Ayah 21:26فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی شخصیت اس کی ذات کا حصہ اور نہ ہی کوئی اس کی صفات میں شریک ہے۔
مشرکین نے کئی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ الٰہ بنا رکھے ہیں۔ مشرکین میں سے ایک گروہ کا یہ عقیدہ تھا اور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اولاد کی حاجت سے مبرّا اور پاک ہے۔ 1 اولاد کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ انسان اپنے سلسلہ نسب کا تسلسل چاہتا ہے۔ 2 ماں باپ کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ وہ اولاد چاہتے ہیں تاکہ ماں باپ کی حیثیت سے اولاد سے پیار کرسکیں۔ 3 اولاد ماں باپ کا بالخصوص بڑھاپے میں سہارا ہوتی ہے۔ 4 ماں اپنی بیٹی اور باپ اپنے بیٹے کی معاونت کا طلب گار ہوتا ہے۔ 5 اولاد کی پیدائش کے لیے میاں بیوی کے ملاپ کا ہونا لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کمزوریوں اور حاجات سے مبرّا اور پاک ہے۔ 6 اولاد دوسرے لوگوں سے پیاری ہوتی ہے جس بنا پر ماں، باپ سے اولاد کے بارے میں جانب داری ممکن ہے۔” اللہ “ عادل ہے اس کے بارے میں جانب داری کا تصور کرنا پرلے درجے کا گناہ اور کفر ہے۔ کچھ لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو رب کا بیٹا قرار دیا۔ عیسائیوں نے اس سے آگے بڑھ کر حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا جز قرار دیا۔ کچھ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ اللہ کا بیٹا اور مریم [ اللہ کی بیوی ہے۔ اس طرح انھوں نے تثلیث کا عقیدہ اختیار کیا۔ مسلمانوں نے ایسی لغویات اختیار نہیں کیں لیکن ایک گروہ نے یہ عقیدہ اختیار کر رکھا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے نور کا حصہ ہیں۔ جس کے لیے ” نُوْرٌ مِّنْ نُوْرِ اللّٰہِ “ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے گروہ نے پنجتن پاک کی اصطلاح اور عقیدہ بنا رکھا ہے۔ کتنے ظلم اور بےانصافی کی بات ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے پاس اپنے عقیدہ کی ناصرف کسی آسمانی کتاب اور قرآن مجید میں سے کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے۔ سب کو چھوڑ کر ہم ان لوگوں کے عقیدہ کی بات کرتے ہیں جو رسول اکرم ﷺ کو ” نُوْرٌ مِّنْ نُوْرِ اللّٰہِ “ کہتے ہیں۔ کیا انھیں معلوم نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے نور کی ایک جھلک طور پہاڑ برداشت نہ کرسکا۔ نبی ﷺ کے نور کی جھلک آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ اور صحابہ کرام ؓ کس طرح برداشت کرسکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عقیدہ عقل و فکر کے خلاف اور پرلے درجے کا شرک ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے پاس شرک کی حمایت میں کسی قسم کی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس شرک کی تردید اس آیت میں یہ کہہ کر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس لیے بھی اولاد کی ضرورت نہیں کیونکہ ساری مخلوق ہی اس کی تابع فرمان، ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء اس کے عاجز اور مکرم بندے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بندے اور ” اللہ “ میں اتنا فرق ہے کہ جس کا ہمارے ذہن اندازہ نہیں لگا سکتے۔
سنگین ترین جرم :
” کہتے ہیں رحمن بیٹا رکھتا ہے ایسا کہنے والو۔ تم بری بات زبان پر لاتے ہو۔ قریب ہے کہ اس جھوٹ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گرپڑیں۔ کہ انہوں نے ” اللہ “ کے لیے بیٹا تجویز کیا۔ حالانکہ ” اللہ “ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ “ ( مریم، آیت : 88 تا 93)
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہُ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہُ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا) [ رواہ البخاری : باب وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّہُ وَلَدًا سُبْحَانَہُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ اس کا مجھے جھٹلانا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کریگا جس طرح اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ کیا میرے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے ؟ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔ “
مسائل
1۔ کچھ لوگوں کا باطل عقیدہ ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اولاد کی کمزوری سے مبّرا ہے۔
3۔ ساری مخلوق اللہ کی تابع فرمان ہے، ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء اس کے بندے یعنی غلام ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں :
1۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : 68)
2۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116)
3۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : 26)
Ayahs 21:27–29فہم القرآن
ربط کلام : عباد مکرمون کی عاجزی کی انتہا ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء اللہ کے اس قدر عاجز بندے اور غلام ہیں کہ ” اللہ “ کے کسی حکم سے آگے بڑھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
عَبَدٌکی جمع ” عِبَادٌ“ ہے اور اہل لغت نے اس کا معنی بندہ اور غلام لکھا ہے۔ ظاہر ہے غلام کتنا ہی قابل صد احترام کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے آقا کا بندہ اور اس کے سامنے عاجز ہو کر ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس لیے ملائکہ ہوں یا انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء وہ سب کے سب اپنے رب کے غلام ہیں۔ وہ اپنے عظیم بےمثال آقا جو صرف ان کا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا آقا، خالق، رازق اور مالک ہے۔ وہی ہمہ صفت موصوف اور تمام اختیارات کا مالک اور معبود برحق ہے، اس کے کسی حکم سے آگے بڑھنے کی ملائکہ اور انبیائے کرام (علیہ السلام) جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ یہاں ” عباد “ سے مراد ملائکہ ہیں۔ جن کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ ملائکہ اپنے رب کے سامنے اپنی مرضی سے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور ہر حال میں اس کے حکم پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے وہ اس کی ہیبت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے بغیر کسی کی اس کے حضور سفارش نہیں کرسکتے۔ اگر ان میں سے کوئی اِلٰہ ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے ” اللہ “ جہنم میں جھونک دے گا کیونکہ اس کا فرمان ہے کہ میں ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتا ہوں۔ اس فرمان سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ ملائکہ میں بھی یہ جرأت اور ہمت نہیں کہ وہ معبود ہونے اور حاجت روا، مشکل کشا ہونے کا دعویٰ کریں۔ بالفرض ان میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ کرے تو وہ جہنم میں جائے گا۔ ملائکہ کے حوالے سے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ لوگو ! تم انبیاء کو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے سمجھ کر انہیں مشکل کشا، حاجت روا اور سجدہ کے لائق سمجھ لیتے ہو غور کرو ! یہ تو اپنے رب کے بندے تھے۔ اپنا اپنا وقت گزار کر اللہ کے حضور پہنچ چکے۔ یہی حال اولیاء کا ہے۔ ان کے مقابلے میں ملائکہ وہ مخلوق ہیں جو گناہ کے تصور سے پاک اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر رہتے ہیں۔ انھیں بھی جرأت نہیں کہ حاجت روا، مشکل کشا یعنی کسی کا معبود بننے کی کوشش کریں۔ یہ بات ناممکنات میں سے ہے بافرض محال اگر ان میں سے کوئی ایسی حرکت کرے گا تو وہ بھی جہنم سے نہیں بچ سکتا۔ ان کے مقابلے میں خاکی مخلوق کی کیا مجال ہے ؟ کہ وہ شرک کرے اور جہنم سے بچ سکے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا ماذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ) ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ جب آسمان پر کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اللہ کے فرمان کے جلال کی وجہ سے فرشتوں کے پروں میں آواز پیدا ہوتی ہے جیسے صاف پتھر پر لوہے کی زنجیر کھنچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دورہوجاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ‘ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ؟ اوپر والے ملائکہ اللہ کے ارشاد کا بیان کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ ہے اللہ کا ارشاد جو بلند ہے اور بڑا ہے۔
مسائل
1۔ ملائکہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے تجاوز نہیں کرتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب کے ماضی، حال اور مستقبل کو جانتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے حضور سفارش نہیں کرسکتا۔
4۔ ملائکہ میں سے کوئی الٰہ ہونے کا دعویٰ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی جہنم میں جھونک دے گا۔
تفسیر بالقرآن
جس نے ” اللہ “ کے ساتھ شریک بنایا اسے عذاب ہوگا :
1۔ اللہ تعالیٰ جس انسان کو نبوت، کتاب اور حکومت دے اسے بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بنائے۔ ( آل عمران : 79)
2۔ جس نے شرک کیا اس پر جنت حرام ہے۔ ( المائدہ : 72)
3۔ اگر آپ بھی شرک کرتے تو آپ کے اعمال غارت کر دئیے جاتے۔ (الزمر : 65)
Ayah 21:30فہم القرآن
ربط کلام : جس اِلٰہ کے سامنے کوئی دَم نہیں مار سکتا اس کی الوہیت کے دلائل۔
اللہ تعالیٰ کے واحد اِلٰہ ہونے کا جو لوگ انکار کرتے ہیں کیا انھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان آپس میں خلط ملط تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جدا جدا کردیا اور اس نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ اتنے ٹھوس دلائل کے باوجود لوگ پھر بھی اس کے واحد اِلٰہ ہونے پر یقین نہیں کرتے۔ پہلے پارے میں یہ بتلایا ہے کہ ” اللہ “ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا کیونکہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ” ہوجا “ وہ کام من و عن اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 117)
” رَتْقًا “ کا معنی ہے کہ آپس میں خلط ملط اور جڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو حکم دیا کہ تم اوپر نیچے سات آسمان بن جاؤ اور زمین کو حکم ہوا کہ تہہ بہ تہہ سات زمینوں کی شکل اختیار کرلے چناچہ ایسا ہوگیا
قرآن مجید کے الفاظ سے یہ عمل بظاہر بڑا سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اب تک اس عمل کی جو جزیات سامنے آئی ہیں ان پر غور کیا جائے تو آدمی کی عقل نہ صرف دنگ رہ جاتی ہے بلکہ اس عمل کا احاطہ کرنے سے پہلے ہی سوچ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اِلٰہ ہونے کا دوسرا ثبوت یہ دیا ہے کہ اس نے ہر چیز کو پانی سے بنایا ہے۔ بعض اہل علم نے ان الفاظ کا ترجمہ کرتے ہوئے جاندار، چیزیں لکھی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ” کُلُّ شَیْ ءٍ “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں یعنی ” ہر چیز “۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جاندار چیزیں پانی کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتیں اور ہر جاندار کے وجود میں پانی کی خاص مقدار کا ہونا لازم ہے ورنہ اس کے وجود کا باقی رہنا ناممکن ہے۔ لیکن بعض جمادات کے اندر بھی پانی کی ایک مقدار موجود ہوتی ہے اور جن چیزوں کے اندر پانی کے اثرات دکھائی نہیں دیتے ہوسکتا ہے کہ ان کے میٹریل میں بھی بنیادی طور پر پانی کا عنصر موجود ہو۔ قرآن مجید نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ زمین سے پہلے اس کائنات میں پانی ہی پانی تھا اور اللہ تعالیٰ کا عرش بھی پانی پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے حکم سے سات زمینیں اور سات آسمان موجودہ شکل میں معرض وجود میں آئے اور اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر مستوی ہوا۔ (ھود : 7)
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِی أَحَدَکُمْ فَیَقُولُ مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ فَیَقُول اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَیَقُولُ مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ فَیَقُول اللَّہُ فَیَقُولُ مَنْ خَلَقَ اللَّہَ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ ذَلِکَ فَلْیَقُلْ آمَنْتُ باللَّہِ وَبِرُسُلِہِ ) [ رواہ احمد : مسند ابی ہریرہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے وہ پوچھتا ہے آسمان کو کس نے پیدا کیا بندہ جواب دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے۔ شیطان پھر پوچھتا ہے زمین کو کس نے پیدا کیا بندہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے۔ شیطان پھر سوال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب آدمی کے ذہن میں یہ خیال آئے تو وہ کہے۔ میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ “
زمین و آسمانوں کی ابتدا کس طرح ہوئی :
سائنس کی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning) رکھتی ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صداقت کو ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ جو چیز اپنا آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہوسکتی۔ یقیناً وہ ایک محرک اول، ایک خالق، ایک خدا کی محتاج ہے۔ “ (The evidence of God , p51) چناچہ کائنات کے وجود میں آنے کا مسلمہ جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ ابتداً مادہ مرکوز اور مجتمع (Concentrated and condensed) حالت میں تھا۔
(اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰھُمَاوَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ ) [ سورة الأنبیاء : 30]
” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ارض و سماوات آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ (اللہ تعالیٰ کی خلّاقی) پر ایمان نہیں لاتے ؟ “
یہ مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہ تھی پھر اچانک یہ ایک عظیم دھماکہ (Big Bang) (یہ عظیم دھماکہ ایک اندازہ کے مطابق 15 کھرب سال پہلے ہوا) سے پھٹ پڑا اور اس نے ایک عظیم گیسی بادل یا قرآن کے لفظ میں دخان (ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ) کی صورت اختیار کرلی۔ سائنس کی یہ دریافت قرآنی بیان کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ یہ گیسی بادل بہت عظیم الجثہ تھا اور آہستہ آہستہ گردش کر رہا تھا۔ یہ عظیم سدیم (Primery Nebula) انجام کار متعدد ٹکڑوں میں بٹ گیا جن کی لمبائی چوڑائی اور مقدار مادہ بہت ہی زیادہ تھا۔ نجمی طبیعات (Astrophysicist) کے ماہرین اس کی مقدار کا اندازہ سورج کے موجودہ مادہ کے ایک ارب سے لگا کر ایک کھرب گنا تک لگاتے ہیں۔ ان اعداد سے ابتدائی گیسی مقدار مادہ (Hydrogen and Helium) کے ان ٹکڑوں کے عظیم جثوں کا کچھ تصور ملتا ہے جن سے بعد میں عمل انجماد (Condensation) کے ذریعے کہکشائیں وجود میں آئیں۔
علمائے فلکیات کے ایک جدید اندازے کے مطابق ہر کہکشاں (Galaxy) میں دو کھرب ستارے ہیں اور اب تک معلوم کائنات میں تقریباً دو کھرب یہ کہکشائیں ہیں۔ جو کہکشاں ہم سے قریب ترین ہے وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً نو لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ یہ کہکشاں مراۃ السلسلہ (Andromida) نامی مجمع النجوم میں واقع ہے۔ لہٰذا روشنی کو ان ستاروں سے جو معلوم سماوی جہاں کے اس سرے پر واقع ہیں ہم تک پہنچنے میں اربوں سال لگ جاتے ہیں۔ کائنات کی پہنائیاں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کی پیمائش کے لیے خاص اکائیاں مثلاً نوری سال اور پارسک وغیرہ وضع کی گئیں ہیں۔ نوری سال یا سال نوای اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اور یہ تقریباً 58 کھرب ستر ارب میل کے برابر ہوتا ہے اور پارسک 3.26 نوری سال یا ایک نیل 92 کھرب میل کے لگ بھگ ہے۔ ( فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ )
مزید تفصیل کے لیے فہم القرآن جلد 2 سورة الاعراف آیت 54 کی تفصیل ملاحظہ کریں۔
مسائل
1۔ زمین و آسمان پہلے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں موجودہ شکل میں بننے کا حکم دیا اور یہ اسی طرح ہی بن گئے جس طرح اللہ تعالیٰ کی منشا تھی۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا۔
تفسیر بالقرآن
زمین و آسمان کی تخلیق کے مختلف مراحل :
1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو برحق پیدا کیا ہے اللہ شرک سے بالا تر ہے۔ (النحل : 3)
2۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے اور مٹیریل کے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ (البقرۃ : 116)
3۔ زمین و آسمان پہلے باہم جڑے ہوئے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ (الانبیاء : 30)
4۔ اللہ تعالیٰ نے دو دن میں آسمانوں کو پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : 12)
5۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو چھ دن میں بنائے۔ (الاعراف : 54)
Ayah 21:31فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ! اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے کا تیسرا، چوتھا اور پانچواں ثبوت۔
اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرما کر اس میں بڑے بڑے پہاڑ نصب فرمائے تاکہ زمین اپنے بوجھ کی وجہ سے ہلنے اور ایک طرف جھکنے نہ پائے۔ پھر اس میں کشادہ راہیں بنائیں تاکہ لوگوں کو ایک سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے سہولت اور رہنمائی حاصل ہو۔
عربی زبان جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ عربی لغت میں ارض کا لفظ واحد اور جمع دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی الارض کا لفظ آیا ہے اس سے مراد تہہ بہ تہہ سات زمینیں ہیں۔ اٹھائیسویں پارہ میں زمین کے لیے بھی ” مِثْلَھُنَّ “ کا لفظ استعمال فرما کر سات زمینیں ثابت کی ہیں۔ (الطلاق : 12) تیسویں پارے میں زمین اور پہاڑوں کے بارے میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ : ” کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ؟ اور پہاڑوں کو میخوں کے طور پر زمین پر نہیں گاڑا۔ (النباء : 7) اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں پر قیمتی درخت، نباتات اور برف کی شکل میں پانی کے ذخائر جمع کیے۔ پہاڑوں کے اندر اور ان کے نیچے بیشمار قسم کی گراں قیمت معدنیات کے خزانے محفوظ فرمائے اور پہاڑوں کے درمیان راستے رکھے۔ جو نہ صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے راستے ہیں بلکہ پانی کی گزر گا ہیں ہیں۔ جن سے دریا سیراب ہوتے ہیں اور دریاؤں سے نہروں کی شکل میں پانی مختلف علاقوں میں پہنچتا ہے۔
میخوں کی مانند پہاڑ :
ارضیات میں ” بل پڑنے “ (Folding) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشر ارض (Crust) یعنی پہلی تہہ میں بل پڑنے کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے ہیں۔ قشر ارض جس پر ہم رہتے ہیں، ٹھوس چھلکے کی طرح ہے، جب کہ کرۂ ارض کی اندرونی پرتیں، (LaYers) نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعاً غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پہاڑوں کی قیام پذیری (Stability) کا تعلق، قشر ارض میں بل پڑنے کے عمل سے بہت گہرا ہے۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر تقریباً 035، 6 کلومیٹر ہے اور قشر ارض، جس پر ہم رہتے ہیں اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی 2 کلومیٹر سے لے کر 35 کلومیٹر تک ہے۔ چونکہ قشر ارض بہت پتلی ہے، لہٰذا اس کے تھرتھرانے یا ہلنے کا امکان بھی بہت قوی ہے اس میں پہاڑ خیمے کی میخوں کا کام کرتے ہیں جو قشرارض کو تھام لیتی ہیں اور اسے قیام پذیری عطا کرتے ہیں قرآن پاک میں بھی عین یہی کہا گیا ہے :
(اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وََّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ )[ النباء : 6۔ 7]
” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ “
یہاں عربی لفظ ” اَوْتَادً “ کا مطلب بھی میخیں ہی نکلتا ہے، ویسی ہی میخیں جیسی کہ خیمے کو باندھ رکھنے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ ارضیاتی تہوں (Folds) یا سلوٹوں کی گہری پوشیدہ بنیادیں بھی یہی ہیں۔
earth نام کی ایک کتاب ہے جو دنیا بھر کی کئی جامعات میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس کا بھی ہے، جو 12 سال تک امریکہ کی اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل جیسی شکل (Wedge Shape) سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر فرینک کے مطابق، قشر ارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پہاڑوں کے فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے، قرآن پاک واضح طور پر فرماتا ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرز نے سے بچائیں :
(وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِھِمْ )[ الانبیاء : 31]
” اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔ “
اسی طرح کے ارشادات سورة لقمان، آیت : 10 اور سورة النحل اور آیت 15 میں بھی وارد ہوئے ہیں۔ لہٰذا قرآن پاک کے فراہم کردہ بیانات جدید ارضیاتی معلومات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔
پہاڑوں کو مضبوطی سے جماد یا گیا ہے :
سطح زمین متعدد ٹھوس ٹکڑوں، یعنی ” پلیٹوں “ میں بٹی ہوئی ہے جن کی اوسط موٹائی تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔ یہ پلیٹیں، جزوی طور پر پگھلے ہوئے حصے کے اوپر گویا تیر رہی ہیں، اس حصے کو (Aesthenosphere) کہا جاتا ہے۔ پہاڑ عموماً پلیٹوں کی بیرونی حدود پر پائے جاتے ہیں۔ قشر ارض، سمندروں کے نیچے 5 کلومیٹر موٹی ہوتی ہے، جب کہ خشکی پر اس کی اوسط موٹائی 35 کلومیٹر تک ہوتی ہے البتہ پہاڑی سلسلوں میں قشر ارض کی موٹائی 80 کلومیٹر تک جا پہنچتی ہے، یہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر پہاڑ کھڑے ہیں۔
پہاڑوں میں برکات :
اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو صرف میخوں کے طور پر ہی نہیں بنایا بلکہ ان میں بیشمار فوائد رکھ دیے ہیں۔ پہاڑوں پر برف جمتی ہے جو اللہ کی طرف سے پانی ذخیرہ کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ پہاڑوں میں چشمے جاری ہوتے ہیں جو صاف شفاف پانی کا وسیلہ ہیں۔ تقریباً تمام دریاؤں کا آغاز پہاڑوں سے ہوتا ہے۔ پہاڑوں میں سونے کے ذخائر اور بیشمار قسم کے قیمتی پتھر اور معدنیات پائی جاتی ہیں۔ جو زمین کی پیداوار سے ہزاروں گناقیمتی ہیں۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ﷺ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِیدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاہَا عَلَیْہَا فَاسْتَقَرَّتْ فَتَعَجَّبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ فَقَالَتْ یَا رَبِّ ہَلْ مِنْ خَلْقِکَ شَیْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ قَالَ نَعَمِ الْحَدِیدُ قَالَتْ یَا رَبِّ ہَلْ مِنْ خَلْقِکَ شَیْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِیدِ قَالَ نَعَمِ النَّارُ قَالَتْ یَا رَبِّ ہَلْ مِنْ خَلْقِکَ شَیْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ قَالَ نَعَمِ الْمَاءُ قَالَتْ رَبِّ فَہَلْ مِنْ خَلْقِکَ شَیْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ قَالَ نَعَمِ الرِّیحُ قَالَتْ یَا رَبِّ فَہَلْ مِنْ خَلْقِکَ شَیْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّیحِ قَالَ نَعَمِ ابْنُ آدَمَ یَتَصَدَّقُ بِیَمِینِہِ یُخْفِیہَا مِنْ شِمَالِہِ ) [ رواہ احمد : مسند انس بن مالک ] (وقال الترمذی ھذا حدیث غریب)
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا تو وہ ہلنا شروع ہوگئی تو اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر گاڑ دیا تو وہ ٹھہر گئی فرشتوں نے پہاڑ کی تخلیق پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا اے پروردگار کیا تو نے پہاڑوں سے بڑھ کے کوئی سخت چیز پیدا کی ہے ؟ اللہ نے فرمایا ہاں ! لوہا، فرشتوں نے عرض کی کیا لوہے سے بڑھ کر کوئی سخت چیز تخلیق کی گئی ہے ؟ اللہ نے فرمایا آگ۔ فرشتوں نے دریافت کیا، کیا آگ سے بھی سخت چیز آپ نے تخلیق فرمائی ہے ؟ اللہ نے فرمایا پانی اس سے بھی سخت تر ہے۔ انہوں نے عرض کی کیا پانی سے بڑھ کر بھی اے اللہ تو نے کسی چیز کو تخلیق کیا ہے ؟ اللہ نے فرمایا ہوا، فرشتوں نے سوال کیا اے پروردگار کیا تو نے ہوا سے بھی بڑھ کر کوئی سخت چیز پیدا کی ہے ؟ اللہ نے فرمایا ابن آدم کا اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرنا ہے جس کا بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین بنا کر اس میں پہاڑ نصب فرمائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے۔
تفسیر بالقرآن
پہاڑوں کے فوائد اور ان کی ساخت :
1۔ اللہ نے تمہارے لیے سایہ دار چیزیں بنائیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی۔ (النحل : 81)
2۔ کیا ہم نے زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا۔ (النباء : 7۔ 8)
3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے اوپر پہاڑگاڑ دیے۔ (النازعات : 32)
4۔ تم پہاڑوں کو کھود کھود کر خوبصورت گھر بناتے ہو۔ (الشعراء : 149)
5۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں میں راستے بنائے۔ (الانبیاء : 31)
Ayahs 21:32–33فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے کا چھٹا، ساتواں اور آٹھواں ثبوت۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین والوں کے لیے محفوظ چھت بنایا۔ اس کے باوجود لوگ اپنے رب کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اسی نے رات اور دن پیدا کیے، چاند اور سورج بنائے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کسی ستون کے بغیر چھت بنایا یہ ایسی مضبوط چھت ہے کہ نامعلوم کتنے عرصہ سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اسے قائم رکھے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھنے والے کو بالکل ہموار، صاف اور شفاف نظر آتی ہے۔ نہ اس کا رنگ بدلا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ اور جھکاؤ واقع ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اس نے سات آسمان اوپر نیچے بنائے دیکھنے والا اس کی آفرینش میں کوئی نقص نہیں پاسکتا پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ۔ کیا تجھے اس میں کوئی شگاف اور دراڑ نظر آتی ہے ؟ اس نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اس میں ستارے بنائے جو شیاطین کے لیے کوڑوں کا کام دیتے ہیں۔ اس نے شیاطین کے لیے جلا دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (الملک : 3۔ 5)
اُسی نے رات اور دن بنائے۔ سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں۔ اگر ” اللہ “ رات کو قیامت تک طویل کر دے تو اس کے سوا کسی کے پاس طاقت نہیں کہ جو دن کی روشنی لاسکے لیکن اس کے باوجود لوگ حقیقت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر اللہ تعالیٰ دن کو قیامت تک لمبا کر دے تو اس کے سوا کسی کے پاس قوت نہیں جو رات لے آئے جس میں تم سکون پاتے ہو لیکن لوگ غور نہیں کرتے۔ (القصص : 71۔ 72)
چاند اور سورج کی طرف دیکھو حقیقتاً کوئی نہیں جانتا کتنی مدت سے رواں دواں ہیں یہ اس وقت تک طلوع اور غروب ہوتے رہیں گے جب تک ان کے بنانے والی ذات ان کو رواں دواں رہنے کا حکم دے گی۔ جو نہی اس کا حکم ہوگا کہ رک جاؤ تو سورج بےحرارت اور چاند بےنور ہو کر زمین پر گرپڑے گا۔ لیکن جب تک انھیں چلتے رہنے کا حکم ہے اس وقت تک سورج میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ چاند کو پالے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ہر کوئی اپنے مدار میں گھوم رہا ہے۔ (یٰس : 40)
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لأَبِی ذَرٍّ حینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِی أَیْنَ تَذْہَبُ قُلْتُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّہَا تَذْہَبُ حَتَّی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَسْتَأْذِنَ فَیُؤْذَنَ لَہَا، وَیُوشِکُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ یُقْبَلَ مِنْہَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ یُؤْذَنَ لَہَا، یُقَالُ لَہَا ارْجِعِی مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالَی (وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اس کو اجازت نہ ملے۔ اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُکَوَّرَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ لیا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ نے ہی رات اور دن بنائے۔ 2۔ ” اللہ “ نے ہی چاند اور سورج بنا کر ان کے لیے مدار قائم کیے۔
3۔ چاند اور سورج اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
رات اور دن کا نظام :
1۔ دن اور ات کے مختلف ہونے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6)
2۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164)
4۔ رات اور دن کے مختلف ہونے، آسمان سے رزق اتارنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الجاثیۃ : 5)
Ayahs 21:34–35فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے رات کے بعد دن، چاند اور سورج کو بنایا اور ان کے لیے دائرہ کار اور وقت مقرر کیا اسی طرح ہی ہر انسان کا ایک وقت اور اسے کچھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ جس طرح چاند غائب اور سورج غروب ہوجاتا ہے اسی طرح ہی انسان کی زندگی کا سورج غروب ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں تھے۔
پوری کائنات کا نظام صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس نے ایک معینّہوقت تک ہر چیز کی ایک ڈیوٹی لگا رکھی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہے۔ جس طرح ہر چیز کی ایک ذمہ داری ہے اسی طرح ہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذمہ ” اللہ “ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا تھا۔ اسی فرض کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء اور نبی آخر الزماں ﷺ کو مبعوث فرمایا تھا۔ آپ نے لوگوں کے سامنے عقیدۂ توحید اور اس کے دلائل پیش فرمائے تو لوگوں نے ان دلائل کی طرف توجہ دینے کی بجائے نہ صرف اعراض کیا بلکہ آپ کی جان لینے کے درپے ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ کو موت جیسی مسلمہ حقیقت بتلانے کے ساتھ تسلّی دی جا رہی ہے کہ اے محبوب پیغمبر ! گھبرانے کی ضرورت نہیں ایک وقت آنے والا ہے کہ جب آپ بھی اس دنیا سے کوچ کریں گے اور آپ کے دشمن بھی موت کے گھاٹ اتریں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔
لہٰذا آپ کو بھی موت آئے گی اور آپ کے مخالفوں نے بھی یہاں ہمیشہ نہیں رہنا ہے۔ ہر انسان نے موت کے گھاٹ اترنا ہے۔ ہم لوگوں کو نیکی اور برائی، تنگی اور کشادگی کے ساتھ آزماتے ہیں، پھر ہماری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے۔ موت وہ حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی عقلمند کے لیے ممکن نہیں۔ یہاں تک کہ سرور دو عالم ﷺ کو بھی موت کی آغوش میں جانا پڑا۔ جو شخص موت کی وادی میں داخل ہوا، وہ واپس نہیں آیا اور نہ آئے گا۔ البتہ ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی کی روح دنیا میں واپس آجاتی ہے۔ اس عقیدہ کو آوگون کا نام دیا گیا۔ افسوس ہندؤوں سے متاثر ہو کر کچھ مسلمانوں نے یہ عقیدہ بنایا اور پھیلایا کہ نیک لوگوں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں۔ حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو خیر اور شر کے ساتھ آزماتا ہے خوش بخت ہے وہ انسان جس نے شر کے مقابلے میں خیر کا انتخاب کیا اور اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوا۔
نبی محترم ﷺ کے آخری لمحات :
(وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اِنَّ مِنْ نِّعَمِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تُوُفِّیَ فِیْ بَیْتِیْ وَفِیْ یَوْمِیْ وَبَیْنَ سَحْرِیْ وَنَحْرِیْ وَاَنَّ اللّٰہَ جَمَعَ بَیْنَ رِیْقِیْ وَرِیْقِہٖ عِنْدَ مَوْتِہٖ دَخَلَ عَلَیَّ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ وَبِیَدِہٖ سِوَاکٌ وَّاَنَا مُسْنِدَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَرَاَیْتُہٗ یَنْظُرَ اِلَیْہِ وَعَرَفْتُ اَنَّہٗ یُحِبُّ السِّوَاکَ فَقُلْتُ اٰخُذُہٗ لَکَ فَاَشَارَ بِرَاْسِہٖ اَنْ نَّعَمْ فَتَنَاوَلْتُہٗ فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ وَقُلْتُ اُلَیِّنُہٗ لَکَ فَاَشَارَ بِرَاْسِہٖ اَنْ نَّعَمْ فَلَیَّنْتُہٗ فَاَمَرَّہٗ وَبَیْنَ یَدَیْہِ رَکْوَۃٌ فِیْھَامَاءٌ فَجَعَلَ یُدْخِلُ یَدَیْہِ فِی الْمَاءِ فَیَمْسَحُ بِھِمَا وََجْہَہٗ وَیَقُوْلُ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ اِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٌ ثُمَّ نَصَبَ یَدَہٗ فَجَعَلَ یَقُوْلُ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی حَتّٰی قُبِضَ وَمَالَتْ یَدُہٗ )
[ رواہ البخاری : باب مَرَضِ النَّبِیِّ ﷺ وَوَفَاتِہِ ]
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر بےپناہ انعامات میں سے ایک انعام یہ ہے ‘ کہ رسول اکرم ﷺ میرے گھر میں ‘ میری باری کے دن ‘ میرے سینے اور میری گردن کے درمیان فوت کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے قریب میرے لعاب دہن اور آپ کے لعاب دہن کو جمع فرمایا وہ اس طرح کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر میرے پاس آئے اس کے ہاتھ میں مسواک تھی میں نے رسول اکرم ﷺ کو سہارا دے رکھا تھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ مسواک کی طرف متوجہ ہیں۔ میں جان گئی کہ آپ مسواک کرنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا آپ کے لیے مسواک لوں ؟ آپ نے اثبات میں سر ہلایا میں نے مسواک آپ کو دی آپ نے مسواک کرنا شروع کی لیکن وہ سخت تھی۔ پھر میں نے پوچھا ‘ کیا میں اسے آپ کے لیے نرم کردوں ؟ آپ نے اپنے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ چناچہ میں نے مسواک کو آپ کے لیے نر م کیا۔ آپ نے مسواک کی اور آپ کے ہاتھوں میں پانی کا بر تن تھا۔ آپ پانی میں اپنے ہاتھ ڈالتے اور اپنے چہرے پر ہاتھ ملتے اور کہتے لاَ اِ لٰہ اِ لَّا اللّٰہ بلا شبہ سکرات موت برحق ہیں۔ پھر اپنا ہاتھ بلند کیا اور رفیق اعلیٰ کی دعا کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی اور آپ کا دست مبارک جھک گیا۔
( وَعَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ یَتَغَشَّاہُ الْکَرْبُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ وَ اکَرَبَ اَبَاہْ ! فَقَالَ لَہَا لَیْسَ عَلٰی اَبِیْکَ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا اَبَتَاہُ اَجَابَ رَبَّا دَعَاہٗ یَااَبَتَاہٗ مِنْ جَنَّتِ الْفِرْدَوْسِ مَاْوَاہٗ ۔ یَا اَبَتَاہٗ اِلٰی جِبْرَءِیْلَ نَنْعَاہٗ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتُ فَاطِمَۃُ یَا اَنَسُ اَطَابَتْ اَنْفُسُکُمْ اَنْ تَحْثُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ التُّرَابَ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب مَرَضِ النَّبِیِّ ﷺ وَوَفَاتِہِ ]
” حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ شدید بیمار ہوئے۔ آپ پر بیماری کی وجہ سے غشی طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ ؓ پکار اٹھیں ‘ ہائے ابو جان کی تکلیف ! رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ آج کے بعد تیرے باپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ جب آپ ﷺ نے وفات پائی تو حضرت فاطمہ ؓ نے کہا ہائے ابا جان ! آپ نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی۔ ابا جان ! آپ کا مقام جنت ہے۔ اے ابو جان ہم جبرئیل کو آپ کی موت پر مطلع کرتے ہیں۔ پھر جب آپ کو دفنایا گیا تو حضرت فاطمہ ؓ نے کہا ‘ اے انس ! تم نے رسول ﷺ پر مٹی ڈالنے پر اپنے آپ کو کیسے آمادہ کرلیا ؟ “
تفسیر ماجدی میں مولانا عبدالماجد دریا آبادی ” وَمَا مُحَّمْدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ“ کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں۔ ان سب نے اپنے وقت پر دنیا کو خیر باد کہا سو یہ بھی اپنے وقت موعود پر وفات پائیں گے۔ اور اس بات میں نہ کوئی بات حیرت کی ہوگی اور نہ کوئی پہلو اہانت کا نکلے گا۔ رسول کا مرتبہ خوب سمجھ لیا جائے رسول محض ہوتے ہیں صاحب وحی عقیدہ حلول، مظہریت، ابدیّت وغیرہ پر ضرب لگانے کے لیے مرتبہ رسالت کی بار بار تصریح ضروری تھی۔ حضور کی وفات کا حادثہ اس قدر سخت تھا کہ حضرت فاروق ؓ جیسے باوقار اور عالی ظرف صبر وضبط کھو بیٹھے اور بےاختیار ہوگئے۔
مسائل
1۔ کوئی انسان دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ 2۔ سرور دو عالم ﷺ کو بھی موت نے آلیا۔
3۔ ہر انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو نیکی اور بدی کے ساتھ آزماتا ہے۔
5۔ بالآخر ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے ہاں لوٹنا ہے۔
تفسیر بالقرآن
موت ایک حقیقت ہے :
1۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران : 145) 2۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران : 154)
3۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران : 168) 4۔ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ (النساء : 78)
5۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء : 35) 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے۔ (الرحمن : 26، القصص : 88)
7۔ ” اللہ “ نے کسی بشر کو ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ ( الانبیاء : 34)
Ayah 21:36فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا موت سے بےپرواہ ہونے کی وجہ سے سرور دو عالم ﷺ کے ساتھ رویہّ ۔
انسان جب اپنی موت کو بھول جائے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے عقیدے کا انکار کردے تو نا صرف حق بات کو ٹھکرا تا ہے بلکہ وہ حق کی دعوت دینے والے کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ یہی حال سرور دو عالم ﷺ کے مخالفین کا تھا۔ وہ نا صرف نبی ﷺ کی ذات اور دعوت کا مذاق اڑاتے تھے بلکہ یہ الزام بھی لگاتے کہ یہ شخص ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے۔ حالانکہ ان کے اپنے اخلاق کی پستی کا یہ عالم تھا کہ وہ رب رحمن کا انکار کرتے تھے۔ یہودی اور عیسائی اللہ تعالیٰ کو ” اَلرَّحْمٰنُ “ کے نام سے بھی پکارا کرتے تھے۔ لیکن مکہ کے لوگ اللہ تعالیٰ کے نام ” اَلرَّحْمٰنُ “ سے چڑ رکھتے تھے۔ جب رسول اکرم ﷺ نے اپنے رب کو اللہ کے ساتھ الرَّحْمٰنُ کے نام سے پکارانا اور متعارف کروانا شروع کیا تو مکہ والوں نے نا صرف اللہ تعالیٰ کے اس مبارک نام کا انکار کیا بلکہ وہ پہلے سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے یہ کہہ کر مخالف ہوگئے کہ یہ شخص ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے کبھی بھی کسی کے خلاف ایسی زبان استعمال نہیں کی جس میں کسی کی توہین پائی جائے۔
آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم اور اعلیٰ کردار سے سرفراز فرمایا اور یہ تعلیم دی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو بھی تلقین فرمائیں کہ کسی کے باطل معبود کو برا نہ کہیں۔
(وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ مَّرْجِعُھُمْ فَیُنَبِّءُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ الانعام : 108]
” مشرک جن لوگوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ کہیں یہ بھی اللہ کو بےادبی اور بےسمجھے برا نہ کہیں۔ “ (الانعام : 108)
الّرحمن کی رحمتیں :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلّٰہِ ماءَۃَ رَحْمَۃٍ قَسَمَ مِنْہَا رَحْمَۃً بَیْنَ جَمِیعِ الْخَلَاءِقِ فَبِہَا یَتَرَاحَمُونَ وَبِہَا یَتَعَاطَفُونَ وَبِہَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَی أَوْلَادِہَا وَأَخَّرَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ رَحْمَۃً یَرْحَمُ بِہَا عِبَادَہُ ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب مایرجی من رحمۃ اللہ یوم القیامۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ نبی معظم ﷺ نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے پاس رحمت کے سو حصے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک حصہ تمام مخلوق میں تقسیم کیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ باہم محبت و شفقت سے پیش آتے ہیں اور اسی وجہ سے ہی وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ باقی ننانوے حصے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں جن سے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ “
مسائل
1۔ رسول کریم ﷺ کا کفار مذاق اڑایا کرتے تھے۔
2۔ رسول کریم ﷺ پر کفار اپنے معبودوں کی توہین کا الزام لگاتے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب نام ” الرحمن “ کا کفار انکار کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں اسم الرّحمن کی اہمیت :
1۔ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن۔ اللہ کے لیے اچھے نام ہیں۔ (الاسراء : 110)
2۔ اللہ کے اچھے، اچھے نام ہیں اسے ان ناموں کے ساتھ پکارو۔ (الاعراف : 180)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام الرّحمن 57 بار اور الرّحیم 95 بار استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 21:37–38فہم القرآن
ربط کلام : کفار نہ صرف رسول کریم ﷺ کی ذات اور آپ کی دعوت کو مذاق کا نشانہ بناتے تھے بلکہ وہ عذاب کے بارے میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے بلکہ اسے بھی مذاق سمجھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے بطور امتحان ہر انسان میں کچھ طبعی کمزوریاں رکھی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ ان کمزوریوں میں عجلت پسندی بھی ہے۔ جو ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہے۔ خوشی، غمی، کامیابی، ناکامی، تنگدستی اور کشادگی، اقتدار اور اختیار ملنے پر انسان کسی نہ کسی موقع پر ضرور جلد باز ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایماندار خوشی کے موقع پر شکر اور غم کے موقع پر صبر کرکے اس کمزوری پر قابو پالیتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ان مواقعوں پر جلد بازی کا مظاہرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رسول اکرم جب کفار اور مشرکین کو ان کے کفر و شرک کے انجام سے ڈراتے تو وہ لوگ اپنے خوفناک انجام سے ڈرنے کی بجائے آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں صبح و شام ڈرایا جاتا ہے اس کے آنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے ؟ اے محمد ! تم سچے ہو تو یہ وعدہ اب تک پورا کیوں نہیں ہوا ؟ بسا اوقات ان کے مظالم اور پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر مسلمان بھی یہ سوچتے کہ ان لوگوں پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ یہاں مسلمانوں کو تسلّی دینے کے ساتھ کفار کو انتباہ کیا گیا ہے کہ جلد بازی کا مظاہرہ مت کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے گا یعنی جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو بہت جلد اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔
(اَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الأَنَاۃُ مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی التَّأَنِّی وَالْعَجَلَۃِ ]
” حضرت سہل بن سعد اپنے باپ سے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تحمل مزاجی اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ یَہُودَ أَتَوُا النَّبِیَّ ﷺ فَقَالُوا السَّامُ عَلَیْکُمْ فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ عَلَیْکُمْ ، وَلَعَنَکُمُ اللَّہُ ، وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ قَالَ مَہْلاً یَا عَاءِشَۃُ ، عَلَیْکِ بالرِّفْقِ ، وَإِیَّاکِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِی مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَیْہِمْ ، فَیُسْتَجَابُ لِی فیہِمْ ، وَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ فِیَّ ) [ باب لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ ﷺ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا ]
” حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہودی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے کہا السام علیکم یعنی تم پر موت واقع ہو۔ حضرت عائشہ نے جواباً کہا تم پر بھی موت واقع ہو، اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اور اپنا غضب نازل فرمائے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو سختی اور بد کلامی نہ کرو حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی اے اللہ کے نبی آپ نے ان کی بات نہیں سنی آپ نے فرمایا جو میں نے ان کو جواب دیا ہے آپ نے وہ نہیں سنا۔ میری بات ان کے بارے میں قبول ہوگئی ہے ان کی بات میرے بارے میں قبول نہیں ہوئی۔ “
مسائل
1۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز ہے۔ 2۔ اللہ اور آخرت کا منکر ضرور جلد باز ہوتا ہے۔
3۔ رسول اکرم ﷺ سے کفار بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
انسان کی طبعی کمزوریاں :
1۔ انسان جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : 11) 2۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔ (الانبیاء : 37)
3۔ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الحج : 47)
4۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے معاملے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الشعرا : 204)
5۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا سو جلدی نہ کرو۔ (الانبیاء : 37)
6۔ اللہ کا حکم آنے والا ہے جلدی نہ کرو۔ (النحل : 1) 7۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : 6)
8۔ اکثر انسان رب کے ناشکرے ہیں۔ ( بنی اسرائیل : 89) 9۔ انسان دل کا تنگ ہے۔ ( بنی اسرائیل : 100)
10۔ یہ لوگ عذاب الٰہی میں جلدی کرتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے عذاب آنے کے واقعات گزرچکے ہیں۔ (الرعد : 6)
Ayahs 21:39–41فہم القرآن
ربط کلام : جس عذاب کے لیے کفار جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کی ہولناکیوں کی ایک جھلک۔
رسول معظم ﷺ سے کفار عذاب اور قیامت کا بار بار مطالبہ کرتے تھے۔ عذاب کی ہولناکیوں کا ذکر کرکے کفار کو ان کے مطالبہ سے یہ کہہ کر ڈرایا اور روکا جا رہا ہے کہ اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ رب ذوالجلال کا عتاب اور عذاب کس قدر سخت اور شدید تر ہوتا ہے تو یہ بھول کر بھی ایسا مطالبہ نہ کریں۔ انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ جب ان پر رب ذوالجلال کا عذاب نازل ہوگا تو وہ اپنے آپ کو بچانا چاہیں تو ہرگز بچا نہیں سکیں گے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی مذاق ہوتا رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ جب مذاق کرنے والوں کو عذاب نے آلیا تو اس وقت انھیں کوئی پناہ دینے والانہ تھا۔ جہاں تک جہنم کے عذاب کا معاملہ ہے اس کی آگ اس قدر سخت اور تیز ہوگی کہ وہ ان کے چہروں اور پیٹھوں کو جھلس دے گی۔ اس وقت کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ اس دن عذاب ان پر اچانک ٹوٹ پڑے گا۔ ظالم بدحواس ہوجائیں گے نہ اسے ٹالنے کی ان کے پاس طاقت ہوگی اور نہ انھیں مہلت ملے گی۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر تمام کے تمام لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت ان کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جو اس سے قبل نہ ایمان لایا اور نہ اس نے نیک اعمال کیے ہوں۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا دکاندار کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ حوض پروارد ہونے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ انسان اپنے منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ ]
نبی اکرم ﷺ سے مذاق کرنے والوں کا دنیا میں انجام :
(اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِءِ یْنَ ) [ الحجر : 95]
” یقیناً ہم آپ سے مذاق کرنے والوں سے نپٹ لیں گے۔ “
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے منافقوں میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اللہ کے رسول کی سواری کے پیچھے اس حال میں دوڑ رہا تھا کہ اس کے پاؤں زخمی ہوچکے تھے اور وہ رسول معظم ﷺ سے فریاد کر رہا تھا کہ جو باتیں آپ تک پہنچی ہیں ہم نے محض خوش طبعی اور دل لگی کے لیے کی تھیں لیکن رسول اکرم ﷺ نے اس کے جواب میں فقط اتنا فرمایا کہ کیا تم اللہ کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے تھے ؟ “ (تفسیر رازی : جلد 8، سورة التوبہ)
مسائل
1۔ جہنم کا عذاب مجرموں کو ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہوگا اور اس وقت ان کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔
2۔ قیامت اچانک نازل ہوگی جس کو دیکھ کر ظالم بدحواس ہوجائیں گے۔
3۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا مذاق کرنے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت اور ان کا مذاق اڑانے والوں کا انجام :
1۔ آپ سے پہلے بھی انبیا سے مذاق کیا جاتا رہا تب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ (الانبیاء : 41)
2۔ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں سے مذاق کرتے ہو۔ (التوبہ : 65)
3۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ ( الحجر : 11)
4۔ افسوس ہے لوگوں پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ ( یٰس : 30)