Ayahs 21:1–2فہم القرآن
ربط کلام : سورة طٰہٰ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا۔ اے لوگو ! جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو اس کا انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ سورة الانبیاء کی ابتداء اس بات سے ہو رہی ہے کہ منکرین حق جس عذاب کا انتظار کر رہے ہیں وہ تو قریب آن پہنچا ہے۔
احتساب اور عذاب کا دن قریب آپہنچا ہے۔ لیکن منکرین حق غفلت کی بناء پر اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے اور سنتے ہیں۔ انھیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو قیامت کے دن تم اس میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ منکرین حق کے لیے یہ انتقام اور سخت عذاب کا دن ہوگا جو قریب ہی آن پہنچا ہے۔ اس فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت پہلے لوگوں کی نسبت تمہارے زیادہ قریب آچکی ہے قیامت سے مراد قیامت کبریٰ بھی ہے اور ہر انسان کی موت بھی جو اس کے لیے قیامت ہی ہوا کرتی ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو ہر آنے والا دن اسے موت کے قریب کر رہا ہے۔ اس طرح ہر شخص دن بدن قیامت کے قریب تر ہوا جا رہا ہے لیکن لوگ غفلت کی بنا پر اس سے لاپرواہی کیے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جب بھی نصیحت کی جائے تو وہ اسے شغل کے طور پر سنتے ہیں۔ یہی حالت نبی اکرم ﷺ کے مخاطبین کی تھی کہ جب بھی ان کے سامنے نازل ہونے والی نئی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ اس سے یہ کہہ کر اعراض کرتے ہیں کہ یہ تو اس شخص کا روز مرّہ کا کام ہے اور یہ نئی سے نئی پیشگوئی اور دھمکی دیتا ہے۔ اس پر انھیں انتباہ کیا گیا کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب تمہاری یا وہ گوئی کا حساب چکا دیا جائے گا۔
(مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ )[ لسلسلۃ الضعیفۃ و الموضوعۃ ]
” جو شخص مرگیا اس پر قیامت قائم ہوگئی “
(عَنْ شُعْبَۃَ ؓ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بُعِثْتُ اَنَاو السَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ قَالَ شُعْبَۃُ وَسَمِعْتُ قَتَادَۃَیَقُوْلُ فِیْ قَصَصِہٖ کَفَضْلِ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَلَا اَدْرِیْ اَذَکَرَہُ عَنْ اَنَسٍٍٍ اَوْ قَالَہُ قَتَادَۃُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ]
حضرت شعبہ، قتادہ ; سے اور وہ حضرت انس ؓ سے بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے شعبہ کہتے ہیں میں نے قتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جیسا کہ ان دونوں انگلیوں میں سے ایک کو دوسری پر برتری حاصل ہے شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے حضرت انس ؓ سے بیان کیا ہے یا قتادہ کا قولنقل ہے۔ “ (یعنی نبی ﷺ اور قیامت کے دن کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آنا)
مسائل
1۔ قیامت ہر شخص کے قریب سے قریب تر ہو رہی ہے۔ 2۔ قیامت کے دن ہر شخص کا حساب چکا دیا جائے گا۔
3۔ لوگ قیامت کے بارے میں غفلت کا روّیہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ 4۔ حق کے منکر حق بات کو بھی شغل کے طور پر لیتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
منکرین کا حق کے ساتھ رویہّ :
1۔ منکرین کے پاس جب نصیحت آتی ہے تو اسے ہنسی کھیل کے طور پر لیتے ہیں۔ (الانبیاء : 2)
2۔ جب ان کے پاس حق آتا ہے تو کہتے ہیں یہ سراسر جادو ہے۔ (یونس : 76)
3۔ منکرین نے حق کی تکذیب کی اور یہ لوگ بےبنیاد بات پر جمے ہوئے ہیں۔ (ق : 5)
4۔ منکرین حق کے مقابلہ میں ظن کی پیروی کرتے ہیں اور ظن حق کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم : 28)
5۔ جب ان کے پاس حق آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جادو ہے ہم اس کو نہیں مانتے۔ ( الزخرف : 30)
6۔ جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی وہ چیز عطا کی جاتی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی۔ (القصص : 48)
Ayahs 21:3–4فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے بارے میں لاپرواہی اور حق بات کو شغل کے طور پر لینے کا بنیادی سبب دل کی غفلت ہے۔
انسان کا دل، حق بات کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجائے تو مؤثر ترین بات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہی حالت سرور دو عالم ﷺ کے مخالفین کی تھی۔ جس کا ” قَالُوْا قُلُوْا بُنَا غُلْفٌ“ کہہ کر برملا اعتراف کرتے تھے۔ (البقرۃ : 88) کہ ہمارے دل پر دہ میں ہیں۔ اسی بناء پر انھوں نے اپنی خفیہ مجالس میں پوری راز داری کے ساتھ ایک منظم پراپیگنڈہ کا فیصلہ کیا جس کے پیش نظر وہ لوگوں کو کہتے کہ محمد یوں ہی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے جیسا انسان ہے اس میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ وہ یہ کہہ کر بھی لوگوں کو متنفر کرتے کہ لوگو ! کیا تم جیتے جاگتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اس کے جادو میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ جادوگر پیٹ کے دھندے کی خاطر نہ صرف الٹے سیدھے کرتب دکھاتا ہے بلکہ اسے جادو کرنے کے لیے دانستہ طور پر گندا اور ناپاک رہنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر جادوگر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ نبی محترم ﷺ میں ایسی کوئی کمزوری موجود نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ آپ کو جادوگر کہتے کیونکہ آپ کی ذات اور دعوت میں اس قدر تاثیر تھی کہ آپ پر ایمان نہ لانے والے لوگ بھی آپ ﷺ کی ذات اور بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ یہی وہ الزام ہے جو پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر بھی لگایا جاتا تھا۔ جہاں تک آپ کے بشر ہونے کا تعلق ہے اس بات کا آپ ﷺ اور آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) برملا اعتراف کرتے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم تمہارے جیسے انسان ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہمیں اپنے کام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ (ابراہیم : 11) اس اعتراف کے باوجود مخالفین آپ کے بشر ہونے کو بہانہ بنا کر لوگوں کو دین سے دور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ بیشک آپ بشر تھے لیکن پوری بنی نوع سے اعلیٰ اور افضل تھے، مگر پھر بھی مشرکین مکہ آپ کو جادوگر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ جس کا یہ کہہ کر جواب دیا گیا کہ میرا رب نہ صرف زمین پر ہونے والی باتوں کو جانتا ہے بلکہ وہ زمین و آسمان کی ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔
جادو کیا ہے ؟
(اَلسِّحْرُ ہُوَ عَقْدٌ وَرُقیً وَکَلَامٌ یُتَکَلَّمُ بِہٖ اَوْ یَکْتُبُہُ اَوْیَعْمَلُ شَیْءًا یُؤَثَّرُ فِیْ بَدَنِ الْمَسْحُوْرِ اَوْ قَلْبِہٖ اَوْ عَقْلِہٖ ) [ المغنی ابن قدامہ ]
” جادو، دم گرہیں ‘ دم اور ایسی تحریر یا حرکات پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے دوسرے کے وجود اور دل و دماغ پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ “
(وَالسِّحْرُہُوَ مُرَکَّبُ مِّنْ تَأْ ثِیْرَاتِ الْاَرْوَاحِ الْخَبِیْثَۃِ وَانْفِعَالِ الْقُوٰی الطَّبِیْعِیَّۃِ عَنْھَا) [ زاد المعاد ]
” جادو خبیث جنات کے ذریعے کیا جاتا ہے جس سے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ “
جادو کوئی مستقل اور مستند علم نہیں کہ جس کو کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ متعین کیا گیا ہو کیونکہ جادو تصنّع بازی کا نام ہے اس لیے ہر دور میں اس کی کرشمہ سازی اور اثر انگیزی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔
1۔ کفر یہ، شرکیہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے جادو کرنا۔ 2۔ خبیث جنّات اور شیاطین کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا۔
3۔ علم نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں دینا اور دوسرے کو متاثر کرنا۔ 4۔ توجہ، مسمریز کی مخصوص حرکات، (ہیپناٹیزم) کیساتھ حواس خمسہ کو قابو کرنا۔
تفصیل کے لیے البقرۃ آیت 103 کی تفسیر دیکھیں۔
مسائل
1۔ قرآن مجید کی تاثیر سے مرعوب ہو کر کفار اسے جادو قرار دیتے تھے۔
2۔ کفار آپ ﷺ کے خلاف منظم پر اپیگنڈہ کیا کرتے کہ آپ ایک عام انسان اور جادوگر ہیں۔
3۔ نبی اکرم ﷺ نبی نوع کے اعتبار سے انسان تھے مگر پوری کائنات سے اعلیٰ اور افضل ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے :
1۔ اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : 5) 2۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : 216)
3۔ اللہ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : 30) 4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : 7)
5۔ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : 19) 6۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام : 59)
7۔ کیا آپ نہیں جانتے اللہ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الحج : 70)
8۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : 74)
9۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تمہارے دلوں میں پرورش پانے والے خیالوں سے بھی واقف ہے۔ (البقرۃ : 235)
Ayahs 21:5–6فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی ذات پر کفار کا دوسرا اور تیسرا الزام۔
سرورِ دو عالم ﷺ کی مخالفت میں کفار اس حد تک بدحواس ہوچکے تھے کہ وہ قرآن مجید کی تاثیر اور اس کی فصاحت و بلاغت ماننے کے باوجود لوگوں کے سامنے یہ پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ تو خواب میں دیکھے جانے والے پراگندہ خیالات ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ کبھی کہتے یہ شخص توشاعر ہے۔ اگر یہ واقعی ہی رسول ہوتا تو جس طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ بھیجے گئے یہ بھی کوئی معجزہ پیش کرتا۔ یہاں ان الزامات کا فقط یہ جواب دیا گیا ہے کہ جنھیں ہم نے ہلاک کیا تھا۔ وہ بھی معجزات دیکھنے کے باوجود اپنے انبیاء پر ایمان نہیں لائے تھے اگر ان کے پاس ان کا منہ مانگا معجزہ آجائے تو کیا پھر یہ ایمان لے آئیں گے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے چاند کا دو ٹکڑے ہونا، معراج کے موقعہ پر مسجد اقصیٰ کا نبی ﷺ کے سامنے لایا جانا اور اس کو دیکھ دیکھ کر کفار کو ٹھیک ٹھیک مسجد اقصیٰ کی نشانیاں بتلانا، پتھروں کا آپ ﷺ کی نبوت کی شہادت دینا۔ اس طرح کے کئی معجزات کفار کے مطالبات پر ظاہر ہوچکے تھے۔ مگر اس کے باوجود اہل مکہ کی غالب اکثریت فتح مکہ سے پہلے ایمان نہیں لائی تھی۔ جس بناء پر ارشاد ہوا کہ اگر ان کا منہ مانگا معجزہ بھی انھیں دکھلا دیا جائے تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ جہاں تک آپ پر شاعر ہونے کا الزام ہے۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ ” شاعر کے دماغ میں شیطان ادھر ادھر کی باتیں ڈالتا ہے اور وہ اکثر جھوٹ ہوتی ہیں اور شاعروں کی پیروی کرنے والے اکثر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ “ ( نبی ﷺ پر شاعر ہونے کا الزام لگانے والو ! غور کرو) کہ شاعر تو ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں اور وہ باتیں کہتے ہیں جن پر ان کا عمل نہیں ہوتا۔ (الشعراء : 223 تا 226) قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس الزام کا یہ بھی جواب دیا گیا ہے۔ ” ہم نے اپنے پیغمبر کو شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی شایان شان ہے۔ وہ شعر کہیں جس بات کو یہشاعری کہتے ہیں یہ تو نصیحت اور واقع ہی قرآن مجید ہے۔ (یٰس : 96) ستائیسویں پارہ میں اس الزام کا اس طرح جواب دیا ہے : کفار کہتے ہیں کہ یہ تو شاعر ہے۔ اس لیے ہم اس کے متعلق حادثات زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان سے فرما دئیں کہ انتظار کرو میں بھی تمہارے بارے میں منتظر ہوں۔ (الطور : 29۔ 30)
اچھے شعر قابل تعریف ہیں :
(وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَھَا الشَّاعِرُ کَلِمَۃُ لَبِیْدٍ أَلَاکُلُّ شَیْءٍ مَاخَلا اللّٰہَ بَاطِلُ ) [ رواہ البخاری : باب مَا یَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا یُکْرَہُ مِنْہُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ سب سے زیادہ درست بات، جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کی بات ہے کہ ” سنو ! اللہ کے علا وہ تمام چیزیں فنا ہونے والی ہیں۔ “
(وَعَنْ أُبَیِّ ابْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً ۔ ) [ رواہ البخاری : باب مَا یَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا یُکْرَہُ مِنْہُ ]
” حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا ‘ بلا شبہ بعض اشعار حکمت سے لبریز ہوتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ کفار قرآن مجید کو خواب کی باتیں قرار دیتے تھے۔ 2۔ کفار نبی اکرم ﷺ کو شاعر کہتے تھے۔
3۔ کفار آپ ﷺ سے نئے سے نیا معجزہ مانگتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
شعر اور شاعر کی حقیقت :
1۔ ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھلائے اور نہ ہی یہ آپ کے لیے لائق ہے۔ (یٰس : 69)
2۔ شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں وہ ہر وادی میں گھومتے ہیں اور وہ کچھ کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں (الشعراء : 224 تا 226)
3۔ قرآن مجید کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تھوڑے ہی لوگ ایمان لاتے ہیں۔ (الحاقۃ : 41)
4۔ آپ اپنے رب کے فضل وکرم سے شاعر اور مجنون نہیں ہیں۔ ( القلم : 2)
شعر اور شعراء کے بارے میں سورة الشعراء کی آیت 225 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 21:7–8فہم القرآن
ربط کلام : آپ ﷺ کے بشر ہونے کا ایک اور جواب۔
قرآن مجید نے آپ ﷺ اور انبیاء (علیہ السلام) کے حوالے سے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ اور پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے۔ اور سب کے سب کھانے، پینے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانے پینے کی حاجت سے بےنیاز ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دنیا سے انتقال کر گئے۔ کہ اگر ان لوگوں کو اس بات پر پھر بھی یقین نہیں آتا تو انھیں چاہیے کہ اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ جتنے پیغمبر بھی آپ ﷺ سے پہلے مبعوث کیے گئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے۔ اہل ذکر سے مراد اہل علم ہیں جو شریعت کا علم رکھنے والے ہیں اور بخل و خیانت سے کام نہیں لیتے۔ اہل الذّکر کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے علماء سے مسئلہ دریافت کیا جائے۔ جن کی دین کے بارے میں یادداشت اچھی ہو اور ” اللہ “ کے خوف سے سچی بات بتلانے والے ہوں۔
آپ ﷺ کا فرمان کہ میں ایک بشر ہوں :
(عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ صَلَّی النَّبِیُّ ﷺ قَالَ إِبْرَاہِیمُ لاَ أَدْرِی زَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قیلَ لَہُ یَا رَسُول اللَّہِ ، أَحَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْءٌ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّیْتَ کَذَا وَکَذَا فَثَنَی رِجْلَیْہِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَالَ إِنَّہُ لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْءٌ لَنَبَّأْتُکُمْ بِہِ ، وَلَکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ ، أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِی، وَإِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَتَحَرَّی الصَّوَابَ ، فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ثُمَّ یُسَلِّمْ ، ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ) [ بخاری : باب التوجہ نحوالقبلۃ ]
” حضرت علقمہ سیدنا عبداللہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھائی تو نماز میں کچھ کمی بیشی ہوگئی جب سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا ” یا رسول اللہ ﷺ نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں ؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی رکعت پڑھی ہیں یہ سن کر آپ واپس ہوئے پھرے قبلہ کی طرف چہرہ کیا۔ سہو کے دوسجدے کیے پھر سلام پھیرا پھر ہماری طرف چہرہ کر کے فرمایا : اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آتا تو میں ضرور تمہیں بتادیتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑجائے تو یقین کے مطابق اپنی نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے اور بھول کے دو سجدے کرلے۔ “
” سیدنا رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور کی پیوندکاری کرتے تھے آپ نے فرمایا : یہ کیا کرتے ہو ؟ صحابہ کرام ؓ نے جواب دیا ہمارا یہی طریقہ ہے آپ نے فرمایا : اگر تم یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔ لوگوں نے پیوند کرنا چھوڑ دیا تو کھجوریں پھل کم لائیں۔ صحابہ ؓ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : میں بھی ایک بشر ہی ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو۔ جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں بھی آخر آدمی ہوں۔[ مسلم، کتاب الفضائل، باب وجوب امتثال ]
مسائل
1۔ تمام کے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) انسان تھے۔ 2۔ آدمی کو معلوم نہ ہو تو اسے اہل علم سے پوچھ لینا چاہیے۔
3۔ تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کھانے پینے والے انسان تھے۔ 4۔ کسی نبی کو بھی ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ تھی۔
تفسیر بالقرآن
تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے :
1۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم کے پاس انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : 4)
2۔ انبیاء اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11) 3۔ اللہ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : 109)
4۔ اللہ نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : 43)
5۔ رسول اللہ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشرہوں۔ (الکہف : 110)
6۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : 24)
Ayahs 21:9–10فہم القرآن
ربط کلام : حق کا انکار کرنے والوں کو انبیائے کرام عذاب الٰہی کی وعید سناتے۔ جسے منکرین جھوٹ قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام پر عذاب نازل کرکے انبیاء کے وعدہ کو سچ کر دکھایا۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو عذاب سے نجات دی اور منکرین حق کو تباہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے جو کتاب نازل کی ہے اس میں عبرت کے طور پر پہلی اقوام کی بربادی اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی کامیابی کا ذکر موجود ہے بشرطیکہ لوگ عقل سے کام لیں۔ اگر لوگ عقل استعمال کریں گے تو یقیناً نصیحت پاجائیں گے۔ کچھ مفسرین نے ” ذِکْرِکُمْ “ کا یہ معنیٰ بھی لیا ہے کہ یہاں ذکر سے مراد لوگوں کے مسائل کا حل ہے تاکہ وہ قرآن مجید کی رہنمائی میں اپنے مسائل کا حل کرسکیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) سے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ 2۔ قرآن مجید عقلمند لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔
3۔ قرآن مجید لوگوں کے مسائل کا حل بتلاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے نزدیک عقل و فکر کی اہمیّت :
1۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے پیغام ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (ابراہیم : 52)
2۔ نصیحت تو بس عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔ (آل عمران : 7)
3۔ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہوسکتے عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الزمر : 9)
4۔ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے وہ حق ہے عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الرعد : 19)
Ayahs 21:11–15فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر الزام لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کیا ان کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کیا جن کے رہنے والے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ظلم کرنے والے تھے۔ انھیں تباہ و برباد کرکے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ قوموں کی تباہی اور دوسری اقوام کو لانے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جمع کی ضمیر (ہُمْ ) استعمال فرمائی ہے۔ جس کا مقصد جلالت و جبروت کا اظہار کرنا ہے۔ چناچہ جب ظالم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا مظاہرہ کیا اور ظالموں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارا بچنا مشکل ہے تو وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ انہیں کہو بھاگنے کی بجائے اپنے مال و دولت، عیش و عشرت اور محلات میں ٹھہرے رہو تاکہ تمہاری اچھی طرح پوچھ گچھ کی جاسکے۔ پوچھ گچھ سے مراد وہ عذاب ہے جس میں وہ مبتلا کیے گئے۔ گویا کہ انھیں ان کے مال و دولت سمیت تباہ کردیا گیا۔ جن محلات اور مکانات میں رہتے تھے وہی ان کے لیے قبرستان بن گئے۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس بات کا اقرار کرتے رہے کہ ہم پر ظلم نہیں ہوا بلکہ ہم خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ ان کے اقرار کے باوجود۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ریزہ ریزہ کردیا جس میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔ اس حالت میں ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ تھا، باوجود اس کے وہ آہ وزاریاں کررہے تھے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب کسی قوم پر نازل ہوتا تو انھیں بھاگنے کی مہلت نہیں ملتی۔
2۔ ہلاک ہونے والے لوگ اپنے جرائم کا اعتراف کیا کرتے تھے۔
3۔ جس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو تو وہ راکھ کے ڈھیر کی مانند ہوجاتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ کے عذاب کے وقت ظالموں کی حالت :
1۔ کیا وہ بےفکر ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب یا قیامت اچانک آلے اور انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ (یوسف : 107)
2۔ ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ بیخبر تھے۔ ( الاعراف : 95 )
3۔ ہم ان کے پاس اچانک عذاب لے آئیں گے اور انہیں معلوم نہ ہوگا۔ (العنکبوت : 53 )
4۔ اللہ جب مصیبت نازل کرتا ہے تو اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ کوئی اسے بچانے والا ہوتا ہے۔ (الرعد : 11)
5۔ ” اللہ “ کے عذاب سے ظالموں کو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ (الرعد : 34)
6۔ ” اللہ “ نے ظالموں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑلیا اور انہیں کوئی بچانے والا نہ تھا۔ ( المومن : 21)
7۔ ” اللہ “ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ (ہود : 43)
8۔ ” اللہ “ کی گرفت بہت سخت ہوا کرتی ہے۔ (البروج : 12)
Ayahs 21:16–18فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہلاک ہونے والے سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کھیل تماشا کے طور پر بنایا ہے اور دنیا ہمیشہ اس طرح ہی رہے گی۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا
ہلاک ہونے والے لوگ فکری یا عملی طور پر سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی تفریح یا محض اپنی قدرت کے اظہار کے طور پر پیدا کیا ہے۔ دنیا کی تو کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کا انجام۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے وہ لوگ دنیا پر اس قدر راضی اور قانع ہوئے کہ انھوں نے اپنے اور زمین و آسمان کے خالق کو نا صرف یکسر طور پر فراموش کردیا بلکہ اس کی بغاوت کرنے میں انتہا کردی۔ جس کے نتیجہ میں انھیں اس دنیا میں ہی عبرت کا نشانہ بننا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے اعتقاد اور کردار کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ پیدا کیا ہے اسے کھیل تماشہ کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اگر ہماری منشاء یہ ہوتی تو ہم یہ تماشہ اپنے پاس عرش معلی پر کرتے۔ اس کائنات کو بنانے اور انسان کو پیدا کرنے کا مقصد تو یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ، کھرے اور کھوٹے، حق اور باطل میں امتیاز ہوجائے۔ اسی لیے دنیا میں حق و باطل کے معرکے ہوئے اور قیامت تک برپا ہوتے رہیں گے۔ اس معرکہ آرائی میں حق پرست ثابت قدمی دکھائیں تو بالآخر حق کی فتح ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حق کو باطل پر غالب کرتا ہے۔ یہاں تک کہ باطل دب جاتا ہے۔ جو لوگ جھوٹ اور باطل کی حمایت کرتے ہیں ان کا انجام خرابی اور بربادی ہی ہوا کرتا ہے۔ حق و باطل کے معرکہ میں، حق کے غالب آنے کی جو گارنٹی دی گئی ہے اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ بیشک باطل بظاہر کتنے کروّفر کے ساتھ ترقی کر رہا ہو اور اس کے باوجود حق فکری عملی طور پر اپنا آپ منوا کر رہتا ہے۔ اس سلسلہ میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مثال ہمارے سامنے ہے جو لوگ انبیاء کے جھوٹا ہونے کا پراپیگنڈہ کرتے تھے۔ نجی مجالس میں وہ بھی ان کی سچائی اور امانت کا اقرار کرتے تھے۔ جنھوں نے حق کو دبانے کی کوشش کی وہ بھی دلائل کی بنیاد پر حق کو جھوٹ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو یوں بھی بیان فرمایا ہے کہ ” اللہ “ نے اپنے رسول کو دین اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا تاکہ باطل ادیان پر اسے غالب کر دے۔ غلبہ سے حقیقی مراد دلائل کی بنیاد پر غلبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلیل کی بناء پر کوئی شخص دین کی کسی بات اور اصول کو ناقابل عمل یا غلط ثابت نہیں کرسکتا یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے۔ بیشک کفار اور مشرکین کے لیے یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ (الصٰفٰت : 8، 9)
جہاں تک حق کے غلبہ کا تعلق ہے تاریخ اسلام میں بدر و حنین کے معرکے اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ البتہ مسلمانوں کو اسی وقت ہی غلبہ نصیب ہوگا جب وہ اخلاص کے ساتھ اجتماعی طور پر اسلام کے ساتھ عملاً وابستہ ہوں گے۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مسلمانوں بےدل نہ ہونا اور نہ غم کرنا اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔ (آل عمران : 139)
(اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَلَا یُعْلٰیٰ ) [ ارواء الغلیل حدیث نمبر : 1268]
” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے کھیل تماشا کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ حق کو باطل پر غالب کرتا ہے۔ 3۔ باطل کی حمایت کرنے والوں کے لیے بربادی ہے۔
تفسیر بالقرآن
حق غالب رہنے کے لیے آیا ہے :
1۔ حق ہمیشہ غالب رہے گا۔ (الانبیاء : 18) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حق غالب رہنے کے لیے نازل کیا ہے۔ (الصّٰفّٰت : 9)
3۔ اللہ تعالیٰ حق کو باطل پر مسلط کرتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 81) 4۔ مسلمان غالب ہوں گے بشرطیکہ ایماندار ہوں۔ (آل عمران : 139)
5۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرنا چاہتا ہے۔ (الانفال : 7) 6۔ حق کے بعد گمراہی ہے۔ (یونس : 32)
Ayahs 21:19–20فہم القرآن
ربط کلام : اے نافرمانوں تم اپنے رب کی عبادت کرو یا نہ کرو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تابعدار اور عبادت گزار ہے۔
چند آیات پہلے اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی ظالم بستیوں کو نیست و نابود کیا جس کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو تفریح طبع اور کھیل تماشا کے طور پر پیدا کیا ہے۔ جس وجہ سے انھوں نے حق بات ماننے اور ” اللہ “ کی اطاعت کرنے میں لاپرواہی کی اور ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں ایسی باتیں کرتے رہے جو رب تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ان کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جس طرح چاہے باطل پر حق کو غلبہ دیتا ہے۔ جب اس کا فیصلہ صادر ہوجائے تو کوئی اس کے فیصلہ کے سامنے دم نہیں مار سکتا کیونکہ زمین و آسمان اسی کی ملکیت ہیں اور اس کے پاس جو فرشتے حاضر رہتے ہیں وہ ایک لمحہ بھی اس کی عبادت سے کتراتے اور تھکتے نہیں وہ دن رات اس کی حمد و ستائش کے گن گاتے ہیں۔ انھیں اپنے رب کی یاد اور عبادت سے ذرّہ برابر تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ ملائکہ سب کے سب اپنے رب کی عبادت اور اطاعت میں بلا تامّل اور بلا تعطّل مصروف رہتے ہیں کیونکہ ان کا وجود اپنے رب کی اطاعت اور عبادت کا مرہون منت ہے۔ لیکن اس فرمان میں جن ملائکہ کا ذکر ہے ان سے مراد عرش معلی کے قریب تر رہنے والے ملائکہ ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے کہ ” جو ملائکہ اللہ تعالیٰ کا عرش اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے ہیں وہ اپنے رب کی شایان شان تسبیح پڑھتے ہیں اور پوری طرح اپنے رب کا حکم ماننے والے ہیں اور مومنوں کے حق میں اپنے رب سے بخشش مانگتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تیرے علم اور رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ جو لوگ تیرے حضور توبہ کرتے ہیں اور تیرے راستے پر چلتے ہیں انھیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔ اے ہمارے رب ! انھیں اپنے وعدے کے مطابق ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل فرما۔ ان کے ماں باپ، بیویوں اور نیک اولاد کو بھی ہمیشہ کی جنت میں داخل فرما یقیناً تو ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔ “ (المومن : 7۔ 8)
ملائکہ کی تعداد اور دعائیں :
( عَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اُتِیْتُ بالْبُرَاق وَھُوَ دَآبَّۃٌ اَبْیَضُ طَوِیْلٌ فَوْقَ الْحِمَارِوَدُوْنَ الْبَغْلِ یَقَعُ حَافِرُہٗ عِنْدَ مُنْتَھٰی طَرَفِہٖ فَرَکِبْتُ حَتّٰی اَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدَسِ فَرَبَطْتُّہٗ بالْحَلْقَۃِ الَّتِیْ تَرْبِطُ بِھَا الْاَنْبِیَاءُ قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّیْتُ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَ نِیْ جِبْرَءِیْلُ بِاِنَاءٍ مِّنْ خَمْرٍٍ وَّاِنَاءٍ مِّنَ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرَءِیْلُ اِخْتَرْتَ الْفِطْرَۃَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَاءِ ۔۔ وَقَالَ فِیْ السَّمَاء السَّابِعَۃ فَاِذَا اَنَا بِاِبْرَاھِیْمَ مُسْنِدًا ظَھْرَہٗ اِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ وَاِذَا ھُوَ یَدْخُلُہٗ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ لَّا یَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ ۔۔ ) [ رواہ مسلم : باب الإِسْرَاءِ بِرَسُول اللَّہِ ﷺ إِلَی السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ ]
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ میرے پاس ایک براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا جانور تھا ‘ جس کا قد لمبا اور وہ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اس کا قدم اس کی حد نگاہ پر پڑتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس پہنچا۔ میں نے براق کو اس حلقہ سے باندھ دیا ‘ جس سے انبیاء (علیہ السلام) اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور دو رکعتیں ادا کیں۔ باہر نکلا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے شراب اور ایک دودھ کا برتن پیش کیا میں نے دودھ کو پسند کیا۔ اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا ‘ آپ نے فطرت کو پسند فرمایا ہے۔ پھر آسمان کی طرف ہمارا عروج شروع ہوا۔۔۔ مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے تھا۔ وہ بیت المعمور سے کمر لگائے بیٹھے تھے۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور جن کی باری پھر کبھی نہیں آتی۔۔ “
مسائل
1۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک اور اس کے تابع فرمان ہے۔ 2۔ ملائکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
3۔ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کی تسبیح پڑھنے سے اکتاتے اور تھکتے نہیں۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتی ہے :
1۔ ساتوں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 44)
2۔ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ (الحدید : 1) 3۔ آسمانی برق اپنے رب کی حمد کرتی ہے۔ (الرعد : 13)
4۔ اللہ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ (المومن : 7)
5۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کیا اور وہ بھی صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ (الانبیاء : 79)
Ayahs 21:21–23فہم القرآن
ربط کلام : رب کے نافرمان نہ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک بناتے ہیں۔
ہر دور میں ایسے لوگ ہوئے ہیں اور رہیں گے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے معاون اور اس کی خدائی میں حصہ دار ہیں۔ ان میں بعض لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور وہ اس کی خدائی میں شریک ہیں جس بناء پر وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ملائکہ اور دوسروں کو معبود بناتے ہیں ان کے عقیدہ کی یہاں تین دلائل کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔
1۔ جنھوں نے ملائکہ اور زمین میں سے کسی کو معبود بنا لیا ہے۔ کیا وہ مشرکوں کے مرنے کے بعد انہیں اٹھانے کی سکت رکھتے ہیں ؟ ہرگز نہیں !
2۔ اگر زمین و آسمان میں ایک کی بجائے دو الٰہ ہوتے تو ان کے درمیان ضرور تصادم ہوتا۔ جس سے زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے عقائد اور بےہودہ باتوں سے مبّرا اور پاک ہے۔ وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر مستوی ہے۔ چودھویں پارہ میں اس باطل عقیدہ کی یوں نفی کی گئی ہے کہ ” لوگو ! تمہارے رب کا فرمان ہے کہ زمین و آسمان میں دو الٰہ سمجھنے اور بنانے کی بجائے صرف ایک ہی اِلٰہ پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ معبود برحق ایک ہی ہے بس اسی سے ڈرتے رہو۔ “ (النحل : 51)
پندرھویں پارہ میں ارشاد فرمایا۔ ” اے پیغمبر ! انھیں سمجھائیں جس طرح یہ لوگ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الٰہہوتا تو دوسرا الٰہ ضرور عرش کی طرف چڑھ دوڑتا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی باتوں سے مبرا، پاک اور بلند وبالا ہے۔ “ (بنی اسرائیل : 42۔ 43)
سورۃ المومنون آیت : 91 میں اس طرح ارشاد ہوا۔
” اللہ “ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ دوسرا اِلٰہ ہے۔ اگر دوسراِ لٰہ ہوتا تو وہ اپنی مخلوق کو الگ کرنے کی کوشش کرتا اور وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ “
3۔ جہاں تک ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود سمجھنے یا اس کی خدائی میں شریک کرنے کا معاملہ ہے تو ان لوگوں کو اس پر سوچنا چاہیے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی باقی مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے محکوم اور اس کے حضور مسؤل ہیں۔ ان کے ذمّہ جو ڈیوٹی ہوتی ہے اس کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے حکم صادر فرماتا ہے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
(وَقَالَ اأبُوْ ذَرٍ ؓ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّہِ ﷺ یَقُوْلُ مَا الْکُرْسِیُّ فِیْ الْعَرْشِ إِلَّا کَحَلْقَۃِ مِنْ حَدِیْدٍ األْقِیَتْ بَیْنَ ظَہْرِیْ فُلَاۃٍ مِنْ الْاأرْضِ ) [ تفسیر طبری ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا کرسی عرش کے مقابلے میں ایک لوہے کی انگوٹھی کی طرح ہے جو چٹیل میدان میں پڑی ہوئی ہو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی زندہ کرنے والا نہیں۔ 2۔ اگر دو الٰہ ہوتے تو ان کے درمیان ضرور اختلاف پیدا ہوتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے باطل عقیدہ سے بلند اور ان کی بےہودہ باتوں سے پاک ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ہر کوئی مسؤل ہے اور ” اللہ “ سے کوئی سوال کرنے والا نہیں ہے۔
تفسیر بالقرآن
ایک سے زیادہ معبود ہونے کی بجائے صرف ایک ہی الٰہِ حق ہے :
1۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ رحمن ورحیم ہے (البقرۃ۔ 163)
2۔ یقیناً اللہ ہی اکیلا الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ 171)
3۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73) 4۔ اللہ کا فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ کیونکہ الٰہ ایک ہی ہے۔ (النحل : 51)
Ayah 21:24فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں وہ مختار کل اور قادر مطلق ہے مگر اس کے باوجود لوگوں نے اِلٰہ حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کو مشکل کشا بنا رکھا ہے اگر وہ مشکل کشا ہیں تو ان کے سچا ہونے کی کوئی عقلی و نقلی دلیل پیش کریں۔
جنھوں نے اِلٰہِ حق کو چھوڑ کر دوسرے اِلٰہ بنا رکھے ہیں۔ ان کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ اگر ان کے پاس اپنے معبودوں کے برحق ہونے کی کوئی عقلی و نقلی دلیل ہے تو وہ سامنے لائیں۔ مجھ پر اور مجھ سے پہلے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر کتابیں نازل ہوئی ہیں ان میں عقلی و نقلی دلائل موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اس حقیقت سے ناآشنا اور اپنی بےعلمی کی وجہ سے حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
یہاں ” ذکر “ کا معنی نصیحت بھی ہے اور عقیدۂ توحید بھی۔ مراد یہ ہے یہی میرا، میرے ساتھیوں اور مجھ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) کا عقیدہ اور نصیحت ہے۔ جہاں تک اِلٰہِ حقیقی کے سوا کسی دوسرے اِلٰہ کا تعلق ہے اس کی کوئی عقلی و نقلی دلیل موجود نہیں۔ جس کا بین اور ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ مانتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں اس کا حساب اس کے رب کے ہاں ہوگا۔ یقین جانو کہ کافر کبھی فلاح نہیں پائے گا۔ (المومنوں : 117) کافر سے مراد یہاں کلمہ نہ پڑھنے والا بھی ہے اور مشرک بھی۔ اِلٰہ کا معنٰی ہے حاجت روا، مشکل کشا اور وہ ذات جس کے ساتھ انتہا درجے کی محبت کرتے ہوئے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اِسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ )[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو انہیں یاد کرلے گا جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “
(یاد کرنے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اسمائے گرامی کے مطابق عقیدہ بھی اختیار کیا جائے۔ )
مسائل
1۔ مشرک کے پاس اپنے عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
2۔ نبی اکرم ﷺ ، اور پہلے انبیائے (علیہ السلام) کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ حق نہیں ہے۔
3۔ لوگوں کی غالب اکثریت عقیدۂ توحید سے نابلد اور اس سے منہ موڑنے والی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اِلٰہ کے معانی اور اس کی عبادت کا حکم :
1۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی الٰہ ہے ( المائدۃ : 73)
2۔ فرما دیجیے کہ اللہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمہارے شریکوں سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
3۔ کون ہے جو لاچار کی فریادسنتا اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے، کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62)
4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سوا رہنمائی کون کرتا ہے ؟ کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے۔ (النمل : 63)
5۔ میں نے آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کیا، اور کون تم کو رزق دیتا ہے کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے۔ ( النمل 64)
6۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے، اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں وہی رحم کرنے والا ہے۔ ( البقرۃ : 163)
7۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لائے ؟ (القصص : 72)
8۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : 71)
9۔ اس ایک الٰہ کے سوا کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88)
10۔ اے لوگو ! آخر دم تک ایک الٰہ کی عبادت کرو۔ (الحجر : 99)
11۔ جن و انس کو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ (الذاریات : 56)
Ayah 21:25فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد لوگوں کو ” اللہ “ کی الوہیت سے آگاہ کرنا ہے اور یہی پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور عقیدہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) دنیا میں مبعوث فرمائے ان سب کو یہ حکم تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ لوگو ! تمہارے رب کا فرمان ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ اس ارشاد میں رسول اکرم ﷺ کو بھی یہی حکم ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ جب اس کے سوا کوئی حاجت روا، مشکل کشا اور عبادت کے لائق نہیں تو صرف اس ایک ہی کی عبادت کرنا اور اس ایک کا ہی حکم ماننا چاہیے۔ یہی دعوت پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تھی اور اسی سے نبی اکرم ﷺ نے اپنے کام کا آغاز فرمایا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں کو یہی بات بتلانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ لوگو ! لااِلٰہ الا اللہ پڑھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ اسی دعوت کی خاطر آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم برداشت کیے اسی کے لیے آپ طائف تشریف لے گئے۔ طائف والوں نے آپ کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ اسی بنیاد پر بدر، احد، خندق، حنین، تبوک اور مکہ کا معرکہ پیش آیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح یاب فرمایا اور وہ وقت بھی آپہنچا کہ جب آپ نے اعلان فرمایا :
(عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ خَرَجَ یَوْمًا فَصَلَّی عَلَی أَہْلِ أُحُدٍ صَلاَتَہُ عَلَی الْمَیِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّی فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَہِیدٌ عَلَیْکُمْ وَإِنِّی وَاللَّہِ لأَنْظُرُ إِلَی حَوْضِیَ الآنَ وَإِنِّی قَدْ أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ خَزَاءِنِ الأَرْضِ أَوْ مَفَاتِیحَ الأَرْضِ وَإِنِّی وَاللَّہِ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِی وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فیہَا) [ رواہ البخاری : باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِیِّنَا ﷺ وَصِفَاتِہِ ]
” حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن گھر سے باہر نکلے آپ نے احد کے شہداء پر نماز پڑھی جس طرح نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے پھر آپ ممبر کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا میں تم پر خوش ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اس وقت حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عنایت کی گئی ہیں یا فرمایا مجھے زمین کی چابیاں دیں گئی ہیں راوی کو شک ہے۔ اللہ کی قسم میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں مشغول ہوجاؤ گے۔ “
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی فضیلت :
(عَنْ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامِتِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَےْہِ النَّارَ ) [ رواہ مسلم : باب مَنْ لَقِیَ اللَّہَ بالإِیمَانِ وَہُوَ غَیْرُ شَاکٍّ فیہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَحَرُمَ عَلَی النَّارِ ]
” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے توحید و رسالت کی گواہی دی اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔
(عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنَّ اللَّہَ سَیُخَلِّصُ رَجُلاً مِنْ أُمَّتِی عَلَی رُءُ وسِ الْخَلاَءِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ سِجِلاًّ کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَقُولُ أَتُنْکِرُ مِنْ ہَذَا شَیْءًا أَظَلَمَکَ کَتَبَتِی الْحَافِظُونَ فَیَقُولُ لاَ یَا رَبِّ فَیَقُولُ أَفَلَکَ عُذْرٌ فَیَقُولُ لاَ یَا رَبِّ فَیَقُولُ بَلَی إِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَۃً فَإِنَّہُ لاَ ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ فَتَخْرُجُ بِطَاقَۃٌ فیہَا أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ فَیَقُولُ احْضُرْ وَزْنَکَ فَیَقُولُ یَا رَبِّ مَا ہَذِہِ الْبِطَاقَۃُ مَعَ ہَذِہِ السِّجِلاَّتِ فَقَالَ إِنَّکَ لاَ تُظْلَمُ قَالَ فَتُوضَعُ السِّجِلاَّتُ فِی کِفَّۃٍ وَالْبِطَاقَۃُ فِی کِفَّۃٍ فَطَاشَتِ السِّجِلاَّتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَۃُ فَلاَ یَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّہِ شَیْءٌ) [ رواہ سنن ابن ماجہ : باب مَا یُرْجَی مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عمروبن العاص ]
” حضرت عبداللہ عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت سے ایک آدمی کو ساری مخلوقات میں سے الگ فرمائیں گے اور اس کے سامنے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے اور ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہوگا۔ اللہ فرمائیں گے کیا تو ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے یا تجھ پہ لکھنے والے میرے کاتبوں نے ظلم کیا ہے ؟ وہ کہے گا اے میرے پروردگار بالکل نہیں۔ اللہ فرمائیں گے کیا تیرا کوئی عذر ہے وہ کہے گا اے میرے پروردگار ! نہیں۔ اللہ فرمائیں گے ہاں ! ہمارے ہاں تیری ایک نیکی ہے آج کے دن تجھ پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا پھر ایک کاغذ نکالا جائے گا جس میں کلمۂ شہادت ثبت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کا وزن کیا جائے وہ کہے گا اتنے بڑے دفتروں کے سامنے اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تجھ پر ظلم نہیں ہوگا۔ وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں گے اور کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا۔ گناہوں والا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا اور ” لا الٰہ اِلّا اللہ “ والا پلڑا بھاری ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نام سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے۔ “
(عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدُ اللّٰہِ الْمُحَارَبِیُّ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ بِسُّوْقِ ذِی الْمَجَازِ وَاَنَا فِیْ بِیَاعَۃٍ لِیْ فَمَرَّ وَعَلِیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَاءُ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ یٰا اَیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا وَرَجَلٌ یَتْبَعُہٗ یَرْمِیْہِ بالْحِجَارَۃِ قَدْ اَدَمِیْ کَعْبَیْہِ یَعْنِیْ اَبَا لَہَبٍ ) [ السنن الکبری للبیہقی ]
حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو ذی المجاز کے بازار سے گزرتے ہوئے دیکھا اور میں بھی خریدو فروخت کرنے کے لیے وہاں پر موجود تھا آپ ﷺ نے سرخ رنگ کا حلہ پہنے ہوئے تھے میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا آپ کہہ رہے تھے اے لوگو ! لا الہ الا اللہ کہو فلاح پاؤ گے۔ ایک آدمی آپ کو پیچھے سے پتھر مار رہا تھا جس سے آپ کے قدم خون آلود ہوگئے۔ (پتھر مارنے والا ابو لہب تھا)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان کی یہی دعوت تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
2۔ رسول کریم ﷺ بھی لوگوں کو لا اِلٰہ الا اللہ کی دعوت دیتے تھے۔
3۔ اِلٰہ کا پہلا معنٰی یہ ہے کہ ایسی ہستی جس کے ساتھ غایت درجے کی محبت کرتے ہوئے عاجزی کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔
تفسیر بالقرآن
تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت :
1۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی۔ (الانبیاء : 25)
2۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (ہود : 2)
3۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : 16)
4۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور فرمایا کہ شیاطین کی عبادت نہ کرو۔ (المومنون : 23)
5۔ حضرت شعیب نے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے منع کیا۔ (ہود : 84)
6۔ حضرت ھودنے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ (ھود : 50)
7۔ حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور دوسروں کی عبادت سے منع کیا۔ (ھود : 61)
8۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے اسی کی عبادت کرو۔ (مریم : 36)
9۔ ہم نے ہر جماعت میں رسول بھیجے انہوں نے لوگوں کو کہا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت نہ کرو۔ (النحل : 36)