؤ اور دیکھو تیرے بھائی کا صندوق کہاں پہنچتا ہے اور اسے کون پکڑتا ہے۔ دریا کی لہریں موسیٰ (علیہ السلام) کو لوریاں دیتے ہوئے فرعون کے محل تک پہنچا دیتی ہیں۔ دریا میں اٹکیلیاں کھاتا ہوا صندوق دیکھ کر فرعون کے خدام نے اسے پکڑلیا۔ جب صندوق کھولا تو اس میں موسیٰ (علیہ السلام) اپنے معصوم اور پر نور چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمت کا پرتو اس طرح ڈال رکھا تھا کہ جو بھی انھیں دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ یہی حالت فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کی تھی۔ جو نہی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے پر نظر ڈالی تو دل ہار بیٹھا۔ اسے یہ احساس اور خیال تک نہ رہا کہ اس طرح دریا میں تیرتا ہوا۔ جو بچہ میں نے پکڑا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ وہی بچہ ہو جس کی وجہ سے میں نے ہزاروں بچوں کو قتل کیا ہے۔ وہ ایسا کیوں نہ سوچ سکا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔
حضرت موسیٰ کی والدہ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد :
(عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الَّذِیْنِ یَغْزُوْنَ مَنْ اُمَّتِیْ وَیَأْخُذُوْنَ الْجُعْلَ یَتََقَوَّوْنَ عَلٰی عَدُوِّہِمْ مِثْلَ اُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَہَا وَتَاأخُذُ اَجََرَہَا )
[ سنن الکبری للبیہقی ]
” حضرت عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے غازیوں کی مثال جو مال غنیمت لیتے ہیں اور اپنے دشمن پہ جھپٹتے ہیں موسیٰ کی ماں کی طرح ہے جس نے اپنے بچے کو دودھ پلایا اور اجرت حاصل کی۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا دوسرا احسان عظیم :
بیسویں پارہ میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب بڑے ہوئے تو ایک دن دوپہر کے وقت انھوں نے دو آدمیوں کو باہم جھگڑتے ہوئے پایا جن میں ایک کا تعلق موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا اور دوسرا موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن فرعون کی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے اپنے دشمن کے مقابلے میں ان سے مدد چاہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے دشمن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے دھکا دیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی جان نکل گئی۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی افسوس اور غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا یہ تو شیطان کی طرف سے ایسا ہوا ہے۔ بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معاف کردیا کیونکہ وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کی اے اللہ تو نے مجھ پر بہت کرم فرمایا ہے۔ آئندہ میں کسی مجرم کی مدد نہیں کروں گا۔ (القصص : 14 تا 17)
اسی واقعہ کو یہاں مختصریوں بیان فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ پر اللہ تعالیٰ نے اس وقت بھی احسان فرمایا جب تو نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ہم نے تجھے اس کے ساتھ اچھی طرح آزمایا اور نجات دی پھر تو کئی سال تک مدین میں ٹھہرا رہا پھر ہم اپنے فیصلہ کے مطابق تجھے بروقت مصرلے آئے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی محبت ڈال دی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے ہاں لوٹا دیا۔
3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آٹھ سے دس سال تک مدین میں قیام پذیر رہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے لیے منتخب فرمالیا۔
Ayahs 20:42–44فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو منتخب کیا تھا اس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلا حکم۔
انبیاء (علیہ السلام) میں موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی دو عظیم معجزے عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالتے تو وہ سورج سے زیادہ روشن دکھائی دیتا اپنا عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے وہ اژدھا بن جاتا اس کے ساتھ کئی کام لیتے اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی ہارون کو نبوت دینے اور اپنی زبان کی لکنت دور کرنے کی درخواست کی دونوں درخواستوں کو من و عن قبول کرلیا گیا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تو اور تیرا بھائی دلائل اور معجزات کے ساتھ فرعون کے پاس جاؤ۔ لیکن کسی لمحہ میری یاد سے سستی نہ کرنا۔ فرعون کے پاس جاؤ مگر یاد رکھنا وہ بڑا ہی باغی اور سرکش ہے۔ اس کے باوجود اس کے ساتھ نہایت ہی نرم لب و لہجہ کے ساتھ بات کرنا۔ ممکن ہے کہ وہ اس پر غور کرے یا اپنے رب سے ڈر جائے۔ اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) کو بالخصوص دو نصیحتیں کی گئیں۔
1۔ فرعون کی طرف جاتے ہوئے اور اس سے گفتگو کے دوران اپنے رب کو مسلسل یاد کرتے رہنا۔ کیونکہ رب کی یاد ہی انسان کو دشمن کے خوف اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس لیے قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ لوگو ! اللہ کا ذکر دلوں کے لیے اطمینان اور تسکین کا باعث ہے۔ (الرعد : 28)
2۔ فرعون کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے سخت لب و لہجہ اور ترش الفاظ استعمال کرنے کی بجائے نرم انداز اور الفاظ میں سمجھانا کیونکہ جو بات اچھے انداز میں کی جائے اس کا بہتر نتیجہ نکلنے کی امید ہوتی ہے اگر اچھی بات برے انداز اور تلخ لہجہ میں کی جائے تو اس کا نتیجہ اکثر منفی نکلتا ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تلقین کی گئی کہ وہ فرعون کی تلخی کا جواب تلخی سے دینے کے بجائے نرمی اختیار کریں۔
(اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمُھْتَدِیْنَ ) [ النحل : 125]
” اے پیغمبر لوگوں کو دانش اور اچھی نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ۔ بہت ہی اچھے طریق سے ان سے بحث کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے خوب جانتا ہے اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔ “
(وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلا السَّیِئَۃُادْفَعْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ) [ حم السجدۃ : 34]
” اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو۔ ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔ “
مسائل
1۔ مخالف کس قدر ہی مغرور اور متکبر کیوں نہ ہو دعوت کے دوران اسے بھی نرمی کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔
2۔ فرعون پرلے درجے کا باغی اور اپنے رب کا نافرمان تھا۔
3۔ مبلغ کو اپنے رب کے ذکر سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔
4۔ اللہ کو بہت زیادہ یاد کیا کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
تفسیر بالقرآن
ذکر کے مختصر دینی اور دنیوی فوائد :
1۔ اللہ کا ذکر دلوں کے لیے سکون و اطمینان کا باعث ہے۔ (الرعد : 28)
2۔ اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : 98)
3۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ (المنافقون : 9)
4۔ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ (الجن : 17)
5۔ اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعۃ : 10 )
6۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : 35)
7۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرۃ : 152)
Ayahs 20:45–48فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ عظیم معجزات پانے کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے بتلا دیا گیا تھا کہ فرعون بغاوت اور نافرمانی میں تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے ہاں پرورش پائی تھی وہ اسے بہت قریب سے جانتے تھے کہ فرعون بڑا ہی ظالم اور سفاک انسان ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر کو اس لیے چھوڑا تھا کہ وہاں ان کے ہاتھوں حکمران پارٹی کا سھوًا ایک آدمی قتل ہوگیا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر حضرت موسیٰ اور ہارون نے اپنے رب کے حضور اپنے دل کی کیفیت عرض کرتے ہوئے فریاد کی کہ اے ہمارے رب ہمیں شدید خطرہ ہے کہ فرعون ہم پر زیادتی کرے گا۔ اس کے جواب میں حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ دونوں کو فرعون سے ڈرنے کی ضرورت نہیں یقین رکھو کہ میں تمہاری باتیں سن رہا ہوں گا اور ہر لمحہ تمہاری دستگیری کروں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی بات سنتا ہے اور ہر چیز اس کے سامنے ہے لیکن یہاں یہ الفاظ استعمال فرما کر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو بالخصوص یہ تسلی دی گئی ہے کہ فرعون سے ڈرنے اور دبنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میری معیت اور نگرانی ہر وقت تمہارے ساتھ ہوگی۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور خصوصی توجہ نصیب ہوجائے وہ اپنے دشمن سے کبھی مرعوب نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وقت کا نبی بھی چند لمحوں کے لیے کسی دشمن سے خوفزدہ ہوسکتا ہے۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی دینے کے بعد حکم فرمایا کہ اب فرعون کے پاس جاؤ اور اسے بتلاؤ کہ ہمیں ہمارے رب نے رسول منتخب کیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دو اور ان پر ظلم کرنے سے باز آجاؤ۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانیوں کے ساتھ آئے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کرے گا وہ سلامت رہے گا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی بتلایا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو جھٹلایا اور اس سے منہ پھیرلیا اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پہلی ملاقات میں فرعون کو دین کے تین بنیادی امور سے آگاہ فرمایا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
1۔ رسول کا معنٰی ہے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور اس پر عمل کرکے دکھلانے والا۔
2۔ رب کا معنٰی ہے کائنات کا خالق، مالک اور ہر کسی کی ضرورت پوری کرنے والا۔
3۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ٹھکرائے گا وہ قیامت کے دن عذاب میں مبتلا ہوگا۔
4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی آزدی کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ آزاد قوم ہی فکر و عمل کے حوالے سے اسلامی اقدار پر عمل اور انقلاب برپا کرسکتی ہے۔
گویا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا خطاب عقیدہ توحید، نبوت کے اغراض و مقاصد، فکرآخرت اور قوم کی آزادی کے مطالبہ پر مشتمل تھا۔ یہی دین کے بنیادی عناصر ہیں باقی مسائل انہی کی تشریح اور تقاضے ہیں۔
مسائل
1۔ جب اللہ کی معیت حاصل ہو تو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
1۔ جو شخص ہدایت کی اتباع کرے گا اس کے لیے دنیا اور آخرت میں سلامتی ہوگی۔
2۔ جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے انحراف کرے گا وہ دنیا میں پریشان اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
اتّباع ہدایت کے دنیا اور آخرت میں فوائد :
1۔ اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے والا بےخوف ہوگا۔ (البقرۃ : 38)
2۔ امت کو قرآن کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے قرآن وسنت کو چھوڑ کر دوسرے کی اتباع نہیں کرنی چاہیے (الاعراف : 3)
3۔ میں تو اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (یونس : 15۔ الاعراف : 203)
4۔ اپنے رب کی ہدایت پر چلنے والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (لقمان : 5، البقرۃ : 5)
5۔ اے ایمان والو ! اگر تم ہدایت پر رہو تو گمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ (المائدۃ : 105)
6۔ قرآن مجید سرا پارحمت اور کتاب ہدایت ہے۔ (لقمان : 3)
7۔ اللہ کے لیے خرچ کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ : 262)
8۔ نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ : 277)
9۔ ایمان پر استقامت دکھلانے والوں کو کوئی خوف نہیں۔ (الاحقاف : 13)
10۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف نہیں۔ (یونس : 62)
Ayahs 20:49–52فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تکرار۔
فرعون نے حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھانے اور حواریوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دو سوال کیے۔ پہلا سوال یہ تھا اے موسیٰ ! تمہارا رب کون ہے ؟ فرعون اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہوں اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرے سوا کسی کو رب مانے اور اس کا حکم تسلیم کرے۔ اسی سوچ کی وجہ سے فرعون نے اپنی عوام میں ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا نظریہ پیش کیا اور اسے تسلیم کروانے کے لیے لوگوں پر جبر کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقعہ کی نزاکت اور اس کے سوال کی حقیقت جانتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی دو ایسی صفات کا ذکر فرمایا جس کا انکار کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے حقیقی وجود اور اس کی صحیح شکل و صورت کے ساتھ پیدا فرما کر اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بطخ کا بچہ انڈے سے نکل کر پانی کی طرف جاتا ہے۔ مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی مرغی کے قدموں کی طرف لپکتا ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ اس طرح ہر نومولود کو نہ صرف اپنے جنم دینے والی کا علم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی مامتا کی بولی سمجھنے کے ساتھ خود بخود اس ماحول کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ جس میں رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ یہاں ہدایت سے پہلی مراد فطری رہنمائی ہے جس بنا پر گونگا بہر ابچہ بھی چہرے کے اتار اور چڑھاؤ اور آنکھوں کے اشارے سے مامتا کو اپنی ضرورتوں سے آگاہ کرلیتا ہے۔ فرعون کا دوسرا سوال یہ تھا کہ جو لوگ توحید و رسالت اور آخرت کی جزا، سزا کے قائل نہ تھے اور اس دنیا سے چل بسے ان کا انجام کیا ہوگا ؟ فرعون کا خیال تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کا جواب یہ دے گا کہ وہ سب کے سب جہنم میں جائیں گے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر میں لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکا ؤنگا کہ یہ شخص کس قدر گستاخ اور ظالم ہے کہ ہمارے فوت شدہ بزرگوں کو گمراہ اور جہنمی قرار دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس سوال کا پس منظر سمجھ چکے تھے۔ لہٰذا پیغمبرانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ان کا حال رب جانتا ہے جو نہ بھولتا ہے اور نہ اس کے احاطۂ علم سے کوئی چیز غائب ہوتی ہے یہاں تک کہ اس نے ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔
(سَوَآءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَھَرَ بِہٖ وَ مَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍ بالَّیْلِ وَ سَارِبٌ بالنَّھَارِ لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ وَ اِذَآ اَرَاد اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْٓءً افَلَا مَرَدَّلَہٗ وَمَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّال) [ الرعد : 10۔ 11]
” کوئی تم سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے اس کے نزدیک برابر ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اللہ کے چوکیدار ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اللہ اس نعمت کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ “
مسائل
1۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ نہ بھولتا ہے نہ ہی اس سے بیخبر ہوتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے بارے میں لوح محفوظ میں سب کچھ لکھ رکھا ہے۔
3۔ مبلغ کو سوال کا جواب خداداد بصیرت کے ساتھ دینا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ وسیع علم والا ہے۔ (البقرۃ : 115) 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 29)
3۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (الاعراف : 89) 4۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے۔ (الطلاق : 12)
5۔ بیشک اللہ لوگوں کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 120)
6۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 54) 7۔ اللہ ہر چیزکا احاطہ کرنے والا ہے۔ (النساء : 126)
Ayahs 20:53–54فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی صفات کا مزید تذکرہ۔
فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو کا ایک حصہ بیان کرنے کے بعد یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بہترین اسلوب بیان اور کلام کے موقع محل کے مطابق اپنی توحید کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو سمجھایا ہے کہ اے انسان اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔ پھر اس میں آمد و رفت کے لیے تمہارے لیے راستے بنائے۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور پھر اس بارش کے ساتھ مختلف قسم کے نباتات پیدا کرتا ہے۔ ان کو اگانے کا مقصد یہ ہے کہ خود کھاؤ اور اپنے جانوروں کو کھلاؤ۔ اگر تم عقل سے کام لو تو ان میں تمہارے لیے اپنے رب کو پہچاننے کے بہت سے دلائل ہیں۔ اس فرمان میں توحید کے اس قدر ٹھوس اور سادہ دلائل دیے گئے ہیں جن کا متعصب آدمی کے سوا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ زمین کو فرش بنانے، اس میں راستے نکالنے، آسمان سے بارش برسانے اور اس سے نباتات اگانے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پر قربان جائیں یہاں اس لیے یہ دلائل دیے گئے ہیں کیونکہ فرعون نے خاص و عوام کا عقیدہ بنا رکھا تھا کہ ملک کی شادابی، خوشحالی اور ترقی میرے وجود کی برکت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ اسی بنا پر اس نے اپنی قوم کو باطل عقیدہ پر پختہ رکھنے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کہا تھا۔ ” اے میری قوم ! کیا میں مصر کا بلاشرکت غیرے حکمران نہیں ہوں ؟ اور میں نے اپنے پاؤں تلے بھی نہریں جاری کر رکھی ہیں تمہیں اس پر غور کرنا چاہیے۔ فرعون کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے شہروں میں زیر زمین (Water System) زراعت کے لیے آبپاشی کا منفرد نظام قائم کر رکھا تھا بیشک میں موسیٰ کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے بہتر ہوں۔ موسیٰ تو نہ کوئی عزت رکھتا ہے اور نہ ہی صاف گفتگو کرسکتا ہے۔ (الزخرف : 52) یاد رہے یہاں عقل کے لیے ” نُہٰی “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی ہے ” روکنے والی چیز۔ “ کیونکہ عقل سلیم انسان کو برائی اور بےحیائی سے روکتی ہے اس لیے اس کے لیے ” النُّھٰی “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ لفظ استعمال فرما کر فرعون اور اس کے ساتھیوں کو بتلایا کہ اگر تمہاری عقل کام کرتی ہے تو تمہیں اپنے باطل عقیدہ اور ظالمانہ رویے سے باز آجا نا چاہیے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی لوگوں کے لیے زمین کو فرش بنایا اور راستوں کی رہنمائی کی۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش برسا کر مختلف قسم کی نباتات پیدا کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات، فصلیں اور ہر قسم کا اناج اور پھل اس لیے پیدا کیا تاکہ انسان خود کھائے اور اپنے جانوروں کو کھلائے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کے لیے نباتات میں اس کی قدرت کے بیشمار دلائل ہیں۔
5۔ عقل سلیم وہ ہے جو انسان کو ہر قسم کی برائی اور نقصان سے روکے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کس طرح اناج، پھل اور نباتات کو پیدا کرتا ہے :
1۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11)
2۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19)
3۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : 34)
4۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99)
5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141)
6۔ تمہارے لیے مسخر کیا نباتات کو زمین پر پھیلاکر، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : 13)
7۔ انہوں نے کھیتی اور مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا ہے جو اللہ ہی نے پیدا فرمائے ہیں۔ (الانعام : 136)
Ayahs 20:55–56فہم القرآن
ربط کلام : جس زمین کو فرش بنایا گیا ہے اسی سے نباتات اگتی ہیں اور اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ اسی میں انسان نے جانا ہے اور اسی سے دوسری مرتبہ اسے نکالا جائے گا۔
اے لوگو ! یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھو کہ جو زمین تمہارے لیے فرش بنائی گئی اور جس کو تم اپنے پاؤں تلے روندتے ہو۔ اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ گویا کہ انسان کی پوری زندگی کو تین مراحل میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جس سے بڑے سے بڑے باغی اور فرعون کو بھی مفرّحاصل نہیں تھا۔ زمین سے نباتات اگانے کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح زمین میں پڑا بیج اپنے وقت پر اللہ کے حکم سے اگتا ہے اسی طرح اس زمین سے لوگوں کو قیامت کے دن نکال لیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ : حضرت آدم (علیہ السلام) کا مٹی سے پیدا کیا جانا اور اس کی تمام ضروریات کا تعلق مٹی سے قائم کیا جانا ہے۔ بیشک اس کی کوئی بھی صورت ہو بالآخر اس کا تعلق مٹی سے ہی جڑتا ہے۔ جہاں تک جمادات، معدنیات، نباتات حتی کہ انسان جو کچھ کھاتا، پیتا اور پہنتا ہے اس کا تعلق بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ زمین سے ہی ہوتا ہے۔
دوسرا مرحلہ : انسان کی موت جس صورت میں ہو بیشک وہ پانی میں ڈوب کر مرے یا اسے جلا دیا جائے بالآخر اس نے خاک کے ساتھ ملنا ہے۔
تیسرا مرحلہ : کوئی مر کر جی اٹھنے پر یقین کرے یا اس کا انکار کرے اسے ہر صورت دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! آخرت کے منکروں کو خبردار کردو کہ تم لوہابن جاؤ، پتھر یا تمہارے دل میں جو آتا ہے اس کے مطابق بن جاؤ اللہ تعالیٰ تمہیں پہلے کی طرح ضرور زندہ کرے گا۔ (بنی اسرائیل ،: 49‘ 50‘ 51)
اس آیت سے یہ استدلال کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ جس کی بعض ضعیف روایات سے تائید بھی ہوتی ہے کہ انسان جس مٹی سے پیدا کیا گیا اسی خطۂ زمین ہی میں دفن کیا جائے گا۔ (واللہ اعلم)
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ خُلِقَتِ الْمَلاَ ءِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ )[ رواہ مسلم : باب فِی أَحَادِیثَ مُتَفَرِّقَۃٍ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو بھڑکتی ہوئی آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “
مسائل
1۔ انسان مٹی سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ اسی میں اس نے جانا ہے اور اسی سے ہی دوسری مرتبہ اٹھایا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
انسانی تخلیق کے مختلف مراحل :
1۔ تخلیق انسان کے مختلف مراحل۔ (المؤمنون : 12 تا 14)
2۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے۔ (آل عمران : 59)
3۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12)
4۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26)
5۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : 37)
6۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20)
7۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : 4)
8۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر انسان بنایا۔ (الحج : 5)
9۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67)
10۔ حضرت حواحضرت آدم سے پیدا ہوئی۔ (النساء : 1)
11۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
12۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
Ayahs 20:57–59فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان کشمکش کا دوسرا مرحلہ۔
فرعون نے اقتدار کے نشہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کیے ہوئے تمام دلائل اور بڑے بڑے معجزات ٹھکرا دئیے۔ اقتدار بچانے، عوام اور لیڈروں کو ساتھ رکھنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ یہ رسول ہونے کی بجائے جادوگر ہیں اور جادو کے زور پر ہمارے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ ہمیں ملک سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کی طرح بنی اسرائیل کو مصر میں برسراقتدار لائیں۔ فرعون جانتا تھا کہ جادو میں اس طرح کی طاقت نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے زور پر اقتدار یا کسی کی چیز پر قبضہ کرسکے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو چیلنج کیا ہم اس طرح اقتدار چھوڑنے والے نہیں بلکہ ہم تمہارے جادو کا مقابلہ جادو کے ساتھ کریں گے۔ بس ہمارے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ طے پانا چاہیے جس کی نہ ہم مخالفت کریں گے اور نہ تمہیں مخالفت کرنا چاہیے۔ گویا کہ دونوں فریقوں کو اس کی پوری پوری پاسداری کرنا ہوگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن قومی تہوار کا دن مقرر کیا جائے اور وقت بھی سورج نکلنے کے بعد کا ہو۔ تاکہ لوگ کثیر تعداد میں جمع ہو کر دن کی روشنی میں کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ سکیں کہ حقیقت کیا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی مراد تھی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اتنا بڑا اجتماع کرنے کے وسائل اور اثر رسوخ کہاں رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہاتھوں ہی یہ کام کر دکھایا تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا چرچا اور ان کا پیغام پوری قوم تک پہنچ جائے۔ یاد رہے بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ان کی قوم نے یہی الزام لگایا کہ یہ جادوگر ہے۔ اس الزام کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) کی صورت و سیرت اور ان کی دعوت کی طرف متوجہ ہوجایا کرتے تھے جس بنا پر ان کے مخالف ان پر جادوگر ہونے کا الزام لگایا کرتے تھے۔ حالانکہ جادو کرنا، کروانا کفر ہے جس کا انبیاء (علیہ السلام) کے بارے میں تصور نہیں کیا جاسکتا۔
(لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) (الترغیب والترہیب)
” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ “
مسائل
1۔ انبیاء کے معجزات کو کفار جادو تصور کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) پر الزام اور جادو کی حقیقت :
1۔ آل فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گرہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36)
2۔ کفار نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
3۔ کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے اسے جادو قرار دیا۔ (سباء : 43)
4۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ (الزخرف : 30)
5۔ نبی اکرم ﷺ کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ ( الصف : 6)
6۔ نبی ﷺ کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الفرقان : 8۔ بنی اسرائیل : 47)
7۔ قرآن جادو ہے کیا تم غور نہیں کرتے۔ (الطور : 15)
8۔ جادوکفر ہے۔ (البقرۃ : 102) 9۔ جادو کی اصلیت نہیں ہوتی۔ (الاعراف : 116)
10۔ جادو شیاطین کے ذریعے ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 102) 11۔ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا۔ (طٰہٰ : 69)
Ayahs 20:60–61فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاہدہ طے پانے کے بعد فرعون نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی حکومت کے تمام وسائل جھونک دیے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ مصر کے قومی دن کے موقع پر پہلے ہی ملک کے دارالحکومت میں بہت بڑا اجتماع ہوتا تھا۔ جس میں مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے جاتے اور پورے ملک میں جشن کا عالم ہوتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ حکومت نے بہت بڑے اجتماع کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا اور ایسا اجتماع منعقد کیا جس کی مثال مصر کی تاریخ میں پہلے سے موجود نہ تھی جب کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ فرعون پورے شان و شکوہ اور دبدبہ کے ساتھ انتظامیہ اور پورے ملک کے جادوگروں کے ساتھ اجتماع میں نمودار ہوا۔ لوگوں کے جذبات انتہائی مشتعل تھے۔ ایک طرف جادوگروں کی فوج اور دوسری طرف صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) تھے۔ مگر اس تنہائی اور کسمپرسی کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) بڑے اعتماد کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ جونہی ماحول قدرے پر سکون ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں اور حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پر نہایت افسوس کہ تم اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرتے ہو۔ اگر تم اپنی ضد پر قائم رہے تو وہ تمہیں تباہ و برباد کر دے گا۔ یاد رکھو جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا وہ ناکام ہوا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنا اور ان کے معجزات کو جادو قرار دینا تھا۔ رسول اپنے رب کی طرف سے بات کرتا ہے اس لیے رسول کو جھٹلانا اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ یہاں فرعون کی کوشش اور اسباب کے لیے کَیْدَ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنی مکر و فریب ہوتا ہے۔ کیونکہ فرعون نے حقیقت جاننے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں سب کچھ کیا تھا اس لیے اسے فریب قرار دیا گیا ہے۔
مسائل
1۔ رسول کو جھٹلانا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ 2۔ جھوٹ بولنے والا بالآخر نامراد ہوتا ہے۔
Ayahs 20:62–64فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا اثر۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اس قدر مؤثر انداز میں خطاب فرمایا کہ وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے کہ فی الواقع ہم باطل پر ہیں۔ قریب تھا کہ وہ دھڑوں میں تقسیم ہوجاتے لیکن بالآخر فرعون اور اس کے حواری جادوگر غالب رہے انھوں نے یہ کہہ کر عام وخاص کو مطمئن کیا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں ملک سے نکلنے پر مجبور کردیں اور تمہاری تہذیب، شاندار ترقی اور ملک کے نظام کو بدل ڈالیں۔ اس لیے لازم ہوگیا ہے کہ تم آخری معرکہ سمجھ کر پوری طرح صلاحیتوں اور اسباب کو مجتمع کرتے ہوئے منظم طریقے کے ساتھ صف بندی کرو۔ یادرکھو کہ جو آج غالب رہا وہی کامیاب سمجھا جائیگا۔ فرعون نے اپنی پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے دو حربے استعمال کیے تھے جو ہمیشہ سے برسر اقتدار لوگ حق والوں کے خلاف استعمال کیا کرتے ہیں۔
1۔ حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) پر ہوس اقتدار کا الزام لگایا اور اپنے ساتھیوں کو اقتدار کی محرومی سے ڈرایا۔
2۔ باطل حکمران ہمیشہ سے عوام میں یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ ہمیں اقتدار سے الگ کردیا گیا تو ملک کی ترقی رک جائے گی اور قوم کی تہذیب و تمدن کو بڑا نقصان ہوگا۔ ان کی تہذیب و تمدن سے مراد وہ عیاشی اور فحاشی ہوتی ہے جس میں قوم کو مبتلا کر کے یہ لوگ اپنے اقتدار کو طول دیا کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ ہر باطل حکمران اپنے آپ کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ 2۔ برے لوگ اپنی تہذیب و تمدن کو مثالی قرار دیتے ہیں۔
3۔ حق کی جدوجہد میں ایک وقت ضرور آتا ہے کہ جب لوگ حقیقت جاننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 20:65–68فہم القرآن
ربط کلام : معرکہ آرائی کا آخری مرحلہ۔
ملک بھر کے جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف صف آراء ہوئے تو انھوں نے بڑے غرور میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم لاٹھی پھینکتے ہو یا ہم اپنی چیزیں پھینکیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اعتماد اور پُر وقار لہجے میں فرمایا کہ تمہیں ہی پہل کرنا چاہیے۔ جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں لگا کہ جیسے رسیاں اور لاٹھیاں چھوٹے بڑے سانپ بن کر ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکتے ہی جادوگروں نے چلا چلا کر فرعون زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ آج ہم ہی کامیاب ٹھہرئیں گے۔ (الشعراء : 44)
جادوگروں کے نعروں کے ساتھ ہی لاکھوں کا مجمع، فرعون اور اس کی انتظامیہ نعرہ زن ہوئی۔ یک دم ایسا ماحول بنا کہ جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی خوفزدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ قریب تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) خوف کے مارے پیچھے ہٹ جاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ کہہ کر حوصلہ بخشا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ڈرنے کی ضرورت نہیں یقیناً آپ ہی غالب آئیں گے یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت کہی گئی تھی جب آپ کو مدین سے واپس ہوتے ہوئے سفر کے دوران نبوت عطا کی گئی تھی۔
(وَاَلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ یٰمُوْسٰی لاَ تَخَفْ اِِنِّی لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) [ النمل : 10]
” اور پھینک اپنی لاٹھی موسیٰ نے دیکھا کہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا، اے موسیٰ ڈرو نہیں میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔ “
مسائل
1۔ معرکہ حق و باطل میں بالاخر حق والے ہی غالب آیا کرتے ہیں۔
2۔ جادوگر جادو کے ذریعے آنکھوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے دشمن کے مقابلے میں رسولوں کو غالب فرمایا :
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے مقابلے میں غالب ہوئے۔ (ہود : 48)
2۔ تمہارا رب جلد ہی تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور ان کے بعد تم کو خلیفہ بنائے گا۔ ( الاعراف : 129)
3۔ اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : 160)
4۔ مومن اللہ کا لشکر ہیں اور وہ غالب رہیں گے۔ (المجادلۃ : 22)
5۔ غم نہ کرو تم ہی غالب آؤ گے اگر تم ایماندار ہو۔ (آل عمران : 139)
6۔ ہم نے ان کی مدد کی سو وہ غالب آگئے۔ (الصٰفٰت : 116)
7۔ بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 249)
Ayahs 20:69–73فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی میدان میں پھینکنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان اور کامیابی کا یقین دلانے کے بعد حکم فرمایا آپ کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے اسے فی الفور میدان میں پھینک دیں۔ جونہی آپ اسے میدان میں پھینکیں گے تو آپ کی لاٹھی ان کے کیے دھرے کو نگل جائے گی۔ یقین رکھو جادوگرجہاں کہیں ہوں اور جس قدر جادو کا مظاہرہ کریں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ جونہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر میدان میں کودنے والے سانپوں کو نگل گیا۔ یہ منظر اس قدر ہیبت ناک اور عجیب تھا کہ دیکھنے والے لوگ دنگ رہ گئے۔ جادوگروں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدھا جدھر جاتا ہے ہر چیز ہضم کیے جاتا ہے تو وہ اس حقیقت کو دل کی اتھاہ گہرائی سے سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کا بھائی جادوگر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ وہ جادو کی حقیقت کو سمجھتے تھے کہ جادو کے ذریعے بڑی بڑی لاٹھیوں اور رسیوں کے وجود کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جادو تو انسان کی آنکھوں اور اس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے وہ چیز عارضی طور پر دیکھنے میں بدل جاتی ہے کچھ اہل علم نے ” صَنَعُوْا “ کے لفظ کا یہ مفہوم لینے کی کوشش کی ہے کہ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اژدھا کی شکل میں کسی لاٹھی یارسی کے قریب پہنچتا تو اس پر اثر انداز ہونے والا جادو ختم ہوجاتا اور دیکھنے والوں کی نظر میں وہ رسی اور لاٹھی ہی رہ جاتی یہاں کسی حد تک یہ مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔ لیکن قرآن مجید نے دوسرے مقام پر ” صَنَعُوْا “ کی بجائے ” تَلْقَفُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو نگل جانا۔ (الشعراء : 45)
لہٰذا اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا، رسیوں، بڑے بڑے بانسوں اور لاٹھیوں کو کھا گیا۔ جونہی رسیاں اور لاٹھیاں ختم ہوئیں تو جادوگر یہ کہتے ہوئے سجدہ میں گرگئے کہ ہم موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ اگر وہ اس موقعہ پر اپنے رب یا رب العالمین کا لفظ استعمال کرتے تو فرعون لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکہ دے سکتا تھا کہ جادوگر مجھے ہی رب العالمین سمجھ کر سجدہ کر رہے ہیں۔ لیکن جادوگروں نے بڑی بصیرت سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ کر اپنے ایمان کا اعلان کیا کہ ہم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے ہیں تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔ یہی سچے اور خالص ایمان کی نشانی ہے کہ اس میں کسی قسم کی کھوٹ اور شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ جادوگر اس لیے بھی سجدہ ریز ہوئے تاکہ دیکھنے والوں کو معلوم ہو کہ جادوگروں نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ اور اپنی ناکامی دیکھ کر جادوگر سجدہ میں گِر گئے۔ جس کے لئے گرا دینے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا کہ جادوگر اس قدر مغلوب ہوئے کہ بےساختہ سجدہ میں گِر پڑے۔
جونہی فرعون نے دیکھا کہ جادوگر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لا چکے ہیں تو اس نے اپنی خفت مٹانے اور عوام پر کنٹرول رکھنے کے لیے یہ کہہ کر اعلان کیا کہ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو جو میرے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ یقیناً موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ اس جرم کے بدلے میں تمہارے مخالف سمت پر ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں پر تمہیں پھانسی دی جائے گی۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کس کا عذاب سخت اور دیر پا ہے۔
اندازہ فرمائیں کہ فرعون کس قدر کذّاب اور سفاک انسان تھا کہ خود ہی جادوگروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ جب جادوگر اپنی شکست تسلیم کرکے اپنے حقیقی رب پر ایمان لا چکے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے وزیر، مشیر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرکے اپنے حقیقی رب پر ایمان لے آتے لیکن اس کے برعکس فرعون نے جور و استبداد کا رویہ اختیار کیا اور کہا تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سزا دینے میں کس کا عذاب دیرپا اور سخت ہے۔ فرعون نے یہ الفاظ اس لیے استعمال کیے کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ جادوگر قیامت کے عذاب سے خوفزدہ ہو کر اپنے حقیقی رب پر ایمان لائے ہیں۔ اس لیے اس نے یہ دھمکی دی کہ میں مخالف سمت پر تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹتے ہوئے تمہیں کھجوروں کے تنوں پر پھانسی پر لٹکاؤں گا۔ پھر تمہیں معلوم ہوگا کہ کس کا عذاب دیرپا اور سخت ہے کیونکہ اس زمانے میں بڑے بڑے مجرموں کو اس طرح ہی موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا۔ اور کئی کئی دن کھجور کے تنوں پر ان کی لاشیں لٹکتی رہتی تھیں تاکہ عوام پر حکمرانوں کا رعب اور دبدبہ قائم ہوجائے۔
جادوگروں کے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر سر عام ایمان لانے کی وجہ سے فرعون اس قدر بدحواس ہوا کہ اس نے سب کے سامنے جادوگروں کو عبرت ناک انجام کی دھمکیاں دیں لیکن ایمان لانے والے حضرات نے یہ کہہ کر اس کی دھمکیوں کو مسترد کیا کہ اے فرعون ہم تیری مرضی اور حکم کی کیونکر پرواہ کریں۔ جبکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے روشن دلائل آچکے ہیں۔ لہٰذا جو کچھ ہمارے ساتھ کرنا چاہتا ہے کر گزر۔ لیکن یہ حقیقت یاد رکھنا کہ تیری سزائیں اس وقت تک ہیں جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔ ہم ہر قسم کا خوف اور مفادات کو چھوڑ کر اپنے رب پر ایمان لائے ہیں۔ ہماری آرزو ہے کہ ہمارے سابقہ گناہوں اور ہم نے مجبوری کے عالم میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادو کا مظاہرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے۔ ہاں تو اور تیرا اقتدار تو عارضی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی جزا اور اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جادوگر پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں ہمیں ان کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن فرعون کے مجبور کرنے پر موسیٰ (علیہ السلام) کے مد مقابل آکھڑے ہوئے تھے۔ جونہی انھوں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا معجزہ دیکھا تو وہ اپنے رب پر ایمان لے آئے کیونکہ وہ دل کی سچائی کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ اس لیے حقیقی ایمان نے انھیں جرأت و استقامت کے اس مقام پر پہنچا دیا۔ جس کا رسمی یا نسلی طور پر ایمان لانے والا شخص تصور نہیں کرسکتا۔ حقیقی ایمان کی یہی نشانی ہے کہ وہ آدمی کو چند لمحوں میں کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔
مسائل
1۔ اہل ایمان، حق کے مقابلہ میں کسی مفاد اور ظلم کی پرواہ نہیں کرتے۔
2۔ ایماندار شخص کو اپنے رب سے ہر قسم کے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔
3۔ مومن کے لیے جنت کی خوشخبری ہر چیز سے افضل ہوتی ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اسے کسی اعتبار سے بھی ضعف اور فنا نہیں ہے۔