21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsفہم القرآن

Ayahs 21:74–75

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

” اور لوط کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اسے اس بستی سے بچا کر نکال لیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑی ہی فاسق قوم تھی۔ (74)

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور لوط کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا وہ صالح لوگوں میں سے تھے۔ “ (75)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے اور نبی حضرت لوط (علیہ السلام) کا تعارف۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جناب ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے آپ نے اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تائید فرمائی جب عوام اور حکومت نے متفقہ فیصلہ کر کے آپ کو آگ میں جھونک دیا تھا۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو صحیح وسالم آگ سے نکالا تو کوئی بھی ایمان نہ لایا سوائے لوط (علیہ السلام) کے۔ ” لوط (علیہ السلام) کے سوا ابراہیم (علیہ السلام) پر کوئی ایمان نہ لایا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی طرف ہجرت کررہا ہوں یقیناً اللہ عزیز اور حکیم ہے۔ “ [ العنکبوت : 26] حضرت لوط (علیہ السلام) عراق کے قدیم ترین شہر ” اُر “ میں پیدا ہوئے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے یہی شہر جناب خلیل (علیہ السلام) کا مولد ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کرنے والے لوط (علیہ السلام) تھے۔ آپ پہلے حاران پھر مختلف مقامات پر ٹھہرے۔ بالاخر ابراہیم (علیہ السلام) نے فلسطین میں قیام فرمایا اور مختلف ممالک میں تبلیغی مراکز قائم کیے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اندرون حجاز حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو فلسطین و شام میں اور جناب لوط (علیہ السلام) کو شرقی اردن کے مرکزی شہر سدوم میں تعینات فرمایا۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پرلے درجے کے فاسق وفاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنہوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ انہوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تباہ کیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اسی بات کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو آواز دی جب اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تھا ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی۔ (76)

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور اس قوم کے مقابلے میں اس کی مدد کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا وہ بڑے برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔ “ (77)

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس کی قوم سے نجات دی اور قوم کو نیست و نابود کیا۔ اسی طرح ” اللہ “ نے اپنی رحمت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو سیلاب سے بچایا۔ قوم کو غرق کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔ سورة العنکبوت آیت 14 میں بیان کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ سورة نوح میں یہ وضاحت فرمائی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری بھرپور کوشش کے باوجود یہ قوم شرک اور برائی میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ قوم نہ صرف جرائم میں آگے بڑھتی گئی بلکہ الٹا انھوں نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف گمراہ ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے کے ساتھ ان سے بار بار مطالبہ کیا کہ اے نوح ! اگر تو واقعی اللہ کا سچا نبی ہے تو ہمارے لیے عبرت ناک عذاب کی بددعا کیجیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت ہی مجبور ہو کر ان کے لیے بد دعا کی ” اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں بالکل بےبس اور مغلوب ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔ “ (القمر : 10) ” حضرت نوح (علیہ السلام) نے بد دعا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی درخواست کی کہ میرے رب اب زمین پر کافروں کا ایک شخص بھی نہیں بچنا چاہیے کیونکہ ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ فاسق اور کافر ہی پیدا ہوگا۔ “ ( نوح 25 تا 27) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بد دعا قبول کرتے ہوئے انھیں حکم دیا کہ آپ میرے سامنے ایک کشتی بنائیں جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو بار بار تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) فقط انھیں یہی فرماتے آج تم مجھے استہزاء کا نشانہ اور تماشا بنا رہے ہو لیکن کل تم ہمیشہ کے لیے مذاق اور عبرت کا نشان بن جاؤ گے۔ ( ھود آیت 37 تا 39) قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایسا عذاب نازل فرمایا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت 11، 12 اور سورة المؤمنون، آیت 27 میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا اس قوم پر اس قدر غضب ہوا کہ جب نوح (علیہ السلام) کا بیٹا پانی میں ڈبکیاں لے رہا تھا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو بحیثیت باپ ترس آیا انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا، میرے رب میرا بیٹا بھی ڈوب رہا ہے حالانکہ تیرا فرمان تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا۔ الٰہی تیرا وعدہ برحق ہے۔ جواب آیا اے نوح تیرا بیٹا صالح نہ ہونے کی وجہ سے تیرے اہل میں شمار نہیں۔ اب مجھ سے ایسا سوال نہ کرنا۔ ورنہ تجھے جاہلوں میں شمار کروں گا۔ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہوئے معافی طلب کی اور درخواست کی مجھ پر مہربانی کی جائے ورنہ میں بھی نقصان پانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے سلامت اور محفوظ رہے اور باقی قوم کو غرقاب کردیا گیا۔ کیونکہ ان کی قوم کفر و شرک میں اندھی ہوچکی تھی۔ ( ھود : 45 تا 48) عذاب کی کیفیت : قوم نوح پر چالیس دن مسلسل دن، رات بےانتہا بارش برستی رہی یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ حتٰی کہ تنور پھٹ پڑا اللہ تعالیٰ نے طوفان کے آغاز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے ساتھ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا یعنی نر اور مادہ دو دو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ البتہ کسی کافر اور مشرک کو کشتی میں سوار نہ کیا جائے۔ (ہود : 40 تا 42) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد قبول کی انھیں اور ان کے ساتھیوں کو عظیم غم سے نجات عطا کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی مدد فرمائی اور ان کی قوم کو غرق کردیا۔ تفسیر بالقرآن نوح (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا منظر : 1۔ قوم نوح نے جب رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے انھیں غرق کردیا اور لوگوں کے لیے باعث عبرت بنا دیا۔ (الفرقان : 37) 2۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور تکذیب کرنے والوں کو غرق کردیا۔ (الاعراف : 64) 3۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کی بات نہ مانی تو ہم نے انھیں غرق کردیا۔ (یونس : 73) 4۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور بقیہ کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 119۔ 120)
Ayahs 21:78–80

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

” اور اسی نعمت سے ہم نے داؤد و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقعہ جب دونوں ایک کھیت کے مقدمے کا فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں چرگئی تھیں۔ ہم ان کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔ (78)

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

اس وقت ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔ حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں کو عطا کیا تھا۔ داؤد کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا جو اس کے ساتھ تسبیح پڑتے تھے۔ یہ کام کے کرنے والے ہم ہی تھے۔ (79)

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھائی تھی تاکہ تم کو ایک دوسرے کے لڑائی کے وقت مار سے بچائے پھر کیا تم شکرادا کرتے ہو ؟ “ (80)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کو تکالیف کے ذریعے آزمایا جس میں وہ سرخرو ہوئے لیکن حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اقتدار اور اختیار دے کر آزمایا جس میں باپ، بیٹا کامیاب ہوئے۔ اس لیے بادشاہ انبیاء کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کا دوسرے پارہ میں مختصر ذکر ہوچکا کہ وہ جالوت سے معرکہ آرائی میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرچکے تھے جس وجہ سے بنی اسرائیل میں وہ معزز سمجھے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ” اور خلیفۃ اللہ “ قرار دیا۔ آپ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہودا کی نسل سے ہیں۔ ابن کثیر ؓ نے اپنی تاریخ میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا سلسہ نسب اس طرح بیان کیا ہے :۔ داؤدبن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن فحشون بن عویناذب بن ارم بن حصرون بن فرص بن یہودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تورات میں درج ہے کہ ایشا کے بہت سے بیٹے تھے حضرت داؤدان میں سب سے چھوٹے تھے۔ قرآن مجید میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا اسم گرامی سولہ مقام پر آیا ہے : البقرہ : 251 النساء : 163 المائدہ : 78 الانعام : 84 اسراء : 55 الانبیاء : 78 تا 79 النمل : 15۔ 16 السبا : 10۔ 13 ص : 17 تا 22۔ 30 تا 24 کل آیات : 15 حضرت داؤدد (علیہ السلام) سے پہلے بنی اسرائیل میں ایک خاندان سے حکمران ہوتا تھا اور دوسرے خاندان میں نبوت کا سلسلہ چلتا تھا۔ یہودا کے خاندان میں نبوت کا سلسلہ تھا اور افراہیم کے خاندان میں حکومت تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جن میں یہ دونوں نعمتیں یکجا کردی گئی تھیں وہ اللہ کے رسول بھی تھے اور صاحب تخت وتاج بھی۔ انبیاء کرام کی جماعت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے علاوہ کسی نبی کو ” خلیفۃ اللہ “ کے لقب سے یاد نہیں کیا گیا۔ سوائے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے وہ ایسے نبی ہیں جن کو خلیفۃ اللہ کا لقب دیا گیا۔ (ص : 26) داؤد (علیہ السلام) کا اقتدار اور اختیار : (وَ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ) [ البقرہ : 251] ” اور اللہ نے ان کو حکومت اور نبوت عطا کی اور جو علم چاہا وہ سکھایا۔ “ (وَکُلًّا اٰتَیْنَا حُکْمًا وَعِلْمًا) [ الانبیاء : 79] اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو حکومت دی اور علم عطا کیا۔ ( یَا دَاوُوْدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ ۔۔ الخ) [ آ آیت 26] ” اے داؤدہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ حکومت کرنا اور اپنے نفس کی پیروی نہ کرنا۔ نفس کی پیروی اللہ کی راہ سے غافل کر دے گی۔ بیشک جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اپنے فیصلے پر نظر ثانی : ایک مرتبہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں دو شخص حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میری تیار شدہ کھیتی کو اس کی بکریوں نے تباہ کردیا ہے دوسرے نے اس کا اعتراف کیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ مدّعی کا نقصان مدّعی علیہ کی بکریوں کی قیمت کے برابر ہے لہٰذا تاوان کی صورت میں پوری کی پوری بکریاں مدّعی کو دے دی جائیں۔ سلیمان (علیہ السلام) ابھی کم عمر تھے اس وقت اپنے والد ماجد کے پاس بیٹھے تھے عرض کرنے لگے ابا جان آپ کا فیصلہ صحیح ہے مگر اس سے بھی زیادہ بہتر شکل یہ ہے کہ مدّعی علیہ کی بکریاں مدّعی کے سپرد کردی جائیں وہ اس کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور مدعی علیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ اس عرصہ میں مدّعی کے کھیت کی خدمت انجام دے۔ جب کھیت کی پیداوار اپنی اصلی حالت پر آجائے تو کھیت مدعی کے سپرد کر کے اپنا ریوڑ واپس لے لے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بیٹے کی بات بہت پسند آئی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی قناعت پسندی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت و سلطنت بہت وسیع تھی اس کے باوجود مملکت کے مالیہ سے ایک درہم نہیں لیتے اور اپنا اور اہل و عیال کی معاش کا بوجھ بیت المال پر نہیں ڈالتے تھے اپنے ہاتھ کی کمائی سے حلال روزی حاصل کرتے تھے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کسی انسان کا بہترین رزق اسکے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہوا رزق ہے۔ اللہ کے نبی حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے روزی کماتے تھے۔ (بخاری : کتاب التجارۃ) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ٹیکنالوجی میں ترقی : (۔۔ وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْد اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ)[ السباء : 10-11] ”۔۔ اور ہم نے داؤد کے لیے لوہا نرم کردیا کہ بنائیں زرہیں کشادہ جنگی آہنی لباس اور ان کے جوڑ میں مناسب انداز میں فاصلہ رکھیں اور نیک کام کریں میں خوب دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم کررہے ہو۔ “ (وَعَلَّمْنَاہُ صَنْعَۃَ لَبُوسٍ لَکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِنْ بَأْسِکُمْ فَہَلْ أَنْتُمْ شَاکِرُونَ ) [ الانبیاء : 80] ” اور ہم نے داؤد کو سکھائی زرہ بنانے کی صنعت تمہارے نفع کے لیے تاکہ تم لڑائی کے موقع پر اس سے بچاؤ حاصل کرسکو پس کیا تم شکر گزار بنتے ہو ؟ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کے استعمال پر قدرت عطا کی تھی اور خاص طور پر جنگی مقاصد کے لیے اسلحہ اور زرہ سازی کا طریقہ سکھایا تھا۔ موجودہ زمانے کی تاریخی واثری تحقیقات سے ان آیات کے معنی پر جو روشنی پڑتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دنیا میں لوہے کے استعمال کا دور (Iron-Age) 1200 اور 1000 ق م کے درمیان شروع ہوا ہے اور یہی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ اول اول شام اور ایشیائے کوچک کی حِتّی قوم (Hittites) کو جس کے عروج کا زمانہ 2000 ق م سے 1200 ق م تک رہا ہے، لوہے کے پگھلانے اور تیار کرنے کا ایک پیچیدہ طریقہ معلوم ہوا۔ وہ شدت کے ساتھ اس کو دنیا بھر سے راز میں رکھے رہی۔ مگر اس طریقے سے جو لوہا تیار ہوتا تھا وہ سونے چاندی کی طرح اتنا قیمتی ہوتا تھا کہ عام استعمال میں نہ آسکتا تھا۔ بعد میں فلستیوں نے بنی اسرائیل کو پیہم شکستیں دے کر انہیں فلسطین سے تقریباً بےدخل کردیا تھا، بائیبل کے بیان کے مطابق اس کے وجوہ میں سے ایک اہم وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ لوہے کی رتھیں استعمال کرتے تھے اور ان کے پاس دوسرے آہنی ہتھیار بھی تھے۔ ( یشوع، باب، 17، آیت 16، تضاۃ : باب، 1۔ آیت، 19، باب 4 آیت، 2۔ 13 1020 ق م) میں جب طالوت خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کا فرمانروا ہوا تو اس نے پیہم شکستیں دے کر ان لوگوں سے فلسطین کا بڑا حصہ واپس لے لیا۔ اور پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) 1004، 965 ق م) نے نہ صرف فلسطین وشرق اردُن، بلکہ شام کے بھی بڑے حصے پر اسرائیلی سلطنت قائم کردی۔ اس زمانہ میں آہن سازی کا وہ راز جو حتیوں اور فلستیوں کے قبضے میں تھا بےنقاب ہوگیا اور صرف بےنقاب ہی نہ ہوا بلکہ آہن سازی کے ایسے طریقے بھی نکل آئے جن سے عام استعمال کے لیے لوہے کی سستی چیزیں تیار ہونے لگیں۔ فلسطین کے جنوب میں ادوم کا علاقہ خام لوہے (Iron ore) کی دولت سے مالا مال ہے اور حال میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں اس علاقے میں ہوئی ہیں ان میں بکثرت ایسی جگہوں کے آثار ملے ہیں جہاں لوہا پگھلانے کی بھٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ عقبہ اور اَیَلہ سے متصل حضرت سلیمان کے زمانے کی بندرگاہ عِصْیُون جابر کے آثار قدیمہ میں جو بھٹی ملی ہے اس کے معائنے سے اندازہ کیا گیا ہے کہ اس میں بعض وہ اصول استعمال کیے جاتے تھے جو آج جدید ترین زمانے کی (BlastFurnace) میں استعمال ہوتے ہیں۔ اب یہ ایک قدرتی بات ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اس جدید دریافت کو جنگی اغراض کے لیے استعمال کیا ہوگا۔ (تفہیم القرآن) تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں داؤد (علیہ السلام) کا ذکر خیر : 1۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بادشاہت اور نبوت سے نوازا۔ ( البقرۃ : 251) 2۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ ( النساء : 163) 3۔ داؤد (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی۔ ( المائدۃ : 78) 4۔ داؤد (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ( الانعام : 84) 5۔ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا کیا۔ (ص : 25) 6۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ (بنی اسرائیل : 55) 7۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا۔ (النمل : 15) 8۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو فضل سے نوازا۔ (سبا : 10) 9۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو حمد و ثنا کے لیے مسخر کردیا۔ (الانبیاء : 79) 10۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کی سلطنت مضبوط کی اور انہیں فیصلہ کن خطاب کا ملکہ دیا۔ ( ص 28) 11۔ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو داؤد کے تابع کیا۔ ( الانبیاء : 79)
Ayahs 21:81–82

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

” اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہواؤں کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھیں جس میں ہم نے برکات رکھی ہیں ہم ہر اس چیز کا علم رکھنے والے ہیں۔ (81)

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت کو اس کا تابع بنادیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے ہم ان سب کے نگران تھے۔ “ (82)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے ہونہار صاحب زادے کا ذکر۔ (وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْر) [ السباء : 12] اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا صبح کو اور ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا شام کو۔ “ مزید تفصیل سورة ص میں بیان فرمائی۔ (فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَُ ) [ ص : 36] ” پس ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جدھر وہ جانا چاہتا اس کے حکم کے مطابق بسہولت چلتی تھی۔ “ بائیبل اور جدید تاریخی تحقیقات سے اس مضمون پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے دور سلطنت میں بہت بڑے پیمانے پر بحری تجارت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ایک طرف عِصُیون جابر سے ان کے تجارتی جہاز بحراحمر میں یمن اور دوسرے جنوبی ومشرقی ممالک کی طرف جاتے تھے اور دوسری طرف بحر روم کے بندرگاہوں سے ان کا بیڑہ (جسے بایئبل میں ” ترسیسی بیڑہ “ کہا گیا ہے) مغربی ممالک کی طرف جایا کرتا تھا۔ عصیون جابر میں ان کے زمانے کی جو عظیم الشان بھٹی ملی ہے اس کے مقابلے کی کوئی بھٹی مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ابھی تک نہیں ملی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہاں ادوم کے علاقۂ عَرَبہ کی کانوں سے خام لوہا اور تانبا لایا جاتا تھا اور اس بھٹی میں پگھلا کر اسے دوسرے کاموں کے علاوہ جہاز سازی میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سے قرآن مجید کی اس آیت کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے جو سورة سبا میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق آئی ہے کہ (وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ) ” اور ہم نے اس کے لیے پگھلی ہوئی دھات کا چشمہ بہا دیا۔ “ نیز اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ایک مہینے کی راہ تک ہوا کی رفتار کو ” مسخر “ کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس زمانے میں بحری سفر کا سارا انحصار باد موافق ملنے پر تھا۔ اللہ تعالیٰ کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر یہ کرم خاص تھا کہ وہ ہمیشہ ان کے دونوں بحری بیڑوں کو ان کی مرضی کے مطابق ملتی تھی۔ تاہم اگر ہوا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکم چلانے کا بھی کوئی اقتدار دیا گیا ہو جیسا کہ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ (اس کے حکم سے چلتی تھی) کے الفاظ سے مترشح ہوتا ہے تو یہ اللہ کی قدرت سے بعید نہیں ہے۔ وہ اپنی مملکت کا آپ مالک ہے۔ اپنے جس بندے کو جو اختیارات چاہے دے سکتا ہے جب وہ خود کسی کو کوئی اختیار دے تو ہمارا دل دکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ( تفہیم القرآن) سیدنا سلیمان (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے صاحبزادے ہیں لہٰذا ان کا نسب بھی یہودا کے واسطے سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ملتا ہے۔ (وَ وَھَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ کُلًّا ھَدَیْنَا وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ ) [ الانعام : 84] ” اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق و یعقوب عطا کئے ہر ایک کو ہدایت بخشی اور نوح کو ابراہیم سے پہلے ہدایت بخشی اور ابراہیم کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان کو ہدایت عطا کی۔ “ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر مبارک سولہ مقامات پر آیا۔ ان میں سے چند مقامات پر تفصیلی ذکر ہے اور اکثر جگہ مختصر طور پر البقرۃ : 102 النساء : 163 الانعام : 89 الانبیاء : 78۔ 81 النمل : 15۔ 16۔ 17۔ 18۔ 8۔ 30۔ 36۔ 44 السباء : 12 ص : 30۔ 34 حضرت سلیمان (علیہ السلام) فطری طور پر بہت ذہین اور سمجھ دار تھے۔ اپنے والد داؤد (علیہ السلام) کی معیت میں سن شعور کو پہنچے تو اس وقت حضرت داؤد (علیہ السلام) کا انتقال ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا اور حکومت میں بھی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا جانشین بنایا۔ قرآن حکیم نے اسی جانشینی کو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی وراثت قرار دیا ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی نبوت میں بھی وارث قرار پائے۔ نبوت وراثت کی چیز نہیں جو لازماً اولاد کے حصے میں آئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء ( علیہ السلام) پر یہ بھی فضل کیا ہے کہ ان کی اولاد کو نبوت میں بھی ان کا جانشین بنایا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی ان انبیائے کرام میں سے ایک ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی خصوصیات و امتیازات سے نوازا گیا جس کی وجہ سے وہ انبیاء میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوئے :۔ (وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُودَ ) [ النمل : 16] ” اور وارث ہوئے سلیمان حضرت داؤد کے “ ” اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا اور ان دونوں نے کہا ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے جس نے اپنے مومن بندوں پر ہم کو فضیلت عطا کی ہے۔ سلیمان داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا ہے اور ہم کو ہر چیز بخشی گئی ہے بیشک یہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔ “ [ النمل : 15] حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خصوصی امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ” ہوا “ کو انکے زیر فرماں کردیا تھا وہ جب اور جہاں چاہتے اس کو چلنے اور رک جانے کا حکم دیتے تھے۔ ہوائیں ان کے حکم سے نرم اور سبک رفتار ہوجاتی تھیں جب تیز روی کا حکم دیتے تو برق رفتاری کا یہ عالم ہوتا کہ اس کے دوش پر سوار ہو کر ایک ماہ کی مسافت صبح کے وقت اور ایک ماہ کی مسافت شام کے آخری لمحات میں طے کرلیتے تھے۔ ان کا تخت جہاں چاہتے ہوا پہنچادیتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح عام قوانین قدرت کے تحت کائنات کی اشیاء کو اسباب کے ساتھ مربوط کردیا ہے۔ اسی طرح اپنے قانون خاص کے تحت انبیاء کے ساتھ معاملہ فرمایا ہے جس کو معجزہ کہا جاتا ہے۔ ہوا کا تابع فرمان ہونا اسی قسم سے ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیر نگیں نہ صرف انسان تھے بلکہ جنات اور حیوانات بھی تابع فرمان تھے یہ ایسا اقتدار تھا کہ کائنات میں شاید ہی کسی اور کو عطا کیا گیا ہو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا : ” اے پروردگار مجھے معاف فرما دے اور مجھ کو ایسی حکومت عطا کر جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو بیشک تو ہی عطا کرنے والا ہے۔ “ [ ص : 35] معدنیات تک رسائی : اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک عظیم احسان یہ بھی تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو تانبے کے چشمے فراہم کئے گئے جس کو تعمیرات کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا انعام خاص یہ تھا کہ ان چشموں کو آشکارا کردیا گیا جن سے پہلے کوئی شخص آگاہ نہیں ہوا۔ ابن کثیر نے حضرت قتادہ ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ پگھلے ہوئے تانبے کے یہ چشمے ملک یمن میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر ظاہر کردیا تھا۔ (البدایہ والنہایہ ج 2) شیاطین جنّات کا تابع فرماں ہونا : ” اور شیاطین میں سے ہم نے اکثر کو سلیمان کا تابع بنا دیا تھا جو ان کے لیے سمندر میں موتی نکالنے کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام بھی کرتے تھے ان سب کے نگراں ہم ہی تھے۔ “ [ انبیاء : 82] ” اور سلیمان کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے اور وہ پوری طرح نظم وضبط میں رکھے جاتے تھے۔ “ [ النمل : 17] ” اور سرکش جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور سرکش وباغی بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔ ہم نے سلیمان سے کہا یہ ہماری عطا ہے تم کو اختیار ہے جس کو چاہو دو اور جس سے چاہے روک لو کوئی حساب کتاب نہیں۔ “ [ ص : 37 تا 39] چیونٹیوں اور جانوروں پر حکمرانی : وادئ نملہ : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ علم خاص معجزہ کے طور پر دیا گیا تھا جس طرح ایک انسان دوسرے انسان کی گفتگو بےتکلف سن لیتا ہے اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں کی بولیاں سن اور سمجھ لیا کرتے تھے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں مدّت مدید تک بارش نہ ہوئی۔ سلیمان (علیہ السلام) لوگوں کے ساتھ صلوٰۃِ استسقاء کے لیے کھلے میدان کی طرف نکلے۔ راستہ میں دیکھا کہ ایک چیونٹی اپنے اگلے پیر اٹھائے آسمان کی طرف منہ کئے دعا کر رہی ہے : خدایا ہم بھی تیری مخلوق اور تیرے فضل وکرم کے محتاج ہیں ہم کو بارش سے محروم رکھ کر ہلاک نہ فرما۔ سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی دعا سنی اور اپنی قوم سے فرمایا واپس چلو ایک چیونٹی کی دعا نے ہمارا کام پورا کردیا۔ اب بارش ضرور ہوگی۔ (تاریخ ابن کثیر : ج، 2 ) ایک مرتبہ حضرت سلیمان جن وانس اور حیوانات کے ایک عظیم لشکر کے ساتھ کسی جگہ تشریف لے جا رہے تھے چلتے چلتے لشکر ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چیونٹیاں بیشمار تھیں اور پوری وادی ان کا مسکن بنی ہوئی تھی چیونٹیوں کی سردار نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کو دیکھ کر کہا اے چیونٹیو۔ فوراً اپنی اپنی بلوں میں داخل ہوجاؤ کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں بیخبر ی میں روند نہ دے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹیوں کی سردار کی بات سنی تو ہنس پڑے۔ ( السباء : 18۔ 19) ہُدہُد اور ملکۂ سبا : ایک مرتبہ سلیمان (علیہ السلام) اپنے دربار میں پورے جاہ و جلال کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ انسان، جنات، حیوانات کے نمائندے بھی موجود تھے لیکن پرندوں میں ہدہد موجود نہ تھا۔ فرمایا کیا بات ہے کہ میں ہد ہد کو موجود نہیں پاتا ؟ اگر وہ واقعی غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزادوں گا یا پھر ذبح کر ڈالوں گا۔ الاّ یہ کہ وہ اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ بیان کرے۔ اسی غضب میں تھے کہ ہدہد حاضر ہوگیا اور حضرت سلیمان کے سوال پر کہنے لگا کہ میں ایک یقینی خبر لایا ہوں جسے آپ نہیں جانتے۔ وہ یہ ہے کہ سبا کے ملک پر ایک ملکہ حکمرانی کرتی ہے۔ اللہ نے اس کو سب کچھ دے رکھا ہے اور اس کا تخت نہایت عظیم الشان ہے ملکہ اور اس کی قوم سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ الٰہ واحد کی عبادت نہیں کرتے شیطان نے ان کی سورج پرستی کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ خبر سن کر فرمایا کہ تیری سچائی کا ابھی علم ہوجائے گا۔ میرا خط لے جا اور اس کو ان تک پہنچا اور انتظار کر کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ ہدہد خط لے کر اڑا اور خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا ملکہ خط پڑھ کر اہل دربار سے کہنے لگی کہ ابھی ابھی یہ خط سلیمان کی جانب سے آیا ہے۔ جو اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو بڑا مہربان رحم فرمانے والا ہے۔ “ خط کا مضمون یہ ہے کہ تم سرکشی کا اظہار نہ کرو اور میرے پاس تابعدار ہو کر آجاؤ۔ (النمل : 31) وزیروں مشیروں نے کہا جہاں تک مرعوب ہونے کا تعلق ہے اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم طاقت ور اور جنگی قوت کے مالک ہیں البتہ آخری فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے جو مناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیں۔ ملکہ نے کہا بیشک ہم طاقتور ہیں لیکن سلیمان کے معاملے میں ہمیں جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ پہلے اپنے نمائندے بھیجوں جو اس کی خدمت میں تحائف پیش کریں۔ اس سے اس کی شان و شوکت اور مزاج کا اندازہ لگائیں کہ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اگر واقعی قوت و شوکت کے مالک ہیں تو پھر ان سے لڑنا فضول ہے۔ کیونکہ فاتح بادشاہوں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی شہر میں فاتحانہ طور پر داخل ہوتے ہیں تو اس شہر کو برباد اور باعزت شہریوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ تیسرا واقعہ : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اہل دربار سے مخاطب ہو کر فرمایا، میں چاہتا ہوں کہ ملکۂ سبا کے ہمارے ہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت اٹھا کر یہاں لے آیا جائے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ملکہ کو ایک معجزہ دکھانا چاہتے تھے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے مرسلین کو کس طرح غیر معمولی طاقت عطا فرماتا ہے تاکہ اسے یقین ہوجائے کہ سلیمان واقعی اللہ کا رسول ہے۔ یہ سن کر ایک دیو پیکر جِن کہنے لگا یہ کام میں انجام دوں گا اور آپ کا دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے تخت لے آؤں گا میں طاقتور اور امانتدار ہوں۔ جن کا دعویٰ سن کر دربار کے ایک اہل علم نے کہا۔ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے تخت کو پیش کرتا ہوں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے رخ پھیراتو تخت ان کے سامنے تھا۔ فرمانے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل ہے وہ مجھ کو آزماتا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا نافرمانی کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کا شکر گزار ہوتا ہے اپنی ذات ہی کو فائدہ دیتا ہے اور جو نافرمانی کرتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے رب کے شکر گزار بندے اور نبی تھے۔ اس موقعہ پر اس لیے شکریہ ادا کیا کہ میرے رب نے نہ نا صرف مجھے اقتدار، اختیارات اور امتیازات دیے بلکہ میرے ساتھیوں کو بھی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ عظیم محل حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چاہا کہ نبوت کا اعجاز دکھلانے کے بعد ملکۂ کو دنیوی شوکت بھی دکھلا دی جائے تاکہ وہ اپنے آپ کو دنیا کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو کمتر سمجھے اس لیے شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں ایک بڑا حوض بنوایا جس پر بلوری فرش بنا دیا گیا جو دیکھنے والے کو حوض ہی نظر آتا تھا جنوں کی مدد سے یہ عالی شان شیش محل آناً فاناً تیار ہوگیا جو صنعت کاری کے لحاظ سے اپنی نظیر آپ تھا۔ ملکۂ سبا سے کہا گیا کہ قصر شاہی میں قیام کریں۔ ملکہ محل کے سامنے پہنچی تو بہتا ہوا پانی پایا یہ دیکھ کر ملکہ نے اپنے پہنچے اٹھا لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا پہنچے نہ اٹھائیں کیونکہ یہ پانی نہیں بلکہ فرش ہے جو آبگینوں سے بنایا گیا ہے۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی وفات : بیت المقدس کی تعمیر کا آغاز حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کیا تھا وہ اپنے انتقال کی وجہ سے مکمل نہ کر پائے۔ ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تکمیل فرمائی۔ تعمیر کے مکمل ہونے کے باوجود تیاری کا کام کچھ باقی تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آپہنچا۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موت کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے سوچا کہ اگر جنات کو معلوم ہوگیا تو کام چھوڑ دینگے اور تعمیر نامکمل رہ جائیگی۔ ان (علیہ السلام) نے یہ انتظام کیا کہ موت سے کچھ قبل شیشے کی بنی ہوئی محراب میں داخل ہوگئے۔ جنّات اس کے سامنے سے گزرتے تو سلیمان (علیہ السلام) کو رکوع، سجدے اور قیام میں مشغول پاتے اور اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے۔ سلیمان (علیہ السلام) طویل قیام کرنے کی خاطر عصا کے سہارے کھڑے عبادت کر رہے تھے تو اسی حالت میں انہیں موت نے آلیا۔ ” جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو جنات کو ان کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز سوائے اس زمین کے کیڑے دیمک کے سوا نہ تھی جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا، جب سلیمان گرپڑے تو جنوں کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اس ذلّت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ “ [ سبا : 14] کہا جاتا ہے کہ جنات پر یہ راز جب کھلا تو اس وقت تعمیر مکمل ہوچکی تھی۔ اس لیے جنوں کو احساس ہوا کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو اس سے بہت پہلے آزاد ہوجاتے۔ اس کے علاوہ ان گمراہ انسانوں کو بھی معلوم ہوگیا کہ جنّات اور شیاطین غیب کی خبریں نہیں جانتے ہیں۔ یہ جہالت ہر دور میں رہی ہے کہ جنّات غیب کی خبریں جانتے ہیں۔ لیکن سلیمان (علیہ السلام) کی موت نے ثابت کردیا کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ تفسیر بالقرآن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فضیلت اور خصوصیات : 1۔ حضرت سلیمان کا قرآن مجید میں 17 مرتبہ تذکرہ ہوا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو غیر معمولی بادشاہت عطا فرمائی۔ ( الانبیاء : 79) 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو تابنے کے چشمے عطا فرمائے۔ ( سبا : 12) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو صنعت وحرفت میں کمال عطا فرمایا۔ ( سبا : 13) 6۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو فہم و فراست عطا کی۔ (الانبیاء : 79) 7۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی۔ (الانبیاء : 81) 8۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو علم عطا کیا۔ (النمل : 15) 9۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا۔ ( سبا : 12) 10۔ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی زبان سمجھنے کا فہم عطا کیا۔ (النمل : 16)
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

” اور یاد کرو جب ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔ (83)

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے شفادی۔ صرف اہل و عیال ہی اسے نہیں دیے بلکہ اپنی خاص رحمت کے ساتھ اسے ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے یہ نصیحت ہے عبادت گزاروں کے لیے۔ “ (84)

فہم القرآن ربط کلام : دو عظیم حکمران اور پیغمبروں کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیان۔ تذکرہ سیدنا ایوب (علیہ السلام) حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر مبارک چار سورتوں میں سورۃ النساء : 163 الانعام : 84 الانبیاء : 83 تا 84 آ : 41 تا 44 سورۂ نساء اور سورة انعام میں صرف ان کا اسم مبارک آیا ہے سورة الانبیاء اور ص میں مختصر طور پر بیان ہوا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) پر سخت آزمائش آئی۔ بیماری اور مصائب و مشکلات نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا تھا مگر وہ صبر وشکر کے سوا کوئی بات زبان پر نہیں لائے۔ اللہ کے حضور نہ صرف عبدیت کا اظہار کرتے رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ رجوع الی اللہ میں اضافہ ہوا۔ ان کے بارے میں فرمایا : ” وہ بہت ہی اچھا بندہ اور ہماری طرف ہی رجوع کرنے والا تھا۔ “ (آ : 44) مولانا آزاد کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بنی یقطان کی نسل سے ہیں اور عربی نژاد ہیں۔ اس لیے یا تو ابراہیم (علیہ السلام) کے ہم زمانہ ہیں یا پھر حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے معاصر ہیں۔ محققین تورات کی اکثریت کا کہنا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) عرب تھے۔ عرب میں پیدا ہوئے اور تاریخ میں سفر ایوب کے نام سے جس کتاب کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ اصلاً قدیم عربی میں تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے عربی سے عبرانی میں منتقل کیا۔ سفر ایوب میں ہے کہ وہ شہر عوض ( مشرقی فلسطین) میں قیام پذیر تھے۔ ان کے مویشیوں پر سبا کے لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ “ امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں انبیاء کی ترتیب قائم فرمائی ہے اس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کیا گیا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر : وہ پاک باز انسان تھے اللہ تعالیٰ کے ہاں انبیاء کی جماعت میں شامل ہیں۔ دولت اور کثرت اہل و عیال کی وجہ سے بہت خوش بخت تھے مگر ایک آزمائش نے آلیا مال ومتاع، اہل و عیال، جسم وجان سب پر مصیبت آئی۔ مال ومتاع ختم ہوا اہل و عیال فوت ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی سخت بیماری نے آلیا، شکوہ و شکایت کرنے کی بجائے اپنے رب کے حضور صبر وشکر کرتے رہے۔ (وَأَیُّوْبَ إِذْ نَادَیْ رَبَّہُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ) [ الانبیاء : 83] ” اور اس وقت کو یاد کیجئے جب ایوب نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔ “ دعا کا انداز اس قدر لطیف اور موّدب ہے کہ صرف اپنی تکلیف کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ کہہ کرچپ ہوجاتے ہیں نہ شکوہ کیا اور نہ کسی چیز کا مطالبہ کیا، ادب کا یہ عالم ہے کہ یہ نہیں کہا ” تو نے مصیبت میں ڈال دیا “ بلکہ بیماری کو شیطان کی جانب منسوب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں : ” شیطان نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ “ امام احمد ؓ نے کتاب الزہد میں حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے۔ ” حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے دور میں ایک بار شیطان طبیب کی شکل میں آپ کی بیوی کے پاس آیا۔ نیک بیوی نے علاج کرنے کے لیے کہا اس نے شرط رکھی کہ اگر تیرا خاوند صحت یاب ہوجائے تو میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا آپ نے میرے شوہر کو شفا دی ہے۔ “ میرے علاج کا یہی معاوضہ ہے۔ بیوی نے وعدہ کرلیا بعدازاں اس کا ذکر ایوب (علیہ السلام) سے کیا ایوب (علیہ السلام) کو اس پر بہت غصہ آیا۔ فرمایا کہ وہ شیطان تھا جو غلط الفاظ تم سے کہلوانا چاہتا تھا اور تو نے کہنے کا وعدہ کرلیا۔ قسم کھائی کہ جب میں صحت یاب ہوجاؤں تو تجھے سو کوڑے ماروں گا۔ یاد رہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے وعدہ کیا تھا مگر یہ الفاظ نہیں کہے تھے۔ جب ایوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شفا دی تو قسم پوری کرنے کا سوال پیش آیا ایک طرف غم خوار اور خدمت گزار بیوی تھی دوسری طرف قسم پوری کرنے کا مسئلہ ! حضرت ایوب (علیہ السلام) پریشان تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے نیک بیوی کو شوہر کے ساتھ وفاداری کا یہ صلہ دیا کہ حکم ہوا کہ آپ اپنی قسم نہ توڑیں بلکہ سو تنکوں کا ایک گٹھا بنائیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح قسم پوری ہوجائے گی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا۔ “ (وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّہُ أَوَّابٌ) [ آ : 44] ” اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مار اور اپنی قسم پوری کرو بیشک ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا بہت ہی عاجز بندہ ہر حال میں وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ “ حضرت ایوب کو حکم خداوندی : اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آہ وزاریوں کو قبول فرماتے ہوئے صحت کاملہ عطا فرمائی اور حکم دیا کہ اپنے پاؤں کو زمین پر ماریں جس سے ایک چشمہ جاری ہوگا۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کریں اور اسے پئیں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے چشمہ سے غسل کیا اور اس سے پانی پیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بھی بہتر صحت اور حسن و جمال عطا فرمایا۔ جس کا ذکر سورة صٓ کی آیت 42 میں کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ بَیْنَمَا أَیُّوبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَہَبٍ ، فَجَعَلَ یَحْثِی فِی ثَوْبِہِ ، فَنَادَی رَبُّہُ یَا أَیُّوبُ ، أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی قَالَ بَلَی یَا رَبِّ ، وَلَکِنْ لاَ غِنَی لِی عَنْ بَرَکَتِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الانبیاء ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا حضرت ایوب غسل فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سونے کی ٹڈیاں آسمان سے برسائیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں پکڑ پکڑ کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) سے استفسار فرمایا کہ ایوب ! کیا ہم نے سب کچھ دے کر تجھے غنی نہیں کردیا ؟ کہنے لگے کیوں نہیں لیکن میں تیری برکات سے لا پروا نہیں ہوسکتا۔ “ تفسیر بالقرآن حضرت ایوب (علیہ السلام) کے فضائل : 1۔ حضرت ایوب کا تذکرہ قرآن مجید میں چار بار ہوا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کی طرف وحی نازل فرمائی۔ (النساء : 163) 3۔ حضرت ایوب محسنین میں سے تھے۔ (الانعام : 84) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو اپنی رحمت سے نوازا۔ (الانبیاء : 84) 5۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت ایوب کو اہل و عیال اور مال و دولت سے نوازا۔ (ص : 43) 6۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ( ص : 44)
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

” اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل سب صابر لوگ تھے۔ (85)

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے۔ “ (86)

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کا ذکر جاری ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تفصیلی ذکر سورة مریم میں ہوچکا ہے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تعارف حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نسب اور زمانہ کے بارے میں مؤرخین کی سوچ میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اس عظیم پیغمبر کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث کی دستاویزات میں نہایت ہی مختصر ذکر ہے۔ جس کسی نے ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کی تحریر کا مآخذ بنی اسرائیل کی روایات کے سوا کچھ نہیں۔ اسرائیلی روایات کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے امت کو اس اصول کا پابند کیا ہے کہ ان روایات کی تصدیق یا تردید نہ کرو۔ لہٰذا حرف آخر یہی ہے کہ ان کے بارے میں ثقہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی معراج کے موقعہ پر ادریس (علیہ السلام) سے ملاقات : آپ فرماتے ہیں پھر جبریل مجھے چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے دروازہ کھولنے کو کہا۔ سوال ہوا کہ کون ہے ؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ پوچھا : تمہارے ساتھ کون ہے کہا : محمد ﷺ ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں کہا گیا : خوش آمدید جو آیا ہے کتنا ہی اچھا ہے ؟ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ادریس (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدیدکہتا ہوں۔ [ رواہ البخاری : باب المعراج ] حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں تذکرہ : 1۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں دو بار تذکرہ ہوا ہے۔ 2۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) صدیق نبی تھے۔ (مریم : 56) 3۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) صبر کرنے والے تھے۔ (الانبیاء : 85) (تفصیل کے لیے سورة مریم آیت 56 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) سیدنا ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر مبارک اس آیت کریمہ میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ جس پیغمبر یا شخصیت کا ذکر ہوا ہے ان کا نام نامی ذالکفل ہے قرآن و سنت میں ان کے نام کے تذکرہ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ البتہ اسرائیلی روایات کے حوالے سے مؤرخین نے چند معلومات فراہم کی ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی عظمت و فضیلت کا تذکرہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ کیا ہے۔ سورة ص کی آیت 48 میں ان کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے۔ ” اے پیغمبر ! اسماعیل اور الیاس کے ساتھ ذالکفل کا تذکرہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت سے ہمکنار کیا کیونکہ وہ اللہ کے نیک بندوں میں تھے۔ (وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِ کُلٌّ مِنَ الصَّابِرِیْنَ وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ) [ الانبیاء : 85۔ 86] ” اور اسماعیل وادریس اور ذوالکفل سب صبر کرنے والے تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیا۔ یقیناً وہ نیک بندوں میں سے تھے۔ “ (وَاذْکُرْ إِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِ وَکُلٌّ مِنَ الْأَخْیَارِ ) [ آ : 48] ” اور یاد کرو اسمعیل اور الیسع اور ذوالکفل یہ سب نیکو کاروں میں سے تھے۔ “ ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ” صاحب نصیب “ ہے اخلاق اور بزرگی میں بڑا حصہ پانے والا۔ قرآن حکیم نے ان کو اسی لقب سے یاد کیا ہے اور یہ لقب ان کے نام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جو ان کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے اور ان کا اصل نام بشر تھا۔ علامہ آلوسی ؓ نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ اہل کتاب ان کا نام ” حِزقی ایل “ بتاتے ہیں جو بنی اسرائیل کی اسیری کے زمانے میں نبوت سے سرفراز ہوئے۔ بُخت نصر نے عراق میں اسرائیلی قیدیوں کی ایک نو آبادی قائم کی تھی جس کا نام تل اَبِیب تھا۔ حضرت ذوالکفل اسی مقام پر ہدایت و رسالت کے منصب پر سرفراز کیے گئے اور طرح طرح کی تکالیف اٹھائیں مگر اس کے باوجود یروشلم کے حکمرانوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ جس کی وجہ سے ان کے مصائب میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔ ممکن ہے ان کے اسی صبر وضبط کی وجہ سے انہیں ذوالکفل کا لقب دیا گیا ہو۔ مسائل 1۔ حضرت ذوالکفل بھی اللہ کے صابر، شاکر بندوں میں سے تھے۔ 2۔ اللہ نے انھیں اپنی رحمت سے سرفراز فرمایا تھا۔ 3۔ اللہ نے انھیں اپنے صالح بندوں میں شمار فرمایا ہے
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

” اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا۔ یاد کرو جب وہ ناراض ہو کر چلا گیا تھا اور سمجھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے آخرکار اس نے تاریکیوں میں پکارا۔ کہ تو پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں بیشک میں نے ظلم کیا ہے۔ (87)

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ “ (88)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور ذوالکفل ( علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا بیان۔ سیدنا یونس (علیہ السلام) (صاحب الحوت) قرآن حکیم کی چھ سورتوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر موجود ہے چار سورتوں میں صرف نام آیا ہے اور دو سورتوں میں ذالنُّون اور صاحب الحوت کے الفاظ سے ذکر ہوا ہے۔ النساء : 163 الانعام : 86 یونس : 98 الانبیاء : 87۔ 88 الصافات : 139 تا 148 القلم : 48 تا 50 تعارف : بخاری شریف میں حضرت یونس (علیہ السلام) کے والد کا نامی متّٰی آیا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اسرائیلی نبی تھے مگر انہیں آشور (اسیریا) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا۔ اسی بنا پر آشوریوں کو قوم یونس کہا جاتا ہے اس قوم کا مرکز اس زمانے میں نینوی کا مشہور شہر تھا جس کے وسیع کھنڈرات آج بھی دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے موجودہ شہر موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں اور اسی علاقے میں ” یونس نبی “ کے نام سے آج بھی ایک بستی مشہور ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو نینویٰ میں مبعوث کیا گیا۔ قرآن حکیم نے اس شہر کی آباد ی ایک لاکھ سے زائد بتائی ہے۔ (الصٰفٰت : 147) ترمذی کی ایک روایت میں یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بیان کی گئی ہے۔ اس قوم میں شرک وکفر کی کثرت تھی حضرت یونس (علیہ السلام) کو ان کی ہدایت کے لیے مامور کیا گیا وہ طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن قوم ان کی دعوت پر توجہ دینے کی بجائے کفر و شرک پر قائم رہی اور پہلے لوگوں کی طرح یونس (علیہ السلام) کا مذاق اڑاتے رہے۔ روایت ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنی قوم کو آگاہ کردیں کہ تین دن میں عذاب آنے والا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے قوم میں اعلان کردیا، اس اعلان پر قوم کے بعض سرداروں کو احساس ہوا کہ یونس (علیہ السلام) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ دیکھا جائے یونس (علیہ السلام) رات اپنے گھر گزارتے ہیں یا ہجرت کر جاتے ہیں۔ اگر وہ مقیم رہے تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا اگر ہجرت کر گئے تو ہم پر عذاب نازل ہوگا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) شہر چھوڑ کر دور نکل گئے۔ صبح ہوئی تو قوم پر سیاہ بادل منڈلانے لگے۔ صورت حال دیکھ کر قوم کو یقین ہوگیا کہ اب ہم ہلاک ہونے والے ہیں۔ یہ لوگ یونس (علیہ السلام) کی تلاش میں نکل گئے اور طے کرلیا کہ ان پر ایمان لے آئیں گے لیکن حضرت یونس (علیہ السلام) کو نہ پایا۔ اب اخلاص کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے ہوئے بستی سے باہر ایک میدان میں نکل گئے عورتیں، بچے، جوان، بوڑھے سب میدان میں جمع ہوگئے اور نہایت آہْ وزاری کے ساتھ توبہ کی اللہ تعالیٰ نے ان کی اجتماعی توبہ قبول فرمائی۔ (فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْن) [ یونس : 98] ” پھر کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو تو اس کے ایمان لانے نے اسے نفع دیاہو، یونس کی قوم کے سوا جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلّت کا عذاب دور کردیا اور انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا۔ “ اِدھر حضرت یونس (علیہ السلام) انتظار میں تھے کہ اب قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ جب عذاب ٹل گیا تو فکر ہوئی کہ قوم مجھے جھوٹا قرار دے گی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اس پریشانی میں ہجرت کے لیے نکل پڑے۔ دریائے فرات کے کنارے پہنچے تو ایک کشتی لوگوں سے بھری ہوئی تیار کھڑی تھی۔ لوگوں نے یونس (علیہ السلام) کو دیکھا تو سوار کرلیا کشتی روانہ ہوئی جب دریا کے درمیان پہنچی توبھنور میں پھنس گئی۔ کشتی والوں نے اعلان کیا کہ کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام ہے۔ اسے اپنے آپ کو پیش کردینا چاہیے تاکہ اس کی وجہ سے سب لوگ غرق نہ ہوں۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے دل میں سوچا اگر یہ دستور ہے تو بھاگا ہوا غلام میں ہی ہوں۔ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ سے ہجرت کی اجازت کے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ دیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن تک رہے۔ مچھلی ان کو پانی کی تہہ تک لے گئی اور پانی میں دور دراز پھیراتی رہی۔ بعض مفسرین نے سات اور بعض نے تین دن مدت لکھی ہے (تفسیر مظہری) حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے آپ کو زندہ محسوس کیا، سجدہ میں پڑ کر ندامت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور عفو و درگزر کی درخواست پیش کی۔ (لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ) [ الانبیاء : 87] ” الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں، بلاشبہ میں اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہوں۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی درد بھری پکار قبول فرمائی۔” اللہ “ کے حکم سے مچھلی نے یونس (علیہ السلام) کو دریا کے کنارے پھینک دیا۔ (فَلَوْلاَ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ ۔ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہِ اِِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ فَنَبَذْنَاہ بالْعَرَاءِ وَہُوَ سَقِیْمٌ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَقْطِینٍ ۔ وَاَرْسَلْنَاہُ اِِلٰی مِأَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 143 تا 147] ” اگر یونس اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔ ہم نے اسے باہر کنارے پر پھینک دیا اس حالت میں کہ وہ بیمار تھے اس پر کدو کی بیل کو اگا دیا اور انہیں ایک لاکھ سے زائد افراد کی طرف بھیجا۔ “ یونس (علیہ السلام) نہایت کمزوری کے عالم میں خشکی پر ڈال دئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔ جس کے پتوں کا سایہ حضرت یونس (علیہ السلام) پر سائبان بن گیا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے شہر واپس آئے قوم نے دیکھا تو بےحد خوشی کا اظہار کیا اور ان کی رہنمائی میں دنیا وآخرت کی کامرانی حاصل کی آخر کار پوری قوم حضرت یونس (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی وفات حضرت یونس (علیہ السلام) کے مقام وفات کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں : 1 نینویٰ میں مبعوث کئے گئے وہاں فوت ہوئے تھے۔ 2 فلسطین کے شہر الخلیل میں وفات پائی جو اکثر انبیاء کرام کا مدفن ہے۔ اہل تحقیق نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ (ماخوذ از قصص القرآن) (عَنْ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ دَعْوَۃُ ذِی النُّونِ إِذْ دَعَا وَہُوَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَإِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِہَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِی شَیْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَاب اللَّہُ لَہُ ) [ رواہ الترمذی : باب دعوۃ ذالنون فی۔۔] ” حضرت سعد ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت یونس (علیہ السلام) کی مچھلی کے پیٹ میں کی ہوئی دعا (لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ ) تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے بلاشبہ میں ظالموں میں سے ہوں۔ کوئی مسلمان پڑھ کر اپنی حاجت پیش کرے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور انھیں اس عظیم پریشانی سے نجات دی۔ 2۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت یونس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں تذکرہ اور ان کے اوصاف حمیدہ : 1۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں پانچ بار تذکرہ ہوا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی۔ (النساء : 162) 3۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (الانعام : 86) 4۔ یونس (علیہ السلام) رسولوں میں سے تھے۔ (الصٰفٰت : 139) 5۔ یونس (علیہ السلام) کی اللہ نے دعا قبول فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ (الانبیاء : 88)