20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsفہم القرآن

Ayahs 20:113–114

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

” اور اے نبی ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کی تنبیہات کی ہیں شاید یہ لوگ کج روی سے باز آئیں یا ان میں ہوش سے کام لیں۔ (113)

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

اللہ بادشاہ حقیقی بلند وبالا ہے۔ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کرو جب تک کہ آپ کی طرف اس کی وحی مکمل نہ ہوجائے اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا فرما۔ “ (114)

فہم القرآن ربط کلام : اس خطاب کے آخر میں نزول قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ کو حصول علم کے آداب اور ایک دعا سکھائی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے براہ راست اور اولیّن مخاطب عرب تھے جن کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا۔ نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کرکے کفر و شرک اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کریں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ لوگ جس رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ کسی نسبت اور حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کے شریک نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ مقام، شان، ذات اور اپنی صفات کے لحاظ سے اعلیٰ وارفع ہے۔ وہی بادشاہ حقیقی ہے اس کی ملک اور حکمرانی میں نہ کائنات میں کوئی شریک کار ہے اور نہ آخرت میں کوئی شریک ہوگا۔ اس حقیقت کے باوجود اگر لوگ اللہ تعالیٰ کو بلاشرکت غیر اِلٰہ نہیں مانتے تو آپ کو نزول قرآن کے بارے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو اپنی حکمت کے ساتھ وقفہ وقفہ کے ساتھ نازل کر رہا ہے تاکہ آپ کو اس کے ابلاغ اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ عجلت سے کام لینے کی بجائے آپ کو اپنے رب کے حضور مسلسل دعا کرنی چاہیے۔ اے میرے پروردگار ! میرے علم میں مزید اضافہ فرما۔ نزول قرآن کے بارے میں آپ کی طرف سے جلدی کرنے کا دوسرا مطلب مفسرین نے یہ لیا ہے کہ نزول قرآن کے ابتدائی دور میں آپ ﷺ اس غرض کے ساتھ جلدی جلد ی تلاوت کرتے کہ کہیں وحی کا کوئی حصہ عدم ضبط کا شکار نہ ہوجائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا “ کی دعا سکھلانے کے ساتھ یہ بھی ہدایت فرمائی کہ ضبط قرآن کی فکر میں اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت دینے کی ضرورت نہیں۔ آپ غور سے سنتے جائیں آپ کو قرآن مجید ضبط کروانا اور آپ کی زبان اطہر سے اس کا ابلاغ کروانا ہماری ذمہ داری ہے۔ (القیٰمۃ : 17) سورة اعلیٰ میں فرمایا۔ ہم آپ پر قرآن پڑھیں گے اور آپ بھول نہیں پائیں گے۔ [ اعلیٰ : 6] (حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُہَیْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الأَنَاۃُ مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ ) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی التانی ] ” حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا بردباری اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں نازل فرمایا۔ 2۔ قرآن مجید میں لوگوں کو ان کی برائیوں پر تنبیہات کی گئی ہیں۔ 3۔ قرآن مجید باعث نصیحت ہے۔ 4۔ اللہ ذات اور صفات کے اعتبار سے سب سے بلند وبالا ہے۔ 5۔ کسی کام میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ 6۔ علم کے اضافے کے لیے رب کے حضور مسلسل دعا کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن علم اور اہل علم کی فضیلت : 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا سکھایا۔ (العلق : 4) 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھلایا۔ (الرحمن : 4) 3۔ انسان کو رحمٰن نے قرآن سکھایا۔ (الرحمن : 2) 4۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا۔ (البقرۃ : 31) 5۔ فرشتوں نے بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔ (البقرۃ : 32) 6۔ سدھائے ہوئے جانوروں کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (المائدۃ : 4) 7۔ اللہ نے اہل علم کے درجات کو بلند فرمایا ہے۔ (المجادلۃ : 11) 8۔ کیا علم والے اور بےعلم برابر ہوسکتے ہیں۔ ( الزمر : 9)
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

” ہم نے اس سے پہلے آدم کو حکم دیا تھا مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس کے ارادے میں پختگی نہ پائی۔ “ (115)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے نبی ﷺ کو جلد بازی سے منع کیا گیا ہے۔ اب آدم (علیہ السلام) کے حوالے سے جلد بازی کی مثال اور اس کا نقصان ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں داخل کرتے وقت عہد لیا تھا کہ اے آدم (علیہ السلام) ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو۔ تمہیں اس بات کی کھلی اجازت ہے جہاں سے چاہو اور جو چاہو کھاؤ اور پیو۔ لیکن جس درخت کی نشاندہی کی گئی ہے اس کے قریب نہیں جانا۔ اگر تم اس درخت کے قریب جاؤ گے تو ظالموں میں شمار ہوگے۔ (البقرۃ : 35) لیکن آدم (علیہ السلام) اس عہد کو بھول گئے اور اس پر استقامت نہ دکھا سکے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا واقعہ موقع کی مناسبت سے قرآن مجید کے کئی مقامات پر بیان ہوا ہے۔ لیکن قرآن مجید کا حسن اسلوب ہے کہ کہیں بھی الفاظ اور انداز کا تکرار نہیں پایا جاتا۔ جہاں بھی یہ واقعہ بیان ہوا ہے اس کے الفاظ، انداز میں نمایاں فرق ہونے کے ساتھ ساتھ استدلال کی نئی شکل میں انسان کو رہنمائی کے لیے ایک الگ سبق دیا گیا ہے۔ جس کی اس موقع پر واضح مثال یہ ہے کہ قرآن مجید کے کسی دوسرے مقام پر حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بیان نہیں ہوا کہ آدم (علیہ السلام) نے درخت کے قریب جانے کی غلطی عزم بالجزم کے ساتھ کی تھی۔ صرف یہاں قرآن مجید نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے یہ خطا بھول کر کی تھی اور وہ اپنے کیے ہوئے عہد پر عزم دکھلانے میں ناکام رہے۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) بھول گئے ان کی اولاد بھی بھول جائے گی۔ [ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القران، باب ومن سورة المعوذتین ] مسائل 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھول گئے اور بھول جانا انسان کی فطرت ہے۔ 2۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد پر قائم نہ رہ سکے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا واقعہ کہاں کہاں بیان ہوا ہے : 1۔ حضرت آدم کی تخلیق کا اور ان کی خلافت کا اعلان۔ (البقرۃ : 30) 2۔ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (نوح : 17) 3۔ حضرت آدم بد بودار مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (الحجر : 26) 4۔ انسان یعنی آدم (علیہ السلام) کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ (الرحمن : 14) 5۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے۔ (آل عمران : 59)
Ayahs 20:116–119

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

” یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا۔ (116)

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے آدم سے کہا کہ دیکھو کہ شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑجاؤ۔ (117)

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

نہ تم بھوکے ننگے رہو گے۔ (118)

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

نہ تمہیں پیاس اور دھوپ ستائے گی۔ “ (119)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے عہد پر عزم بالجزم کے ساتھ قائم نہ رہنا شیطان کی وجہ سے تھا اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی دشمنی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام ملائکہ جن میں ابلیس بھی شامل تھا حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ لیکن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو کھلے الفاظ میں بتلایا کہ اے آدم ! شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ خیال رکھنا کہیں وہ تم دونوں کو اس جنت سے نکلوا کر تمہیں دنیا کی مشقت میں نہ ڈال دے۔ بلاشبہ اس جنت میں نہ تو بھوکا رہے گا اور نہ ہی ننگا ہوگا اور اس جنت میں نہ تمہیں پیاس لگی اور نہ ہی تم پر دھوپ آئے گی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بھی عیاں فرما دی کہ جنت میں تمہارے لیے ہر قسم کا آرام اور نعمتیں موجود ہیں۔ تمہیں صرف ایک درخت کے قریب جانے سے روکا گیا ہے اگر تم اس کے قریب جاؤ گے تو تمہیں جنت سے نکال باہر کیا جائے گا۔ جنت کے بعد تمہارا ٹھکانہ ایک مدت تک دنیا میں رہنا ہے۔ یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر دنیا کی مشقت کے بارے میں بتلادیا گیا کہ دنیا میں بھوک، پیاس، دھوپ ہر قسم کی تلخی اور مشقت کا تمہیں سامنا کرنا پڑے گا۔ چناچہ دنیا کی یہی حقیقت ہے کہ یہاں مومن کے لیے دکھ زیادہ اور سکھ تھوڑے ہیں۔ جنت میں صرف ایک پابندی تھی کہ درخت کے قریب نہیں جانا۔ دنیا میں مومن کے لیے بیشمار پابندیاں ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے یوں فرمایا تھا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ خَطَّ النَّبِيُّ ﷺ مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسْطِ خَارِجًا مِّنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِيْ فِي الْوَسْطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِيْ فِي الْوَسْطِ وَقََالَ ھٰذَا الْإِنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِيْ ھُوَ خَارِجٌ أَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ فَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا وَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب فی الأمل وطولہ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے ایک مربع نمالکیر کھینچی اور اس کے درمیان باہر تک لکیر لگائی پھر اس درمیانی لکیر کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو اس خانے سے باہر لکیر ہے یہ اس کی خواہشات ہیں اور یہ چھوٹی لکیریں آفات ہیں اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری اسے دبوچ لیتی ہے۔ اس سے بچتا ہے تو کوئی اور اسے آ لیتی ہے۔ “ مسائل 1۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ 2۔ شیطان آدم، حوّا اور ان کی اولاد کا ازلی دشمن ہے۔ 3۔ جنت میں بھوک، پیاس، دھوپ، مشقت نہیں ہوگی اور نہ کوئی شخص بےلباس ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبے سائے، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 5۔ جنت میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں کسی جن وانس نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ ( الرحمن : 56) 6۔ جنت میں محبت کرنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ ( الواقعہ : 37)
Ayahs 20:120–121

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

” شیطان اس کے دل میں ولولہ پیدا کرتے ہوئے کہنے لگا اے آدم کیا بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے ؟ (120)

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

پس دونوں میاں بیوی نے اس درخت کا پھل کھالیا فوراً ہی وہ ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہوگئے اور دونوں اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ راست سے بھٹک گیا۔ “ (121)

فہم القرآن ربط کلام : شیطان کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلانے میں کامیاب ہونا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ بڑے آرام و سکون کے ساتھ جنت میں رہ رہے تھے۔ جہاں چاہتے، جو چاہتے، کھاتے پیتے اور ہر جگہ ملائکہ انہیں آداب وسلام پیش کرتے۔ شیطان سے یہ منظر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اس نے اپنے خبث باطن اور ازلی دشمنی کی بنا پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کیا کہ جناب آدم ! بیشک آپ جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن یہ چار دن کی بات ہے بالآخر تجھے اس سے نکال باہر کیا جائے گا۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اس درخت کے متعلق بتلاؤں جسے کھا کر آپ ایسی بادشاہی پائیں گے جسے کبھی زوال نہ ہوگا۔ مگر حضرت آدم (علیہ السلام) شیطان کی باتوں میں آنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ نامعلوم کتنا عرصہ شیطان کس کس انداز کے ساتھ انھیں ورغلانے کی کوشش کرتا رہا۔ بالآخر ایک دن آدم (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر ورغلانے میں کامیاب ہوا کہ اے آدم (علیہ السلام) ! مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ میں مخالفت کی بجائے آپ کو اخلاص اور خیر خواہی کے ساتھ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اس درخت کا پھل کھائیں تاکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت کے وارث بن جائیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) شیطان کی قسموں پر یقین کر بیٹھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو فراموش کردیا جس کی پاداش میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ کا جنتی لباس اتر گیا اور وہ برہنہ ہوگئے۔ جو نہی وہ برہنہ ہوئے جنت کے پتے توڑ کر اپنی شرمگاہوں کو چھپانے لگے۔ جب جنت کے پتوں سے اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپتے ہوئے گھبراہٹ کے عالم میں ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں آواز دی کہ اے آدم (علیہ السلام) کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے نہیں روکا تھا ؟ اور کیا میں نے تمہیں نہیں بتلایا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان سنتے ہی حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ اپنے رب سے یہ کہہ کر معافی مانگنے لگے : (قَالَ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتہوَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) [ الاعراف : 23] کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہم کو معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو ہم ہر صورت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ شیطان نے پہلے حضرت حوا [ کو ورغلایا تھا اور حضرت حوا [ نے حضرت حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلایا۔ قرآن مجید اس کی تائید کرنے کی بجائے کھلے الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ شیطان نے براہ راست حضرت آدم (علیہ السلام) کو ورغلایا تھا۔ مسائل 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو شیطان پھسلانے میں کامیاب ہوگیا۔ 2۔ جونہی حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو ان کا لباس اتر گیا۔ 3۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا [ شرم کے مارے اپنی شرمگاہوں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے۔ تفسیر بالقرآن شیطان انسان کا ابدی دشمن ہے : 1۔ شیطان نے آدم اور حوا کو پھسلا دیا۔ (البقرۃ : 36) 2۔ شیطان نے قیدی کو حضرت یوسف کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (یوسف : 42) 3۔ شیطان نے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈلوا دیا۔ (یوسف : 100) 4۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (یوسف : 5) 5۔ شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی شیطنت سے بچنا چاہیے۔ (فاطر : 6)
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

” پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کرلی اور اس کی راہنمائی فرمائی۔ (122)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم کے بارے میں گفتگو جاری ہے چناچہ حضرت حوا [ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوجانے کے باوجود انھیں زمین پر اتر جانے کا حکم۔ پہلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو شیطان نے ورغلایا تھا مگر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور توبہ کی اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کی اور اپنی ہدایت سے نوازا۔ حضرت حوا [، حضرت آدم (علیہ السلام) کے ماتحت تھیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے خطا کروانے والا ابلیس تھا۔ اس لیے تینوں کو حکم ہوا کہ تم زمین پر اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ تاہم آدم (علیہ السلام) کو فرمایا کہ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے جس نے میری ہدایت کی پیروی کی نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ ہی قیامت کے دن اسے کوئی تکلیف پہنچے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری توبہ قبول ہوئی لیکن آسمان سے اترنا تمہارا یقینی ہے لہٰذا جنت سے نکل جاؤ اور تم زمین پر جا کر شیطان کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی کوشش کرو۔ یاد رکھنا تمہارا زمین پر جانے کا یہ معنٰی نہیں کہ تم شتر بےمہار کی طرح جدھر چاہو نکل کھڑے ہو بلکہ تمہیں ایک دستور حیات اور مسلسل ہدایات دی جائیں گی۔ جس نے اس نصیحت اور دستور حیات سے منہ پھیرلیا اس کے لیے اس کی زندگی تنگ کر دوں گا اور اسے قیامت کے دن
Ayahs 20:123–124

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اور فرمایا تم یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو جب میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے۔ جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبخت ہوگا۔ “ (123)

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ “ (124)

اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ اعراض سے مراد کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں کشادہ دست ہونے کے باوجود پریشان رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے رزق سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ دنیا کے حصول کے لیے ہلکان رہتے ہیں۔ انھیں دل کی تونگری حاصل نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کے مال کی ہوس دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ ، وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ ) [ رواہ البخاری : باب الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہتونگری دولت کی بہتات سے نہیں بلکہ دل کے غنٰی سے حاصل ہوتی ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت سے منہ پھیرنے والے ہمیشہ تنگ رہتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ دنیا پرست لوگوں کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھائے گا۔ تفسیر بالقرآن ذکر کا مفہوم اور اس کے فائدے : 1۔ قرآن ذکر ہے۔ ( الحجر : 9) 2۔ نماز ذکر ہے۔ ( العنکبوت : 45) 3۔ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد : 28) 4۔ نصیحت ذکر ہے۔ ( طٰہٰ : 144) 5۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگوں پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ (الزخرف : 36) 6۔ صبح اور شام کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو۔ (آل عمران : 41) 7۔ اے ایمان والو ! کثرت سے اللہ کو یاد کرو۔ (الاحزاب : 41) 8۔ اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعۃ : 10 ) 9۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : 35)
Ayahs 20:125–127

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

” وہ کہے گا پروردگار دنیا میں تو میں دیکھتا تھا اب مجھے اندھا کیوں اٹھایا ہے ؟ (125)

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہاں اس لیے کہ جب ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا۔ (126)

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ (127)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ میرے ذکر کو نہ بھولنا جس نے اپنے رب کے ذکر اور نصیحت کو بھولا دیا اس کی سزا یہ ہوگی کہ اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ اپنے رب سے ان الفاظ میں فریاد کرے گا۔ جس شخص کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھایا جائے گا وہ اپنے رب کے حضور التجا کی صورت میں سوال کرے گا کہ میرے رب مجھے آج اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ دنیا میں میں سب کچھ دیکھا کرتا تھا۔ رب ذوالجلال کی طرف سے اسے جواب دیا جائے گا کہ یہ سزا تجھے اس لیے دی گئی ہے کیونکہ تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا۔ اس لیے آج تمہیں بھی بھلا دیا گیا ہے۔ یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور اپنے رب کے احکام کو ماننے سے انکار کردیا۔ آخرت کا عذاب بہت سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ پہلی آیت میں اس شخص کی سزا دنیا کی تنگی کے حوالے سے بیان ہوئی۔ اس کے مقابلے میں یہاں فرمایا کہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کی تنگی اذیت ناک عذاب کی صورت میں ہوگی جو ہمیشہ رہنے والا ہوگا۔ دوسرا اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے یہ بتلایا جائے گا کہ تو اندھا ہونے پر پریشانی کا اظہار کررہا ہے۔ یہ تو تیری پریشانی کی ابتداء ہے۔ اس کے بعد جو تجھے سزا ملنے والی ہے وہ بڑی ہی سخت اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ سے جب فریاد کریں گے تو انھیں یہ کہہ کر ٹھکرا دیا جائے گا کہ آج تمہیں اس طرح ہی فراموش کیا جاتا ہے۔ جس طرح تم نے دنیا میں اپنے رب اور اس کے احکام کو فراموش کیا تھا۔ مسائل 1۔ اللہ اور اس کے احکام کو فراموش کرنے والے کو قیامت کے دن فراموش کردیا جائے گا۔ 2۔ اللہ کو فراموش کرنے والے کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 20:128–129

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

” کیا ان لوگوں کو کوئی راہنمائی حاصل نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ درحقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھنے والے ہیں۔ (128)

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدت مقرر نہ کی جاچکی ہوتی تو ضرور ان کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا۔ “ (129)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف کرنے والوں کو ناصرف آخرت میں عذاب ہوگا بلکہ انھیں دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ مشرکین مکہ کے سامنے جب آخرت کے عذاب اور پہلی قوموں کی تباہی کا ذکر کیا جاتا تو وہ نبی اکرم ﷺ کو چیلنج کے انداز میں کہتے کہ جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔ اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اس پر انہیں سمجھایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے اسی طرح ہی مجرم کی گرفت اور عذاب کا وقت متعین کیا ہوا ہے۔ اس میں آگا پیچھا نہیں ہوتا۔ اگر یہ وقت مقرر نہ کیا ہوتا تو ان لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہوتا۔ کیونکہ ان کے اعمال ان لوگوں جیسے ہوچکے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا تھا۔ کیا ان لوگوں کے لیے یہ دلیل کافی نہیں کہ ان سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا۔ جن کے رہنے سہنے کی جگہوں پر یہ چلتے پھرتے ہیں۔ اگر یہ عقل سے کام لیں تو ان کے لیے رہنمائی کے دلائل موجود ہیں۔ ” قَرَنْ “ کی جمع ’ ’ قُرُوْنَ “ ہے۔ ” قَرَنَ “ کے بارے میں اہل علم کے تین خیالات ہیں۔ 1۔ قَرَنْ سے مراد ” ایک سو سال “ 2۔ ” انسانوں کی ایک نسل “ 3۔ کسی قوم کا مخصوص دور۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ 2۔ افراد اور قوموں کی تباہی کا وقت بھی متعین ہے۔ 3۔ اگر عقل سے کام لیا جائے انسان کی ہدایت کے لیے تاریخ اور جغرافیہ کے حوالے کافی ہیں۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

” پس اے نبی جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو اور اپنے رب کی حمدوثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ سورج نکلنے سے پہلے اور غروب سے قبل اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں میں بھی تاکہ تم راضی ہوجاؤ۔ “ (130)

فہم القرآن ربط کلام : مخالفین کے عذاب کے مطالبہ پر رسول محترم ﷺ کو نماز پڑھنے اور صبر کرنے کی تلقین۔ قرآن مجید کی تلاوت اور سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ رسول کریم ﷺ بےانتہا جانفشانی، خلوص اور پر سوز طریقے کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ لیکن مخالفین کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ کی پرخلوص کوششوں کا بدتر سے بدترین جواب دیتے۔ یہاں تک کہ وہ آپ سے بار بار مطالبہ کرتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے۔ اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ انسان ہونے کے ناطے سے آپ ﷺ کو اس صورت حال سے رنج پہنچتا جس سے آپ دل گرفتہ ہوجاتے۔ ان حالات میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوتا کہ اے محبوب ! ہمت ہارنے اور دل چھوٹا کرنے کی بجائے صبر و حوصلہ سے کام لیں۔ دل کے سکون اور اپنے رب کی مدد کے حصول کے لیے نماز پڑھتے رہیں۔ کیونکہ نماز پڑھنے اور صبر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے۔ بالخصوص سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے کے وقت، رات کی ابتداء اور دن کے اطراف کے وقت اللہ کی یاد کے لیے نماز قائم کیجیے تاکہ آپ خوش ہوجائیں۔ خوش ہونے سے مرادطبیعت کا سکون اور دل کا اطمینان حاصل ہونا ہے اس کے ساتھ ہی آپ کو تابناک مستقبل کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سورة والضحیٰ میں آفتاب کی روشنی اور رات کی تاریکی کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کے رب نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ہی آپ سے ناراض ہوا ہے۔ آپ کی آخرت دنیا کی زندگی سے کہیں زیادہ بہتر ہے وہ آپ کو دنیا اور آخرت میں اس قدر عطا فرمائے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ (الضحیٰ : 1 تا 7) یہاں تہجد اور اشراق کی نماز کے اوقات کے ساتھ پنجگانہ فرض نماز کے اوقات کا تعین کردیا گیا ہے۔ اوقات نماز : صبح کی نماز سورج نکلنے سے پہلے، عصر کی نماز غروب آفتاب سے قبل، عشاء اور مغرب کی نماز رات کی ابتدائی گھڑیوں میں، فجر اور ظہر کی نماز دن کے اطراف میں۔ طَرْفَ کی جمع اَطْرَافَ ہے۔ جس کا معنٰی ہے کسی چیز کا کنارہ۔” اَطْرَاف النَّہَارَ “ کا معنی ہے صبح اور دوپہر کا وقت۔ دوپہر کا وقت دن کا کنارہ اس لیے شمار کیا جاتا ہے کہ آفتاب صبح سے لمحہ بہ لمحہ اوپر چڑھتا ہے اور نصف النہار کے بعد اترنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے مراد عصر کا وقت بھی ہوسکتا ہے۔ ” حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول محترم ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ فرماتے ہیں تم ہمارے ساتھ دو دن نمازیں ادا کرو۔ پہلے دن جب سورج ڈھلا ہی تھا تو بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اس کے بعد اقامت ظہر ہوئی پھر بلال ؓ کو نماز عصر کی اقامت کا حکم فرمایا جبکہ سورج کافی بلند اور دھوپ تیز تھی پھر سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز کھڑی فرمائی ابھی سورج کی سرخی ختم ہونے ہی پائی تھی تو عشاء کی نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا۔ پھر صبح کی نماز کا حکم دیاجب کہ فجر ابھی نمودارہی ہوئی تھی۔ جب دوسرا دن ہوا تو بلال ؓ کو نماز ظہر ٹھنڈی کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس نے ٹھنڈے وقت میں اذان کہی۔ نماز عصر تاخیر سے ادا فرمائی اسے پہلے دن سے قدرے مؤخر کیا لیکن سورج ابھی بلندی پر تھا۔ نماز مغرب سورج کی روشنی کے آثار ختم ہونے سے پہلے ادا کی۔ جب رات کا تیسرا حصہ گزر گیا تو نماز عشا ادا کی گئی، نماز فجر اس وقت ادا کی جب صبح کی روشنی خوب پھیل چکی تھی۔ اب ارشاد ہوا کہ نمازوں کے اوقات پوچھنے والا کہاں ہے ؟ وہ عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول میں حاضر ہوں۔ فرمایا کہ تمہاری نمازوں کے وقت ان اوقات کے درمیان ہیں۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلٰوۃ ] مسائل 1۔ دین کے لیے لوگوں کے طعن وتشنیع پر صبر کرنا چاہیے۔ 2 اللہ کی رضا مندی کے لیے نماز قائم کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن نماز اور ذکر کے فوائد : 1۔ وہ لوگ جو کتاب اللہ پر کار بند رہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ہم ان کے اجرکو ضائع نہیں کریں گے۔ (الاعراف : 170) 2۔ اگر کفار توبہ کریں اور نماز قائم کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ (التوبہ : 5) 3۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت : 45) 4۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 277) 5۔ اے ایمان والو ! نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153)
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

” اور نہ دراز کریں اپنی نگاہ کو دینوی زندگی کی شان و شوکت کی طرف جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ہم نے انہیں آزمانے کے لیے دنیا دی ہے اور آپ کے رب کا دیا ہوا رزق ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ “ (131)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ نبی اکرم ﷺ کو تیسری تلقین۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو فطری اور طبعی طور پر مستغنی طبیعت پیدا فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے یتیمی اور انتہائی غربت کا دور دیکھا لیکن کسی کے سامنے دست سوال نہیں پھیلایا۔ نبوت کے دور میں بھی ایسے مواقع آئے کہ کئی کئی دن تک گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اس کے باوجود اپنے اور بیگانے سے کچھ مانگنا تو درکنار کبھی کسی سے اپنی تنگدستی کا اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا۔ اسی لیے مفسرین نے اس آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ آپ کو ان الفاظ سے مخاطب کرنے کا معنٰییہ ہے کہ آپ مالدار طبقے کے بارے میں ایک حد سے زیادہ امید نہ رکھیں کہ یہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انواع و اقسام کی نعمتیں اور دنیا کی زیب وزینت اس لیے دی ہے تاکہ ان کو اچھی طرح آزمایا جائے۔ تیرے رب کا بہتر اور حقیقی رزق وہ ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ عام طور پر رزق کا معنٰیکھانے پینے والی چیز لیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا فرمائی ہے۔ یہاں ” رِزْقُ رَبِّک “ کے الفاظ استعمال فرما کر آپ ﷺ کو اور آپ کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے کہ حقیقی رزق وہ ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت میں اپنے بندوں کو عنایت فرمائے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُول اللَّہ یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُول اللَّہِ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ) فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا) [ رواہ الترمذی : باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ ] ” حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ بریدہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم ﷺ ہم کو واعظ کر رہے تھے اچانک حسن اور حسین ؓ آئے انہوں نے چھوٹی چھوٹی سرخ قمیض پہن رکھی تھیں وہ چلتے ہوئے گر رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے اور ان کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر فرمایا۔ اللہ نے سچ کہا ہے (کہ بیشک تمہارے مال واولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں) میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ وہ گرتے گراتے آرہے تھے تو میں ضبط نہ کرسکا میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا۔ “ (عَنْ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِی ِّ قَالَ کَان بالْکُوفَۃِ أَمِیرٌ قَالَ فَخَطَبَ یَوْماً فَقَالَ إِنَّ فِی إِعْطَاءِ ہَذَا الْمَالِ فِتْنَۃً وَفِی إِمْسَاکِہِ فِتْنَۃً وَبِذَلِکَ قَامَ بِہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی خُطْبَتِہِ حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ ) [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن الشخیر ] ” مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کے بارے میں بیان کرتے ہیں جو کوفہ میں امیر تھے انہوں نے ایک دن اپنے خطبے میں کہا کہ مال کے عطا کیے جانے میں بھی فتنہ ہے اور اس کے روک لیے جانے میں بھی فتنہ ہے اسی بات کو بیان کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے اور بیان کرنے کے بعد نیچے اتر آئے۔ “ (روک لیے جانے سے مراد غربت ہے جو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے۔ ) مسائل 1۔ دنیا داروں کے مال و دولت کو للچائی آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ 2۔ دنیا کا مال ہر انسان بالخصوص کافر کے لیے بڑی آزمائش ہے۔ 3۔ حقیقی اور ہمیشہ رہنے والا رزق جنت کی نعمتیں ہیں۔ تفسیر بالقرآن مال اور اولاد آزمائش ہیں : 1۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : 46) 2۔ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن : 15) 3۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15) 4۔ یقیناً مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں اور اللہ کے ہاں ہی بہتر اجر ہے۔ ( الانفال : 28) 5۔ اے ایمان والو ! تمہیں تمہارے مال اور اولاد ہلاکت میں میں مبتلا نہ کردیں۔ ( المنافقون : 9)
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

” اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کی پابندی کرو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے رزق ہم تمہیں دیتے ہیں اور انجام کی بہتری تقویٰ میں ہے۔ “ (132)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو نماز کی تلقین کی گئی اور اس آیت میں آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیں۔ ہر مسلمان بالخصوص ایک راہنما کے بنیادی فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرتا رہے تاکہ اس کی اور اس کے اہل خانہ کی ذات معاشرے کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔ رسول اکرم ﷺ کو اپنی امت اور پوری دنیا کے لیے نمونہ کے طور پر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس لیے پہلے آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ پانچ وقت نماز قائم کریں۔ اب حکم ہوا کہ اپنے گھر والوں کو بھی حکم فرمائیں کہ وہ نماز پر قائم رہیں جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ تم سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتا۔ بلکہ وہ تمہیں روزی دینے والا ہے۔ بالآخر پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کا انجام بہتر ہوگا۔ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ ] ” حضرت عمر و بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں انہیں نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے سزا دو ۔ اور ان کے بستر الگ کردو۔ “ مسائل 1۔ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا چاہیے۔ 2۔ نماز پر ہمیشگی ہونی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کا محتاج نہیں بلکہ کائنات اس کی محتاج ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رزق دینے والا نہیں۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

” وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے کوئی دلیل کیوں نہیں لاتا ؟ اور کیا ان کے پاس پہلے صحیفوں کا بیان واضح طور پر نہیں آیا۔ “ (133)

فہم القرآن ربط کلام : تقویٰ اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں دنیا دار لوگوں کی روش اور ان کا انجام۔ کفار کی عادت تھی اور ہے کہ وہ بار بار ایک ہی بات دھراتے جاتے ہیں۔ اسی بری عادت اور نبی اکرم ﷺ کو پریشان کرنے کی خاطر کفار وقفے، وقفے کے بعد مطالبہ کرتے کہ اگر آپ واقعی سچے نبی ہیں تو کوئی ایسی دلیل اور معجزہ پیش کریں جس سے ہم مجبور ہوجائیں کہ آپ واقعی ہی نبی ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے کئی جواب دیے گئے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر صرف اتنا کہنا ہی کافی سمجھا گیا کہ کیا آپ کی نبوت کے ثبوت تورات، انجیل، زبور میں نہیں پائے جاتے۔ مثال کے طور پر توراۃ اور انجیل کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں جہاں حضرت محمد ﷺ کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں : استثناء، باب 18، آیت 15 تا 19۔ متی، باب 21، آیت 33 تا 46۔ یوحنا، باب، آیت 19 تا 21۔ یوحنا، باب 14، آیت 15 تا 17 و آیت 25 تا 30، یوحنا، باب 15، آیت 25 تا 26۔ یوحنا، باب 16، آیت 7 تا 15۔ مسائل 1۔ کفار آپ سے نت نئے معجزات طلب کرتے۔ 2۔ آپ کا تذکرہ پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے ثبوت : 1۔ رسول اللہ ﷺ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف : 158) 2۔ رسول اللہ ﷺ سب کے رسول ہیں۔ (سباء : 28) 3۔ رسول اللہ ﷺ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : 45) 4۔ رسول اللہ ﷺ رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : 107) 5۔ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40)
Ayahs 20:134–135

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

” اگر ہم اس کے (قرآن) آنے سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو پھر یہ لوگ کہتے کہ اے پروردگار تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل ورسوا ہونے سے پہلے ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کرلیتے ؟ (134)

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

اے نبی ان سے فرما دیں کہ ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھے راستے پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت پانے والے ہیں۔ “ (135)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی ضرورت اور اس کی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم یہ ضابطہ اپنے لیے طے کر رکھا ہے کہ اس وقت تک لوگوں کو ہلاک نہ کیا جائے جب تک ان پر اتمام حجّت نہ ہوجائے۔ اسی لیے انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا اور یہی نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی کے طور پر مبعوث کرنے کا مقصد ہے تاکہ اہل کتاب اور قیامت تک کے لیے پیدا ہونے والے لوگوں پر حجت قائم ہوجائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو لوگ بہانہ بناتے اور کہتے کہ اے رب ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا آتا تو ہم اس کی بات مان کر اس ذلّت اور عذاب سے بچ جاتے۔ کیونکہ اب نبی آخرالزمان ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی نبوت اور دعوت کو ماننا تمام لوگوں کا فرض ہے۔ اگر آپ کی بےپناہ کوشش کے باوجود لوگ حق بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان لوگوں پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے صرف یہ ارشاد فرمائیں کہ حق کا انکار کرنے والو ! مجھ سے مزید الجھنے کی بجائے آخری فیصلے کا انتظار کرو۔ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتا ہوں۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون صراط مستقیم اور ہدایت پر ہے۔ (مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَاوَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا)[ بنی اسرائیل : 15] ” جس نے ہدایت پائی اس نے اپنے ہی لیے ہدایت پائی اور جو گمراہ ہوا اس کا وبال اسی پر ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم پیغام پہنچانے سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی کے طور پر اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں پر حجّت تمام ہوجائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر حجّت قائم کیے بغیر عذاب نہیں کرتا۔ 3۔ دنیا کی ذلّت اور آخرت کے عذاب سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ لوگ نبی آخر الزمان کی اتباع کریں۔ 4۔ منکرین حق کے ساتھ ہر وقت بحث و تقرار کرنے کی بجائے معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کردینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن داعی کو کفار کے ساتھ کیا رویہّ اختیار کرنا چاہیے : 1۔ داعی اور قائد کو ہمدرد ہونا چاہیے۔ (التوبۃ : 128) 2۔ اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلانا چاہیے۔ (النحل : 125) 3۔ فرما دیجیے یہ میرا راستہ ہے میں اس کی طرف بصیرت کے ساتھ بلاتا ہوں۔ (یوسف : 108) 4۔ انہیں آپ کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے ہیں۔ (الحج : 67) 5۔ جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوں تو آپ ان کی طرف لوگوں کو بلائیں۔ (القصص : 87) 6۔ آپ انہیں دین حق کی طرف بلائیں اور اللہ کے حکم پر قائم رہیں۔ (الشوریٰ : 15) 7۔ برائی کا بدلہ اچھائی سے دینا چاہیے۔ ( حٰم السجدۃ : 34)